Baaghi TV

Tag: عدالت

  • جب سزا ہوئی تو عمران خان نے ہمیں کہا حوصلہ کرو،علیمہ خان

    جب سزا ہوئی تو عمران خان نے ہمیں کہا حوصلہ کرو،علیمہ خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں سزا کے بعد علیمہ خان کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ آج صحافیوں نے جیل میں تماشہ کیا تاکہ وہ میڈیا سے بات نہ کرسکیں، عمران خان نے کہا ہے سب حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پڑھیں، تاریخ بتاتی ہے آج جو ہورہا ہے وہ پہلے ہوچُکاہے، جج پر مجھے ترس آرہا ہے جو تاریخ میں یاد رکھی جائے گی، القادر یونیورسٹی میں سیرت نبی پڑھائی جاتی ہے، سزا کے اندر یہ شامل ہے یونیورسٹی پر قبضہ کرلیا جائے، جب سزا ہوئی تو عمران خان نے ہمیں کہا حوصلہ کرو، شکل کیوں بن رہی ہے، جزا سزا اللہ نے دینی ہے، آپ کا اللہ پر یقین کیا کم ہوگیا ہے؟

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا ہے کہ 15سے 20 دن میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزائیں ختم ہوجائیں گی،پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس سیاسی انتقام اور انصاف کا قتل ہے، اس کیس میں کرپشن کیا ہے؟ ایک ٹرسٹ کے تحت یونیورسٹی بنائی گئی، یہ ہائیکورٹ کی پہلی پیشی میں ختم ہونے والا کیس ہے.

    واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    بانی پی ٹی آئی ملکی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکو ثابت ہوچکا ،عطا تارڑ

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

  • کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،عمران خان

    کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،عمران خان

    190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کے بعد عمران خان کا ردعمل سامنے آ گیا

    عمران خان نے کمرہ عدالت میں فیصلہ سنا، فیصلے کے بعد عمران خان نے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج کے فیصلے نے عدلیہ کی ساکھ کوخراب کردیا ،اس کیس میں نہ مجھے فائدہ ،نہ حکومت کو نقصان ہوا،مجھے کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،ایک آمر اپنی ذات کیلئے یہ سب کررہا ہے، چاردیواری کا تقدس پامال کرنے والے پولیس والوں کوپلاٹ دیئے گئے،جوساتھ ہے وہ آزاد اور جو مخالف ہے انہیں سزائیں، میری بیوی گھریلو عورت ہے ،اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، بشریٰ بی بی کو سزا مجھے تکلیف دینے کیلئے دی گئی،غور سے سُن لیں کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کروں گا، چاہے مذاکرات ہوں یا کچھ بھی،سزا جتنی بھی سُنائیں فرق نہیں پڑتا،

    جج کے فیصلہ سنانے پر عمران خان کا فوری ردعمل کیا تھا؟
    دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب جج نے فیصلہ سُنایا تو عمران خان ہنس پڑے، عمران خان نے کہا جو ناانصافی پر فیصلے کرتے ہیں اُن کو پروموشن ملتی ہے، عمران خان کا پیغام ہے لوگوں کے لئے مایوسی گناہ ہے، مایوسی نہیں ہونا،ہم اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کریں گے،

    واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    بانی پی ٹی آئی ملکی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکو ثابت ہوچکا ،عطا تارڑ

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

  • عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    تحریک انصاف نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج بھی کیا

    احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے، عمر ایوب
    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائے جانے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں، ہم اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج بھی کریں گے، سوال تو پوچھنا چاہیے نواز شریف کے بیٹے حسن نواز سے کہ تم نے جس پیسے سے لندن میں ون ہائیڈ پارک کی عمارت خریدی وہ پیسہ کس طرح باہر لیکر گئے اور آگے پھر بیچی، اس رقم کا تم نے کیا کیا؟ آج وہ دندناتے پھر رہے ہیں۔

    چور دندناتے پھر رہے اور یونیورسٹی بنانے پر سزا سنا دی گئی، شبلی فراز
    دوسری جانب سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اس ملک میں چور دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ معصوم اور ایماندار لوگ جو کہ اس ملک میں نبی کریم ﷺ کو سیرت کو پڑھانے کے لیے القادر یونیورسٹی جیسا ادارہ بناتے ہیں انہیں سزا سنا دی جاتی ہے، القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے معاملے پر نا تو حکومت کو ایک دھیلے کا نقصان ہوا اور نا ہی عمران خان یا بشریٰ بی بی کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم گئی، نیت ٹھیک تھی، مقصد بھی ٹھیک تھا لیکن اس ملک میں یہ رواج بنایا جا رہا ہے کہ ایک شخص جو شوکت خانم کینسر اسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے ادارے بناتا ہے اسے القادر یونیورسٹی بنانے پر سزا دی جا رہی ہے جس میں نوجوان نسل کو سیرت النبی ﷺ پڑھائی جانی تھی اور پاکستان کے نوجوانوں کو مستفید ہونا تھا۔

    فیصلہ تاریخ کے کوڑے دان میں بدترین فیصلے کے طور پر جائے گا، فیصل چوہدری
    پی ٹی آئی رہنما، وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایک شرمناک فیصلہ ہے، آج انصاف کا قتل عام ہوا، نواز شریف کے بیٹے نے نو ارب روپے کی پراپرٹی خریدی، آپ ایون فیلڈ بنائیں اور لندن میں پراپرٹی بنائیں اور اپنے کیس معاف کرائیں، میں اس فیصلے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں،آپ کی بھول ہے کہ آپ بانی پی ٹی کو سزا دے کر آپ کچھ بگاڑ سکتے ہیں، بانی پی ٹی آئی ایک نظریے کا نام ہے، عمران خان جیل میں بیٹھا تم پر بھاری ہے، عمران ایک نظریہ اور تحریک کا نام ہے، اس تحریک کو پی ٹی آئی کا ہر ورکر اپنے خون سے سینچے گا، آج عوام کے کھڑے ہونے کا دن ہے، آج کا دن سیاہ ترین دن ہے، یہ فیصلہ تاریخ کے کوڑے دان میں بدترین فیصلے کے طور پر جائے گا،

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    پی ٹی آئی نے القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے کو سیاہ فیصلہ قرار دیدیا، پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا، احتجاج میں زرتاج گل بھی شریک تھیں، شرکا نے عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی اور عمران خان کو رہا کرو کے نعرے لگائے،شرکا نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے

    القادر ٹرسٹ کیس میں فیصلے کے بعد عمران خان کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے، عمران خان کا کہنا تھا کہ آج کے فیصلے نے عدلیہ کی ساکھ کوخراب کردیا ،اس کیس میں نہ مجھے فائدہ ،نہ حکومت کو نقصان ہوا،مجھے کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،ایک آمر اپنی ذات کیلئے یہ سب کررہا ہے، چاردیواری کا تقدس پامال کرنے والے پولیس والوں کوپلاٹ دیئے گئے،جوساتھ ہے وہ آزاد اور جو مخالف ہے انہیں سزائیں، میری بیوی گھریلو عورت ہے ،اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، بشریٰ بی بی کو سزا مجھے تکلیف دینے کیلئے دی گئی،غور سے سُن لیں کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کروں گا، چاہے مذاکرات ہوں یا کچھ بھی،سزا جتنی بھی سُنائیں فرق نہیں پڑتا، 1971 میں جنرل یحییٰ نے ملک تباہ کیا آج آمر بھی اپنے فائدے کیلئے یہی کام کر رہا ہے،

    پی ٹی آئی رہنما مشعال یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے جیل میں اپنی گرفتاری دیدی ہے، اڈیالہ جیل کے حکام انکی گرفتاری نہیں لے رہے، ہمیں اندیشہ ہے کہ پچھلی بار کی طرح اُنہیں بنی گالہ منتقل کرنے کیلئے سازش رچائی جارہی ہے، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں ہی رہنا چاہتی ہیں، وہ بنی گالہ نہیں جانا چاہتیں،ہم اڈیالہ کے باہر موجود ہیں، میڈیا کے توسط سے پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بشریٰ نے خود گرفتاری دی، نہ خان نے بنی گالہ جانا ہے نہ بشریٰ نے، یہ پھر سے کچھ کریں گے تو ہم دوبارہ اسلام آباد ہائیکورٹ جائیں گے، بشریٰ کی گرفتاری قبول کی جائے اور اسے اڈیالہ جیل میں ہی رکھا جائے،

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب جج نے فیصلہ سُنایا تو عمران خان ہنس پڑے، عمران خان نے کہا جو ناانصافی پر فیصلے کرتے ہیں اُن کو پروموشن ملتی ہے، عمران خان کا پیغام ہے لوگوں کے لئے مایوسی گناہ ہے، مایوسی نہیں ہونا،ہم اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کریں گے،

  • امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،دو ملزمان پر فردجرم عائد کرنے کا حکم

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،دو ملزمان پر فردجرم عائد کرنے کا حکم

    لاہور میں امیر بالاج ٹیپو کے قتل کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ سیشن عدالت نے دو ملزمان، ہارون اور سہیل محمود، پر فرد جرم عائد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    ایڈیشنل سیشن جج اسد حفیظ کی سربراہی میں کیس کی سماعت کی گئی۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت پر گواہوں کو بیانات کے لیے طلب کر لیا۔ اس کے علاوہ، اے ایس آئی عبدالرؤف اور نقشہ نویس کو گواہی کے لیے طلب کیا گیا ہے۔دوسری جانب، عدالت نے ملزمان گوگی بٹ، طیفی بٹ اور بلاول کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے کیس سے الگ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ تھانہ چوہنگ پولیس کی درخواست پر کیا گیا، جس کے تحت ان تینوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہے۔عدالت نے ملزمان ہارون اور سہیل محمود کو 11 فروری کو دوبارہ عدالت میں طلب کر لیا ہے تاکہ کیس کی مزید سماعت کی جا سکے۔

    یہ کیس لاہور کے علاقے چوہنگ میں پیش آیا تھا، جہاں امیر بالاج ٹیپو کو قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کی تھیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی تھی۔

    امیر بالاج قتل کیس: طیفی بٹ، گوگی بٹ اور بلاول اشتہاری قرار

    طیفی بٹ کے بہنوئی کے قتل کا مقدمہ امیر بالاج کے بھائی پر درج

    امیر بالاج قتل کیس،مخبری کرنیوالے احسن شاہ کی درخواست ضمانت مسترد

  • نومئی مقدمے،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    نومئی مقدمے،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نو مئی کے دوران درج ہونے والے 8 مقدموں میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔بانی پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے وکیل سلمان صفدر کے ذریعے درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جن میں استدعا کی گئی ہے کہ اے ٹی سی (انسداد دہشت گردی عدالت) نے حقائق کے برعکس ان کی ضمانتوں کو مسترد کیا تھا۔ بانی پی ٹی آئی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ضمانتوں کی درخواستوں کو مسترد کرنا قانونی طور پر غلط ہے۔عدالت نے پولیس کو نوٹسز جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر مزید سماعت کا اعلان کیا گیا، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے کو زیر غور رکھتے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔

    بانی پی ٹی آئی نے عدالت سے درخواست کی کہ آٹھ مقدموں میں ان کی ضمانتیں منظور کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی کارروائی غیر قانونی اور زیادتی پر مبنی ہے، جس کے باعث ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔عدالت نے پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے.

    مریم نواز نے کیا "آسان کاروبار فنانس” اور "آسان کاروبار کارڈ” پروگرام کا افتتاح

    مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کمیٹی میں پیش

  • پشاور ہائیکورٹ ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا  کی حفاظتی ضمانت میں  توسیع

    پشاور ہائیکورٹ ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی حفاظتی ضمانت میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی ہے۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے علی امین گنڈاپور کی حفاظتی ضمانت اور ان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی۔

    سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اس وقت اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں اہم مذاکراتی میٹنگ میں شرکت کے لیے گئے ہیں، جس کے باعث وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔ اس وجہ سے انہوں نے استثنیٰ کی درخواست دائر کی ہے۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ کی حفاظتی ضمانت میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی اور ساتھ ہی علی امین گنڈاپور کو ان کے خلاف درج مقدمات میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 فروری 2025 تک ملتوی کر دی۔

    اب تک علی امین گنڈاپور کے خلاف مختلف مقدمات درج ہیں، جن میں ان کے خلاف کارروائی کا امکان تھا، مگر عدالت نے اس مرحلے پر ان کو گرفتاری سے بچانے کے لیے حفاظتی ضمانت فراہم کی۔

    سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    سابق امریکی صدر اوباما اور انکی اہلیہ میں ممکنہ طلاق کی افواہیں

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،ملزمان سے برآمد   ثبوت عدالت میں پیش

    جی ایچ کیو حملہ کیس،ملزمان سے برآمد ثبوت عدالت میں پیش

    جی ایچ کیو راولپنڈی حملہ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی

    9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی،دوران سماعت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا، مقدمے میں نامزد ملزمان شیخ رشید، فواد چوہدری اور راجا بشارت و دیگر بھی پیش ہوئے،اس دوران استغاثہ کے 4 چشم دید گواہان نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروا دیا، جن میں راولپنڈی پولیس کے اے ایس آئی ثاقب، کانسٹیبل شکیل، سجاد اور یاسر شامل ہیں،گواہان نے ملزمان سے برآمد ہونے والے ثبوت بھی عدالت میں پیش کیے اور بتایا کہ ملزمان سے برآمد اینٹی رائٹ فورس سے چھینا ہیلمٹ اور پیٹرول بم شامل ہیں،عدالت میں پیش کیے گئے شواہد میں شہدا کے مجسموں کے برآمد ٹکڑے، موبائل فونز، ڈنڈے، جھنڈے، پی ٹی آئی ٹوپیاں، تاریں اور ماچس شامل ہیں،عدالت کی سماعت کے دوران ملزم سے برآمد موبائل فون عدالت میں پیش کرنے کے دوران آن نکلا۔

    گواہان نے کمرہ عدالت میں موجود راجا بشارت سمیت کئی ملزمان کی نشاندہی کی اور بتایا کہ راجہ بشارت نے جی ایچ کیو کے باہر احتجاج کو لیڈ کیا،گواہان نے عدالت کے روبرو کہا کہ راجہ بشارت مظاہرین کو اکساتے رہے کہ بانی کی گرفتاری کا بدلہ فوج سے لینا ہے،دوران سماعت کمرہ عدالت میں ملزمان، وکلاء، پراسیکیوشن اور میڈیا نمائندوں سے بھرا رہا، وکلا صفائی اور پراسیکیوشن ٹیم کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا،عدالت نے ملزمان کے شور کے باعث ساؤنڈ سسٹم کا استعمال کیا اور انہیں وارننگ دی، گواہان کی شہادت بھی ساؤنڈ سسٹم کے ذریعے ہی ریکارڈ کی گئی،دوران سماعت 3 گواہان کی شہادت ریکارڈ ہونے تک بانی پی ٹی آئی کمرہ عدالت میں موجود رہے، آئندہ سماعت پر عدالت نے استغاثہ کے پانچ مزید گواہ طلب کر لیے اور سماعت 18 جنوری تک ملتوی کردی

    کیس کی سماعت کے بعد فیصل چوہدری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ کیو حملہ کیس کے ٹرائل میں آج 9 مئی کو ضبط کیا گیا موبائل فُل چارج حالت میں سیل بند لفافے میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ میں حیران ہوں ایسی کمپنی پر کہ جس کی بیٹری آج 2 سال بعد بھی چل رہی ہے،

    جنوبی بھارت میں باڈی بلڈرز،جسموں‌کو فخر سے پیش کرنے والی خواتین

    سعودی عرب معاہدے کے تحت 570 پاکستانی قیدیوں کی واپسی کی لیے رضامند

  • عزیر بلوچ   تین افراد کے قتل کے مقدمے سے بری

    عزیر بلوچ تین افراد کے قتل کے مقدمے سے بری

    کراچی: ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے گینگ وار کے ملزم عزیر بلوچ کو تین افراد کے قتل کے مقدمے میں بری کردیا ہے۔ یہ مقدمہ 2009 میں چاکیواڑہ تھانے میں درج کیا گیا تھا، جس میں عزیر بلوچ پر پولیس اہلکار سمیت تین افراد کے قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

    عدالت نے ملزم عزیر بلوچ کے خلاف مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے اسے قتل کے الزامات سے بری کردیا۔ وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عزیر بلوچ کو گرفتار ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، تاہم ان بیانات کی بنیاد پر اس کے خلاف ثابت کرنے کے لئے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے۔ وکیل نے مزید کہا کہ مقدمے میں گرفتار دیگر ملزمان پہلے ہی بری ہوچکے ہیں۔عدالت نے تمام دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے گینگ وار کے ملزم عزیر بلوچ کو مقدمے سے بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کے بعد عزیر بلوچ کی رہائی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

    یاد رہے کہ عزیر بلوچ ایک معروف گینگ وار ملزم ہے اور اس پر متعدد سنگین الزامات عائد ہیں، جن میں قتل، دہشت گردی اور بھتہ خوری شامل ہیں۔ لیکن اس مقدمے میں عدلیہ نے اس کے خلاف الزامات کو ناکافی شواہد کی بنا پر مسترد کردیا۔

    مشہور کمپوزر آرنلڈ شوئن برگ کا میوزک کیٹلاگ آگ میں جل کر تباہ

    کوئٹہ،کان میں دھماکے کے بعد سرچ آپریشن مکمل، 12 لاشیں نکال لی گئیں

  • بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

    بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈی چوک احتجاج کے سلسلے میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کر دی ہے۔

    یہ فیصلہ 13 مختلف مقدمات میں عبوری ضمانتوں کے کیس کی سماعت کے دوران سنایا گیا۔ عدالت نے بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 7 فروری تک توسیع کرتے ہوئے پولیس کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے بشریٰ بی بی کے وکیل کو برہمی کا سامنا کیا۔ جج نے فائلیں تیار کر کے نہ لانے پر ان کی جانب سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ "آپ فائلیں تیار کر کے آیا کریں، عدالت میں آ کر فائلیں سیدھی کر رہے ہیں۔” اس پر وکیلوں نے درخواست کی کہ ضمانت کی تمام درخواستوں پر 7 فروری تک تاریخ مقرر کی جائے۔

    وکلاء کی جانب سے بشریٰ بی بی کے سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگوانے کے معاملے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہر جگہ وی آئی پی پروٹوکول ملنے کی بات نہیں کی جا سکتی۔ میں نے آپ کو انتظار نہیں کرایا، فیصلے کی تحریر میں بھی آپ کی ضمانتوں پر سماعت کر رہا ہوں۔” جج نے مزید کہا کہ جب عدالتی حکم نامہ جاری ہو گا تو اس پر ملزمہ کے دستخط اور انگوٹھا لگے گا۔

    وکیل قدیر خواجہ کی جانب سے بولنے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "آپ عدالت پر یقین کریں، جب آپ عدالت پر یقین کریں گے تو لوگ بھی آپ پر یقین کریں گے۔” یہ بیان جج کی جانب سے وکیلوں کو عدالت کے عمل پر اعتماد رکھنے کی ہدایت کے طور پر تھا۔

    ٹرائل کے دوران میں نے ججز کو بیمار ،کانپتے ہوئے دیکھا ، ایک جج صاحب کا بلڈ پریشر 200 پر گیا لیکن اُنہوں نے ہمیں سزا سنانا تھی اور وہ سنائی ، بشریٰ بی بی
    بشریٰ بی بی نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا عدالتوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے، عمران خان اور ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اسکے بعد قانون سے یقین ختم ہو گیا ہے، ٹرائل کے دوران میں نے ججز کو بیمار ہوتا، کانپتے ہوئے دیکھا ہے، ایک جج صاحب کا بلڈپریشر دو سو پر گیا لیکن انہوں نے ہمیں سزا سنانی تھی اور وہ سنائی، ملک میں قانون ہے لیکن انصاف نہیں عمران خان جیل میں آئین کی بالادستی کے لئے قید ہیں.اسلام آباد میں گاڑی سے رینجرز اہلکاروں کو ٹکر مارنے کے کیس کی سماعت انسداد دِہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، اس دوران بشریٰ بی بی عدالت میں پیش ہوئیں،دورانِ سماعت بشریٰ بی بی اور جج طاہر عباس کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا جس میں جج نے کہا کہ تھوڑا وقت لگ گیا ہے لیکن قانونی ضابطے پورے کیے گئے ہیں۔اس پر بشریٰ بی بی نے جواب دیا کہ نہیں کوئی بات نہیں، ہمارا عدالتوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے،جج طاہر عباس نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے، ہر جگہ سے اعتماد نہیں اٹھا، جسٹس سسٹم جیسا بھی چل رہا ہے اگر ختم ہو گیا تو سوسائٹی ختم ہو جائیگی، آپ میرے پاس کچہری میں بھی پیش ہوتی رہی ہیں،بعد ازاں عدالت نے بشریٰ بی بی کی تھانہ رمنا میں درج مقدمے میں7 فروری تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف ڈی چوک احتجاج پر اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں 13 مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے تھانہ سیکریٹریٹ میں 3، تھانہ مارگلہ میں 2، تھانہ کراچی کمپنی میں 2، تھانہ رمنا میں 2، تھانہ ترنول، کوہسار، آبپارہ اور کھنہ میں ایک ایک مقدمہ درج ہے۔عدالت نے 7 فروری 2025 کو آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے پولیس کو تمام ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے بعد بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتیں 7 فروری تک برقرار رہیں گی۔

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج جہنم واصل

    نو مئی،ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا ، وکیل وزارت دفاع

  • عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکا میں قید پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کے کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔ اس کیس کی سماعت جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی سربراہی میں کی گئی۔

    سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل دوسری عدالت میں مصروف ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکے۔ اس کے باوجود، درخواست گزار کی وکیل، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزیرِ اعظم پاکستان کی طرف سے امریکی صدر کو لکھا گیا خط ابھی تک بغیر کسی جواب کے واپس آیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا کی طرف سے یہ تک نہیں بتایا گیا کہ آیا ان کا خط وصول کیا گیا ہے یا نہیں۔

    عدالت نے اس موقع پر کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس سے متعلق آئندہ ہفتہ بہت اہم ہے اور وزارتِ خارجہ کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے بھرپور تعاون کرے۔ اس سلسلے میں عدالت نے وزیرِ اعظم کے بیرونِ ملک دوروں کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیا تھا، تاہم نمائندہ وزارتِ خارجہ نے عدالت کو بتایا کہ سیکریٹری خارجہ چین میں موجود ہیں اور اس وجہ سے تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکیں۔ اس پر عدالت نے وزارتِ خارجہ کو اگلے ہفتے تک وزیرِ اعظم کے بیرونِ ملک دوروں کی تفصیلات فراہم کرنے کی مہلت دی۔

    وکیل عمران شفیق نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی امریکا پہنچ چکی ہیں، لیکن ان کی اب تک امریکی سفیر سے ملاقات نہیں ہو سکی ہے۔ عدالت نے اس پر وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی کہ وہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی ملاقات امریکا میں پاکستانی سفیر سے یقینی بنائے۔

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی، جو کہ 2003 میں امریکا میں گرفتار ہوئی تھیں، اس وقت امریکا کی قید میں ہیں اور ان کی واپسی کے لئے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں۔ اس کیس کی آئندہ سماعت 24 جنوری 2025 کو ہوگی۔

    پاکستان نے سکھ اور ہندو یاتریوں کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی کر دی

    کراچی: اجتماعی شادیوں کی تقریب میں 100 سے زائد ہندو جوڑے رشتہ ازدواج میں منسلک