Baaghi TV

Tag: طالبان

  • امریکا اورطالبان کے درمیان دوحا معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ

    امریکا اورطالبان کے درمیان دوحا معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ

    کابل : امریکا اور طالبان کے درمیان دوحامعاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی جیل میں قید سینئر طالبان رہنما حاجی بشیر نور زئی ایک معاہدے کے تحت رہا ہوکر کابل پہنچ گئے جن کے بدلے میں طالبان حکومت نے بھی امریکی انجینیئر کو آزاد کردیا۔

    طالبان حکومت کے وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ 2005 سے گرفتار رہنما بشیر نور زئی کابل پہنچ گئے جن کے بدلے میں امریکی انجینئر مارک فریرچس کو رہا کیا گیا ہے۔


    قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کابل ائیرپورٹ پر امریکی شہری مارک فریچس کو امریکی اہلکاروں کے حوالے کیا جبکہ امریکی اہلکاروں نے طالبان رہنما حاجی بشیر نورزئی کو طالبان کے حوالے کیا-


    وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا کہ حاجی بشر کی رہائی افغان امریکا تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ ان کی رہائی سے واضح ہوگیا مسائل کا واحد حل مذاکرات کی میز ہے۔اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کے مفاد کا خیال رکھیں تو دونوں کے درمیان بہتر تعلقات کے قیام میں کوئی رکاوٹ نہیں۔


    امریکی سول انجینیئر مارک فریرچس افغانستان میں بطور کنٹریکٹر خدمات انجام دے رہے تھے اور طالبان نے انھیں 31 جنوری 2020 کو حراست میں لیا تھا۔ جس کے بعد طالبان نے انجینیئر کے بدلے بشیر نور زئی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

    اس حوالے سے افغانستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہےکہ حاجی بشیر نورزئی طالبان کے سینیئر رہنما تھے منشیات اسمگلنگ کے الزام میں 17 سال سے امریکی جیل میں قید تھے۔


    2005 میں وہ دبئی سے نیویارک گئے تھے تاکہ امریکا اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات شروع کرسکیں تاہم تمام تر اخلاقی معیارات کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا گیا اور عمر قید کی سز اسنادی گئی۔

    واضح رہے کہ بشیر نور زئی گوانتا نامو بے جیل میں قید نہیں تھے بلکہ ایک امریکی جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ انھیں 50 ملین ڈالر مالیت کی ہیروئن امریکا اسمگل کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

    طالبان رہنما کے وکلاء نے عدالت میں ان الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے مؤکل کو بے بنیاد کیس میں پھنسایا گیا ہے کیوں کہ امریکی پولیس کے پاس ان کی گرفتاری کا ٹھوس جواز نہیں تھا۔

  • امریکا کا افغان مرکزی بینک کے منجمد 3.5 ارب ڈالرسوئس میں قائم ٹرسٹ کےذریعے منتقل کرنے کا اعلان

    امریکا کا افغان مرکزی بینک کے منجمد 3.5 ارب ڈالرسوئس میں قائم ٹرسٹ کےذریعے منتقل کرنے کا اعلان

    امریکا نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ ایک نئے سوئس ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے افغانستان کے مرکزی بینک کے منجمد 3.5 ارب ڈالر منتقل کیا جائے گا جو طالبان کے زیر کنٹرول نہیں ہوں گے، جس سے گرتی ہوئی تباہ حال معیشت مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے ‘روئٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق ٹرسٹیز بورڈ کے ماتحت افغان فنڈ سے ملک بجلی جیسی اہم درآمدات کی ادائیگی کر سکتا ہے، اس کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں کو قرض کی ادائیگی، ترقیاتی امداد کے لیے افغانستان کی اہلیت کا تحفظ اور نئی کرنسی کی پرنٹنگ کے لیے بھی فنڈز فراہم کر سکتا ہے۔

    برطانیہ میں مہنگائی 14 سال کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی

    امریکی ڈپٹی سیکریٹری برائے خزانہ ویلے ایڈیمو نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان فنڈ کو محفوظ رکھا جائے گا اور مخصوص 3.5 ارب ڈالر کا اجرا ملکی معیشت میں زیادہ سے زیادہ استحکام لانے کے لیے مددگار ہو گا۔

    امریکی حکام نے کہا کہ افغان مرکزی بینک میں اس وقت تک رقم منتقل نہیں کی جائے گی جسے ڈی اے بی کہا جاتا ہے جب تک اس میں سیاسی مداخلت ختم نہیں ہوتی، جہاں بینک کے اعلیٰ طالبان عہدیداروں کے حوالے سے سفارتی تعطل بھی پیدا ہوا تھا کیونکہ ان میں سے دو عہدیدار ایسے ہیں، جن پر اقوام متحدہ اور امریکا کی پابندی عائد ہے اور منی لانڈرنگ کے خلاف حفاظتی اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں۔

    امریکی ڈپٹی سیکریٹری برائے خزانہ ویلے ایڈیمو نے مرکزی بینک کے سپریم کونسل کو ایک خط میں لکھا کہ جب تک شرائط مکمل نہیں کی جاتیں ڈی اے بی (افغان سینٹرل بینک) میں فنڈ منتقل کرنا ناقابل فہم خطرہ ہوگا اور افغان عوام کی مدد خطرے میں پڑے گی۔

    ڈی اے بی نے کہا کہ مرکزی بینک کے ذخائر افغان عوام کے ہیں اور ان کا مقصد کرنسی کے استحکام، مالیاتی نظام کی مضبوطی اور بین الاقوامی تجارت میں سہولت فراہم کرنا ہے –

    ڈی اے بی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر متعلقہ اہداف کے لیے ذخائر کی تفویض، استعمال یا منتقلی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ ڈی اے بی کے لیے ناقابل قبول ہے۔

    اسکاٹ لینڈ میں شہنشاہیت کے خلاف مظاہرے، جمہوریت کا پول کھل گیا

    جنیوا میں قائم نیا فنڈ کا اکاؤنٹ بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (بی آئی ایس) میں ہے اور یہ فنڈ مرکزی بینکوں کو مالی خدمات فراہم کرتا ہے۔

    بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (بی آئی ایس) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بی آئی ایس افغانستان کے لوگوں کے لیے فنڈ کے ساتھ صارفین کے تحت تعلقات بنا رہا ہے، جس کا کردار فنڈ کے انتظام یا فیصلہ سازی میں شامل کیے بغیر فنڈ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کو بینکنگ خدمات فراہم کرنے اور ان پر عمل درآمد تک محدود ہے اور وہ تمام قابل اطلاق پابندیوں اور ضوابط کی تعمیل کرے گا۔

    سوئس حکومت نے کہا کہ وہ اس فاؤنڈیشن کی حمایت کرے گی جس نے واشنگٹن کو مالیاتی اور ترقیاتی مہارت فراہم کرکے قائم کرنے میں مدد کی تھی۔ اس نے وزارت خارجہ کی اہلکار الیگزینڈرا بومن کو بورڈ کی نمائندہ نامزد کیا۔

    اقوام متحدہ کے مطابق اس فنڈ سے گرتی ہوئی معیشت کے سنگین مسائل حل نہیں ہوں گے سنگین معاشی اور انسانی بحرانوں کے مزید بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ سردیوں کا موسم آنے کو ہے اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کے 4 کروڑ آبادی کا تقریباً نصف حصہ شدید بھوک اور افلاس کا شکار ہے۔

    طالبان کا سب سے بڑا مالی چیلنج مالی امداد کی تلافی کرنے کے لیے نیا سرمایہ پیدا کرنا ہے، جس پر حکومتی اخراجات کا 75 فیصد تک خرچ ہوتا جو کہ دو دہائیوں تک رہنے والی جنگ کے خاتمے پر امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد اگست 2021 میں کابل پر طالبان کی واپسی کے ساتھ ہی امریکا اور دیگر عطیہ دہندگان نے امداد روک دی تھی۔

    طالبان حکومت کا پنجشیر میں 40 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نئے فنڈ کے حوالے سے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی معیشت کو سنگین ساختی مسائل کا سامنا ہے جس میں طالبان کے قبضے کے بعد اضافہ ہوگیا ہے۔

    معاشی بحران کی وجوہات میں دہائیوں پر محیط جنگ، خشک سالی، عالمی وبا کورونا، بے تحاشا بدعنوانی، اور عالمی بینکوں سے افغانستان کے سینٹرل بینک کا منقطع ہونا شامل ہیں۔

    اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے صحافیوں کو بتایا کہ 3.5 بلین ڈالر ابھی نئے فنڈ میں جمع ہونا باقی ہیں، لیکن منتقلی "جلد سے جلد” ہو جائے گی۔

    نئے فنڈ کا قیام امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ، سوئٹززلینڈ اور دیگر فریقین کے درمیان مذاکرات کے دو مہینوں بعد عمل میں آیا ہے جہاں طالبان نے امریکا کی طرف سے منجمد کیے گئے 7 ارب ڈالر افغان مرکزی بینک میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    ملکہ الزبتھ کا انتہائی خفیہ خط جو 2085 میں کھولاجائے گا، کس کے نام ہے پیغام؟

    یہ بات چیت کابل میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو افغان طالبان کی طرف سے مبینہ طور پر پناہ دینے 31 جولائی کو ان کے کابل سیف ہاؤس پر سی آئی اے کے ڈرون حملےمیں مارے جانے پرامریکی غصے کے باوجود اور انسانی حقوق بالخصوص بچیوں کے سیکنڈری اسکول بند کرکے تعیلم کے حق سے محروم رکھنے پر عالمی برادری اور امریکی ناراضی کے باوجود بھی جاری رہی-

    رواں برس فروری میں امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانسان کے عوام کو سہولیات دینے کے لیے 3.5 ارب ڈالر نئے ٹرسٹ فنڈ میں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    افغانستان کے دیگر 3.5 ارب ڈالر 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر حملوں کے حوالے طالبان کے خلاف جاری مقدمات پر خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ بقیہ رقم پر عدالت فیصلہ دے سکتی ہے جس کے بعد وہ نئے فنڈ میں منتقل کر دیے جائیں گے۔

    افغان مرکزی بینک کے دیگر 2 ارب ڈالر کے اثاثے یورپی اور اماراتی بینکوں میں منجمد ہیں اور وہ بھی اس نئے فنڈ میں منتقل کئے جا سکتے ہیں-

    امریکی حکام نے کہا کہ اس فنڈ کی نگرانی ایک بورڈ کرے گا جس میں امریکی حکومت کے نمائندے، سوئٹزرلینڈ میں امریکی سفیر اسکاٹ ملر، سوئس حکومت کے نمائندے، افغان مرکزی بینک کے سابق سربراہ اور سابق وزیر خزانہ انور احدی اور ایک امریکی ماہر تعلیم شاہ محرابی شامل ہیں جو ڈی اے بی سپریم کونسل میں شامل ہیں۔

    امریکی ریاست اوریگن کے جنگلات میں لگی آگ بے قابو،86 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی پر…

  • طالبان حکومت کا پنجشیر میں 40 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    طالبان حکومت کا پنجشیر میں 40 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    افغانستان میں طالبان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے شمالی افغانستان کے صوبے پنجشیر میں باغی گروہ کے 40 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی :گزشتہ روز طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ پنجشیر صوبے کے علاقوں ریکھا، دارا اور افشار میں کلیئرنس آپریشن کے دوران باغی گروہ کے 4 کمانڈروں (ملک خان،فہیم کمانڈو، جواد اور محمد یار) سمیت 40 افراد کو ہلاک کر دیا ہے –

    طالبان حکومت اب بھی عالمی تنہائی کا شکار ہے،امیر خان متقی،دنیا ہماری حکومت کو…


    جبکہ 100 سے زائد جنگجوؤں کو گرفتار کیا گیا ہے ،ان سے اسلحہ بھی برآمد ہوا وہ لوگوں کی سلامتی کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔


    جبکہ طالبان مخالف مزاحمت کار گروہ ’’دی نیشنل ریززٹنٹ فرنٹ‘‘ کی جانب سے تاحال ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔


    ذبیح اللہ مجاہد نے وعدہ کیا کہ جلد ہی افغانستان سے صحافیوں اور میڈیا حکام کی ایک ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی تاکہ خیالات کے تبادلے، اور تعاون اور ہم آہنگی کو مضبوط کیا جا سکے۔

    افغان تماشائیوں کی اسٹیڈیم میں توڑ پھوڑ، پاکستانی مداحوں پر کرسیاں پھینکیں

    واضح رہے کہ بیرونی افواج کے انخلا کے بعد ستمبر 2021 میں کابل کے دارالخلافہ پر قبضے کے بعد طالبان حکومت کی جانب سے پنجشیر میں اپنی فتح کا اعلان کیا گیا تھا-

    جبکہ طالبان کے مخالف مزاحمت کار گروہ کا دعویٰ تھا کہ ان کی طالبان جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی جاری ہے اور وہ طالبان کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

    دوسری جانب طالبان کی جانب سے مزاحمت کار گروہ کے اس دعویٰ کی نفی کی گئی تھی کہ علاقے پر ان کا مکمل کنٹرول ہے اور کہیں بھی کوئی بڑی لڑائی نہیں ہو رہی ہے۔

    سوات:طالبان نے ٹیلی نار کمپنی کے 7 ملازمین کو تاوان کے عوض اغوا کرلیا

  • طالبان حکومت اب بھی عالمی تنہائی کا شکار ہے،امیر خان متقی،دنیا ہماری حکومت کو تسلیم کرے،ذبیح اللہ مجاہد

    طالبان حکومت اب بھی عالمی تنہائی کا شکار ہے،امیر خان متقی،دنیا ہماری حکومت کو تسلیم کرے،ذبیح اللہ مجاہد

    کابل: طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بدھ کو کہا کہ طالبان حکومت اب بھی عالمی تنہائی کا شکار ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی سطح پر کاروبار اور تجارت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یہ ایسے ہی کام کرتی ہے جیسے اسے عالمی سطح پر سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

    افغانستان کے شہر جلال آباد میں زلزلہ،11 افراد جاں بحق متعدد زخمی

    امیر خان متقی نے اس سے قبل عالمی برادری سے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاکہ ماضی میں جو کچھ ہوا اسے دہرایا نہ جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک نےایک جامع حکومت تشکیل دی ہے جو افغان عوام کو متحد کر سکتی ہے اور انہیں سلامتی اور خوشحالی فراہم کر سکتی ہے۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغانستان میں معاشی نظام اور حکومتی اداروں کو کمزور کرنے کے لیے بہت سی سازشیں شروع کی گئیں اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کا استحکام پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔


    دوسری جانب امارات اسلامیہ کےترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کابل یونیورسٹی میں خطاب میں کہا کہ کچھ باغی عناصر حکومت کو عدم استحکام کرنا چاہتےہیں،ان عناصر کا قلع قمع کرنا ضروری ہے،یہ عناصر افغان قوم کے اتحاد اور آزادی کے خلاف کام کر رہے ہیں،ان عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، دنیا ہماری حکومت کو تسلیم کرے-

    کابل میں روسی سفارتخانے کے قریب خودکش دھماکہ

    نائب وزیر تعلیم عبدالباقی کا کابل یونیورسٹی میں خطاب میں کہنا تھا کہ عالمی برادری کےساتھ مثبت پیش رفت نہ ہونے اور امارات اسلامیہ کی حکومت تسلیم نہ کرنےسےمعاشی مسائل بڑھے ہیں، دنیا کو سمجھنا ہو گا حکومت مسائل کا شکار رہتی ہے تو اس کی قیمت افغان عوام کو چکانی پڑے گی اور ایک نئی جنگ شروع ہو سکتی ہے-


    طالبان نے 15 اگست 2021 کو 20 سال بعد امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اس کے بعد طالبان نے دارالحکومت کابل بغیر کسی لڑائی کے فتح کر لیا تھا امریکی انخلا کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کے بیشتر حصے پر طالبان کا کنٹرول قائم ہونا شروع ہوگیا تھا۔

    اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فوری بعد طالبان کے ہاتھوں کابل کا سقوط ہوگیا اور سابق صدر اشرف غنی بھی ملک سے فرار ہوگئے تھے-

    پہلی باحجاب آسٹریلوی سینیٹر افغانستان سے ہجرت کی کہانی بتاتے رو پڑیں

  • افغان خاتون کا طالبان کے سابق ترجمان پر جنسی زیادتی اور تشدد کا الزام

    افغان خاتون کا طالبان کے سابق ترجمان پر جنسی زیادتی اور تشدد کا الزام

    افغان خاتون الہا دلوازیری نے طالبان حکومت کی وزارت داخلہ کے سابق ترجمان قاری سعید خوستی پر اس سے زبردستی شادی کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور ریپ کرنے کا الزام لگایا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق کابل یونیورسٹی کی ایک طالب علم دلوازیر نے یہ الزامات ایک ویڈیو میں لگائے ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی-

    افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر شاندار جشن


    ویڈیو میں الہا دلوازیری کو روتے ہوئےدیکھا جا سکتا ہے ویڈیو میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق طالبان جنگجو خوستی نے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس پر تشدد کیا۔

    دوسری طرف قاری سعید خوستی نے خاتون کی طرف سے الزامات رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے خاتون کی عصمت دری کا جرم نہیں کیا تھا انہوں نے زور دے کر کہا کہ انہوں نے دالوازیری کو اس کے "غیر اسلامی عقائد” کی وجہ سے طلاق دی ہے۔


    جبکہ لڑکی نے جو ویڈیو پوسٹ کی ہے اس میں اس کے جسم پر چوٹوں کے نشانات واضح دیکھے جا سکتے ہیں مگر خوستی نے کہا کہ اس نے اسے کبھی نہیں مارا۔

    امریکا میں منجمد اثاثے افغان عوام کی امانت ہیں اس پر نائن الیون کے متاثرین کا کوئی…


    قاری سعید خوستی نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے لڑکی سے "اس کے کہنے پر” شادی کی تھی اور اسے یہ معلوم کرنے کے بعد طلاق دے دی تھی کہ اس کے عقائد درست نہیں۔ یہاں تک کہ لڑکی پر قرآن کی توہین کا بھی الزام بھی لگایا۔

    خوستی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ 6 ماہ قبل میں نے الٰہ نامی لڑکی سے اس کے کہنے پر شادی کی، اس کے بعد میں نے دیکھا کہ اسے عقیدے کا مسئلہ ہے، میں نے مشورے اور بحث کے ذریعے اس کے عقائد کو درست کرنے کی کوشش کی، لیکن، یہ کامیاب نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ اس نے واضح طور پر قرآن پاک کی توہین کی جو کہ ثابت بھی ہے۔


    خوستی نے یہ بھی کہا کہ اس نے لڑکی کو نہیں مارا، اور یہ کہ اس نے ‘اپنی بیوی کو طلاق دے کر قانونی طور پر اس سے علیحدگی اختیار کر لی ہے-

    سوشل میڈیا پر اس حوالے سے رد عمل سامنے آیا ہے جس میں طالبان کے طرز عمل کی مذمت کی گئی ہےتاہم طالبان کی طرف سے سرکاری سطح پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

    افغانستان قحط کے دہانے پر پہنچ گیا، بدترین حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے،اقوام متحدہ…

  • افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر شاندار جشن

    افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر شاندار جشن

    کابل: افغانستان سے امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر طالبان کی جانب سے جشن منایا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : منگل کی شب کابل میں آسمان آتش بازی سے جگما اٹھا جس کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں دارالحکومت کابل کو رنگ برنگی لائٹوں سے روشن کیا گیا ہے جب کہ آج بدھ کو ملک بھر میں عام تعطیل ہے۔


    کابل میں تین سلطنتوں کے خلاف فتوحات کا جشن منانے کے بینرز آویزاں کیے گئے ہیں۔ ان سلطنتوں میں سابق سوویت یونین اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔

    سرکاری عمارتوں اور اسٹریٹ لائٹس پر طالبان کے سینکڑوں سفید پرچم لگائے گئے ہیں دارالحکومت کابل میں سابق امریکی سفارت خانے کے قریب مسعود اسکوائر پر طالبان سفید پرچم اٹھائے دکھائی دیئے جبکہ وہ شہر بھر میں گاڑیوں کے ہارن بجاتے ہوئے گشت کرتے رہے۔


    افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کی خوشی میں بگرام ایئر بیس پر شاندار ملٹری پریڈ منعقد ہوئی، وزیراعظم محمد حسن اخوند مہمان خصوصی تھے، وزیر دفاع، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ سمیت امارت اسلامیہ کی کابینہ اور اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی-


    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے پیغام میں کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر میں پوری قوم اور جہاد کے متاثرین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔


    انہوں نے کہا کہ مجاہدین کو آگاہ ہونا چاہیے کہ جہاد کی تمنائیں رائیگاں نہیں جاتیں، قوم کو مت بھولیں، اللہ تعالی پر توجہ دیں، لوگوں کی تھکاوٹ پر غور کریں اور انہیں تنہا نہ چھوڑیں۔
    https://twitter.com/IslamicEmiirate/status/1564577635488899073?s=20&t=UTyvIQyhFBdJmL6CPtvsRg

    اس موقع پر افغانستان کی نگراں حکومت کا کہنا ہے کہ ملک سے امریکی افواج کے انخلا کی پہلی سالگرہ کے موقع پر دنیا افغانستان کے حوالے سے معقول پالیسی اپنائے گی اور اس کی علاقائی سالمیت کا احترام کرے گی۔


    واضح رہے کہ امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ گزشتہ برس ہوا تھا اور 31 اگست کی آدھی رات غیر ملکی افواج کا انخلا مکمل ہوا تھا جس سے دو ہفتے قبل ہی طالبان نے افغانستان کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔

    امریکہ نے اس 20 سالہ طویل جنگ کا آغاز 11 ستمبر 2001 میں نیویارک میں ہونے والےحملوں کے تناظر میں کیا تھا۔اس جنگ کے دوران لگ بھگ 66 ہزار افغان فوجی اور 48 ہزار شہری ہلاک ہوئے جبکہ امریکی سروس کے دو ہزار 461 اراکین بھی مارے گئےاس کے علاوہ دیگر نیٹو ممالک کے ساڑھے تین ہزار سے زائد فوجی بھی ہلاک ہوئے۔

    افغانستان میں طالبان کی حکومت کو اب تک کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ طالبان کی حکومت پر عالمی دباؤ ہے کہ وہ انسانی حقوق خصوصاً خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور سخت قوانین میں نرمی لائیں۔

    افغانستان کے تقریباً تین کروڑ 80 لاکھ افراد بدترین انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ کیوںکہ ملک کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد ہیں اور غیرملکی امداد ختم ہو رہی ہے۔

  • امریکا میں منجمد اثاثے افغان عوام کی امانت ہیں اس پر نائن الیون کے متاثرین کا کوئی حق نہیں،امریکی جج

    امریکا میں منجمد اثاثے افغان عوام کی امانت ہیں اس پر نائن الیون کے متاثرین کا کوئی حق نہیں،امریکی جج

    مین ہٹن: امریکی جج نے کہا ہے کہ افغانستان کے امریکا میں منجمد اثاثے وہاں کے عوام کی امانت ہیں اس پر نائن الیون کے متاثرین کا کوئی حق نہیں۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یک امریکی جج نے سفارش کی ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے متاثرین کو طالبان کے خلاف حاصل کیے گئے عدالتی فیصلوں کو پورا کرنے کے لیے افغانستان کے مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے اثاثوں کو ضبط کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

    وکی لیکس کے بانی نے امریکا حوالگی کے خلاف برطانیہ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی

    اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد، حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں نے افغانستان کے مرکزی بینک کے اثاثوں کو منجمد کر دیا تھا۔، جن کی کل تعداد تقریباً 10 بلین ڈالر تھی۔ اس میں سے تقریباً 7 بلین ڈالر امریکہ میں رکھے گئے تھے اور دیگر ممالک میں تقریباً 2 بلین ڈالر ہیں امریکی صدر نے ان میں نصف افغان عوام اور نصف نائن الیون متاثرین کو دینے کا اعلان کیا تھا۔

    مغربی حکومتوں نے طالبان کو افغانستان کی جائز حکومت کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے سے مرکزی بینک کے منجمد اثاثوں پر اس کی ملکیت کو نقصان پہنچتا ہے۔

    افغانستان کے منجمد اثاثوں کے حوالے سے امریکی ریاست مین ہٹن کی مجسٹریٹ جج سارہ نیٹ برن نے سفارش کی ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے متاثرین کو طالبان کے خلاف حاصل کیے گئے عدالتی فیصلوں کو پورا کرنےکےلیے افغانستان کے مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے اثاثے ضبط کرنے کی اجازت نہ دی جائے

    لیبیا میں دومسلح گروہوں کے درمیان خونی تصادم ،23 افراد ہلاک،140 زخمی

    جج مین ہٹن نے اپنی سفارش میں لکھا کہ نائن الیون حملے کے امریکی متاثرین انصاف، احتساب اور معاوضے کے لیے برسوں سے لڑ رہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے لیکن قانون عدالت کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے کسی دوسرے ملک کے اثاثوں کے استعمال سے روکتا ہے۔

    امریکی جج نے اپنے سفارش میں مزید لکھا کہ چنانچہ دا افغانستان بینک کو عدالتوں کے دائرہ اختیار سے استثنیٰ حاصل ہے اور اگر اثاثوں کو ضبط کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس کامطلب طالبان حکومت کو افغانستان کی قانونی حکومت کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا اور ایسا صرف امریکی صدر ہی کرسکتے ہیں۔

    ایشیا کپ 2022: پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ آج کھیلا جائے گا

    "طالبان کے متاثرین انصاف، احتساب اور معاوضے کے لیے برسوں سے لڑ رہے ہیں۔ وہ کسی سے کم کے حقدار نہیں ہیں،” جج نیٹ برن نے لکھا لیکن قانون محدود کرتا ہے کہ عدالت کس معاوضے کا اختیار دے سکتی ہے، اور یہ حدود ڈی اے بی کے اثاثوں کو اس کے اختیار سے باہر کر دیتی ہیں-

    مین ہٹن کی جج کی اس سفارش کا جائزہ مین ہٹن میں ہی امریکی ڈسٹرکٹ جج جارج ڈینیئلز کریں گے، جو قانونی چارہ جوئی کی نگرانی بھی کرتے ہیں اور فیصلہ کرسکتے ہیں کہ آیا اس کی سفارش کو رد کریں یا قبول کیا جائے۔

    واضح رہے کہ 11 ستمبر 2001 کو امریکا کے ورلڈ ٹریڈ سینٹراور پینٹاگون کی عمارت سے جہاز ٹکرائے گئے تھے جس کے نتیجے میں 3 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکا نے حملے کا ذمہ دار القاعدہ کو قرار دیتے ہوئے طالبان پر معاونت کا الزام عائد کیا تھا۔

    یورپ میں توانائی بحران:سردیوں میں ٹھٹھرکر مرجائیں گے:یورپی عوام دہائی دینے لگی

  • ذبیح اللہ مجاہد نےعہدے سے استعفیٰ دے دیا

    ذبیح اللہ مجاہد نےعہدے سے استعفیٰ دے دیا

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نائب وزیر اطلاعات کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق گزشتہ سال افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کو نائب وزیر اطلاعات مقرر کیا گیا تھا، اب ذبیح اللہ مجاہد نے نائب وزیر اطلاعات کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تاہم ذبیح اللہ مجاہد بدستور حکومت کے مرکزی ترجمان رہیں گے۔

    افغانستان امریکی بالادستی اورطاقت کی پالیسی کےبدترین نتائج کاگواہ ہے:چینی وزارت…


    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے اور ان کی جگہ مولوی حیات اللہ مہاجر کو نائب وزیراطلاعات مقرر کیا گیا۔

    ذبیح اللہ مجاہد تحریک اسلامی طالبان کےدو باضابطہ ترجمانوں میں سے ایک ہیں، دوسرے قاری یوسف احمدی ہیں۔ ذبیح اللہ زیادہ تر مشرقی، شمالی اور وسطی افغانستان میں طالبان سرگرمیوں کے متعلق تبصرہ کرتے ہیں جبکہ یوسف احمدی مغربی اور جنوبی خطوں پر بات کرتے ہیں۔

    افغانستان کسی کی معیشت، فوج اور سیاست پر انحصار نہیں کرتا، قائم مقام وزیر دفاع

    ذبیح اللہ مجاہد باقاعدہ طور پر افغان صحافیوں سے گفتگو کرتے ہیں اور بذریعہ موبائل کال، پیغامات، ای میل، ٹیوٹر اور جہادی ویب سائٹوں پر شائع کر کے طالبان کی طرف سے بات کرتے تھے تاپم گزشتہ برس اگست میں افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہ پہلی بار میڈیا کے سامنے آئے تھے-

    ذبیح اللہ کو جنوری 2007ء میں طالبان ترجمان محمد حنیف کی گرفتاری کے بعد مقرر کیا گیا تھا-

    یو اے ای کا 6 سال بعد ایران میں سفیر تعینات کرنے کا اعلان

  • طالبان حکومت کا ایک سال مکمل، افغانستان میں عام تعطیل

    طالبان حکومت کا ایک سال مکمل، افغانستان میں عام تعطیل

    آج افغانستان میں طالبان کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس 20 سال بعد امریکا نے افغانستان چھوڑا، توطالبان نےافغانستان کا کنٹرول سنبھالا، آج افغانستان میں طالبان کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے-

    افغانستان میں طالبان کی فتح کے بعد مختلف دلچسپ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل

    ایک سال پورا ہونے پر افغانستان نے پیر 15 اگست کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے، اس سلسلے میں افغان حکومت نے کہا ہے کہ ایک سال مکمل ہونے پر 15 اگست کو پورے افغانستان میں عام تعطیل ہوگی۔
    https://twitter.com/IslamicEmiirate/status/1558506768677842947?s=20&t=KJurlkQsxaEYJFVuIn86LQ
    حکام نے ابھی تک ایک سال مکمل ہونے کی سالگرہ کے موقع پر کسی سرکاری تقریبات کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ٹی وی پر خصوصی پروگرام نشر کیے جائیں گے-

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

    واضح رہے کہ طالبان نے گزشتہ برس 15 اگست کو افغانستان کے آخری معرکے کابل کو بھی فتح کرکے اپنی حکومت کے قیام کا اعلان کیا تھا اسی دن اُس وقت کے صدر اشرف غنی بغیر کسی کو بتائے ملک سے فرار ہوگئے تھے جب کہ افغان فوج نے معمولی سی بھی مزاحمت نہیں کی تھی پنجشیر میں تاحال طالبان مکمل طور پر اقتدار میں نہیں آسکے ہیں۔

    افغانستان میں طالبان امیر کی جانب سے نامزد کردہ عبوری کابینہ امور مملکت چلا رہی ہے اور تاحال خواتین کی ملازمتوں اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد ہے جب کہ ابھی تک کسی ملک نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

    طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سینکڑوں ارکان کو برطرف کردیا

    افغان طالبان کا ایک بار پھ منجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

  • خواتین اپنی جگہ کسی مرد رشتے دار کو ملازمت پر بھیجیں، طالبان

    خواتین اپنی جگہ کسی مرد رشتے دار کو ملازمت پر بھیجیں، طالبان

    کابل: طالبان نے خواتین ملازمین کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی جگہ متبادل کے طور پر کسی رشتے دار مرد کو ملازمت پر بھیجیں-

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے ’’دی گارجیئن‘‘ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان حکومت نے خواتین ملازمین کو اپنی جگہ کسی مرد رشتے دار کو ملازمت پر بھیجنے کا کہا ہے حکومتی عہدوں پر کام کرنے والی خواتین کو اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ان کی ملازمتوں سے گھر بھیج دیا گیا تھا،اور کچھ نہ کرنے کے لیے انہیں بھاری کم تنخواہیں دی گئی تھیں۔

    گارجیئن سےبات کرتے ہوئےکئی خواتین نےبتایا کہ طالبان حکام نے ہمیں کال کرکے کہا ہےکہ اپنی جگہ کسی مرد رشتے دار کو ملازمت پر بھیجیں۔ چند ایک خواتین کو بھی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مرد رشتے داروں کو متبادل بناکر نہ بھیجا تو ایسی خواتین کی ملازمتوں سے برخاست کردیا جائے گا۔

    طالبان حکومت کی جانب سے خواتین ملازمین کے لیے یہ حکم حکومت سنبھالنے کے ایک سال بعد آیا اور اس دوران خواتین کو ملازمتوں پر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ طالبان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خواتین سے متعلق ماحول سازگار ہونے پر انھیں ملازمتوں پر واپس بلالیا جائے گا۔

    طالبان پر خواتین کو ملازمتوں پر آنے کی اجازت نہ دینے، لڑکیوں کے اسکولوں کی بندش اور کابینہ میں تمام طبقات کی شمولیت نہ ہونے پر شدید عالمی دباؤ ہے تاہم طالبان نے مؤقف اختیار کیا ہے وہ اپنے فیصلے اسلامی قوانین اور افغان کلچر کے مطابق کریں گے۔

    یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما بہاؤس نے مئی میں کہا: "خواتین کی ملازمت پر موجودہ پابندیوں کے نتیجے میں 1 بلین ڈالر تک کا فوری معاشی نقصان ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے – یا افغانستان کی جی ڈی پی کا 5 فیصد تک انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں تقریباً عالمگیر غربت ہے۔ "ایک پوری نسل کو غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کا خطرہ ہے۔”