Baaghi TV

Tag: طالبان

  • طالبان کا نماز جمعہ کے دوران ایک ہی خطبہ دینے کا حکم

    طالبان کا نماز جمعہ کے دوران ایک ہی خطبہ دینے کا حکم

    کابل: طالبان نے ملک بھر کی مساجد میں نماز جمعہ کے دوران ایک ہی خطبہ دینے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق طالبان کی وزارت حج اور اوقاف کی جانب سے ملک کی تمام مساجد کے مبلغین کو نماز جمعہ کے دوران ایک ہی خطبہ دینے اورطالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی فتح کے لیے لازمی دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    بھارت: عام آدمی پارٹی ایم ایل اے کی دہلی میں پٹائی،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    وزارت حج و اوقاف کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک کی مساجد کے آئمہ اور مبلغین کے لیے ایک متفقہ خطبہ کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں خطبہ کے ستون، روایات اور آداب کو دیکھا گیا ہے۔ متفقہ خطبے کی منظوری امارت اسلامیہ افغانستان کی اتھارٹی نے دی ہے۔

    وزارت حج و اوقاف نے امیر کے لیے لازمی دعا کرنے سے متعلق موقف دیا کہ جمعہ کے خطبہ میں آداب اور مستحبات ہیں جن میں سے ایک امیر اور حاکم وقت کے لیے نیک دعا، اس کی ثابت قدمی اور اپنے دشمنوں پر فتح ہے۔

    طالبان کی وزارت حج و اوقاف نے مذہبی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صحابہ کے دور میں سلطان اور حکمران کے لیے دعائیں کی جاتی تھیں جب کہ افغانستان کے آخری بادشاہ ظاہر شاہ کے دور میں بھی اس کے لیے خطبات میں دعائیں ادا کی جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ خلافت عثمانیہ کے دوران خطبات میں عثمانی خلفا کے لیے دعائیں مانگی کی جاتی تھیں۔

    طالبان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں اپنی پہلی حکومت کے دوران انہوں نے نماز جمعہ کے خطبوں میں اس تحریک کے اس وقت کے رہنما اور بانی ملا محمد عمر کے لیے دعا کی تھی۔

    فیفا ورلڈکپ2022: افتتاحی تقریب براہ راست نشر نہ کرنے پر بی بی سی کو تنقید کا سامنا

  • طالبان نے خواتین پر پارکوں کے بعد جم میں جانے پر بھی پابندی عائد کر دی

    طالبان نے خواتین پر پارکوں کے بعد جم میں جانے پر بھی پابندی عائد کر دی

    کابل: افغانستان میں طالبان نے خواتین پر جم میں جانے پر بھی پابندی لگادی جہاں کا عملہ مکمل طور پر خواتین پر ہی مشتمل تھا۔

    باغی ٹی وی : طالبان نے گزشتہ سال اگست 2021 میں ملک پر قبضہ کر لیا تھا انہوں نے وعدوں کے برعکس لڑکیوں کو مڈل سکول اور ہائی سکول میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے، خواتین کو ملازمت کے زیادہ تر شعبوں سے روک دیا ہے-

    انڈونیشین خاتون اول طیارے سے اترتے ہوئے پھسل کر گر گئیں،صدر کا اٹھنے میں مدد کرنے سے گریز

    وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کے محکمے ’’نیکی کے فروغ اور بدی کی روک تھام‘‘ کی پولیس نے ابھی چند روز قبل ہی خواتین کے پارکوں اور تفریحی مقامات میں جانے پر بھی پابندی عائد کی تھی-

    طالبان نے پابندیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے اب خواتین کے ورزش کے لیے جم جانے پر بھی پابندی عائد کردی ہے جب کہ حمام خانوں میں خواتین کے جانے پر پہلے ہی پابندی عائد تھی-

    وزارتِ فضیلت اور نائب کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ پابندی اس لیے لگائی گئی ہے کیونکہ لوگ صنفی علیحدگی کے احکامات کو نظر انداز کر رہے تھے اور خواتین مطلوبہ اسکارف یا حجاب نہیں پہن رہی تھیں۔ خواتین کے پارکوں میں جانے پر بھی پابندی ہے۔

    امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی وزارت کے ترجمان محمد عاکف صادق مہاجر نے اے ایف پی کو بتایا کہ جم جانے کی پابندی وہاں مرد ٹرینر یا پھر مخلوط عملے کی وجہ سے لگائی ہے۔

    18 سال تک ائیر پورٹ پر رہنے والا شخص انتقال کر گیا

    تاہم ایک خاتون کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں جس میں وہ روتے ہوئے بتارہی ہیں کہ طالبان نے اُن جمز میں بھی جانے پر پابندی عائد کردی جہاں ٹرینر اور دیگر عملہ خواتین پر ہی مشتمل تھا۔

    وزارتِ فضیلت اور نائب کے لیے طالبان کے مقرر کردہ ترجمان محمد عاکف مہاجر کے مطابق، خواتین کے جموں اور پارکوں کے استعمال پر پابندی اس ہفتے نافذ ہو گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ گروپ نے گزشتہ 15 مہینوں میں خواتین کے لیے پارکس اور جم بند کرنے، مرد اور خواتین تک رسائی کے لیے ہفتے کے الگ الگ دنوں کا حکم دینے یا صنفی علیحدگی مسلط کرنے سے بچنے کے لیے "اپنی پوری کوشش” کی ہے لیکن، بدقسمتی سے، احکامات کی تعمیل نہیں کی گئی اور قوانین کی خلاف ورزی کی گئی، اور ہمیں خواتین کے لیے پارکس اور جم بند کرنے پڑے

    مہاجر نے کہا کہ زیادہ تر معاملات میں، ہم نے پارکوں میں مرد اور خواتین دونوں کو اکٹھے دیکھا ہے اور بدقسمتی سے حجاب نہیں دیکھا گیا۔ اس لیے ہمیں ایک اور فیصلہ کرنا پڑا اور فی الحال ہم نے تمام پارکوں اور جموں کو خواتین کے لیے بند کرنے کا حکم دیا۔

    انہوں نے کہا کہ طالبان کی ٹیمیں اداروں کی نگرانی شروع کر دیں گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا خواتین اب بھی انہیں استعمال کر رہی ہیں۔


    ایک خاتون پرسنل ٹرینر نے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ کابل کے جم میں جہاں وہ کام کرتی ہے اس سے پہلے خواتین اور مرد ایک ساتھ ورزش یا تربیت نہیں کر رہے تھے اس نے کہا کہ دو آدمی جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ وزارتِ فضیلت اور نائب سے ہیں، اس کے جم میں داخل ہوئے اور تمام خواتین کو وہاں سے چلے گئے-

    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن

    طالبان کی طرف سے مقرر کیے گئے کابل پولیس چیف کے ترجمان خالد زدران نے کہا کہ انہیں جموں کی بندش یا گرفتاریوں پر احتجاج کرنے والی خواتین کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔


    افغانستان میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے خواتین ایلیسن ڈیوڈیان نے اس پابندی کی مذمت کی انہوں نے کہا کہ یہ طالبان کی جانب سے خواتین کو عوامی زندگی سے مسلسل اور منظم طریقے سے مٹانے کی ایک اور مثال ہے ہم طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کے تمام حقوق اور آزادیوں کو بحال کریں۔

    کابل میں مقیم خواتین کے حقوق کی کارکن سودابہ نازہند نے کہا کہ جموں، پارکوں، کام اور اسکول پر پابندی سے بہت سی خواتین یہ سوچتی رہیں گی کہ افغانستان میں ان کے لیے کیا بچا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ صرف خواتین کے لیے نہیں بلکہ بچوں کے لیے بھی پابندی ہے بچے اپنی ماؤں کے ساتھ پارک جاتے ہیں، اب بچوں کو بھی پارک جانے سے روک دیا جاتا ہے، یہ بہت افسوسناک اور ناانصافی ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ برس اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان میں تاحال خواتین کی ملازمتوں، لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول جانے، محرم کے بغیر سفر کرنے اور خواتین کے عوامی مقامات پر جانے پر پابندی ہے۔

    مغربی ملک ایران میں میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں،ایرانی وزیر خارجہ

  • افغانستان:سنگسار کی سزا سے بچنے کیلئے لڑکی نے خودکشی کر لی

    افغانستان:سنگسار کی سزا سے بچنے کیلئے لڑکی نے خودکشی کر لی

    کابل: افغانستان کے صوبہ غور میں لڑکی نے سنگنسار ہونے کی سزا سے بچنے کیلئے خود کشی کر لی-

    باغی ٹی وی: خبر ایجنسی کے مطابق افعانستان کے صوبہ غور میں پسند کی شادی کے لیے گھر سے فرار ہونے والے جوڑے کو طالبان اہلکاروں نے پکڑ کر زنا کے الزام میں سنگسار کی سزا سنادی۔

    مقامی طالبان حکام کے مطابق خاتون جس شخص کے ساتھ گھر سے بھاگی تھی وہ شادی شدہ مرد تھا لڑکے کی سزا پر عمل درآمد 13 اکتوبر کو پھانسی دے کر کردیا گیا تھا اور آج لڑکی کو سرعام سنگسار کی سزا دی جا رہی تھی تاہم لڑکی نے عین موقع پر اسکارف سے اپنا گلا گھونٹ کر خودکشی کرلی۔

    غور کے لیے طالبان کے صوبائی پولیس چیف کے ترجمان عبدالرحمٰن نے کہا کہ یہ واقعہ، جس میں سرعام سنگساری کی سزا پانے والی ایک خاتون نے سزا ملنے سے پہلے خودکشی کر لی، صوبے کے ڈولائنہ ضلع میں خواتین کی جیل نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔

    طالبان سیکیورٹی اہلکار کے مطابق، خاتون نے اسکارف سے خود کو گلا گھونٹ لیا، سزا ملنے سے پہلے ہی اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

    طالبان حکومت کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ صوبہ غور کے ڈولائنہ ضلع میں مرد اور عورت کی شادی ہوئی تھی لیکن ایک دوسرے سے نہیں اور وہ گھر سے بھاگ گئے تھے۔

    افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے مرکزی بینک سمیت تمام عالمی فنڈز منجمد کردیئے گئے تھے جس کے باعث ملک کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے اور ملک میں غربت کے ڈیرے ہیں لوگ اپنی بیٹیاں فروخت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

    اس تمام صورت حال کے باعث افغان لڑکیوں میں گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کےرجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے جب کہ طالبان حکومت نے انہیں سنگسار کرنے یا سرعام کوڑے مارنے کا فیصلہ کیا ہے خواتین اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔

    خیال رہے کہ طالبان نے گزشتہ برس 15 اگست کو افغانستان میں حکومت قائم کی تھی اور تب سے لڑکیوں کی سیکنڈری تعلیم، خواتین کی ملازمتوں اور نامحرم کے بغیر سفر کرنے پر پابندی ہے یہاں تک کہ ٹیکسی ڈرائیوروں اور دیگر شہری نقل و حمل کی خدمات کو طالبان نے محرم کے بغیر خواتین کو سروس فراہم کرنے سے منع کیا تھا۔

  • سوات اسکول وین حملہ؛ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا درندگی کا پست سے پست تر رجحان ہے. بلاول بھٹو

    سوات اسکول وین حملہ؛ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا درندگی کا پست سے پست تر رجحان ہے. بلاول بھٹو

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا سوات اسکول وین حملہ کے حوالے سے کہنا ہے کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا درندگی کا پست سے پست تر رجحان ہے.

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سوات میں اسکول وین پر دہشتگرد حملے کی شدید الفاظ مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا درندگی کا پست سے پست تر رجحان ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے سوات سمیت پورے ملک کی عوام کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے بچوں سمیت ہر شہری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں.
    وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ؛ اس سفاکانہ واقعے میں ملوث ملزمان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حملے میں شہید ہونے والے وین کے ڈرائیور کے لواحقین سے تعزیت و دلی ہمدردی کا اظہار اور حملے میں زخمی ہونے والے طلبہ کی جلد صحتیابی کی دعا بھی کی ہے.

    خیال رہے کہ سوات میں اسکول وین ڈرائیور کے قتل کے خلاف احتجاج کو آج دوسرا روز ہے اور مقتول وین ڈرائیور کے لواحقین نے منگل کو مسلسل دوسرے روز بھی احتجاج جاری رکھا ہے. جبکہ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک ملزمان کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا احتجاج جاری رہے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردانہ حملے اور بدامنی ناقابل برداشت ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں اور ہم دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے۔
    مینگورہ، جس شہر میں یہ حملہ ہوا، کے رہائشیوں کو خدشہ ہے کہ اسے پاکستانی طالبان نے انجام دیا ہے لیکن عسکریت پسندوں نے پیر کو ہونے والی فائرنگ کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔ جبکہ ایک پرائیویٹ سکول کے پرنسپل احمد شاہ نے بتایا کہ “لوگ ناراض ہیں اور وہ احتجاج کر رہے ہیں۔ تمام پرائیویٹ سکولوں کے طلباء احتجاج کے لیے نکل آئے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج یعنی منگل کو اسکول بند رہیں ہیں اور تب تک بند ہونگے جب تک انصاف نہیں ملتا.

    یاد رہے کہ ایک روز قبل ایک مسلح حملہ آور نے اسکول وین پر فائرنگ کی تھی جس سے وین ڈرائیور ہلاک اور ڈرائیور کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھا ایک طالب علم زخمی ہوگیا تھا۔ جس کے بعد سے متاثرہ لواحقین اور پڑوسیوں نے احتجاج شروع کر دیا ہے اور انہوں نے انصاف کا مطالبہ کیا۔ یہ حملہ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی طرف سے گولی مارنے کے 10 سال مکمل ہونے کے ایک دن بعد ہوا ہے جب وہ ایک اسکول کی طالبہ تھیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئندہ ماہ پنجاب میں ایک بار پھر ہماری حکومت ہوگی. لیگی رہنماء حنیف عباسی کا دعویٰ
    وفاقی کابینہ اجلاس؛ ممکنہ لانگ مارچ میں امن و امان کیلئے وزارت داخلہ کی 41 کروڑ کی سمری منظور
    زلفی بخاری اور افتخار درانی نےآصف زرداری کے خلاف نااہلی ریفرنس جمع کرا دیا
    اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان ایسے وقت میں اقتدار میں واپس آنے کا دعویٰ کر رہے ہیں جب خیبرپختونخوا میں مکمل افراتفری ہے اور امن و امان کی صورتحال ابتر ہے وہ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کر رہے تھے جہاں وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف اور جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا. دریں اثناء مولانا چترالی نے صوبے میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا.

  • امریکا اورطالبان کے درمیان دوحا معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ

    امریکا اورطالبان کے درمیان دوحا معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ

    کابل : امریکا اور طالبان کے درمیان دوحامعاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی جیل میں قید سینئر طالبان رہنما حاجی بشیر نور زئی ایک معاہدے کے تحت رہا ہوکر کابل پہنچ گئے جن کے بدلے میں طالبان حکومت نے بھی امریکی انجینیئر کو آزاد کردیا۔

    طالبان حکومت کے وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ 2005 سے گرفتار رہنما بشیر نور زئی کابل پہنچ گئے جن کے بدلے میں امریکی انجینئر مارک فریرچس کو رہا کیا گیا ہے۔


    قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کابل ائیرپورٹ پر امریکی شہری مارک فریچس کو امریکی اہلکاروں کے حوالے کیا جبکہ امریکی اہلکاروں نے طالبان رہنما حاجی بشیر نورزئی کو طالبان کے حوالے کیا-


    وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا کہ حاجی بشر کی رہائی افغان امریکا تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ ان کی رہائی سے واضح ہوگیا مسائل کا واحد حل مذاکرات کی میز ہے۔اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کے مفاد کا خیال رکھیں تو دونوں کے درمیان بہتر تعلقات کے قیام میں کوئی رکاوٹ نہیں۔


    امریکی سول انجینیئر مارک فریرچس افغانستان میں بطور کنٹریکٹر خدمات انجام دے رہے تھے اور طالبان نے انھیں 31 جنوری 2020 کو حراست میں لیا تھا۔ جس کے بعد طالبان نے انجینیئر کے بدلے بشیر نور زئی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

    اس حوالے سے افغانستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہےکہ حاجی بشیر نورزئی طالبان کے سینیئر رہنما تھے منشیات اسمگلنگ کے الزام میں 17 سال سے امریکی جیل میں قید تھے۔


    2005 میں وہ دبئی سے نیویارک گئے تھے تاکہ امریکا اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات شروع کرسکیں تاہم تمام تر اخلاقی معیارات کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا گیا اور عمر قید کی سز اسنادی گئی۔

    واضح رہے کہ بشیر نور زئی گوانتا نامو بے جیل میں قید نہیں تھے بلکہ ایک امریکی جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ انھیں 50 ملین ڈالر مالیت کی ہیروئن امریکا اسمگل کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

    طالبان رہنما کے وکلاء نے عدالت میں ان الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے مؤکل کو بے بنیاد کیس میں پھنسایا گیا ہے کیوں کہ امریکی پولیس کے پاس ان کی گرفتاری کا ٹھوس جواز نہیں تھا۔

  • امریکا کا افغان مرکزی بینک کے منجمد 3.5 ارب ڈالرسوئس میں قائم ٹرسٹ کےذریعے منتقل کرنے کا اعلان

    امریکا کا افغان مرکزی بینک کے منجمد 3.5 ارب ڈالرسوئس میں قائم ٹرسٹ کےذریعے منتقل کرنے کا اعلان

    امریکا نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ ایک نئے سوئس ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے افغانستان کے مرکزی بینک کے منجمد 3.5 ارب ڈالر منتقل کیا جائے گا جو طالبان کے زیر کنٹرول نہیں ہوں گے، جس سے گرتی ہوئی تباہ حال معیشت مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے ‘روئٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق ٹرسٹیز بورڈ کے ماتحت افغان فنڈ سے ملک بجلی جیسی اہم درآمدات کی ادائیگی کر سکتا ہے، اس کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں کو قرض کی ادائیگی، ترقیاتی امداد کے لیے افغانستان کی اہلیت کا تحفظ اور نئی کرنسی کی پرنٹنگ کے لیے بھی فنڈز فراہم کر سکتا ہے۔

    برطانیہ میں مہنگائی 14 سال کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی

    امریکی ڈپٹی سیکریٹری برائے خزانہ ویلے ایڈیمو نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان فنڈ کو محفوظ رکھا جائے گا اور مخصوص 3.5 ارب ڈالر کا اجرا ملکی معیشت میں زیادہ سے زیادہ استحکام لانے کے لیے مددگار ہو گا۔

    امریکی حکام نے کہا کہ افغان مرکزی بینک میں اس وقت تک رقم منتقل نہیں کی جائے گی جسے ڈی اے بی کہا جاتا ہے جب تک اس میں سیاسی مداخلت ختم نہیں ہوتی، جہاں بینک کے اعلیٰ طالبان عہدیداروں کے حوالے سے سفارتی تعطل بھی پیدا ہوا تھا کیونکہ ان میں سے دو عہدیدار ایسے ہیں، جن پر اقوام متحدہ اور امریکا کی پابندی عائد ہے اور منی لانڈرنگ کے خلاف حفاظتی اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں۔

    امریکی ڈپٹی سیکریٹری برائے خزانہ ویلے ایڈیمو نے مرکزی بینک کے سپریم کونسل کو ایک خط میں لکھا کہ جب تک شرائط مکمل نہیں کی جاتیں ڈی اے بی (افغان سینٹرل بینک) میں فنڈ منتقل کرنا ناقابل فہم خطرہ ہوگا اور افغان عوام کی مدد خطرے میں پڑے گی۔

    ڈی اے بی نے کہا کہ مرکزی بینک کے ذخائر افغان عوام کے ہیں اور ان کا مقصد کرنسی کے استحکام، مالیاتی نظام کی مضبوطی اور بین الاقوامی تجارت میں سہولت فراہم کرنا ہے –

    ڈی اے بی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر متعلقہ اہداف کے لیے ذخائر کی تفویض، استعمال یا منتقلی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ ڈی اے بی کے لیے ناقابل قبول ہے۔

    اسکاٹ لینڈ میں شہنشاہیت کے خلاف مظاہرے، جمہوریت کا پول کھل گیا

    جنیوا میں قائم نیا فنڈ کا اکاؤنٹ بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (بی آئی ایس) میں ہے اور یہ فنڈ مرکزی بینکوں کو مالی خدمات فراہم کرتا ہے۔

    بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (بی آئی ایس) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بی آئی ایس افغانستان کے لوگوں کے لیے فنڈ کے ساتھ صارفین کے تحت تعلقات بنا رہا ہے، جس کا کردار فنڈ کے انتظام یا فیصلہ سازی میں شامل کیے بغیر فنڈ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کو بینکنگ خدمات فراہم کرنے اور ان پر عمل درآمد تک محدود ہے اور وہ تمام قابل اطلاق پابندیوں اور ضوابط کی تعمیل کرے گا۔

    سوئس حکومت نے کہا کہ وہ اس فاؤنڈیشن کی حمایت کرے گی جس نے واشنگٹن کو مالیاتی اور ترقیاتی مہارت فراہم کرکے قائم کرنے میں مدد کی تھی۔ اس نے وزارت خارجہ کی اہلکار الیگزینڈرا بومن کو بورڈ کی نمائندہ نامزد کیا۔

    اقوام متحدہ کے مطابق اس فنڈ سے گرتی ہوئی معیشت کے سنگین مسائل حل نہیں ہوں گے سنگین معاشی اور انسانی بحرانوں کے مزید بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ سردیوں کا موسم آنے کو ہے اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کے 4 کروڑ آبادی کا تقریباً نصف حصہ شدید بھوک اور افلاس کا شکار ہے۔

    طالبان کا سب سے بڑا مالی چیلنج مالی امداد کی تلافی کرنے کے لیے نیا سرمایہ پیدا کرنا ہے، جس پر حکومتی اخراجات کا 75 فیصد تک خرچ ہوتا جو کہ دو دہائیوں تک رہنے والی جنگ کے خاتمے پر امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد اگست 2021 میں کابل پر طالبان کی واپسی کے ساتھ ہی امریکا اور دیگر عطیہ دہندگان نے امداد روک دی تھی۔

    طالبان حکومت کا پنجشیر میں 40 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نئے فنڈ کے حوالے سے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی معیشت کو سنگین ساختی مسائل کا سامنا ہے جس میں طالبان کے قبضے کے بعد اضافہ ہوگیا ہے۔

    معاشی بحران کی وجوہات میں دہائیوں پر محیط جنگ، خشک سالی، عالمی وبا کورونا، بے تحاشا بدعنوانی، اور عالمی بینکوں سے افغانستان کے سینٹرل بینک کا منقطع ہونا شامل ہیں۔

    اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے صحافیوں کو بتایا کہ 3.5 بلین ڈالر ابھی نئے فنڈ میں جمع ہونا باقی ہیں، لیکن منتقلی "جلد سے جلد” ہو جائے گی۔

    نئے فنڈ کا قیام امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ، سوئٹززلینڈ اور دیگر فریقین کے درمیان مذاکرات کے دو مہینوں بعد عمل میں آیا ہے جہاں طالبان نے امریکا کی طرف سے منجمد کیے گئے 7 ارب ڈالر افغان مرکزی بینک میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    ملکہ الزبتھ کا انتہائی خفیہ خط جو 2085 میں کھولاجائے گا، کس کے نام ہے پیغام؟

    یہ بات چیت کابل میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو افغان طالبان کی طرف سے مبینہ طور پر پناہ دینے 31 جولائی کو ان کے کابل سیف ہاؤس پر سی آئی اے کے ڈرون حملےمیں مارے جانے پرامریکی غصے کے باوجود اور انسانی حقوق بالخصوص بچیوں کے سیکنڈری اسکول بند کرکے تعیلم کے حق سے محروم رکھنے پر عالمی برادری اور امریکی ناراضی کے باوجود بھی جاری رہی-

    رواں برس فروری میں امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانسان کے عوام کو سہولیات دینے کے لیے 3.5 ارب ڈالر نئے ٹرسٹ فنڈ میں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    افغانستان کے دیگر 3.5 ارب ڈالر 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر حملوں کے حوالے طالبان کے خلاف جاری مقدمات پر خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ بقیہ رقم پر عدالت فیصلہ دے سکتی ہے جس کے بعد وہ نئے فنڈ میں منتقل کر دیے جائیں گے۔

    افغان مرکزی بینک کے دیگر 2 ارب ڈالر کے اثاثے یورپی اور اماراتی بینکوں میں منجمد ہیں اور وہ بھی اس نئے فنڈ میں منتقل کئے جا سکتے ہیں-

    امریکی حکام نے کہا کہ اس فنڈ کی نگرانی ایک بورڈ کرے گا جس میں امریکی حکومت کے نمائندے، سوئٹزرلینڈ میں امریکی سفیر اسکاٹ ملر، سوئس حکومت کے نمائندے، افغان مرکزی بینک کے سابق سربراہ اور سابق وزیر خزانہ انور احدی اور ایک امریکی ماہر تعلیم شاہ محرابی شامل ہیں جو ڈی اے بی سپریم کونسل میں شامل ہیں۔

    امریکی ریاست اوریگن کے جنگلات میں لگی آگ بے قابو،86 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی پر…

  • طالبان حکومت کا پنجشیر میں 40 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    طالبان حکومت کا پنجشیر میں 40 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    افغانستان میں طالبان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے شمالی افغانستان کے صوبے پنجشیر میں باغی گروہ کے 40 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی :گزشتہ روز طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ پنجشیر صوبے کے علاقوں ریکھا، دارا اور افشار میں کلیئرنس آپریشن کے دوران باغی گروہ کے 4 کمانڈروں (ملک خان،فہیم کمانڈو، جواد اور محمد یار) سمیت 40 افراد کو ہلاک کر دیا ہے –

    طالبان حکومت اب بھی عالمی تنہائی کا شکار ہے،امیر خان متقی،دنیا ہماری حکومت کو…


    جبکہ 100 سے زائد جنگجوؤں کو گرفتار کیا گیا ہے ،ان سے اسلحہ بھی برآمد ہوا وہ لوگوں کی سلامتی کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔


    جبکہ طالبان مخالف مزاحمت کار گروہ ’’دی نیشنل ریززٹنٹ فرنٹ‘‘ کی جانب سے تاحال ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔


    ذبیح اللہ مجاہد نے وعدہ کیا کہ جلد ہی افغانستان سے صحافیوں اور میڈیا حکام کی ایک ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی تاکہ خیالات کے تبادلے، اور تعاون اور ہم آہنگی کو مضبوط کیا جا سکے۔

    افغان تماشائیوں کی اسٹیڈیم میں توڑ پھوڑ، پاکستانی مداحوں پر کرسیاں پھینکیں

    واضح رہے کہ بیرونی افواج کے انخلا کے بعد ستمبر 2021 میں کابل کے دارالخلافہ پر قبضے کے بعد طالبان حکومت کی جانب سے پنجشیر میں اپنی فتح کا اعلان کیا گیا تھا-

    جبکہ طالبان کے مخالف مزاحمت کار گروہ کا دعویٰ تھا کہ ان کی طالبان جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی جاری ہے اور وہ طالبان کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

    دوسری جانب طالبان کی جانب سے مزاحمت کار گروہ کے اس دعویٰ کی نفی کی گئی تھی کہ علاقے پر ان کا مکمل کنٹرول ہے اور کہیں بھی کوئی بڑی لڑائی نہیں ہو رہی ہے۔

    سوات:طالبان نے ٹیلی نار کمپنی کے 7 ملازمین کو تاوان کے عوض اغوا کرلیا

  • طالبان حکومت اب بھی عالمی تنہائی کا شکار ہے،امیر خان متقی،دنیا ہماری حکومت کو تسلیم کرے،ذبیح اللہ مجاہد

    طالبان حکومت اب بھی عالمی تنہائی کا شکار ہے،امیر خان متقی،دنیا ہماری حکومت کو تسلیم کرے،ذبیح اللہ مجاہد

    کابل: طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بدھ کو کہا کہ طالبان حکومت اب بھی عالمی تنہائی کا شکار ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی سطح پر کاروبار اور تجارت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یہ ایسے ہی کام کرتی ہے جیسے اسے عالمی سطح پر سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

    افغانستان کے شہر جلال آباد میں زلزلہ،11 افراد جاں بحق متعدد زخمی

    امیر خان متقی نے اس سے قبل عالمی برادری سے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاکہ ماضی میں جو کچھ ہوا اسے دہرایا نہ جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک نےایک جامع حکومت تشکیل دی ہے جو افغان عوام کو متحد کر سکتی ہے اور انہیں سلامتی اور خوشحالی فراہم کر سکتی ہے۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغانستان میں معاشی نظام اور حکومتی اداروں کو کمزور کرنے کے لیے بہت سی سازشیں شروع کی گئیں اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کا استحکام پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔


    دوسری جانب امارات اسلامیہ کےترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کابل یونیورسٹی میں خطاب میں کہا کہ کچھ باغی عناصر حکومت کو عدم استحکام کرنا چاہتےہیں،ان عناصر کا قلع قمع کرنا ضروری ہے،یہ عناصر افغان قوم کے اتحاد اور آزادی کے خلاف کام کر رہے ہیں،ان عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، دنیا ہماری حکومت کو تسلیم کرے-

    کابل میں روسی سفارتخانے کے قریب خودکش دھماکہ

    نائب وزیر تعلیم عبدالباقی کا کابل یونیورسٹی میں خطاب میں کہنا تھا کہ عالمی برادری کےساتھ مثبت پیش رفت نہ ہونے اور امارات اسلامیہ کی حکومت تسلیم نہ کرنےسےمعاشی مسائل بڑھے ہیں، دنیا کو سمجھنا ہو گا حکومت مسائل کا شکار رہتی ہے تو اس کی قیمت افغان عوام کو چکانی پڑے گی اور ایک نئی جنگ شروع ہو سکتی ہے-


    طالبان نے 15 اگست 2021 کو 20 سال بعد امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اس کے بعد طالبان نے دارالحکومت کابل بغیر کسی لڑائی کے فتح کر لیا تھا امریکی انخلا کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کے بیشتر حصے پر طالبان کا کنٹرول قائم ہونا شروع ہوگیا تھا۔

    اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فوری بعد طالبان کے ہاتھوں کابل کا سقوط ہوگیا اور سابق صدر اشرف غنی بھی ملک سے فرار ہوگئے تھے-

    پہلی باحجاب آسٹریلوی سینیٹر افغانستان سے ہجرت کی کہانی بتاتے رو پڑیں

  • افغان خاتون کا طالبان کے سابق ترجمان پر جنسی زیادتی اور تشدد کا الزام

    افغان خاتون کا طالبان کے سابق ترجمان پر جنسی زیادتی اور تشدد کا الزام

    افغان خاتون الہا دلوازیری نے طالبان حکومت کی وزارت داخلہ کے سابق ترجمان قاری سعید خوستی پر اس سے زبردستی شادی کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور ریپ کرنے کا الزام لگایا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق کابل یونیورسٹی کی ایک طالب علم دلوازیر نے یہ الزامات ایک ویڈیو میں لگائے ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی-

    افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر شاندار جشن


    ویڈیو میں الہا دلوازیری کو روتے ہوئےدیکھا جا سکتا ہے ویڈیو میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق طالبان جنگجو خوستی نے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس پر تشدد کیا۔

    دوسری طرف قاری سعید خوستی نے خاتون کی طرف سے الزامات رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے خاتون کی عصمت دری کا جرم نہیں کیا تھا انہوں نے زور دے کر کہا کہ انہوں نے دالوازیری کو اس کے "غیر اسلامی عقائد” کی وجہ سے طلاق دی ہے۔


    جبکہ لڑکی نے جو ویڈیو پوسٹ کی ہے اس میں اس کے جسم پر چوٹوں کے نشانات واضح دیکھے جا سکتے ہیں مگر خوستی نے کہا کہ اس نے اسے کبھی نہیں مارا۔

    امریکا میں منجمد اثاثے افغان عوام کی امانت ہیں اس پر نائن الیون کے متاثرین کا کوئی…


    قاری سعید خوستی نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے لڑکی سے "اس کے کہنے پر” شادی کی تھی اور اسے یہ معلوم کرنے کے بعد طلاق دے دی تھی کہ اس کے عقائد درست نہیں۔ یہاں تک کہ لڑکی پر قرآن کی توہین کا بھی الزام بھی لگایا۔

    خوستی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ 6 ماہ قبل میں نے الٰہ نامی لڑکی سے اس کے کہنے پر شادی کی، اس کے بعد میں نے دیکھا کہ اسے عقیدے کا مسئلہ ہے، میں نے مشورے اور بحث کے ذریعے اس کے عقائد کو درست کرنے کی کوشش کی، لیکن، یہ کامیاب نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ اس نے واضح طور پر قرآن پاک کی توہین کی جو کہ ثابت بھی ہے۔


    خوستی نے یہ بھی کہا کہ اس نے لڑکی کو نہیں مارا، اور یہ کہ اس نے ‘اپنی بیوی کو طلاق دے کر قانونی طور پر اس سے علیحدگی اختیار کر لی ہے-

    سوشل میڈیا پر اس حوالے سے رد عمل سامنے آیا ہے جس میں طالبان کے طرز عمل کی مذمت کی گئی ہےتاہم طالبان کی طرف سے سرکاری سطح پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

    افغانستان قحط کے دہانے پر پہنچ گیا، بدترین حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے،اقوام متحدہ…

  • افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر شاندار جشن

    افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر شاندار جشن

    کابل: افغانستان سے امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر طالبان کی جانب سے جشن منایا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : منگل کی شب کابل میں آسمان آتش بازی سے جگما اٹھا جس کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں دارالحکومت کابل کو رنگ برنگی لائٹوں سے روشن کیا گیا ہے جب کہ آج بدھ کو ملک بھر میں عام تعطیل ہے۔


    کابل میں تین سلطنتوں کے خلاف فتوحات کا جشن منانے کے بینرز آویزاں کیے گئے ہیں۔ ان سلطنتوں میں سابق سوویت یونین اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔

    سرکاری عمارتوں اور اسٹریٹ لائٹس پر طالبان کے سینکڑوں سفید پرچم لگائے گئے ہیں دارالحکومت کابل میں سابق امریکی سفارت خانے کے قریب مسعود اسکوائر پر طالبان سفید پرچم اٹھائے دکھائی دیئے جبکہ وہ شہر بھر میں گاڑیوں کے ہارن بجاتے ہوئے گشت کرتے رہے۔


    افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کی خوشی میں بگرام ایئر بیس پر شاندار ملٹری پریڈ منعقد ہوئی، وزیراعظم محمد حسن اخوند مہمان خصوصی تھے، وزیر دفاع، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ سمیت امارت اسلامیہ کی کابینہ اور اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی-


    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے پیغام میں کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر میں پوری قوم اور جہاد کے متاثرین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔


    انہوں نے کہا کہ مجاہدین کو آگاہ ہونا چاہیے کہ جہاد کی تمنائیں رائیگاں نہیں جاتیں، قوم کو مت بھولیں، اللہ تعالی پر توجہ دیں، لوگوں کی تھکاوٹ پر غور کریں اور انہیں تنہا نہ چھوڑیں۔
    https://twitter.com/IslamicEmiirate/status/1564577635488899073?s=20&t=UTyvIQyhFBdJmL6CPtvsRg

    اس موقع پر افغانستان کی نگراں حکومت کا کہنا ہے کہ ملک سے امریکی افواج کے انخلا کی پہلی سالگرہ کے موقع پر دنیا افغانستان کے حوالے سے معقول پالیسی اپنائے گی اور اس کی علاقائی سالمیت کا احترام کرے گی۔


    واضح رہے کہ امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ گزشتہ برس ہوا تھا اور 31 اگست کی آدھی رات غیر ملکی افواج کا انخلا مکمل ہوا تھا جس سے دو ہفتے قبل ہی طالبان نے افغانستان کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔

    امریکہ نے اس 20 سالہ طویل جنگ کا آغاز 11 ستمبر 2001 میں نیویارک میں ہونے والےحملوں کے تناظر میں کیا تھا۔اس جنگ کے دوران لگ بھگ 66 ہزار افغان فوجی اور 48 ہزار شہری ہلاک ہوئے جبکہ امریکی سروس کے دو ہزار 461 اراکین بھی مارے گئےاس کے علاوہ دیگر نیٹو ممالک کے ساڑھے تین ہزار سے زائد فوجی بھی ہلاک ہوئے۔

    افغانستان میں طالبان کی حکومت کو اب تک کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ طالبان کی حکومت پر عالمی دباؤ ہے کہ وہ انسانی حقوق خصوصاً خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور سخت قوانین میں نرمی لائیں۔

    افغانستان کے تقریباً تین کروڑ 80 لاکھ افراد بدترین انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ کیوںکہ ملک کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد ہیں اور غیرملکی امداد ختم ہو رہی ہے۔