Baaghi TV

Tag: طالبان

  • خواتین کی تعلیم پر پابندی:افغان پروفیسرنے لائیو ٹی وی شو میں اپنے تعلیمی سرٹیفکیٹس پھاڑ دئیے

    خواتین کی تعلیم پر پابندی:افغان پروفیسرنے لائیو ٹی وی شو میں اپنے تعلیمی سرٹیفکیٹس پھاڑ دئیے

    کابل: لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے خلاف افغان پروفیسرنے لائیو ٹی وی شو میں اپنے ڈپلوما سرٹیفکیٹس پھاڑ دئیے۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں کابل یونیورسٹی کے پروفیسرکو ان کے ڈپلوما سرٹیفکیٹس پھاڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،کابل یونیورسٹی کے پروفیسر کا کہنا تھا کہ اگر افغان ماؤں اوربہنوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل نہیں تو مجھے بھی ان ڈپلوما سرٹیفکیٹس کو رکھنے کا کوئی حق نہیں۔ افغانستان میں تعلیم کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہی ہے۔

    خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا…


    طالبان حکومت نے یونیورسٹی کی طالبات پر کلاسز اٹینڈ پر کرنے پرپابندی عائد کردی ہے۔لڑکیوں کی سکینڈری اسکول کی تعلیم پر بھی پابندی لگائی جا چکی ہے۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نےافغانستان میں خواتین پرعائد پابندیوں پراظہارتشویش کرتے ہوئے طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ خواتین پرپابندیاں عالمی برادری کی توقعات کے برعکس ہیں، افغانستان میں خواتین اورلڑکیوں کو مساوی اوربامعنی نمائندگی دی جائے یہ پالیسیاں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کےاحترام کی راہ میں رکاوٹ ہیں، خواتین کے این جی اوز کے لئے کام کرنے پر پابندی پر بھی تشویش ہے۔

    ایران اپنے ملک میں احتجاج کرنیوالی خواتین کو قائل کرے،طالبان کا خواتین معاملہ پر تنقید کا جواب

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں بلاجواز ہیں، انہیں ختم کرنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان نے خواتین کے این جی اوز کے لئے کام کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ لڑکیوں کے لئے یونیورسٹیوں اوراسکولوں کے دروازے بھی بند کیے گئے تھے۔

    طالبان کے ہائر ایجوکیشن کے وزیر نے خواتین کی یونیورسٹی میں تعلیم عارضی طور پر روکنے پر عالمی رد عمل کے جواب میں کہا تھا کہ ہم پر ایٹم بم بھی گرا دیا جائے تو ہم خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ

  • خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ

    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نےافغانستان میں خواتین پرعائد پابندیوں پراظہارتشویش کرتے ہوئے طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ خواتین پرپابندیاں عالمی برادری کی توقعات کے برعکس ہیں، افغانستان میں خواتین اورلڑکیوں کو مساوی اوربامعنی نمائندگی دی جائے۔

    ایران اپنے ملک میں احتجاج کرنیوالی خواتین کو قائل کرے،طالبان کا خواتین معاملہ پر تنقید کا جواب

    سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کےاحترام کی راہ میں رکاوٹ ہیں، خواتین کے این جی اوز کے لئے کام کرنے پر پابندی پر بھی تشویش ہے۔

    بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں اسکول کھولےجائیں، نئی پالیسی اور اقدامات واپس لیے جائیں۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں بلاجواز ہیں، انہیں ختم کرنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان نے خواتین کے این جی اوز کے لئے کام کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ لڑکیوں کے لئے یونیورسٹیوں اوراسکولوں کے دروازے بھی بند کیے گئے تھے۔

    خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا…

    طالبان کے ہائر ایجوکیشن کے وزیر نے خواتین کی یونیورسٹی میں تعلیم عارضی طور پر روکنے پر عالمی رد عمل کے جواب میں کہا تھا کہ ہم پر ایٹم بم بھی گرا دیا جائے تو ہم خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    اتوار کو ایک ٹویٹ میں طالبان کی وزارت خارجہ نے اس فیصلے کو تعلیمی عمل میں عارضی تاخیر دیا تھا۔

    خواتین کے کام کرنے پر عارضی پابندی پر ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی حکام کی تنقید کی مذمت کردی اور اسے افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ذبیح اللہ مجاہد نے کہا امریکی حکام کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،افغان وزیر…

  • ایران اپنے ملک میں احتجاج کرنیوالی خواتین کو قائل کرے،طالبان کا خواتین معاملہ پر تنقید کا جواب

    ایران اپنے ملک میں احتجاج کرنیوالی خواتین کو قائل کرے،طالبان کا خواتین معاملہ پر تنقید کا جواب

    افغانستان میں خواتین کی تعلیم کو روکنے پر ایرانی حکومت کی تنقید کے جواب میں طالبان کی وزارت خارجہ نے ردعمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی : ایرانی وزارت خارجہ نے افغان یونیورسٹیوں میں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کی خبریں شائع ہونے پر افسوس کا اظہار ایک ایسے وقت میں کیا تھا جب مہسا امینی کے قتل کی وجہ سے شروع ہونے والی عوامی بغاوت میں خود ایرانی حکام خواتین اور طالب علموں پر پر تشدد کارروائیوں کا نشانہ بنانے ملوث ہیں۔

    خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا…

    جمعرات کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمسایہ ہونے کے ناطے افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہ سن کر افسوس ہوا کہ افغانستان میں لڑکیوں کی اعلیٰ یونیورسٹیوں کی تعلیم میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ طالبان جلد رکاوٹوں کو دور کریں گے اور اس ملک کے مرد اور خواتین طلبہ کے لیے تعلیم کی تمام سطحوں پر تعلیم کی بحالی کی راہ ہموار کریں گے۔

    ایرانی حکومت کی تنقید پر افغانستان کی وزارت خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں ردعمل دیا ہے-

    تائیوان اور امریکا کے عسکری تعاون کے جواب میں چین کا اپنی ’جنگی‘ طاقت کا مظاہرہ

    وزارت نے کہا کہ ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ اپنے ملک میں احتجاج کرنے والی خواتین کو قائل کریں اور ہمدردی کے نام پر اپنے ملک کے اندرونی مسائل توجہ ہٹانے کی کوشش نہ کریں۔

    طالبان کے ہائر ایجوکیشن کے وزیر نے خواتین کی یونیورسٹی میں تعلیم عارضی طور پر روکنے پر عالمی رد عمل کے جواب میں کہا تھا کہ ہم پر ایٹم بم بھی گرا دیا جائے تو ہم خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    اتوار کو ایک ٹویٹ میں طالبان کی وزارت خارجہ نے اس فیصلے کو تعلیمی عمل میں عارضی تاخیر دیا تھا۔

    خواتین کے کام کرنے پر عارضی پابندی پر ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی حکام کی تنقید کی مذمت کردی اور اسے افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ذبیح اللہ مجاہد نے کہا امریکی حکام کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،افغان وزیر…

  • ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،افغان وزیر تعلیم

    ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،افغان وزیر تعلیم

    کابل: طالبان کا کہنا ہے کہ ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے-

    باغی ٹی وی : طالبان کے ہائرایجوکیشن اعلیٰ تعلیم کے وزیر نے کہا ہےاگر وہ ہم پر ایٹم بم گراتے ہیں تو ہم خواتین کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم کو روکنے کے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گےعالمی برادری کی جانب سے پابندیوں کے لیے تیار ہیں۔

    دوسری جانب خواتین کے کام کرنے پر عارضی پابندی پر ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی حکام کی تنقید کی مذمت کردی اور اسے افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ذبیح اللہ مجاہد نے کہا امریکی حکام کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے اہلکار جوزپ بوریل نے اتوار کو افغانستان میں خواتین کو مقامی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں میں کام کرنے سے روکنے کے طالبان کے فیصلے کی مذمت کی۔

    بوریل نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی یونین، انسانی امداد اور افغان عوام کی بنیادی ضروریات کے سب سے بڑے فراہم کنندگان میں سے ایک کے طور پر، بین الاقوامی انسانی قوانین اور اصولوں کا احترام کرنے کے اپنے عزم کے تحت طالبان سے فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے یورپی یونین اس فیصلے کے افغان عوام کو امداد جاری رکھنے پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے گی۔

    خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا…

    ہفتے کے روز طالبان نے افغانستان میں غیر سرکاری تنظیموں کو احکامات جاری کیے تھے کہ وہ خواتین کو ملازمت دینے سے روک دیں، تاہم طالبان نے غیر ملکی خواتین کارکن کے حوالے سے اپنے ہدایت کی وضاحت نہیں کی تھی۔

    افغان طالبان نے حجاب سمیت خواتین ملازمین کے لیے مناسب ڈریس کوڈ پر عمل نہ کرنے کے فیصلے کو جواز بنایا اور فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے والی تنظیموں کے لائسنس معطل کرنے کی دھمکی دی۔

    طالبان کے اس اقدام کی عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی گئی اور اس فیصلے سے امداد کی فراہمی پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ عالمی برادری نے کہا کہ طالبان کا یہ فیصلہ ملک میں خواتین کی آزادی اور حقوق کو محدود کے ضمن میں آتا ہے۔

    خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا…

  • افغان طالبان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت 2 امریکی شہریوں کو رہا کر دیا

    افغان طالبان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت 2 امریکی شہریوں کو رہا کر دیا

    کابل: طالبان حکومت نے اپنی قید میں موجود 2 امریکی شہریوں کو رہا کردیا۔

    باغی ٹی وی : خبرایجنسی کےمطابق افغان طالبان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت زیر حراست دو امریکی شہریوں کو رہا کردیا ہے جس کی تصدیق امریکی حکومت کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔

    رونالڈو ورلڈ کپ کی بدترین الیون میں شامل

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے طالبان کی جانب سے امریکی شہریوں کی رہائی کا خیر مقدم کیا اور ساتھ ہی خواتین پر عائد کی جانے والی تعلیمی پابندیوں کی مذمت بھی کی ہے۔

    نیڈ پرائس نے کہا کہ طالبان کی جانب سے جذبہ خیر سگالی کے اس عمل کو سمجھتے ہیں، یہ رہائی دو طرف سے کسی بھی قسم کے قیدیوں کے تبادلے پر عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی اس میں کوئی تاوان کا لین دن ہوا۔

    اس حوالے سے نیڈ پرائس نے کہا کہ قوائد و ضوابط کے تحت وہ رہائی پانے والے امریکیوں کی مزید تفصیلات جاری نہیں کرسکتے البتہ انہیں مناسب مدد فراہم کررہے ہیں اور وہ بہت جلد اپنے پیاروں سے مل جائیں گے۔

    قرون وسطی کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ عائشہ بنت یوسف

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن مسلسل طالبان کے سامنے یہ معاملہ اٹھاتا رہا ہےکہ اب بھی ان کی قید میں موجود امریکی شہریوں کو رہا کیا جائے لیکن طالبان کی جانب سے یہ تفصیلات جاری نہیں کی جاتیں کہ ان کے پاس کتنے امریکی شہری قید ہیں۔

    دونوں امریکیوں کو قطر میں رہا کیا گیا، جس نے طالبان کے قبضے کے بعد سے افغانستان میں امریکی مفادات کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    سی این این نے رپورٹ کیا کہ ان میں سے ایک آئیور شیرر تھا، جو کہ ایک فلم ساز تھا، جسے اگست میں اپنے افغان پروڈیوسر کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا اس وقت امریکی ڈرون حملے کی جگہ کی فلم بندی کرتے ہوئے جس میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی ہلاکت ہوئی تھی۔

    سال 2023 رواں سال کے مقابلے میں زیادہ گرم ہو گا،برطانوی سائنسدان

    طالبان کی جانب سے خواتین کے یونیورسٹیز میں جانے پر پابندی کا اعلان اور امریکی شہریوں کی رہائی ایک ہی روز عمل میں آئے جس کی امریکہ کی طرف سے سخت مذمت کی گئی تھی، جس نے متنبہ کیا تھا کہ اس کی قیمت اسلامی عسکریت پسندوں پر عائد ہوگی۔

    امریکی اخبار کے مطابق طالبان کی قید سے رہائی پانے والے دونوں امریکی منگل کے روز قطر پہنچ گئے تاہم ان کی کوئی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

  • افغانستان:طالبان نے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار قتل کے مجرم کو سرعام سزائے موت دے دی

    افغانستان:طالبان نے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار قتل کے مجرم کو سرعام سزائے موت دے دی

    افغانستان میں طالبان نے دوبارہ اقتدار میں آنےکے بعد پہلی بار ایک قتل کے مجرم کو سرعام سزائے موت دے دی۔

    باغی ٹی و ی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ مغربی صوبے فراہ میں ایک شخص کو موت کی سزا دی گئی جس پر الزام تھا کہ اس نے 2017 میں ایک شخص کو چاقو کے وار کرکے قتل کردیا تھا۔

    جرمن سکیورٹی فورسز نے بغاوت اورریاستی اداروں پر حملے کرنےکا منصوبہ ناکام بنادیا

    ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق مقتول کے والد نے اسٹیڈیم میں بھرے مجمع کے سامنے مجرم کو 3 گولیاں مار کر اپنے بیٹےکا قصاص لیا، مجرم کو طالبان کی 3 عدالتوں نے قصور وار قرار دیا تھا، مجرم کو قتل کے جرم کے اعتراف کے بعد سزا دی گئی۔
    https://twitter.com/Zabehulah_M33/status/1600484237102153737?s=20&t=5kePZezATlavsx7CRO_jUQ
    تاہم ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا اور میڈیا پر اس حوالے سے خبروں کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ بدلے میں قاتل نے مقتول کے والد کو تین گولیاں ماریں یہ سچ نہیں ہےجوسوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں بدلہ لینے کےلیےآج قاتل نےمقتول کےوالد کو کلاشنکوف کے وار کر کے قتل کر دیا لنک پر جو ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں وہ حقیقی نہیں ہیں۔

    آئی سی سی نے نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کر دی، بابر اعظم ایک درجہ ترقی کے بعد تیسرے نمبر…

    https://twitter.com/Zabehulah_M33/status/1600438257640087552?s=20&t=5kePZezATlavsx7CRO_jUQ
    سزائے موت کے وقت سپریم کورٹ کے ججز، قائم مقام وزیرداخلہ سراج الدین حقانی، نائب وزیراعظم ملاعبدالغنی برادر، دیگر وزرا سمیت فوجی عہدیدار اور متعدد طالبان رہنما بھی موجود تھے۔
    https://twitter.com/Zabehulah_M33/status/1600412615787675648?s=20&t=5kePZezATlavsx7CRO_jUQ
    رپورٹ کے مطابق سزا سے قبل طالبان کی جانب سے باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس میں عوام سے مقررہ وقت پر اسٹیڈیم میں جمع ہونے کو کہا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے گزشتہ ماہ شرعی قوانین مکمل طور پر نافذ کرنےکی ہدایت کی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ کے ججز نے بھی شرعی قوانین کے نفاذ کی ہدایت کی تھی تاہم طالبان کی جانب سے سرکاری طور پر جرائم اور ان سے متعلقہ سزاؤں کی باقاعدہ وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

    فیفا ورلڈکپ میں مراکشی کھلاڑیوں نے فتح کے بعد فلسطین کا جھنڈا لہرا دیا

  • طالبان کا نماز جمعہ کے دوران ایک ہی خطبہ دینے کا حکم

    طالبان کا نماز جمعہ کے دوران ایک ہی خطبہ دینے کا حکم

    کابل: طالبان نے ملک بھر کی مساجد میں نماز جمعہ کے دوران ایک ہی خطبہ دینے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق طالبان کی وزارت حج اور اوقاف کی جانب سے ملک کی تمام مساجد کے مبلغین کو نماز جمعہ کے دوران ایک ہی خطبہ دینے اورطالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی فتح کے لیے لازمی دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    بھارت: عام آدمی پارٹی ایم ایل اے کی دہلی میں پٹائی،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    وزارت حج و اوقاف کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک کی مساجد کے آئمہ اور مبلغین کے لیے ایک متفقہ خطبہ کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں خطبہ کے ستون، روایات اور آداب کو دیکھا گیا ہے۔ متفقہ خطبے کی منظوری امارت اسلامیہ افغانستان کی اتھارٹی نے دی ہے۔

    وزارت حج و اوقاف نے امیر کے لیے لازمی دعا کرنے سے متعلق موقف دیا کہ جمعہ کے خطبہ میں آداب اور مستحبات ہیں جن میں سے ایک امیر اور حاکم وقت کے لیے نیک دعا، اس کی ثابت قدمی اور اپنے دشمنوں پر فتح ہے۔

    طالبان کی وزارت حج و اوقاف نے مذہبی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صحابہ کے دور میں سلطان اور حکمران کے لیے دعائیں کی جاتی تھیں جب کہ افغانستان کے آخری بادشاہ ظاہر شاہ کے دور میں بھی اس کے لیے خطبات میں دعائیں ادا کی جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ خلافت عثمانیہ کے دوران خطبات میں عثمانی خلفا کے لیے دعائیں مانگی کی جاتی تھیں۔

    طالبان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں اپنی پہلی حکومت کے دوران انہوں نے نماز جمعہ کے خطبوں میں اس تحریک کے اس وقت کے رہنما اور بانی ملا محمد عمر کے لیے دعا کی تھی۔

    فیفا ورلڈکپ2022: افتتاحی تقریب براہ راست نشر نہ کرنے پر بی بی سی کو تنقید کا سامنا

  • طالبان نے خواتین پر پارکوں کے بعد جم میں جانے پر بھی پابندی عائد کر دی

    طالبان نے خواتین پر پارکوں کے بعد جم میں جانے پر بھی پابندی عائد کر دی

    کابل: افغانستان میں طالبان نے خواتین پر جم میں جانے پر بھی پابندی لگادی جہاں کا عملہ مکمل طور پر خواتین پر ہی مشتمل تھا۔

    باغی ٹی وی : طالبان نے گزشتہ سال اگست 2021 میں ملک پر قبضہ کر لیا تھا انہوں نے وعدوں کے برعکس لڑکیوں کو مڈل سکول اور ہائی سکول میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے، خواتین کو ملازمت کے زیادہ تر شعبوں سے روک دیا ہے-

    انڈونیشین خاتون اول طیارے سے اترتے ہوئے پھسل کر گر گئیں،صدر کا اٹھنے میں مدد کرنے سے گریز

    وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کے محکمے ’’نیکی کے فروغ اور بدی کی روک تھام‘‘ کی پولیس نے ابھی چند روز قبل ہی خواتین کے پارکوں اور تفریحی مقامات میں جانے پر بھی پابندی عائد کی تھی-

    طالبان نے پابندیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے اب خواتین کے ورزش کے لیے جم جانے پر بھی پابندی عائد کردی ہے جب کہ حمام خانوں میں خواتین کے جانے پر پہلے ہی پابندی عائد تھی-

    وزارتِ فضیلت اور نائب کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ پابندی اس لیے لگائی گئی ہے کیونکہ لوگ صنفی علیحدگی کے احکامات کو نظر انداز کر رہے تھے اور خواتین مطلوبہ اسکارف یا حجاب نہیں پہن رہی تھیں۔ خواتین کے پارکوں میں جانے پر بھی پابندی ہے۔

    امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی وزارت کے ترجمان محمد عاکف صادق مہاجر نے اے ایف پی کو بتایا کہ جم جانے کی پابندی وہاں مرد ٹرینر یا پھر مخلوط عملے کی وجہ سے لگائی ہے۔

    18 سال تک ائیر پورٹ پر رہنے والا شخص انتقال کر گیا

    تاہم ایک خاتون کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں جس میں وہ روتے ہوئے بتارہی ہیں کہ طالبان نے اُن جمز میں بھی جانے پر پابندی عائد کردی جہاں ٹرینر اور دیگر عملہ خواتین پر ہی مشتمل تھا۔

    وزارتِ فضیلت اور نائب کے لیے طالبان کے مقرر کردہ ترجمان محمد عاکف مہاجر کے مطابق، خواتین کے جموں اور پارکوں کے استعمال پر پابندی اس ہفتے نافذ ہو گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ گروپ نے گزشتہ 15 مہینوں میں خواتین کے لیے پارکس اور جم بند کرنے، مرد اور خواتین تک رسائی کے لیے ہفتے کے الگ الگ دنوں کا حکم دینے یا صنفی علیحدگی مسلط کرنے سے بچنے کے لیے "اپنی پوری کوشش” کی ہے لیکن، بدقسمتی سے، احکامات کی تعمیل نہیں کی گئی اور قوانین کی خلاف ورزی کی گئی، اور ہمیں خواتین کے لیے پارکس اور جم بند کرنے پڑے

    مہاجر نے کہا کہ زیادہ تر معاملات میں، ہم نے پارکوں میں مرد اور خواتین دونوں کو اکٹھے دیکھا ہے اور بدقسمتی سے حجاب نہیں دیکھا گیا۔ اس لیے ہمیں ایک اور فیصلہ کرنا پڑا اور فی الحال ہم نے تمام پارکوں اور جموں کو خواتین کے لیے بند کرنے کا حکم دیا۔

    انہوں نے کہا کہ طالبان کی ٹیمیں اداروں کی نگرانی شروع کر دیں گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا خواتین اب بھی انہیں استعمال کر رہی ہیں۔


    ایک خاتون پرسنل ٹرینر نے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ کابل کے جم میں جہاں وہ کام کرتی ہے اس سے پہلے خواتین اور مرد ایک ساتھ ورزش یا تربیت نہیں کر رہے تھے اس نے کہا کہ دو آدمی جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ وزارتِ فضیلت اور نائب سے ہیں، اس کے جم میں داخل ہوئے اور تمام خواتین کو وہاں سے چلے گئے-

    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن

    طالبان کی طرف سے مقرر کیے گئے کابل پولیس چیف کے ترجمان خالد زدران نے کہا کہ انہیں جموں کی بندش یا گرفتاریوں پر احتجاج کرنے والی خواتین کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔


    افغانستان میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے خواتین ایلیسن ڈیوڈیان نے اس پابندی کی مذمت کی انہوں نے کہا کہ یہ طالبان کی جانب سے خواتین کو عوامی زندگی سے مسلسل اور منظم طریقے سے مٹانے کی ایک اور مثال ہے ہم طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کے تمام حقوق اور آزادیوں کو بحال کریں۔

    کابل میں مقیم خواتین کے حقوق کی کارکن سودابہ نازہند نے کہا کہ جموں، پارکوں، کام اور اسکول پر پابندی سے بہت سی خواتین یہ سوچتی رہیں گی کہ افغانستان میں ان کے لیے کیا بچا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ صرف خواتین کے لیے نہیں بلکہ بچوں کے لیے بھی پابندی ہے بچے اپنی ماؤں کے ساتھ پارک جاتے ہیں، اب بچوں کو بھی پارک جانے سے روک دیا جاتا ہے، یہ بہت افسوسناک اور ناانصافی ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ برس اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان میں تاحال خواتین کی ملازمتوں، لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول جانے، محرم کے بغیر سفر کرنے اور خواتین کے عوامی مقامات پر جانے پر پابندی ہے۔

    مغربی ملک ایران میں میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں،ایرانی وزیر خارجہ

  • افغانستان:سنگسار کی سزا سے بچنے کیلئے لڑکی نے خودکشی کر لی

    افغانستان:سنگسار کی سزا سے بچنے کیلئے لڑکی نے خودکشی کر لی

    کابل: افغانستان کے صوبہ غور میں لڑکی نے سنگنسار ہونے کی سزا سے بچنے کیلئے خود کشی کر لی-

    باغی ٹی وی: خبر ایجنسی کے مطابق افعانستان کے صوبہ غور میں پسند کی شادی کے لیے گھر سے فرار ہونے والے جوڑے کو طالبان اہلکاروں نے پکڑ کر زنا کے الزام میں سنگسار کی سزا سنادی۔

    مقامی طالبان حکام کے مطابق خاتون جس شخص کے ساتھ گھر سے بھاگی تھی وہ شادی شدہ مرد تھا لڑکے کی سزا پر عمل درآمد 13 اکتوبر کو پھانسی دے کر کردیا گیا تھا اور آج لڑکی کو سرعام سنگسار کی سزا دی جا رہی تھی تاہم لڑکی نے عین موقع پر اسکارف سے اپنا گلا گھونٹ کر خودکشی کرلی۔

    غور کے لیے طالبان کے صوبائی پولیس چیف کے ترجمان عبدالرحمٰن نے کہا کہ یہ واقعہ، جس میں سرعام سنگساری کی سزا پانے والی ایک خاتون نے سزا ملنے سے پہلے خودکشی کر لی، صوبے کے ڈولائنہ ضلع میں خواتین کی جیل نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔

    طالبان سیکیورٹی اہلکار کے مطابق، خاتون نے اسکارف سے خود کو گلا گھونٹ لیا، سزا ملنے سے پہلے ہی اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

    طالبان حکومت کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ صوبہ غور کے ڈولائنہ ضلع میں مرد اور عورت کی شادی ہوئی تھی لیکن ایک دوسرے سے نہیں اور وہ گھر سے بھاگ گئے تھے۔

    افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے مرکزی بینک سمیت تمام عالمی فنڈز منجمد کردیئے گئے تھے جس کے باعث ملک کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے اور ملک میں غربت کے ڈیرے ہیں لوگ اپنی بیٹیاں فروخت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

    اس تمام صورت حال کے باعث افغان لڑکیوں میں گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کےرجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے جب کہ طالبان حکومت نے انہیں سنگسار کرنے یا سرعام کوڑے مارنے کا فیصلہ کیا ہے خواتین اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔

    خیال رہے کہ طالبان نے گزشتہ برس 15 اگست کو افغانستان میں حکومت قائم کی تھی اور تب سے لڑکیوں کی سیکنڈری تعلیم، خواتین کی ملازمتوں اور نامحرم کے بغیر سفر کرنے پر پابندی ہے یہاں تک کہ ٹیکسی ڈرائیوروں اور دیگر شہری نقل و حمل کی خدمات کو طالبان نے محرم کے بغیر خواتین کو سروس فراہم کرنے سے منع کیا تھا۔

  • سوات اسکول وین حملہ؛ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا درندگی کا پست سے پست تر رجحان ہے. بلاول بھٹو

    سوات اسکول وین حملہ؛ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا درندگی کا پست سے پست تر رجحان ہے. بلاول بھٹو

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا سوات اسکول وین حملہ کے حوالے سے کہنا ہے کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا درندگی کا پست سے پست تر رجحان ہے.

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سوات میں اسکول وین پر دہشتگرد حملے کی شدید الفاظ مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا درندگی کا پست سے پست تر رجحان ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے سوات سمیت پورے ملک کی عوام کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے بچوں سمیت ہر شہری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں.
    وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ؛ اس سفاکانہ واقعے میں ملوث ملزمان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حملے میں شہید ہونے والے وین کے ڈرائیور کے لواحقین سے تعزیت و دلی ہمدردی کا اظہار اور حملے میں زخمی ہونے والے طلبہ کی جلد صحتیابی کی دعا بھی کی ہے.

    خیال رہے کہ سوات میں اسکول وین ڈرائیور کے قتل کے خلاف احتجاج کو آج دوسرا روز ہے اور مقتول وین ڈرائیور کے لواحقین نے منگل کو مسلسل دوسرے روز بھی احتجاج جاری رکھا ہے. جبکہ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک ملزمان کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا احتجاج جاری رہے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردانہ حملے اور بدامنی ناقابل برداشت ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں اور ہم دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے۔
    مینگورہ، جس شہر میں یہ حملہ ہوا، کے رہائشیوں کو خدشہ ہے کہ اسے پاکستانی طالبان نے انجام دیا ہے لیکن عسکریت پسندوں نے پیر کو ہونے والی فائرنگ کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔ جبکہ ایک پرائیویٹ سکول کے پرنسپل احمد شاہ نے بتایا کہ “لوگ ناراض ہیں اور وہ احتجاج کر رہے ہیں۔ تمام پرائیویٹ سکولوں کے طلباء احتجاج کے لیے نکل آئے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج یعنی منگل کو اسکول بند رہیں ہیں اور تب تک بند ہونگے جب تک انصاف نہیں ملتا.

    یاد رہے کہ ایک روز قبل ایک مسلح حملہ آور نے اسکول وین پر فائرنگ کی تھی جس سے وین ڈرائیور ہلاک اور ڈرائیور کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھا ایک طالب علم زخمی ہوگیا تھا۔ جس کے بعد سے متاثرہ لواحقین اور پڑوسیوں نے احتجاج شروع کر دیا ہے اور انہوں نے انصاف کا مطالبہ کیا۔ یہ حملہ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی طرف سے گولی مارنے کے 10 سال مکمل ہونے کے ایک دن بعد ہوا ہے جب وہ ایک اسکول کی طالبہ تھیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئندہ ماہ پنجاب میں ایک بار پھر ہماری حکومت ہوگی. لیگی رہنماء حنیف عباسی کا دعویٰ
    وفاقی کابینہ اجلاس؛ ممکنہ لانگ مارچ میں امن و امان کیلئے وزارت داخلہ کی 41 کروڑ کی سمری منظور
    زلفی بخاری اور افتخار درانی نےآصف زرداری کے خلاف نااہلی ریفرنس جمع کرا دیا
    اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان ایسے وقت میں اقتدار میں واپس آنے کا دعویٰ کر رہے ہیں جب خیبرپختونخوا میں مکمل افراتفری ہے اور امن و امان کی صورتحال ابتر ہے وہ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کر رہے تھے جہاں وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف اور جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا. دریں اثناء مولانا چترالی نے صوبے میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا.