Baaghi TV

Tag: عدالت

  • فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر

    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ یکم نومبر کو سماعت کرے گا،رجسٹرار سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے،عدالت نے گزشتہ سماعت پر تمام فریقین سے تحریری جواب طلب کیا تھا،پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، الیکشن کمیشن، آئی بی سمیت دیگر نے نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کر رکھی ہے

    واضح رہے کہ فیض آباد دھرنا کیس میں تحریک انصاف، پیمرا، وزارت دفاع نے بھی نظر ثانی درخواست واپس لینے کی درخواست دائر کر رکھی ہے، گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ درخواستیں واپس کیوں لی جارہی ہیں، ہمیں بتائیں، سچ بولنے سے ہر کوئی کترا کیوں رہا ہے؟ کیا یہ کہہ رہے ہیں مٹی پاو بعد میں دیکھیں گے، 12 مئی کو 55لوگ مرے، خون ہوا، آپ کہہ رہے ہیں مٹی پاؤ۔ بتائیں نا کیوں مٹی ڈالیں؟ کیا نئے واقعے کا انتظار کریں،؟ فیض آباد دھرنا کیس میں سب نے نظرثانی درخواستیں دائر کیں جس سے امید تھی کہ نظرثانی دائر کرینگے انہوں نے دائر نہیں کی۔ آپ سب سے تو کم از کم خادم رضوی بہتر رہے، انہوں نے نظر ثانی درخواست بھی نہیں ڈالی جس کا مطلب ہے کہ ٹی ایل پی نے اپنی غلطی تسلیم کی اور ہمارے فیصلہ کو تسلیم کیا۔ خادم رضوی صاحب زندہ تھے اس وقت مگر شاید ہمارے فیصلے سے مطمئن تھے۔ غلطی ہوجاتی اسے تسلیم کرنا بڑاپن ہوتا ہے ،،نظرثانی واپس لیکر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جو ہوا مٹی پاؤ ،، 12 مئی کے واقعات پر بھی مٹی پاؤکہیں گے کیا،

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامے میں کہا کہہ عدالت ایک اور موقع دیتی ہے کوئی بھی شخص حقائق منظر عام پر لانا چاہے تو اپنا بیان حلفی عدالت میں پیش کرے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیض آباد دھرنا ایک محدود وقت کے لیے اس کے دائرہ اختیار کو وسیع نہیں کیا جانا چاہیے، کوئی بھی فریق یا کوئی اور شخص اپنا جواب جمع کروانا چاہے تو 27 اکتوبر تک جمع کروا دے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • نیب مقدمات،عمران خان کی ضمانت کیس سننے والا بینچ ٹوٹ گیا

    نیب مقدمات،عمران خان کی ضمانت کیس سننے والا بینچ ٹوٹ گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی دو نیب مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں بحال کرانے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس بابر ستار درخواستوں پر سماعت کر رہے ہیں ،وکیل عمران خان نے کہا کہ اِن درخواستوں پر وقت کی پابندی کا نیب کا اعتراض درست نہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نواز شریف تو ہیں نہیں جو نیب مخالفت نہ کرے، چیئرمین پی ٹی آئی کا جہاں نام آ جائے نیب نے مخالفت کرنی ہوتی ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وہ گرفتار تصور نہیں ہوں گے ؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ نیب نے اپنا بیان دیا ہے کہ اس کو گرفتار نہیں کیا گیا ،نیب کا اپنا طریقہ کار ہے چیئرمین نیب وارنٹ جاری کرتا ہے ، چیئرمین پی ٹی آئی کے وارنٹ گرفتاری موجود ہیں ،

    جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتاری کے بعد تمام کیسز میں گرفتار قرار کیوں نہیں دیا گیا؟ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے اس حوالے سے فیصلے موجود ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیئرمین نیب کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے بغیر تو گرفتار نہیں کیا جا سکتا،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ کیا ان کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوئے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو ابھی گرفتار نہیں کیا گیا، میں وارنٹ جاری نہ کئے جانے کی وجوہات بتاؤں گا، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ جب چیئرمین پی ٹی آئی زیرحراست ہیں تو نیب ان سے تفتیش کیوں نہیں کر رہا؟ نیب چیئرمین پی ٹی سے تفتیش کیوں نہیں کر رہا؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ جو کچھ ہو رہا ہے چیئرمین پی ٹی آئی کے لئے الگ قانون اور دوسروں کے الگ ہے ،

    عدالت نے نیب سے استفسار کیا کہ آپ نے زیر حراست ہونے کی وجہ سے ابھی تک تفتیش شروع کیوں نہیں کی ؟وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہی بات تو ہم بھی کر رہے ہیں، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ رہے، آپ تو ضمانت کی درخواستیں بحال کرانے کی درخواستیں لائے ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی عبوری ضمانت بحال کی جائے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ایک شخص گرفتار ہو چکا تو عبوری ضمانت کیسے بحال ہو سکتی ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اسی عدالت کے دوسرے بنچ نے ہماری چھ مقدمات میں عبوری ضمانت بحال کی ہے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ جس بنچ نے یہ آرڈر پاس کیا میرا اُس سے اختلافِ رائے ہے، میں یہ کیس نہیں سن رہا، جس بنچ نے فیصلہ دیا وہی یہ کیس سنے گا، میرا موقف یہ ہے کہ ایک شخص گرفتار ہے تو دیگر مقدمات میں بھی گرفتار قرار دیا جائے گا،

    نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ دونوں کیسز میں وارنٹ گرفتاری موجود ہیں ، قانونی طور پر اس طرح ہم تفتیش نہیں کر سکتے ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا جو دونوں کیسز میں اس تحقیقات چل رہی ہیں ؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جی تحقیقات چل رہی ہیں ،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ میں متفق نہیں ہوں اس لئے دوسرے بنچ کے سامنے کیس لگایا جائے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چھ نومبر کو جسٹس طارق محمود جہانگیری آجائیں گے ،آپ کا کیس اسی روز اسی بنچ کے سامنے مقرر ہو گا ،جسٹس بابر ستار بینچ سے الگ ہو گئے

    چیئرمین پی ٹی آئی کے کیس کی سماعت کرنے والے بنچ سے جسٹس بابر ستار الگ ہو گئے،چیئرمین پی ٹی آئی کا کیس اب نئے بنچ کے سامنے مقرر ہو گا

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • فرح گوگی کو بڑا جھٹکا،بچوں کے نام پی سی ایل سے نکالنے کی درخواست مسترد

    فرح گوگی کو بڑا جھٹکا،بچوں کے نام پی سی ایل سے نکالنے کی درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ: عدالت نے فرح شہزادی،فرح گوگی کے بچوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے لیے دائر درخواست مسترد کردی

    جسٹس رسال حسن سید نے ایمان اقبال اور فراز اقبال کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا ،عدالت نے وکلاء کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا ،فرح شہزادی کے بچوں نے نام پی سی ایل سے نکالنے کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا تھا

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار بچوں کے والدین پر سیاسی بنیادوں پر کیسز بنائے گئے، کیسز کی وجہ سے درخواست گزار کے والدین بیرون ملک مقیم ہیں، عدالت نے درخواست گزار بچوں کی درخواست پر دادرسی کا حکم دیا۔ حکومت نے انتقاماً درخواست گزار بچوں کے نام ای سی ایل سے نہین نکالے ۔ عدالت حکم عدولی کرنے پر ڈی جی پاسپورٹ اور سیکرٹری داخلہ پاکستان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے،عدالت درخواست گزار بچوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے، عدالت درخواست گزار بچوں کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

  • سیل کی دیوار تڑوا دی، کیا اب  کمرہ بھی تڑوا دوں؟ عدالت کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ

    سیل کی دیوار تڑوا دی، کیا اب کمرہ بھی تڑوا دوں؟ عدالت کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ

    سائفر کیس، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی،

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی کے ترجمان قانونی امور نعیم پنجوتھہ پیش ہوئے، وکیل نعیم نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے آرڈرز پرعملدرآمد نہیں ہوتا، جیل میں وکلاءکوچیئرمین پی ٹی آئی سےنہیں ملنےدیاجاتا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹیو معاملات ہیں، جیل مینوئل کے مطابق جیل میں معاملات چلتےہیں، وکیل نعیم نے کہا کہ آپ سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو جو کہیں گے، ویسا ہی وہ کریں گے، جج نے کہا کہ اگر زیادہ وکلاء کی چیئرمین پی ٹی آئی سے میٹنگز ہوں گی تومعاملات دیکھنےپڑتےہیں، وکیل نے کہا کہ سائفرکیس سیکرٹ طریقہ کار سے چلایاجارہاہے، صحافیوں کو بھی کوریج کی اجازت نہیں، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ سائفرکیس ہے ہی سیکرٹ ایکٹ کے تحت، ہم نے تو نہیں بنایا، قانون 1923 کا ہے، وکیل نے کہا کہ صحافیوں کو نہیں لیکن کم سے کم وکلاء کو تو جیل میں سماعت سننے کی اجازت دی جائے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ مجھے صحافیوں سے سائفرکیس کور کرنے پر کوئی مسئلہ نہیں، صحافی قابل احترام ہیں،

    وکیل نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں کمرہ عدالت بہت چھوٹا ہے،جس پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے سیل کی دیوار تڑوا دی، کمرہ بھی تڑوا دوں کیا؟ وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جوڈیشل کمپلیکس پیش کرنے پر بہانے بنائے جارہے، سپرٹنڈنٹ جیل جان کو خطرے کا بیان دیتاہے، جج نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اہم شخصیت تو ہیں، اُن کی زندگی کو تحفظ دینا ضروری ہے، وکیل نے کہا کہ انہی اداروں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکیورٹی نہیں دی، ہائیکورٹ میں معاملہ پینڈنگ ہے، نوازشریف کو تو انہوں نے پوری سیکیورٹی دی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی اپنی سیکیورٹی خود لاتےتھے، عطاتارڑ آجاتا ہے، بوتلیں بھی پھینکی گئیں،چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکیورٹی دینا انتظامیہ کا کام ہے، انتظامیہ نہیں دے رہی سیکیورٹی، جج نے کہا کہ قانون کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی زندگی کو تحفظ دینا ہے،میری اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی سے گھنٹہ بات ہوئی، انہوں نےکہا میں جیل میں محفوظ محسوس کررہاہوں،آپ جا کر پوچھیں چیئرمین پی ٹی آئی سے کہ انہوں نے کیا جیل میں محفوظ ہونے کے حوالے سے مجھے نہیں کہا؟ چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل میں محفوظ ہونے کے حوالے سے دیے گئے بیان کو بھی سپرٹنڈنٹ جیل نے دیکھناہے، ابھی تک چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو تحفظ دے کر کیس بہت آسانی سے چل رہاہے، میں نے بیس سال وکالت کی، وکالت کرنا آسان ہے، جج کی کرسی پر بیٹھنا مشکل ہے، کیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کے حوالے سے کوئی ڈائریکشن ملی؟ وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہمارے معاملات پینڈنگ رہتےہیں، جج نے کہا کہ مجھے کوئی ایک ایسی ملاقات سے متعلق درخواست بتا دیں جو میں نے مسترد کی؟ وکیل نے کہا کہ آپ نے درخواستِ ضمانت مسترد کی، فردجرم روکنے کی درخواست مسترد کی، جج نے کہا کہ قانونی درخواستوں کی بات نہ کریں، میں ملاقات سے متعلق درخواستوں کا کہہ رہاہوں، میں نے سپرٹنڈنٹ جیل کو شٹ اپ کال دی تھی، سائکل اسی وقت چیئرمین پی ٹی آئی کو مہیا کروائی، آپ میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو کر رہےہیں، جج ابوالحسنات نے چیئرمین پی ٹی آئی سے وکلاء کی ملاقات سے متعلق سپرٹنڈنٹ جیل کو ہدایت جاری کردیں

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟ سپریم کورٹ

    آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟ سپریم کورٹ

    آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟ سپریم کورٹ
    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں عسکری فور کراچی میں کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر روکنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کی درخواست ناقابل سماعت ہونے پر مسترد کر دی،سپریم کورٹ نے آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے درخواست دائر کیے جانے پر سوالات اٹھا دیے ، سپریم کورٹ نے کہا کہ آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟ آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کے قانونی وجود کے بارے آئین، رول آف بزنس 1983 یا کسی قانون میں ذکر ہے؟ کیا وفاقی حکومت کے ادارے اپنے کیسز میں پرائیویٹ وکیل ہائر کر سکتے ہیں؟قانونی وجود نا رکھنے والے کی درخواست دائر کرنے کی اجازت دینے پر ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پر تعجب ہوا،

    سپریم کورٹ نے کہاکہ قانونی وجود نا رکھنے پر آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ درخواست دائر نہیں کر سکتی،اگر آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ متاثرہ فریق ہو تو وفاقی حکومت کے ذریعے درخواست دائر کرسکتی ہے،موجودہ کیس میں آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ نے تو وفاقی حکومت، صدر مملکت سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے، کیا یہ وفاقی حکومت کا وفاقی حکومت کے ہی خلاف کیس ہے؟آرمی جنرل ہیڈ کوارٹرز ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا حق دعوی ہو ہی نہیں سکتا،آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ نا کوئی فلاحی ادارہ ہے نا کارپوریشن، جب ایک ادارہ آئین و قانون میں وجود رکھتا ہی نہیں تو درخواست کیسے دائر کر سکتا ہے؟ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ صدارتی آرڈر 1982 سے وجود میں آیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی آرڈر میں آئین و قانون کا حوالہ کہاں ہے؟ ،جسٹس اطہرمن اللہ نے عابد زبیری کو ہدایت کی کہ آرٹیکل 245 پڑھیں کیا کہتا ہے، وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آرٹیکل 245 کے مطابق وفاقی حکومت کے احکامات پر افواج ملک کا بیرونی خطرات سے دفاع کرتی ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ افواج کا آرٹیکل 245 سے باہر کوئی کام نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ انتہائی سینئر وکیل ہیں اور ایک قانونی وجود نا رکھنے والے ادارے کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ قانونی وجود نا رکھنے والے درخواست گزار کا کیس نہیں سن سکتے، شکایت کنندگان کے وکیل موئز جعفری اسی لیے کنارہ کش ہو گئے کہ انہیں پتا تھا ان سے سنبھلے گا نہیں،

    عدالت نے شکایت کننگان کے وکیل موئز جعفری کی عدم پیشی پر خصوصی نمائندگی کی درخواست خارج کر دی ،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی

    سندھ ہائیکورٹ نے عسکری فور میں پارکنگ ایریا میں کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر روک دی تھی،ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • شہریار آفریدی کا نام ای سی ایل میں نہیں، عدالت میں جواب جمع

    شہریار آفریدی کا نام ای سی ایل میں نہیں، عدالت میں جواب جمع

    تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی،

    شہر یار آفریدی کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی،ایف آئی اےنے عدالت میں جواب جمع کروایا، ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں جمع جواب میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کے رہنما شہر یار آفریدی کا نام ای سی ایل میں نہیں ہے.عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کے مطابق درخواست گزاروں میں سے کسی کا نام ای سی ایل میں نہیں.ایف آئی اے حکام نے عدالت میں کہاکہ شہریار آفریدی کا نام ای سی ایل میں نہیں بلکہ پی این آئی ایل میں ہے

    جسٹس ارباب طاہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ایف آئی اے 30دن تک نام پی این آئی ایل میں رکھی سکتی ہے،عدالت نے معاون وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ ایف آئی اے نے لکھ کر دے دیا ہے آپ بتائیں کیا کریں؟آپ کو کس نے کہاکہ نام ای سی ایل میں ہے؟معاون وکیل نے عدالت میں کہاکہ وکیل شیر افضل مروت نے بتایا کہ نام ای سی ایل میں ہے،جسٹس ارباب طاہر نے استفسار کیا کہ شیر افضل مروت ایڈووکیٹ کہاں ہیں؟معاون وکیل نے کہا کہ وہ کیس کے سلسلے میں پشاور گئے ہوئے ہیں،عدالت نے کہاکہ آپ شیر افضل مروت سے ہدایت لے کر ہمیں آگاہ کریں اس کیس کو نمٹا دیتے ہیں،

    ابھی ایم پی او کو کالعدم تو نہیں کیا بلکہ کچھ شرائط عائد کی ہیں

    پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

     شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا یے

  • ہم کیوں سسٹم کے ساتھ کھیل رہے، لال حویلی کیس میں‌عدالت کے ریمارکس

    ہم کیوں سسٹم کے ساتھ کھیل رہے، لال حویلی کیس میں‌عدالت کے ریمارکس

    راولپنڈی: لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں لال حویلی کیس کی سماعت ہوئی،

    جسٹس مرزا وقاص رؤف نے سماعت کی ،پیٹشنر شیخ صدیق کی طرف سے سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ پیش ہوئے،عدالت نے کہاکہ بادی النظر میں لگتا ہے کہ چیئرمین نے شفاف کارروائی نہیں کی ،وکیل نے کہاکہ جس دن چئیرمین نے فیصلہ کیا اس دن چئرمین کا نوٹیفیکیشن نہیں ہوا تھا ،چیئرمین کی تقرری کا نوٹیفیکیشن 18 اکتوبر میں ہوا جب کہ اس نے فیصلہ 14ستمبر کو کیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین تقرری سے پہلے کیسے فیصلہ کر سکتا ہے ،ہم کیوں سسٹم کے ساتھ کھیل رہے ہیں ،آج کل تیزی سے حالات بدل رہے ہیں جو بات ابھی غلط ہے تھوڑی دیر بعد صحیح ہوجائے گی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو عدالت نے ہدایت کی اور کہا کہ آپ تازہ ہدایات لے لیں،محکمہ متروکہ وقف املاک کے وکیل کی عدم دستیابی کی وجہ سے لال حویلی کیس کی سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی

    واضح رہے کہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی رہائشگاہ لال حویلی خالی کر وا کر سیل کر دی گئی ہے،ڈپٹی ایڈ منسٹر یٹر آصف خان کا کہنا ہے کہ شیخ رشید اور ان کے بھائی متروکہ وقف املاک کی پراپرٹی پر غیر قانونی قابض ہیں، لال حویلی سے متعلق کوئی مستند دستاویزات پیش نہیں کر سکے ،

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

    لال حویلی خالی کرانے کا نوٹس، شیخ رشید کو عدالت سے ریلیف مل گیا

    اکیلی عورت لفٹ لے کر فرنٹ سیٹ پر کیسے بیٹھ گئی، عدالت کے ریمارکس

    کٹاس راج مندر ازخودنوٹس کیس، سپریم کورٹ نے کس سے رپورٹ طلب کی؟ اہم خبر

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • خدیجہ شاہ کی رہائی کیوں نہیں ہوئی؟ سی سی پی او لاہور کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم

    خدیجہ شاہ کی رہائی کیوں نہیں ہوئی؟ سی سی پی او لاہور کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم

    خدیجہ شاہ کو عدالتی حکم کے باوجود رہا نہ کرنے کا معاملہ ، لاہور ہائیکورٹ میں آئی جی پنجاب پولیس اورسی سی پی او لاہور کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    عدالت نے توہیں عدالت کی درخواست پر سی سی پی او لاہور کو 27اکتوبر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دے دیا، عدالت نے حکم دیا کہ سی سی پی او پیش ہو کر ضمانت کے باوجود خدیجہ شاہ کا ریمانڈ لینے پر مطمئن کریں ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پولیس نے دانستہ لاہور ہائیکورٹ میں پیش کردہ رپورٹ میں جھوٹ بولا اور غلط بیانی کی ،جسٹس علی باقر نجفی نے خدیجہ شاہ کی درخواست پر سماعت کا فیصلہ جاری کیا

    درخواست گزار کی طرف سے سمیر کھوسہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے خدیجہ شاہ کی رہائی کی درخواست ضمانت منظور کر لی،پولیس حکام دانستہ خدیجہ شاہ کی رہائی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوے ہیں،پولیس نے خدیجہ شاہ کو رہاہ کرنے کی بجائے اسکی گرفتاری کے لیے ٹرائل کورٹ میں نئی درخواست دے دی ہے ،ایسا کیا جانا عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے،عدالت اپنے حکم کی نفی کرنے پرآئی جی پنجاب پولیس اور سی سی پی او لاہور کے خلاف توہیں عدالت کی کارروائی عمل میں لائے

    خدیجہ شاہ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی کہ ایڈیشنل آئی جی نے مقدمات کی تفصیلات کے لیے دائر درخواست میں عدالت رپورٹ پیش کی،رپورٹ میں خدیجہ شاہ پر دو مقدمات درج کرنے کی تفصیلات فراہم کی گی ،پولیس نے خدیجہ شاہ سے دیگر مقدمے میں تفتیش شروع کردی ہے ،پولیس کی بدنیتی ہےعدالت آئی جی پنجاب سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کرے

    پولیس نے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمے میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سے متعلق الزامات عائد کئے ہیں،خدیجہ شاہ جیل میں ہیں، امریکی حکام نے بھی خدیجہ شاہ سے ملاقات کی ہے، خدیجہ شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی تھی، خدیجہ شاہ کو عدالت پیش کیا گیا تا ہم وہ خاموش رہیں اور سوالوں کے جواب نہیں دیئے ، خدیجہ شاہ نے خود تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو پولیس نے پیش کیا تو اس موقع پر خدیجہ شاہ کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا، خدیجہ شاہ نے ہاتھ میں تسبح پکڑ رکھی تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • شہبا زگل کے دوبارہ وارنٹ جاری

    شہبا زگل کے دوبارہ وارنٹ جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بغاوت پر اکسانے کے کیس میں تحریک انصاف کے رہنما شہبازگل کے دوبارہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں

    عدالت نے شریک ملزم عماد یوسف کے خلاف ٹرائل ختم کردی، عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نےریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ نے شریک ملزم کیخلاف ٹرائل ختم کرنے کی ڈائریکشن دی شہباز گل کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری دوبارہ جاری کئے جاتے ہیں

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے  ستمبرمیں بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں شہباز گل کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ یاد رہے کہ شہباز گل کو اشتعال انگیز تقاریرکے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ایک ماہ جیل میں رہے تھے۔ شہباز گل کی ضمانت کے خلاف اکتوبر میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی.

  • العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    احتساب عدالت سے ضمانت مںظور ہونے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے
    شہباز شریف ، خواجہ آصف سمیت دیگر ن لیگی رہنما بھی اسلام آبا د ہائیکورٹ پہنچ گئے، نواز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی.حنیف عباسی بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود تھے،نواز شریف کورٹ نمبر ایک میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں پیش ہوئے،سردار ایاز صادق ،ظفراللہ خان ، حافظ حفیظ الرحمان ،طارق فضل چوہدری ،امیر مقام،دانیال چوہدری،رانا تنویر،عطا تارڑ،سینیٹر افنان اللہ،حنا پرویز بٹ،مریم اورنگزیب ،خواجہ آصف ،اعظم نزیر تارڑ، محسن شاہنواز رانجھا کے ساتھ مسلم لیگ ن کے متعدد رہنما نواز شریف کے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود تھے

    چار سال اشتہاری رہنے کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف نے خود کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے سرنڈر کر دیا

    سماعت کا آغاز ہوا تواسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت شروع، یہ کیا ہے ؟،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دو درخواستیں ہیں اپیلیں بحال کرنے کی ،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر ہم آپ کے دلائل سے مطمئن نہ ہوئے تو پھر ، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں مطمئن کرونگا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں پر ہم نیب کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیلوں کی بحالی روٹین کا معاملہ نہیں، آپ نے مطمئن کرنا ہے کہ آپ عدالت سے غیر حاضر کیوں رہے؟ نواز شریف نے جسٹیفائی کرنا ہے کہ کیوں وہ اشتہاری ہوئے؟، وہ عدالت کیوں پیش نہیں ہوتے رہے

    نواز شریف کے وکلا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف جان بوجھ کر عدالت سے غیر حاضر نہیں ہوئے ، عدالت نے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی، میڈیکل رپورٹس جمع کراتے رہے ہیں، جسٹس میاں گل حسن اوررنگزیب نے نواز شریف کے وکلاء سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بات واضح کردوں آپ نے قانون کے مطابق چلنا ہے، کیا ملزم اپنی مرضی سے وطن واپس آ کر اپیلیں بحال کرانے کا کہہ سکتا ہے؟، کیا عدالت اپیلیں بحال کرنے کی پابند ہے؟ اسلام آبا د ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیلوں کی بحالی معمول کا معاملہ نہیں،اعظم نذیر تارڑ نے استدعا کی کہ یہ فرسٹ امپریشن کا کیس ہے، ہمارے حفاظتی ضمانت کے آرڈر میں کچھ روز کی توسیع کر دیں،پراسیکیوٹر جنرل نیب عدالت کے سامنے پیش ہوئے،پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کے سامنے اقرارکیا کہ نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع پر ہمیں اعتراض نہیں ہے،ہم نے اپیلوں کی بحالی سے متعلق درخواستیں پڑھی ہیں، ہمیں ان درخواستوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے،اگر حفاظتی ضمانت میں توسیع کردی جائے تو ہمیں اعتراض نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں ان کیسز میں 5 سال بعد واپس آیا ہوں، سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کیا یہ وہی نیب ہے .آپ کو پتہ ہے عام عوام کا کتنا وقت اس کیس میں لگا ؟،بڑا آسان ہے عدالت میں الزام لگایا جائے ،میں کنفیوژ ہوں کہ کیا یہ وہی نیب ہے؟،2 ہائیکورٹس کے ریٹائرڈ جج اور پوری ریاستی مشینری اس وقت متحرک تھی، اب وہی نیب پیش ہو کر کہہ رہی ہے کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ٹائم اور کیوں ضائع کرتے ہیں، کیا اب نیب یہ کہے گی کہ کرپٹ پریکٹسز کا الزام برقرار ہے، نوازشریف کو چھوڑ دیں،

    عدالت نے استفسار کیا کہ چیئرمین نیب کہاں ہیں ؟،پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ وہ ملک میں ہی ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اگر عدالت ضمانت میں توسیع نہیں کرتی تو کیا نیب نواز شریف کو گرفتار کرے گا؟،جس طرح میں نے کہا میں اس صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہوں،چیئرمین نیب کے سامنے معاملہ رکھیں، کیوں عوام کا وقت دوبارہ ضائع کر رہے ہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب اگر سمجھتا ہے کہ ریفرنسز غلط دائر ہوئے تو وہ واپس لے لے، اگر نیب نے ریفرنسز واپس لینے ہوں تو کیسے لئے جا سکتے ہیں؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہائے کیا زود پشیماں کا پشیماں ہونا، ایسا نہ کریں، نواز شریف پر بہت سے الزامات لگائے گئے، نواز شریف کو عدلیہ اور آئین سرخرو کرینگے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم جو بھی تاریخ مقرر کریں گے آپ چیئرمین نیب سے ہدایات لے کر آئیں، آئندہ سماعت پر آپ کلیئر پوزیشن لیں، یہ آپ کے ادارے کےلئے بھی ٹھیک نہیں ، ہمیں واضح بتا دیں تاکہ ہم فیصلہ دے کر کوئی اور کام کریں، پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت میں جواب دیا ،جی سر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا اور کہا کہ ہم پھر پوچھ رہے ہیں کیا نیب نواز شریف کو گرفتار کرنا چاہتا ہے؟ ، کیا حفاظتی ضمانت میں توسیع پر کوئی اعتراض ہے،پراسکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ ہم گرفتار نہیں کرنا چاہتے، حفاظتی ضمانت میں توسیع پر بھی کوئی اعتراض نہیں،عدالت نے کہا کہ شریعت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے دوبارہ پوچھتے ہیں کیا آپ نوازشریف کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ نہیں، گرفتار نہیں کرنا چاہتے ،

    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں 26 اکتوبر تک توسیع کر دی گئی، عدالت نے نیب سے جواب طلب کر لیا،نواز شریف کی سزا کیخلاف درخواستیں بحال کرنے کی درخواستوں پر نیب کو نوٹس جاری کر دیا گیا،عدالت نے کیس کی سماعت جمعرات تک کیلئے ملتوی کردی،عدالت نے نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں جمعرات تک توسیع کردی،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں 2 دن کی توسیع کی گئی.جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں کو میرٹ پر دیکھیں گے.

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے کمرہ عدالت سے تمام وکلاء لیگی رہنما اور صحافیوں کو باہر نکال دیا گیا،کمرہ عدالت میں کی سیکورٹی کلیرنس کے بعد لوگوں کو دوبارہ اندر آنے کی اجازت دی جائے گی

    نواز شریف کے کیسز پر سماعت مسلم لیگ ن کے وکلا اور رہنماؤں کی وجہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں تاخیر کا شکار ہوئی، عدالتی عملے کی جانب سے کمرہ عدالت خالی کرانے کی ہدایت کی گئی اور کہا گیا کہ جب تک کورٹ روم خالی نہیں کریں گے، بم ڈسپوزل سکواڈ سیکورٹی کلیئرنس نہیں کرے گا،صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار نوید ملک نےبھی وکلا سے کمرہ عدالت خالی کرنے کی اپیل کی،عطا تارڑ کی جانب سے بھی وکلا اور ن لیگ رہنماؤں کو سیکورٹی کلیئرنس کے لیے کورٹ روم خالی کرنے کی ہدایت کی گئی،نواز شریف کیس میں مخصوص وکلا اور تیس کورٹ رپورٹرز کو کورٹ روم داخلے کی اجازت ہے

    واضح رہے کہ نواز شریف احتساب عدالت پیشی کے بعد منسٹر انکلیوچلے گئے تھے، نواز شریف احتساب عدالت آئے بھی منسٹر انکلیو سے تھے، وہاں سے پھر نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ آئے تو انکے ساتھ 18 گاڑیاں تھیں، نواز شریف کی گاڑی کو احاطہ عدالت میں آنے کی اجازت نہیں ملی،
    nawaz

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد کی عدالتوں میں پیشی کے پیش نظر اسلام آباد پولیس نے نواز شریف کو خصوصی سکیورٹی فراہم کی ہے نوازشریف کی سکیورٹی سکواڈ میں 3 سپیشل پولیس وینز شامل کی گئی ہیں،اے ٹی ایس اہلکاروں کا خصوصی دستہ بھی نواز شریف کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے.

    کیا آپ نے جنرل فیض حمید کو معاف کردیا ؟ نواز شریف سے صحافی کا سوال، جواب نہ ملا،گارڈ کے صحافی کو دھکے
    نواز شریف کی اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی کے موقع پر کوریج کرنے والے صحافیوں نے نواز شریف سے سوال کرنے کی کوشش کی تو انہیں دھکے دیئے گئے، اس ضمن میں صحافی زبیر علی خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوال پوچھا کہ کیا آپ نے جنرل فیض حمید کو معاف کردیا ہے؟ جنرل باجوہ کا احتساب آپ کریں گے؟ میاں صاحب نے سوال کا جواب تو نہیں دیا لیکن ان کے گارڈز نے دھکے دیے موبائل چھننے کی کوشش کی

    صحافی نے نواز شریف سے سوال کیا کہ الیکشن میں حصہ لیں گے،جس کے جواب میں نواز شریف مسکرا دیے،صحافی نے سوال کیا کہ ملڑی کورٹس سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ اچھا ہے؟ نواز شریف نے ججز کی کرسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کورٹ آرہی ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ: میاں نواز شریف کا مرکزی گیٹ پر کارکنان کی جانب سے استقبال کیا گیا،کارکنان نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں،کارکنان کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کے نعرے لگائے گئے،کمرہ عدالت کے اندر شدید بد نظمی، وکلاء نے نواز شریف کو گھیر لیا،وکلاء دھکم پیل کرکے زبردستی کمرہ عدالت میں داخل ہوگئے، پولیس کی ایک نہ چلی،کمرہ عدالت کا ڈیکورم شدید متاثر، لیگی وکلاء کمرہ عدالت میں ہی سیلفیاں لینے لگ گئے،لیگی رہنماؤں، وکلاء اور کارکنان کے سامنے اسلام آباد پولیس بے بس ہو گئی.

    واضح رہے کہ نواز شریف ہفتہ کو پاکستان واپس پہنچے ہیں، انہوں نے مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ سے بھی خطاب کیا تھا، نواز شریف بعد ازاں جاتی امرا گئے، نواز شریف کی زیر صدارت گزشتہ روز ایک اہم اجلاس بھی ہوا ، نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لی ہے، آج 24 اکتوبر کو نواز شریف کو عدالت نے طلب کر رکھا ہے،

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری