Baaghi TV

Tag: صدر مملکت

  • نگران حکومت آئین اور الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق چلے گی،مرتضٰی سولنگی

    نگران حکومت آئین اور الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق چلے گی،مرتضٰی سولنگی

    اسلام آباد: نگراں وزیراطلاعات مرتضی سولنگی کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گی۔

    باغی ٹی وی: نگراں وزیراطلاعات مرتضٰی سولنگی کا کہنا تھا کہ آئین میں لکھا ہے ملک منتخب نمائندے چلائیں گے، 8 فروری جمعرات کو الیکشن ہوں گے، مذاکرات، تحفظات شکایات اور آوازیں جموریت کا حسن ہے،جمہوری نظام کا حسن ہے،نگراں حکومت عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گی،نگران حکومت آئین اور الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق چلے گی، صدر کے خط کا جواب خط سے دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 8 نومبر کو بنیادی حقوق اور ہموار سیاسی میدان کے حوالے سے تحریک انصاف کے خدشات پر غور کرنے کے لیے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے نام خط ارسال کیا تھا صدر مملکت عارف علوی نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب کا صدر کے نام خط بھی آگے نگراں وزیر اعظم کو ارسال کیا، خط میں سیاسی میدان کے حوالے سے پی ٹی آئی کے خدشات پر غور کرنے کا کہا گیا۔

    لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے اور منی لانڈرنگ کیلئے فرح گوگی کا خفیہ پاسپورٹ منظر …

    صدر مملکت نے خط میں لکھا کہ عوام کا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور آزاد میڈیا کے ذریعے رائے کا اظہار کرنا ہی جمہوریت کی روح ہے جبکہ آزادانہ، منصفانہ اور مستند الیکشن پر پورے پاکستان میں اتفاق ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو الیکشن میں حصہ لینے اور عوام کو انہیں منتخب کرنے کا حق ہے، سیاسی وابستگیاں رکھنے والے افراد کی جبریوں گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر میڈیا میں بھی بحث ہوئی، لوگوں کی سیاسی وابستگیاں اور وفاداریاں بدل جانے پر ایسے واقعات تشویش کا باعث بنتے ہیں، خواتین سیاسی ورکرز کی طویل نظر بندی یا عدالت کی جانب سے ریلیف کے بعد بار بار دوبارہ گرفتاریاں معاملے کو مزید حساس بنا دیتی ہیں-

    پی ٹی آئی کے خدشات پر صدر مملکت نے نگراں وزیر اعظم کو خط لکھ دیا

  • پی ٹی آئی کے خدشات پر  صدر مملکت نے  نگراں وزیر اعظم  کو خط لکھ دیا

    پی ٹی آئی کے خدشات پر صدر مملکت نے نگراں وزیر اعظم کو خط لکھ دیا

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے نام خط ارسال کردیا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق صدر مملکت نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان کی جانب سے صدر کو خط بھی نگراں وزیر اعظم کو ارسال کیا ہے، جس میں سیاسی میدان کے حوالے سے پی ٹی آئی کے خدشات پر غور کرنے کا کہا گیا ہے۔

    خط میں صدر مملکت نے لکھا کہ نگراں حکومت کا غیر جانبدار اکائی کے طور پر تمام سیاسی جماعتوں کو ہموار میدان فراہم کرنا بے حد اہم ہے، آئندہ انتخابات میں تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرنے کی نگراں حکومت کی پالیسی پر آپ کے حالیہ بیانات باعثِ اطمینان ہیں اور پختہ یقین ہے کہ جمہوریت ہی پاکستان کے عوام اور ریاست کے لیے آگے بڑھنے کا مناسب راستہ ہے۔

    انٹربینک میں ڈالر مزید مہنگا،سونے کی قیمت میں بھی اضافہ

    صدر مملکت نے خط میں لکھا کہ عوام کا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور آزاد میڈیا کے ذریعے رائے کا اظہار کرنا ہی جمہوریت کی روح ہے جبکہ آزادانہ، منصفانہ اور مستند الیکشن پر پورے پاکستان میں اتفاق ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو الیکشن میں حصہ لینے اور عوام کو انہیں منتخب کرنے کا حق ہے۔

    ڈاکٹر عارف علوی نے لکھا کہ صدر مملکت ریاست کے سربراہ کے طور پر جمہوریہ کے اتحاد کی علامت ہیں، آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت صدر مملکت، وزیر اعظم اور تمام اداروں سمیت شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے پابند ہیں اسی وجہ سے پاکستان تحریکِ انصاف کے الزامات پر مشتمل خط آپ کو ارسال کر رہا ہوں۔

    یکم جنوری 2009 کے بعد پیدا ہونے والا تمباکو نہیں خرید سکے گا

    صدر مملکت نے لکھا کہ سیاسی وابستگیاں رکھنے والے افراد کی جبریوں گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر میڈیا میں بھی بحث ہوئی، لوگوں کی سیاسی وابستگیاں اور وفاداریاں بدل جانے پر ایسے واقعات تشویش کا باعث بنتے ہیں، خواتین سیاسی ورکرز کی طویل نظر بندی یا عدالت کی جانب سے ریلیف کے بعد بار بار دوبارہ گرفتاریاں معاملے کو مزید حساس بنا دیتی ہیں، آئین کے آرٹیکل 4 کے تحت قانون کے مطابق سلوک کیا جانا ہر شہری کا ناقابل تنسیخ حق ہے، آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعت کی رکنیت یا تنظیم سازی کرنا ہر شہری کا حق ہے، آئین کا آرٹیکل 19 ہر شہری کو آزادی اظہارِ رائے کے ساتھ آزاد پریس کا حق دیتا ہے لہٰذا نگراں وزیر اعظم، حکومت کے سربراہ ہونے کے ناطے ان معاملات پر غور کریں۔

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

  • صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر  عام انتخابات 8 فروری  کو کرانے پر متفق

    صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر عام انتخابات 8 فروری کو کرانے پر متفق

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے درمیان 8 فروری 2024 کو عام انتخابات کرانے پر اتفاق ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کی ہدایت پر اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کے وفد نے صدر مملکت سے علیحدہ علیحدہ طویل ملاقاتیں کیں جس میں عام انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایوان صدر کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجہ کی اٹارنی جنرل برائے پاکستان منصور عثمان اعوان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چار ممبران کے ہمراہ ایوان صدر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی جس میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کیلئے تاریخ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    نگران وزیراعظم اور شاہد آفریدی کے مابین ملاقات

    اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں اور انتخابات کے حوالے سے کی گئی پیش رفت کو سنا اور تفصیلی بحث کے بعد اجلاس نے متفقہ طور پر ملک میں عام انتخابات 8 فروری 2024 کو کرانے پر اتفاق کیا۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سرابرہی میں ممبران صدر پاکستان سے ایوان صدر میں میں الیکشن کی تاریخ کے سلسلے میں ملاقات کی اعلامیے کے مطابق متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن مورخہ 8 فروری بروز جمعرات منعقد ہوں گے ۔

    سری لنکا کو شکست ،بھارت نےسیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

    خیال رہےکہ آج ملک میں 90 روز میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور بتایا کہ الیکشن کمیشن 11 فروری 2024 کو ملک میں الیکشن کروانے کے لیے تیار ہےعدالت نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ صدر مملکت سے آج ہی مشاورت کر کے کل عدالت میں الیکشن کی تاریخ سے متعلق آگاہ کیا جائےسپریم کورٹ کے حکم پر صدر عارف علوی سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان نے ملاقات کی جس میں الیکشن کمیشن کے ارکان بھی موجود تھے۔

    واٹس ایپ میں نیا فیچر متعارف

    ذرائع کے مطابق صدر سے چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل کی ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں عام انتخابات کے لیے صدر مملکت کے سامنے 3 تاریخیں رکھی گئیں الیکشن کمیشن نے 28 جنوری ، 4 فروری اور 11 فروری کی تاریخوں پر رائے دی، تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے 11 فروری کو انتخابات کے لیے موزوں قرار دیا گیا،ملاقات کے بعد ایوان صدر سے روانہ ہوکر الیکشن کمیشن پہنچے جہاں انہوں نے صدر مملکت کو خط لکھتے ہوئے ملک میں 11 فروری کو الیکشن کرانے کی تجویز دی۔

    حج 2024 کی پروازوں سے متعلق شیڈول جاری

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے 11 فروری کو عام انتخابات کی تاریخ تجویز کرتے ہیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے درمیان ملاقات میں الیکشن کی تاریخ پر اتفاق نہ ہوسکا جس کے بعد اٹارنی جنرل صدر مملکت کا پیغام لے کر چیف الیکشن کمشنر کے پاس گئے اور صدر مملکت کا مؤقف چیف الیکشن کمشنر کے سامنے رکھا بعد ازاں 8 فروری کو انتخابات کرنے پر اتفاق رائے ہوگیا-

    نگران وزیراعظم اور شاہد آفریدی کے مابین ملاقات

  • صدر مملکت سے سعودی چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات

    صدر مملکت سے سعودی چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات

    صدر مملکت سے سعودی چیف آف جنرل اسٹاف فیاض بن حامد الرویلی کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی بھی موجود تھے ،ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے تجارت، معیشت اور دفاع کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا،پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، دونوں برادر ممالک مختلف شعبوں میں بہترین تعلقات کے حامل ہیں اور مختلف علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر ان کے خیالات مشترک ہیں

    صدر مملکت نے دونوں ممالک کے باہمی فائدے کے لیے دوطرفہ اقتصادی تعلقات بڑھانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کا خواہاں ہے کیونکہ ملک میں زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی بڑی صلاحیت موجود ہے،پاکستان نے خصوصی سرمایہ کاری کی سہولت کونسل تشکیل دی ہے تاکہ فیصلہ سازی کو تیز کرنے اور چار اہم شعبوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے ون ونڈو پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا جا سکے،دونوں ممالک کی فوجی قیادت کے اعلیٰ سطحی تبادلوں سے دفاعی تعاون کو مزید فروغ ملے گا،

    صدر مملکت نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن کو سراہا اور کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات معمول پر آئے اور اس سے خطے میں امن اور خوشحالی بھی آئے گی، سعودی عرب نے پاکستان کو معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مالی مدد فراہم کی،

    جنرل فیاض بن حامد کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین شروع سے ہی مختلف شعبوں میں قریبی تعلقات ہیں، جنرل فیاض بن حامد نے دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا،سعودی عرب کا وژن 2030 پڑوسی ممالک کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا میں بھی خوشحالی لائے گا،

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

  • صدر مملکت نے 6 نومبر کوعام انتخابات کرانے کی تجویز دیدی

    صدر مملکت نے 6 نومبر کوعام انتخابات کرانے کی تجویز دیدی

    صدرمملکت کی جانب سے عام انتخابات کی تاریخ کی تجویز کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن کا اہم مشاورتی اجلاس کل طلب کرلیا،

    اجلاس کے وقت کا تعین تاحال نہیں کیا گیا،الیکشن کمیشن اجلاس میں صدرمملکت کے خط کا جائزہ لیاجائے گا،اجلاس میں الیکشن کمیشن کی لیگل ٹیم بریفنگ اور قانونی ماہرین رائے دیں گے،اجلاس میں چاروں ممبران سمیت متعلقہ ونگز بھی شریک ہوں گے،

    ماہرقانون راجہ خالد کا کہنا ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا چیف الیکشن کمشنر کا اختیار ہے،صدر کے تاریخ دینے سے آئینی بحران پیدا نہیں ہوگا کیونکہ یہ تجویزہے،تمام انتظامات کے بعد الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ وہ تاریخ کا اعلان کرے،

    صدر مملکت عارف علوی نے 6 نومبر کو عام انتخابات کرانے کی تجویز دیدی ،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چيف الیکشن کمشنر ، سکندر سلطان راجہ ، کے نام خط لکھا ہے جس میں صدر مملکت نے کہا ہے کہ صدر مملکت نے 9 اگست کو وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی کو تحلیل کیا،آئین کے آرٹیکل 48(5) کے تحت صدر کا اختیار ہے کہ اسمبلی میں عام انتخابات کے انعقاد کے لیے، تحلیل کی تاریخ سے نوے دن کے اندر کی تاریخ مقرر کرے، آرٹیکل 48(5) کے مطابق قومی اسمبلی کیلئے عام انتخابات قومی اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ کے 89ویں دن یعنی پیر 6 نومبر 2023 کو ہونے چاہئیں،آئینی ذمہ داری پورا کرنے کی خاطر چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کے لیے مدعو کیا گیا تاکہ آئین اور اسکے حکم کو لاگو کرنے کا طریقہ وضع کیے جا سکے ، چیف الیکشن کمشنر نے جواب میں برعکس موقف اختیار کیا کہ آئین کی اسکیم اور فریم ورک کے مطابق یہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، اگست میں مردم شماری کی اشاعت کے بعد حلقہ بندیوں کا عمل بھی جاری ہے اور آئین کے آرٹیکل 51(5) اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 17 کے تحت یہ ایک لازمی شرط ہے ،

    صدر مملکت نے کہا کہ وفاقی وزارت قانون و انصاف بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان جیسی رائے کی حامل ہے ، چاروں صوبائی حکومتوں کا خیال ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن آف پاکستان کا مینڈیٹ ہے،وفاق کو مضبوط بنانے، صوبوں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کے فروغ اور غیر ضروری اخراجات سے بچنے کیلئے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات ایک ہی دن کرائے جانے پر اتفاق ہے، الیکشن کمیشن ذمہ دار ہے کہ وہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے آرٹیکل 51، 218، 219، 220 اور الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت طے شدہ تمام آئینی اور قانونی اقدامات کی پابندی کرے،تمام نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن آئین کی متعلقہ دفعات کے تحت صوبائی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور اس بات کے پیش نظر کہ کچھ معاملات پہلے ہی زیر سماعت ہیں، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ایک ہی دن انتخابات کرانے کیلئے اعلیٰ عدلیہ سے رہنمائی حاصل کرے ،

    صدر مملکت عبوری صدر ہیں، انہیں الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں

    سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آئین کے مطابق الیکشن کروائے گا

    14 مئی کو الیکشن نہ کروانے والے تمام ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔حامد خان

    چیف الیکشن کمشنر کا صدر مملکت سے ملاقات سے انکار کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا

    پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن نوے دن کے اندر ہوں

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

  • صدر الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کر سکتے، عطا تارڑ

    صدر الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کر سکتے، عطا تارڑ

    رہنما مسلم لیگ ن عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت کے عہدے کی معیاد نوستمبر کوختم ہو چکی ہے، صدر مملکت عبوری صدر ہیں، انہیں الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں،

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ مدت ختم ہونے کے بعد عارف علوی روزہ مرہ کے معاملات چلانے کیلیے ہیں،فیصلہ سازی میں عبوری صدر کا کوئی اختیار نہیں،الیکشن ایکٹ کے تحت انتخابات کا اعلان الیکشن کمیشن نے کرنا ہے، جیسے ہی معیشت بہتر ہوتی ہے پی ٹی آئی سازشیں شروع کر دیتی ہے،آئین کےمطابق صدر وزیراعظم کی ہدایت پہ عملدرآمد کا پابندہے،معشیت بہتر ہو رہی ہے اور صدر ملک کو عدم استحکام کا شکار کر رہے ہیں بہت ہوچکا، یہ کھیل اب نہیں چلے گا، عبوری صدر باز رہیں، انتخابات کا اعلان الیکشن کمیشن نے کرنا ہے،انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن اور حکومت صدر کے احکامات ماننے کے پابند نہیں،اٹک جیل میں بیٹھے شخص کی وجہ سے سب کچھ ہو رہا ہے،

    قبل ازیں یہ کہا جا رہا تھا کہ صدر عارف علوی کی جانب سے الیکشن کی تاریخ دیئے جانے کا امکان ہے،الیکشن کی تاریخ دی گئی تو ملک میں سیاسی ہیجان پیدا ہونے کا امکان ہے، صدر مملکت عارف علوی کے عہدے کی آئینی مدت پوری ہو چکی ہے ،صدر عارف علوی سے نگران وزیرقانون و انصاف احمد عرفان اسلم نے ملاقات کی ،صدر مملکت عارف علوی نے نگران وزیر قانون سے عام انتخابات کے حوالے سے مشاورت کی ،حکومت اور صدر مملکت کے مابین ملاقات عام انتخابات پر جاری مشاورت کے تسلسل میں کی گئی

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

  • ڈاکٹرکوثرعبداللہ نگران وفاقی وزیر مقرر

    ڈاکٹرکوثرعبداللہ نگران وفاقی وزیر مقرر

    اسلام آباد: ڈاکٹر کوثرعبداللہ نگران کابینہ میں شامل ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ڈاکٹر کوثرعبداللہ ملک کو نگران وفاقی وزیر مقرر کردیا ہے صدر عارف علوی نے ڈاکٹر کوثر عبد اللہ ملک کی نگران وفاقی کابینہ میں تقرری نگران وزیر اعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 224 ون اے کے تحت کی۔

    واضح رہے کہ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک کو وفاقی وزیر مقرر کرنے کے لیے ایڈوائس صدر مملکت عارف علوی کو بھجوائی تھی۔

    بارڈرہیلتھ سروسزپاکستان کاملک کے ائیر پورٹس پرالرٹ جاری

    ملک میں سونے کی قیمت میں مزید کمی

    بجلی تقسیم کارکمپنیوں کے افسران کے خلاف کریک ڈاؤن

  • صدر مملکت کے عہدے کی مدت آج پوری

    صدر مملکت کے عہدے کی مدت آج پوری

    صدر عارف علوی کی پانچ سالہ عہدہ صدارت کی مدت آج مکمل ہو رہی ہے

    صدر مملکت مدت مکمل ہونے کے بعد بھی ایوان صدر میں رہیں گے اور نئے صدر کے آنے تک صدر مملکت کے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے، صدر مملکت عارف علوی جنہیں تحریک انصاف کے دور حکومت میں عمران خان نے صدر بنایا تھا، نے گزشتہ ہفتے اہم اجلاس میں نئے صدر کے آنے تک فرائض سرانجام دینے پر رضا مندی دکھائی تھی،

    صدر مملکت لاہور کے دورے پر گئے ہوئے تھے اب وہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، صدر مملکت نے لاہور میں داتا دربار عرس میں شرکت کی اور داتا دربار پر چادر چڑھانے کے ساتھ ساتھ خصوصی دعائیں بھی مانگیں،

    صدر مملکت عارف علوی اس وقت متنازعہ ترین صدر بن چکے ہیں کیونکہ چند دن قبل صدر نے ایک ٹویٹ کی تھی اور کہا تھا کہ میں نے بل پر دستخط نہیں کئے اور عملے کو کہا تھا کہ واپس بھیج دو، لیکن عملے نے میری بات نہیں مانی، صدر نے سیکرٹری کا تبادلہ کیا تو سیکرٹری نے صدر کو خط لکھ کر وجوہات پوچھ لیں،صدر مملکت نے جاتے جاتے تنخواہ بڑھانے کی بھی کوشش کی ہے، نگران حکومت کافی دنوں سے بن چکی ہے ابھی تک نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اور صدر مملکت کی ملاقات نہیں ہوئی،یوں سمجھیں صدر سے کسی بھی اہم شخصیت کی ملاقات ان دنوں نہیں ہوئی،

     صدر اور سیکرٹری کے تنازعے نے ایوان صدر کو فٹبال میدان بنا دیا ہے ‘

     صدر پاکستان کی ماہانہ تنخواہ آٹھ لاکھ 46 ہزار 550 روپے ہے

    چیف الیکشن کمشنر کا صدر مملکت سے ملاقات سے انکار کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • صدر مملکت کے سیکرٹری نے چارج چھوڑ دیا

    صدر مملکت کے سیکرٹری نے چارج چھوڑ دیا

    صدرمملکت عارف علوی کے سیکرٹری وقار احمد نے ایوان صدر کا چارج چھوڑ کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو اگلی ذمہ داری کے لیے رپورٹ کر دی ہے

    صدر عارف علوی نے گزشتہ ماہ وفاقی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وفاقی سیکرٹری حمیرا احمد کو ان کی جگہ دی جائے لیکن انہوں نے ایوان صدر کی خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا تھا، قومی اخبار کے مطابق کچھ دیگر وفاقی سیکرٹریوں کو ایوان صدر میں خدمات انجام دینے کو کہا گیا لیکن کسی بھی وفاقی سیکرٹری نے صدر مملکت کا سیکرٹری بننے پر رضامندی نہیں دی تھی،اب ارم بخاری جو ایوان صدر میں ایڈیشنل سیکرٹری تھیں کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی ہیں وہ ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ سے ہیں

    صدر مملکت عارف علوی جن کے پاس اپنی مقررہ مدت کے 8 دن باقی ہیں ، نگران وزیراعظم نے بھی عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد ابھی تک صدر مملکت سے ملاقات نہیں کی، یوں سمجھیں صدر سے کسی بھی اہم شخصیت کی ملاقات ان دنوں نہیں ہوئی،

    صدر نے سیکرٹری کو اس وقت ہٹانے کا کہا تھا جب صدر نے ٹویٹ کی تھی کہ انکی بات نہیں مانی گئی اور بل واپس نہیں کئے گئے،

     صدر اور سیکرٹری کے تنازعے نے ایوان صدر کو فٹبال میدان بنا دیا ہے ‘

    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

  • صدر مملکت کا وزارت خزانہ کو خط، تنخواہ بڑھانے بارے مطالبہ کی تصدیق

    صدر مملکت کا وزارت خزانہ کو خط، تنخواہ بڑھانے بارے مطالبہ کی تصدیق

    صدر مملکت عارف علوی نے ایک خط میں وزارت خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اُن کی تنخواہ بڑھائی جائے جبکہ عارف علوی کا مؤقف ہے کہ قانون کے مطابق صدر پاکستان کی تنخواہ ملک کے چیف جسٹس کی تنخواہ سے ایک روپیہ زیادہ ہونی چاہیے جبکہ اس خط لکھے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے ایوانِ صدر کے ایک اہلکار نے عالمی ادارے کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ صدر کی خواہش نہیں ہے، بلکہ قانون یہ کہتا ہے کہ ان کی تنخواہ چیف جسٹس کی تنخواہ سے ایک روپیہ زیادہ ہو۔ جس کی بنیادی وجہ فیڈریشن میں ان کا عہدہ سب سے بڑا ہونا ہے۔

    خیال رہے کہ اس وقت صدر پاکستان کی ماہانہ تنخواہ آٹھ لاکھ 46 ہزار 550 روپے ہے جس میں وہ دو مراحل کا اضافہ چاہتے ہیں، یعنی جولائی 2021 سے صدر کی تنخواہ 10 لاکھ 24 ہزار روپے اور جولائی 2023 سے ان کی تنخواہ 12 لاکھ 29 ہزار روپے ہونی چاہیے اور صدر مملکت کی تنخواہ پریذیڈنٹ سیلری، الاؤنسز اینڈ پریویلجز ایکٹ 1975 کے تحت دی جاتی ہیں جس میں 2018 میں ایک اہم ترمیم کی گئی تھی۔

    جبکہ نجی ٹی وی کے مطابق ترمیم کے بعد صدر کی تنخواہ میں اضافہ کابینہ کے نوٹی فکیشن کے ذریعے ایکٹ کے شیڈول فور میں کیا جاتا ہے اور یہ کہ صدر کی تنخواہ، چیف جسٹس آف پاکستان کی تنخواہ سے علامتی طور پر ایک روپیہ زیادہ ہو گی اور ایوان صدر کے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران دو مرتبہ چیف جسٹس کی تنخواہ میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اُن کی تنخواہ صدر سے بڑھ گئی ہے، جو خود قانون کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    علاوہ ازیں یہ مطالبہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب عارف علوی کی صدارتی مدت پوری ہونے میں چند ہی دن باقی ہیں۔ ان کا مطالبہ پورا ہونے کی صورت میں صدر عارف علوی کو جولائی 2021 سے بقایاجات بھی ملنے کا امکان ہے جبکہ ایوان صدر کے افسر نے مزید بتایا کہ ’یہ وفاقی کابینہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ جب چیف جسٹس کی تنخواہ بڑھا رہے تھے تو آئین کے مطابق صدر مملکت کی تنخواہ میں اضافہ کرتے تاکہ ان کی تنخواہ عہدے کے مطابق ہوتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اب اسی قانونی کمی کو پورا کرنے کے لیے یہ خط لکھا گیا ہے۔