Baaghi TV

Tag: صدر مملکت

  • عیدالفطر کے موقع پر صدر مملکت اور وزیراعظم کے عید  پیغامات

    عیدالفطر کے موقع پر صدر مملکت اور وزیراعظم کے عید پیغامات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عیدالفطر آج پاکستان بھر میں انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے

    عیدالفطر کے موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم شہباز شریف نے عید کے پیغامات جاری کئے ہیں،اور پاکستانی قوم کو مبارکباد پیش کی ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا اپنے عید پیغام میں کہنا تھا کہ ملک کو درپیش موجودہ حالات سے نکلنے کیلئے درگزر کرنے کی ضرورت ہے آج ہم لوگوں کو معاف کرنے کو تیار نہیں قوم سے اپیل ہے کہ گروہی، مذہبی اور سیاسی اختلافات کو نفرت انگیزی کا ذریعہ نہ بننے دیں

    وزیراعظم شہبازشریف نے عیدالفطر پر اپنے پیغام میں کہا کہ اتحادی حکومت کی مسلسل کوشش رہی ہے کہ معاشی مشکلات کا کم سے کم بوجھ عوام تک پہنچے، اللہ تعالیٰ ہمیں ان آزمائشوں سے نجات عطا فرمائے گا سب کو پاکستان کی بہتری کی تعمیری سوچ، یکسوئی اور مسلسل محنت سے کھوئی ہوئی منزل تک پہنچنا ہے

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شہباز شریف کا سروسز چیفس کو ٹیلی فون، عید کی مبارک دی ،وزیراعظم شہباز شریف نے چئیرمن جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کو ٹیلی فون کیا اور عید کی مبارک پیش کی ،وزیراعظم نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر، فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سندھو اور بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کو بھی فون کیا اور عیدالفطر کی مبارک دی

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے چاروں صوبوں کےگورنرز کو ٹیلی فون، عید الفطر کی مبارکباد دی ،وزیراعظم شہباز شریف نے گورنر بلوچستان عبدالولی کاکڑ،گورنر خیبر پختونخوا غلام علی، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور گورنر پنجاب بلیغ الرحمن کو ٹیلی فون پر عید کی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہارکیا،

    واضح رہے کہ پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں نماذ عید کے اجتماعات ہوئے، جن میں پاکستان، امت مسلمہ کی سلامتی کے لئے دعائیں کی گئیں، کراچی،لاہور، اسلام آباد سمیت کئی بڑے شہروں میں نماذ عید کے ہذاروں اجتماعات ہوئے،

    زمان پارک میں غلیل بردار فورس پہنچ گئی

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • خیبرپختونخواانتخابات:وفاقی وصوبائی حکومتوں، صدرمملکت ،گورنرکے پی اورالیکشن کمیشن کونوٹس جاری

    خیبرپختونخواانتخابات:وفاقی وصوبائی حکومتوں، صدرمملکت ،گورنرکے پی اورالیکشن کمیشن کونوٹس جاری

    خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق کیس، پشاورہائیکورٹ نےوفاقی و صوبائی حکومتوں، صدر مملکت ، گورنر خیبرپختونخوا اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیئے۔

    باغی ٹی وی:پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد خیبرپختونخوا میں بھی الیکشن کی تاریخ کے لئے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے، جس پر جسٹس اعجاز انور اور جسٹس شکیل احمد نے سماعت کی۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ،پنجاب،کے پی الیکشن کیلئے فنڈ دینےکا بل مسترد

    ہڑتال کے باعث پی ٹی آئی کے وکلا عدالت میں پیش نہ ہوسکے تاہم پی ٹی آئی رہنما اور اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی خود عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

    مشتاق غنی نے عدالت سے استدعا کی کہ ہڑتال کے باعث وکلا پیش نہیں ہوسکتے لیکن انتخابات کا اہم معاملہ ہے اس لئے میری پیشی پر ہی فریقین کو نوٹس جاری کرکے جلد آئندہ سماعت کے لئے تاریخ دی جائے۔

    عبوری ضمانت کیلئےعثمان بزدار کوعدالت میں پیش ہونے کا حکم

    عدالت نے استدعا منظور کرکے گورنر خیبرپختونخوا، الیکشن کمیشن آف پاکستان، وفاقی حکومت، خیبرپختونخوا حکومت اور صدر مملکت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت کے لئے 19 اپریل کی تاریخ دے دی۔

  • صدر نے عمل سے ثابت کیا وہ پی ٹی آئی کارکن کے طور پر کام کر رہے ہیں،وزیر اعظم

    صدر نے عمل سے ثابت کیا وہ پی ٹی آئی کارکن کے طور پر کام کر رہے ہیں،وزیر اعظم

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کا پارلیمنٹ سے منظور شدہ بل واپس کرنا افسوسناک ہے-

    باغی ٹی وی: صدر مملکت عارف علوی کو پارلیمنٹ سے منظور شدہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 واپس بھیجنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹئوٹر پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ صدر مملکت کا پارلیمنٹ سے منظور شدہ بل واپس کرنا افسوسناک ہے-

    پارلیمنٹ کی قرار داد پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،سپریم کورٹ …


    انہوں نے کہا کہ صدر نے عمل سے ثابت کیا وہ پی ٹی آئی کارکن کے طور پر کام کر رہے ہیں،صدر مملکت عمران نیازی کیلئے آئینی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کو نظرثانی کیلئے واپس بھیج دیا ہے،صدر پاکستان نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کیلئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوایا ہے۔

    صدر نے کہا کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے، بل قانونی طورپر مصنوعی اور ناکافی ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے، میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پوری کرنےاور دوبارہ غور کرنے کیلئے واپس کرنا مناسب ہے-

    وفاقی حکومت کا ازخود نوٹس اختیارمیں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا …

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے تحت سو موٹو نوٹس لینے کا اختیار اب اعلیٰ عدلیہ کے 3 سینیئر ترین ججز کے پاس ہوگااس بل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کرائے جانے کے بعد دستخط کے لیے صدر کو بھیجا گیا تھا۔

    بل کے تحت چیف جسٹس کا ازخود نوٹس کا اختیار محدود ہوگا، بینچوں کی تشکیل اور از خود نوٹس کا فیصلہ ایک کمیٹی کرے گی جس میں چیف جسٹس اور دو سینئر ترین ججز ہوں گے، نئی قانون سازی کے تحت نواز شریف، کو از خود نوٹس پر ملی سزا پر اپیل کا حق مل گیا، یوسف رضا گیلانی، جہانگیر ترین اور دیگر فریق بھی فیصلوں کو چیلنج کرسکیں گے۔

    پاکستان میں ہماری جنگ حقیقی آزادی کیلئے ہے،عمران خان

  • صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل واپس بھیج دیا

    صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل واپس بھیج دیا

    صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل نظر ثانی کیلئے واپس بھیج دیا

    صدر ِپاکستان نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کیلئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوا دیا ،صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے ،بل قانونی طور پر مصنوعی اور ناکافی (colourable legislation) ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے ،میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پورا کرنے کیلئے دوبارہ غور کرنے کیلئے واپس کرنا مناسب ہے ،آئین سپریم کورٹ کو اپیلی ، ایڈوائزری ، ریویو اور ابتدائی اختیار سماعت سے نوازتا ہے،مجوزہ بل آرٹیکل 184 تین ، عدالت کے ابتدائی اختیار سماعت ، سے متعلق ہے ،مجوزہ بل کا مقصد ابتدائی اختیار سماعت استعمال کرنے اور اپیل کرنے کا طریقہ فراہم کرنا ہے ،

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    بشری بی بی کی آڈیونےدنیا بدل دی۔قہرٹوٹ پڑا ،عمران خان مایوس،دل ٹوٹ گیا

    صدر مملکت نے سوال اٹھایا کہ یہ خیال قابل تعریف ہو سکتا ہے مگر کیا اس مقصد کو آئین کی دفعات میں ترمیم کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے ؟ تسلیم شدہ قانون تو یہ ہے کہ آئینی دفعات میں ایک عام قانون سازی کے ذریعے ترمیم نہیں کی جاسکتی ، آئین ایک اعلیٰ قانون ہے ، قوانین کا باپ ہے ،آئین کوئی عام قانون نہیں ، بلکہ بنیادی اصولوں، اعلیٰ قانون اور دیگر قوانین سے بالاتر قانون کا مجسمہ ہے،آرٹیکل 191 سپریم کورٹ کو عدالتی کاروائی اور طریقہ کار ریگولیٹ کرنے کیلئے قوانین بنانے کا اختیار دیتا ہے ،آئین کی ان دفعات کے تحت سپریم کورٹ رولز 1980 بنائے گئے جن کی توثیق خود آئین نے کی، عدلیہ کی آزادی کو مکمل تحفظ دینے کیلئے آرٹیکل 191 کو دستور میں شامل کیا گیا ،آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ کو پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار سے باہر رکھا گیا، پارلیمنٹ کا قانون سازی کا اختیار بھی آئین سے ہی اخذ شدہ ہے،آرٹیکل 70 وفاقی قانون سازی کی فہرست میں شامل کسی بھی معاملے پر بل پیش کرنے اور منظوری سے متعلق ہے،آرٹیکل 142اے کے تحت پارلیمنٹ وفاقی قانون سازی کی فہرست میں کسی بھی معاملے پر قانون بنا سکتی ہے،فورتھ شیڈول کے تحت پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے علاوہ تمام عدالتوں کے دائرہ اختیار اور اختیارات کے حوالے سے قانون سازی کا اختیار ہے ،فورتھ شیڈول کے تحت سپریم کورٹ کو خاص طور پر پارلیمان کے قانون سازی کے اختیار سے خارج کیا گیا ہے ، بل بنیادی طور پر پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ، بل کے ان پہلوؤں پر مناسب غور کرنے کی ضرورت ہے،

  • انشورنس کمپنی بیوہ کو ڈیتھ انشورنس کلیم ادا کرے،صدر مملکت کی ہدایت

    انشورنس کمپنی بیوہ کو ڈیتھ انشورنس کلیم ادا کرے،صدر مملکت کی ہدایت

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انشورنس کمپنی کو بیوہ کو ڈیتھ انشورنس کلیم ادا کرنے کی ہدایت کی ہے،کمپنی نے متوفی شوہر کی جانب سے جان بوجھ کر بیماری چھپانے کے عذر پر انشورنس کلیم ادائیگی سے انکار کیا تھا .صدر مملکت نے وفاقی انشورنس محتسب کے حکم کے خلاف شہناز اختر کی درخواست قبول کر لی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ انشورنس کمپنی کے پاس ناقص بنیادوں پر انشورنس کلیم مسترد کرنے کا جواز نہیں ، انشورنس کمپنی کی جانب سے بدانتظامی ہوئی ، انشورنس محتسب کے احکامات کو مسترد کیا جاتا ہے ،ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس جیسی بیماریوں میں مبتلا افراد کی اکثریت محتاط رہ کر لمبے عرصے تک زندہ رہتی ہے،ایسی بیماریوں کو چھپانے کو دھوکہ دہی سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا،کمپنی حکم کی وصولی کے 30 دنوں کے اندر شکایت کنندہ کو انشورنس کلیم ادا کرے،

    انشورنس محتسب نے کیس بیوہ کو پریمیم کی رقم پہلے سے ہی واپس ہونے کی بنیاد پر بند کر دیا تھا ،اور کہا تھا کہ 1.5 لاکھ روپے کی کٹوتی کی رقم واپس ہوچکی، کمپنی کلیم ادا کرنے کی ذمہ دار نہیں ، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں بیماری کی کوئی مدت نہیں بتائی گئی ،بیماری سے متعلق ہسپتال کا جاری کردہ چارٹ 2017 سے متعلق ، انشورنس پالیسی 2015 میں جاری ہوئی،صدر مملکت نے وفاقی انشورنس محتسب کا فیصلہ مسترد کر دیا

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • پریکٹس اینڈ پروسیجربل پرسپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے،صدر عارف علوی

    پریکٹس اینڈ پروسیجربل پرسپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے،صدر عارف علوی

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہےسپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر سپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے-

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر گفتگو کرتے ہوئے صدر عارف علوی کا کہنا تھا چیف جسٹس کا اختیار محدود کرنےکی قانون سازی کی ٹائمنگ ایک سوالیہ نشان ہے،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر سپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، ان کی دعا ہے کہ جج آپس میں اشتراک پیدا کریں۔

    نیا عدالتی اصلاحاتی بل، نواز،ترین اور گیلانی کو اپیل کا حق مل گیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے اکتوبر میں انتخابات کے اعلان کے حوالے سے صدر عارف علوی کا کہنا تھا اکتوبر میں بھی الیکشن کا انعقاد خطرے میں نظر آرہا ہے۔

    یاد رہے کہ قومی اسمبلی نے آج سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظور کر لیا ہے جس کے تحت سو موٹو نوٹس لینے کا اختیار اب اعلیٰ عدلیہ کے 3 سینئر ترین ججز کے پاس ہو گا۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز بل میں محسن داوڑ کی ترمیم شامل ہونے سے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کو از خود نوٹس پر ملی سزا کے خلاف اپیل کا حق مل گیا ہے 30 دن میں ون ٹائم اپیل کے حق سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ساتھ یوسف رضاگیلانی، جہانگیر ترین سمیت از خود نوٹس کیسز کے فیصلوں کے دیگر متاثرہ فریق بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔

    جو کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے وہ آج قانون کا سب سے …

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز ترمیمی بل کیا ہے؟

    بل کے تحت سپریم کورٹ کے سامنے ہر معاملے اور اپیل کو کمیٹی کا تشکیل کردہ بینچ سنے اور نمٹائے گا جب کہ کمیٹی میں چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین ججز ہوں گے اور کمیٹی کا فیصلہ کثرت رائے سے ہو گا۔

    آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت معاملہ پہلے کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا، بنیادی حقوق سے متعلق عوامی اہمیت کے معاملے پر3 یا اس سے زائد ججزکا بینچ بنایا جائے گا، آئین اور قانون سے متعلق کیسز میں بینچ کم از کم 5 ججز پر مشتمل ہو گا جب کہ بینچ کے فیصلے کے 30 دن کے اندر اپیل دائر کی جاسکے، دائر اپیل 14 روز میں سماعت کے لیے مقررہوگی، زیرالتوا کیسز میں بھی اپیل کا حق ہوگا، فریق اپیل کے لیے اپنی پسند کا وکیل رکھ سکتا ہے اس کے علاوہ ہنگامی یا عبوری ریلیف کے لیے درخواست دینےکے 14 روزکے اندر کیس سماعت کے لیے مقرر ہوگا-

    محمد خان بھٹی کے خلاف اینٹی کرپشن کا مقدمہ خارج

  • آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر مملکت کو جوابی خط ارسال

    آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر مملکت کو جوابی خط ارسال

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف نے صدر مملکت عارف علوی کو 5 صفحات اور 7 نکات پر مشتمل جوابی خط ارسال کر دیا جس میں انہوں نے کہا کہ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں اور آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: پنجاب میں انتخابات کے التوا اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں پر صدر ڈاکٹر عارف علوی نے 24 مارچ کو وزیراعظم شہبازشریف کو خط لکھا تھا جس میں صدرمملکت نے کہا تھا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی ہے، سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہےالیکشن کمیشن نے پنجاب میں انتخابات اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ مختلف محکموں کے سربراہان کی بریفنگ کی بنیاد پر کیا اور ان سربراہان کو حکومت نے ہدایات دی تھیں۔


    صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت وزیراعظم تمام پالیسی امور پر صدر کو آگاہ رکھنے کے پابند ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کوئی مشاورت نہیں کی جا رہی، وزیراعظم انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کی ہدایت کریں،الیکشن کا التوا توہین عدالت ہے ، حکام کو انسانی حقوق کی پامالی سے باز رہنے کی ہدایت کی جائے۔


    تاہم اب صدر عارف علوی کی جانب سے کو لکھےگئے خط کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا کہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آپ کا خط پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے، آپ کا خط یک طرفہ اور حکومت مخالف خیالات کا حامل ہے جن کا آپ کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا ہےکہ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں، آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں، 3 اپریل 2022 کو آپ نے قومی اسمبلی تحلیل کرکے سابق وزیراعظم کی غیر آئینی ہدایت پر عمل کیا، قومی اسمبلی کی تحلیل کے آپ کے حکم کو سپریم کورٹ نے 7 اپریل کو غیر آئینی قرار دیا۔

    وزیراعظم کا کہنا ہےکہ آرٹیکل 91 کلاز 5 کے تحت بطور وزیراعظم میرے حلف کے معاملے میں بھی آپ آئینی فرض نبھانے میں ناکام ہوئے،کئی مواقع پر آپ منتخب آئینی حکومت کے خلاف فعال انداز میں کام کرتے آرہے ہیں، میں نے آپ کے ساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے کی پوری کوشش کی، اپنے خط میں آپ نے جو لب ولہجہ استعمال کیا اُس سے آپ کو جواب دینے پر مجبور ہوا ہوں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے لکھا ہےکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا آپ کا حوالہ ایک جماعت کے سیاست دانوں اور کارکنوں کے حوالے سے ہے، آئین کے آرٹیکل 10اے اور 4 کے تحت آئین اور قانون کا مطلوبہ تحفظ ان تمام افراد کو دیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ریاستی عمل داری کے لیے قانون اور امن عامہ کے نفاذ کے مطلوبہ ضابطوں پر سختی سے عمل کیا ہے، تمام افراد نے قانون کے مطابق داد رسی کے مطلوبہ فورمز سے رجوع کیا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نےکہا ہےکہ جماعتی وابستگی کے سبب آپ نے قانون نافذ کرنے و الے اداروں پر حملوں کو یکسر فراموش کردیا، آپ نے نجی وسرکاری املاک کی توڑپھوڑ، افراتفری پیدا کرنے کی کوششوں کو نظر انداز کردیا، پی ٹی آئی کی جانب سے ملک کو معاشی ڈیفالٹ کے کنارے لانے کی کوششوں کو آپ نے نظرانداز کردیا، پی ٹی آئی کی وجہ سے آئین، انسانی حقوق اور جمہوریت کے مستقبل سے متعلق پاکستان کی عالمی ساکھ خراب ہوئی، آپ نے بطور صدر ایک بار بھی عمران خان کی عدالتی حکم عدولی اور تعمیل کرانے والوں پر حملوں کی مذمت نہیں کی۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ عدالت کے حکم کے خلاف کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ایسی عسکریت پسندی پہلےکبھی نہیں دیکھی گئی، ہماری حکومت آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق آزادی اظہار پر مکمل یقین رکھتی ہے، آپ کی توجہ ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ ورلڈ رپورٹ 2022 کی طرف دلاتا ہوں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے خط میں لکھا کہ پی ٹی آئی اس وقت اقتدار میں تھی، اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان میڈیا کو کنٹرول کرنےکی کوششیں تیز کرچکی ہے، رپورٹ میں لکھا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اختلاف رائے کو کچل رہی ہے، رپورٹ میں صحافیوں، سول سوسائٹی اور سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے، قید وبند اور نشانہ بنانے کی تمام تفصیل درج ہے، پی ٹی آئی حکومت کے دور میں انسانی حقوق کا قومی کمیشن معطل رہا۔

    وزیراعظم نے خط میں کہا کہ قومی کمشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ پی ٹی آئی حکومت پر فرد جرم ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی متعدد رپورٹس میں پی ٹی آئی حکومت کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا جس کی سزا موت ہے، پی ٹی آئی حکومت نے مرد و خواتین ارکان پارلیمان کو قید وبند اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ایک سابق وزیراعظم کے خاندان کی خاتون رُکن کو بھی معاف نہ کیا گیا اور سیاسی مخالفین کا صفایا کرنے کے لیے نیب کو استعمال کیا گیا لیکن افسوس بطور صدر پاکستان آپ نے ایک بار بھی اِن میں سے کسی بھی واقعے پر آواز بلند نہ کی۔ آپ بطور صدر انسانی حقوق، آئین اور قانون کی اِن خلاف ورزیوں پر اُس وقت کی حکومت سے پوچھ سکتے تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صدر نے اپنے خط میں سابق حکومت کے وفاقی وزراء کے جارحانہ رویے اور انداز بیان پر اعتراض نہیں کیا جبکہ سابق حکومت کے وزراء مسلسل الیکشن کمشن کے اختیار اور ساکھ پر حملے کررہے ہیں آئین کےآرٹیکل 46 اور رولز آف بزنس کی شق15 پانچ بی کی صدر کی تشریح درست نہیں، صدر اور وزیراعظم کے درمیان مشاورت کی آپ کی بات درست نہیں کیونکہ آئین کے آرٹیکل 48 کلاز وَن کے تحت صدر کابینہ یا وزیراعظم کی ایڈوائس کے مطابق کام کرنے کا پابند ہے۔

    الیکشن کے حوالے سے وزیراعظم نے لکھا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے آپ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ دے دی، آپ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے یکم مارچ 2023 کے حکم سے مسترد کر دیا، آپ نے 2 صوبوں میں بدنیتی پر مبنی اسمبلیوں کی تحلیل پر کوئی تشویش تک ظاہرنہ کی، یہ سب آپ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی انا اور تکبرکی تسکین کے لیےکیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی اسمبلیاں کسی آئینی و قانونی مقصد کے لیے نہیں، صرف وفاقی حکومت کو بلیک میل کرنے کے لیے تحلیل کی گئیں اور آپ نے یہ بھی نہ سوچا کہ دو صوبائی اسمبلیوں کے پہلے الیکشن کروانے سے ملک نئے آئینی بحران میں گرفتار ہو جائے گا۔ آپ نے آرٹیکل 218 کلاز تین کے تحت شفاف، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے تقاضے کو بھی فراموش کر دیا، آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو آپ نے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جو نہایت افسوسناک ہے۔ کا یہ طرز عمل صدر کے آئینی کردار کے مطابق نہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر کو مطلع رکھنے کی حد تک اس کا اطلاق ہے، نہ زیادہ نہ اس سے کم اور وفاقی حکومت کے انتظامی اختیار کو استعمال کرنے میں وزیراعظم صدر کی مشاورت کا پابند نہیں۔ جناب صدر، میں اور وفاقی حکومت آئین کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں، آئین کی مکمل پاسداری، پاسبانی اور دفاع کے عہد پر کار بند ہیں، آئین میں درج ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ پر کاربند ہیں۔

    وزیراعظم نے خط میں کہا کہ حکومت پرعزم ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے اور ریاست پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جائے۔ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئینی طور پر منتخب حکومت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔

  • وقت کی ضرورت ہے تمام سیاستدان یکجا ہوں،عارف علوی

    وقت کی ضرورت ہے تمام سیاستدان یکجا ہوں،عارف علوی

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے اللہ کا شکر پاکستان میں آج کا دن بڑی تباہی کے بغیر گزر گیا۔

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عارف علوی کا کہنا تھا کوئی بھی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا تھا لیکن اللہ کا شکر پاکستان میں آج کا دن بڑی تباہی کے بغیر گزر گیا۔

    آواران میں سیکیورٹی فورسز کے خفیہ آپریشن میں تین دہشتگرد ہلاک


    صدر عارف علوی کا کہنا تھا وقت کی ضرورت ہے تمام سیاستدان یک جا ہوں، سیاست دان انتخابات کا رخ اختیار کریں، یہ ہمارا وطن ہے اس کی خاطر امن اور سلامتی کو لبیک کہیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد آمد کے موقع پر کمپلیکس کے باہر پی ٹی آئی مظاہرین اور پولیس کے مابین شدید ہنگامہ آرائی میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے پی ٹی آئی مظاہرین کی پتھراؤ سے9 پولیس اہلکارزخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ مشتعل مظاہریں نے 25 سے زائد موٹر سائیکل اور گاڑیاں نذر آتش کردیں۔

    گرفتاری کا خدشہ،ڈونلڈ ٹرمپ نے کارکنوں کو احتجاج کی کال دے دی

    علاوہ ازیں پولیس حکام کے مطابق پولیس کی بم ڈسپوزل اسکواڈ کی گاڑی کوبھی مظاہرین بنے توڑ پھوڑ کے بعد جلا دیا پولیس حکام کے مطابق مظاہرین کی جانب سے پولیس پر مبینہ طور پر پٹرول بموں سے حملہ کیا گیا۔

    پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے اور انہیں کمپلیکس سے دور رکھنے کے لیے بدترین لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے جواب میں مظاہرین نے بھی پولیس اہلکاروں پر ڈنڈوں سے حملے کیا-

    بلوچستان : آواران میں گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی،4 بچوں سمیت 8 افراد جاں

  • صدر عارف علوی کو نااہل قرار دینے کی درخواست پر آیا فیصلہ

    صدر عارف علوی کو نااہل قرار دینے کی درخواست پر آیا فیصلہ

    سپریم کورٹ میں صدر عارف علوی کو نااہل قرار دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    کیس کی سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے کی ،درخواست شہری ظہور مہدی کی جانب سے دائر کی گئی تھی،درخواست میں صدر عارف علوی کو 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دینے کی درخواست کی گئی تھی، سپریم کورٹ نے شہری کی درخواست خارج کردی

    صدر عارف علوی کا تعلق تحریک انصاف سے ہے، عمران خان نے انہیں صدر مملکت مقرر بنایا تھا، عمران خان کی حکومت ختم ہو چکی تا ہم عارف علوی ابھی تک صدر مملکت ہیں، موجودہ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت صدر مملکت کے کئی اقدامات سے ناخوش بھی ہے، مواخذے کی تحریک پیش کرنے کا بھی کہا گیا تھا تا ہم ابھی تک پیش نہیں کی گئی، صدر مملکت عارف علوی کی عمران خان سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی ہیں، صدر مملکت کی نااہلی کی درخواست پر آج سماعت کے بعد عدالت نے درخواست خارج کر دی ہے

    صدر مملکت کی کل تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد کے ساتھ آڈیو بھی لیک ہوئی تھی،یں، مبینہ آڈیو میں یاسمین راشد نے صدر عارف علوی سے کسی سے خان کیلئے بات کرنے کی درخواست کی،یاسمین راشد نے مبینہ آڈیو میں صدر عارف علوی سے کہا کہ ’سر یہاں پر صورتحال پر بہت خراب ہے پیٹرول بم پھینکنا شروع کردیے ہیں ہمارے ورکرز نے اس سے پہلے کہ خون خرابا ہو، میرا خیال ہے آپ کو کسی سے بات کرنے کی ضرورت ہے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • ڈاکٹر یاسمین راشد، صدر مملکت کی مبینہ آڈیو لیک ، منصوبہ بندی آئی سامنے

    ڈاکٹر یاسمین راشد، صدر مملکت کی مبینہ آڈیو لیک ، منصوبہ بندی آئی سامنے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو پولیس تاحال گرفتار نہ کر سکی تا ہم یاسمین راشد کی ایک ہی دن میں دوسری آڈیو لیک ہو گئی ہے

    اب دوسری آڈیو یاسمین راشد کی سامنے آئی ہے جس میں وہ صدر مملکت عارف علوی سے بات کر رہی ہیں، مبینہ آڈیو میں یاسمین راشد نے صدر عارف علوی سے کسی سے خان کیلئے بات کرنے کی درخواست کی،یاسمین راشد نے مبینہ آڈیو میں صدر عارف علوی سے کہا کہ ’سر یہاں پر صورتحال پر بہت خراب ہے پیٹرول بم پھینکنا شروع کردیے ہیں ہمارے ورکرز نے اس سے پہلے کہ خون خرابا ہو، میرا خیال ہے آپ کو کسی سے بات کرنے کی ضرورت ہے

    یاسمین راشد کی بات پر صدر عارف علوی نے کہا کہ ’میں نے بات کرلی ہے‘ یاسمین راشد نے کہا کہ ’ آپ ان سے کہہ دیں کہ میں بات کرلیتا ہوں عمران خان سے‘صدر عارف علوی نے کہا کہ ’میں سمجھا نہیں آپ کیا کہہ رہی ہیں‘ یاسمین راشد نے کہا کہ ’دیکھیں کچھ مر جائیں گے، صورتحال اتنی بری ہو جائے گی کہ الیکشن ملتوی ہوجائیں گے، کچھ پولیس والے مرجائیں گے میرا خیال ہے آپ خان صاحب کو کہیں کہ give in ، باقی آپ کی مرضی،ابھی رینجرز وہاں پر ہے، پیٹرول بم چل رہے ہیں، ان کی واٹر کینن کو آگ لگ گئی ہے، میں تو باہر ہوں ،

    صدرمملکت عارف علوی نے کہا کہ میں اسد عمر سے بات کرتا ہوں ، جس پر یاسمین رشد نے کہا کہ آپ شاہ صاحب سے بھی بات کرلیں وہ خان صاحب کے ساتھ ہیں

    قبل ازیں شاہ محمود قریشی نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کے تمام اراکین، ٹکٹ ہولڈرز لاہور پہنچیں اور عمران خان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں، واضح رہے کہ زمان پارک میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے ہیں،تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراو کیا جاتا ہے تو پولیس کی جانب سے آنسو گیس، کے شیل پھینکے جاتے ہیں ،زمان پارک کی جانب آنے والی تمام سڑکوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے 64 افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں 54 پولیس اہلکار اور 10 شہری شامل ہیں 51 پولیس اہلکار سروس ہسپتال اور تین میو ہسپتال میں لایا گیا ہے ۔

    ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ شرپسند بدستور نہتے پولیس والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور درجن سے زائد گاڑیوں اور موٹرسائیکل کو جلا چکے ہیں پولیس پر تشدد کرنے والوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے خلاف بھی سخت کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے،

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے