صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یوم آزادی کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں 180 روز کی کمی کی منظوری دے دی ہے۔
باغی ٹی وی: اے پی پی کے مطابق ایوان صدر پریس ونگ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق سزاؤں میں کمی کا اطلاق عمر قید کے مجرموں پر ہوگا،سزاؤں میں کمی کا اطلاق قتل، جاسوسی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث قیدیوں پر نہیں ہوگا۔ اسی طرح زنا، چوری ، ڈکیتی ، اغواء اور دہشت گردی میں سزا یافتہ مجرموں پر بھی سزاؤں میں کمی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
ایوان صدر کے مطابق مالی جرائم اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے مجرم بھی سزاؤں میں کمی سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گےسزاؤں میں کمی کا اطلاق ان مرد قیدیوں پر ہوگا جو کہ 65 سال سے زائد عمر کے ہیں اور اپنی ایک تہائی قید کاٹ چکےہیں اسی طرح 60 سال سے زائد عمر کی خواتین قیدی جو ایک تہائی قید کاٹ چکی ہیں ان پر بھی سزا میں کمی کا اطلاق ہوگا۔
مزید برآں 18 سال سے کم عمر افراد جو اپنی ایک تہائی سزا کاٹ چکے ہیں ان پر بھی سزا میں کمی کا اطلاق ہوگا۔ واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت سزاؤں میں کمی کی منظوری دی ہے۔
اسلام آباد: وزیراعظم نے قومی اسمبلی تحلیل کی سمری صدر مملکت کو بھجوا دی ہے-
باغی ٹی وی: موجودہ قومی اسمبلی کی مدت 12 اگست کی رات 12 بجے ختم ہو رہی ہے اس حوالے سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی تحلیل کی سمری صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوا دی ہے-
دوسری جانب وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان اب تک عبوری وزیراعظم کے لیے کسی بھی نام پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے لیکن نگران وزیراعظم کے لیے حفیظ شیخ کو کئی حلقوں کا پسندیدہ ترین شخص سمجھا جارہا ہے،وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان کسی نام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوایا جائے گا اگر پارلیمانی کمیٹی بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچی تو معاملہ الیکشن کمیشن پر چھوڑ دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادیوں کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے 9 اگست کی تاریخ دی تھی وزیراعظم شہباز شریف کا اتحادی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا قومی اسمبلی توڑنےکی سمری 9 اگست کو صدر کو بھیج دیں گے۔
دریں اثنا وفاقی وزیر برائے آبی وسائل خورشید شاہ نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ 9 اگست کو قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کی سمری صدر کو بھیج دیں گے دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا تھاکہ اگر 12 اگست تک اسمبلی تحلیل ہوئی تو 11 اکتوبر سے پہلے الیکشن کروا دیں گے۔
وفاقی حکومت نے نادرا ممبران کےخلاف انکوائری کرنے کا فیصلہ کر لیا
انکوائری نادرا آرڈیننس 2000 کی سیکشن 26 اور26 اے کی خلاف ورزی پر ہوگی،وفاقی کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے وزارت داخلہ کی سمری کی منظوری لے لی گئی ،وزیر اعظم نے پرنسپل سیکرٹری گورنرپنجاب نبیل اعوان کو انکوائری آفیسر تعینات کردیا،انکوائری نادرا اتھارٹی ممبران سلطانہ محمود، وسیم سہیل ہاشمی سید کے خلاف ہوگی،ممبران نادرااتھارٹی محمد عامر ملک، عامر بشیراور ریاض عنایت کے خلاف انکوائری ہوگی،نادرا نے سالانہ بجٹ کی منظوری وفاقی حکومت سے نہیں کرائی، نادرا نے ہرسال کا سرپلس منافع بھی قومی خزانے میں جمع نہیں کرایا،بجٹ کی عدم منظوری، سرپلس منافع جمع نہ کرانا نادرا آرڈیننس کی خلاف ورزی ہے،
دوسری جانب نادرا کی جانب سے شہریوں کا ڈیٹا پبلک ہونے پر پی اے سی نے نوٹس لے لیا، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے وزارت داخلہ کو شہریوں کا ڈیٹا لیک ہونے کی مشترکہ تحقیقات کا حکم دے دیا، نور عالم خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے، ایف آئی اے، ملٹری انٹیلی جنس کو بھی تحقیقاتی ٹیم میں شامل کیا جائے، ہر ایک کا ذاتی ڈیٹا انٹرنیٹ پرموجود ہے، ادرا سے کیسے لیک ہوا ؟ پی ٹی اے سارا ڈیٹا بلاک کرے، عسکری حکام کا ڈیٹا بھی لیک ہوا ہے،
نور عالم خان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں بڑا آدمی بھی ملوث ہے تو اس پر بھی ہاتھ ڈالیں اور کاروائی کریں،
دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیرِ صدارت معذوری کی درجہ بندی کے فریم ورک پر اجلاس ہوا،
اجلاس میں وزارت ِ انسانی حقوق، قومی صحت، نادرا اور نیوٹک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ خصوصی افراد کو نوکریاں دلانے کی کوششیں تیز کرنا ہوں گی، منفرد صلاحیتوں کے حامل افراد کو سرکاری اور نجی شعبوں میں نوکریاں دینے کی ضرورت ہے، نوکریوں کیلئے خصوصی افراد کی موزونیت کا تعین عالمی معیارکے مطابق ہونا چاہیے، نوکریوں کی تلاش میں خصوصی افراد کو معاونت فراہم کی جانی چاہیے،ہنر مند افرادِ باہم معذوری کی ملازمت کیلئے ممکنہ آجروں کی نشاندہی کی جائے،خصوصی افراد کی نوکریوں کیلئے نجی شعبے کے بڑے آجروں سے رابطہ کیا جانا چاہیے ، کاروباری اور صنعتی شعبوں میں خصوصی افراد کی نمائندگی بڑھائی جائے ،
صدر مملکت نے قومی اور صوبائی سطح پر عالمی معیارکے مطابق تیار کردہ معذوری کی درجہ بندی کانظام اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ فریم ورک معذوری کی درجہ بندی اور ملازمتوں کیلئے موزونیت کا تعین کرنے میں مدد کرے گا،صدر مملکت نے عام لوگوں کیلئے معذوری سرٹیفکیٹ کا اردو ترجمہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز ملک میں یکساں درجہ بندی کے نظام اور معذوری سرٹیفکیٹ اپنانے کیلئے صوبوں کے ساتھ ہم آہنگی بہتر بنائیں ، میڈیا میں خصوصی افراد کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ، انسانی حقوق کی وزارت سرکاری اور نجی شعبوں میں خصوسی افراد کی ملازمتوں کیلئے کوششیں مزید تیز کرے،
اسلام آباد: چیئرمین نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈیویلپمنٹ (این سی ایچ ڈی) کرنل ریٹائرڈ امیر اللہ مروت کو عہدے سے فارغ کردیا گیا۔
باغی ٹی وی: قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے چیئرمین این سی ایچ ڈی کو عہدے سے ہٹانےکی منظوری دے دی ہےصادق سنجرانی نے چیئرمین این سی ایچ ڈی کو ہٹانے کی سمری پر دستخط کر دیئے ہیں۔
سمری میں کہا گیا ہے کہ کرنل ریٹائرڈ امیر اللہ مروت اپنا دفتر اپنی جماعت کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے تھے، انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف تضحیک آمیز مواد بھی سوشل میڈیا پر ڈالا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل حکومت نے پہلے بھی چیئرمین این سی ایچ ڈی کو ہٹانے کی سمری 2 بار صدر عارف علوی کو بھیجی تھی لیکن صدر عارف علوی نے کرنل ریٹائرڈ امیر اللہ مروت کو عہدے سے برطرف نہیں کیا تھا 2019 میں کرنل ریٹائرڈ امیر اللہ کو 5 سال کے لیے چیئرمین این سی ایچ ڈی تعینات کیا گیا تھا، وہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی بھی رہے ہیں-
اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں نااہلی کی زیادہ سے زیادہ سزا 5 سال کرنے کا بل اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔
باغی ٹی وی: قومی اسمبلی کا بجٹ سیشن اسپیکر راجہ پرویز اشریف کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے متعدد بلز کی طرح ضمنی ایجنڈے کے طورپرالیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا قبل ازیں یہ بل سینیٹ سے منظور ہوچکا ہےانتخابات کی تاریخ کااعلان الیکشن کرے گا اور اس میں ردوبدل کرسکے گا، الیکشن کی تاریخ کے لیے صدر مملکت سے مشاورت کی شرط بھی ختم کردی گئی۔
قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا حکومت نے الیکشن ترمیمی بل قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا بل میں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت الیکشن ایکٹ میں ترمیم تجویز کی گئی الیکشن اصلاحات بل 2017ء میں ترمیم کی گئی ہے، الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل 2023ء منظور کر لیا گیا۔
الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کی سزا 5 سال ہو گیا الیکشن ایکٹ 2023ء سینیٹ نے چند روز قبل ہی منظور کیا تھا بل کی منظوری سے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف جہانگیر ترین دیگر کے لیے اہلیت کی راہ ہموار ہو گئی-
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کر دی،
تعیناتی کا اطلاق 17 ستمبر سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ سے ہو گا.صدر مملکت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے 17 ستمبر 2023 ء کو عہدے کا حلف لیں گے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف جسٹس کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے 3 کے تحت کی ہے صدرمملکت عارف علوی نے دو ماہ پہلے ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے چیف جسٹس بننےکی منظوری دے دی،قاضی فائز عیسیٰ ایک سال 38 دن تک چیف جسٹس پاکستان رہیں گے،
قاضی فائز عیسیٰ کے بطور چیف جسٹس منظوری پر رضوان رضی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ راشہ راشہ
قاضی راشہ
قاضی فائز عیسی چیف جسٹس پاکستان نامزد
سترہ ستمبر کو حلف لیں گے
صدر نے اجازت دے دی
راشہ راشہ قاضی راشہ قاضی فائز عیسی چیف جسٹس پاکستان نامزد سترہ ستمبر کو حلف لیں گے صدر نے اجازت دے دی
پشاور: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس مسرت ہلالی کی بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ تعیناتی کی منظوری دے دی۔
باغی ٹی وی : جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائی کورٹ میں بطور قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں صدر مملکت نے چیف جسٹس کی تعیناتی کی منظوری آئین کے آرٹیکل 175 اے 13 کے تحت دی۔
جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائی کورٹ کی سینئر ترین جج ہیں اور پشاور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے والی پہلی خاتون ہیں۔
مسرت ہلالی نے پشاور یونیورسٹی کے خیبر لا کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد 1983 میں ڈسٹرکٹ کورٹس میں وکالت شروع کی اس کے بعد وہ 1988 میں ہائی کورٹ اور 2006 میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں وکالت کی بھی اہل قراردے دی گئی تھیں۔
مسرت ہلالی کا جوڈیشل کریئر بھی شاندار رہا ہے۔ انھیں سنہ 2013 میں ایڈیشنل جج کے طور پر تعینات کیا گیا تھا اور پھر سال 2014 میں انھیں پشاور ہائی کورٹ کا مستقل جج تعینات کیا گیا جسٹس ہلالی بطور جج تعینات ہونے سے قبل مختلف ادوار میں پشاور ہائیکورٹ بارکی پہلی سیکرٹری اور نائب صدر کے عہدے پر بھی کام کرتی رہی ہیں۔
انھوں نے بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا، چیئرپرسن خیبر پختونخوا انوائرمنٹل پروٹیکشن ٹربیونل کے علاوہ خواتین کے کام کے مقامات پر ہراسانی کے خلاف محتسب کے عہدے پر بھی کام کیا ہے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے اُس وقت ایک جج کے حیثیت سے حلف اٹھایا جب صوبے میں شدت پسندی عروج پر تھی اور ان دنوں میں جبری گمشدہ افراد کے کیسز بڑی تعداد میں رپورٹ ہو رہے تھے جبکہ انھی دنوں میں ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن جیسے قوانین بھی سامنے آئے تھے۔
اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج مزدوروں کا عالمی دن منایا جارہا ہے،وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے محنت کشوں کے عالمی دن پر خصوصی پیغام جاری کیا گیا۔
باغی ٹی وی: وزیراعظم شہبازشریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ محنت کشوں اور مزدوروں کا عالمی دن آج دنیا بھر میں منایا جا رہا ہے، آج کا دن محنت کے تقدس اور وقار کی علامت ہے ، آج کے دن پوری قوم محنت کش طبقے کو شاندار خراج تحسین پیش کرتی ہے ۔
شہباز شریف نے کہا کہ قوم ملک کی ترقی میں مزدوروں کے کردار اورمعاونت کوسراہتی ہےجبکہ اسلام سماجی انصاف،مساوات اور انسانی حقوق کے احترام کے اصولوں پر زور دیتا ہے، اسلام نے عالمی لیبر قوانین سے بہت پہلے ہی مزدوروں کے حقوق سے متعلق رہنما اصول طے کر دیئے تھے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مزدور اور آجر پیداواری عمل میں شراکت دار ہیں ،موجودہ حکومت محنت کشوں کے کام کرنے اور زندگی گزارنے کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے پر عزم ہے، حکومت نے مزدوروں کی کم ازکم اجرت 17500 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 25000 روپے کر دی ہے۔
دوسری جانب یوم مزدور پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ یوم مئی پر مزدوروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، معاشی خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالنے کے باوجود محنت کشوں کو متعدد مسائل کا سامنا ہے مزدور کو غیر محفوظ ماحول،مزدوری کے غیر منصفانہ طریقے اور کم اجرت جیسے مسائل کا سامنا ہے، عدم تحفظ، کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسگی جیسے مسائل بھی درپیش ہیں۔
صدر ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس بہت بڑی لیبر فورس اور نوجوانوں کی تعداد ہے،وفاقی،صوبائی حکومتیں مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات اور ہنر فراہم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔
اسلام آباد: صدر مملکت نے نیب ترمیمی بل 2023 نظرثانی کیلئے دوبارہ پارلیمنٹ بھجوا دیا ہے-
باغی ٹی وی: وزیراعظم شہبازشریف نے آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت قومی احتساب ترمیمی بل، 2023 توثیق کے لیے صدرمملکت کو بھجوایا تھا، تاہم صدرمملکت نے بل آئین کے آرٹیکل 75 ایک بی کے تحت پارلیمان کو واپس بھجوا دیا ہے۔
صدر مملکت نے کہا ہے کہ 1999 میں پہلے کی گئی ترامیم سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں، لیکن بل اور وزیراعظم کی ایڈوائس میں اس پہلو کا حوالہ نہیں دیا گیا ایک زیر التواء معاملے کے اثرات پر غور کئے بغیر قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں مزید ترامیم پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ ’قومی احتساب (ترمیمی) بل 2023‘ قومی اسمبلی سے پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مذکورہ بل سینیٹ میں بھی پیش کیا اس دوران پی ٹی آئی سینیٹرز کی جانب سے شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔
یہ بل نہ صرف چیئرمین نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم کے کرپشن کیسز متعلقہ ایجنسی، اتھارٹی یا محکمے کو منتقل کرنے کا اختیار دیتا ہے بلکہ ایسی زیر التوا انکوائریوں اور تحقیقات کو بند کرنے کا بھی اختیار دیتا ہے جو چیئرمین نیب کی نظر میں کیس نہیں بنتا۔
نیب آرڈیننس کے سیکشن 4 میں شامل ایک شق کے تحت جب چیئرمین نیب کا عہدہ خالی ہو جائے یا چیئرمین غیر حاضر ہو یا اپنے دفتر کے فرائض سرانجام دینے سے قاصر ہو تو ان کی جگہ ڈپٹی چیئرمین خدمات سرانجام دے گا اور ڈپٹی چیئرمین کی غیر موجودگی میں وفاقی حکومت نیب کے سینئر افسران میں سے کسی ایک کو قائم مقام چیئرمین مقرر کرے گی۔
راولپنڈی: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے وزیراعظم شہباز شریف کو اعتماد کے ووٹ لینے کے لئے صدر مملکت عارف علوی کو خط لکھ دیا۔
باغی ٹی وی: سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے اپنےوکیل اظہر صدیق کی توسط سےوزیراعظم کو اعتماد کےووٹ لینے کے لئے صدر مملکت کو مراسلہ ارسال کیا جس میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی میں انتخابات کے لئے فنڈز منظور نہ کروا کر وزیراعظم اکثریت کھو چکے۔
خط کے متن کے مطابق الیکشن کرانا حکومت کی آئینی ذمہ درای ہے، قومی اسمبلی میں فنڈز منظور نہ کروا کر وزیراعظم اکثریت کھوچکے ہیں، جس کے بعد وزیراعظم پاکستان کی ایوان میں اکثریت نہیں رہی خط میں استدعا کی گئی ہے کہ صدر مملکت وزیراعظم کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کی ایڈوائس کریں۔
قبل ازیں اپنے ٹویٹ میں سابق وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہاتھا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا دورہ چین انتہائی اہم ہے جو آئندہ ملک کی خارجہ پالیسی کا تعین کرے گا حکومت عدلیہ کو دھمکیاں دینے کے بجائے آئین و قانون کا احترام کرے ورنہ یہ آئین اور قانون کے شکنجے میں پہلے ہی خود آچکے ہیں، الیکشن میں جانا سیاسی خودکشی کرنے سے بہتر ہے، مولانا فضل الرحمان وہاں لے جا کر مارے گا جہاں کوئی نہیں بچائے گا۔