Baaghi TV

Tag: صحت

  • ٹانک اور شمالی وزیرستان میں پولیو کے 2 نئے کیسز رپورٹ،رواں سال مجموعی کیسز23 ہوگئے

    ٹانک اور شمالی وزیرستان میں پولیو کے 2 نئے کیسز رپورٹ،رواں سال مجموعی کیسز23 ہوگئے

    صوبہ خیبر پختونخوا کے 2 جنوبی اضلاع سے پولیو کے 2 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد پاکستان میں 2025 کے مجموعی کیسز کی تعداد 23 ہوگئی۔

    نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اسلام آباد میں قائم ریجنل ریفرنس لیبارٹری فار پولیو ایریڈیکیشن نے جنوبی خیبر پختونخوا سے پولیو کے 2 نئے کیسز کی تصدیق کی ہے، ایک ضلع ٹانک اور دوسرا ضلع شمالی وزیرستان سے سامنے آیاتازہ کیسز میں یونین کونسل ملزئی ضلع ٹانک کی 16 ماہ کی بچی اور یونین کونسل میران شاہ-3 ضلع شمالی وزیرستان کی 24 ماہ کی بچی شامل ہے، ان کیسز کے بعد سال 2025 میں پاکستان میں پولیو کیسز کی کل تعداد 23 ہوگئی ہے، جن میں 15 خیبر پختونخوا، 6 سندھ سے، اور ایک ایک پنجاب اور گلگت بلتستان سے رپورٹ ہوا ہے۔

    پولیو وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر نے آئندہ کم ٹرانسمیشن سیزن کے لیے جامع ویکسینیشن شیڈول تیار کیا ہے، اس سیزن کی پہلی مہم یکم سے 7 ستمبر 2025 تک ملک بھر میں چلائی جائے گی، جبکہ جنوبی خیبر پختونخوا میں یہ مہم 15 ستمبر سے شروع ہوگی، اس دوران 5 سال سے کم عمر کے 2 کروڑ 80 لاکھ سے زائد بچوں کو گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج :100 انڈیکس میں386 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ

    واضح رہے ملک کے 75 سے زائد اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کے موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس کے سبب وزیراعظم شہباز شریف نے چاروں وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکرٹریز کو ذاتی طور پر 27 اگست کو وزیر اعظم ہاؤس طلب کیا ہے،اس سے قبل ملک کے 4 علاقوں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی سب سے خطرناک قسم پائی گئی تھی جن میں دیامر، جنوبی وزیرستان، لاہور اور راولپنڈی کے نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

    تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

  • پاکستان میں پولیو وائرس ایک بار پھر خطرناک حد تک پھیلنے لگا

    پاکستان میں پولیو وائرس ایک بار پھر خطرناک حد تک پھیلنے لگا

    پاکستان میں پولیو کیسز میں اضافہ، مزید 3 نئے کیسز کی تصدیق ہو گئی،جسکےبعدرواں سال کے دوران پولیو کیسز کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔

    نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق خیبرپختونخوا میں دو جبکہ سندھ میں ایک نئے پولیو کیس کی تصدیق ہوئی ہےخیبرپختونخوا کے اضلاع شمالی وزیرستان اور لکی مروت سے پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جب کہ سندھ کے ضلع عمرکوٹ میں بھی ایک بچہ پولیو وائرس کا شکار پایا گیا ہےپولیو وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم مسلسل کیسز سامنے آنا قومی صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے پولیو وائرس کمزور قوتِ مدافعت والے بچوں کو نشانہ بناتا ہے۔

    محکمہ صحت نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران اپنے بچوں کو ہر بار پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔

    ہزاروں افراد کا احتجاج، وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

    عمران خان نےضمانت منسوخی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سیالکوٹ: فانا گینگ کا سرغنہ گرفتار، لاکھوں کا مال مسروقہ اور اسلحہ برآمد

  • گلگت بلتستان میں وائلڈ پولیو وائرس کی تصدیق

    گلگت بلتستان میں وائلڈ پولیو وائرس کی تصدیق

    گلگت بلتستان میں وائلڈ پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

    نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے پولیو کے مطابق دیامر سے حاصل کردہ سیوریج نمونے میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ 1 کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے،ایک سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ دیامر اور خیبر پختونخوا کے ملحقہ اضلاع میں خصوصی انسداد پولیو مہم چلائی گئی ہے، جس میں ایک لاکھ 59 ہزار 525 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے پولیو پروگرام بچوں کو مفلوج کر دینے والے پولیو وائرس سے محفوظ رکھنے اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت ویکسی نیشن شیڈول پر عمل کر رہا ہے21 سے 25 جولائی تک خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سرحدی یونین کونسلوں میں خصوصی انسداد پولیو مہم چلائی جائے گی تاکہ اسے افغا نستان کی ذیلی قومی پولیو مہم کے ساتھ ہم آہنگ کیا جاسکے۔

    نیتن یاہو بیمار گئے، چند دن گھر سے کام کریں گے

    شاہ رخ خان کے زخمی ہونے کی خبر یں افواہ نکلی

    ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور حبس رہنے کا امکان

  • صحت کے 21 منصوبوں کی تکمیل کے لیے 14.3 ارب روپے کی رقم مختص

    صحت کے 21 منصوبوں کی تکمیل کے لیے 14.3 ارب روپے کی رقم مختص

    وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت صحت کے شعبے کے 21 منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے 14.3 ارب روپے کا بجٹ جاری کیا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس رقم سے صحت کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، حفاظتی اقدامات کو فروغ اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔بجٹ دستاویزات کے مطابق، ٹیچنگ ہسپتالوں اور ٹرشری کیئر سہولیات کے لیے 14 ارب روپے سے زائد فنڈز دیے گئے ہیں، جن سے ہسپتالوں اور طبی مراکز کو جدید طبی آلات فراہم کیے جائیں گے۔

    مزید برآں، اس فنڈ کے ذریعے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک نیا کینسر ہسپتال بھی قائم کیا جائے گا اور صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کو اپ گریڈ کر کے بہتر طبی خدمات فراہم کی جائیں گی۔صحت کے لیے مختص فنڈز سے ملک بھر میں ہیپاٹائٹس سی اور شوگر کی اسکریننگ اور علاج کے اخراجات بھی پورے کیے جائیں گے۔

    وفاقی حکومت نے 2025-26 کا 17.5 کھرب روپے کا بجٹ پیش کردیا

    پیٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 2.50 روپے کاربن لیوی عائد کرنے کا اعلان

  • ملک کے مزید 26 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    ملک کے مزید 26 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    کراچی: ملک بھر کے مزید 26 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: قومی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق 26 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے اور یہ نمونے 6 جنور ی سے 15 جنوری کے دوران حاصل کیے گئے تھے،کراچی کے مختلف اضلاع بشمول سینٹرل، ایسٹ، کورنگی، ملیر، ساؤتھ، ویسٹ اور کیماڑی میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ سندھ کے دیگر اضلاع بدین، گھوٹکی، حیدرآباد، جیکب آباد، قمبر، میرپورخاص، سجاول اور سکھر کے سیوریج میں بھی وائرس پایا گیا۔

    خیبرپختونخوا میں ایبٹ آباد، باجوڑ، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور پشاور کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، بلوچستان کے اضلاع چمن، لورالائی اور کوئٹہ جبکہ پنجاب کے اضلاع لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں بھی پولیو ٹیسٹ مثبت آیا ہے،سال 2025 کی پہلی ملک گیر پولیو مہم 3 فروری سے شروع ہو گی۔

    فلسطینیوں کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، مولانا فضل الرحمان

    لاس اینجلس : خوفناک آگ پر3ہفتوں بعدقابو پالیاگیا، نقصانات کا تخمینہ کتنا؟

    لندن کے میئر صادق خان کا 10 ملین پاؤنڈ کی تاریخی اضافی سرمایہ کاری کا اعلان

  • طلاق یافتہ والدین کے بچے کونسی خطرناک بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    طلاق یافتہ والدین کے بچے کونسی خطرناک بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    ایک نئی تحقیق میں ماہرین صحت نے انکشاف کیا ہے کہ طلاق یافتہ والدین کے بچوں کو فالج کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے-

    باغی ٹی وی : جریدے PLOS One میں شائع ہونے والی تحقیق میں ماہرین نے بتایا کہ جن بچوں کے والدین نے بچپن میں طلاق لی ہو، ان میں آنے والی زندگی میں فالج کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق میں 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 13,000 افراد کا جائزہ لیا گیا، تحقیق کے نتائج کے مطابق جن افراد کے والدین نے ان کی 18 سال کی عمر سے پہلے طلاق لے لی تھی، ان میں فالج کا سامنا کرنے کا امکان ایسے افراد کے مقابلے میں جو محفوظ خاندانوں میں پلے بڑھے تھے 60 فیصد زیادہ تھا۔

    تحقیق کی سربراہ اور ٹورنٹو کی ٹنڈیل یونیورسٹی میں نفسیات کی لیکچرر، ڈاکٹر میری کیٹ شلکے نے بتایا کہ والدین کی طلاق، فالج کے خطرے کو کئی دیگر اہم عوامل جیسے سگریٹ نوشی، کم جسمانی سرگرمی، کم آمدنی، اور تعلیم کے اثرات سے بھی بڑھا دیتی ہے اگر ان تمام عوامل کو نظرانداز بھی کر دیا جائے، تو بھی والدین کی طلاق کا تجربہ بڑی عمر میں فالج کے خطرے کو 61 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق، فالج اس وقت ہوتا ہے جب دماغ میں خون کی فراہمی رک جاتی ہے یا دماغ کی کوئی خون کی نالی پھٹ جاتی ہے، جس سے دماغی نقصان اور طویل مدتی معذوری پیدا ہو سکتی ہے۔

    حالانکہ یہ تحقیق مشاہداتی نوعیت کی تھی اور یہ ثابت نہیں کرتی کہ طلاق براہ راست فالج کا سبب بنتی ہے تاہم، تحقیق میں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ والدین کی طلاق کئی ایسے عوامل کے ساتھ جڑی ہوئی ہے جو فالج کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں، جیسے ڈپریشن، ذیابیطس، سگریٹ نوشی اور موٹاپا۔

    فالج کی علامات کی بروقت نشاندہی سے فوری طبی علاج ممکن ہوتا ہے اس کے لیے فالج کی علامات کو جاننا ضروری ہے فالج کی علامات میں شامل ہیں، چہرے، بازو یا ٹانگ میں اچانک بے حسی یا کمزوری کا محسوس ہونا خاص طور پر جسم کے ایک طرف، اچانک الجھن، بولنے میں مشکل، یا بات کو سمجھنے میں دشواری، ایک یا دونوں آنکھوں میں دیکھنے میں اچانک پریشانی، چلنے میں دقت، چکر آنا، توازن کھونا یا ہم آہنگی کی کمی، اگرفالج کی علامات کو جلدی پہچان لیا جائے تو یہ علاج میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

  • اونٹنی کا دودھ صحت کیلئے کتنا مفید؟نئی تحقیق جاری

    اونٹنی کا دودھ صحت کیلئے کتنا مفید؟نئی تحقیق جاری

    آسٹریلیا: ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اونٹنی کے دودھ سے مدافعتی نظام کو بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : آسٹریلیا کی ایڈتھ کوون یونیورسٹی کی محققین نے اس حوے سے ایک نئی تحقیق کی،تحقیق میں گائے اور اونٹنی کے دودھ کا گہرائی میں جاکر موازنہ کیا گیا،اس تحقیق کے نتائج جرنل فوڈ کیمسٹری میں شائع ہوئے۔

    تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ونٹنی کے دودھ سے صحت کو چند متاثر کن فوائد حاصل ہوتے ہیں، خاص طور پر مدافعتی نظام کو بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے،تحقیق میں زیادہ توجہ ان پروٹینز پر مرکوز کی گئی جو مدافعتی افعال اور نظام ہاضمہ پر اثر انداز ہوتے ہیں اونٹنی کے دودھ میں ایسے مخصوص پروٹینز موجود ہوتے ہیں جو معدے کی صحت اور مدافعتی افعال کو مضبوط بنانے کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔

    نئی امریکی انتظامیہ کی طالبان رہنماؤں کے سروں کی قیمتیں مقرر کرنے کی دھمکی

    تحقیق میں بتایا گیا کہ گائے کے دودھ میں 851 جبکہ اونٹنی کے دودھ میں 1143 پروٹینز موجود ہوتے ہیں اونٹنی کے دودھ میں موجود پروٹینز مدافعتی صحت کو سپورٹ فراہم کرتے ہیں جبکہ یہ دودھ نقصان دہ بیکٹیریا سے لڑنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے جس سے مخصوص امراض سے تحفظ ملتا ہے لیکن نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    پاکستان میں سائبر حملوں کے خدشے، نئی ایڈوائزری جاری

    تحقیق کے مطابق اونٹنی کے دودھ میں موجود اجزا معدے میں صحت کے لیے مفید ماحول کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں اور دل کی شریانوں کے امراض بشمول ہارٹ اٹیک کا خطرہ گھٹ جاتا ہے جن افراد کو گائے کے دودھ کے استعمال سے الرجی کا سامنا ہوتا ہے، اونٹنی کا دودھ ان کے لیے مفید ہے کیونکہ اس میں وہ پروٹین نہیں ہوتا جو الرجی ری ایکشن کو متحرک کرتا ہے اسی طرح اونٹنی کے دودھ میں لیکٹوز کی سطح گائے کے دودھ کے مقابلے میں کافی کم ہوتی ہے جس کے باعث بیشتر افراد کے لیے اسے ہضم کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔

    دہشتگردی صرف پاکستان کی جنگ نہیں ،سب کی مشتر کہ لڑائی ہے،محسن نقوی

  • شہر قائد میں کورونا پھیلنے کی خبریں غلط ہیں، وزیر صحت سندھ

    شہر قائد میں کورونا پھیلنے کی خبریں غلط ہیں، وزیر صحت سندھ

    کراچی: وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا ہے کہ کراچی میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی خبریں غلط ہیں۔

    ایک بیان میں انہوں نے وضاحت کی کہ حالیہ دنوں میں 100 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے تھے، جن میں سے صرف 7 افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بتایا کہ یہ ٹیسٹ ان لوگوں کا کیا گیا تھا جنہیں موسمی فلو اور انفلوئنزا کی ہلکی علامات تھیں، اور احتیاطاً ان کا کورونا ٹیسٹ بھی کروایا گیا۔ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے مزید کہا کہ جن افراد میں کورونا مثبت آیا، ان میں فلو کی بہت ہلکی علامات موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی موجودہ صورتِ حال میں مبتلا افراد کو ہلکی علامات کے باعث اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت نہیں تھی، اس لیے انہیں گھر بھیج دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اب کورونا کو موسمی فلو کی طرح ٹریٹ کیا جا رہا ہے اور اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

    اس کے ساتھ ہی محکمۂ صحت سندھ نے کورونا اور انفلوئنزا ایچ ون این ون کیسز کے حوالے سے اسپتالوں میں ہنگامی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔ جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سردیوں کے موسم میں کورونا اور ایچ ون این ون کیسز میں اضافے کے پیشِ نظر فوری اقدامات ضروری ہیں۔محکمۂ صحت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز کی بروقت رپورٹنگ کی جائے اور صحت کے مراکز میں پی پی ای (پرسنل پروٹیکٹیو ایکوپمنٹ) اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا کہ سرکاری اور نجی صحت کے مراکز میں انفیکشن کنٹرول کے اقدامات مزید مضبوط کیے جائیں۔

    محکمۂ صحت سندھ نے عوام میں کورونا اور انفلوئنزا کی علامات کے بارے میں آگاہی پھیلانے کی اہمیت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ماسک پہننا، ہاتھ دھونا اور سماجی فاصلے کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔ محکمہ نے عوام کو بروقت طبی امداد حاصل کرنے کی ترغیب دی اور ہدایت کی کہ ان کیسز کی ہفتہ وار رپورٹ جمع کروائی جائے تاکہ صورتحال پر نظر رکھی جا سکے۔

    اس وقت کراچی میں شہری بڑی تعداد میں نزلہ، کھانسی، بخار اور دیگر موسمی بیماریوں میں مبتلا ہیں، جس کی وجہ سے کورونا اور انفلوئنزا کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبائی محکمۂ صحت نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ ہدایات پر عمل کریں اور صحت کے حفاظتی تدابیر اختیار کریں تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے

    منی ٹریل ثابت کرنا مشکل کام ، قاضی فائز عیسٰی بھی پیش نہیں کر سکے تھے،عدالت

    طالبان کے اہم رہنما کی افغان خواتین ،لڑکیوں پر تعلیمی پابندیاں اٹھانے کی اپیل

  • چار اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    چار اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    اسلام آباد: ملک بھر کے چار اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : لکی مروت کے ماحولیاتی نمونے پولیو پازیٹیو نکلے ہیں، ماحولیاتی نمونوں میں وائلڈ پولیو وائرس ون کی تصدیق ہوئی ہے، متاثرہ اضلاع سے پولیو ٹیسٹ کے لیے سیمپلنگ دسمبر 2024 میں ہوئی تھی، جس کے بعد سال 2024ء کے پولیو کیسز کی تعداد 73 ہوگئی، اسی طرح ٹنڈو الہ یار، خیرپور، ٹنڈو محمد خان کے سیوریج نمونے پہلی بار پولیو پازیٹیو نکلے ہیں۔

    واضح رہے کہ سال 2024 کے دوران ملک میں 73 پولیو کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں،بلوچستان سے 27، خیبر پختونخواہ 22، سندھ 23، پنجاب اور اسلام آباد میں ایک، ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے۔

    اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    خیال رہے کہ پولیو مفلوج کرنے والی بیماری ہے، جس کا کوئی علاج نہیں، پولیو کے قطروں کی متعدد خوراکیں اور 5 سال سے کم عمر کے تمام بچوں کے لیے معمول کے قطرے پلانے کے شیڈول کی تکمیل بچوں کو اس خوفناک بیماری کے خلاف اعلیٰ قوت مدافعت فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

    موٹاپا جسمانی بیماریوں کی بڑی وجہ، پروفیسر الفرید ظفر

  • موٹاپا جسمانی بیماریوں کی بڑی وجہ، پروفیسر الفرید ظفر

    موٹاپا جسمانی بیماریوں کی بڑی وجہ، پروفیسر الفرید ظفر

    لاہور: موٹاپا جسمانی بیماریوں کی بڑی وجہ،باقاعدہ سیراور ورزش کو اپنا معمول بنائیں:پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر الفرید ظفر نے کہا ہے کہ خواتین اپنی صحت کو بہتر بنانےکیلئے لائف سٹائل اور خوراک میں ضروری تبدیلیاں لائیں طبی ماہرین کا کہناہےکہ مرغن غذاؤں، جنک فوڈ اور چینی سے پرہیز،فربہ جسم، امراض قلب، ذیابیطس و دیگر بیماریوں سے بچاؤ کا موثر زریعہ ہے، سربراہ ایل جی ایچ کا کہناہے کہ صحت مند رہنے کیلئے وٹامنز کی مناسب مقدار کا انسانی جسم میں ہونا ضروری ہے-

    باغی ٹی وی : جنرل ہسپتال میں لائف سٹائل میڈیسن اورخواتین کی صحت کیلئے پیراڈائم شفٹ کے موضوع پرورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ موٹاپا جسمانی بیماریوں کی بڑی وجہ ہے جو روزمرہ زندگی میں مشکلات کے علاوہ دیگر امراض کا باعث بھی بنتا ہے جبکہ چہل قدمی اور سیر سے موٹاپے پر قابو پانے کے علاوہ ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بالخصوص خواتین اپنے طرز زندگی، روزمرہ معمولات، خوراک میں ضروری ردو بدل اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کر کے خود کو نہ صرف بہت سے امراض سے محفوظ رکھ سکتی ہیں بلکہ یہ اقدام اُن کیلئے بیماریوں کی روک تھام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے جو انہیں ادویات کے غیر ضروری استعمال سے بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

    اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    ان خیالات کا اظہار پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال گائنی یونٹ 3کے زیر اہتمام خواتین کی صحت کے لئے ”لائف سٹائل میڈیسن اورپیرا ڈائم شفٹ” کے موضوع پر منعقد ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا پروفیسر امبرین حیدرنے اپنے لیکچر میں سادہ غذا، ورزش کے رہنما اصول اور سیلف میڈیکیشن سے بچاؤکے بارے میں تفصیلی آگاہی دی۔

    چیمپئنز ٹرافی:بھارت نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا

    پروفیسر ندرت سہیل کا کہنا تھا کہ مرغن غذاؤں اور چینی سے اجتناب کر کے فربہ جسم، امراض قلب اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔ورکشاپ میں پروفیسر آمنہ احسن چیمہ، ڈاکٹر سائرہ فیاض، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق، ڈاکٹر شبنم محمد علی، ڈاکٹر مصباح کوثر، ڈاکٹر مریم ذو الفقار، اور ڈاکٹر مہوش الیاس سمیت کثیر تعداد میں گائنا کالوجسٹس موجود تھیں۔ پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے آگاہی ورکشاپ کے انعقاد پر پروفیسر آمنہ احسن چیمہ، ڈاکٹر سائرہ فیاض اور ڈاکٹر لیلیٰ شفیق اور اُن کی ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا اور توقع ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی ایسی مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کا انعقاد کرتے رہیں گے۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے پر بانی پی ٹی آئی ذرا بھی پریشان نہیں، شیخ رشید

    میڈیا سے گفتگو میں پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ لائف سٹائل کا ہماری ذہنی و جسمانی صحت سے گہرا تعلق ہوتا ہے،لوگ اس امرکا خیال نہیں رکھتے کہ صحت کیلئے کونسی غذا مناسب ہے کیونکہ ہر وقت کھاتے رہنا اورغیر صحت بخش غذاؤں کے نتیجے میں بہت سی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ صحت مند رہنے کے لئے وٹامنز کی مناسب مقدار کا جسم میں ہونا ضروری ہے اگرچہ وٹامن ہر شخص کی ضرورت ہے تاہم خواتین کے لیے وٹامن کی اہمیت مردوں سے زیادہ ہے۔

    بنگلہ دیش سے فرار شیخ حسینہ کا جذباتی آڈیو پیغام جاری

    انہوں نے گائنا کولوجسٹس پر زور دیا کہ وہ علاج معالجے کے لئے آنے والی خواتین کو صحت مند رہنے کے سنہری اصولوں سے بھی آگاہ کریں اور خود سے ادویات کے استعمال سے بچاؤ کیلئے آگاہی فراہم کریں جبکہ مریض کو یہ بھی بتایا جائے کہ بیماری کی صورت میں مستند معالج کے مشورے سے ہی ادویات کا استعمال یقینی بنائیں-