Baaghi TV

Tag: صدر مملکت

  • صدر نے غلط بیانی کی قانون کے مطابق کاروائی شروع ہوسکتی ہے،رضا ربانی

    صدر نے غلط بیانی کی قانون کے مطابق کاروائی شروع ہوسکتی ہے،رضا ربانی

    پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت عارف کی جانب سے کیا گیا ٹویٹ غیر مناسب تھا ،

    رضا ربانی کا کہنا تھا کہ صدر ریاست کے سربراہ ہیں انکے پاس آئینی راستہ موجود تھا ،آرٹیکل 75 کے تحت وہ بلز کو واپس بھیج دیتے ،جس طرح دیگر بلز واپس بھیجے تھے یہ بھی اسی طرح واپس بھیج دیتے یہ کیا بات ہوئی وہ دستخط بھی نہیں کرنا چاہتے کچھ کہنا بھی نہیں چاہتے ہیں ، میں یہ سمجھتا ہوں یہ کوئسچن آف لاء سے زیادہ کوئسچن کو فیکٹ کا معاملہ ہے ،صدر آئین کے آرٹیکل 50 کے تحت پارلمینٹ کا حصہ ہیں ،صدر کو سینٹ کی کمیٹی کے رو برو پیش ہونا چاہیے جو متعلقہ افسران ہیں جن کا تعلق اس واقعے سے ان کو وہاں پیش ہونا چاہیے ،اس کمیٹی کو تحقیقات کرنی چاہیے کہ اصل حقائق کیا ہیں اگر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صدر نے غلط بیانی کی ہے تو انکے خلاف قانون کے مطابق کاروائی شروع ہوسکتی ہے ،

    صحافی نے سوال کیا کہ اگر دستخط نہیں کیے تو اس ایکٹ کی کیا حیثیت ہے؟ جواب دیتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ ابھی واضح نہیں ہے کہ صدر نے دستخط کیے ہیں یا نہیں ،ایک طرف صدر کہہ رہے ہیں میں دستخط نہیں کیے اسکے بعد وہ کہہ ہیں میں معذرت خواہ ہوں متاثرین سے، آئین کا آرٹیکل 75 بڑا کلئیر ہے اس معاملے میں ،نو ستمبر کو صدر کی مدت ویسے ہی مکمل ہورہی ہے انکے خلاف سینیٹ انکوائری کرسکتی ہے ،اگر سینیٹ اس نتیجے پر پہنچے کے صدر نے غلط بیانی کی ہے تو انکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے ،صدر کے مواخذے کا معاملہ الگ ہے لیکن سینیٹ انکوائری کرسکتی ہے ،

    آئین پر عمل سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا،شازیہ مری
    سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری نے کہا ہے کہ آئینی مدت پوری ہونے سے تین ہفتے قبل صدر کا ٹیوٹ سوالیہ نشان ہے، شازیہ مری کا کہنا تھا کہ صدر عارف علوی کے طرز عمل نے ملک کی ساکھ خراب کرنے کی ایک اور واردات ہے،اس سے پہلے صدر علوی غیر آینئی طریقے سے قومی اسمبلی بھی توڑ چکے ہیں، دنیا میں کوئی صدر سوشل میڈیا کے ذریعے آئینی امور نہیں نمٹاتے،سوشل میڈیا یا ٹویٹ کے زریعے آئینی زمیداری سے بری ہونا نامناسب ہے،لگائے گئے الزام سنگین ہیں لہٰزا تحقیق ضروری ہے،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دن رات محنت کرکے ملک کی ساکھ بحال کی ہے، کسی بڑے بحران سے بچنے کے لیے 90 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں،90 دن کے اندر انتخابات نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہوگی، ہمیں آئین کے مطابق چلنا ہوگا آئین پر عمل سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا،

    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    یاد رہے کہ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اپنے عملے سےکہا بغیر دستخط شدہ بلز مقررہ وقت میں واپس کردیں تاکہ غیرمؤثر بنایاجاسکے. میں نے کئی بار تصدیق کی اور مجھے یقین دلایا گیا کہ بلز واپس جاچکے ہیں۔ صدرمملکت نے کہا کہ مجھے آج پتہ چلا میرا عملہ میری مرضی،حکم کیخلاف گیا، میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو قانون اس سے متاثرہوں گے۔ اللہ سب جانتا ہے وہ انشاءاللہ معاف کردے گا۔

  • خدا گواہ ہے،میں نے آفیشل سیکرٹس اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے،عارف علوی

    خدا گواہ ہے،میں نے آفیشل سیکرٹس اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے،عارف علوی

    اسلام آباد: آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے متعلق صدر مملکت عارف علوی کے بیان نے نیا پینڈورا باکس کھول دیا-

    باغی ٹی وی: وزارت قانون و انصاف نے صدر کے حالیہ ٹویٹ پر شدید تشویش کا اظہار کر دیا وزارت قانون و انصاف نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 75 کے مطابق، جب کوئی بل منظوری کے لیے بھیجا جاتا ہے، تو صدر کے پاس دو اختیارات ہوتے ہیں، یا تو منظوری دیں، یا مخصوص مشاہدات کے ساتھ معاملہ پارلیمنٹ کو بھیجیں، آرٹیکل 75 کوئی تیسرا آپشن فراہم نہیں کرتا،فوری معاملےمیں، کوئی بھی ضروریات پوری نہیں ہوئیں،اس کےبجائے، صدر نے جان بوجھ کر منظوری میں تاخیر کی، بلوں کو بغیر کسی مشاہدے یا منظوری کے واپس کرنا آئین میں فراہم نہیں کیا گیا-

    وزارت قانون و انصاف نےکہا کہ ایسا اقدام آئین کی روح کے منافی ہے، اگر صدر کے پاس کوئی مشاہدہ تھا تو وہ اپنے مشاہدات کے ساتھ بل واپس کر سکتے تھے، جیسا کہ انہوں نے ماضی میں کیا تھاصدر اس سلسلے میں ایک پریس ریلیز بھی جاری کر سکتے تھے،یہ تشویشناک بات ہے کہ صدر نے اپنے ہی عہدیداروں کو بدنام کرنے کا انتخاب کیا ہے، صدر کو اپنے اعمال کی ذمہ داری خود لینا چاہیے-

    سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ بات ناقابل یقین ہے، اخلاقیات کا تقاضا ہےکہ صدر مستعفی ہوں، صدر مؤثر انداز میں دفتری کام کرنے میں ناکام رہے، اللہ ہماری مدد کرے۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جس صدرکو نہیں پتہ کہ ایوان صدر میں کیا ہو رہاہے وہ عہدے پر رہنےکا اہل ہی نہیں، صدر بیان دینے، معافی مانگنےکے بجائے بتائیں ان افسروں کےخلاف کیا کارروائی کی۔

    دوسری جانب پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے صدرِمملکت کی ٹویٹ پر گہری تشویش کا اظہارکیا گیا ہے صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ خالد مسعود سندھو نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ صدر مملکت کے دفتر سے اس قسم کی خبر کا آنا پوری دنیا میں وطن عزیز کی جگ ہنسائی کا باعث بنے گا، پوری قوم میں اس معاملے پر شدید اضطراب اور بے چینی پائی جاتی ہے،بطور سربراہ ریاست صدر مملکت کو اس معاملے پر ٹویٹ کی بجائے قانونی کارروائی کرنی چاہیے، اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے ، محض معافی مانگنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔
    https://twitter.com/PMMLMedia/status/1693212157133861105?s=20
    انہو‌ں نے کہا کہ یہ ریاست کے وقار کا معاملہ ہے سپریم کورٹ اس کا سوموٹو نوٹس لے کر تحقیقات کا آغاز کرے صدر مملکت کے عملے کا ان کی مرضی کے خلاف کام کرنا ملکی سلامتی کے لیے انتہائی تشویشناک ہے بطور سپریم کمانڈر افواج پاکستان صدر مملکت کا دفتر انتہائی حساس حیثیت رکھتا ہے۔

    علاوہ ازیں مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا ء اللہ نے کہا ہے کہ عارف علوی جس عہدے پر فائز ہیں، انہوں نے اس کی توہین کی ہےرانا ثنا ء اللہ نے کہا ہے کہ صدر عارف علوی کو ٹویٹ کرنے کے بجائے انکوائری کرنی چاہیے تھی، ان کے ٹویٹ سے آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے، اس معاملے میں تین لوگوں کا کردار ہوسکتا ہے، صدر عارف علوی، سیکرٹری اور ایم ایس صدر اس میں ملوث ہو سکتے ہیں،یہ بہت حساس معاملہ ہے، اس سے ملک کی بدنامی ہو گی، ذمہ داروں کیخلاف قانونی کارروائی ہوتی ہے ، ٹویٹ نہیں-

    مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ صدر علوی کھل کر بات کریں، اگربلوں سےاختلاف تھا توانہوں نےکیوں اپنے اعتراضات درج نہ کیے؟ ہاں یا ناں کے بغیربل واپس بھیجنے کا کیا مقصد تھا؟ میڈیا پر خبریں آنے کے باوجود وہ 2 دن کیوں چپ رہے؟صدرمملکت بولے بھی تو معاملہ اور الجھا دیا، اگر ان کا اسٹاف بھی ان کے بس میں نہیں تو مستعفی ہوکر گھر چلے جائیں۔

    مسلم لیگ کے رہنما اور سابق مشیر وزیراعظم عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی بل واپس ہی نہیں گئے تھے، عملے کو مورد الزام ٹھہرانا ایک گھٹیا بہانہ لگتا ہے،رہنما ن لیگ اور سابق مشیر وزیراعظم عطا تارڑ نے بھی اپنی ٹویٹ میں صدر مملکت کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بل واپس کیے گئے تھے ان سب کی میڈیا میں تشہیر کی گئی تھی سب جانتے تھے کہ یہ 2 بل کبھی واپس نہیں کیے گئے تھے، بل بھیجنے اور وصول کرنے کا ایک طریقہ ہے، اسے ڈبل چیک کیا جا سکتا تھا، اپنے عملے کو مورد الزام ٹھہرانا ایک گھٹیا بہانہ لگتا ہے۔

    سابق وفاقی وزیر شیری رحمان نے صدر مملکت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی ناک کے نیچے بلز پرکوئی اور دستخط کرتا ہے؟ صدر کی وضاحت ان کے صدارتی منصب سنبھالنے کی اہلیت پر سوالیہ نشان ہے، اگر ایسا ہی ہے تو صدرکو اس عہدے سے فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے، اگر آپ کا عملہ آپ کے کہنے میں نہیں تو آپ صدارتی منصب چھوڑ دیں، تحریک انصاف کی حکومت میں وہ صدر ہاؤس کو آرڈیننس فیکٹری کے طور پر چلاتے رہے،کیا اس وقت بھی آرڈیننسز پر کوئی اور دستخط کر کے واپس کیا کرتا تھا؟صدر عارف علوی اپنے وضاحتی بیان کے بعد صدارت کے آئینی عہدے پر رہنےکے اہل نہیں رہے۔

    جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے ایکس پر جاری پیغام میں لکھا کہ یہ تو ایک نیا پنڈورابکس کھل گیاہے، اگر صورت حال واقعی ایسی ہی ہے جیسا کہ صدر نے لکھا ہے تو یہ ریاست پاکستان، پارلیمنٹ اور قانون سازی کے ساتھ ساتھ 24کروڑ پاکستانیوں کی توہین ہے معاملات ایک دفعہ پھر عدالتوں میں جائیں گے، ملک کے اعلیٰ ترین منصب کے اس حال سے پاکستان کے حالات کا اندازہ لگایا جا سکتاہے، اللہ پاکستان پر رحم فرمائے۔

    واضح رہے کہ چند گھنٹے پہلے صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ جیسا کہ خدا میرا گواہ ہے، میں نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صدر مملکت نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط کرنے کے حوالےسے پیغام جاری کیا ہے انہوں نے کہا کہ خدا میرا گواہ ہے، میں نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے-

    شاہ محمود قریشی گرفتار

    انہوں نے مزید لکھا کہ کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا میں نے اپنے عملے سے کہا کہ وہ بغیر دستخط شدہ بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس کر دیں تاکہ انہیں غیر موثر بنایا جا سکے میں نے ان سے کئی بار تصدیق کی کہ آیا وہ واپس آچکے ہیں اور یقین دلایا گیا کہ وہ ہیں تاہم مجھے آج پتہ چلا ہے کہ میرے عملے نے میری مرضی اور حکم کو مجروح کیا جیسا کہ اللہ سب جانتا ہے، وہ انشاءاللہ معاف کر دے گا لیکن میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو متاثر ہوں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ صدر عارف علوی نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد دونوں بلز قوانین بن گئے ہیں۔

    سابق وفاقی وزیر اسد عمراسلام آباد سے گرفتار

  • آفیشل سیکریٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل،صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    آفیشل سیکریٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل،صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    صدر مملکت نے آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کر دیے

    دونوں بل قومی اسمبلی اور سینٹ سے پاس ہو چکے ہیں صدر مملکت کو دونوں بل گزشتہ حکومت نے بھیجے تھے صدر کے دستخط کے بعد دونوں بلز قانون کی شکل اختیار کر گئے ہیں،قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بل منظورہونے کے بعد توثیق کیلئے صدر مملکت کو بھیجے گئے تھے 27 جولائی کو سینیٹ میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور کیا گیا تھا،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت اجلاس میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل اس وقت کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیا تھا

    آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل کے مطابق کوئی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتا ہے ریاست کے خلاف کام کرتا ہے ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا ، الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا مجرم تصور ہوگا پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی ان جرائم پر 3 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کرکے فیصلہ کرے گی

    آرمی ایکٹ بل کے متن کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو 5 سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی،آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہو گی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،متعلقہ شخص ریٹائرمنٹ، استعفی ، برطرفی کے 2 سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو 2 سال تک سخت سزا ہو گی، آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکڑنک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم کے تحت کاروائی کی جائے گی ،آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگیزی پھیلائے اسے 2سال تک قید اور جرمانہ ہو گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے حلف اٹھا لیا

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے حلف اٹھا لیا

    نامزد وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی تقریب حلف برداری منعقد ہوئی

    تقریب حلف برداری میں صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی، وزیراعظم شہباز شریف موجود تھے، صدر عارف علوی نے انوارالحق کاکڑ سے حلف لیا

    حلف برداری کی تقریب میں میں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی، سپیکر قومی اسمبلی اور سروسز چیفس بھی شریک تھے، تقریب میں نگران وزیراعلی اور گورنرز بھی شریک تھے، ۔تقریب میں چیف جسٹس پاکستان ، چیف الیکشن کمشنر کو بھی مدعو کیا گیا تھا

    انوار الحق کاکڑ پاکستان کے آٹھویں نگران وزیراعظم بن گئے ہیں،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی حلف برداری کی تقریب مکمل ہو چکی ہے، اب نگران کابینہ بارے غور کیا جائے گا، میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر حفیظ شیخ بطور نگران وزیر خزانہ کابینہ کا حصہ ہونگے،چئیرمین ایپٹما گوہر اعجاز کو نگران وزیر انڈسٹریز کا قلمدان ملنے کا امکان ہے، جلیل عباس جیلانی نگران وزیر خارجہ جبکہ سابق آئی جی ڈاکٹر شعیب سڈل نگران وزیر داخلہ کے لیے فیورٹ نام ہیں، نگران وزیر قانون کے لیے احسن بھون کا نام زیر غور ہے، ذوالفقار چیمہ اور سرفراز بھگٹی بھی ممکنہ طور پر نگران کابینہ کا حصہ ہونگے،

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

  • منافرت کی بجائے محبتوں کو فروغ دینا ہو گا،صدر مملکت

    منافرت کی بجائے محبتوں کو فروغ دینا ہو گا،صدر مملکت

    اسلام آباد: کنونشن سنٹر میں یوم آزادی پر پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، صدر مملکت عارف علوی نے قومی پرچم لہرایا،تقریب سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو یوم آزادی کی مبارکباد پیش کرتا ہوں پاکستان کیلئے قربانیاں 1857 کی جنگ آزادی سے شروع ہوئیں پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف ایک لاکھ جانوں کی قربانی دی آج بھی میرے فوجی ،سویلین ،میری قوم مسلسل شہادت دے رہے ہیں آزادی اور جمہوریت کیلئے یہ قربانیاں دی گئیں ،قانون و آئین کی بالا دستی کیلئے قربانیاں دی گئیں ،ابھی وقت نہیں گیا، پاکستان کیلئے راستے کھلے ہیں منافرت پھیلانے کے بجائے محبتوں کو فروغ دینا ہو گا، محبت کو فروغ دینے کے لیے اسلام واحد راستہ ہے

    ہم آہنگی اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا،گورنر خیبرپختونخوا
    گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے 76ویں یوم آزادی پاکستان پر خصوصی پیغام میں کہا کہ پاکستان کلمہ توحید، بے مثال جدوجہد لازوال قربانیوں کے نتیجہ میں دنیا کے نقشہ میں شامل ہوا، آزادی اللہ تعالٰی کی بہت بڑی نعمت ہے اور ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئیے،ہمیں ذاتی، گروہی اور تفرقہ بازی سے بالاتر ہوکر یکسوئی، ہم آہنگی اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔مملکت خداداد پاکستان ہمارے اکابرین کی جدوجہد وقربانیوں کانتیجہ ہے، کسی بھی قوم کیلئے اندرونی خلفشار، باہمی تقسیم اور انتشار سے بڑھ کر کوئی چیز خطرناک نہیں ہوسکتی،ہم نے اپنے آنیوالی نسلوں کو خوشحال، پائیدار، پرامن اور مستحکم پاکستان دینا ہے،آج ہمارے ملک کی سلامتی، خودمختاری مضبوط ہے جس کو ہم نے اپنی ملک کی سرحدوں کے محافظوں کے ساتھ ملکر مضبوط سے مضبوط تربناناہے۔میں اس موقع پر افواج پاکستان اوردیگرسیکیورٹی اداروں کے جوانوں کوبھی خراج تحسین پیش کرتاہوں،مملکت خدادادکی نظریاتی اور جغرافیائی حفاظت کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے، ملک کو اس وقت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جس کا بحیثیت قوم ہمیں متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہے،

    خیبر پختونخوا،جشن آزادی کی مرکزی تقریب سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوئی،نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی،چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوھدری، انسپکٹر جنرل پولیس اختر حیات خان گنڈا پور، دیگر سرکاری حکام، طلبہ اور سول سوسائٹی اراکین نے تقریب میں شرکت کی، وزیراعلی نے پرچم کشائی کرکے تقریب کا آغاز کیا۔ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے یوم آزادی کے موقع پر قومی پرچم کو سلامی دی۔ وزیر اعلی نے جشن آزادی کی تقریب کے سلسلے میں پودا بھی لگایا۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر یوم آزادی کا کیک بھی کاٹا۔ یوم آزادی کے موقع پر سول سیکرٹریٹ کو برقی قمقموں اور قومی پرچموں سے سجایا گیا تھا۔

    ملک جس ٹریک پر ہے اس کے اثرات جلد نظر آئیں گے،محسن نقوی
    نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے حضوری باغ میں جشن آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کو جشن آزادی مبارک ہو، آپ سب نے اس پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے، آپ سب کو کبھی مایوس نہیں ہونا،قائد اعظم نے بھی اپنی تقریر می یہی کہا ہے، اس ملک کا مستقبل بہت روشن ہے،ملک جس ٹریک پر ہے اس کے اثرات جلد نظر آئیں گے،ملک کی ترقی میں حصہ ڈالنا ہے تو ایک ایمانداری سے کام کریں دوسرا، اپنی نوکری کا وقت پورا کریں، حکومتیں کام کرتی ہیں کرتی رہیں گی، ڈاکٹرز اپنا پوار وقت دیں تو ہیلتھ سیکٹر میں بہتری آ سکتی ہے، اساتذہ کرام بھی ایمانداری سے وقت دیں تو ملک ترقی کرے گا،

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    کوئی پگڑی والا ہے یا داڑھی والا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سب کے ایمان کا حصہ ہے،علامہ طاہر اشرفی

    پاکستان میں او آئی سی کانفرنس،چودھری شجاعت نے بھی بڑی بات کہہ دی

    تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

    مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

    یوم آزادی پر واپڈا ہاؤس لاہور میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی،ممبر فنانس واپڈا نوید اصغر چوہدری نے واپڈا آڈیٹوریم میں پرچم کشائی کی۔ممبر واٹر جاوید اختر لطیف ، ممبر پاور جمیل اختر، سینئر آفیسرز اور ملازمین تقریب میں شریک تھے۔پرچم کشائی کی تقریب میں واپڈا سکولز کے طلباء و طالبات نے ملی نغمے پیش کئے۔یوم آزادی کی مناسبت سے خصوصی طور پر تیار کیا گیا قومی پرچم بھی واپڈا ہاؤس پر آویزاں کیا گیا ہے۔خصوصی طور پر تیار کئے گئے قومی پرچم کی لمبائی 100 فٹ اور چوڑائی 40 فٹ ہے

    ہر پاکستانی اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہے،علیم خان
    76ویں یوم آزادی پر صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ دنیا کے نقشے پر پہلی اسلامی ریاست کا قیام انمول تحفہ تھا،ہے اور انشاء اللہ رہے گا ہم بدقسمتی سے قائد اور اقبال کے فرمودات کے مطابق آگے نہیں بڑھ سکے آج کے دن ہم سب کو نیک نیتی کے ساتھ وطن عزیز کی خدمت کا عہد کرنا چاہیے دشمن کے عزائم خاک میں ملانے اور ہر حال میں پاکستان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا مادر وطن کی حفاظت کے لیے ہر پاکستانی اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہے ہمارا نوجوان طبقہ صلاحیتوں سے مالا مال، ذرا نم ہو تو یہ مٹی زرخیز ہے مواقع بڑھانے کی ضرورت ، ہمارا قیمتی ٹیلنٹ بیرون ملک منتقل نہیں ہونا چاہیے ہمیں وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کے لئے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا

    ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کا عہد کریں،شیری رحمان
    پیپلز پارٹی کی رہنما، سابق وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ جشن آزادی پاکستان کے پرمسرت موقع پر تمام اہل وطن کو دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ وطن عزیز پاکستان کا قیام ہمارے قائدین اور رہنماؤں کی برسوں کی لگن اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد نے جمہوری، خودمختار اور ترقی پسند ملک کی بنیاد رکھی تھی۔ آج کا دن پاکستان کیلئے دوگنی خوشی کا باعث ہے، کیوں کہ 50 سال پہلے آج کے دن آئین پاکستان کی متفقہ منظوری کے بعد توثیق دی گئی تھی۔ آج میں اپنے دو عظیم قائدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہماری قوم کی تاریخ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح جنہوں نے ہمیں پاکستان دیا، اور شہید ذوالفقار علی بھٹو جنہوں نے جناح کے پاکستان کو 1973 کے آئین دیا۔ 73 کے آئین میں قائداعظم کے نظریہ کے مطابق جمہوری طرز حکمرانی، بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کیا گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح اور شہید ذوالفقار علی بھٹو تمام نسلوں کیلئے قربانی، عزم اور قیادت کی عظیم مثالیں ہیں۔ آج جناح اور بھٹو کے پاکستان کو درپیش پیچیدہ مسائل بشمول اقتصادی ترقی، سماجی مساوات اور سیاسی استحکام کے اجتماعی حل کی ضرورت ہے۔ آئیے ایک قوم بن کر ان چیلنجز سے نمٹنے اور ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کا عہد کریں، اور اتحاد اور حب الوطنی کا جذبے کو ہمشیہ قائم رکھیں۔ پاکستان زندہ آباد۔

    شہر قائد کراچی میں اسپیشل سیکورٹی یونٹ نے جشن آزادی کے موقع پر فلیگ مارچ کیا، ایس ایس یو کمانڈروز کے قافلے نے شہر کے مختلف علاقوں میں گشت کیا، اس موقع پر ڈی آئی جی مقصود میمن کا کہنا ہے کہ فلیگ مارچ کا مقصد جشن آزدای کے موقع پر شہریوں کو تحفظ کا احساس دلانا ہے ،ایس ایس یو نے جشن آزادی کی مناسبت سے بلڈ کیمپ کا انعقاد کیا ،ایس ایس یو کے سو اہکاروں اور افسران نے تھیلیسمیا کے مریض بچوں کو خون کے عطیات دیئے ہین ،اسپیشل سیکورٹی یونٹ جشن آزادی کے دن کو جوش و جزبے سے منا رہا ہے ،آج ایس ایس یو میں نشانہ بازی کا مقابلہ اور دیگر پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا ،

    پاکستان ریلویز میں بھی ملک بھر کی طرح 76 ویں جشنِ آزادی کی تقریبات کا خصوصی اہتمام کیا گیا،جشنِ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں ہیڈکوارٹرز کے احاطے میں مرکزی تقریب منعقد کی گئی۔چیف ایگزیکٹو آفیسرپاکستان ریلویز شاہد عزیز نے پرچم کشائی کی۔ تقریب میں پرنسپل و ڈپٹی پرنسپل افسران شریک تھے، حاضرین نے تقریب میں صدر مملکت کا لائیو خطاب سنا ،سی ای او ریلویز شاہد عزیز نے ہیڈکوارٹرز کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔ محکمہ ریلوے کی ترقی و خوشحالی اور ملکی سلامتی کے لیے دُعا بھی کی گئی۔

    پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی میں 76 ویں جشن آزادی کے حوالے سے تقریب و ریلی کا اہتمام کیا گیا،تقریب کا آغاز وطن عزیز کے لیے خصوصی دعا اور آزادی کا کیک کاٹنے سے کیا گیا ، چیف ایگزیکٹو آفیسر فائق احمد نے انفورسمنٹ ونگ کے ٹرانسپورٹ انسپکٹرز کے ساتھ ملکر آزادی مارچ بھی کیا ،سی ای او پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی فائق احمد نے جشن آزادی کے موقع پر کہا کہ پاکستان کے 76ویں یوم آزادی کے موقع پر قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں پاکستان اللہ تعالی کی لازوال نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔ آج کے دن عہد کریں کہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ پاکستان بنائیں گے۔ پاکستان کو ہمارے آباؤ اجداد نے بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ۔ پاکستان کی تشکیلِ نو کی جدوجہد میں ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر نے پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی ہیڈ کوارٹر میں آزادی کا کیک کاٹا ،چیف ایگزیکٹو آفیسر نے انفورسمنٹ انسپکٹرز کے ساتھ ملکر آزادی مارچ بھی کیا۔تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی اور ترقی کیلئے خصوصی دعا بھی کروائی گئی ۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھی یومِ آزادی پاکستان کے موقع پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے،آج لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کشمیری یوم آزادی پاکستان جوش و خروش سے منا رہے ہیں وادی میں سبز ہلالی پرچموں کی بہار ہے،کپواڑہ، سرینگر، بارہ مولا اور راجوڑی سمیت کئی اضلاع میں موقع کی مناسبت سے تقریبات منعقد کی گئیں،کشمیریوں نے گھروں کی چھتوں پر سبز ہلالی پرچم لہرا کر جذبات کی عکاسی کی ، مظاہرین کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر 19 جولائی 1947 کی قرارداد الحاق پاکستان کی رو سے پاکستان کا حصہ تھا، ہے اور رہے گا، مودی سرکار تحریک آزادی کو دبانے کے لیے بدترین ریاستی جبر اور ظلم کا سہارا لے رہی ہے،

    آزاد کشمیر میں بھی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر ریلیوں، سیمینارز اور دیگر تقریبات کا انعقاد کیا گیا، شرکاء نے مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور ناجائز انضمام کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا، مقبوضہ کشمیر ذرائع ابلاغ، انٹرنیٹ اور مواصلات کی بندش میں گزشتہ چار سالوں سے دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے

    پاکستان کے 76ویں یوم آزادی کے موقع پر قذافی سٹیڈیم لاہور میں پرچم کشائی اور کیک کاٹنے کی تقریب ہوئی۔ تقریب میں پاکستان مینز کرکٹرز، سرفراز نواز سمیت سابق انٹرنیشنل کرکٹرز نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے افسران اور عملے کے ہمراہ شرکت کی۔چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی جناب ذکاء اشرف نے پرچم کشائی کی۔ انہوں نے اس موقع پر ایک پودا بھی لگایا اور کیک کاٹا۔ ذکا اشرف نے اس موقع پر پی سی بی کے کھلاڑیوں اور عہدیداروں کو جشن آزادی کی مبارکباد دی۔

    پاکستان کی 24 کروڑ عوام اپنے ملک کے خلاف ہر سازش کو ناکام و نامراد کر دے گی، فیاض الحسن چوہان
    مرکزی ترجمان استحکامِ پاکستان پارٹی اور سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے یومِ آزادی پر پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کی 24 کروڑ عوام کو چھہترواں یومِ آزادی مبارک ہو ۔ پاکستان قائد اعظم کی لازوال قیادت اور ہمارے آباؤاجداد کی بے مثال قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔ پاکستان کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں کا خون شامل ہے ۔پاکستان کے دشمنوں نے روزِ اول سے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا ۔ملک دشمن طاقتیں پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں پاکستان کی 24 کروڑ عوام اپنے ملک کے خلاف ہر سازش کو ناکام و نامراد کر دے گی ۔ عوام لسانیت، صوبائیت اور ہر قسم کی سیاسی عصبیت کو بالائے طاق رکھ کر دھرتی ماں کے ساتھ وفا کرے گی

    آر پی او فیصل آباڈاکٹرمحمدعابد خان نے 76 ویں یوم آزادی کے موقع پرکمشنرآفس فیصل آبادمنعقد ہونے والی پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں کمشنر فیصل آبادسلوت سعید سی پی او فیصل آباد عثمان اکرم گوندل،ڈی سی فیصل آبادعلی عنان قمر، اے سی صدر کامران صغیر،اے سی سٹی محمد زبیر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کواٹر کاشف رضا اعوان، سی ٹی اومقصود احمد لون اور معززین شہر کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ 8بجے کر 58منٹ پر سائرن بجایا گیا اور 9/-بجے قومی ترانہ اورپر چم کشائی ہو ئی۔بعد از پرچم کشائی پولیس، 1122، سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ اور اسکاوٹس کے چاک و چوبند دستوں نے سلامی دی۔سلامی کی تقریب کے بعد یوم آزادی کے حوالے سے کیک کاٹا گیا اور پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا مانگی گی۔

    اس موقع پر آرپی او فیصل آباد اظہار خیال کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان کا قیام برصغیرکے مسلمانوں کی لازوال قربانیوں اور انتھک جدوجہد کا ثمر ہے۔ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے اور اس کی ترقی اور استحکام کیلئے انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ مزید انہوں نے اظہار خیال کر تے ہو ئے کہاجو ملک ہم نے حاصل کیا اس میں بزرگوں خواتین کی قربانیاں شامل ہے 14اگست 1947؁ء کو جب یہ ملک آزاد ہواتو تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت عمل میں آئی اس میں ہمارے پاکستان کے باسیوں نے اپنے خون اور جان و مال کا نظرانہ پیش کیا جس ملک کی بنیاد میں اتنی لازول قربانیاں ہوں اس ملک کی بنیاد مظبوط سے مظبوط ہو نی چاہیے لیکن المیہ ہے کہ ہم نے اس ملک کو اسطرح مظبوط نہیں بنایا جس طرح اس کا حق تھا قائداعظم نے فرمایا تھا کام کام بس کام ہم ذکر تو کر تے ہیں کام کام بس کام لیکن خود اس پرعمل نہیں کر تے جس دن ہم نے ٹھان لی کہ ہم خود اپنے گریبان میں جھانکے گے اور یہ دیکھیں گے کہ ہم اس ملک کی ترقی اور فلاح بہبود کے لیے کیا کوشش کر رہے ہیں اور کیاحصہ ڈال رہے ہیں آپ یقین جانے کہ اس دن سے یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔میں ریجن فیصل آباد پولیس کا سربراہ ہو نے کے ناطے ایک دفعہ پھر پنجاب پولیس کی طرف سے تما م اہل وطن کو یوم آزادی مبارک کہتا ہوں۔

    گورنمنٹ کالج وومن یونیورسٹی فیصل اباد میں ڈائریکٹریٹ آف سٹوڈنٹ افیئرز کے زیر اہتمام یوم آزادی کے سلسلہ میں پرچم کشائی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی ، وائس چانسلر جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد پروفیسر ڈاکٹر ظل ہما نازلی نے سبز ہلالی پرچم لہرایا اور جشن ازادی کی خوشی میں کیک کاٹا ۔ اس موقع پر یونیورسٹی کی طالبات نے ملی نغمے بھی پیش کئے ۔ یونیورسٹی کے سیکیورٹی سٹاف نے خصوصی مارچ پاسٹ پیش کیا۔ وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم خود سے وعدہ کر کے اٹھیں گے کہ ہم محنت اور ایمانداری سے اپنے فرائض سرانجام دیں گے اور اس ادارے کی بہتری اور ترقی کے لیے تن دہی سے کام کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بہت بڑی قربانی دے کے معرض وجود میں آیا ۔ ہمارے کشمیری بھائی آج تک آزادی کے لیئے اپنی جان و مال کی قربانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ہم اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کریں کہ ہم آج آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ کشمیر فلسطین اور دیگر تمام ممالک جو کہ اس وقت آزاد نہیں ہیں اللہ تعالی ان کو بھی جلد از جلد آزادی نصیب فرمائے۔ پروفیسر ڈاکٹر ظل ہما نازلی نے اپنی تقریر کا اختتام ملک کی ترقی کے لیے دعا پر کیا۔

    دیرپا اور عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالیں گے،جہانگیر ترین
    استحکام پاکستان پارٹی کے پیٹرن انچیف جہانگیر خان ترین نے یوم آزادی پر کہا ہے کہ 76ویں یوم آزادی کے پرمسرت موقع پر اپنے ہم وطنوں کی خوشی میں برابر کا شریک ہوں، تحریک آزادی کے ان گنت جانثاروں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں،یوم آزادی پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کرتے ہیں ،لاکھوں قربانیوں کے بعد پاکستان حاصل کیا گیا,ہم نے پاکستان کو سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے مستحکم اور مضبوط پاکستان بنانا ہے،تجدید عہد کرتے ہیں کہ پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے دن رات محنت کرینگے، دیرپا اور عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالیں گے، قیام امن کی خاطر جانیں قربان کرنے والے شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،

    گھبرانے کی ضرورت نہیں منزل قریب ہے، راجہ پرویز اشرف
    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے یوم آزادی پاکستان کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی،تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئین کا تقاضا ہے 90 دن میں انتخابات ہوں مردم شماری بھی آئین کا ایک تقاضہ ہے پاکستان ملک کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں اور ان چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے یکجہتی کی ضرورت ہے نگران وزیراعظم ایک باصلاحیت شخص ہیں چھوٹے صوبے سے یہ انتخاب خوش آئند ہے امید ہے نگران وزیراعظم تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں اور غیر جانبدارانہ انتخاب کا عمل آئین کے مطابق جلد مکمل کریں گے پاکستانی قوم بہت صبر اور بہادری والی قوم ہے، انشاءاللہ پاکستان جلد چیلنجز سے باہر ائے گا گھبرانے کی ضرورت نہیں منزل قریب ہے

    پاکستان کے مدارس صوبائی و ضلعی دفاتر اور تعلیمی اداروں پر قومی پرچم کشائی
    مرکزی علماء کونسل پاکستان کی اپیل پر پاکستان کے مدارس صوبائی و ضلعی دفاتر اور تعلیمی اداروں پر قومی پرچم کشائی کی گئی فیصل آباد قاسمیہ کالج آف کامرس اینڈ سائنسز میں چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہدمحمود قاسمی نے علماء و مشائخ و سماجی شخصیات کے ہمراہ قومی پرچم کشائی کی۔ اس موقع پر مولانا حفیظ الرحمن میاں طیب ایڈووکیٹ حافظ مقبول احمد مولانا یوسف فاروقی مولانا محمد اعظم فاروق مفتی محمدسلیم نواز مولانا منظور احمد مولانا محمدسلیمان مولانا محمدنعیم طلحہ مولانا ثاقب عزیز مولانا عمر فاروق مولانا ساجد نعیم قاری اسماعیل رحیمی محمدارشد قاسمی حاجی محمداقبال قاری مشتاق احمد عامر مقبول مولانا محمدیوسف قاسمی مولانا ارباز حاجی محمد جاویداور کثیر تعداد میں علماء و مشائخ نے شرکت کی۔ چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہدمحمود قاسمی نے کہا کہ وطن عزیز کو مستحکم بنانے کیلئے علماء کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے پاکستان اسلام کی بنیاد پر قائم ہوا ہمیں استحکام پاکستان کیلئے بھر پور محنت کا عزم کرنا ہو گا اور ہمیں مذہبی ہم آہنگی ملی وحدت کو فروغ دے کر پر امن معاشرہ بنانا ہے قیام پاکستان اور تعمیر پاکستان میں علماء کرام کے کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا چیئرمین مرکزی علماء کونسل نے بانیان پاکستان اور ان بزرگوں کو خراج تحسین پیش کیا جن کی محنتوں اور قربانیوں کے نتیجے میں وطن عزیز پاکستان کا قیام عمل میں آیا یوم آزادی کے موقع پر ہم یہ عزم کرتے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی عزت و توقیر پر آنچ نہیں آنے دیں گے اس موقع پر ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی قومی یکجہتی اور شہدائے پاکستان کیلئے خصوصی دعا کی گئی

  • یوم آزادی، قیدیوں کی سزاؤں میں 180 روز کی کمی

    یوم آزادی، قیدیوں کی سزاؤں میں 180 روز کی کمی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یوم آزادی کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں 180 روز کی کمی کی منظوری دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی: اے پی پی کے مطابق ایوان صدر پریس ونگ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق سزاؤں میں کمی کا اطلاق عمر قید کے مجرموں پر ہوگا،سزاؤں میں کمی کا اطلاق قتل، جاسوسی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث قیدیوں پر نہیں ہوگا۔ اسی طرح زنا، چوری ، ڈکیتی ، اغواء اور دہشت گردی میں سزا یافتہ مجرموں پر بھی سزاؤں میں کمی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

    ایوان صدر کے مطابق مالی جرائم اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے مجرم بھی سزاؤں میں کمی سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گےسزاؤں میں کمی کا اطلاق ان مرد قیدیوں پر ہوگا جو کہ 65 سال سے زائد عمر کے ہیں اور اپنی ایک تہائی قید کاٹ چکےہیں اسی طرح 60 سال سے زائد عمر کی خواتین قیدی جو ایک تہائی قید کاٹ چکی ہیں ان پر بھی سزا میں کمی کا اطلاق ہوگا۔

    سلمان خان کی سنی دیول کو منفرد انداز میں مبارکباد

    مزید برآں 18 سال سے کم عمر افراد جو اپنی ایک تہائی سزا کاٹ چکے ہیں ان پر بھی سزا میں کمی کا اطلاق ہوگا۔ واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت سزاؤں میں کمی کی منظوری دی ہے۔

    بم کی اطلاع موصول ہونےپر ایفل ٹاور کو خالی کرالیا گیا

  • قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھجوا دی گئی

    قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھجوا دی گئی

    اسلام آباد: وزیراعظم نے قومی اسمبلی تحلیل کی سمری صدر مملکت کو بھجوا دی ہے-

    باغی ٹی وی: موجودہ قومی اسمبلی کی مدت 12 اگست کی رات 12 بجے ختم ہو رہی ہے اس حوالے سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی تحلیل کی سمری صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوا دی ہے-

    دوسری جانب وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان اب تک عبوری وزیراعظم کے لیے کسی بھی نام پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے لیکن نگران وزیراعظم کے لیے حفیظ شیخ کو کئی حلقوں کا پسندیدہ ترین شخص سمجھا جارہا ہے،وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان کسی نام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوایا جائے گا اگر پارلیمانی کمیٹی بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچی تو معاملہ الیکشن کمیشن پر چھوڑ دیا جائے گا۔

    عمران خان کے وکیل نعیم حیدرپنجوتھہ گرفتار ہو گئے

    واضح رہے کہ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادیوں کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے 9 اگست کی تاریخ دی تھی وزیراعظم شہباز شریف کا اتحادی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا قومی اسمبلی توڑنےکی سمری 9 اگست کو صدر کو بھیج دیں گے۔

    دریں اثنا وفاقی وزیر برائے آبی وسائل خورشید شاہ نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ 9 اگست کو قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کی سمری صدر کو بھیج دیں گے دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا تھاکہ اگر 12 اگست تک اسمبلی تحلیل ہوئی تو 11 اکتوبر سے پہلے الیکشن کروا دیں گے۔

    برطانیہ نے پناہ کےمتلاشیوں کوسمندر میں بحری جہازمیں منتقل کرنا شروع کر دیا

  • نادرا کا منافع کہاں گیا؟ انکوائری کا فیصلہ

    نادرا کا منافع کہاں گیا؟ انکوائری کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے نادرا ممبران کےخلاف انکوائری کرنے کا فیصلہ کر لیا

    انکوائری نادرا آرڈیننس 2000 کی سیکشن 26 اور26 اے کی خلاف ورزی پر ہوگی،وفاقی کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے وزارت داخلہ کی سمری کی منظوری لے لی گئی ،وزیر اعظم نے پرنسپل سیکرٹری گورنرپنجاب نبیل اعوان کو انکوائری آفیسر تعینات کردیا،انکوائری نادرا اتھارٹی ممبران سلطانہ محمود، وسیم سہیل ہاشمی سید کے خلاف ہوگی،ممبران نادرااتھارٹی محمد عامر ملک، عامر بشیراور ریاض عنایت کے خلاف انکوائری ہوگی،نادرا نے سالانہ بجٹ کی منظوری وفاقی حکومت سے نہیں کرائی، نادرا نے ہرسال کا سرپلس منافع بھی قومی خزانے میں جمع نہیں کرایا،بجٹ کی عدم منظوری، سرپلس منافع جمع نہ کرانا نادرا آرڈیننس کی خلاف ورزی ہے،

    دوسری جانب نادرا کی جانب سے شہریوں کا ڈیٹا پبلک ہونے پر پی اے سی نے نوٹس لے لیا، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے وزارت داخلہ کو شہریوں کا ڈیٹا لیک ہونے کی مشترکہ تحقیقات کا حکم دے دیا، نور عالم خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے، ایف آئی اے، ملٹری انٹیلی جنس کو بھی تحقیقاتی ٹیم میں شامل کیا جائے، ہر ایک کا ذاتی ڈیٹا انٹرنیٹ پرموجود ہے، ادرا سے کیسے لیک ہوا ؟ پی ٹی اے سارا ڈیٹا بلاک کرے، عسکری حکام کا ڈیٹا بھی لیک ہوا ہے،

    نور عالم خان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں بڑا آدمی بھی ملوث ہے تو اس پر بھی ہاتھ ڈالیں اور کاروائی کریں،

    نادرا نے شناختی کارڈ کی تصدیق وَ تجدید کے نئے نظام کا اجراء کر دیا

    زلفی بخاری مشکل میں، عدالت میں درخواست دائر،عدالت نے کس کس کو طلب کر لیا؟

    سابق چیئرمین نادرا کو پانچ برس بعد انصاف مل گیا،ن لیگی حکومت کی جانب سےدائر مقدمہ خارج کرنے کا حکم

    وزیر اعظم نے چیئرمین نادرا کا استعفی منظور کرلیا

    دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیرِ صدارت معذوری کی درجہ بندی کے فریم ورک پر اجلاس ہوا،
    اجلاس میں وزارت ِ انسانی حقوق، قومی صحت، نادرا اور نیوٹک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ خصوصی افراد کو نوکریاں دلانے کی کوششیں تیز کرنا ہوں گی، منفرد صلاحیتوں کے حامل افراد کو سرکاری اور نجی شعبوں میں نوکریاں دینے کی ضرورت ہے، نوکریوں کیلئے خصوصی افراد کی موزونیت کا تعین عالمی معیارکے مطابق ہونا چاہیے، نوکریوں کی تلاش میں خصوصی افراد کو معاونت فراہم کی جانی چاہیے،ہنر مند افرادِ باہم معذوری کی ملازمت کیلئے ممکنہ آجروں کی نشاندہی کی جائے،خصوصی افراد کی نوکریوں کیلئے نجی شعبے کے بڑے آجروں سے رابطہ کیا جانا چاہیے ، کاروباری اور صنعتی شعبوں میں خصوصی افراد کی نمائندگی بڑھائی جائے ،

    صدر مملکت نے قومی اور صوبائی سطح پر عالمی معیارکے مطابق تیار کردہ معذوری کی درجہ بندی کانظام اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ فریم ورک معذوری کی درجہ بندی اور ملازمتوں کیلئے موزونیت کا تعین کرنے میں مدد کرے گا،صدر مملکت نے عام لوگوں کیلئے معذوری سرٹیفکیٹ کا اردو ترجمہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز ملک میں یکساں درجہ بندی کے نظام اور معذوری سرٹیفکیٹ اپنانے کیلئے صوبوں کے ساتھ ہم آہنگی بہتر بنائیں ، میڈیا میں خصوصی افراد کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ، انسانی حقوق کی وزارت سرکاری اور نجی شعبوں میں خصوسی افراد کی ملازمتوں کیلئے کوششیں مزید تیز کرے،

  • چیئرمین این سی ایچ ڈی عہدے سے فارغ

    چیئرمین این سی ایچ ڈی عہدے سے فارغ

    اسلام آباد: چیئرمین نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈیویلپمنٹ (این سی ایچ ڈی) کرنل ریٹائرڈ امیر اللہ مروت کو عہدے سے فارغ کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے چیئرمین این سی ایچ ڈی کو عہدے سے ہٹانےکی منظوری دے دی ہےصادق سنجرانی نے چیئرمین این سی ایچ ڈی کو ہٹانے کی سمری پر دستخط کر دیئے ہیں۔

    سمری میں کہا گیا ہے کہ کرنل ریٹائرڈ امیر اللہ مروت اپنا دفتر اپنی جماعت کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے تھے، انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف تضحیک آمیز مواد بھی سوشل میڈیا پر ڈالا۔

    بلوچستان میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات کا آخری مرحلہ، جوڑ توڑ اور خرید و …

    واضح رہے کہ اس سے قبل حکومت نے پہلے بھی چیئرمین این سی ایچ ڈی کو ہٹانے کی سمری 2 بار صدر عارف علوی کو بھیجی تھی لیکن صدر عارف علوی نے کرنل ریٹائرڈ امیر اللہ مروت کو عہدے سے برطرف نہیں کیا تھا 2019 میں کرنل ریٹائرڈ امیر اللہ کو 5 سال کے لیے چیئرمین این سی ایچ ڈی تعینات کیا گیا تھا، وہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی بھی رہے ہیں-

    تیراہ میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن ایک دہشت گرد ہلاک اور تین زخمی

  • قومی اسمبلی: نااہلی کی سزا 5 سال کرنے کا بل اتفاق رائے سے منظور

    قومی اسمبلی: نااہلی کی سزا 5 سال کرنے کا بل اتفاق رائے سے منظور

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں نااہلی کی زیادہ سے زیادہ سزا 5 سال کرنے کا بل اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی کا بجٹ سیشن اسپیکر راجہ پرویز اشریف کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے متعدد بلز کی طرح ضمنی ایجنڈے کے طورپرالیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا قبل ازیں یہ بل سینیٹ سے منظور ہوچکا ہےانتخابات کی تاریخ کااعلان الیکشن کرے گا اور اس میں ردوبدل کرسکے گا، الیکشن کی تاریخ کے لیے صدر مملکت سے مشاورت کی شرط بھی ختم کردی گئی۔

    مئیر کراچی انتخابات: پی ٹی آئی کےمزید 6 اراکین پی ٹی آئی سے فارغ

    قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا حکومت نے الیکشن ترمیمی بل قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا بل میں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت الیکشن ایکٹ میں ترمیم تجویز کی گئی الیکشن اصلاحات بل 2017ء میں ترمیم کی گئی ہے، الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل 2023ء منظور کر لیا گیا۔

    قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 24-2023 کا وفاقی بجٹ منظور

    الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کی سزا 5 سال ہو گیا الیکشن ایکٹ 2023ء سینیٹ نے چند روز قبل ہی منظور کیا تھا بل کی منظوری سے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف جہانگیر ترین دیگر کے لیے اہلیت کی راہ ہموار ہو گئی-

    غلام محمود ڈوگر کیجانب سے لینڈ مافیا کی سرپرستی کا انکشاف،اینٹی کرپشن کی تحقیقات شروع