Baaghi TV

Tag: طالبان

  • ماہ رمضان میں موسیقی کا پروگرام نشر کرنے پر طالبان نےخواتین کے زیرانتظام ریڈیواسٹیشن بند کردیا

    ماہ رمضان میں موسیقی کا پروگرام نشر کرنے پر طالبان نےخواتین کے زیرانتظام ریڈیواسٹیشن بند کردیا

    کابل: طالبان نے ماہ رمضان کے تقدس اور احترام کا خیال نہ رکھنے اور مملکت کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے پرخواتین کے زیرِ انتظام شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں ریڈیو اسٹیشن ’’صدائے بانوان‘‘(وائس آف وومن ریڈیو) کو بند کر دیا۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان حکومت کے اطلاعات اور ثقافت کے ڈائریکٹر معیز الدین احمدی نے بتایا کہ صوبہ بدخشاں میں خواتین کے زیرِ انتظام ریڈیو اسٹیشن کو رمضان کے مقدس مہینے میں موسیقی کا پروگرام نشر کرنے پر بند کر دیا گیا۔

    4 سالہ بچے نے کتاب لکھ کر دنیا کے سب سے کم عمر مصنف …

    احمدی نے کہا کہ مذکورہ ریڈیو نے رمضان المبارک کے دوران گانے اور موسیقی نشر کرکے امارت اسلامیہ کے قوانین و ضوابط کی متعدد بار خلاف ورزی کی ہم نے انہیں بارہا کہا کہ موسیقی نشر کرنا حرام ہے اور آپ کو موسیقی نشر نہیں کرنی چاہیے بدقسمتی سے، رمضان کے مہینے میں، انہوں نے کئی انتباہات کو نظر انداز کیا اور موسیقی نشر کی۔

    معیز الدین احمدی نے بتایا کہ آخر کار کل مشاورت کے بعد، ہم نے ریڈیو اسٹیشن بند کر دیا ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بندش عارضی ہے، اور اگر ریڈیو حکام اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ وہ موسیقی نشر نہیں کریں گے، تو ہم ریڈیو کو دوبارہ نشر کرنے کی اجازت دیں گے۔

    حکومت رواں سال 10 لاکھ پاکستانیوں کوبیرون ملک بھجوائے گی،ساجد حسین طوری

    دوسری جانب صدائے بانواں اسٹیشن کی سربراہ ناجیہ سوروش نے کسی بھی قانون، اصول یا روایت کی خلاف ورزی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ریڈیو کی بندش کا کوئی جواز نہیں تھا۔ یہ اظہار رائے پر پابندی کی ایک سازش ہے۔

    خیال رہے کہ ریڈیو صدا بانوان ان چند افغان ریڈیو اسٹیشنوں میں سے ایک تھا جو خواتین چلاتے ہیں جو اگست 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد سے کام کر رہا تھا صدائے بانواں جس کا دری میں مطلب خواتین کی آواز ہے، افغانستان میں خواتین کے زیر انتظام چلنے والا واحد ریڈیو اسٹیشن ہے جس کا آغاز 10 سال قبل ہوا تھا –

    دیگراضلاع اور صوبوں کے شہری بھی لاہور سے ڈرائیونگ لائسنس بنوا سکیں گے

  • ٹوئٹر نے طالبان کے خریدے ہوئے تصدیق شدہ بلیو ٹک  ختم کر دئیے

    ٹوئٹر نے طالبان کے خریدے ہوئے تصدیق شدہ بلیو ٹک ختم کر دئیے

    ٹوئٹر نے طالبان کے خریدے ہوئے تصدیق شدہ بلیو ٹک ختم کر دئیے ہیں۔

    باغی ٹی وی: افغانستان میں اب تک دو طالبان رہنما اور ان کے چار حامی اکاؤنٹس بلیو ٹک کا استعمال کر رہے تھے جس پر صارفین کیجانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کئی صارفین نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تصدیق شدہ اکاونٹس کے خلاف رپورٹس بھی کیں، جس کے بعد طالبان عہدیداروں کے بلیو ٹک ‘غائب’ ہو گئے ہیں۔

    طلاق سے پہلے ماہر نفسیات سے مدد لی جائے،اسلامی فقہ اکیڈمی سوڈان

    برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے محکمہ اطلاعات تک رسائی کے سربراہ ہدایت اللہ ہدایت اور ذرائع ابلاغ کے سینئر عہدیدار عبدالحق حماد کا ٹوئٹر اکاؤنٹ پیر تک ویریفائیڈ تھا جن کے فالوررز کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار اور ایک لاکھ 70 ہزار ہے۔

    گزشتہ روز طالبان رہنماؤں کو بھی ٹوئٹر نے بلیو ٹک کی سہولت فراہم کر دی تھی، جس کے بعد طالبان رہنماوں کی جانب سے ایلون مسک کے لیے تعریفی ٹویٹ بھی کی گئیں، طالبان اہلکار نے ٹوئٹر کے سربراہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ایلون مسک ٹوئٹر کو دوبارہ سے عظیم بنا رہے ہیں۔

    چیچن صدر نے یوکرین تنازع کو تیسری عالمی جنگ قرار دیا

    واضح رہے طالبان بھی ٹوئٹر کے تصدیقی فیچر کے استعمال کے لیے ٹوئٹر کو ادائیگیاں کررہے ہیں، ٹوئٹر پر صارفین کے تصدیقی اکاونٹ لیے پیڈ سروس دسمبر 2022 میں متعارف کرائی گئی تھی جس کے تحت بلیو ٹک کے خواہشمند افراد کو آٹھ ڈالر ماہانہ ادا کرنے ہوں گے یہ آپشن افغانستان میں طالبان حکومت کے کم از کم دو عہدیداروں نے استعمال کیا تھا۔

  • طالبان حکومت کا خواتین دکانداروں کو دکانیں اور بیوٹی پارلرز بند کرنے کا حکم

    طالبان حکومت کا خواتین دکانداروں کو دکانیں اور بیوٹی پارلرز بند کرنے کا حکم

    افغانستان میں طالبان حکومت نے بیوٹی پارلرز اور خواتین دکا ن داروں کو دکانیں بند کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق طالبان نے افغانستان میں صوبہ بغلان کے شہر پل خمری میں خواتین کو بیوٹی سیلون بند کرنے کے لیے 10 روز کی مہلت دی ہےتجارتی مراکز میں خواتین اور لڑکیوں کے کام کرنے پربھی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی جانب سے صوبہ بلخ کے شہر مزار شریف کی مارکیٹ میں خواتین دکانداروں کو دکانیں بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    افغان حکام کا کہنا ہے کہ خواتین مرد ایک ساتھ کام کررہے ہیں، اس لیے دکانیں بند کرنے کا حکم دیا گیا۔

    خواتین دکانداروں نے حکام سے فیصلہ واپس لینے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ دکانوں سے ہی وہ گزر بسر کر رہی اور خاندان کا پیٹ پال رہی ہیں۔

    افغان حکومت نے لڑکیوں کوپرائمری تک تعلیم جاری رکھنےکی اجازت دے دی

    اس سے قبل طالبان لڑکیوں کی یونیورسٹیوں میں تعلیم پر، پارکس میں خواتین کے جانےپربھی پابندی لگا چکے ہیں طالبان حکومت کو خواتین کی تعلیم اور کام پر پابندیاں عائد کرنے پرعالمی برادری کی سخت تنقید کا سامنا ہے جبکہ گزشتہ روز طالبان حکومت نے لڑکیوں کو پانچویں جماعت تک تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی ہے –

  • افغان حکومت نے لڑکیوں کوپرائمری تک تعلیم جاری رکھنےکی اجازت دے دی

    افغان حکومت نے لڑکیوں کوپرائمری تک تعلیم جاری رکھنےکی اجازت دے دی

    افغان حکومت نے لڑکیوں کوپانچویں جماعت تک تعلیم جاری رکھنےکی اجازت دے دی۔

    باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق افغان وزارت تعلیم سے جاری اعلامیے میں لڑکیوں کو پانچویں جماعت تک تعلیم جاری رکھنےکی اجازت دی گئی ہے۔

    مسٹرہیری!جن کوآپ نےقتل کیا وہ شطرنج کےمہرے نہیں انسان تھے:افغان طالبان رہنماانس…

    افغان وزارت تعلیم کی جانب سے افغانستان کے اسکولوں، مدارس اور تعلیمی مراکز کو ہدایت کی گئی ہےکہ پانچویں جماعت تک لڑکیوں کے لیے اسکول و تعلیمی مراکز کھول دیئے جائیں۔


    دوسری جانب وزیر اعلی تعلیم شیخ ندا محمد ندیم نے کہا تھا کہ یونیورسٹیوں میں خواتین کی تعلیم پر پابندی مستقل نہیں، کوئی مطالبہ بطور دباؤ قبول نہیں کریں گے-

    قبل ازیں وزیر اعظم کے سیاسی سیکریٹری مولوی عبدالکبیر نے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان سے ملاقات میں کہا تھ کہ امارت اسلامیہ دینی اور عصری علوم کی تعلیم کا حصول ہر افغان کا حق سمجھتی ہے اور خواتین کے لیے موزوں ماحول کے قیام پر کام کر رہی ہے۔

    واضح رہےکہ گزشتہ ماہ طالبان حکام نے لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی لگائی تھی، جس کے بعد کئی صوبوں میں لڑکیوں کے پرائمری اسکول بھی بند کر دیےگئے تھے۔

    ٹک ٹاک کی نئے فیچر کی آزمائس

  • خواتین کی تعلیم پر پابندی:افغان پروفیسرنے لائیو ٹی وی شو میں اپنے تعلیمی سرٹیفکیٹس پھاڑ دئیے

    خواتین کی تعلیم پر پابندی:افغان پروفیسرنے لائیو ٹی وی شو میں اپنے تعلیمی سرٹیفکیٹس پھاڑ دئیے

    کابل: لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے خلاف افغان پروفیسرنے لائیو ٹی وی شو میں اپنے ڈپلوما سرٹیفکیٹس پھاڑ دئیے۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں کابل یونیورسٹی کے پروفیسرکو ان کے ڈپلوما سرٹیفکیٹس پھاڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،کابل یونیورسٹی کے پروفیسر کا کہنا تھا کہ اگر افغان ماؤں اوربہنوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل نہیں تو مجھے بھی ان ڈپلوما سرٹیفکیٹس کو رکھنے کا کوئی حق نہیں۔ افغانستان میں تعلیم کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہی ہے۔

    خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا…


    طالبان حکومت نے یونیورسٹی کی طالبات پر کلاسز اٹینڈ پر کرنے پرپابندی عائد کردی ہے۔لڑکیوں کی سکینڈری اسکول کی تعلیم پر بھی پابندی لگائی جا چکی ہے۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نےافغانستان میں خواتین پرعائد پابندیوں پراظہارتشویش کرتے ہوئے طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ خواتین پرپابندیاں عالمی برادری کی توقعات کے برعکس ہیں، افغانستان میں خواتین اورلڑکیوں کو مساوی اوربامعنی نمائندگی دی جائے یہ پالیسیاں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کےاحترام کی راہ میں رکاوٹ ہیں، خواتین کے این جی اوز کے لئے کام کرنے پر پابندی پر بھی تشویش ہے۔

    ایران اپنے ملک میں احتجاج کرنیوالی خواتین کو قائل کرے،طالبان کا خواتین معاملہ پر تنقید کا جواب

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں بلاجواز ہیں، انہیں ختم کرنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان نے خواتین کے این جی اوز کے لئے کام کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ لڑکیوں کے لئے یونیورسٹیوں اوراسکولوں کے دروازے بھی بند کیے گئے تھے۔

    طالبان کے ہائر ایجوکیشن کے وزیر نے خواتین کی یونیورسٹی میں تعلیم عارضی طور پر روکنے پر عالمی رد عمل کے جواب میں کہا تھا کہ ہم پر ایٹم بم بھی گرا دیا جائے تو ہم خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ

  • خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ

    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نےافغانستان میں خواتین پرعائد پابندیوں پراظہارتشویش کرتے ہوئے طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ خواتین پرپابندیاں عالمی برادری کی توقعات کے برعکس ہیں، افغانستان میں خواتین اورلڑکیوں کو مساوی اوربامعنی نمائندگی دی جائے۔

    ایران اپنے ملک میں احتجاج کرنیوالی خواتین کو قائل کرے،طالبان کا خواتین معاملہ پر تنقید کا جواب

    سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کےاحترام کی راہ میں رکاوٹ ہیں، خواتین کے این جی اوز کے لئے کام کرنے پر پابندی پر بھی تشویش ہے۔

    بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں اسکول کھولےجائیں، نئی پالیسی اور اقدامات واپس لیے جائیں۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں بلاجواز ہیں، انہیں ختم کرنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان نے خواتین کے این جی اوز کے لئے کام کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ لڑکیوں کے لئے یونیورسٹیوں اوراسکولوں کے دروازے بھی بند کیے گئے تھے۔

    خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا…

    طالبان کے ہائر ایجوکیشن کے وزیر نے خواتین کی یونیورسٹی میں تعلیم عارضی طور پر روکنے پر عالمی رد عمل کے جواب میں کہا تھا کہ ہم پر ایٹم بم بھی گرا دیا جائے تو ہم خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    اتوار کو ایک ٹویٹ میں طالبان کی وزارت خارجہ نے اس فیصلے کو تعلیمی عمل میں عارضی تاخیر دیا تھا۔

    خواتین کے کام کرنے پر عارضی پابندی پر ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی حکام کی تنقید کی مذمت کردی اور اسے افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ذبیح اللہ مجاہد نے کہا امریکی حکام کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،افغان وزیر…

  • ایران اپنے ملک میں احتجاج کرنیوالی خواتین کو قائل کرے،طالبان کا خواتین معاملہ پر تنقید کا جواب

    ایران اپنے ملک میں احتجاج کرنیوالی خواتین کو قائل کرے،طالبان کا خواتین معاملہ پر تنقید کا جواب

    افغانستان میں خواتین کی تعلیم کو روکنے پر ایرانی حکومت کی تنقید کے جواب میں طالبان کی وزارت خارجہ نے ردعمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی : ایرانی وزارت خارجہ نے افغان یونیورسٹیوں میں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کی خبریں شائع ہونے پر افسوس کا اظہار ایک ایسے وقت میں کیا تھا جب مہسا امینی کے قتل کی وجہ سے شروع ہونے والی عوامی بغاوت میں خود ایرانی حکام خواتین اور طالب علموں پر پر تشدد کارروائیوں کا نشانہ بنانے ملوث ہیں۔

    خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا…

    جمعرات کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمسایہ ہونے کے ناطے افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہ سن کر افسوس ہوا کہ افغانستان میں لڑکیوں کی اعلیٰ یونیورسٹیوں کی تعلیم میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ طالبان جلد رکاوٹوں کو دور کریں گے اور اس ملک کے مرد اور خواتین طلبہ کے لیے تعلیم کی تمام سطحوں پر تعلیم کی بحالی کی راہ ہموار کریں گے۔

    ایرانی حکومت کی تنقید پر افغانستان کی وزارت خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں ردعمل دیا ہے-

    تائیوان اور امریکا کے عسکری تعاون کے جواب میں چین کا اپنی ’جنگی‘ طاقت کا مظاہرہ

    وزارت نے کہا کہ ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ اپنے ملک میں احتجاج کرنے والی خواتین کو قائل کریں اور ہمدردی کے نام پر اپنے ملک کے اندرونی مسائل توجہ ہٹانے کی کوشش نہ کریں۔

    طالبان کے ہائر ایجوکیشن کے وزیر نے خواتین کی یونیورسٹی میں تعلیم عارضی طور پر روکنے پر عالمی رد عمل کے جواب میں کہا تھا کہ ہم پر ایٹم بم بھی گرا دیا جائے تو ہم خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    اتوار کو ایک ٹویٹ میں طالبان کی وزارت خارجہ نے اس فیصلے کو تعلیمی عمل میں عارضی تاخیر دیا تھا۔

    خواتین کے کام کرنے پر عارضی پابندی پر ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی حکام کی تنقید کی مذمت کردی اور اسے افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ذبیح اللہ مجاہد نے کہا امریکی حکام کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،افغان وزیر…

  • ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،افغان وزیر تعلیم

    ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،افغان وزیر تعلیم

    کابل: طالبان کا کہنا ہے کہ ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے-

    باغی ٹی وی : طالبان کے ہائرایجوکیشن اعلیٰ تعلیم کے وزیر نے کہا ہےاگر وہ ہم پر ایٹم بم گراتے ہیں تو ہم خواتین کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم کو روکنے کے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گےعالمی برادری کی جانب سے پابندیوں کے لیے تیار ہیں۔

    دوسری جانب خواتین کے کام کرنے پر عارضی پابندی پر ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی حکام کی تنقید کی مذمت کردی اور اسے افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ذبیح اللہ مجاہد نے کہا امریکی حکام کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے اہلکار جوزپ بوریل نے اتوار کو افغانستان میں خواتین کو مقامی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں میں کام کرنے سے روکنے کے طالبان کے فیصلے کی مذمت کی۔

    بوریل نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی یونین، انسانی امداد اور افغان عوام کی بنیادی ضروریات کے سب سے بڑے فراہم کنندگان میں سے ایک کے طور پر، بین الاقوامی انسانی قوانین اور اصولوں کا احترام کرنے کے اپنے عزم کے تحت طالبان سے فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے یورپی یونین اس فیصلے کے افغان عوام کو امداد جاری رکھنے پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے گی۔

    خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا…

    ہفتے کے روز طالبان نے افغانستان میں غیر سرکاری تنظیموں کو احکامات جاری کیے تھے کہ وہ خواتین کو ملازمت دینے سے روک دیں، تاہم طالبان نے غیر ملکی خواتین کارکن کے حوالے سے اپنے ہدایت کی وضاحت نہیں کی تھی۔

    افغان طالبان نے حجاب سمیت خواتین ملازمین کے لیے مناسب ڈریس کوڈ پر عمل نہ کرنے کے فیصلے کو جواز بنایا اور فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے والی تنظیموں کے لائسنس معطل کرنے کی دھمکی دی۔

    طالبان کے اس اقدام کی عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی گئی اور اس فیصلے سے امداد کی فراہمی پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ عالمی برادری نے کہا کہ طالبان کا یہ فیصلہ ملک میں خواتین کی آزادی اور حقوق کو محدود کے ضمن میں آتا ہے۔

    خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا…

  • افغان طالبان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت 2 امریکی شہریوں کو رہا کر دیا

    افغان طالبان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت 2 امریکی شہریوں کو رہا کر دیا

    کابل: طالبان حکومت نے اپنی قید میں موجود 2 امریکی شہریوں کو رہا کردیا۔

    باغی ٹی وی : خبرایجنسی کےمطابق افغان طالبان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت زیر حراست دو امریکی شہریوں کو رہا کردیا ہے جس کی تصدیق امریکی حکومت کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔

    رونالڈو ورلڈ کپ کی بدترین الیون میں شامل

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے طالبان کی جانب سے امریکی شہریوں کی رہائی کا خیر مقدم کیا اور ساتھ ہی خواتین پر عائد کی جانے والی تعلیمی پابندیوں کی مذمت بھی کی ہے۔

    نیڈ پرائس نے کہا کہ طالبان کی جانب سے جذبہ خیر سگالی کے اس عمل کو سمجھتے ہیں، یہ رہائی دو طرف سے کسی بھی قسم کے قیدیوں کے تبادلے پر عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی اس میں کوئی تاوان کا لین دن ہوا۔

    اس حوالے سے نیڈ پرائس نے کہا کہ قوائد و ضوابط کے تحت وہ رہائی پانے والے امریکیوں کی مزید تفصیلات جاری نہیں کرسکتے البتہ انہیں مناسب مدد فراہم کررہے ہیں اور وہ بہت جلد اپنے پیاروں سے مل جائیں گے۔

    قرون وسطی کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ عائشہ بنت یوسف

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن مسلسل طالبان کے سامنے یہ معاملہ اٹھاتا رہا ہےکہ اب بھی ان کی قید میں موجود امریکی شہریوں کو رہا کیا جائے لیکن طالبان کی جانب سے یہ تفصیلات جاری نہیں کی جاتیں کہ ان کے پاس کتنے امریکی شہری قید ہیں۔

    دونوں امریکیوں کو قطر میں رہا کیا گیا، جس نے طالبان کے قبضے کے بعد سے افغانستان میں امریکی مفادات کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    سی این این نے رپورٹ کیا کہ ان میں سے ایک آئیور شیرر تھا، جو کہ ایک فلم ساز تھا، جسے اگست میں اپنے افغان پروڈیوسر کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا اس وقت امریکی ڈرون حملے کی جگہ کی فلم بندی کرتے ہوئے جس میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی ہلاکت ہوئی تھی۔

    سال 2023 رواں سال کے مقابلے میں زیادہ گرم ہو گا،برطانوی سائنسدان

    طالبان کی جانب سے خواتین کے یونیورسٹیز میں جانے پر پابندی کا اعلان اور امریکی شہریوں کی رہائی ایک ہی روز عمل میں آئے جس کی امریکہ کی طرف سے سخت مذمت کی گئی تھی، جس نے متنبہ کیا تھا کہ اس کی قیمت اسلامی عسکریت پسندوں پر عائد ہوگی۔

    امریکی اخبار کے مطابق طالبان کی قید سے رہائی پانے والے دونوں امریکی منگل کے روز قطر پہنچ گئے تاہم ان کی کوئی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

  • افغانستان:طالبان نے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار قتل کے مجرم کو سرعام سزائے موت دے دی

    افغانستان:طالبان نے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار قتل کے مجرم کو سرعام سزائے موت دے دی

    افغانستان میں طالبان نے دوبارہ اقتدار میں آنےکے بعد پہلی بار ایک قتل کے مجرم کو سرعام سزائے موت دے دی۔

    باغی ٹی و ی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ مغربی صوبے فراہ میں ایک شخص کو موت کی سزا دی گئی جس پر الزام تھا کہ اس نے 2017 میں ایک شخص کو چاقو کے وار کرکے قتل کردیا تھا۔

    جرمن سکیورٹی فورسز نے بغاوت اورریاستی اداروں پر حملے کرنےکا منصوبہ ناکام بنادیا

    ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق مقتول کے والد نے اسٹیڈیم میں بھرے مجمع کے سامنے مجرم کو 3 گولیاں مار کر اپنے بیٹےکا قصاص لیا، مجرم کو طالبان کی 3 عدالتوں نے قصور وار قرار دیا تھا، مجرم کو قتل کے جرم کے اعتراف کے بعد سزا دی گئی۔
    https://twitter.com/Zabehulah_M33/status/1600484237102153737?s=20&t=5kePZezATlavsx7CRO_jUQ
    تاہم ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا اور میڈیا پر اس حوالے سے خبروں کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ بدلے میں قاتل نے مقتول کے والد کو تین گولیاں ماریں یہ سچ نہیں ہےجوسوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں بدلہ لینے کےلیےآج قاتل نےمقتول کےوالد کو کلاشنکوف کے وار کر کے قتل کر دیا لنک پر جو ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں وہ حقیقی نہیں ہیں۔

    آئی سی سی نے نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کر دی، بابر اعظم ایک درجہ ترقی کے بعد تیسرے نمبر…

    https://twitter.com/Zabehulah_M33/status/1600438257640087552?s=20&t=5kePZezATlavsx7CRO_jUQ
    سزائے موت کے وقت سپریم کورٹ کے ججز، قائم مقام وزیرداخلہ سراج الدین حقانی، نائب وزیراعظم ملاعبدالغنی برادر، دیگر وزرا سمیت فوجی عہدیدار اور متعدد طالبان رہنما بھی موجود تھے۔
    https://twitter.com/Zabehulah_M33/status/1600412615787675648?s=20&t=5kePZezATlavsx7CRO_jUQ
    رپورٹ کے مطابق سزا سے قبل طالبان کی جانب سے باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس میں عوام سے مقررہ وقت پر اسٹیڈیم میں جمع ہونے کو کہا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے گزشتہ ماہ شرعی قوانین مکمل طور پر نافذ کرنےکی ہدایت کی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ کے ججز نے بھی شرعی قوانین کے نفاذ کی ہدایت کی تھی تاہم طالبان کی جانب سے سرکاری طور پر جرائم اور ان سے متعلقہ سزاؤں کی باقاعدہ وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

    فیفا ورلڈکپ میں مراکشی کھلاڑیوں نے فتح کے بعد فلسطین کا جھنڈا لہرا دیا