Baaghi TV

Tag: عدالت

  • غیر قانونی اسلحہ و شراب برآمدگی کیس، علی امین گنڈاپور کے  وارنٹ گرفتاری برقرار

    غیر قانونی اسلحہ و شراب برآمدگی کیس، علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار

    اسلام آباد: غیر قانونی اسلحہ و شراب برآمدگی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اسلام آباد کے سینئر سول جج مبشر حسن چشتی نے علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو برقرار رکھتے ہوئے اس کیس کی سماعت 29 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔

    تھانہ بہارہ کہو میں درج غیر قانونی اسلحہ اور شراب برآمدگی کے مقدمے میں علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کے لیے عدالت نے وارنٹ جاری کیے تھے، تاہم ابھی تک ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ عدالت نے اس کیس کے حوالے سے پولیس کے عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز سے وضاحت طلب کی ہے کہ وہ عدالت کے احکامات پر عملدرآمد میں کیوں ناکام رہے۔سینئر سول جج اسلام آباد، مبشر حسن چشتی نے دوران سماعت کہا کہ علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا معاملہ سنجیدہ ہے اور اس پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈی آئی جی آپریشنز سے پوچھا کہ وہ عدالت کے حکم پر عمل کیوں نہیں کر پا رہے اور اس کے حوالے سے اپنی وضاحت پیش کریں۔

    مقدمہ میں غیر قانونی اسلحہ اور شراب کی برآمدگی کے الزامات ہیں، جن پر عدالت نے متعلقہ حکام سے مزید معلومات اور کارروائی کی تفصیل طلب کی۔عدالت کی طرف سے یہ واضح کیا گیا کہ آئندہ سماعت 29 جنوری کو ہوگی، جس میں علی امین گنڈاپور کی گرفتاری اور دیگر قانونی پہلوؤں پر مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    چھوٹی آستینوں، ٹائٹ یا دھیان بھٹکانے والے کپڑے نہ پہنیں،طلبا کیلیے ہدایات

  • نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    لاہور ہائیکورٹ نے یوٹیوبر رجب علی بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔

    یہ فیصلہ کراچی میں درج مقدمے کی وجہ سے کیا گیا،جہاں رجب بٹ پر الزام تھا کہ انہوں نے نماز کی ادائیگی کے دوران میوزک چلایا تھا۔ عدالت نے رجب بٹ کو 28 جنوری تک حفاظتی ضمانت دے دی۔جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے بنچ نے اس مقدمے کی سماعت کی، جس میں رجب بٹ کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کے موکل کو حفاظتی ضمانت دی جائے۔ رجب بٹ، جو کہ ایک معروف ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر ہیں، عدالت میں پیش ہوئے اور درخواست کی کہ انہیں کراچی کی متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ کیس کی پیروی کر سکیں۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رجب بٹ کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ وہ کراچی کی عدالت میں پیش ہونے سے قبل پولیس گرفتار کر لے گی۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور کی جائے تاکہ وہ قانونی کارروائی میں حصہ لے سکیں۔

    عدالت نے وکیل کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت 28 جنوری تک کے لیے منظور کر لی۔ عدالت نے حکم دیا کہ رجب بٹ اس مدت کے دوران گرفتار نہیں کیے جائیں گے اور وہ اپنے مقدمے کی پیروی کے لیے کراچی کی متعلقہ عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ کراچی کی مقامی عدالت کے حکم پر یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا،یہ مقدمہ نماز کی مبینہ بے حرمتی کے معاملے پر درج کیا گیا ہے، مقدمہ تھانہ حیدری میں پاکستان کے تعزیرات کے سیکشن 295-A کے تحت درج کیا گیا ہے۔عدالت میں مدعی کا بیان پولیس نے قلمبند کر لیا، جس کے بعد رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت کی جانب سے دلائل سننے کے بعد پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

    ایڈوکیٹ ریاض علی سولنگی نے اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اگلا مقصد رجب بٹ کو گرفتار کروانا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اس دفعہ کے تحت رجب بٹ کو دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مقدمے کے ذریعے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ آئندہ کوئی بھی شخص شعائر اسلام کی توہین کرنے سے پہلے سوچے گا۔

    متحدہ عرب امارات پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک

    سیف علی خان پر حملے کا ملزم قومی سطح پر ریسلنگ کا چیمپئن نکلا

  • 32 مقدمے،بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    32 مقدمے،بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    راولپنڈی: انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کیس میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں یکم فروری تک توسیع کر دی ہے۔

    ، 26 نومبر 2022 کو ہونے والے پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران بشریٰ بی بی کے خلاف 32 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ تاہم، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں قید ہونے کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں۔عدالت کے جج امجد علی شاہ رخصت پر ہونے کے سبب عبوری ضمانت میں توسیع کی گئی۔ اس کیس میں مزید سماعت بعد میں ہوگی۔

    یاد رہے کہ بشریٰ بی بی پر 26 نومبر کے احتجاج کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر اور دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس کے بعد ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ بشری بی بی کے خلاف حسن ابدال، حضرو، اٹک، ٹیکسلا اور راولپنڈی میں مقدمات درج ہیں۔بشریٰ بی بی کو القادر ٹرسٹ کیس میں سزا سنانے کے بعد اڈیالہ جیل سے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ اب اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہی ہیں.

    ٹرمپ کا عمران کی رہائی کیلئے کردارصرف پی ٹی آئی کی خوش گمانی

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

  • سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    سپریم کورٹ بنچز کے اختیارات کا کیس مقرر نہ ہونے پر جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کو فوری طور پر طلب کر لیا۔

    مقدمہ میں فریق کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین جسٹس منصور علی شاہ کی عدالت میں پیش ہوگئے۔بیرسٹر صلاح الدین نے عدالت میں کہا کہ کراچی سے صرف اسی کیس کیلئے آیا ہوں لیکن کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی،عدالت نے آج کیلئے مقدمہ مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔ایڈیشنل رجسٹرار کو فوری بلائیں تاکہ پتا چلے کیس کیوں نہیں مقرر ہوا۔

    ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ ایڈیشنل رجسٹرار کی طبیعت ٹھیک نہیں وہ چھٹی پر ہیں۔جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ جو مقدمہ مقرر کرنے کا حکم دیا وہ کیوں نہیں لگا؟ ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ ججز کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ترمیم سے متعلقہ کیس 27 جنوری کو آئینی بنچ میں لگے گا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں خود بھی کمیٹی کا رکن ہوں مجھے تو کچھ علم نہیں۔جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل آرڈر کو انتظامی کمیٹی کیسے اگنور کر کرسکتی ہے؟ جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ کیا عدالتی حکم کمیٹی کے سامنے رکھا گیا تھا؟ ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ عدالتی حکم کمیٹی میں پیش کیا تھا۔جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہماری پورے ہفتے کی کاز لسٹ کیوں تبدیل کر دی گئی؟ ہم نے ٹیکس کے مقدمات مقرر کر رکھے تھے جو تبدیل کر دیے گئے۔

    عدالت نے ججز کمیٹی کا پاس کردہ آرڈر اور میٹنگ منٹس کی تفصیلات طلب کر لیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے ہدایت کی کہ کاز لسٹ کیوں تبدیل کی گئی اس حوالے سے کوئی تحریری ہدایت ہے تو وہ بھی پیش کریں۔

    26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

  • 26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد: انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر کی عبوری ضمانت میں 14 فروری تک توسیع کر دی ہے۔

    اسد قیصر کے خلاف 26 نمبر چنگی توڑ پھوڑ کیس میں درخواستِ ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت ہوئی۔آج کی سماعت میں اے ٹی سی کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اسد قیصر کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ اس موقع پر اسد قیصر عدالت میں پیش نہیں ہوئے، تاہم ان کے وکیل صفائی عائشہ خالد نے ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

    اسد قیصر کے خلاف تھانہ سنگجانی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر توڑ پھوڑ اور دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ عدالت نے اسد قیصر کی عبوری ضمانت میں توسیع کر کے انہیں 14 فروری تک مقدمہ میں گرفتاری سے تحفظ فراہم کر دیا ہے۔یہ پیش رفت پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے لیے ایک بڑی راحت کی بات ہے، کیونکہ اس سے قبل بھی مختلف پی ٹی آئی رہنماؤں کی حفاظتی ضمانتیں منظور کی جا چکی ہیں

    سیف علی خان پر حملہ،ملزم نے اعتراف جرم کر لیا

  • عمران ،بشریٰ کو سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کیخلاف پی ٹی آئی پروپیگنڈہ کی حقیقت

    عمران ،بشریٰ کو سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کیخلاف پی ٹی آئی پروپیگنڈہ کی حقیقت

    القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنانے والے جج کے خلاف پی ٹی آئی نے پروپیگنڈہ شروع کر دیا وہیں، اسلام آباد سے سینئر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے بھی ایکس پر پوسٹ کی ہے

    حامد میر کا کہنا تھا کہ یہ 2004 میں جج ناصر جاوید رانا کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے سول جج ناصر جاوید رانا کے خلاف سوموٹو ایکشن لیا اور ان کے عدالتی اختیارات واپس لے لیے گئے۔ انہیں جوڈیشل سروس کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا لیکن اسی جج کو دوبارہ ملازمت پر رکھا گیا۔

    پی ٹی آئی کا جج کے خلاف پروپیگنڈہ اور حامد میر کی پوسٹ کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں،عمران خان کو سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا عدلیہ کے ایک قابل احترام جج ہیں جنہوں نے 2004 میں راولپنڈی میں سول جج کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں، ان کے بارے میں کچھ سال قبل سپریم کورٹ کی طرف سے شروع کی گئی انکوائری کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ انکوائری میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے وکیل وہاب خیری کے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ کے لیے ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر ریمانڈ دیا تھا۔ تاہم، انکوائری کے دوران جج کی معطلی کے باوجود، انہوں نے اپیل میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے جوڈیشل سروس ٹریبونل سے تمام مراعات کے ساتھ دوبارہ بحالی حاصل کی تھی۔

    اس کے بعد جج ناصر جاوید رانا کو لاہور میں سول جج کے طور پر تعینات کیا گیا اور انہوں نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں کامیابی سے اپنی خدمات انجام دیں۔ 2014 میں انہیں سینئر سول جج کے طور پر ترقی دی گئی اور 2015 میں ایڈیشنل سیشن جج کے طور پر ترقی ملی۔ 2019 میں انہیں اسلام آباد ویسٹ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پر تعینات کیا گیا اور 2021 میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پرتعیناتی کی گئی۔ اس کے بعد جج ناصر جاوید رانا نے اسلام آباد ویسٹ اور اسلام آباد ایسٹ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پر کامیابی کے ساتھ خدمات انجام دیں اور اب وہ نیب کے جج کے طور پر کام کر رہے ہیں۔جج ناصر جاوید رانا کی عدلیہ میں خدمات کی مدت 27 سال ہے، جس دوران انہوں نے تقریباً 35 ضلعی ججز کے تحت کام کیا، اور ان کے خلاف نہ تو کوئی کرپشن کا الزام عائد ہوا اور نہ ہی ان کی کارکردگی پر کبھی کوئی منفی رپورٹ درج کی گئی۔ ان کے خلاف 2004 کی انکوائری کا موجودہ مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جج ناصر جاوید رانا کی زندگی کی یہ تفصیلات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ عدلیہ کے وقار کو بلند رکھا اور اپنے فیصلوں میں مکمل دیانتداری کا مظاہرہ کیا۔

    جج ناصر جاوید رانا نے ہزاروں مقدمات کا فیصلہ کیا اور ہمیشہ میرٹ پر قانون کے مطابق دیا۔ اب عمران اور بشریٰ کو سزا سنائی گئی تو عمران خان اور ان کے وکلاء نے ان کے فیصلے پر تنقید کی اور جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کیا تو ان کا مقصد صرف اپنے ناپاک عزائم کو آگے بڑھانا تھا، اسکے باوجود کہ جج ناصر جاوید رانا کا فیصلہ ہمیشہ حق و انصاف پر مبنی رہا۔

     

    پاکستان کے عدالتی نظام میں جج ناصر جاوید رانا کے بارے میں جو پراپیگنڈا اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں، ان کے پس منظر میں کئی اہم حقائق پوشیدہ ہیں۔ خاص طور پر ان نام نہاد صحافیوں کے لیے جو اس معاملے پر منفی بیانیہ پھیلا رہے ہیں، یہ ضروری ہے کہ  حقیقت سامنے آئیں تاکہ صحیح صورتِ حال واضح ہو سکے۔

    سب سے پہلی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے۔ جب جج رانا کے خلاف الزامات لگائے گئے، تو لاہور ہائی کورٹ کو تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم، اس معاملے میں جج رانا کے حق میں تمام کورٹ کے عملے نے affidavits جمع کرائے، جن میں یہ کہا گیا کہ جج رانا کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں ہیں، بلکہ وہ بالکل صحیح ہیں۔ اس کے باوجود، سیاسی دباؤ کی وجہ سے، کمزور چیف جسٹس نے بغیر کسی ثبوت اور ٹرائل کے لاہور ہائی کورٹ کو کارروائی کا حکم دیا۔

    جب جج رانا ایک جونیئر جج تھے، تو انہوں نے سپریم کورٹ کی طرف سے کی جانے والی سوموٹو کارروائی میں کسی بھی قسم کے دباؤ کو مسترد کیا، اس کے بعد معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے حوالے کیا گیا، جہاں جج رانا کے حق میں فیصلہ آیا اور وہ اپنے عہدے پر بحال ہوئے۔

    ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ جناب ناظم حسین اگر جسٹس راشد عزیز خان کو راستے سے نہ ہٹاتے تو شاید وہ خود کبھی چیف جسٹس نہ بن پاتے۔ ان کی جانب سے برادر جسٹس راشد کے بارے میں ایسے ریمارکس دئیے گئے تاکہ ان کا کیریئر ختم ہو سکے اور ناظم حسین صدیقی کے چیف جسٹس بننے کا راستہ ہموار ہو۔ اس بات کو ریکارڈ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    اگر جج رانا لاہور ہائی کورٹ کی انکوائری میں قصوروار پائے جاتے تو انہیں فوری طور پر نوکری سے فارغ کر دیا جاتا۔ تاہم، جج رانا نے اپیل کے ذریعے اپنے آپ کو ثابت کیا اور یہ ثابت کیا کہ وہ کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں ہیں۔ اس طرح وہ اپنی نوکری پر قائم رہے اور ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔

    پی ٹی آئی نے ہمیشہ سچ اور حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا بیانیہ بنایا اور پھیلایا۔ اس بیانیہ کی حقیقت یہ ہے کہ جج رانا کو جب پی ٹی آئی کی حکومت میں نوکری سے فارغ نہیں کیا گیا، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر ان پر واقعی کوئی الزام تھا، تو انہیں 2019 میں اسلام آباد کیوں پوسٹ کیا گیا؟ اگر جج رانا کی سروس میں کوئی مسئلہ تھا تو انہیں کیوں نہیں نکالا گیا؟

    ان تمام حقائق کو دیکھتے ہوئے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ جج ناصر جاوید رانا کے بارے میں جو پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ حقیقت سے بعید ہے۔ انہیں سیاسی دباؤ کے باوجود اپنی خدمات میں تسلسل ملا اور انہوں نے کسی بھی قسم کے غیر قانونی عمل سے خود کو دور رکھا۔ ان کی سروس اور ان کے فیصلے ان کے کردار کو سچائی کے آئینے میں ثابت کرتے ہیں۔

    سیف علی خان چاقو حملہ کیس،مشتبہ شخص چھتیس گڑھ میں گرفتار

    ہر کسی کا ذریعہ آمدن ہوتا ہے عمران خان کا ذریعہ آمدن بتادیں ،عطاتارڑ

  • ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،ملزم سنجے عدالت پیش،فیصلہ آج

    ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،ملزم سنجے عدالت پیش،فیصلہ آج

    گزشتہ سال 9 اگست کو کولکتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال میں ایک پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر نیم برہنہ حالت میں مردہ پائی گئی تھی۔ اس ہولناک واقعے نے نہ صرف کولکتہ بلکہ پورے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا

    9 اگست 2024 کو کولکتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال کی تیسری منزل پر واقع سیمینار ہال سے ایک پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر کی نیم برہنہ لاش برآمد ہوئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ یہ ایک عصمت دری اور قتل کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ جیسے ہی یہ واقعہ سامنے آیا، پورے شہر اور بالخصوص ڈاکٹروں کے درمیان غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔واقعے کے بعد کولکتہ پولیس نے ملزم سنجے رائے کو ملزم کے طور پر حراست میں لیا، جس کے بعد مغربی بنگال میں ڈاکٹروں نے احتجاج شروع کیا۔ 12 اگست کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پولیس کو یہ کیس جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت دی، اور اگر ایسا نہ ہو تو معاملہ سی بی آئی کو سونپنے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد 13 اگست کو کلکتہ ہائی کورٹ نے اس کیس کا نوٹس لیا اور اسے سی بی آئی کے حوالے کر دیا۔

    14 اگست کو سی بی آئی نے اس کیس کی تحقیقات شروع کی اور ایک 25 رکنی ٹیم تشکیل دی۔ اس دوران کولکتہ میں عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاج بھی جاری رہا۔ 16 اگست کو پولیس نے توڑ پھوڑ کے ملزمان کو گرفتار کرنا شروع کیا اور 18 اگست کو سپریم کورٹ نے توڑ پھوڑ کے معاملے کا از خود نوٹس لے لیا۔ سپریم کورٹ نے اس کیس میں قومی پروٹوکول کی تیاری کی ہدایت بھی دی تھی۔سی بی آئی نے اس کیس میں کئی افراد کو گرفتار کیا، جن میں آر جی کر اسپتال کے سابق پرنسپل سندیپ گھوش اور دیگر اہم افراد شامل تھے۔ 7 اکتوبر کو سی بی آئی نے سنجے رائے کو ملزم قرار دے کر چارج شیٹ داخل کی۔

    سنجے رائے کے خلاف فرد جرم کی کارروائی 4 نومبر 2024 کو مکمل ہوئی اور مقدمے کی کارروائی 11 نومبر سے شروع ہو گئی۔ تمام ٹرائل کے دوران عدالت کا کمرہ بند رہا اور 50 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جن میں مقتولہ کے والدین، سی بی آئی اور کلکتہ پولیس کے تفتیشی افسران، فارنسک ماہرین اور آر۔جی۔کار کے ساتھی ڈاکٹروں کے بیانات شامل ہیں۔مقتولہ کی لاش کی دریافت کے بعد اور سی بی آئی کی ابتدائی تحقیقات کے دوران، اس واقعے نے وسیع پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا۔ میڈیکل کمیونٹی، شہری حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے سڑکوں پر آ کر متاثرہ ڈاکٹر کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا، یہ مظاہرے جلد ہی مغربی بنگال سے باہر بھی پھیل گئے اور دیگر بھارتی ریاستوں سمیت عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی، جہاں غیر مقیم بھارتی تنظیموں نے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

    شادی شدہ خاتون کی عصمت دری اور تشدد کے الزام میں ایف آئی آر درج

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    آج، 18 جنوری 2025 کو کولکتہ کی سیالڈا سیشن کورٹ اس عصمت دری اور قتل کے کیس میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اس کیس کا فیصلہ نہ صرف کولکتہ بلکہ پورے ہندوستان کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں انصاف کی فراہمی کے عمل کا پورا جائزہ لیا جائے گا۔یہ کیس اس بات کی گواہی ہے کہ عدلیہ، پولیس، اور عوامی احتجاج نے اس گھناؤنے جرم کو بے نقاب کرنے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا متاثرہ خاندان کو انصاف ملے گا اور اس ہولناک جرم کے ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے گی۔

    انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین وینے اگروال نے اس کیس پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "صرف ہم نہیں، پورا ملک اس فیصلے کا شدت سے منتظر ہے۔ ہمارے ڈاکٹر کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔ ایک خاتون ڈاکٹر، جو کہ ایک معروف ریاست کے معروف میڈیکل کالج میں کام کر رہی تھی، کو بے دردی سے زیادتی اور قتل کا نشانہ بنایا گیا۔”انہوں نے مزید کہا، "یہ واقعہ حکومت کے زیر انتظام ہسپتال میں، جب وہ اپنی ڈیوٹی پر تھیں، پیش آیا تھا، جس نے پورے ملک کو غصے میں مبتلا کر دیا۔ صرف میڈیکل کمیونٹی نہیں، بلکہ پوری قوم اس پر غم و غصے کا اظہار کر رہی تھی۔ پورا کولکتہ، بنگال اور دیگر ریاستیں جل اُٹھیں، اور تمام میڈیکل کالجز بند کر دیے گئے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی سخت سزا کی اپیل کی ہے۔”

    عدالت کے باہر ہفتہ کے روز 300 سے زائد پولیس اہلکاروں نے گارڈ ڈیوٹی دی جب آر جی کار ریپ اور قتل کیس کے مرکزی ملزم سنجے رائے کو فیصلہ سنانے سے پہلے عدالت میں داخل کیا گیا۔”سنجے رائے کو پھانسی دو”، "ہم اسے پھانسی چاہتے ہیں” کے نعرے عدالت کے باہر گونج رہے تھے، جہاں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی تھی۔ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر رینک کے افسران کے علاوہ انسپکٹرز بھی موجود تھے جب سنجے رائے تین گاڑیوں کے قافلے میں عدالت کی عمارت میں داخل ہوئے۔

    غور کیا جانا چاہیے کہ کس قانون کے تحت کتوں کو مارا جاتا ہے۔جسٹس عائشہ اے ملک

    پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

  • نومئی مقدمے،علیمہ خان کی درخواست ضمانت پر پراسیکیوشن سے دلائل طلب

    نومئی مقدمے،علیمہ خان کی درخواست ضمانت پر پراسیکیوشن سے دلائل طلب

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور، 5 اکتوبر اور نومئی کو پولیس پر تشدد، جلاؤ گھیراؤ اور پولیس توڑ پھوڑ کا مقدمہ ،عدالت نے علیمہ خان اور عظمی خان سمیت دیگر کی عبوری ضمانتوں پر سماعت کی

    عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی دونوں بہنوں کی حاضری کے لیے کیس انتظار میں رکھ لیا ،عدالت نے دیگر شریک ملزمان کی ضمانتوں میں 15 فروری تک توسیع کر دی ،سلمان اکرم راجہ کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی گئی، عدالت نے کہا کہ تفتیشی افسر تفتیش مکمل کر کے آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کریں عدالت ،پی ٹی آئی رہنما علی امتیاز ،ندیم نے عباس بارا عدالت پیش ہو کر حاضری لگائی ،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے سماعت کی ،ملزمان کے خلاف تھانہ اسلام پورہ ،لاری اڈا اور تھانہ مستی گیٹ میں مقدمات درج ہیں

    بعد ازاں علیمہ خان اور عظمی خان اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں، پراسیکیوشن نے کہا کہ جناح ہاؤس کیس میں تفتیش تاحال مکمل نہیں ہے،علیمہ خان نے کہا کہ ہم لوگ 22 ماہ سے عدالت میں پیش ہو رہے ہیں،اسلام آباد سے صبح صبح عدالت میں پیش ہونے کے لیے آتے ہیں،عدالت نے کہا کہ آپ کیس میں بحث کریں میں آج ہی فیصلہ کر کے جاؤں گا، ریکارڈ آیا ہے کہ نہیں آیا یہ آپکا مسئلہ ہے میں اسکو آج ہر حال میں سن کر فیصلہ کروں گا،وکیل علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں 10 منٹ دیں، تیاری کر کے دلائل مکمل کر لیتے ہیں، عدالت نے علیمہ خان اور عظمی خان کے وکیل کو دلائل مکمل کرنے کا حکم دے دیا

    بانی پی ٹی کی بہنوں کے خلاف پانچ اکتوبر اور نو مئی کے دو مقدمات میں عبوری ضمانت پر سماعت ہوئی،بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے وکیل نے درخواست ضمانتوں پر دلائل مکمل کر لیے،عدالت نے پراسیکیوشن کو دلائل کے لیے 12 فروری کو طلب کر لیا ،جج نے کہاکہ 12 فروری کو دلائل سن کر اور ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کر دوں گا۔علیمہ کے وکیل نے کہا کہ دونوں بانی پی ٹی آئی کی بہنیں ہیں اس وجہ سے ان کے خلاف مقدمہ بنایا گیا ، عدالت ضمانتیں کنفرم کرنے کا حکم دے ، پراسیکیوشن نے دلائل کے لیے مہلت طلب کر لی ،عدالت نے کہا کہ ہم نے کیس صبح سے انتظار میں رکھا ہوا اب آپ تاریخ کی بات کر رہے ہیں ،پراسیکیوشن نے کہا کہ جناح ہاؤس کیس میں تفتیش تاحال مکمل نہیں ہے ،انسداد دہشت گردی عدالت نے کاروائی 12 فروری تک ملتوی کر دی

    نظام کے اوپر ہمیں افسوس،ہم نے اللہ تعالیٰ پر چھوڑا ہوا ہے،علیمہ خان
    عدالت پیشی کے موقع پر علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جب فیصلہ سنا تو ہنس پڑے ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اچھا 14 سال ہے ۔ اس سے زیادہ بھی ہوتی ہے کیا۔تو انھوں نے کہا کہ نہیں زیادہ سے زیادہ 14 سال ہی ہوتی ہے،عمران خان اتنے بڑے لیڈر ہیں، ہم پریشان ہو رہے تھے، نظام کے اوپرہمیں افسوس ہو رہا تھا،عمران پر اس لئے کیس بنا رہے کہ باہر آ کر لوگوں سے نہ ملے، ہم نے اللہ تعالیٰ پر چھوڑا ہوا ہے، اللہ کا نظام سب سے بڑا نظام ہے،اینکرز نے 2 روز پہلے ہی فیصلہ بتا دیا تھا، ایسا کرتے جج کی جگہ اُنہیں ہی بٹھا دیتے

    سیف علی خان حملہ،پولیس کی کسی بھی گرفتاری کی تردید،ملاقاتوں پر پابندی عائد

    دنیا کو پرامن بنانے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کا چینی صدر سے رابطہ

  • بشریٰ بی بی طبی معائنہ کے بعد اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل

    بشریٰ بی بی طبی معائنہ کے بعد اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل

    احتساب عدالت سے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنانے کے بعد بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل کر دیا گیا

    ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی کو خواتین بیرک میں منتقل کرنے سے قبل ان کا مکمل طبی معائنہ کیا گیا۔ طبی معائنہ کے بعد انہیں کچھ ضروری دوائیں فراہم کی گئیں۔ اس کے علاوہ، بشریٰ بی بی کا ضروری سامان بھی بیرک میں پہنچا دیا گیا، جس میں کپڑے، جوتے، چادریں، کھانے پینے کی اشیاء، بیڈ شیٹس، تکیے اور دیگر سامان شامل تھا۔بشریٰ بی بی کا سامان بیرک میں پہنچانے سے قبل مکمل طور پر چیک کیا گیا تھا تاکہ کسی قسم کی غیر ضروری اشیاء بیرک میں نہ پہنچیں۔

    آج راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو 14 سال قید کی سزا سنائی۔ ساتھ ہی ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ عمران خان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لے لیا جائے۔ فیصلے کے مطابق، اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو عمران خان کو مزید 6 ماہ قید اور بشریٰ بی بی کو 3 ماہ قید کی سزا ہو گی۔

    عمران خان کو کرپٹ پریکٹسز اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جب کہ بشریٰ بی بی کو اپنے خاوند کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے 7 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔اس فیصلے کے بعد، عمران خان، بشریٰ بی بی اور ان کی بہنیں کمرۂ عدالت میں موجود تھیں۔

    چورچور کے نعرے لگانے والا خود ہی چور نکلا.تحریر:حنا سرور

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو ایڈیشنل ججز  کے ناموں کی منظوری

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو ایڈیشنل ججز کے ناموں کی منظوری

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس ہوا جس میں اسلام آباد اور بلوچستان ہائیکورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے بارے میں تفصیل سے غور کیا گیا۔ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کے لیے دو ناموں کی نامزدگی کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کی نامزدگی کے لیے 4 ممکنہ امیدواروں میں سے دو کے ناموں کی منظوری دی۔ ان میں سے ایک نام سیشن جج اعظم خان کا ہے، جبکہ دوسرے نام سابق صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار، راجہ انعام امین منہاس کا ہے۔کمیشن کے اجلاس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے لیے تین ایڈیشنل ججز کی نامزدگیوں پر بھی غور کیا گیا۔ تاہم، ان ناموں کی تفصیلات ابھی تک منظرعام پر نہیں آئیں۔

    یہ فیصلہ اسلام آباد اور بلوچستان ہائیکورٹس کی عدلیہ میں مزید بہتری لانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ ججز کی تعیناتی سے مقدمات کی سماعت میں تیزی لائی جا سکے اور عوام کو انصاف کی فراہمی کے عمل میں سہولت حاصل ہو سکے۔

    پاکستان کو ٹرانزٹ تجارت کا مرکز بنانے ، گارگو کی ٹریکنگ بارے جائزہ اجلاس

    القادریونیورسٹی میرے پاس آ گئی،جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا، مریم نواز