Baaghi TV

Tag: صدر مملکت

  • پریکٹس اینڈ پروسیجربل پرسپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے،صدر عارف علوی

    پریکٹس اینڈ پروسیجربل پرسپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے،صدر عارف علوی

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہےسپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر سپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے-

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر گفتگو کرتے ہوئے صدر عارف علوی کا کہنا تھا چیف جسٹس کا اختیار محدود کرنےکی قانون سازی کی ٹائمنگ ایک سوالیہ نشان ہے،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر سپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، ان کی دعا ہے کہ جج آپس میں اشتراک پیدا کریں۔

    نیا عدالتی اصلاحاتی بل، نواز،ترین اور گیلانی کو اپیل کا حق مل گیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے اکتوبر میں انتخابات کے اعلان کے حوالے سے صدر عارف علوی کا کہنا تھا اکتوبر میں بھی الیکشن کا انعقاد خطرے میں نظر آرہا ہے۔

    یاد رہے کہ قومی اسمبلی نے آج سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظور کر لیا ہے جس کے تحت سو موٹو نوٹس لینے کا اختیار اب اعلیٰ عدلیہ کے 3 سینئر ترین ججز کے پاس ہو گا۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز بل میں محسن داوڑ کی ترمیم شامل ہونے سے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کو از خود نوٹس پر ملی سزا کے خلاف اپیل کا حق مل گیا ہے 30 دن میں ون ٹائم اپیل کے حق سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ساتھ یوسف رضاگیلانی، جہانگیر ترین سمیت از خود نوٹس کیسز کے فیصلوں کے دیگر متاثرہ فریق بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔

    جو کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے وہ آج قانون کا سب سے …

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز ترمیمی بل کیا ہے؟

    بل کے تحت سپریم کورٹ کے سامنے ہر معاملے اور اپیل کو کمیٹی کا تشکیل کردہ بینچ سنے اور نمٹائے گا جب کہ کمیٹی میں چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین ججز ہوں گے اور کمیٹی کا فیصلہ کثرت رائے سے ہو گا۔

    آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت معاملہ پہلے کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا، بنیادی حقوق سے متعلق عوامی اہمیت کے معاملے پر3 یا اس سے زائد ججزکا بینچ بنایا جائے گا، آئین اور قانون سے متعلق کیسز میں بینچ کم از کم 5 ججز پر مشتمل ہو گا جب کہ بینچ کے فیصلے کے 30 دن کے اندر اپیل دائر کی جاسکے، دائر اپیل 14 روز میں سماعت کے لیے مقررہوگی، زیرالتوا کیسز میں بھی اپیل کا حق ہوگا، فریق اپیل کے لیے اپنی پسند کا وکیل رکھ سکتا ہے اس کے علاوہ ہنگامی یا عبوری ریلیف کے لیے درخواست دینےکے 14 روزکے اندر کیس سماعت کے لیے مقرر ہوگا-

    محمد خان بھٹی کے خلاف اینٹی کرپشن کا مقدمہ خارج

  • آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر مملکت کو جوابی خط ارسال

    آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر مملکت کو جوابی خط ارسال

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف نے صدر مملکت عارف علوی کو 5 صفحات اور 7 نکات پر مشتمل جوابی خط ارسال کر دیا جس میں انہوں نے کہا کہ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں اور آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: پنجاب میں انتخابات کے التوا اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں پر صدر ڈاکٹر عارف علوی نے 24 مارچ کو وزیراعظم شہبازشریف کو خط لکھا تھا جس میں صدرمملکت نے کہا تھا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی ہے، سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہےالیکشن کمیشن نے پنجاب میں انتخابات اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ مختلف محکموں کے سربراہان کی بریفنگ کی بنیاد پر کیا اور ان سربراہان کو حکومت نے ہدایات دی تھیں۔


    صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت وزیراعظم تمام پالیسی امور پر صدر کو آگاہ رکھنے کے پابند ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کوئی مشاورت نہیں کی جا رہی، وزیراعظم انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کی ہدایت کریں،الیکشن کا التوا توہین عدالت ہے ، حکام کو انسانی حقوق کی پامالی سے باز رہنے کی ہدایت کی جائے۔


    تاہم اب صدر عارف علوی کی جانب سے کو لکھےگئے خط کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا کہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آپ کا خط پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے، آپ کا خط یک طرفہ اور حکومت مخالف خیالات کا حامل ہے جن کا آپ کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا ہےکہ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں، آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں، 3 اپریل 2022 کو آپ نے قومی اسمبلی تحلیل کرکے سابق وزیراعظم کی غیر آئینی ہدایت پر عمل کیا، قومی اسمبلی کی تحلیل کے آپ کے حکم کو سپریم کورٹ نے 7 اپریل کو غیر آئینی قرار دیا۔

    وزیراعظم کا کہنا ہےکہ آرٹیکل 91 کلاز 5 کے تحت بطور وزیراعظم میرے حلف کے معاملے میں بھی آپ آئینی فرض نبھانے میں ناکام ہوئے،کئی مواقع پر آپ منتخب آئینی حکومت کے خلاف فعال انداز میں کام کرتے آرہے ہیں، میں نے آپ کے ساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے کی پوری کوشش کی، اپنے خط میں آپ نے جو لب ولہجہ استعمال کیا اُس سے آپ کو جواب دینے پر مجبور ہوا ہوں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے لکھا ہےکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا آپ کا حوالہ ایک جماعت کے سیاست دانوں اور کارکنوں کے حوالے سے ہے، آئین کے آرٹیکل 10اے اور 4 کے تحت آئین اور قانون کا مطلوبہ تحفظ ان تمام افراد کو دیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ریاستی عمل داری کے لیے قانون اور امن عامہ کے نفاذ کے مطلوبہ ضابطوں پر سختی سے عمل کیا ہے، تمام افراد نے قانون کے مطابق داد رسی کے مطلوبہ فورمز سے رجوع کیا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نےکہا ہےکہ جماعتی وابستگی کے سبب آپ نے قانون نافذ کرنے و الے اداروں پر حملوں کو یکسر فراموش کردیا، آپ نے نجی وسرکاری املاک کی توڑپھوڑ، افراتفری پیدا کرنے کی کوششوں کو نظر انداز کردیا، پی ٹی آئی کی جانب سے ملک کو معاشی ڈیفالٹ کے کنارے لانے کی کوششوں کو آپ نے نظرانداز کردیا، پی ٹی آئی کی وجہ سے آئین، انسانی حقوق اور جمہوریت کے مستقبل سے متعلق پاکستان کی عالمی ساکھ خراب ہوئی، آپ نے بطور صدر ایک بار بھی عمران خان کی عدالتی حکم عدولی اور تعمیل کرانے والوں پر حملوں کی مذمت نہیں کی۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ عدالت کے حکم کے خلاف کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ایسی عسکریت پسندی پہلےکبھی نہیں دیکھی گئی، ہماری حکومت آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق آزادی اظہار پر مکمل یقین رکھتی ہے، آپ کی توجہ ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ ورلڈ رپورٹ 2022 کی طرف دلاتا ہوں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے خط میں لکھا کہ پی ٹی آئی اس وقت اقتدار میں تھی، اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان میڈیا کو کنٹرول کرنےکی کوششیں تیز کرچکی ہے، رپورٹ میں لکھا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اختلاف رائے کو کچل رہی ہے، رپورٹ میں صحافیوں، سول سوسائٹی اور سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے، قید وبند اور نشانہ بنانے کی تمام تفصیل درج ہے، پی ٹی آئی حکومت کے دور میں انسانی حقوق کا قومی کمیشن معطل رہا۔

    وزیراعظم نے خط میں کہا کہ قومی کمشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ پی ٹی آئی حکومت پر فرد جرم ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی متعدد رپورٹس میں پی ٹی آئی حکومت کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا جس کی سزا موت ہے، پی ٹی آئی حکومت نے مرد و خواتین ارکان پارلیمان کو قید وبند اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ایک سابق وزیراعظم کے خاندان کی خاتون رُکن کو بھی معاف نہ کیا گیا اور سیاسی مخالفین کا صفایا کرنے کے لیے نیب کو استعمال کیا گیا لیکن افسوس بطور صدر پاکستان آپ نے ایک بار بھی اِن میں سے کسی بھی واقعے پر آواز بلند نہ کی۔ آپ بطور صدر انسانی حقوق، آئین اور قانون کی اِن خلاف ورزیوں پر اُس وقت کی حکومت سے پوچھ سکتے تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صدر نے اپنے خط میں سابق حکومت کے وفاقی وزراء کے جارحانہ رویے اور انداز بیان پر اعتراض نہیں کیا جبکہ سابق حکومت کے وزراء مسلسل الیکشن کمشن کے اختیار اور ساکھ پر حملے کررہے ہیں آئین کےآرٹیکل 46 اور رولز آف بزنس کی شق15 پانچ بی کی صدر کی تشریح درست نہیں، صدر اور وزیراعظم کے درمیان مشاورت کی آپ کی بات درست نہیں کیونکہ آئین کے آرٹیکل 48 کلاز وَن کے تحت صدر کابینہ یا وزیراعظم کی ایڈوائس کے مطابق کام کرنے کا پابند ہے۔

    الیکشن کے حوالے سے وزیراعظم نے لکھا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے آپ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ دے دی، آپ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے یکم مارچ 2023 کے حکم سے مسترد کر دیا، آپ نے 2 صوبوں میں بدنیتی پر مبنی اسمبلیوں کی تحلیل پر کوئی تشویش تک ظاہرنہ کی، یہ سب آپ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی انا اور تکبرکی تسکین کے لیےکیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی اسمبلیاں کسی آئینی و قانونی مقصد کے لیے نہیں، صرف وفاقی حکومت کو بلیک میل کرنے کے لیے تحلیل کی گئیں اور آپ نے یہ بھی نہ سوچا کہ دو صوبائی اسمبلیوں کے پہلے الیکشن کروانے سے ملک نئے آئینی بحران میں گرفتار ہو جائے گا۔ آپ نے آرٹیکل 218 کلاز تین کے تحت شفاف، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے تقاضے کو بھی فراموش کر دیا، آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو آپ نے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جو نہایت افسوسناک ہے۔ کا یہ طرز عمل صدر کے آئینی کردار کے مطابق نہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر کو مطلع رکھنے کی حد تک اس کا اطلاق ہے، نہ زیادہ نہ اس سے کم اور وفاقی حکومت کے انتظامی اختیار کو استعمال کرنے میں وزیراعظم صدر کی مشاورت کا پابند نہیں۔ جناب صدر، میں اور وفاقی حکومت آئین کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں، آئین کی مکمل پاسداری، پاسبانی اور دفاع کے عہد پر کار بند ہیں، آئین میں درج ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ پر کاربند ہیں۔

    وزیراعظم نے خط میں کہا کہ حکومت پرعزم ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے اور ریاست پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جائے۔ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئینی طور پر منتخب حکومت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔

  • وقت کی ضرورت ہے تمام سیاستدان یکجا ہوں،عارف علوی

    وقت کی ضرورت ہے تمام سیاستدان یکجا ہوں،عارف علوی

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے اللہ کا شکر پاکستان میں آج کا دن بڑی تباہی کے بغیر گزر گیا۔

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عارف علوی کا کہنا تھا کوئی بھی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا تھا لیکن اللہ کا شکر پاکستان میں آج کا دن بڑی تباہی کے بغیر گزر گیا۔

    آواران میں سیکیورٹی فورسز کے خفیہ آپریشن میں تین دہشتگرد ہلاک


    صدر عارف علوی کا کہنا تھا وقت کی ضرورت ہے تمام سیاستدان یک جا ہوں، سیاست دان انتخابات کا رخ اختیار کریں، یہ ہمارا وطن ہے اس کی خاطر امن اور سلامتی کو لبیک کہیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد آمد کے موقع پر کمپلیکس کے باہر پی ٹی آئی مظاہرین اور پولیس کے مابین شدید ہنگامہ آرائی میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے پی ٹی آئی مظاہرین کی پتھراؤ سے9 پولیس اہلکارزخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ مشتعل مظاہریں نے 25 سے زائد موٹر سائیکل اور گاڑیاں نذر آتش کردیں۔

    گرفتاری کا خدشہ،ڈونلڈ ٹرمپ نے کارکنوں کو احتجاج کی کال دے دی

    علاوہ ازیں پولیس حکام کے مطابق پولیس کی بم ڈسپوزل اسکواڈ کی گاڑی کوبھی مظاہرین بنے توڑ پھوڑ کے بعد جلا دیا پولیس حکام کے مطابق مظاہرین کی جانب سے پولیس پر مبینہ طور پر پٹرول بموں سے حملہ کیا گیا۔

    پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے اور انہیں کمپلیکس سے دور رکھنے کے لیے بدترین لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے جواب میں مظاہرین نے بھی پولیس اہلکاروں پر ڈنڈوں سے حملے کیا-

    بلوچستان : آواران میں گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی،4 بچوں سمیت 8 افراد جاں

  • صدر عارف علوی کو نااہل قرار دینے کی درخواست پر آیا فیصلہ

    صدر عارف علوی کو نااہل قرار دینے کی درخواست پر آیا فیصلہ

    سپریم کورٹ میں صدر عارف علوی کو نااہل قرار دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    کیس کی سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے کی ،درخواست شہری ظہور مہدی کی جانب سے دائر کی گئی تھی،درخواست میں صدر عارف علوی کو 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دینے کی درخواست کی گئی تھی، سپریم کورٹ نے شہری کی درخواست خارج کردی

    صدر عارف علوی کا تعلق تحریک انصاف سے ہے، عمران خان نے انہیں صدر مملکت مقرر بنایا تھا، عمران خان کی حکومت ختم ہو چکی تا ہم عارف علوی ابھی تک صدر مملکت ہیں، موجودہ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت صدر مملکت کے کئی اقدامات سے ناخوش بھی ہے، مواخذے کی تحریک پیش کرنے کا بھی کہا گیا تھا تا ہم ابھی تک پیش نہیں کی گئی، صدر مملکت عارف علوی کی عمران خان سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی ہیں، صدر مملکت کی نااہلی کی درخواست پر آج سماعت کے بعد عدالت نے درخواست خارج کر دی ہے

    صدر مملکت کی کل تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد کے ساتھ آڈیو بھی لیک ہوئی تھی،یں، مبینہ آڈیو میں یاسمین راشد نے صدر عارف علوی سے کسی سے خان کیلئے بات کرنے کی درخواست کی،یاسمین راشد نے مبینہ آڈیو میں صدر عارف علوی سے کہا کہ ’سر یہاں پر صورتحال پر بہت خراب ہے پیٹرول بم پھینکنا شروع کردیے ہیں ہمارے ورکرز نے اس سے پہلے کہ خون خرابا ہو، میرا خیال ہے آپ کو کسی سے بات کرنے کی ضرورت ہے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • ڈاکٹر یاسمین راشد، صدر مملکت کی مبینہ آڈیو لیک ، منصوبہ بندی آئی سامنے

    ڈاکٹر یاسمین راشد، صدر مملکت کی مبینہ آڈیو لیک ، منصوبہ بندی آئی سامنے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو پولیس تاحال گرفتار نہ کر سکی تا ہم یاسمین راشد کی ایک ہی دن میں دوسری آڈیو لیک ہو گئی ہے

    اب دوسری آڈیو یاسمین راشد کی سامنے آئی ہے جس میں وہ صدر مملکت عارف علوی سے بات کر رہی ہیں، مبینہ آڈیو میں یاسمین راشد نے صدر عارف علوی سے کسی سے خان کیلئے بات کرنے کی درخواست کی،یاسمین راشد نے مبینہ آڈیو میں صدر عارف علوی سے کہا کہ ’سر یہاں پر صورتحال پر بہت خراب ہے پیٹرول بم پھینکنا شروع کردیے ہیں ہمارے ورکرز نے اس سے پہلے کہ خون خرابا ہو، میرا خیال ہے آپ کو کسی سے بات کرنے کی ضرورت ہے

    یاسمین راشد کی بات پر صدر عارف علوی نے کہا کہ ’میں نے بات کرلی ہے‘ یاسمین راشد نے کہا کہ ’ آپ ان سے کہہ دیں کہ میں بات کرلیتا ہوں عمران خان سے‘صدر عارف علوی نے کہا کہ ’میں سمجھا نہیں آپ کیا کہہ رہی ہیں‘ یاسمین راشد نے کہا کہ ’دیکھیں کچھ مر جائیں گے، صورتحال اتنی بری ہو جائے گی کہ الیکشن ملتوی ہوجائیں گے، کچھ پولیس والے مرجائیں گے میرا خیال ہے آپ خان صاحب کو کہیں کہ give in ، باقی آپ کی مرضی،ابھی رینجرز وہاں پر ہے، پیٹرول بم چل رہے ہیں، ان کی واٹر کینن کو آگ لگ گئی ہے، میں تو باہر ہوں ،

    صدرمملکت عارف علوی نے کہا کہ میں اسد عمر سے بات کرتا ہوں ، جس پر یاسمین رشد نے کہا کہ آپ شاہ صاحب سے بھی بات کرلیں وہ خان صاحب کے ساتھ ہیں

    قبل ازیں شاہ محمود قریشی نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کے تمام اراکین، ٹکٹ ہولڈرز لاہور پہنچیں اور عمران خان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں، واضح رہے کہ زمان پارک میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے ہیں،تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراو کیا جاتا ہے تو پولیس کی جانب سے آنسو گیس، کے شیل پھینکے جاتے ہیں ،زمان پارک کی جانب آنے والی تمام سڑکوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے 64 افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں 54 پولیس اہلکار اور 10 شہری شامل ہیں 51 پولیس اہلکار سروس ہسپتال اور تین میو ہسپتال میں لایا گیا ہے ۔

    ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ شرپسند بدستور نہتے پولیس والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور درجن سے زائد گاڑیوں اور موٹرسائیکل کو جلا چکے ہیں پولیس پر تشدد کرنے والوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے خلاف بھی سخت کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے،

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • عمران خان کا صدر مملکت کو خط،سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیانات پر تحقیقات کا مطالبہ

    عمران خان کا صدر مملکت کو خط،سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیانات پر تحقیقات کا مطالبہ

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے صدر مملکت عارف علوی سے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیانات پر تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف، سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے صدرِ مملکت عارف علوی کو خط لکھا ہے چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے صدرمملکت عارف علوی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران عوامی سطح پر نہایت ہوشربا انکشافات ہوئے ہیں۔ منظر عام پر آنے والی معلومات سے واضح ہوتا ہے کہ جنرل (ر) باجوہ اپنے حلف کی صریح خلاف ورزی کے مرتکب ہو ئے ہیں جنرل باجوہ نے صحافی سےاعتراف کیا کہ ’ہم عمران خان کو ملک کےلیےخطرہ سمجھتے تھے‘، جنرل باجوہ نےیہ بھی اعتراف کیا کہ ’عمران خان اقتدار میں رہے تو ملک کو نقصان ہو گا‘ تحقیق کی جائے کہ جنرل باجوہ کے استعمال کیے گئے اس ’ہم‘ سے کیا مراد ہے؟

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت

    عمران خان نے صدر عارف علوی کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ جنرل باجوہ کو یہ اختیار کس نے دیا کہ منتخب وزیرِ اعظم سے متعلق فیصلہ کریں، فیصلہ صرف عوام کا ہے کہ وہ کسے وزیرِ اعظم منتخب کرنا چاہتے ہیں، جنرل باجوہ کا خود کو فیصلہ ساز بنانا آئین کے آرٹیکل 244 اور آئین میں تیسرے شیڈول میں درج حلف کی خلاف ورزی ہے۔

    ان کا خط میں کہنا ہے کہ جنرل باجوہ نے اپنی گفتگو میں نیب کو کنٹرول کرنے کا دعویٰ بھی کیا، انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے شوکت ترین کے خلاف نیب کا مقدمہ ختم کرایا، جنرل باجوہ کا یہ دعویٰ بھی حلف کی صریح خلاف ورزی ہے، آئین کے تحت افواجِ پاکستان وزارتِ دفاع کے ماتحت ڈپارٹمنٹ ہے، آئینی نظم کے تحت سویلین حکام یا خود مختار ادارے فوج کے ماتحت نہیں۔

    عمران خان کا خط میں کہنا ہے کہ جنرل باجوہ کی وزیرِ اعظم سے گفتگو کی ریکارڈنگز آرمی چیف کے حلف کی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، اس سوال کا جواب اہم ہے کہ جنرل باجوہ کیوں اور کس حیثیت و اختیار سے خفیہ بات ریکارڈ کرتے تھے۔

    عدالت نے شیخ رشید کی ضمانت منظورکرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا

    چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین جنگ پر حکومت کی غیر جانبداریت کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھی جنرل باجوہ نے اپنےحلف کےتقاضوں کو پامال کیا، انہوں نے 2 اپریل 2022ء کو سیکیورٹی کانفرنس میں روس و یوکرین جنگ پر حکومتی پالیسی سے متضاد مؤقف اپنایا۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ میں نشاندہی کر دوں کہ معاملے پر حکومتِ پاکستان کی پالیسی کو وزارتِ خارجہ اور متعلقہ ماہرین سمیت تمام فریقین میں مکمل اتفاقِ رائے سے مرتب کیا گیا، آئین کا چیپٹر دوم اور خاص طور پر آرٹیکل 243، 244 افواجِ پاکستان کے دائرہ اختیار کی وضاحت کرتے ہیں۔

    صدر عارف علوی سے عمران خان نے درخواست کی ہے کہ صدرِ مملکت اور افواجِ پاکستان کے سپریم کمانڈر ہونے کے ناتے آپ کی آئینی ذمے داری ہے کہ آپ معاملے کا فوری نوٹس لیں، تحقیقات کے ذریعے تعین کیا جائے کہ آیا آئین کے تحت آرمی چیف کے حلف کی ایسی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں؟-

    جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ کی جانب سے حلف کی خلاف ورزیوں کی تفصیلات بھی صدر مملکت کو ارسال کر دی گئیں۔

    عمران خان کی حفاظتی ضمانت،عدالت کا عمران خان کو ساڑھے بارہ بجے پیش ہونے کا حکم

  • صدر مملکت سے اسحاق ڈارکی ملاقات،منی بجٹ  آرڈیننس پر تبادلہ خیال

    صدر مملکت سے اسحاق ڈارکی ملاقات،منی بجٹ آرڈیننس پر تبادلہ خیال

    اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملاقات کی اور منی بجٹ آرڈیننس کی صورت میں نافذ کرنے پرگفتگو کی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات میں اسحاق ڈار نے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا،ذرائع کا کہنا ہےکہ ملاقات میں اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بارے میں صدر مملکت کو آگاہ کیا اور آئی ایم ایف کے مطالبات سے متعلق بھی گفتگو کی۔

    اسحاق ڈار نے صدر مملکت کو میثاق معیشت کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ میثاق معیشت ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ ذرائع نے وزیرخزانہ کی کچھ تعطل کے بعد صدرعلوی سے ملاقات کو غیر معمولی قراردیا۔

    بعدازاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عمران خان سے رابطہ کیا اور ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر اہم گفتگو کی,انہوں نے عمران خان سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے حالیہ ملاقات اور ملک میں عام انتخابات کی ٹائم لائن سے متعلق بھی گفتگو کی

    ذرائع نے بتایا ہےکہ ملاقات میں حکومت کی طرف سے منی بجٹ آرڈیننس کی صورت میں نافذ کرنے پر بھی گفتگو ہوئی منی بجٹ تجاویز آج ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منظورکیے جانےکا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی آج شام 6 بجے طلب کر رکھا ہے ذرائع کے مطابق کابینہ اجلا س میں کورونا بچاؤ انجکشن کی قیمت کا بھی فیصلہ کیا جائے گا-

  • صدر مملکت نے پشاور ہائیکورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کی منظوری دیدی

    صدر مملکت نے پشاور ہائیکورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کی منظوری دیدی

    صدر مملکت عارف علوی نے پشاور ہائیکورٹ میں 3ایڈیشنل ججز کی مستقلی کی منظوری دے دی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق صدر مملکت کی جانب سے جسٹس کامران حیات میاں خیل ، جسٹس محمد اعجاز خان اور جسٹس محمد فہیم ولی کی بطور ایڈیشنل ججز مستقلی کی منظوری دی گئی-

    صدرمملکت عارف علوی نے پشاور ہائیکورٹ میں ججز کی مستقلی کی منظوری آئین آرٹیکل 175 اے 13 کے تحت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر دی-

    دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخابات کے کاغذات نامزدگی جمع کرنے والے امیدواروں کی فہرست جاری کر دی گئی ہے،الیکشن کمیشن خیبرپختونخوا کے مطابق خیبر پختونخوا سے8 قومی اسمبلی کی نشستوں پر 79 امیدواروں نے کاغذات نامزدگیاں جمع کیں،امتیاز علی شاہ گولڈ میڈلسٹ ہیں، انہیں 9 امیدواروں میں سے منتخب کیا گیا-

    الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 4 سوات 9،این اے 38 ڈیرہ اسما عیل خان پر 13امیدواروں نے کا غذات جمع کروائے،این اے17ہر ی پور8،این اے18صوابی 11، این اے32کو ہاٹ پر7امیدواروں نے کا غذات جمع کر وائے،این اے25 نوشہرہ ون 9، حلقہ این اے26 نوشہرہ ٹو پر12امیدواروں نے کا غذات جمع کر وائے،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے43خیبر پر10امیدواروں نے کا غذات جمع کروائے ہیں-

    الیکشن کمیشن کے پی کے مطابق 13فروری تک کاغذات جانچ پرتال کی جا ئے گی،23کو حتمی فہرست اور انتخابی نشانات الاٹ ہوں گے-

  • آن لائن بینک فراڈ کے بڑھتے واقعات پرصدر مملکت کا نوٹس

    آن لائن بینک فراڈ کے بڑھتے واقعات پرصدر مملکت کا نوٹس

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے آن لائن بینک فراڈ اور جعل سازی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا نوٹس

    آن لائن بینکنگ فراڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان میں نوسرباز خود کو فون پر بینک کا اہلکار ظاہر کرکے صارفین کی ذاتی بینکنگ تفصیلات حاصل کرکے شہریوں کی رقم آن لائن ذرائع سے نکلوا لیتے ہیں ،صدر مملکت نے آن لائن بینک فراڈ سے متعلق اخبارات میں خبروں پر تشویش کا اظہارکیا، حال ہی میں معروف ناول نگار اور ڈرامہ نگار مرزا اطہر بیگ کو ایک آن لائن نوسرباز نے ان کے بینک اکاؤنٹ سے 11 لاکھ روپے سے محروم کر دیا تھا ، صدر مملکت عارف علوی کا کہنا ہے کہ بینکنگ محتسب کے ذریعے صدر مملکت کی جانب سے سینکڑوں فراڈ کیسز کا فیصلہ کرنے اور آن لائن فراڈ متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے باوجود فراڈ کے واقعات میں اضافہ پریشان کن ہے، صدر مملکت نے بینکنگ محتسب کو تشویشناک رجحان کا سنجیدگی سے اور سخت نوٹس لینے کی ہدایت کی، اور کہا کہ بینکنگ محتسب ہنگامی بنیادوں پر مناسب چیک اینڈ بیلنس اور فول پروف سیکیورٹی سسٹم لاگو کرنے کے لیے ٹھوس، بامعنی اور موثر اقدامات اٹھائے،

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ تمام بینکوں کو مشترکہ طور پر تمام ذرائع ابلاغ، روایتی اور ڈیجیٹل کے ذریعے آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے، بینک صارفین کو آن لائن بینکنگ پلیٹ فارمز کے محفوظ استعمال کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے، آن لائن بینکنگ کے حوالے سےاسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات اور متعلقہ ایس او پیز کی تعمیل کو یقینی بنایا جائے،صدر کی ہدایت پر ایوانِ صدر نے مرزا اطہر بیگ سے رابطہ کیا،بینک کی جانب سے مقررہ وقت میں ریلیف نہ ملنے کی صورت میں بینکنگ محتسب کو باضابطہ شکایت درج کرانے کا کہا

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    غیر سنجیدہ اپیل،وقت اور وسائل ضائع کرنے پرصدر مملکت نے کیا جرمانہ

  • غیر سنجیدہ اپیل،وقت اور وسائل ضائع کرنے پرصدر مملکت نے کیا جرمانہ

    غیر سنجیدہ اپیل،وقت اور وسائل ضائع کرنے پرصدر مملکت نے کیا جرمانہ

    غیر سنجیدہ اپیل،وقت اور وسائل ضائع کرنے پرصدر مملکت نے کیا جرمانہ

    صدر مملکت نے یو بی ایل پرغیر سنجیدہ اپیل دائر کرنے، وقت اور وسائل ضائع کرنے پر جرمانہ عائد کر دیا

    صرف 20،000 روپے کے متنازعہ بینک لین دین کیس میں بینک کی جانب سے بینکنگ محتسب کے فیصلے کے خلاف غیر سنجیدہ درخواست دائر کرنے پر 20,000 روپے جرمانہ عائد کیا گیا ،صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ بینک اپنے صارف کو کھوئی ہوئی رقم واپس کرنے کے ساتھ ساتھ جرمانہ بھی ادا کرے بینک نے اپنے وسائل اور وقت ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ بینکنگ محتسب اور ریاست کے سربراہ کا وقت ضائع کیا،

    یو بی ایل نے بینکنگ محتسب کے احکامات کے خلاف صدر مملکت کے پاس ایک کیس میں درخواست دائر کی تھی صارف نے یو بی ایل کے اے ٹی ایم سے 20,000 روپے کی نقد رقم نکالنے کی کوشش کی تھی لیکن کیش نہیں نکالا گیا تھا مگر صارف کے اکاؤنٹ سے رقم ڈیبٹ ہو گئی صارف نے بینک کو شکایت درج کرائی اور تنازعات کے تصفیہ کا فارم بھی جمع کرایا لیکن اس کی شکایت کو سرسری طور پر مسترد کر دیا گیا تھا صارف نے معاملہ بینکنگ محتسب کے سامنے اٹھایا، جس نے صارف کو متنازعہ رقم واپس کرنے کا حکم جاری کیا صدر نے بینک کی نمائندگی کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ بینک سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات کی تعمیل کرنے اور اپنی قانونی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک کی ہدایات کے تحت بینک کے اے ٹی ایم کیبنز میں بیرونی کیمرے نصب کیے جانے تھے، شکایات سے متعلق ریکارڈ رکھنے کے لیے، بینکوں کیلئے پروڈنشل ریگولیشنز میں موجود ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے،بینک تحقیقاتی رپورٹ اور مطلوبہ معلومات محتسب کو فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے باوجود اس کے کہ بینک کو پیروی اور سماعت کے دوران موقع دیا گیا،صدر مملکت نے بینک کے نقطہ نظر کو بے بنیاد اور بغیر کسی ثبوت کے قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا صدر مملکت نے بینک کو ہدایت کہ شکایت کنندہ کو 20,000 روپے کی رقم ادا کرے اور 30 دن ​​کے اندر تعمیل کی رپورٹ جمع کرائے