Baaghi TV

Tag: صدر مملکت

  • صدر الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کر سکتے، عطا تارڑ

    صدر الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کر سکتے، عطا تارڑ

    رہنما مسلم لیگ ن عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت کے عہدے کی معیاد نوستمبر کوختم ہو چکی ہے، صدر مملکت عبوری صدر ہیں، انہیں الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں،

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ مدت ختم ہونے کے بعد عارف علوی روزہ مرہ کے معاملات چلانے کیلیے ہیں،فیصلہ سازی میں عبوری صدر کا کوئی اختیار نہیں،الیکشن ایکٹ کے تحت انتخابات کا اعلان الیکشن کمیشن نے کرنا ہے، جیسے ہی معیشت بہتر ہوتی ہے پی ٹی آئی سازشیں شروع کر دیتی ہے،آئین کےمطابق صدر وزیراعظم کی ہدایت پہ عملدرآمد کا پابندہے،معشیت بہتر ہو رہی ہے اور صدر ملک کو عدم استحکام کا شکار کر رہے ہیں بہت ہوچکا، یہ کھیل اب نہیں چلے گا، عبوری صدر باز رہیں، انتخابات کا اعلان الیکشن کمیشن نے کرنا ہے،انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن اور حکومت صدر کے احکامات ماننے کے پابند نہیں،اٹک جیل میں بیٹھے شخص کی وجہ سے سب کچھ ہو رہا ہے،

    قبل ازیں یہ کہا جا رہا تھا کہ صدر عارف علوی کی جانب سے الیکشن کی تاریخ دیئے جانے کا امکان ہے،الیکشن کی تاریخ دی گئی تو ملک میں سیاسی ہیجان پیدا ہونے کا امکان ہے، صدر مملکت عارف علوی کے عہدے کی آئینی مدت پوری ہو چکی ہے ،صدر عارف علوی سے نگران وزیرقانون و انصاف احمد عرفان اسلم نے ملاقات کی ،صدر مملکت عارف علوی نے نگران وزیر قانون سے عام انتخابات کے حوالے سے مشاورت کی ،حکومت اور صدر مملکت کے مابین ملاقات عام انتخابات پر جاری مشاورت کے تسلسل میں کی گئی

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

  • ڈاکٹرکوثرعبداللہ نگران وفاقی وزیر مقرر

    ڈاکٹرکوثرعبداللہ نگران وفاقی وزیر مقرر

    اسلام آباد: ڈاکٹر کوثرعبداللہ نگران کابینہ میں شامل ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ڈاکٹر کوثرعبداللہ ملک کو نگران وفاقی وزیر مقرر کردیا ہے صدر عارف علوی نے ڈاکٹر کوثر عبد اللہ ملک کی نگران وفاقی کابینہ میں تقرری نگران وزیر اعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 224 ون اے کے تحت کی۔

    واضح رہے کہ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک کو وفاقی وزیر مقرر کرنے کے لیے ایڈوائس صدر مملکت عارف علوی کو بھجوائی تھی۔

    بارڈرہیلتھ سروسزپاکستان کاملک کے ائیر پورٹس پرالرٹ جاری

    ملک میں سونے کی قیمت میں مزید کمی

    بجلی تقسیم کارکمپنیوں کے افسران کے خلاف کریک ڈاؤن

  • صدر مملکت کے عہدے کی مدت آج پوری

    صدر مملکت کے عہدے کی مدت آج پوری

    صدر عارف علوی کی پانچ سالہ عہدہ صدارت کی مدت آج مکمل ہو رہی ہے

    صدر مملکت مدت مکمل ہونے کے بعد بھی ایوان صدر میں رہیں گے اور نئے صدر کے آنے تک صدر مملکت کے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے، صدر مملکت عارف علوی جنہیں تحریک انصاف کے دور حکومت میں عمران خان نے صدر بنایا تھا، نے گزشتہ ہفتے اہم اجلاس میں نئے صدر کے آنے تک فرائض سرانجام دینے پر رضا مندی دکھائی تھی،

    صدر مملکت لاہور کے دورے پر گئے ہوئے تھے اب وہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، صدر مملکت نے لاہور میں داتا دربار عرس میں شرکت کی اور داتا دربار پر چادر چڑھانے کے ساتھ ساتھ خصوصی دعائیں بھی مانگیں،

    صدر مملکت عارف علوی اس وقت متنازعہ ترین صدر بن چکے ہیں کیونکہ چند دن قبل صدر نے ایک ٹویٹ کی تھی اور کہا تھا کہ میں نے بل پر دستخط نہیں کئے اور عملے کو کہا تھا کہ واپس بھیج دو، لیکن عملے نے میری بات نہیں مانی، صدر نے سیکرٹری کا تبادلہ کیا تو سیکرٹری نے صدر کو خط لکھ کر وجوہات پوچھ لیں،صدر مملکت نے جاتے جاتے تنخواہ بڑھانے کی بھی کوشش کی ہے، نگران حکومت کافی دنوں سے بن چکی ہے ابھی تک نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اور صدر مملکت کی ملاقات نہیں ہوئی،یوں سمجھیں صدر سے کسی بھی اہم شخصیت کی ملاقات ان دنوں نہیں ہوئی،

     صدر اور سیکرٹری کے تنازعے نے ایوان صدر کو فٹبال میدان بنا دیا ہے ‘

     صدر پاکستان کی ماہانہ تنخواہ آٹھ لاکھ 46 ہزار 550 روپے ہے

    چیف الیکشن کمشنر کا صدر مملکت سے ملاقات سے انکار کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • صدر مملکت کے سیکرٹری نے چارج چھوڑ دیا

    صدر مملکت کے سیکرٹری نے چارج چھوڑ دیا

    صدرمملکت عارف علوی کے سیکرٹری وقار احمد نے ایوان صدر کا چارج چھوڑ کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو اگلی ذمہ داری کے لیے رپورٹ کر دی ہے

    صدر عارف علوی نے گزشتہ ماہ وفاقی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وفاقی سیکرٹری حمیرا احمد کو ان کی جگہ دی جائے لیکن انہوں نے ایوان صدر کی خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا تھا، قومی اخبار کے مطابق کچھ دیگر وفاقی سیکرٹریوں کو ایوان صدر میں خدمات انجام دینے کو کہا گیا لیکن کسی بھی وفاقی سیکرٹری نے صدر مملکت کا سیکرٹری بننے پر رضامندی نہیں دی تھی،اب ارم بخاری جو ایوان صدر میں ایڈیشنل سیکرٹری تھیں کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی ہیں وہ ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ سے ہیں

    صدر مملکت عارف علوی جن کے پاس اپنی مقررہ مدت کے 8 دن باقی ہیں ، نگران وزیراعظم نے بھی عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد ابھی تک صدر مملکت سے ملاقات نہیں کی، یوں سمجھیں صدر سے کسی بھی اہم شخصیت کی ملاقات ان دنوں نہیں ہوئی،

    صدر نے سیکرٹری کو اس وقت ہٹانے کا کہا تھا جب صدر نے ٹویٹ کی تھی کہ انکی بات نہیں مانی گئی اور بل واپس نہیں کئے گئے،

     صدر اور سیکرٹری کے تنازعے نے ایوان صدر کو فٹبال میدان بنا دیا ہے ‘

    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

  • صدر مملکت کا وزارت خزانہ کو خط، تنخواہ بڑھانے بارے مطالبہ کی تصدیق

    صدر مملکت کا وزارت خزانہ کو خط، تنخواہ بڑھانے بارے مطالبہ کی تصدیق

    صدر مملکت عارف علوی نے ایک خط میں وزارت خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اُن کی تنخواہ بڑھائی جائے جبکہ عارف علوی کا مؤقف ہے کہ قانون کے مطابق صدر پاکستان کی تنخواہ ملک کے چیف جسٹس کی تنخواہ سے ایک روپیہ زیادہ ہونی چاہیے جبکہ اس خط لکھے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے ایوانِ صدر کے ایک اہلکار نے عالمی ادارے کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ صدر کی خواہش نہیں ہے، بلکہ قانون یہ کہتا ہے کہ ان کی تنخواہ چیف جسٹس کی تنخواہ سے ایک روپیہ زیادہ ہو۔ جس کی بنیادی وجہ فیڈریشن میں ان کا عہدہ سب سے بڑا ہونا ہے۔

    خیال رہے کہ اس وقت صدر پاکستان کی ماہانہ تنخواہ آٹھ لاکھ 46 ہزار 550 روپے ہے جس میں وہ دو مراحل کا اضافہ چاہتے ہیں، یعنی جولائی 2021 سے صدر کی تنخواہ 10 لاکھ 24 ہزار روپے اور جولائی 2023 سے ان کی تنخواہ 12 لاکھ 29 ہزار روپے ہونی چاہیے اور صدر مملکت کی تنخواہ پریذیڈنٹ سیلری، الاؤنسز اینڈ پریویلجز ایکٹ 1975 کے تحت دی جاتی ہیں جس میں 2018 میں ایک اہم ترمیم کی گئی تھی۔

    جبکہ نجی ٹی وی کے مطابق ترمیم کے بعد صدر کی تنخواہ میں اضافہ کابینہ کے نوٹی فکیشن کے ذریعے ایکٹ کے شیڈول فور میں کیا جاتا ہے اور یہ کہ صدر کی تنخواہ، چیف جسٹس آف پاکستان کی تنخواہ سے علامتی طور پر ایک روپیہ زیادہ ہو گی اور ایوان صدر کے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران دو مرتبہ چیف جسٹس کی تنخواہ میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اُن کی تنخواہ صدر سے بڑھ گئی ہے، جو خود قانون کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    علاوہ ازیں یہ مطالبہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب عارف علوی کی صدارتی مدت پوری ہونے میں چند ہی دن باقی ہیں۔ ان کا مطالبہ پورا ہونے کی صورت میں صدر عارف علوی کو جولائی 2021 سے بقایاجات بھی ملنے کا امکان ہے جبکہ ایوان صدر کے افسر نے مزید بتایا کہ ’یہ وفاقی کابینہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ جب چیف جسٹس کی تنخواہ بڑھا رہے تھے تو آئین کے مطابق صدر مملکت کی تنخواہ میں اضافہ کرتے تاکہ ان کی تنخواہ عہدے کے مطابق ہوتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اب اسی قانونی کمی کو پورا کرنے کے لیے یہ خط لکھا گیا ہے۔

  • چیف الیکشن کمشنرکا صدر سے ملاقات سے انکارغیرآئینی قرار دیا جائے،درخواست دائر

    چیف الیکشن کمشنرکا صدر سے ملاقات سے انکارغیرآئینی قرار دیا جائے،درخواست دائر

    چیف الیکشن کمشنر کا صدر مملکت سے ملاقات سے انکار کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا

    چیف الیکشن کمشنر کا ملاقات سے انکار غیرآئینی قرار دیا جائے، سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،درخواست عباد الرحمان لودھی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ کی کسی شق کی بنیاد پر صدر کے آئینی اختیار سے انکار ممکن نہیں،عدالت قرار دے کہ صدر مملکت ہی 90 کے اندر انتخابات کی تاریخ دینے کے اہل ہیں،نگران حکومت کے اختیارات محدود ہوتے ہیں،صدر مملکت 90 دن میں انتخابات کی تاریخ دینے کیلئے نگران حکومت کی سمری کے محتاج نہیں،نگران حکومت کو عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہوتا،

    واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات کو لے کر صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دی تھی، صدر مملکت نے چیف الیکش کمشنر کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی تحلیل کی گئی ، آئین کے مطابق اسمبلی کی تحلیل کے بعد نوے روز میں انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے پابند ہیں ، چیف الیکشن کمشنر کو آج یا کل ملاقات کیلئے مدعو کیا جاتا ہے تاکہ تاریخ طے کی جا سکے، خط کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر نے صدر مملکت سے ملنے سے انکار کر دیا تھا ، چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے صدر مملکت کو جوابی خط بھجوایا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ صدر صاحب آپ نے قومی اسمبلی ائین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت تحلیل کی ہے۔اس آرٹیکل کے تحت الیکشن کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔صدر مملکت اگر قومی اسمبلی 58 ٹو بی کے تحت کرتے تو اختیار آپ کے پاس تھا،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 میں ترمیم کر دی گئی ہے، اب الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار دیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے خط میں الیکشن ایکٹ میں حالیہ ترامیم کا حوالہ بھی دیا، اور کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے پہلے الیکشن کمیشن صدر مملکت سے مشاورت کا پابند تھا ،الیکشن ایکٹ کی سیکشن ستاون میں ترمیم کے بعد صدر سے مشاورت کا اختیار ختم ہو گیا ہے ،نئی ترمیم کے تحت انتخابات کی تاریخ طے کرنا الیکشن کمیشن کا صوابدید ہے ،آئین ارٹیکل 582, 48_5 اور آرٹیکل 58 ون کے تحت ایوان صدر کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی ،حلقہ بندیوں کا الیکشن ایکٹ کی سترہ ٹو کے تحت ضروری ہے

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • چیف الیکشن کمشنر نے  صدر کو جوابی خط بھجوا دیا

    چیف الیکشن کمشنر نے صدر کو جوابی خط بھجوا دیا

    صدر مملکت کی جانب سے 12 نومبر کو عام انتخابات کی تاریخ کی خبریں آئیں تو اسکے فوری بعد ایوان صدر سے واضح تردید تو نہیں آئی تا ہم یہ کہا جا رہا ہے کہ ابھی تک تاریخ طے نہیں ہوئی

    صدر پاکستان عارف علوی نے 12 نومبر بروز اتوار کو پورے پاکستان میں الیکشن کی تاریخ دے دی، صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو آج ملاقات کے لئے بلایا تھا تا ہم چیف الیکشن کمشنر ملاقات کے لئے نہ گئے ، بلکہ جواب دے دیا،الیکشن کمیشن کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں قانونی ٹیم نے بریفنگ دئ،لیگل ٹیم نے تجویز دی کہ صدر مملکت سے عملی مشاورت کے بجائے بذریعہ خط جواب دیا جائے،صدرمملکت کا خط اختیارات سے تجاویز ہے،الیکشن ایکٹ میں ترامیم کے بعد انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے،آرٹیکل 51کے تحت حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے،آئینی طور پرآئندہ عام انتخابات سے قبل نئی حلقہ بندیاں ناگزیر ہیں،

    الیکشن کمیشن کے اجلاس کے بعد ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر صدرمملکت سے ملاقات نہیں کریں گے۔ صدر کے خط کا جواب دے دیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے صدر کو جوابی خط بھجوایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر صاحب آپ نے قومی اسمبلی ائین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت تحلیل کی ہے۔اس آرٹیکل کے تحت الیکشن کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔صدر مملکت اگر قومی اسمبلی 58 ٹو بی کے تحت کرتے تو اختیار آپ کے پاس تھا،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 میں ترمیم کر دی گئی ہے، اب الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار دیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے خط میں الیکشن ایکٹ میں حالیہ ترامیم کا حوالہ بھی دیا، اور کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے پہلے الیکشن کمیشن صدر مملکت سے مشاورت کا پابند تھا ،الیکشن ایکٹ کی سیکشن ستاون میں ترمیم کے بعد صدر سے مشاورت کا اختیار ختم ہو گیا ہے ،نئی ترمیم کے تحت انتخابات کی تاریخ طے کرنا الیکشن کمیشن کا صوابدید ہے ،آئین ارٹیکل 582, 48_5 اور آرٹیکل 58 ون کے تحت ایوان صدر کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی ،حلقہ بندیوں کا الیکشن ایکٹ کی سترہ ٹو کے تحت ضروری ہے

    دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا پر الیکشن کے حوالے سے صدر پاکستان سے منسوب نومبر 12 کی تاریخ میں کوئی صداقت نہیں ۔ ابھی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا گیا ،

    ایوانِ صدر نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خط پر وزارت ِ قانون و انصاف کی رائے مانگ لی ،ایوانِ صدر نے الیکشن کمیشن کے مؤقف کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے پر رائے مانگی ،ایوانِ صدر نے صدر مملکت کے کل کے خط کے جواب میں الیکشن کمیشن کے مؤقف پر رائے مانگی ہے ،ایوانِ صدر کی جانب سے خط وزارت قانون و انصاف کے سیکرٹری کے نام لکھا گیا ہے

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • الیکشن کمشنرکا صدر مملکت کے خط پراجلاس طلب،سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت

    الیکشن کمشنرکا صدر مملکت کے خط پراجلاس طلب،سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے خط لکھے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے معاملے پر اجلاس آج طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی:دی نیوز کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں ممبران اور سیکرٹری الیکشن کمیشن شریک ہوں گے،اجلاس میں صدر مملکت کے دعوت نامے اور الیکشن کی تاریخ سے متعلق آئینی معاملات کا جائزہ لیا جائے گا کیونکہ الیکشن کمیشن قانوناً صدر مملکت سے مشاورت کا پابند نہیں،اس معاملے پر قانون واضح ہے، صدر نے اس مقصد کیلئے آئین کی غلط شق کا حوالہ دیا ہے،صدر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو آئین کے آرٹیکل 48 (5)کا حوالہ دیتے ہوئے دعوت دی ہے۔

    عام انتخابات کی تاریخ کے تعین کیلئے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ شاید صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی خواہش کے مطابق اُن سے ملاقات نہ کریں کیونکہ انتخابات کی تاریخ کا معاملہ قانون میں حالیہ ترمیم کے بعد خالصتاً الیکشن کمیشن آف پاکستان کا استحقاق ہے۔

    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی

    آئین کا آرٹیکل 48 (5) کے متعلقہ حصے کے مطابق جب کہ صدر مملکت قومی اسمبلی تحلیل کرے، شق (الف) میں شامل کسی امر کے باوجود، وہ اسمبلی کے لئے عام انتخابات منعقد کرانے کیلئے کوئی تاریخ مقرر کرے گا جو تحلیل کیے جانے کی تاریخ سے 90 دن سے زیادہ نہیں ہوگی۔

    اس معاملے میں دیکھا جائے تو قومی اسمبلی صدر مملکت نے نہیں بلکہ وزیراعظم کی ایڈوائس پر مدت مکمل ہونے کے بعد تحلیل کی گئی صدر صرف 58(2) کے تحت اختیار استعمال کرتے ہوئے اس وقت اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور ہو جائے اور کسی رکن کے پاس ایوان میں اکثریت نہ ہو۔

    ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کی پیشگوئی

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف نے 10 اگست کو صدر پاکستان کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری ارسال کی تھی جس پر صدر عارف علوی نے اسی روز دستخط کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل کر دی تھی وزیراعظم نے 12 اگست کو مدت پوری ہونے سے قبل قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری دستخط کرکے صدر کو منظوری کیلئے بھیجی تھی۔ ایوان صدر کے مطابق صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی توڑ دی، انہوں نے اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 (1)کے تحت تحلیل کی۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آج سے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام ایف کے وفود سے ملاقات کرے گا اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو ملاقات کے لئے دعوت نامے بھجوا دیے ہیں، پی ٹی آئی کا وفد سہ پہر 2 بجے اور جے یو آئی کا وفد 3 بجے کمیشن سے مشاورت کرے گا۔

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    جے یو آئی (ف) ترجمان کے مطابق ملک میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے پارٹی وفد آج 3 بجے الیکشن کمیشن سے ملاقات کرے گا سیکرٹری الیکشن کمیشن کی طرف سے ملاقات کی دعوت موصول ہوئی تھی وفد کی قیادت مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کریں گے جبکہ وفد میں سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ، جلال الدین ایڈووکیٹ اور مولانا عطاء الحق درویش و دیگر شامل ہوں گے الیکشن کمیشن کے ساتھ ملاقات میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے مشاورت ہو گی۔

  • عام انتخابات،الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کر دیا

    عام انتخابات،الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کر دیا

    ملک میں آئندہ عام انتخابات کی انعقاد کا معاملہ ،الیکشن کمیشن نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کر دیا

    الیکشن کمیشن نے بڑی سیاسی جماعتوں کو مشاورت کیلئے دعوت نامے بھجوا دیئے ،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی، شہباز شریف، آصف زرداری اور فضل الرحمان کو خط لکھ دیا،سیاسی جماعتوں کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کے شیڈول اور تاریخ سے متعلق شہباز شریف کو 25 اگست کو مدعو کیا گیا، الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی اور فضل الرحمان کو مشاورت کیلئے کل بلا لیا، الیکشن کمیشن نے آصف زرداری کو مشاورت کے لیے 29 اگست کو بلا لیا،الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے آئندہ الیکشن کے روڈ میپ پر مشاورت کرے گا،

    قبل ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھا تھا اور ملاقات کی دعوت دی تھی، اب چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کو خط سے واضح امکان ہے کہ چیف الیکشن کمشنر صدر مملکت سے فی الحال ملنے کا ارادہ نہیں رکھتے،

    قومی اسمبلی تحلیل ہو گی، نگران حکومت آ چکی ہے، نگران حکومت نے نوے روز میں الیکشن کروانے ہیں تا ہم الیکشن کمیشن نے پہلے حلقہ بندیاں کروانے کا اعلان کیا ہے، دسمبر تک حلقہ بندیاں ہوں گی، جسکی وجہ سے نوے روز میں الیکشن نہیں ہو سکتے، اب صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دی ہے، دیکھئے ملاقات ہوتی ہے یا نہیں

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • عام انتخابات،صدر نے چیف الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا

    عام انتخابات،صدر نے چیف الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا

    ملک میں عام انتخابات کا معاملہ، صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

    صدر مملکت نے چیف الیکش کمشنر کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی تحلیل کی گئی ، آئین کے مطابق اسمبلی کی تحلیل کے بعد نوے روز میں انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے پابند ہیں ، چیف الیکشن کمشنر کو آج یا کل ملاقات کیلئے مدعو کیا جاتا ہے تاکہ تاریخ طے کی جا سکے

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی تحلیل ہو گی، نگران حکومت آ چکی ہے، نگران حکومت نے نوے روز میں الیکشن کروانے ہیں تا ہم الیکشن کمیشن نے پہلے حلقہ بندیاں کروانے کا اعلان کیا ہے، دسمبر تک حلقہ بندیاں ہوں گی، جسکی وجہ سے نوے روز میں الیکشن نہیں ہو سکتے، اب صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دی ہے، دیکھئے ملاقات ہوتی ہے یا نہیں

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    قبل ازیں 90 روز کی آئینی مدت میں انتخابات کے انعقاد کا معاملہ ،پاکستان تحریک انصاف نے نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کو خط بھی لکھا تھا،خط پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی کی جانب سے تحریر کیا گیا ،شاہ محمود قریشی نے کور کمیٹی کی ایما پر نگران وزیر اعظم کو خط تحریر کیا، خط میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بنیاد شہریوں کے ووٹ کے حق پر استوار ہے،دستور اسمبلی کی قبل از وقت تحلیل کی صورت میں 90 روز میں انتخابات کے انعقاد کا حکم دیتا ہے،لہذٰا ہمارا پر اصرار مطالبہ ہے کہ آپ انتخابات کے بروقت انعقاد کو یقینی بنائیں،مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے مردم شماری کے نتائج کی تاخیر سے منظوری کے بعد نئی حلقہ بندیوں کے معاملے کو انتخابات میں التوا کا بہانہ ہر گز نہیں بنایا جا سکتا،ہم مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انتخابات کی ساکھ کیلئے لازم ہے کہ فریقین کو انتخابی مقابلے کیلئے مساوی میدان فراہم کیا جائے ،موجود حالات میں آپ کا منصفانہ طرزِعمل جمہوری اقدار پر عوام کے اعتماد میں پختگی و تقویت کا موجب بنے گا، ہم آپ کو سونپے جانے والے اس عظیم فریضہ کی انجام دہی میں آپ کو اپنے تعاون کا یقین دلاتے ہیں