Baaghi TV

Tag: صدر مملکت

  • ایوان صدر میں  بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام

    صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی سے اولڈ ایج ہوم ، عافیت ، ملتان کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ اسلام بزرگوں کے احترام اور ان کا خیال رکھنے کو خاص اہمیت دیتا ہے ،والدین اسلامی تعلیمات کے مطابق اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں،والدین کے حقوق پورے کرنا اولاد کی اولین ذمہ داریوں میں سے ہے ، بے گھر اور بزرگ افراد کو تمام بنیادی سہولیات ، ضروریات زندگی پہنچانے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، مخیر حضرات، فلاحی ادارے اور معاشرے کے دیگر طبقات بزرگ افراد کی دیکھ بھال کیلئے خصوصی کاوشیں کرے، بزرگ افراد کیلئے قانونی اور معاشرتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے ،

    صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ معاشرے میں نادار افراد اور بزرگوں کی فلاح و بہبود کیلئے حکومتی اداروں، غیرسرکاری تنظیموں ، سول سوسائٹی کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ،صدر مملکت نے بزرگ افراد کا خیال رکھنے پر تارے زمین پر ٹرسٹ اور عافیت کے کردار کو سراہا ،بعد ازاں ، صدر مملکت نے بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام بھی کیا

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • صدر اور سیکرٹری کے تنازعے نے ایوان صدر کو فٹبال میدان بنا دیا،فیصل کریم کنڈی

    صدر اور سیکرٹری کے تنازعے نے ایوان صدر کو فٹبال میدان بنا دیا،فیصل کریم کنڈی

    سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صدر اور سیکرٹری کے تنازعے نے ایوان صدر کو فٹبال میدان بنا دیا ہے ‘

    فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صدر اور ان کے سیکرٹری کی بیان بازی سے ملک تماشا بن رہا ہے عمران خان نے سائفر کے نام پر ملک کو تماشا بنایا اب ڈاکٹر علوی ملک کو تماشا بنا رہا ہے غیر آئینی طریقے سے اسمبلی توڑنے پر صدر کے خلاف کارروائی ہوتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ،2018 کے انتخابات میں بد دیانتی کے مضر اثرات کھل کر سامنے آ رہے ہیں 1995 میں میں بوئی ہوئی طفیلی جڑ نے پور ملک اور معاشرے کو لپیٹ میں لے لیا ہے 90 دن کے اندر آزادانہ غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات ہی ملک کو درست سمت میں لے جائیں گے 90 دن کے اندر انتخابات نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہوگی الیکشن کمیشن 90 دن کے اندر انتخابات کروا کر اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے

    آئین پر عمل سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا،شازیہ مری
    سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری نے کہا ہے کہ آئینی مدت پوری ہونے سے تین ہفتے قبل صدر کا ٹیوٹ سوالیہ نشان ہے، شازیہ مری کا کہنا تھا کہ صدر عارف علوی کے طرز عمل نے ملک کی ساکھ خراب کرنے کی ایک اور واردات ہے،اس سے پہلے صدر علوی غیر آینئی طریقے سے قومی اسمبلی بھی توڑ چکے ہیں، دنیا میں کوئی صدر سوشل میڈیا کے ذریعے آئینی امور نہیں نمٹاتے،سوشل میڈیا یا ٹویٹ کے زریعے آئینی زمیداری سے بری ہونا نامناسب ہے،لگائے گئے الزام سنگین ہیں لہٰزا تحقیق ضروری ہے،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دن رات محنت کرکے ملک کی ساکھ بحال کی ہے، کسی بڑے بحران سے بچنے کے لیے 90 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں،90 دن کے اندر انتخابات نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہوگی، ہمیں آئین کے مطابق چلنا ہوگا آئین پر عمل سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا،

    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    یاد رہے کہ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اپنے عملے سےکہا بغیر دستخط شدہ بلز مقررہ وقت میں واپس کردیں تاکہ غیرمؤثر بنایاجاسکے. میں نے کئی بار تصدیق کی اور مجھے یقین دلایا گیا کہ بلز واپس جاچکے ہیں۔ صدرمملکت نے کہا کہ مجھے آج پتہ چلا میرا عملہ میری مرضی،حکم کیخلاف گیا، میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو قانون اس سے متاثرہوں گے۔ اللہ سب جانتا ہے وہ انشاءاللہ معاف کردے گا۔

  • آفیشل سیکریٹ ایکٹ،آرمی ایکٹ ترمیمی بل،معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ،آرمی ایکٹ ترمیمی بل،معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط نہ کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔

    سپریم کورٹ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل معاملے کی تحقیقات کے لیے درخواست دائر کر دی گئی، درخواست ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے دائر کی ،درخواست میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے حکومت کو 10 دن میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے درخواست کے زیر التوا ہونے تک آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ پر عملدرآمد روک دیا جائے

    واضح رہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر مملکت کے پاس آئے، ایک دن خبر آئی کہ صدر مملکت نے دستخط کر دیئے تاہم دوسرے روز صدر مملکت نے ٹویٹ کر دی اور کہا کہ میں نے دستخط نہیں کئے، اسکے بعد پاکستانی سیاست نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، صدر مملکت سے انکی حریف جماعتوں کے رہنما استعفیٰ مانگ رہے ہیں کہ اگر انکا سیکرٹری،یا پی اے انکی بات نہیں مانتا تو صدر فوری مستعفی ہوں اور گھر جائیں

    دوسری جانب آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کے لیے اسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم کر دی گئی ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا اضافی چارج انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو سونپ دیا گیا ہے، جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت کریں گے-گزشتہ روز شاہ محمود قریشی کو اس عدالت میں سخت سیکورٹی میں پیش کیا گیا تھا

    آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل کے مطابق کوئی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتا ہے ریاست کے خلاف کام کرتا ہے ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا ، الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا مجرم تصور ہوگا پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی ان جرائم پر 3 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کرکے فیصلہ کرے گی

    آرمی ایکٹ بل کے متن کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو 5 سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی،آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہو گی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،متعلقہ شخص ریٹائرمنٹ، استعفی ، برطرفی کے 2 سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو 2 سال تک سخت سزا ہو گی، آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکڑنک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم کے تحت کاروائی کی جائے گی ،آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگیزی پھیلائے اسے 2سال تک قید اور جرمانہ ہو گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا

    حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا

    اسلام آباد: سیکرٹری وقار احمد نے ڈاکٹرعارف علوی سے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) یا کسی اور ایجنسی کے ذریعے تحقیقات کرانے کے لئے خط لکھ دیا جبکہ 22 گریڈ کی افسر حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی:پرنسپل سیکرٹری ہٹانے کےلیے صدر مملکت کے احکامات کی تعمیل نہ ہوسکی، الیکشن کمیشن کی اجازت کے بغیر پوسٹنگ تبادلے ہوسکتے ہیں نہ حکومت پر صدر کی درخواست لازم ہے نارکوٹکس ڈویژن کی سیکرٹری کی حیثیت سے کام کرنے والی 22 گریڈ کی افسر حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا ہے۔

    دی نیوز کے مطابق مسز حمیرا احمد جنہیں پہلے صدرکی پرنسپل سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کےلیے کہا گیا تھا انہوں نے یہ اسائنمنٹ اپنی درخواست پرچھوڑ دی اور انہیں وفاقی سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی لگایا گیا ہےجبکہ بعدازاں انہیں سیکرٹری نارکوٹکس ڈویژن لگا دیا گیا وہ ایک باوقار افسر خیال کی جاتی ہیں اور ان کے پاس اپنے فرائض انجام دینے کی مہارت موجود ہے۔

    پاکستان کے صدر مملکت کے پاس کسی سرکاری افسر کو تبدیل کرنے کا استحقاق نہیں ہےکسی بھی تبدیلی کےلیے انہیں حکومت سے رابطہ کرنا ہوتا ہے اور ذرائع نے اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ حکومت پر یہ لازم بھی نہیں ہے کہ صدر مملکت کی درخواست مانے۔

    سعودی عرب:روبوٹ کے ذریعے مرگی کے مریض کے دماغ میں چپ لگا دی گئی

    قبل ازیں سیکرٹری وقار احمد نے یہ خط اس وقت لکھا جب صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ بل اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے معاملے پر اپنے سیکریٹری وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کردیں۔

    وقار احمد نے اپنے مراسلے میں کہا کہ ان کا مقصد کچھ حقائق کو واضح کرنا ہے، میں یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ میں بلز کے حوالے سے کسی بے ضابطگی کا ذمہ دار نہیں ہوں تاخیر اور خلاف ورزی کے الزامات کے برعکس بلز سے متعلق دستاویزات ابھی تک صدارتی ایوانوں میں موجود ہیں، میری خدمات واپس کرنے کا فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں ہے-

    وقار احمد نے کہا کہ صدر نے آرمی ایکٹ (ترمیمی) بل کو پارلیمنٹ میں منظور یا واپس نہیں بھیجا، بل سے متعلق فائلز 21 اگست تک سیکرٹری آفس کو واپس نہیں کی گئیں صدر مملکت اس معاملے کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) یا کسی بھی متعلقہ ایجنسی کے ذریعے تحقیقات کرائیں تاکہ کسی حقیقت منظر عام پر آئے اگر کوئی غلط کام ثابت ہو جائے تو ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے، میں سپریم کورٹ یا کسی دوسری عدالت کے سامنے گواہی دینے کے لیے تیار ہوں، میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے ریکارڈ پیش کروں گا۔

    ایک تیر سے3 شکار، عارف علوی چھپا رستم نکلا،بندیال، علوی گٹھ جوڑ،گیم پلان لیک

    وقار احمد نے کہا آفیشل سکریٹ ایکٹ (ترمیمی) بل 2023 ایوان صدر کو 8 اگست کو سرکاری اوقات کے بعد موصول ہوا تھا، اسے 9 اگست کو صدر کو بھجوا دیا گیا تھا اور صدر مملکت کو دونوں بلز سے متعلق حقائق سے پوری طرح آگاہی ہےآئین کے آرٹیکل 75 کے تحت صدر کو 10 دن کے اندر کسی بل کی منظوری دینی ہوتی ہے اور اسی شق کے تحت وہ اتنے ہی دنوں میں بل کو دوبارہ غور کے لیے پارلیمنٹ کو بھیج سکتے ہیں صدر نے نہ تو بل کی منظوری دی اور نہ ہی اسے پارلیمنٹ کو واپس بھیجا اور بلز 21 اگست تک صدر کے دفتر میں ہی رہا۔

    شاہ محمود قریشی کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

  • ایک تیر سے3 شکار، عارف علوی چھپا رستم نکلا،بندیال، علوی گٹھ جوڑ،گیم پلان لیک

    ایک تیر سے3 شکار، عارف علوی چھپا رستم نکلا،بندیال، علوی گٹھ جوڑ،گیم پلان لیک

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عارف علوی نے کل جو کیا اس کو کل سے میں بھی دیکھ رہا تھا، کچھ وی لاگ دیکھے، رپورٹس دیکھیں،اور وہ چینلز پر،ہر جگہ ایک لائن مجھے نظر آئی کیونکہ سب لاجک سے بات کر رہے ہیں،بل کس کو دیا، کس سے لیا، ایکشن کیوں نہیں لیا، اس پر کتنے دن چپ کیوں رہے، آج کا دن یاد کیوں آیا؟ یہ لاجیکل سوال ہیں، لیکن کبھی پی ٹی آئی نے لاجک سے بات کی ہے؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عارف علوی کو ٹویٹ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ سوال ہے، اسکو پتہ ہے کہ قانون اس نے بنوایا ہے، آخر میں اس نے کہا کہ میں معافی مانگنا چاہتا ہوں تا کہ کل کو قریشی یا عمران خان باہر نکلیں تو یہ نہ کہیں کہ کیوں دستخط کئے، عارف علوی اور عمر عطا بندیال کے مابین یہ گٹھ جوڑ ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پچھلے ایک سال کی تمام کارکردگی کو دیکھیں تو پہلے اینٹی امریکیہ،پھر سازشی بیانیہ، پھر اسکے بعد روس یوکرین، اسکے بعد آئی ایم ایف کو خط، شوکت ترین کی آڈیو لیک ہوئی،پھر آئی ایم ایف کا آنا اور عمران خان کو ملنا، آج تک کبھی آئی ایم ایف والے کسی اپوزیشن لیڈر کو نہیں ملے، جمائما کا پورا ایکٹو ہونا اور قریشی کا تمام سفیروں کو ملنا، پھر دو لابنگ فرمز ہائیر کرنا،یورپی ،امریکی اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کرنا کہ پاکستان میں مداخلت کریں، یہ سب دیکھیں تو سب سمجھ آ جائے گی، ایک عدالت نے سزا سنائی اور عمران خان جیل پہنچ گئے،عدالت سزا سنائے تو پھر کوئی معافی نہیں، جب آپ 57 بار پیشی پر نہ جائیں، عدالت کو پھر فیصلہ سنانا ہی پڑا، اب عدالتوں پر تنقید کیوں جب خود پیش ہی نہ ہوئے،مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ عارف علوی عمران خان کا ٹاؤٹ ہے، اس نے دفتر میں آفییشل انکوائرئ نہیں کی،ذمہ دار کون ہے، ایکشن نہیں لیا، بس ایک ٹویٹ کر دی،ایوان صدر ایک محل نما ڈھانچہ ہے، وہاں پر صرف یہ نہیں کہ صدر بیٹھتا ہے اور دوسرے کمرے میں اسکی سونے کی جگہ، بلکہ وہاں اربوں روپے خرچ ہوتا ہے، وہاں ہر منسٹری کا متعلقہ سٹاف ہوتا ہے، لا منسٹری کو دیکھنے کے لئے جو بندہ ہیڈ کر رہا ہے وہ سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ہے، بریفنگ کے بعد صدر فیصلے کرتے ہیں، سینکڑوں بلز پر سائن اور واپس بھی کر چکے ہیں ،یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ طریقہ نہیں پتہ، کیوںکہ ایک عرصہ ہو گیا انکو،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عارف علوی نے تین کام کئے، ایک پاکستان کو ڈیمج کیا،دوسرا انہوں نے کہا عمران خان ،قریشی اندر ہے تو میں تو باہرہوں،کل جب میں یہاں سے جاؤں گا تو تحریک انصاف کو لیڈ کرنے کی کوشش کروں گا،بشریٰ بی بی اب تحریک انصاف کی قیادت کرنے کی دوڑ میں شامل ہے،

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • صدر نے غلط بیانی کی قانون کے مطابق کاروائی شروع ہوسکتی ہے،رضا ربانی

    صدر نے غلط بیانی کی قانون کے مطابق کاروائی شروع ہوسکتی ہے،رضا ربانی

    پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت عارف کی جانب سے کیا گیا ٹویٹ غیر مناسب تھا ،

    رضا ربانی کا کہنا تھا کہ صدر ریاست کے سربراہ ہیں انکے پاس آئینی راستہ موجود تھا ،آرٹیکل 75 کے تحت وہ بلز کو واپس بھیج دیتے ،جس طرح دیگر بلز واپس بھیجے تھے یہ بھی اسی طرح واپس بھیج دیتے یہ کیا بات ہوئی وہ دستخط بھی نہیں کرنا چاہتے کچھ کہنا بھی نہیں چاہتے ہیں ، میں یہ سمجھتا ہوں یہ کوئسچن آف لاء سے زیادہ کوئسچن کو فیکٹ کا معاملہ ہے ،صدر آئین کے آرٹیکل 50 کے تحت پارلمینٹ کا حصہ ہیں ،صدر کو سینٹ کی کمیٹی کے رو برو پیش ہونا چاہیے جو متعلقہ افسران ہیں جن کا تعلق اس واقعے سے ان کو وہاں پیش ہونا چاہیے ،اس کمیٹی کو تحقیقات کرنی چاہیے کہ اصل حقائق کیا ہیں اگر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صدر نے غلط بیانی کی ہے تو انکے خلاف قانون کے مطابق کاروائی شروع ہوسکتی ہے ،

    صحافی نے سوال کیا کہ اگر دستخط نہیں کیے تو اس ایکٹ کی کیا حیثیت ہے؟ جواب دیتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ ابھی واضح نہیں ہے کہ صدر نے دستخط کیے ہیں یا نہیں ،ایک طرف صدر کہہ رہے ہیں میں دستخط نہیں کیے اسکے بعد وہ کہہ ہیں میں معذرت خواہ ہوں متاثرین سے، آئین کا آرٹیکل 75 بڑا کلئیر ہے اس معاملے میں ،نو ستمبر کو صدر کی مدت ویسے ہی مکمل ہورہی ہے انکے خلاف سینیٹ انکوائری کرسکتی ہے ،اگر سینیٹ اس نتیجے پر پہنچے کے صدر نے غلط بیانی کی ہے تو انکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے ،صدر کے مواخذے کا معاملہ الگ ہے لیکن سینیٹ انکوائری کرسکتی ہے ،

    آئین پر عمل سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا،شازیہ مری
    سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری نے کہا ہے کہ آئینی مدت پوری ہونے سے تین ہفتے قبل صدر کا ٹیوٹ سوالیہ نشان ہے، شازیہ مری کا کہنا تھا کہ صدر عارف علوی کے طرز عمل نے ملک کی ساکھ خراب کرنے کی ایک اور واردات ہے،اس سے پہلے صدر علوی غیر آینئی طریقے سے قومی اسمبلی بھی توڑ چکے ہیں، دنیا میں کوئی صدر سوشل میڈیا کے ذریعے آئینی امور نہیں نمٹاتے،سوشل میڈیا یا ٹویٹ کے زریعے آئینی زمیداری سے بری ہونا نامناسب ہے،لگائے گئے الزام سنگین ہیں لہٰزا تحقیق ضروری ہے،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دن رات محنت کرکے ملک کی ساکھ بحال کی ہے، کسی بڑے بحران سے بچنے کے لیے 90 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں،90 دن کے اندر انتخابات نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہوگی، ہمیں آئین کے مطابق چلنا ہوگا آئین پر عمل سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا،

    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    یاد رہے کہ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اپنے عملے سےکہا بغیر دستخط شدہ بلز مقررہ وقت میں واپس کردیں تاکہ غیرمؤثر بنایاجاسکے. میں نے کئی بار تصدیق کی اور مجھے یقین دلایا گیا کہ بلز واپس جاچکے ہیں۔ صدرمملکت نے کہا کہ مجھے آج پتہ چلا میرا عملہ میری مرضی،حکم کیخلاف گیا، میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو قانون اس سے متاثرہوں گے۔ اللہ سب جانتا ہے وہ انشاءاللہ معاف کردے گا۔

  • خدا گواہ ہے،میں نے آفیشل سیکرٹس اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے،عارف علوی

    خدا گواہ ہے،میں نے آفیشل سیکرٹس اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے،عارف علوی

    اسلام آباد: آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے متعلق صدر مملکت عارف علوی کے بیان نے نیا پینڈورا باکس کھول دیا-

    باغی ٹی وی: وزارت قانون و انصاف نے صدر کے حالیہ ٹویٹ پر شدید تشویش کا اظہار کر دیا وزارت قانون و انصاف نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 75 کے مطابق، جب کوئی بل منظوری کے لیے بھیجا جاتا ہے، تو صدر کے پاس دو اختیارات ہوتے ہیں، یا تو منظوری دیں، یا مخصوص مشاہدات کے ساتھ معاملہ پارلیمنٹ کو بھیجیں، آرٹیکل 75 کوئی تیسرا آپشن فراہم نہیں کرتا،فوری معاملےمیں، کوئی بھی ضروریات پوری نہیں ہوئیں،اس کےبجائے، صدر نے جان بوجھ کر منظوری میں تاخیر کی، بلوں کو بغیر کسی مشاہدے یا منظوری کے واپس کرنا آئین میں فراہم نہیں کیا گیا-

    وزارت قانون و انصاف نےکہا کہ ایسا اقدام آئین کی روح کے منافی ہے، اگر صدر کے پاس کوئی مشاہدہ تھا تو وہ اپنے مشاہدات کے ساتھ بل واپس کر سکتے تھے، جیسا کہ انہوں نے ماضی میں کیا تھاصدر اس سلسلے میں ایک پریس ریلیز بھی جاری کر سکتے تھے،یہ تشویشناک بات ہے کہ صدر نے اپنے ہی عہدیداروں کو بدنام کرنے کا انتخاب کیا ہے، صدر کو اپنے اعمال کی ذمہ داری خود لینا چاہیے-

    سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ بات ناقابل یقین ہے، اخلاقیات کا تقاضا ہےکہ صدر مستعفی ہوں، صدر مؤثر انداز میں دفتری کام کرنے میں ناکام رہے، اللہ ہماری مدد کرے۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جس صدرکو نہیں پتہ کہ ایوان صدر میں کیا ہو رہاہے وہ عہدے پر رہنےکا اہل ہی نہیں، صدر بیان دینے، معافی مانگنےکے بجائے بتائیں ان افسروں کےخلاف کیا کارروائی کی۔

    دوسری جانب پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے صدرِمملکت کی ٹویٹ پر گہری تشویش کا اظہارکیا گیا ہے صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ خالد مسعود سندھو نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ صدر مملکت کے دفتر سے اس قسم کی خبر کا آنا پوری دنیا میں وطن عزیز کی جگ ہنسائی کا باعث بنے گا، پوری قوم میں اس معاملے پر شدید اضطراب اور بے چینی پائی جاتی ہے،بطور سربراہ ریاست صدر مملکت کو اس معاملے پر ٹویٹ کی بجائے قانونی کارروائی کرنی چاہیے، اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے ، محض معافی مانگنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔
    https://twitter.com/PMMLMedia/status/1693212157133861105?s=20
    انہو‌ں نے کہا کہ یہ ریاست کے وقار کا معاملہ ہے سپریم کورٹ اس کا سوموٹو نوٹس لے کر تحقیقات کا آغاز کرے صدر مملکت کے عملے کا ان کی مرضی کے خلاف کام کرنا ملکی سلامتی کے لیے انتہائی تشویشناک ہے بطور سپریم کمانڈر افواج پاکستان صدر مملکت کا دفتر انتہائی حساس حیثیت رکھتا ہے۔

    علاوہ ازیں مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا ء اللہ نے کہا ہے کہ عارف علوی جس عہدے پر فائز ہیں، انہوں نے اس کی توہین کی ہےرانا ثنا ء اللہ نے کہا ہے کہ صدر عارف علوی کو ٹویٹ کرنے کے بجائے انکوائری کرنی چاہیے تھی، ان کے ٹویٹ سے آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے، اس معاملے میں تین لوگوں کا کردار ہوسکتا ہے، صدر عارف علوی، سیکرٹری اور ایم ایس صدر اس میں ملوث ہو سکتے ہیں،یہ بہت حساس معاملہ ہے، اس سے ملک کی بدنامی ہو گی، ذمہ داروں کیخلاف قانونی کارروائی ہوتی ہے ، ٹویٹ نہیں-

    مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ صدر علوی کھل کر بات کریں، اگربلوں سےاختلاف تھا توانہوں نےکیوں اپنے اعتراضات درج نہ کیے؟ ہاں یا ناں کے بغیربل واپس بھیجنے کا کیا مقصد تھا؟ میڈیا پر خبریں آنے کے باوجود وہ 2 دن کیوں چپ رہے؟صدرمملکت بولے بھی تو معاملہ اور الجھا دیا، اگر ان کا اسٹاف بھی ان کے بس میں نہیں تو مستعفی ہوکر گھر چلے جائیں۔

    مسلم لیگ کے رہنما اور سابق مشیر وزیراعظم عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی بل واپس ہی نہیں گئے تھے، عملے کو مورد الزام ٹھہرانا ایک گھٹیا بہانہ لگتا ہے،رہنما ن لیگ اور سابق مشیر وزیراعظم عطا تارڑ نے بھی اپنی ٹویٹ میں صدر مملکت کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بل واپس کیے گئے تھے ان سب کی میڈیا میں تشہیر کی گئی تھی سب جانتے تھے کہ یہ 2 بل کبھی واپس نہیں کیے گئے تھے، بل بھیجنے اور وصول کرنے کا ایک طریقہ ہے، اسے ڈبل چیک کیا جا سکتا تھا، اپنے عملے کو مورد الزام ٹھہرانا ایک گھٹیا بہانہ لگتا ہے۔

    سابق وفاقی وزیر شیری رحمان نے صدر مملکت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی ناک کے نیچے بلز پرکوئی اور دستخط کرتا ہے؟ صدر کی وضاحت ان کے صدارتی منصب سنبھالنے کی اہلیت پر سوالیہ نشان ہے، اگر ایسا ہی ہے تو صدرکو اس عہدے سے فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے، اگر آپ کا عملہ آپ کے کہنے میں نہیں تو آپ صدارتی منصب چھوڑ دیں، تحریک انصاف کی حکومت میں وہ صدر ہاؤس کو آرڈیننس فیکٹری کے طور پر چلاتے رہے،کیا اس وقت بھی آرڈیننسز پر کوئی اور دستخط کر کے واپس کیا کرتا تھا؟صدر عارف علوی اپنے وضاحتی بیان کے بعد صدارت کے آئینی عہدے پر رہنےکے اہل نہیں رہے۔

    جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے ایکس پر جاری پیغام میں لکھا کہ یہ تو ایک نیا پنڈورابکس کھل گیاہے، اگر صورت حال واقعی ایسی ہی ہے جیسا کہ صدر نے لکھا ہے تو یہ ریاست پاکستان، پارلیمنٹ اور قانون سازی کے ساتھ ساتھ 24کروڑ پاکستانیوں کی توہین ہے معاملات ایک دفعہ پھر عدالتوں میں جائیں گے، ملک کے اعلیٰ ترین منصب کے اس حال سے پاکستان کے حالات کا اندازہ لگایا جا سکتاہے، اللہ پاکستان پر رحم فرمائے۔

    واضح رہے کہ چند گھنٹے پہلے صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ جیسا کہ خدا میرا گواہ ہے، میں نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صدر مملکت نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط کرنے کے حوالےسے پیغام جاری کیا ہے انہوں نے کہا کہ خدا میرا گواہ ہے، میں نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے-

    شاہ محمود قریشی گرفتار

    انہوں نے مزید لکھا کہ کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا میں نے اپنے عملے سے کہا کہ وہ بغیر دستخط شدہ بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس کر دیں تاکہ انہیں غیر موثر بنایا جا سکے میں نے ان سے کئی بار تصدیق کی کہ آیا وہ واپس آچکے ہیں اور یقین دلایا گیا کہ وہ ہیں تاہم مجھے آج پتہ چلا ہے کہ میرے عملے نے میری مرضی اور حکم کو مجروح کیا جیسا کہ اللہ سب جانتا ہے، وہ انشاءاللہ معاف کر دے گا لیکن میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو متاثر ہوں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ صدر عارف علوی نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد دونوں بلز قوانین بن گئے ہیں۔

    سابق وفاقی وزیر اسد عمراسلام آباد سے گرفتار

  • آفیشل سیکریٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل،صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    آفیشل سیکریٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل،صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    صدر مملکت نے آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کر دیے

    دونوں بل قومی اسمبلی اور سینٹ سے پاس ہو چکے ہیں صدر مملکت کو دونوں بل گزشتہ حکومت نے بھیجے تھے صدر کے دستخط کے بعد دونوں بلز قانون کی شکل اختیار کر گئے ہیں،قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بل منظورہونے کے بعد توثیق کیلئے صدر مملکت کو بھیجے گئے تھے 27 جولائی کو سینیٹ میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور کیا گیا تھا،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت اجلاس میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل اس وقت کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیا تھا

    آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل کے مطابق کوئی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتا ہے ریاست کے خلاف کام کرتا ہے ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا ، الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا مجرم تصور ہوگا پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی ان جرائم پر 3 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کرکے فیصلہ کرے گی

    آرمی ایکٹ بل کے متن کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو 5 سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی،آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہو گی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،متعلقہ شخص ریٹائرمنٹ، استعفی ، برطرفی کے 2 سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو 2 سال تک سخت سزا ہو گی، آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکڑنک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم کے تحت کاروائی کی جائے گی ،آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگیزی پھیلائے اسے 2سال تک قید اور جرمانہ ہو گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے حلف اٹھا لیا

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے حلف اٹھا لیا

    نامزد وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی تقریب حلف برداری منعقد ہوئی

    تقریب حلف برداری میں صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی، وزیراعظم شہباز شریف موجود تھے، صدر عارف علوی نے انوارالحق کاکڑ سے حلف لیا

    حلف برداری کی تقریب میں میں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی، سپیکر قومی اسمبلی اور سروسز چیفس بھی شریک تھے، تقریب میں نگران وزیراعلی اور گورنرز بھی شریک تھے، ۔تقریب میں چیف جسٹس پاکستان ، چیف الیکشن کمشنر کو بھی مدعو کیا گیا تھا

    انوار الحق کاکڑ پاکستان کے آٹھویں نگران وزیراعظم بن گئے ہیں،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی حلف برداری کی تقریب مکمل ہو چکی ہے، اب نگران کابینہ بارے غور کیا جائے گا، میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر حفیظ شیخ بطور نگران وزیر خزانہ کابینہ کا حصہ ہونگے،چئیرمین ایپٹما گوہر اعجاز کو نگران وزیر انڈسٹریز کا قلمدان ملنے کا امکان ہے، جلیل عباس جیلانی نگران وزیر خارجہ جبکہ سابق آئی جی ڈاکٹر شعیب سڈل نگران وزیر داخلہ کے لیے فیورٹ نام ہیں، نگران وزیر قانون کے لیے احسن بھون کا نام زیر غور ہے، ذوالفقار چیمہ اور سرفراز بھگٹی بھی ممکنہ طور پر نگران کابینہ کا حصہ ہونگے،

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

  • منافرت کی بجائے محبتوں کو فروغ دینا ہو گا،صدر مملکت

    منافرت کی بجائے محبتوں کو فروغ دینا ہو گا،صدر مملکت

    اسلام آباد: کنونشن سنٹر میں یوم آزادی پر پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، صدر مملکت عارف علوی نے قومی پرچم لہرایا،تقریب سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو یوم آزادی کی مبارکباد پیش کرتا ہوں پاکستان کیلئے قربانیاں 1857 کی جنگ آزادی سے شروع ہوئیں پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف ایک لاکھ جانوں کی قربانی دی آج بھی میرے فوجی ،سویلین ،میری قوم مسلسل شہادت دے رہے ہیں آزادی اور جمہوریت کیلئے یہ قربانیاں دی گئیں ،قانون و آئین کی بالا دستی کیلئے قربانیاں دی گئیں ،ابھی وقت نہیں گیا، پاکستان کیلئے راستے کھلے ہیں منافرت پھیلانے کے بجائے محبتوں کو فروغ دینا ہو گا، محبت کو فروغ دینے کے لیے اسلام واحد راستہ ہے

    ہم آہنگی اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا،گورنر خیبرپختونخوا
    گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے 76ویں یوم آزادی پاکستان پر خصوصی پیغام میں کہا کہ پاکستان کلمہ توحید، بے مثال جدوجہد لازوال قربانیوں کے نتیجہ میں دنیا کے نقشہ میں شامل ہوا، آزادی اللہ تعالٰی کی بہت بڑی نعمت ہے اور ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئیے،ہمیں ذاتی، گروہی اور تفرقہ بازی سے بالاتر ہوکر یکسوئی، ہم آہنگی اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔مملکت خداداد پاکستان ہمارے اکابرین کی جدوجہد وقربانیوں کانتیجہ ہے، کسی بھی قوم کیلئے اندرونی خلفشار، باہمی تقسیم اور انتشار سے بڑھ کر کوئی چیز خطرناک نہیں ہوسکتی،ہم نے اپنے آنیوالی نسلوں کو خوشحال، پائیدار، پرامن اور مستحکم پاکستان دینا ہے،آج ہمارے ملک کی سلامتی، خودمختاری مضبوط ہے جس کو ہم نے اپنی ملک کی سرحدوں کے محافظوں کے ساتھ ملکر مضبوط سے مضبوط تربناناہے۔میں اس موقع پر افواج پاکستان اوردیگرسیکیورٹی اداروں کے جوانوں کوبھی خراج تحسین پیش کرتاہوں،مملکت خدادادکی نظریاتی اور جغرافیائی حفاظت کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے، ملک کو اس وقت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جس کا بحیثیت قوم ہمیں متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہے،

    خیبر پختونخوا،جشن آزادی کی مرکزی تقریب سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوئی،نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی،چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوھدری، انسپکٹر جنرل پولیس اختر حیات خان گنڈا پور، دیگر سرکاری حکام، طلبہ اور سول سوسائٹی اراکین نے تقریب میں شرکت کی، وزیراعلی نے پرچم کشائی کرکے تقریب کا آغاز کیا۔ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے یوم آزادی کے موقع پر قومی پرچم کو سلامی دی۔ وزیر اعلی نے جشن آزادی کی تقریب کے سلسلے میں پودا بھی لگایا۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر یوم آزادی کا کیک بھی کاٹا۔ یوم آزادی کے موقع پر سول سیکرٹریٹ کو برقی قمقموں اور قومی پرچموں سے سجایا گیا تھا۔

    ملک جس ٹریک پر ہے اس کے اثرات جلد نظر آئیں گے،محسن نقوی
    نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے حضوری باغ میں جشن آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کو جشن آزادی مبارک ہو، آپ سب نے اس پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے، آپ سب کو کبھی مایوس نہیں ہونا،قائد اعظم نے بھی اپنی تقریر می یہی کہا ہے، اس ملک کا مستقبل بہت روشن ہے،ملک جس ٹریک پر ہے اس کے اثرات جلد نظر آئیں گے،ملک کی ترقی میں حصہ ڈالنا ہے تو ایک ایمانداری سے کام کریں دوسرا، اپنی نوکری کا وقت پورا کریں، حکومتیں کام کرتی ہیں کرتی رہیں گی، ڈاکٹرز اپنا پوار وقت دیں تو ہیلتھ سیکٹر میں بہتری آ سکتی ہے، اساتذہ کرام بھی ایمانداری سے وقت دیں تو ملک ترقی کرے گا،

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    کوئی پگڑی والا ہے یا داڑھی والا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سب کے ایمان کا حصہ ہے،علامہ طاہر اشرفی

    پاکستان میں او آئی سی کانفرنس،چودھری شجاعت نے بھی بڑی بات کہہ دی

    تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

    مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

    یوم آزادی پر واپڈا ہاؤس لاہور میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی،ممبر فنانس واپڈا نوید اصغر چوہدری نے واپڈا آڈیٹوریم میں پرچم کشائی کی۔ممبر واٹر جاوید اختر لطیف ، ممبر پاور جمیل اختر، سینئر آفیسرز اور ملازمین تقریب میں شریک تھے۔پرچم کشائی کی تقریب میں واپڈا سکولز کے طلباء و طالبات نے ملی نغمے پیش کئے۔یوم آزادی کی مناسبت سے خصوصی طور پر تیار کیا گیا قومی پرچم بھی واپڈا ہاؤس پر آویزاں کیا گیا ہے۔خصوصی طور پر تیار کئے گئے قومی پرچم کی لمبائی 100 فٹ اور چوڑائی 40 فٹ ہے

    ہر پاکستانی اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہے،علیم خان
    76ویں یوم آزادی پر صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ دنیا کے نقشے پر پہلی اسلامی ریاست کا قیام انمول تحفہ تھا،ہے اور انشاء اللہ رہے گا ہم بدقسمتی سے قائد اور اقبال کے فرمودات کے مطابق آگے نہیں بڑھ سکے آج کے دن ہم سب کو نیک نیتی کے ساتھ وطن عزیز کی خدمت کا عہد کرنا چاہیے دشمن کے عزائم خاک میں ملانے اور ہر حال میں پاکستان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا مادر وطن کی حفاظت کے لیے ہر پاکستانی اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہے ہمارا نوجوان طبقہ صلاحیتوں سے مالا مال، ذرا نم ہو تو یہ مٹی زرخیز ہے مواقع بڑھانے کی ضرورت ، ہمارا قیمتی ٹیلنٹ بیرون ملک منتقل نہیں ہونا چاہیے ہمیں وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کے لئے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا

    ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کا عہد کریں،شیری رحمان
    پیپلز پارٹی کی رہنما، سابق وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ جشن آزادی پاکستان کے پرمسرت موقع پر تمام اہل وطن کو دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ وطن عزیز پاکستان کا قیام ہمارے قائدین اور رہنماؤں کی برسوں کی لگن اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد نے جمہوری، خودمختار اور ترقی پسند ملک کی بنیاد رکھی تھی۔ آج کا دن پاکستان کیلئے دوگنی خوشی کا باعث ہے، کیوں کہ 50 سال پہلے آج کے دن آئین پاکستان کی متفقہ منظوری کے بعد توثیق دی گئی تھی۔ آج میں اپنے دو عظیم قائدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہماری قوم کی تاریخ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح جنہوں نے ہمیں پاکستان دیا، اور شہید ذوالفقار علی بھٹو جنہوں نے جناح کے پاکستان کو 1973 کے آئین دیا۔ 73 کے آئین میں قائداعظم کے نظریہ کے مطابق جمہوری طرز حکمرانی، بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کیا گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح اور شہید ذوالفقار علی بھٹو تمام نسلوں کیلئے قربانی، عزم اور قیادت کی عظیم مثالیں ہیں۔ آج جناح اور بھٹو کے پاکستان کو درپیش پیچیدہ مسائل بشمول اقتصادی ترقی، سماجی مساوات اور سیاسی استحکام کے اجتماعی حل کی ضرورت ہے۔ آئیے ایک قوم بن کر ان چیلنجز سے نمٹنے اور ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کا عہد کریں، اور اتحاد اور حب الوطنی کا جذبے کو ہمشیہ قائم رکھیں۔ پاکستان زندہ آباد۔

    شہر قائد کراچی میں اسپیشل سیکورٹی یونٹ نے جشن آزادی کے موقع پر فلیگ مارچ کیا، ایس ایس یو کمانڈروز کے قافلے نے شہر کے مختلف علاقوں میں گشت کیا، اس موقع پر ڈی آئی جی مقصود میمن کا کہنا ہے کہ فلیگ مارچ کا مقصد جشن آزدای کے موقع پر شہریوں کو تحفظ کا احساس دلانا ہے ،ایس ایس یو نے جشن آزادی کی مناسبت سے بلڈ کیمپ کا انعقاد کیا ،ایس ایس یو کے سو اہکاروں اور افسران نے تھیلیسمیا کے مریض بچوں کو خون کے عطیات دیئے ہین ،اسپیشل سیکورٹی یونٹ جشن آزادی کے دن کو جوش و جزبے سے منا رہا ہے ،آج ایس ایس یو میں نشانہ بازی کا مقابلہ اور دیگر پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا ،

    پاکستان ریلویز میں بھی ملک بھر کی طرح 76 ویں جشنِ آزادی کی تقریبات کا خصوصی اہتمام کیا گیا،جشنِ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں ہیڈکوارٹرز کے احاطے میں مرکزی تقریب منعقد کی گئی۔چیف ایگزیکٹو آفیسرپاکستان ریلویز شاہد عزیز نے پرچم کشائی کی۔ تقریب میں پرنسپل و ڈپٹی پرنسپل افسران شریک تھے، حاضرین نے تقریب میں صدر مملکت کا لائیو خطاب سنا ،سی ای او ریلویز شاہد عزیز نے ہیڈکوارٹرز کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔ محکمہ ریلوے کی ترقی و خوشحالی اور ملکی سلامتی کے لیے دُعا بھی کی گئی۔

    پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی میں 76 ویں جشن آزادی کے حوالے سے تقریب و ریلی کا اہتمام کیا گیا،تقریب کا آغاز وطن عزیز کے لیے خصوصی دعا اور آزادی کا کیک کاٹنے سے کیا گیا ، چیف ایگزیکٹو آفیسر فائق احمد نے انفورسمنٹ ونگ کے ٹرانسپورٹ انسپکٹرز کے ساتھ ملکر آزادی مارچ بھی کیا ،سی ای او پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی فائق احمد نے جشن آزادی کے موقع پر کہا کہ پاکستان کے 76ویں یوم آزادی کے موقع پر قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں پاکستان اللہ تعالی کی لازوال نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔ آج کے دن عہد کریں کہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ پاکستان بنائیں گے۔ پاکستان کو ہمارے آباؤ اجداد نے بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ۔ پاکستان کی تشکیلِ نو کی جدوجہد میں ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر نے پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی ہیڈ کوارٹر میں آزادی کا کیک کاٹا ،چیف ایگزیکٹو آفیسر نے انفورسمنٹ انسپکٹرز کے ساتھ ملکر آزادی مارچ بھی کیا۔تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی اور ترقی کیلئے خصوصی دعا بھی کروائی گئی ۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھی یومِ آزادی پاکستان کے موقع پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے،آج لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کشمیری یوم آزادی پاکستان جوش و خروش سے منا رہے ہیں وادی میں سبز ہلالی پرچموں کی بہار ہے،کپواڑہ، سرینگر، بارہ مولا اور راجوڑی سمیت کئی اضلاع میں موقع کی مناسبت سے تقریبات منعقد کی گئیں،کشمیریوں نے گھروں کی چھتوں پر سبز ہلالی پرچم لہرا کر جذبات کی عکاسی کی ، مظاہرین کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر 19 جولائی 1947 کی قرارداد الحاق پاکستان کی رو سے پاکستان کا حصہ تھا، ہے اور رہے گا، مودی سرکار تحریک آزادی کو دبانے کے لیے بدترین ریاستی جبر اور ظلم کا سہارا لے رہی ہے،

    آزاد کشمیر میں بھی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر ریلیوں، سیمینارز اور دیگر تقریبات کا انعقاد کیا گیا، شرکاء نے مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور ناجائز انضمام کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا، مقبوضہ کشمیر ذرائع ابلاغ، انٹرنیٹ اور مواصلات کی بندش میں گزشتہ چار سالوں سے دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے

    پاکستان کے 76ویں یوم آزادی کے موقع پر قذافی سٹیڈیم لاہور میں پرچم کشائی اور کیک کاٹنے کی تقریب ہوئی۔ تقریب میں پاکستان مینز کرکٹرز، سرفراز نواز سمیت سابق انٹرنیشنل کرکٹرز نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے افسران اور عملے کے ہمراہ شرکت کی۔چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی جناب ذکاء اشرف نے پرچم کشائی کی۔ انہوں نے اس موقع پر ایک پودا بھی لگایا اور کیک کاٹا۔ ذکا اشرف نے اس موقع پر پی سی بی کے کھلاڑیوں اور عہدیداروں کو جشن آزادی کی مبارکباد دی۔

    پاکستان کی 24 کروڑ عوام اپنے ملک کے خلاف ہر سازش کو ناکام و نامراد کر دے گی، فیاض الحسن چوہان
    مرکزی ترجمان استحکامِ پاکستان پارٹی اور سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے یومِ آزادی پر پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کی 24 کروڑ عوام کو چھہترواں یومِ آزادی مبارک ہو ۔ پاکستان قائد اعظم کی لازوال قیادت اور ہمارے آباؤاجداد کی بے مثال قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔ پاکستان کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں کا خون شامل ہے ۔پاکستان کے دشمنوں نے روزِ اول سے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا ۔ملک دشمن طاقتیں پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں پاکستان کی 24 کروڑ عوام اپنے ملک کے خلاف ہر سازش کو ناکام و نامراد کر دے گی ۔ عوام لسانیت، صوبائیت اور ہر قسم کی سیاسی عصبیت کو بالائے طاق رکھ کر دھرتی ماں کے ساتھ وفا کرے گی

    آر پی او فیصل آباڈاکٹرمحمدعابد خان نے 76 ویں یوم آزادی کے موقع پرکمشنرآفس فیصل آبادمنعقد ہونے والی پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں کمشنر فیصل آبادسلوت سعید سی پی او فیصل آباد عثمان اکرم گوندل،ڈی سی فیصل آبادعلی عنان قمر، اے سی صدر کامران صغیر،اے سی سٹی محمد زبیر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کواٹر کاشف رضا اعوان، سی ٹی اومقصود احمد لون اور معززین شہر کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ 8بجے کر 58منٹ پر سائرن بجایا گیا اور 9/-بجے قومی ترانہ اورپر چم کشائی ہو ئی۔بعد از پرچم کشائی پولیس، 1122، سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ اور اسکاوٹس کے چاک و چوبند دستوں نے سلامی دی۔سلامی کی تقریب کے بعد یوم آزادی کے حوالے سے کیک کاٹا گیا اور پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا مانگی گی۔

    اس موقع پر آرپی او فیصل آباد اظہار خیال کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان کا قیام برصغیرکے مسلمانوں کی لازوال قربانیوں اور انتھک جدوجہد کا ثمر ہے۔ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے اور اس کی ترقی اور استحکام کیلئے انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ مزید انہوں نے اظہار خیال کر تے ہو ئے کہاجو ملک ہم نے حاصل کیا اس میں بزرگوں خواتین کی قربانیاں شامل ہے 14اگست 1947؁ء کو جب یہ ملک آزاد ہواتو تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت عمل میں آئی اس میں ہمارے پاکستان کے باسیوں نے اپنے خون اور جان و مال کا نظرانہ پیش کیا جس ملک کی بنیاد میں اتنی لازول قربانیاں ہوں اس ملک کی بنیاد مظبوط سے مظبوط ہو نی چاہیے لیکن المیہ ہے کہ ہم نے اس ملک کو اسطرح مظبوط نہیں بنایا جس طرح اس کا حق تھا قائداعظم نے فرمایا تھا کام کام بس کام ہم ذکر تو کر تے ہیں کام کام بس کام لیکن خود اس پرعمل نہیں کر تے جس دن ہم نے ٹھان لی کہ ہم خود اپنے گریبان میں جھانکے گے اور یہ دیکھیں گے کہ ہم اس ملک کی ترقی اور فلاح بہبود کے لیے کیا کوشش کر رہے ہیں اور کیاحصہ ڈال رہے ہیں آپ یقین جانے کہ اس دن سے یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔میں ریجن فیصل آباد پولیس کا سربراہ ہو نے کے ناطے ایک دفعہ پھر پنجاب پولیس کی طرف سے تما م اہل وطن کو یوم آزادی مبارک کہتا ہوں۔

    گورنمنٹ کالج وومن یونیورسٹی فیصل اباد میں ڈائریکٹریٹ آف سٹوڈنٹ افیئرز کے زیر اہتمام یوم آزادی کے سلسلہ میں پرچم کشائی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی ، وائس چانسلر جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد پروفیسر ڈاکٹر ظل ہما نازلی نے سبز ہلالی پرچم لہرایا اور جشن ازادی کی خوشی میں کیک کاٹا ۔ اس موقع پر یونیورسٹی کی طالبات نے ملی نغمے بھی پیش کئے ۔ یونیورسٹی کے سیکیورٹی سٹاف نے خصوصی مارچ پاسٹ پیش کیا۔ وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم خود سے وعدہ کر کے اٹھیں گے کہ ہم محنت اور ایمانداری سے اپنے فرائض سرانجام دیں گے اور اس ادارے کی بہتری اور ترقی کے لیے تن دہی سے کام کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بہت بڑی قربانی دے کے معرض وجود میں آیا ۔ ہمارے کشمیری بھائی آج تک آزادی کے لیئے اپنی جان و مال کی قربانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ہم اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کریں کہ ہم آج آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ کشمیر فلسطین اور دیگر تمام ممالک جو کہ اس وقت آزاد نہیں ہیں اللہ تعالی ان کو بھی جلد از جلد آزادی نصیب فرمائے۔ پروفیسر ڈاکٹر ظل ہما نازلی نے اپنی تقریر کا اختتام ملک کی ترقی کے لیے دعا پر کیا۔

    دیرپا اور عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالیں گے،جہانگیر ترین
    استحکام پاکستان پارٹی کے پیٹرن انچیف جہانگیر خان ترین نے یوم آزادی پر کہا ہے کہ 76ویں یوم آزادی کے پرمسرت موقع پر اپنے ہم وطنوں کی خوشی میں برابر کا شریک ہوں، تحریک آزادی کے ان گنت جانثاروں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں،یوم آزادی پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کرتے ہیں ،لاکھوں قربانیوں کے بعد پاکستان حاصل کیا گیا,ہم نے پاکستان کو سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے مستحکم اور مضبوط پاکستان بنانا ہے،تجدید عہد کرتے ہیں کہ پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے دن رات محنت کرینگے، دیرپا اور عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالیں گے، قیام امن کی خاطر جانیں قربان کرنے والے شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،

    گھبرانے کی ضرورت نہیں منزل قریب ہے، راجہ پرویز اشرف
    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے یوم آزادی پاکستان کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی،تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئین کا تقاضا ہے 90 دن میں انتخابات ہوں مردم شماری بھی آئین کا ایک تقاضہ ہے پاکستان ملک کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں اور ان چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے یکجہتی کی ضرورت ہے نگران وزیراعظم ایک باصلاحیت شخص ہیں چھوٹے صوبے سے یہ انتخاب خوش آئند ہے امید ہے نگران وزیراعظم تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں اور غیر جانبدارانہ انتخاب کا عمل آئین کے مطابق جلد مکمل کریں گے پاکستانی قوم بہت صبر اور بہادری والی قوم ہے، انشاءاللہ پاکستان جلد چیلنجز سے باہر ائے گا گھبرانے کی ضرورت نہیں منزل قریب ہے

    پاکستان کے مدارس صوبائی و ضلعی دفاتر اور تعلیمی اداروں پر قومی پرچم کشائی
    مرکزی علماء کونسل پاکستان کی اپیل پر پاکستان کے مدارس صوبائی و ضلعی دفاتر اور تعلیمی اداروں پر قومی پرچم کشائی کی گئی فیصل آباد قاسمیہ کالج آف کامرس اینڈ سائنسز میں چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہدمحمود قاسمی نے علماء و مشائخ و سماجی شخصیات کے ہمراہ قومی پرچم کشائی کی۔ اس موقع پر مولانا حفیظ الرحمن میاں طیب ایڈووکیٹ حافظ مقبول احمد مولانا یوسف فاروقی مولانا محمد اعظم فاروق مفتی محمدسلیم نواز مولانا منظور احمد مولانا محمدسلیمان مولانا محمدنعیم طلحہ مولانا ثاقب عزیز مولانا عمر فاروق مولانا ساجد نعیم قاری اسماعیل رحیمی محمدارشد قاسمی حاجی محمداقبال قاری مشتاق احمد عامر مقبول مولانا محمدیوسف قاسمی مولانا ارباز حاجی محمد جاویداور کثیر تعداد میں علماء و مشائخ نے شرکت کی۔ چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہدمحمود قاسمی نے کہا کہ وطن عزیز کو مستحکم بنانے کیلئے علماء کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے پاکستان اسلام کی بنیاد پر قائم ہوا ہمیں استحکام پاکستان کیلئے بھر پور محنت کا عزم کرنا ہو گا اور ہمیں مذہبی ہم آہنگی ملی وحدت کو فروغ دے کر پر امن معاشرہ بنانا ہے قیام پاکستان اور تعمیر پاکستان میں علماء کرام کے کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا چیئرمین مرکزی علماء کونسل نے بانیان پاکستان اور ان بزرگوں کو خراج تحسین پیش کیا جن کی محنتوں اور قربانیوں کے نتیجے میں وطن عزیز پاکستان کا قیام عمل میں آیا یوم آزادی کے موقع پر ہم یہ عزم کرتے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی عزت و توقیر پر آنچ نہیں آنے دیں گے اس موقع پر ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی قومی یکجہتی اور شہدائے پاکستان کیلئے خصوصی دعا کی گئی