Baaghi TV

Tag: صدر مملکت

  • چیف الیکشن کمشنرکا صدر سے ملاقات سے انکارغیرآئینی قرار دیا جائے،درخواست دائر

    چیف الیکشن کمشنرکا صدر سے ملاقات سے انکارغیرآئینی قرار دیا جائے،درخواست دائر

    چیف الیکشن کمشنر کا صدر مملکت سے ملاقات سے انکار کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا

    چیف الیکشن کمشنر کا ملاقات سے انکار غیرآئینی قرار دیا جائے، سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،درخواست عباد الرحمان لودھی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ کی کسی شق کی بنیاد پر صدر کے آئینی اختیار سے انکار ممکن نہیں،عدالت قرار دے کہ صدر مملکت ہی 90 کے اندر انتخابات کی تاریخ دینے کے اہل ہیں،نگران حکومت کے اختیارات محدود ہوتے ہیں،صدر مملکت 90 دن میں انتخابات کی تاریخ دینے کیلئے نگران حکومت کی سمری کے محتاج نہیں،نگران حکومت کو عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہوتا،

    واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات کو لے کر صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دی تھی، صدر مملکت نے چیف الیکش کمشنر کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی تحلیل کی گئی ، آئین کے مطابق اسمبلی کی تحلیل کے بعد نوے روز میں انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے پابند ہیں ، چیف الیکشن کمشنر کو آج یا کل ملاقات کیلئے مدعو کیا جاتا ہے تاکہ تاریخ طے کی جا سکے، خط کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر نے صدر مملکت سے ملنے سے انکار کر دیا تھا ، چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے صدر مملکت کو جوابی خط بھجوایا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ صدر صاحب آپ نے قومی اسمبلی ائین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت تحلیل کی ہے۔اس آرٹیکل کے تحت الیکشن کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔صدر مملکت اگر قومی اسمبلی 58 ٹو بی کے تحت کرتے تو اختیار آپ کے پاس تھا،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 میں ترمیم کر دی گئی ہے، اب الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار دیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے خط میں الیکشن ایکٹ میں حالیہ ترامیم کا حوالہ بھی دیا، اور کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے پہلے الیکشن کمیشن صدر مملکت سے مشاورت کا پابند تھا ،الیکشن ایکٹ کی سیکشن ستاون میں ترمیم کے بعد صدر سے مشاورت کا اختیار ختم ہو گیا ہے ،نئی ترمیم کے تحت انتخابات کی تاریخ طے کرنا الیکشن کمیشن کا صوابدید ہے ،آئین ارٹیکل 582, 48_5 اور آرٹیکل 58 ون کے تحت ایوان صدر کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی ،حلقہ بندیوں کا الیکشن ایکٹ کی سترہ ٹو کے تحت ضروری ہے

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • چیف الیکشن کمشنر نے  صدر کو جوابی خط بھجوا دیا

    چیف الیکشن کمشنر نے صدر کو جوابی خط بھجوا دیا

    صدر مملکت کی جانب سے 12 نومبر کو عام انتخابات کی تاریخ کی خبریں آئیں تو اسکے فوری بعد ایوان صدر سے واضح تردید تو نہیں آئی تا ہم یہ کہا جا رہا ہے کہ ابھی تک تاریخ طے نہیں ہوئی

    صدر پاکستان عارف علوی نے 12 نومبر بروز اتوار کو پورے پاکستان میں الیکشن کی تاریخ دے دی، صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو آج ملاقات کے لئے بلایا تھا تا ہم چیف الیکشن کمشنر ملاقات کے لئے نہ گئے ، بلکہ جواب دے دیا،الیکشن کمیشن کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں قانونی ٹیم نے بریفنگ دئ،لیگل ٹیم نے تجویز دی کہ صدر مملکت سے عملی مشاورت کے بجائے بذریعہ خط جواب دیا جائے،صدرمملکت کا خط اختیارات سے تجاویز ہے،الیکشن ایکٹ میں ترامیم کے بعد انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے،آرٹیکل 51کے تحت حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے،آئینی طور پرآئندہ عام انتخابات سے قبل نئی حلقہ بندیاں ناگزیر ہیں،

    الیکشن کمیشن کے اجلاس کے بعد ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر صدرمملکت سے ملاقات نہیں کریں گے۔ صدر کے خط کا جواب دے دیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے صدر کو جوابی خط بھجوایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر صاحب آپ نے قومی اسمبلی ائین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت تحلیل کی ہے۔اس آرٹیکل کے تحت الیکشن کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔صدر مملکت اگر قومی اسمبلی 58 ٹو بی کے تحت کرتے تو اختیار آپ کے پاس تھا،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 میں ترمیم کر دی گئی ہے، اب الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار دیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے خط میں الیکشن ایکٹ میں حالیہ ترامیم کا حوالہ بھی دیا، اور کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے پہلے الیکشن کمیشن صدر مملکت سے مشاورت کا پابند تھا ،الیکشن ایکٹ کی سیکشن ستاون میں ترمیم کے بعد صدر سے مشاورت کا اختیار ختم ہو گیا ہے ،نئی ترمیم کے تحت انتخابات کی تاریخ طے کرنا الیکشن کمیشن کا صوابدید ہے ،آئین ارٹیکل 582, 48_5 اور آرٹیکل 58 ون کے تحت ایوان صدر کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی ،حلقہ بندیوں کا الیکشن ایکٹ کی سترہ ٹو کے تحت ضروری ہے

    دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا پر الیکشن کے حوالے سے صدر پاکستان سے منسوب نومبر 12 کی تاریخ میں کوئی صداقت نہیں ۔ ابھی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا گیا ،

    ایوانِ صدر نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خط پر وزارت ِ قانون و انصاف کی رائے مانگ لی ،ایوانِ صدر نے الیکشن کمیشن کے مؤقف کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے پر رائے مانگی ،ایوانِ صدر نے صدر مملکت کے کل کے خط کے جواب میں الیکشن کمیشن کے مؤقف پر رائے مانگی ہے ،ایوانِ صدر کی جانب سے خط وزارت قانون و انصاف کے سیکرٹری کے نام لکھا گیا ہے

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • الیکشن کمشنرکا صدر مملکت کے خط پراجلاس طلب،سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت

    الیکشن کمشنرکا صدر مملکت کے خط پراجلاس طلب،سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے خط لکھے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے معاملے پر اجلاس آج طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی:دی نیوز کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں ممبران اور سیکرٹری الیکشن کمیشن شریک ہوں گے،اجلاس میں صدر مملکت کے دعوت نامے اور الیکشن کی تاریخ سے متعلق آئینی معاملات کا جائزہ لیا جائے گا کیونکہ الیکشن کمیشن قانوناً صدر مملکت سے مشاورت کا پابند نہیں،اس معاملے پر قانون واضح ہے، صدر نے اس مقصد کیلئے آئین کی غلط شق کا حوالہ دیا ہے،صدر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو آئین کے آرٹیکل 48 (5)کا حوالہ دیتے ہوئے دعوت دی ہے۔

    عام انتخابات کی تاریخ کے تعین کیلئے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ شاید صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی خواہش کے مطابق اُن سے ملاقات نہ کریں کیونکہ انتخابات کی تاریخ کا معاملہ قانون میں حالیہ ترمیم کے بعد خالصتاً الیکشن کمیشن آف پاکستان کا استحقاق ہے۔

    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی

    آئین کا آرٹیکل 48 (5) کے متعلقہ حصے کے مطابق جب کہ صدر مملکت قومی اسمبلی تحلیل کرے، شق (الف) میں شامل کسی امر کے باوجود، وہ اسمبلی کے لئے عام انتخابات منعقد کرانے کیلئے کوئی تاریخ مقرر کرے گا جو تحلیل کیے جانے کی تاریخ سے 90 دن سے زیادہ نہیں ہوگی۔

    اس معاملے میں دیکھا جائے تو قومی اسمبلی صدر مملکت نے نہیں بلکہ وزیراعظم کی ایڈوائس پر مدت مکمل ہونے کے بعد تحلیل کی گئی صدر صرف 58(2) کے تحت اختیار استعمال کرتے ہوئے اس وقت اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور ہو جائے اور کسی رکن کے پاس ایوان میں اکثریت نہ ہو۔

    ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کی پیشگوئی

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف نے 10 اگست کو صدر پاکستان کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری ارسال کی تھی جس پر صدر عارف علوی نے اسی روز دستخط کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل کر دی تھی وزیراعظم نے 12 اگست کو مدت پوری ہونے سے قبل قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری دستخط کرکے صدر کو منظوری کیلئے بھیجی تھی۔ ایوان صدر کے مطابق صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی توڑ دی، انہوں نے اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 (1)کے تحت تحلیل کی۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آج سے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام ایف کے وفود سے ملاقات کرے گا اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو ملاقات کے لئے دعوت نامے بھجوا دیے ہیں، پی ٹی آئی کا وفد سہ پہر 2 بجے اور جے یو آئی کا وفد 3 بجے کمیشن سے مشاورت کرے گا۔

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    جے یو آئی (ف) ترجمان کے مطابق ملک میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے پارٹی وفد آج 3 بجے الیکشن کمیشن سے ملاقات کرے گا سیکرٹری الیکشن کمیشن کی طرف سے ملاقات کی دعوت موصول ہوئی تھی وفد کی قیادت مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کریں گے جبکہ وفد میں سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ، جلال الدین ایڈووکیٹ اور مولانا عطاء الحق درویش و دیگر شامل ہوں گے الیکشن کمیشن کے ساتھ ملاقات میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے مشاورت ہو گی۔

  • عام انتخابات،الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کر دیا

    عام انتخابات،الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کر دیا

    ملک میں آئندہ عام انتخابات کی انعقاد کا معاملہ ،الیکشن کمیشن نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کر دیا

    الیکشن کمیشن نے بڑی سیاسی جماعتوں کو مشاورت کیلئے دعوت نامے بھجوا دیئے ،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی، شہباز شریف، آصف زرداری اور فضل الرحمان کو خط لکھ دیا،سیاسی جماعتوں کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کے شیڈول اور تاریخ سے متعلق شہباز شریف کو 25 اگست کو مدعو کیا گیا، الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی اور فضل الرحمان کو مشاورت کیلئے کل بلا لیا، الیکشن کمیشن نے آصف زرداری کو مشاورت کے لیے 29 اگست کو بلا لیا،الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے آئندہ الیکشن کے روڈ میپ پر مشاورت کرے گا،

    قبل ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھا تھا اور ملاقات کی دعوت دی تھی، اب چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کو خط سے واضح امکان ہے کہ چیف الیکشن کمشنر صدر مملکت سے فی الحال ملنے کا ارادہ نہیں رکھتے،

    قومی اسمبلی تحلیل ہو گی، نگران حکومت آ چکی ہے، نگران حکومت نے نوے روز میں الیکشن کروانے ہیں تا ہم الیکشن کمیشن نے پہلے حلقہ بندیاں کروانے کا اعلان کیا ہے، دسمبر تک حلقہ بندیاں ہوں گی، جسکی وجہ سے نوے روز میں الیکشن نہیں ہو سکتے، اب صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دی ہے، دیکھئے ملاقات ہوتی ہے یا نہیں

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • عام انتخابات،صدر نے چیف الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا

    عام انتخابات،صدر نے چیف الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا

    ملک میں عام انتخابات کا معاملہ، صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

    صدر مملکت نے چیف الیکش کمشنر کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی تحلیل کی گئی ، آئین کے مطابق اسمبلی کی تحلیل کے بعد نوے روز میں انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے پابند ہیں ، چیف الیکشن کمشنر کو آج یا کل ملاقات کیلئے مدعو کیا جاتا ہے تاکہ تاریخ طے کی جا سکے

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی تحلیل ہو گی، نگران حکومت آ چکی ہے، نگران حکومت نے نوے روز میں الیکشن کروانے ہیں تا ہم الیکشن کمیشن نے پہلے حلقہ بندیاں کروانے کا اعلان کیا ہے، دسمبر تک حلقہ بندیاں ہوں گی، جسکی وجہ سے نوے روز میں الیکشن نہیں ہو سکتے، اب صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دی ہے، دیکھئے ملاقات ہوتی ہے یا نہیں

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    قبل ازیں 90 روز کی آئینی مدت میں انتخابات کے انعقاد کا معاملہ ،پاکستان تحریک انصاف نے نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کو خط بھی لکھا تھا،خط پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی کی جانب سے تحریر کیا گیا ،شاہ محمود قریشی نے کور کمیٹی کی ایما پر نگران وزیر اعظم کو خط تحریر کیا، خط میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بنیاد شہریوں کے ووٹ کے حق پر استوار ہے،دستور اسمبلی کی قبل از وقت تحلیل کی صورت میں 90 روز میں انتخابات کے انعقاد کا حکم دیتا ہے،لہذٰا ہمارا پر اصرار مطالبہ ہے کہ آپ انتخابات کے بروقت انعقاد کو یقینی بنائیں،مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے مردم شماری کے نتائج کی تاخیر سے منظوری کے بعد نئی حلقہ بندیوں کے معاملے کو انتخابات میں التوا کا بہانہ ہر گز نہیں بنایا جا سکتا،ہم مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انتخابات کی ساکھ کیلئے لازم ہے کہ فریقین کو انتخابی مقابلے کیلئے مساوی میدان فراہم کیا جائے ،موجود حالات میں آپ کا منصفانہ طرزِعمل جمہوری اقدار پر عوام کے اعتماد میں پختگی و تقویت کا موجب بنے گا، ہم آپ کو سونپے جانے والے اس عظیم فریضہ کی انجام دہی میں آپ کو اپنے تعاون کا یقین دلاتے ہیں

  • ایوان صدر میں  بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام

    صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی سے اولڈ ایج ہوم ، عافیت ، ملتان کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ اسلام بزرگوں کے احترام اور ان کا خیال رکھنے کو خاص اہمیت دیتا ہے ،والدین اسلامی تعلیمات کے مطابق اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں،والدین کے حقوق پورے کرنا اولاد کی اولین ذمہ داریوں میں سے ہے ، بے گھر اور بزرگ افراد کو تمام بنیادی سہولیات ، ضروریات زندگی پہنچانے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، مخیر حضرات، فلاحی ادارے اور معاشرے کے دیگر طبقات بزرگ افراد کی دیکھ بھال کیلئے خصوصی کاوشیں کرے، بزرگ افراد کیلئے قانونی اور معاشرتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے ،

    صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ معاشرے میں نادار افراد اور بزرگوں کی فلاح و بہبود کیلئے حکومتی اداروں، غیرسرکاری تنظیموں ، سول سوسائٹی کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ،صدر مملکت نے بزرگ افراد کا خیال رکھنے پر تارے زمین پر ٹرسٹ اور عافیت کے کردار کو سراہا ،بعد ازاں ، صدر مملکت نے بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام بھی کیا

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • صدر اور سیکرٹری کے تنازعے نے ایوان صدر کو فٹبال میدان بنا دیا،فیصل کریم کنڈی

    صدر اور سیکرٹری کے تنازعے نے ایوان صدر کو فٹبال میدان بنا دیا،فیصل کریم کنڈی

    سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صدر اور سیکرٹری کے تنازعے نے ایوان صدر کو فٹبال میدان بنا دیا ہے ‘

    فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صدر اور ان کے سیکرٹری کی بیان بازی سے ملک تماشا بن رہا ہے عمران خان نے سائفر کے نام پر ملک کو تماشا بنایا اب ڈاکٹر علوی ملک کو تماشا بنا رہا ہے غیر آئینی طریقے سے اسمبلی توڑنے پر صدر کے خلاف کارروائی ہوتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ،2018 کے انتخابات میں بد دیانتی کے مضر اثرات کھل کر سامنے آ رہے ہیں 1995 میں میں بوئی ہوئی طفیلی جڑ نے پور ملک اور معاشرے کو لپیٹ میں لے لیا ہے 90 دن کے اندر آزادانہ غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات ہی ملک کو درست سمت میں لے جائیں گے 90 دن کے اندر انتخابات نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہوگی الیکشن کمیشن 90 دن کے اندر انتخابات کروا کر اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے

    آئین پر عمل سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا،شازیہ مری
    سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری نے کہا ہے کہ آئینی مدت پوری ہونے سے تین ہفتے قبل صدر کا ٹیوٹ سوالیہ نشان ہے، شازیہ مری کا کہنا تھا کہ صدر عارف علوی کے طرز عمل نے ملک کی ساکھ خراب کرنے کی ایک اور واردات ہے،اس سے پہلے صدر علوی غیر آینئی طریقے سے قومی اسمبلی بھی توڑ چکے ہیں، دنیا میں کوئی صدر سوشل میڈیا کے ذریعے آئینی امور نہیں نمٹاتے،سوشل میڈیا یا ٹویٹ کے زریعے آئینی زمیداری سے بری ہونا نامناسب ہے،لگائے گئے الزام سنگین ہیں لہٰزا تحقیق ضروری ہے،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دن رات محنت کرکے ملک کی ساکھ بحال کی ہے، کسی بڑے بحران سے بچنے کے لیے 90 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں،90 دن کے اندر انتخابات نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہوگی، ہمیں آئین کے مطابق چلنا ہوگا آئین پر عمل سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا،

    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    یاد رہے کہ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اپنے عملے سےکہا بغیر دستخط شدہ بلز مقررہ وقت میں واپس کردیں تاکہ غیرمؤثر بنایاجاسکے. میں نے کئی بار تصدیق کی اور مجھے یقین دلایا گیا کہ بلز واپس جاچکے ہیں۔ صدرمملکت نے کہا کہ مجھے آج پتہ چلا میرا عملہ میری مرضی،حکم کیخلاف گیا، میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو قانون اس سے متاثرہوں گے۔ اللہ سب جانتا ہے وہ انشاءاللہ معاف کردے گا۔

  • آفیشل سیکریٹ ایکٹ،آرمی ایکٹ ترمیمی بل،معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ،آرمی ایکٹ ترمیمی بل،معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط نہ کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔

    سپریم کورٹ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل معاملے کی تحقیقات کے لیے درخواست دائر کر دی گئی، درخواست ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے دائر کی ،درخواست میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے حکومت کو 10 دن میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے درخواست کے زیر التوا ہونے تک آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ پر عملدرآمد روک دیا جائے

    واضح رہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر مملکت کے پاس آئے، ایک دن خبر آئی کہ صدر مملکت نے دستخط کر دیئے تاہم دوسرے روز صدر مملکت نے ٹویٹ کر دی اور کہا کہ میں نے دستخط نہیں کئے، اسکے بعد پاکستانی سیاست نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، صدر مملکت سے انکی حریف جماعتوں کے رہنما استعفیٰ مانگ رہے ہیں کہ اگر انکا سیکرٹری،یا پی اے انکی بات نہیں مانتا تو صدر فوری مستعفی ہوں اور گھر جائیں

    دوسری جانب آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کے لیے اسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم کر دی گئی ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا اضافی چارج انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو سونپ دیا گیا ہے، جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت کریں گے-گزشتہ روز شاہ محمود قریشی کو اس عدالت میں سخت سیکورٹی میں پیش کیا گیا تھا

    آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل کے مطابق کوئی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتا ہے ریاست کے خلاف کام کرتا ہے ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا ، الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا مجرم تصور ہوگا پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی ان جرائم پر 3 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کرکے فیصلہ کرے گی

    آرمی ایکٹ بل کے متن کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو 5 سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی،آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہو گی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،متعلقہ شخص ریٹائرمنٹ، استعفی ، برطرفی کے 2 سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو 2 سال تک سخت سزا ہو گی، آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکڑنک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم کے تحت کاروائی کی جائے گی ،آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگیزی پھیلائے اسے 2سال تک قید اور جرمانہ ہو گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا

    حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا

    اسلام آباد: سیکرٹری وقار احمد نے ڈاکٹرعارف علوی سے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) یا کسی اور ایجنسی کے ذریعے تحقیقات کرانے کے لئے خط لکھ دیا جبکہ 22 گریڈ کی افسر حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی:پرنسپل سیکرٹری ہٹانے کےلیے صدر مملکت کے احکامات کی تعمیل نہ ہوسکی، الیکشن کمیشن کی اجازت کے بغیر پوسٹنگ تبادلے ہوسکتے ہیں نہ حکومت پر صدر کی درخواست لازم ہے نارکوٹکس ڈویژن کی سیکرٹری کی حیثیت سے کام کرنے والی 22 گریڈ کی افسر حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا ہے۔

    دی نیوز کے مطابق مسز حمیرا احمد جنہیں پہلے صدرکی پرنسپل سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کےلیے کہا گیا تھا انہوں نے یہ اسائنمنٹ اپنی درخواست پرچھوڑ دی اور انہیں وفاقی سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی لگایا گیا ہےجبکہ بعدازاں انہیں سیکرٹری نارکوٹکس ڈویژن لگا دیا گیا وہ ایک باوقار افسر خیال کی جاتی ہیں اور ان کے پاس اپنے فرائض انجام دینے کی مہارت موجود ہے۔

    پاکستان کے صدر مملکت کے پاس کسی سرکاری افسر کو تبدیل کرنے کا استحقاق نہیں ہےکسی بھی تبدیلی کےلیے انہیں حکومت سے رابطہ کرنا ہوتا ہے اور ذرائع نے اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ حکومت پر یہ لازم بھی نہیں ہے کہ صدر مملکت کی درخواست مانے۔

    سعودی عرب:روبوٹ کے ذریعے مرگی کے مریض کے دماغ میں چپ لگا دی گئی

    قبل ازیں سیکرٹری وقار احمد نے یہ خط اس وقت لکھا جب صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ بل اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے معاملے پر اپنے سیکریٹری وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کردیں۔

    وقار احمد نے اپنے مراسلے میں کہا کہ ان کا مقصد کچھ حقائق کو واضح کرنا ہے، میں یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ میں بلز کے حوالے سے کسی بے ضابطگی کا ذمہ دار نہیں ہوں تاخیر اور خلاف ورزی کے الزامات کے برعکس بلز سے متعلق دستاویزات ابھی تک صدارتی ایوانوں میں موجود ہیں، میری خدمات واپس کرنے کا فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں ہے-

    وقار احمد نے کہا کہ صدر نے آرمی ایکٹ (ترمیمی) بل کو پارلیمنٹ میں منظور یا واپس نہیں بھیجا، بل سے متعلق فائلز 21 اگست تک سیکرٹری آفس کو واپس نہیں کی گئیں صدر مملکت اس معاملے کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) یا کسی بھی متعلقہ ایجنسی کے ذریعے تحقیقات کرائیں تاکہ کسی حقیقت منظر عام پر آئے اگر کوئی غلط کام ثابت ہو جائے تو ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے، میں سپریم کورٹ یا کسی دوسری عدالت کے سامنے گواہی دینے کے لیے تیار ہوں، میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے ریکارڈ پیش کروں گا۔

    ایک تیر سے3 شکار، عارف علوی چھپا رستم نکلا،بندیال، علوی گٹھ جوڑ،گیم پلان لیک

    وقار احمد نے کہا آفیشل سکریٹ ایکٹ (ترمیمی) بل 2023 ایوان صدر کو 8 اگست کو سرکاری اوقات کے بعد موصول ہوا تھا، اسے 9 اگست کو صدر کو بھجوا دیا گیا تھا اور صدر مملکت کو دونوں بلز سے متعلق حقائق سے پوری طرح آگاہی ہےآئین کے آرٹیکل 75 کے تحت صدر کو 10 دن کے اندر کسی بل کی منظوری دینی ہوتی ہے اور اسی شق کے تحت وہ اتنے ہی دنوں میں بل کو دوبارہ غور کے لیے پارلیمنٹ کو بھیج سکتے ہیں صدر نے نہ تو بل کی منظوری دی اور نہ ہی اسے پارلیمنٹ کو واپس بھیجا اور بلز 21 اگست تک صدر کے دفتر میں ہی رہا۔

    شاہ محمود قریشی کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

  • ایک تیر سے3 شکار، عارف علوی چھپا رستم نکلا،بندیال، علوی گٹھ جوڑ،گیم پلان لیک

    ایک تیر سے3 شکار، عارف علوی چھپا رستم نکلا،بندیال، علوی گٹھ جوڑ،گیم پلان لیک

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عارف علوی نے کل جو کیا اس کو کل سے میں بھی دیکھ رہا تھا، کچھ وی لاگ دیکھے، رپورٹس دیکھیں،اور وہ چینلز پر،ہر جگہ ایک لائن مجھے نظر آئی کیونکہ سب لاجک سے بات کر رہے ہیں،بل کس کو دیا، کس سے لیا، ایکشن کیوں نہیں لیا، اس پر کتنے دن چپ کیوں رہے، آج کا دن یاد کیوں آیا؟ یہ لاجیکل سوال ہیں، لیکن کبھی پی ٹی آئی نے لاجک سے بات کی ہے؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عارف علوی کو ٹویٹ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ سوال ہے، اسکو پتہ ہے کہ قانون اس نے بنوایا ہے، آخر میں اس نے کہا کہ میں معافی مانگنا چاہتا ہوں تا کہ کل کو قریشی یا عمران خان باہر نکلیں تو یہ نہ کہیں کہ کیوں دستخط کئے، عارف علوی اور عمر عطا بندیال کے مابین یہ گٹھ جوڑ ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پچھلے ایک سال کی تمام کارکردگی کو دیکھیں تو پہلے اینٹی امریکیہ،پھر سازشی بیانیہ، پھر اسکے بعد روس یوکرین، اسکے بعد آئی ایم ایف کو خط، شوکت ترین کی آڈیو لیک ہوئی،پھر آئی ایم ایف کا آنا اور عمران خان کو ملنا، آج تک کبھی آئی ایم ایف والے کسی اپوزیشن لیڈر کو نہیں ملے، جمائما کا پورا ایکٹو ہونا اور قریشی کا تمام سفیروں کو ملنا، پھر دو لابنگ فرمز ہائیر کرنا،یورپی ،امریکی اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کرنا کہ پاکستان میں مداخلت کریں، یہ سب دیکھیں تو سب سمجھ آ جائے گی، ایک عدالت نے سزا سنائی اور عمران خان جیل پہنچ گئے،عدالت سزا سنائے تو پھر کوئی معافی نہیں، جب آپ 57 بار پیشی پر نہ جائیں، عدالت کو پھر فیصلہ سنانا ہی پڑا، اب عدالتوں پر تنقید کیوں جب خود پیش ہی نہ ہوئے،مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ عارف علوی عمران خان کا ٹاؤٹ ہے، اس نے دفتر میں آفییشل انکوائرئ نہیں کی،ذمہ دار کون ہے، ایکشن نہیں لیا، بس ایک ٹویٹ کر دی،ایوان صدر ایک محل نما ڈھانچہ ہے، وہاں پر صرف یہ نہیں کہ صدر بیٹھتا ہے اور دوسرے کمرے میں اسکی سونے کی جگہ، بلکہ وہاں اربوں روپے خرچ ہوتا ہے، وہاں ہر منسٹری کا متعلقہ سٹاف ہوتا ہے، لا منسٹری کو دیکھنے کے لئے جو بندہ ہیڈ کر رہا ہے وہ سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ہے، بریفنگ کے بعد صدر فیصلے کرتے ہیں، سینکڑوں بلز پر سائن اور واپس بھی کر چکے ہیں ،یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ طریقہ نہیں پتہ، کیوںکہ ایک عرصہ ہو گیا انکو،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عارف علوی نے تین کام کئے، ایک پاکستان کو ڈیمج کیا،دوسرا انہوں نے کہا عمران خان ،قریشی اندر ہے تو میں تو باہرہوں،کل جب میں یہاں سے جاؤں گا تو تحریک انصاف کو لیڈ کرنے کی کوشش کروں گا،بشریٰ بی بی اب تحریک انصاف کی قیادت کرنے کی دوڑ میں شامل ہے،

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو