Baaghi TV

Tag: عدالت

  • ایک ہی روز انتخابات کرانے کی درخواست خارج

    ایک ہی روز انتخابات کرانے کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ ، ملک بھر میں ایک ہی روز انتخابات کرانے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی، سپریم کورٹ نے عام انتخابات ایک تاریخ کو کرانے کی درخواست خارج کردی،سپریم کورٹ نے واپس لینے کی بنیاد پر درخواست خارج کی،درخواست گزار کی جانب سے شاہ خاور پیش ہوئے اور کہا کہ اب اس درخواست کی ضرورت نہ رہی،کل عدالت پہلے ہی یہ معاملہ اٹھا چکی ہے ،یہ اس وقت ہم نے ایک کوشش کی تھی، اس وقت عدالت نے 14 مئی کو انتخابات کا آرڈر دیا تھا ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کو درخواست دینی چاہئے تھی کہ 90 دن میں الیکشن نہیں کرارہے ان کے خلاف کاروائی کریں، آپ الیکشن التوا میں ڈالنے والوں کی معاونت کیوں کرتے رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہم قانون کے مطابق ایسا کر سکتے ہیں جو آپ درخواست میں مانگ رہے ہیں ،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر 4 سال بعد انتخابات کا حکم دیں تو کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ قانون کے برخلاف تو کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے ، شاہ خاور نے کہا کہ میرا موقف ہے کہ معاملہ ختم ہوگیا ہے،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپکا کا موقف یہی تھا کہ ایک ساتھ انتخابات ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل کو دوبارہ ایسی صورتحال پیدا ہو جائے تو پھر؟ شاہ خاور نے کہا کہ ہم پھر ایک درخواست دائر کردیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو پھر اس معاملے پر ایک ہی بار فیصلہ نہ کردیں ؟ اگر آڈر آف دا کورٹ کی خلاف ورزی ہو تو توہین عدالت کی درخواست دائر کرسکتے ہیں،آپ اکثریت کا فیصلہ چیلنج کریں، آڈر آف دا کورٹ کی اہمیت ہوتی ہے، ایک آڈر آف دا کورٹ نہ ہو تو ہر جج کہے گا یہ آڈر آف دا کورٹ ہیں،انتخابات کے معاملے پر 4 آڈر آف دا کورٹ تھے یا پانچ؟ فارق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کیس میں مذاکراتی کمیٹی بات چیت کیلئے بنی تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سینئر وکیل ہیں ، آڈر آف دا کورٹ سے اکثریت واضح ہوجاتی ہے، آڈر آف دا کورٹ سے فیصلے کا نتیجہ مل جاتا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نگران حکومت آئین کے دیباچے کے خلاف ہیں ، 6 ماہ کیلئے نگران سیٹ اپ کیسے ہوسکتا ہے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا کہ نگران حکومت کا مقصد کیا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نگران حکومت کا مقصد صاف اور شفاف انتخابات ہیں،آج تک صاف شفاف انتخابات نگران حکومت نہیں کرواسکی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کروانا تو الیکشن کمیشن کا کام ہے، الیکشن کمیشن کا پھر کیا کام ہے،چلیں خیر یہ دیکھنا پارلیمنٹ کا کام ہے،ہم صرف تشریح ہی کر سکتے ہیں ،وکیل شاہ خاور کی جانب سے درخواست واپس لینے پر عدالت نے خارج کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حکومت کی مدت مکمل ہونے سے عین پہلے اسمبلی تحلیل کرنے کا کیا مقصد ہے؟ میں سوالات اٹھا رہا ہوں کہ شاید پارلیمنٹ ان پر غور کرے ،الیکشن سے بہت پہلےکے اصولی مؤقف پراسمبلی تحلیل کرناتوالگ بات ہے ،الیکشن سےعین پہلے ایساکرنے سے کیا ہوگا؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • نواز شریف کی واپسی

    نواز شریف کی واپسی

    لندن میں چار سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد نواز شریف کی لاہور واپسی پر جوش و خروش دیکھے میں آیا، نواز شریف کی آمد سے قبل انہیں تین مقدمات میں 24 اکتوبر تک ضمانت دی گئی، زیر بحث پہلا مقدمہ توشہ خانہ کیس تھا، جہاں نواز شریف پر ابھی تک باضابطہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی تھی، لیکن قانونی کارروائی جاری تھی۔ دیگر دو مقدمات، یعنی ایون فیلڈ کیس اور العزیزیہ کیس، میں ان کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

    العزیزیہ کیس میں، نواز شریف نے بیرون ملک علاج کرانے کے لیے ضمانت حاصل کی تھی، لیکن وہ وعدے کے مطابق واپس نہ آئے، ایسی صورتحال جس کے نتیجے میں عام طور پر ایک عام شہری کی فوری گرفتاری ہوتی ہے، جس کے بعد ضمانت کی درخواست دائر کی جاتی ہے۔ تاہم نواز شریف کے کیس میں یہ اصول لاگو نہیں کئے گئے،

    اگرچہ نواز شریف کی واپسی جمہوری عمل کے لیے اہمیت کی حامل ہے، لیکن یہ جس انداز میں ہوا اس کے بارے میں اہم خدشات پیدا کرتا ہے، جس سے قانون کی حکمرانی کی ممکنہ بے توقیری کا اشارہ ملتا ہے۔ اس طرح کی صورتحال عوام میں پولرائیزیشن کو بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ عوام کا ایک اہم حصہ اب بھی پاکستان تحریک انصاف حکومت کا حامی ہے.

    نواز شریف کی پاکستان واپسی ، پی ٹی آئی کی وجہ سے ہی ممکن ہوئی، پی ٹی آئی کی محاذ آرائی، فوج پر مسلسل تنقید، 9 مئی کا واقعہ اور سائفر کیس جیسے کیسز میں ملوث ہونے کی وجہ سے فوج اور پی ٹی آئی کے درمیان دراڑ مزید بڑھ گئی،جس نے ملک کی سفارتی کوششوں پر نقصان دہ اثر ڈالا، یہ جزوی طور پر، پی ٹی آئی کی اپنی غلطی تھی جس نے نواز شریف کے لیے سیاسی منظر نامے میں دوبارہ داخل ہونے کا راستہ پیدا کیا.

    احتساب کی بجائے معاشی بحالی کو ترجیح، نواز شریف کا بیانیہ تجزیہ کاروں کو یہ سوال کرنے پر مجبور کر رہاہے کہ کیا وہ انتخابات میں تاخیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ عوامی حمایت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے وقت مل سکے۔ یہ اقدام ابھرتے ہوئے سیاسی منظر نامے اور پاکستانی سیاست میں مختلف اداکاروں کی جانب سے استعمال کی جانے والی حکمت عملیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

  • سائفر کیس میں جیل ٹرائل روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی استدعا مسترد

    سائفر کیس میں جیل ٹرائل روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی استدعا مسترد

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جیل ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا چارج کالعدم قرار دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے،جسٹس حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت نے درخواست پر اعتراض کے ساتھ سماعت کی،سنگل بنچ نے جیل ٹرائل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی درست قرار دی تھی،وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کردیا اور کہا کہ وزارت قانون کے دو نوٹیفکیشنز چیلنج کئے ہیں، وزارت قانون نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کا نوٹیفکیشن جاری کیا،وزارت قانون نے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر وزارت داخلہ کی درخواست پر نوٹیفکیشن جاری کیا،جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا وزارت داخلہ کی تحریری درخواست ریکارڈ پر موجود ہے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وزارت داخلہ کی درخواست کو عدالتی ریکارڈ پر نہیں لایا گیا، پٹشنر نے 29 ستمبر کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا ہے ، یہ ایڈمنسٹریٹو آرڈر تھا جس میں کنفیوژن بھی ہے متعلقہ اتھارٹی کمشنر ہے وزارت قانون نہیں ہے،

    وکیل سلمان کرم راجہ نے کہا کہ سنگل بنچ نے قرار دیا کہ وفاقی حکومت کا اختیار ہے کہ اپنی مرضی کا جج مقرر کرے،
    یہ جوڈیشل افسران ہیں وفاقی حکومت کے پاس "پک اینڈ چوز” کا کوئی اختیار نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس طرح تو ایگزیکٹو عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت کرے گی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں جیل ٹرائل روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی استدعا مسترد کردی،عدالت نے کہا کہ ہوسکتا ہے اعتراضات ختم ہونے پر جب فائل مارکنگ کیلئے چیف جسٹس کے پاس جائے تو نیا بنچ تشکیل دے دیا جائے، ابھی ہم آپ کو کوئی عبوری ریلیف نہیں دے سکتے ، یہ درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں اس کا فیصلہ بھی بعد میں ہوگا ، کسی شخص کیلئے رولز کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے، ابھی ہم آپ کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کررہے ہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جیل ٹرائل کے خلاف دائر انٹراکورٹ اپیل سماعت کے لیے مقررکی گئی،رجسٹرار آفس نے اعتراضات کے ساتھ چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز اپیل پر سماعت کرینگے،اپیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا چارج دینے کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دینے کی بھی استدعا کی گئی، عدالت میں دائر اپیل میں کہا گیا کہ جیل میں خفیہ ٹرائل کو بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جائے،سائفر کیس کا ٹرائل اوپن کورٹ میں کرنے کا حکم دیا جائے، انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا چارج دینے کا غیرقانونی قرار دیا جائے، نوٹیفکیشن کو غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے، چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست نمٹا دی تھی، چیف جسٹس نے جیل ٹرائل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کا چارج درست قرار دیا تھا

    قبل ازیں عمران خان نے ایسی ہی ایک درخواست دائر کی تھی کہ انکا ٹرائل جیل کی بجائے عدالت میں کیا جائے تا ہم تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سائفر کیس میں جیل سماعت کے خلاف درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نا مل سکا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا,عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل ٹرائل سکیورٹی کے مدنظر چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں ہے ، بظاہر جیل ٹرائل کے معاملے پر کوئی بد نیتی نظر نہیں آئی ، عمران خان خود اپنی سکیورٹی کے حوالے ماضی متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے ، عمران خان کو جیل ٹرائل پر تحفظات ہوں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • توشہ خانہ کیس، سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت منظور

    توشہ خانہ کیس، سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت منظور

    سابق وزیراعظم نواز شریف احتساب عدالت پہنچ گئے ہیں،نواز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ، نواز شریف کی پیشی سے قبل کمرہ عدالت خالی کرا لیا گیا ،ن لیگی رہنما احسن اقبال، طارق فضل چوہدری، ایاز صادق اور رانا تنویربھی احتساب عدالت پہنچ چکے ہیں،احتساب عدالت آمد پر ن لیگی کارکنان نے نعرے لگا کر نواز شریف کا استقبال کیا، نواز شریف کے ساتھ ، شہباز شریف ، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب، طارق فضل چودھری، اسحاق ڈار موجود ہیں.

    سابق وزیراعظم نوازشریف نے عدالت میں سرینڈر کر دیا،نواز شریف عدالت میں پیش ہو گئے، نواز شریف جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش ہوئے،جج محمد بشیر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو روسٹرم پر بلالیں،نواز شریف روسٹرم پر آئے تو عدالت نے نواز شریف کو کمرہ عدالت سے واپس جانے کی ہدایت کر دی.نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ نوازشریف نے سرینڈر کر دیا انکے وارنٹ مسترد کر دیں،وارنٹ مسترد ہونگے تو ٹرائل آگے چلے گا،عدالت نے نواز شریف کی دس لاکھ روپے مچلکوں پر ضمانت لے لی،نوازشریف کی جانب سے مچلکے عدالت میں جمع کرا دیے گئے ،نوازشریف کی حاضری سے استثنی کی درخواست بھی دائر کر دی گئی،عدالت نے نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کر دیا،نواز شریف نے مستقبل میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کردی جس پر جج محمد بشیر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فرد جرم کیلئے تو نوازشریف کو آنا ہی پڑے گا،

    توشہ خانہ کیس میں نواز شریف کا اشتہاری کا اسٹیٹس ختم،دائمی وارنٹ منسوخ کر دیئے گئے،جج محمد بشیر نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ویسے بہت مزہ آتا ہے جب کافی لوگ جمع ہوتے ہیں،وکیل نواز شریف نے کہا کہ لوگ کسی کے پیچھے اکٹھے نہیں ہوتے جن پر انہیں اعتماد نہ ہو، جج محمد بشیر نے کہا کہ بس اب بس،اب آپ سیاسی بات کر رہے ہیں، جج محمد بشیر کے جملے پر قہقہے گونج اٹھے.
    nawaz sharif

    نواز شریف اسلام آبا دہائیکورٹ میں پیش ہوں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی نواز شریف سرنڈر کریں گے، اس موقع پر عدالت کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے،

    قبل ازیں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف کو پیش ہونے کے لیے ایک سے ڈیڑھ بجے کا وقت دیا تھا ، نواز شریف کے وکیل نے استدعا کی کہ باقی روٹین کے کیسز سن لیں، ہمیں وقت دیا جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس،سابق وزیر اعظم نواز شریف کے کیسز کی سماعت اڑھائی بجے کے بعد ہوگی،کیس کی سماعت ریگولر بینچ کے بعد خصوصی ڈویژن بینچ سماعت کرے گا،چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سماعت کریں گے،عدالت نے آج تک نواز شریف کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی

    احتساب عدالت اسلام آباد میں توشہ خانہ ریفرنس سے متعلق کیس،نواز شریف کے وکیل نے عدالت میں 3 درخواستیں دائر کردیں،توشہ خانہ کیس میں نواز شریف کی ضم شدہ پراپرٹی ریلیز کرنے کی استدعا کی گئی،دوسری درخواست میں کہا گیاکہ توشہ خانہ کیس میں پلیڈر مقرر کیا جائے،ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے لیے بھی درخواست دائر کر دی گئی،

    سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں پر بھی آج سماعت ہو گی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزاؤں کیخلاف اپیلوں کی درخواستوں پر سماعت کرے گا

    نواز شریف عدالت پیشی کے بعد مولانا فضل الرحمان کو ملنے جائیں گے
    سابق وزیراعظم نواز شریف مختلف عدالتوں میں پیشی کے بعد اسلام آباد میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے،نواز شریف سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی رہائش گاہ جائیں گے ،سابق وزیراعظم نواز شریف سربراہ جمعیت علمائے اسلام ف مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ جائیں گے اور مولانا فضل الرحمان سے بھی ملاقات کریں گے، نواز شریف مولانا فضل الرحمان کی خوشدامن کی وفات پر اظہار تعزیت کریں گے ، اس موقع پر ملکی سیاسی صورتحال پر بھی بات چیت کی جائے گی

    سابق وزیراعظم نواز شریف اسحاق ڈارکی رہائش گاہ پر پہنچ گئے۔ نواز شریف منسٹرز انکلیو میں اسحاق ڈار کی رہائشگاہ پر کچھ وقت گزاریں گے، سابق وزیراعظم کچھ دیر بعد احتساب عدالت کے لیے روانہ ہوں گے،

    واضح رہے کہ نواز شریف ہفتہ کو پاکستان واپس پہنچے ہیں، انہوں نے مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ سے بھی خطاب کیا تھا، نواز شریف بعد ازاں جاتی امرا گئے، نواز شریف کی زیر صدارت گزشتہ روز ایک اہم اجلاس بھی ہوا ، نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لی ہے، آج 24 اکتوبر کو نواز شریف کو عدالت نے طلب کر رکھا ہے، نواز شریف احتساب عدالت اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

  • عمران خان کو  سماعت کے موقع پر پنجرے میں کھڑا کر دیتے ہیں،وکیل

    عمران خان کو سماعت کے موقع پر پنجرے میں کھڑا کر دیتے ہیں،وکیل

    جیل ٹرائل کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ایک پنجرے میں کھڑا کر دیتے ہیں جہاں ان سے بات تک نہیں ہو سکتی، اس میں جالیاں لگی ہوئی ہیں جس میں دستخط کرانے کیلئے کوئی دستاویز تک نہیں دی جا سکتی،سابق وزیراعظم اور سابق وزیر خارجہ کو پنجرے میں کھڑا کرنا انسانی وقار کے خلاف ہے،اڈیالہ جیل میں ان کے پاس ایک ہال بھی ہے جہاں ٹرائل ہے لیے کورٹ لگ سکتی ہے،وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ چیف جسٹس کی عدالت میں بھی ان نکات پر تفصیلی دلائل دے چکے ہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ ڈویژن بنچ کے سامنے ہیں سنگل بنچ میں جو ہوا اسکو بھول جائیں، آپ اس عدالت کو اپنے دلائل سے مطمئن کریں، چیئرمین پی ٹی آئی کو وکلاء سے ملاقات کیلئے ہفتے میں آدھ گھنٹے کی اجازت دی جاتی ہے،یہ تو پھر فیئر ٹرائل کا تاثر نہیں آ رہا، فیئر ٹرائل کیسے مل رہا ہے، خدا کیلئے، یہ منشیات کا کوئی عام کیس نہیں ہے،یہاں تو فرسٹ امپریشن میں کیسز کے فیصلے ہو رہے ہیں،آپ نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت پچھلا ٹرائل اسلام آباد میں کب کیا تھا، پچھلی دو تین دہائیوں میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا کوئی ٹرائل بتا دیں، ایک شخص کے خلاف 189 مقدمات درج ہونے کی کوئی مثال نہیں ملتی، چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطل ہو چکی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ پھر یہ بدسلوکی کیوں کی جا رہی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو انکے وکلاء سے ملاقات کی اجازت اُنکی ضرورت کے مطابق دی جانی چاہئے،

    عمران خان سے وکلا کو ملنے دیا جائے، عدالت

    خاور مانیکا ہی عدالت کو بتائیں گے کہ طلاق کب دی

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

  • نیب کیسز میں عمران خان کی ضمانت کی درخواست، سماعت ملتوی

    نیب کیسز میں عمران خان کی ضمانت کی درخواست، سماعت ملتوی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی نیب کیسز میں ضمانت کی درخواستیں بحال کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا چیئرمین پی ٹی آئی کی اِن کیسز میں گرفتاری ڈالی گئی ہے؟ نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ یہ درخواستیں قابلِ سماعت ہی نہیں ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی نے احتساب عدالت کے فیصلے کے 53 دن بعد درخواست دائر کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ کیس کل سماعت کیلئے رکھ لیتے ہیں اس نکتے کو دیکھ لیں، عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارے لئے پابندی ہے نواز شریف کیلئے 9 سال بعد بھی پابندی نہیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس کیس کو بدھ کے روز سماعت کیلئے رکھ لیں، عدالت نے کیس کی سماعت 25 اکتوبر تک ملتوی کر دی

    ٹرائل کورٹ نے توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت خارج کر دی تھی ،چیئرمین پی ٹی آئی کی عدم پیروی پر اُنکی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی گئی تھیں

    عمران خان سے وکلا کو ملنے دیا جائے، عدالت
    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں سہولیات فراہمی سے متعلق انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی،عدالتی حکم پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہو گئے،پٹیشنر کے وکیل شیر افضل مروت اور وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ ایک کنفیوژن کی وجہ سے گزشتہ سماعت پر پیش نہ ہو سکے تھے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ پٹیشنر کے خلاف کتنے مقدمات ہیں؟ شیر افضل مروت ایڈوکیٹ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 189 ایف آئی آرز درج ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل چل رہا ہے،اس کے علاوہ سات اور کیسز میں بھی ٹرائل چل رہا ہے،میں گزشتہ سماعت پر جیل گیا تو کوئی وجہ بتائے بغیر سپرنٹنڈنٹ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروائی،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اگر چیئرمین پی ٹی آئی پر اتنے مقدمات ہیں تو ان کی وکلاء سے ملاقات بھی کرائی جانی چاہئے، انہوں نے اپنے وکلاء سے مشاورت اور دستاویزات پر دستخط کرنے ہوتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ رولز کے مطابق ہفتے میں ایک دن ملاقات کی اجازت ہے جس کا دورانیہ آدھ گھنٹے کا ہوتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے لیے دو دن رکھے گئے ہیں،ایک دن فیملی کے افراد اور ایک دن وکلاء سے ملاقات کے لیے مختص ہے، وکیل نے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ چھٹی والے دن بھی ملاقات کی اجازت دے سکتا ہے،

    جس دفتر سے نکل کر آیا تھا، اللہ نے اسی میں واپس بلوایا ہے، اسحاق ڈار

    ڈبل شاہ کیس، نیب کی جانب سے متاثرین میں کتنے کروڑ کے چیک تقسیم ہوئے؟

    نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ،23 ماہ میں کتنے مقدمات دائر ہوئے؟ چیئرمین نیب نے بتا دیا

    خورشید شاہ نے اپنا گھر کس کے پلاٹ پر بنایا؟ نیب کا عدالت میں حیران کن انکشاف

  • نواز شریف مری روانہ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کا سرکلر جاری

    نواز شریف مری روانہ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کا سرکلر جاری

    سابق وزیراعظم نوازشریف لاہور سے مری روانہ ہو گئے ہیں

    نواز شریف مری میں دو سے تین دن قیام کریں گے، نواز شریف کل احتساب عدالت اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی پیش ہوں گے، مری میں نواز شریف کی اہم ملاقاتیں ہوں گی،نواز شریف سخت سیکورٹی میں روانہ ہوئے،مریم نواز، پرویز رشید، اسحاق ڈار بھی نواز شریف کے ہمراہ ہیں

    دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کی کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے لئے سرکلر جاری کر دیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ کمرہ عدالت میں صرف ان افراد کو داخلے کی اجازت ہو گی جنہیں رجسٹرار آفس سے داخلہ کارڈ جاری ہوں گے، اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل آفسز کے 10 افراد کو داخلے کی اجازت ہو گی، تیس صحافیوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہو گی، نواز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے جائیں گے

    دوسری جانب ن لیگی رہنما سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ اس صدی میں پاکستان میں چار انتخابات ہوئے، نواز شریف کو تین انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا گیا،2002 میں نواز شریف کو نا اہل کر کے جلا وطن کر دیا گیا۔ 2008 اور 2018 کے انتخابات میں بھی نواز شریف کو نا اہل کیا گیا۔ نواز شریف نے صرف 2013 کا انتخاب لڑا، وزیراعظم بنے اور پھر نا اہل کر دئیے گئے۔ کیا لیول پلینگ فیلڈ کا واویلا کرنے والوں کو کچھ یاد ہے؟

    واضح رہے کہ نواز شریف ہفتہ کو پاکستان واپس پہنچے ہیں، انہوں نے مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ سے بھی خطاب کیا تھا، نواز شریف بعد ازاں جاتی امرا گئے، نواز شریف کی زیر صدارت گزشتہ روز ایک اہم اجلاس بھی ہوا ، نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لی ہے، کل 24 اکتوبر کو نواز شریف کو عدالت نے طلب کر رکھا ہے، نواز شریف احتساب عدالت اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

  • سائفر کیس، جیل ٹرائل قانونی قرار ، فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر

    سائفر کیس، جیل ٹرائل قانونی قرار ، فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جیل ٹرائل قانونی قرار دیئے جانے کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی

    عمران خان کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ عدالت 16 اکتوبر کو سنائے گئے سنگل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے،عدالت سائفر کیس کے جیل ٹرائل کو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم قرار دے، عدالت سائفر کیس کا ٹرائل اوپن کورٹ میں کرنے کے احکامات جاری کرے، عدالت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے اختیارات سونپنے کو غیر قانونی قرار دے، عدالت سائفر کیس کے ٹرائل کو معطل قرار دے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے سائفر کیس کے ٹرائل کو قانونی قرار دیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت کا اختیار سونپنے کو بھی قانونی قرار دیا تھا

    قبل ازیں عمران خان نے ایسی ہی ایک درخواست دائر کی تھی کہ انکا ٹرائل جیل کی بجائے عدالت میں کیا جائے تا ہم تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سائفر کیس میں جیل سماعت کے خلاف درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نا مل سکا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا,عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل ٹرائل سکیورٹی کے مدنظر چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں ہے ، بظاہر جیل ٹرائل کے معاملے پر کوئی بد نیتی نظر نہیں آئی ، عمران خان خود اپنی سکیورٹی کے حوالے ماضی متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے ، عمران خان کو جیل ٹرائل پر تحفظات ہوں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • رہائی نہ ہونے پر خدیجہ شاہ کی درخواست پر آئی جی پنجاب سے جواب طلب

    رہائی نہ ہونے پر خدیجہ شاہ کی درخواست پر آئی جی پنجاب سے جواب طلب

    لاہور ہائیکورٹ خدیجہ شاہ کی آئی جی پنجاب سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سرکاری وکیل ملک سرود نے عدالت نے میں کہا کہ خدیجہ شاہ سے تحقیقات کے لیے کوئی آرڈر لیا گیا ہے، خدیجہ شاہ کی تاحال گرفتاری نہیں ڈالی گئی،عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایات لیکر پیش ہونے کی ہدایت کردی ،عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی ،جسٹس علی باقر نجفی نے خدیجہ شاہ کی درخواست پر سماعت کی

    دوبارہ سماعت ہوئی، تو عدالت نے آئی جی پنجاب سمیت دیگر فریقین سے توہین عدالت کی درخواست پر جواب طلب کرلیا ،عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی ،سی سی پی او لاہور عدالت کے روبرو پیش ہوئے،اور کہا کہ خدیجہ شاہ کو انکے ملازم کے بیان کی روشنی میں تفتیش کی اجازت مانگی ،تفتیش کی اجازت لاہور کی اے ٹی سی کورٹ نے دی ،تمام کاروائی قانون کے مطابق ہوئی ہے

    خدیجہ شاہ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی کہ ایڈیشنل آئی جی نے مقدمات کی تفصیلات کے لیے دائر درخواست میں عدالت رپورٹ پیش کی،رپورٹ میں خدیجہ شاہ پر دو مقدمات درج کرنے کی تفصیلات فراہم کی گی ،پولیس نے خدیجہ شاہ سے دیگر مقدمے میں تفتیش شروع کردی ہے ،پولیس کی بدنیتی ہےعدالت آئی جی پنجاب سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کرے

    پولیس نے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمے میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سے متعلق الزامات عائد کئے ہیں،خدیجہ شاہ جیل میں ہیں، امریکی حکام نے بھی خدیجہ شاہ سے ملاقات کی ہے، خدیجہ شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی تھی، خدیجہ شاہ کو عدالت پیش کیا گیا تا ہم وہ خاموش رہیں اور سوالوں کے جواب نہیں دیئے ، خدیجہ شاہ نے خود تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو پولیس نے پیش کیا تو اس موقع پر خدیجہ شاہ کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا، خدیجہ شاہ نے ہاتھ میں تسبح پکڑ رکھی تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • کسی ایک ملزم کی حد تک جیل ٹرائل کا آرڈر ہونا کافی نہیں؟عدالت

    کسی ایک ملزم کی حد تک جیل ٹرائل کا آرڈر ہونا کافی نہیں؟عدالت

    اسلام آبادہائیکورٹ میں سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف تحریک انصا ف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ، شاہ محمود قریشی کی جانب سے علی بخاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ایک سے زیادہ ملزم ہوں تو کسی ایک ملزم کی حد تک جیل ٹرائل کا آرڈر ہونا کافی نہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ ایک نیا نوٹیفکیشن بھی ہو گیا ہے 13اکتوبر کو جیل ٹرائل کا،وہ پراسیکیوٹر نے دائر کرنا تھا مگر وہ ابھی ٹرائل کیلئے گئے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے علی بخاری سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے 13اکتوبر والا نوٹیفکیشن دیکھا ہے؟

    علی بخاری نے عدالت میں کہاکہ شاہ محمود قریشی کیخلاف3سے 13تاریخ تک کی تمام عدالتی کارروائی غیرقانونی ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ فرض کریں نیا نوٹیفکیشن نہیں ہواجس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور دیگر لکھا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا اس صورت میں دوملزمان کے دوالگ ٹرائل ہوں گے؟

    قبل ازیں عمران خان نے بھی ایسی ہی ایک درخواست دائر کی تھی کہ انکا ٹرائل جیل کی بجائے عدالت میں کیا جائے تا ہم تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سائفر کیس میں جیل سماعت کے خلاف درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نا مل سکا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،سائفر کیس کی سماعت کل جیل میں ہی ہو گی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل ٹرائل سکیورٹی کے مدنظر چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں ہے ، بظاہر جیل ٹرائل کے معاملے پر کوئی بد نیتی نظر نہیں آئی ، عمران خان خود اپنی سکیورٹی کے حوالے ماضی متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے ، عمران خان کو جیل ٹرائل پر تحفظات ہوں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو