Baaghi TV

Tag: عدالت

  • ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

    ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان بالکل بھی خوش نہیں ہیں کہ ان کا مقدمہ ابھی تک مؤخر ہوا ہے۔

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ فیصلہ جلد آ جائے تاکہ پوری دنیا کو یہ پتا چلے کہ القادر یونیورسٹی کے حوالے سے اصل حقیقت کیا ہے۔ علیمہ خان نے بتایا کہ عمران خان کا خواب تھا کہ سیرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سٹوڈنٹس کو تعلیم دی جائے۔علیمہ خان نے الزام عائد کیا کہ جج صاحب کو اس معاملے کا فیصلہ سنانے میں بہت مشکلات پیش آ رہی ہیں اور اس کا ایک بڑا سبب حکومت کا موجودہ پریشر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا اور پاکستان جانتا ہے کہ اس وقت کس قسم کی سزا سنائی جا سکتی ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ لفظ "ڈیل” کو سن سن کر ہم تھک چکے ہیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے صرف نیوٹرل ایمپائر لگانے کی بات کی تھی، نہ کہ کسی ڈیل کا حصہ بننے کی۔ مذاکراتی کمیٹی کے ممبران نے بھی بتایا کہ حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی مطالبہ نہیں آیا ہے۔علیمہ خان نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ 17 جنوری کو اگر حکومت کی جانب سے ہمت ہو تو فیصلہ سنایا جا سکتا ہے، اور اس دن کے بعد ہی صورتحال واضح ہو گی۔

    مغوی کی عدم بازیابی پر لاہور ہائیکورٹ حکام پر برہم

    تباہی پر میرا دل ٹوٹ گیا ،لاس اینجلس میں آگ پرپریتی زنٹا کا آنکھوں دیکھا حال

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ ایک بار پھر مؤخر،جمعہ کو سناؤں گا، جج

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ ایک بار پھر مؤخر،جمعہ کو سناؤں گا، جج

    190ملین پائونڈ ریفرنس کا فیصلہ ایک بار پھر موخر کر دیا گیا ،

    190ملین ریفرنس کا فیصلہ 17جنوری بروز جمعہ کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے،عمران خان آج کمرہ عدالت میں پیش نہ ہوئے، بشریٰ بی بی بھی عدالت نہ پہنچیں جس کی وجہ سے عدالت نے آج فیصلہ نہ سنایا،فیصلہ سنانے کا وقت ساڑھے دس بجے کا تھا، پی ٹی آئی رہنما اڈیالہ جیل پہنچ گئے تھے تاہم عمران خان اپنے سیل سے کمرہ عدالت نہ آئے اور نہ ہی بشریٰ بی بی عدالت پہنچیں.

    آج امکان تھا کہ کیس کا فیصلہ سنایا جائے گاتاہم عدالت نے فیصلہ نہیں سنایا، قبل ازیں اسی ضمن میں اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،اڈیالہ جیل کے باہر راولپنڈی پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات تھے،پولیس کی اضافی نفری اڈیالہ جیل کے باہر تعینات تھی، یکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ بھی عدالت میں موجود تھے،عمران خان کی بہنیں علیمہ خان و دیگر بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،

    احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،اسکے بعد 13 جنوری کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم آج بھی فیصلہ نہ سنایا جا سکا،

    اس کیس میں نیب نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • 9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

    9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

    بانی پی ٹی آئی نے 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق چیئرمین عمران خان نے 9 مئی کے دوران درج ہونے والے 8 مقدمات میں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔ ان مقدمات میں جناح ہاؤس پر حملہ اور دیگر الزامات شامل ہیں۔لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں عمران خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ 9 مئی کو وہ اسلام آباد میں نیب کی تحویل میں تھے اور ان پر سیاسی انتقام لینے کے لیے سازش کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ عمران خان نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ انہیں محض سیاسی وجوہات کی بنا پر ان مقدمات میں ملوث کیا گیا۔

    عمران خان کی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ انہیں گزشتہ دو سال سے مختلف مقدمات کا سامنا ہے اور یہ تمام کارروائیاں انتقامی نوعیت کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف جو مقدمات بنائے گئے ہیں، وہ جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔عمران خان نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ان کے خلاف درج مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں منظور کی جائیں تاکہ انہیں انصاف مل سکے اور ان پر عائد الزامات کا قانونی طریقے سے جائزہ لیا جا سکے۔

    ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • توشہ خانہ ٹو کیس، بشریٰ کی عدم پیشی،عدالت کا اظہار برہمی

    توشہ خانہ ٹو کیس، بشریٰ کی عدم پیشی،عدالت کا اظہار برہمی

    عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس 14 جنوری تک ملتوی کر دیا گیا

    سپیشل جج سنٹرل اسلام آباد شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی،عمران خان کو جیل کی عدالت میں پیش کیا،بشری بی بی اور وکلاء غیرحاضر رہے، ایک گواہ پر جرح اور ایک کا بیان مکمل کر لیا، مزید5 گواہ طلب کر لئے گئے، اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت جاری ہے، جہاں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمے کی کارروائی ہو رہی ہے۔ سماعت کے دوران ملزمہ بشریٰ بی بی اور ان کے وکلا عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔کیبنٹ ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر کوآرڈینیشن محمد احد پر جرح مکمل کی گئی۔ اس جرح کا عمل بانی پی ٹی آئی کے وکیل قوسین فیصل مفتی نے کیا۔ اس کے علاوہ، استغاثہ کے گواہ طلعت کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر مزید پانچ گواہ طلب کرلئے ہیں جن میں محمد شفقت، قیصر، عمر صدیق، محسن اور فہیم شامل ہیں۔ ان گواہوں کا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے انہیں عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    جج نے واضح طور پر کہا کہ اگر آئندہ سماعت پر وکلا نے گواہوں پر جرح مکمل نہ کی تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ کیس کی سماعت 14 جنوری تک ملتوی کردی گئی ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

    توشہ خانہ ٹو، بشریٰ بی بی کا وکیل نہ آیا، سماعت ملتوی

    توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا خدیجہ شاہ کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا خدیجہ شاہ کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور سپریم کورٹ کی جیل اصلاحاتی کمیٹی کی ممبر خدیجہ شاہ کو ہراساں کرنے سے روکنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) اور پولیس کو حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ عدالت میں خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کی درخواست پر سماعت کے دوران آیا۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ، جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں، عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست گزار اور ان کی فیملی کو ہراساں کرنے سے روکا جا سکے۔دورانِ سماعت، خدیجہ شاہ کی وکیل آمنہ علی نے عدالت میں اپنا مؤقف پیش کیا کہ ان کے موکلہ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کی فوری فراہمی ضروری ہے تاکہ ان کے خلاف کسی بھی غیر قانونی اقدام کو روکا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار اور ان کے خاندان کو ایف آئی اے اور پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے، جس کا تدارک کیا جائے۔

    عدالت نے درخواست کو سننے کے بعد اس پر فیصلہ دیتے ہوئے ایف آئی اے اور پولیس کو خدیجہ شاہ کو ہراساں کرنے سے روک دیا اور کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

    شہزادہ ولیم کا کیٹ مڈلٹن کی 43ویں سالگرہ پر خصوصی پیغام

    18 برس بعد دوسری شادی کرنیوالی خاتون نے اپنی شرائط بتا دیں

  • 26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

    26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

    اسلام آباد: انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق پی ٹی آئی کے 177 کارکنان کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی کے 153 کارکنان کی ضمانتیں منظور کرلیں، جبکہ 24 کارکنان کی ضمانتیں مسترد کر دی گئیں۔

    تھانہ کراچی کمپنی میں 48 ملزمان کے کیسز کی سماعت کے دوران، عدالت نے 43 ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لیں جبکہ 5 کی ضمانتیں مسترد کر دیں۔ اسی طرح، تھانہ ترنول میں 7 ملزمان کی ضمانتوں میں سے 2 کی ضمانت منظور کی گئی اور 5 کی ضمانتیں مسترد ہو گئیں۔تھانہ آئی 9 کے 10 ملزمان میں سے 9 کی ضمانتیں منظور ہوئیں اور ایک کی درخواست مسترد ہوئی۔ تھانہ کوہسار کے مقدمے میں 28 ملزمان کی ضمانتیں منظور کی گئیں، جبکہ 5 کی ضمانت کی درخواستیں مسترد ہو گئیں۔ تھانہ رمنا میں 8 ملزمان میں سے 3 کی ضمانتیں منظور کی گئیں اور 5 کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔تھانہ سیکرٹریٹ کے تمام 25 ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لی گئیں۔ تھانہ مارگلہ کے 45 ملزمان میں سے 42 کی ضمانتیں منظور کی گئیں، جبکہ 3 ملزمان کی ضمانتیں مسترد کر دی گئیں۔

    عدالت نے تمام ملزمان کی ضمانتیں 5،5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کیں۔ یہ فیصلہ عدالت کے مطابق قانونی تقاضوں کے مطابق دیا گیا، اور پی ٹی آئی کے کارکنان کے حق میں فیصلہ آنا ایک اہم قانونی پیشرفت ہے۔یاد رہے کہ 26 نومبر کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا، جس کے بعد مختلف تھانوں میں ملزمان کے خلاف مقدمات درج ہوئے تھے۔ اس فیصلے سے پی ٹی آئی کے کئی کارکنوں کو ریلیف ملے گا۔

    آزاد کشمیر میں شدید برفباری، پاکستان آرمی کا ریسکیو آپریشن، مسافروں کی جان بچا لی

  • ملٹری کورٹ کے فیصلوں کے خلاف   اپیلیں دائر کردی ہیں، قاضی انور

    ملٹری کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کردی ہیں، قاضی انور

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) احتساب کمیٹی کے رکن قاضی محمد انور نے بشریٰ بی بی پر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کوئی مداخلت انصاف لائرز فورم میں نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی سازش کا حصہ ہیں۔

    قاضی محمد انور نے پشاور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بشریٰ بی بی کے ساتھ کسی قسم کی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی انہوں نے کسی سازش میں ملوث ہونے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے علی زمان ایڈووکیٹ کو عہدے سے ہٹایا، جو کہ بے بنیاد ہے۔قاضی محمد انور نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی پر من گھڑت الزامات عائد کیے گئے ہیں جن پر انہیں افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میں نے 55 سال وکالت کی، اور اس دوران کبھی بھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا اور نہ ہی جھوٹ بولا۔”

    پی ٹی آئی احتساب کمیٹی کے رکن نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ پارٹی کی صفوں میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا غلطی کو بے نقاب کیا جائے، اور اس سلسلے میں مسلسل تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملٹری کورٹس کے فیصلوں کے خلاف کل اپیلیں دائر کی گئیں ہیں، جن میں ان فیصلوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ان شاء اللہ ہم انتظار کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ انصاف ہو،سزائیں معطل کی جائیں،

    کرپشن میں ملوث وزراء سے تحقیقات جاری ہیں، قاضی انور
    اسی دوران، قاضی محمد انور نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کرپشن میں ملوث وزراء سے باری باری پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ، سید قاسم علی اور مشیر صحت احتشام علی سے بھی چند وضاحتیں طلب کی گئی ہیں۔ اسی طرح، ظاہر شاہ طورو کو بھی طلب کیا گیا ہے کیونکہ ان کے خلاف شکایات موصول ہوئی ہیں۔ایک مہینہ انکو دیا ہے کہ 31 جنوری تک جو لکھ کر دیا اسکا جواب دیں ،اسکے بعد فیصلہ ہو گا،احتشام خان کے پاس ابھی صحت کا محکمہ آیا، ڈیڑھ صفحے پر ان کو سوالات دیئے اور جوابات مانگے، چند دنوں میں ظاہر شاہ طورو سمیت ایک اور وزیر کو بلانے لگے ہیں، وزیروں کو ہم بلاتے رہتے ہیں، ہمیں جو معلومات ملتی ہیں وہ ہم دے دیتے ہیں، قاضی محمد انور نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پارٹی کے اندر ہونے والی ان تحقیقات کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا ہے اور پی ٹی آئی کے اراکین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کے لئے نوٹفکیشن کیا ، فیصلہ سازی جو قاضی انور کرے گا اس میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا.

    ہومپیو وائرس،برطانیہ میں کیسزدوگنا،ماہرین نے چین سے تفصیلات مانگ لیں

    راکھی ساونت کا عمرہ کی ادائیگی سے نئے سال کا آغاز

    شزا فاطمہ کی زیر صدارت اسٹارلنک لائسنس ، ریگولیٹری پیش رفت پر اجلاس

  • ترقیاتی منصوبوں میں کک بیکس لینے کا الزام ،پرویز الہٰی پر  فردِ جرم عائد

    ترقیاتی منصوبوں میں کک بیکس لینے کا الزام ،پرویز الہٰی پر فردِ جرم عائد

    لاہور کی احتساب عدالت نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی پر ترقیاتی منصوبوں میں کک بیکس لینے کے الزام میں نیب ریفرنس پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں کو طلب کر لیا ہے تاکہ ان کے بیانات ریکارڈ کیے جا سکیں۔

    سماعت کے دوران، پرویز الہٰی عدالت میں پیش نہ ہو سکے، جس کے باعث ان کی حاضری عدالت کے اسٹاف نے گاڑی میں جا کر مکمل کی۔ اس کے باوجود، پرویز الہٰی نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے عدالت کے سامنے اپنے دفاع میں کوئی اعتراف نہیں کیا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر احتساب عدالت نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی اور دیگر ملزمان کے خلاف ترقیاتی منصوبوں میں کک بیکس وصول کرنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کرنے کا تحریری حکم جاری کیا تھا۔ عدالت نے اس بات کا بھی ذکر کیا تھا کہ پرویز الہٰی کو فردِ جرم عائد کرنے کے لیے 7 جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم ملزمان کی حاضری میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    احتساب عدالت نے تحریری حکم میں کہا تھا کہ اس کیس میں شامل دیگر ملزمان جیسے محمد خان بھٹی، خالد محمود چٹھہ، آصف محمود، نعیم اقبال، محمد اصغر اور اسد علی پر بھی فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ ان تمام ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں کک بیکس وصول کیں، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔

    اس کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخوں پر جاری رہے گی اور گواہوں کے بیانات کے بعد عدالت اپنے فیصلے کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

    بھارتی دو اداکاراؤں کی عمر40 برس سے زیادہ ،شادی کیوں نہ کی

    کراچی میں گٹر کے ڈھکنوں کی کمی،سندھ حکومت اور میئر کراچی کا ردعمل

  • عمران ، بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ مؤخر

    عمران ، بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ مؤخر

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بانیٔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    ایڈیشنل سیشن جج، جناب افضل مجوکہ کی عدالت میں ہونے والی اس سماعت میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر جزوی دلائل مکمل ہو گئے، تاہم فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔بانیٔ پی ٹی آئی کی جانب سے 6 مقدمات میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ہے، جبکہ بشریٰ بی بی پر جعلی رسیدوں کے کیس میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں ان کی ضمانت کی درخواست بھی زیر سماعت ہے۔ سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ بشریٰ بی بی کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کی موکلہ کو مختلف وجوہات کی بناء پر عدالت میں پیش ہونے میں دشواری کا سامنا ہے، اس لیے انہیں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

    بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جیل حکام جان بوجھ کر بانیٔ پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہیں کرا رہے۔ وکیل نے بتایا کہ سلمان صفدر، جو کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے کیسز کی پیروی کر رہے ہیں، دیگر مقدمات میں مصروف ہیں، اس لیے عدالت کی طرف سے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی اجازت دی جائے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ جیل حکام یہ نہ کہیں کہ سردی کی وجہ سے انٹرنیٹ سروس معطل ہو گئی ہے، اس لیے حاضری ممکن نہیں ہو سکی۔ عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی کے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت سے قبل اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بانیٔ پی ٹی آئی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوں۔ ایڈیشنل سیشن جج نے مزید کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ ایک ساتھ کیا جائے گا، کیونکہ جزوی دلائل مکمل ہو چکے ہیں اور صرف بانیٔ پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری باقی ہے۔عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 28 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

  • علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    اسلام آباد:ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی: پیر کو اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف غیرقانونی اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس کی سماعت ہوئی،سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے کی،مقدمے کے تفتیشی افسر عدالت میں پیش نہیں ہوئے، علی امین گنڈا پور کے وکیل راجہ ظہور الحسن ایڈووکیٹ بھی عدالت پیش نہیں ہوئے۔

    جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہ ملزم پیش ہوا اور نہ ہی وکیل، عدالت نے مسلسل عدم پیشی پر ایس ایس پی آپریشنز کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    عدالت نے کیس کی سماعت 21 جنوری تک ملتوی کردی۔

    عامر خان کے بیٹے جنید خان بچپن میں کونسی بیماری میں مبتلا تھے؟

    ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    شادی کے اخراجات سے گھبرانے والوں کیلئے حکومت کا بڑا اقدام