Baaghi TV

Tag: عدالت

  • آمدن سے زائد اثاثہ جات،اسحاق ڈار کوعدالت نے بری کر دیا

    آمدن سے زائد اثاثہ جات،اسحاق ڈار کوعدالت نے بری کر دیا

    احتساب عدالت اسلام آباد،سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات سے متعلق ریفرنس کا کیس،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،عدالت نے اسحاق ڈار کو بری کر دیا

    مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات میں کلین چٹ دے دی،اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت احتساب عدالت میں ہوئی،نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہاکہ اسحاق ڈار کیخلاف کرپشن ثبوت نہیں، کیس مزید نہیں چلایا جا سکتا. عدالت نےنیب کے بیان کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو اب سنا دیا گیا ہے

    دوران سماعت احتساب عدالت نے نیب سے تحریری جواب طلب کرلیا،جج محمد بشیر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ نیب پراسیکیوٹر جنرل اس نکتے پر تحریری طور پر وضاحت دیں اسحاق ڈار و دیگر ملزمان کی بریت پر اعتراض نہیں تو لکھ کر دے دیں کل کو نیب کہے کہ ہم نے تو ایسا کچھ نہیں کہا تھا،نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے عدالت میں کہاکہ ہم نے میرٹ پر دلائل دیئے ہیں عدالت فیصلہ سنا دےجج محمد بشیر نے کہاکہ آپ لکھ کر دے دیں ایک بجے فیصلہ سنائیں گے

    احتساب عدالت نے اس سے قبل اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس داخل دفتر کر دیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس پر دوبارہ سماعت کی گئی

    جس دفتر سے نکل کر آیا تھا، اللہ نے اسی میں واپس بلوایا ہے، اسحاق ڈار

    ڈبل شاہ کیس، نیب کی جانب سے متاثرین میں کتنے کروڑ کے چیک تقسیم ہوئے؟

    نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ،23 ماہ میں کتنے مقدمات دائر ہوئے؟ چیئرمین نیب نے بتا دیا

    خورشید شاہ نے اپنا گھر کس کے پلاٹ پر بنایا؟ نیب کا عدالت میں حیران کن انکشاف

  • چیف جسٹس کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس

    چیف جسٹس کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس

    سپریم کورٹ،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس ہوا

    اجلاس میں قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ عرفان سعادت خان کی سپریم کورٹ تعیناتی کی منظوری دی گئی،جوڈیشیل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس عرفان سعادت خان کے بطور سپریم کورٹ جج تعیناتی کی منظوری اتفاق رائے سے ہوئی۔اجلاس میں ہائیکورٹ کے ججز کی سپریم کورٹ تعیناتی کے طریقہ کار کی تجاویز پر بھی غور ہوا۔جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عرفان سعادت کی بطور سپریم کورٹ کے جج سفارش کر دی،جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عرفان سعادت کا نام حتمی منظوری کے لیے پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کو بھجوا دیا

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

  • اسلام آبا د ہائیکورٹ سے بھی نواز شریف کی حفاظتی ضمانت منظور

    اسلام آبا د ہائیکورٹ سے بھی نواز شریف کی حفاظتی ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی دو درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،ن لیگی وکلا اعظم نزیر تارڑ ، امجد پرویز عدالت کے سامنے پیش ہوئے نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود اور نعیم سنگھیڑا ہائیکورٹ میں موجودتھے، دوران سماعت ن لیگی وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نواز شریف ٹرائل کورٹ میں اشتہاری تھے اس میں وارنٹ معطل ہوگئے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ آپ کے پاس وہ آرڈر ہے؟ اعظم نذیر نے بتایا کہ آرڈر ہوگیا ہے،وکلا ابھی احتساب عدالت سے آرہے ہیں ،

    سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے میاں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم حفاظتی ضمانت دے کر کیس پیر کو مقرر کردیتے ہیں ، وکیل نواز شریف نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے منگل کے لیے کیس رکھا ہے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو 21 اکتوبر کو پاکستان واپسی پر ائیرپورٹ پر گرفتار کرنے سے 24 اکتوبر تک روک دیا ، چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے احکامات جاری کئے، عدالت نے نواز شریف کو 24 اکتوبر کو ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا.

    عدالتی فیصلہ، نواز شریف اب لاہور ہی آئیں گے
    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ اب نواز شریف پہلے کے شیڈول کے مطابق لاہور ایئر پورٹ پر ہی اتریں گے، نواز شریف نے عدالت میں سرینڈر کرنے کے لئے دائر درخواست میں لکھا تھا کہ وہ عدالت پیش ہوں گے اور اسکے لئے انہیں اسلام آباد ایر پورٹ اترنا تھا تا ہم اب عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف لاہور ایئر پورٹ ہی لینڈ کریں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے 24اکتوبر تک نواز شریف کو گرفتار کرنے سے روک دیاہے

    نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں دس سال اور العزیز یہ کیس میں سات سال سزا سنائی گئی تھی،23 جون 2021 ہائیکورٹ اسلام آباد نے عدم پیشی پر نواز شریف کی اپیلیں خارج کر دی تھیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا تھا،ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں پاکستان واپس آنے پر اپیلوں کی بحالی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی ہے،حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہونے کی استدعا کی جائے گئی،توشہ خانہ کیس اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بھی نواز شریف کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا 

    سابق وزیراعظم نواز شریف لندن میں4 سال رہنے کے بعد 21 اکتوبر کو پاکستان پہنچ رہے ہیں،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

  • شیخ رشید کی بازیابی کے لیے مزید ایک ہفتے کی مہلت

    شیخ رشید کی بازیابی کے لیے مزید ایک ہفتے کی مہلت

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی گرفتاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ پنڈی بنچ میں سماعت ہوئی

    آر پی او راولپنڈی سید خرم علی عدالت میں پیش ہوئے،آر پی او نےشیخ رشید کی بازیابی کے لیے مزید ایک ہفتے کی مہلت مانگ لی ،عدالت نے آر پی او کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی ،سماعت لاہور ہائیکورٹ پنڈی بنچ کےجسٹس صداقت کی خان نے کی

    دوران سماعت شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرازق ایڈووکیٹ نے عدالت میں کہا کہ شیخ رشید کو پولیس اور سرکاری ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا ہوئے ایک ماہ اور تین دن ہوچکے ہیں،پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت کسی شخص کو بغیر تحریری وجوہات بتائے گرفتار نہیں کیا جا سکتا،گرفتاری کے بعد چوبیس گھنٹوں میں عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے، مجودہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ وزیر اعظم پاکستان سیکریٹری دفاع اور آئی جی پولیس کو طلب کرکے پوچھا جائے کہ یہ ملک میں کیا ہورہا ہے ،سینئر سیاستدانوں اور پارلیمنٹرین کو اغوا کرکے حبس بیجا میں رکھ کر پریس کانفرنس کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ،کیا پاکستان میں آئین، قانون اور عدالتوں کی کوئی حثیت نہیں رہ گئی

    جسٹس صداقت علی خان نے آر پی او سے استفسارکیاکہ آپ نے اتنے دنوں میں کیا پراگریس کی ؟ آر پی او نے کہا کہ میں شیخ رشید کی بازیابی کی کوشش کررہا ہوں ، عدالت نے کہا کہ آپ کی کوششیں نظر نہیں آرہیں ، شیخ رشید کے وکیل نےکہا کہ یہ شیخ رشید سے پریس کانفرنس کروانا چاہتے ہیں، عدالت نے کہاکہآخری موقع دے رہا ہوں اگر شیخ رشید کو برآمد نہ کیا تو سخت احکامات دوں گا ج،عدالت نے سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کردی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ،بنچ تاخیرکا شکار

    عدالت آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں،چیف جسٹس

    چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلیفونک ملاقات نہ کروانے پر سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل …

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو بحریہ ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا تھا، شیخ رشید کی رہائی کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی گئی ہے،شیخ رشید کو ابھی تک عدالت پیش نہیں کیا جا سکا ،پولیس کا کہنا ہے کہ شیخ رشید ہمارے پاس نہیں ہیں،عدالت نےآج تیسری بار شیخ رشید کی بازیابی کے لئے پولیس کو مہلت دی ہے،

  • نگران وزیراعظم ، نگران وزیراعلیٰ پنجاب  لاہور ہائیکورٹ میں طلب

    نگران وزیراعظم ، نگران وزیراعلیٰ پنجاب لاہور ہائیکورٹ میں طلب

    لاہور ہائیکورٹ: قرآن پاک کے ترجمے میں تحریف اور قرآن بورڈ کی اجازت کے بغیر چھاپنے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواستوں پر سماعت 18دسمبر تک ملتوی کردی،عدالت نے اگلی سماعت پر نگران وزیراعظم اور نگراں وزیر اعلی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ،عدالت نے پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیر اعظم ۔اٹارنی جنرل اف پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو عدالتی حکم پر عمل درآمد کی ہدایت کر دی ،جسٹس شجاعت علی خان نے مختلف درخواستوں پر سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا،

    گزشتہ روز وفاقی حکومت کی جانب سے اٹارنی آفس نے رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی تھی،رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم سرکاری دورے پر ہیں ،عدالتی حکم پر من و عن عملدرآمد ہوگا،ایڈووکیٹ آفس کی جانب سے پنجاب حکومت کی رپورٹ عدالت جمع کروائی گئی جس میں کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب نے ملکر کمیٹی بنائی ہے،کمیٹی ہر پندرہ دن بعد اٹارنی جنرل آفس اور ایڈووکیٹ آفس میں رپورٹ جمع کروائے گی ،عدالتی احکامات پر عملدرآمد ہوگا ،

    عدالت نے وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب کو قرآن مجید سے متعلق عدالت پیش ہوکر پالیسی بیان دینے کی ہدایت کررکھی ہے

     یہ کیس آپ کا ہے نہ عدالت کا،یہ ہم سب کا کیس ہے

  • ایفی ڈرین کیس ،حنیف عباسی کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار

    ایفی ڈرین کیس ،حنیف عباسی کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے ایفی ڈرین کیس میں ن لیگی رہنما حنیف عباسی کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دیکر بری کردیا

    لاہور ہائیکورٹ نے گزشتہ روز کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا ہے،جسٹس مس عالیہ نیلم اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل بینچ نے فیصلہ سنایا،ٹرائل کورٹ نے 21 جولائی 2018 کو حنیف عباسی کو 25 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی،لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے 11 اپریل 2019 کو حنیف عباسی کی سزا معطل کرکے انہیں رہا کر دیا تھا،حنیف عباسی نے سزا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی

    گیارہ ماہ جیل کاٹی،دو الیکشن میں مجھے باہر رکھا گیا،حنیف عباسی
    فیصلے کے بعد مسلم لیگی رہنماء حنیف عباسی نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے سر خرو کیا،2012 میں مجھ پر مقدمہ درج ہوا، نواز شریف نے اس وقت کہا تھا کہ یہ مقدمہ جھوٹا ہے،دس بارہ سال عدالتوں سے نہیں بھاگا، 25 سال قید جب سنائی گئی اس وقت عدالت میں تھا،گیارہ ماہ جیل کاٹی،دو الیکشن میں مجھے باہر رکھا گیا، لوگوں کے دلوں سے نہیں نکالا جا سکتا، بیٹی کو نوکری سے نکالا کاروبار تباہ کر دیا گیا، شیخ رشید میدان میں ہو گا تو الیکشن لڑیں گے، 21 کو نواز شریف کا بھر پور استقبال کریں گے،ہمیں چھ بائی چھ کے کمرے میں رکھا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی کھلا کھا رہے ہیں، سہولیات دینے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، میں کبھی جھوٹی ایف آئی آر نہیں کراتا ،شیخ رشید مجھ سے کبھی الیکشن نہیں جیتا، جنہوں نے نو مئی کا واقع کیا ان کو رعائیت نہیں ملنی چاہیے، مرد یا خاتون قابل معافی نہیں ہے، تا کہ مستقبل میں کوئی ہمارے اداروں پر حملہ آور نہ ہو،

    حنیف عباسی ایک من گھڑت اور بے بنیاد مقدمے میں عدالت سے بری ہوئے،شہباز شریف
    لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ الحمدللہ، حنیف عباسی آج ایک من گھڑت اور بے بنیاد مقدمے میں عدالت سے بری ہوئے۔ یہ بریت دراصل اس جھوٹ سے بریت ہے جس کا سامنا قائد نواز شریف سے لے کر ان کا ساتھ دینے والے ہر مرد و خاتون راہنما اور کارکنوں کو کئی برس تک کرنا پڑا لیکن آخرکار سچ سامنے آ کر ہی رہتا ہے۔ایک انتہائی خطرناک الزام کا حنیف عباسی اور ان کے اہل خانہ نے بڑی جرات، بہادری اور استقامت سے مقابلہ کیا جس پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے حنیف عباسی اور ان کے اہل خانہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ آپ کو بریت مبارک ہو۔

    عام آدمی کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    جو لوگ غلط فیصلے میں ملوث تھے ان کا احتساب ہونا چاہیئے،بلاول

     بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کوئی چاہے یا نہ چاہے، کوئی نہیں روک سکتا، الیکشن ہوں گے۔

     پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن نوے دن کے اندر ہوں

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

  • عمران خان کہتے  کھانا گھر سے منگوایا جائے لیکن ذمہ داری کون لےگا؟عدالت

    عمران خان کہتے کھانا گھر سے منگوایا جائے لیکن ذمہ داری کون لےگا؟عدالت

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت اسلام آباد،چئیر مین پی ٹی آئی عمران خان کی بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کروانے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیرازاحمدرانجھا جج ابو الحسنات ذولقرنین کی عدالت میں پیش ہوئے، جج ابوالحسنات ذولقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک اڈیالہ جیل سپرینڈنٹ کی جانب سے ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے ایس او پیز نہیں آئیں،جیل میں ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے ایس او پیز آجائیں تودیکھ لیتے ہیں، وکیل صفائی شیرازاحمدرانجھا نے کہا کہ آج بھی ایس او پیز نہیں آئیں آپ کہیں تو میں عدالت کی معاونت کر دیتا ہوں،چئیرمین پی ٹی آئی کو جیل میں ورزش کے لئے سائیکل مہیا کرنا چاہتے ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ سائیکل کے حوالے سے تو میں پہلے ہی جیل حکام کو کہہ چکا ہوں، وکیل شیراز احمد رانجھا نے کہا کہ اگر عدالت اجازت دے تو سائیکل آج ہی مہیا کر دیتاہوں،

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ سائیکل کا غلط استعمال نہ ہو، ایسا نہ ہوکہ سائکل جیل سپرینڈنٹ چلاتا رہے، جیل مینوئل بھی دیکھنا ہوتا ہ، ہمارے لئے انڈر ٹرائل ملزم کی سیکیورٹی اہم ہے، وکیل صفائی شیراز احمد رانجھا نے کہا کہ اگر خدشات ہیں تو ایک بندہ مقرر کر دیں جس کی نگرانی میں سائیکل استعمال ہو، جج ابوالحسنات ذولقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کہتے ہیں کھانا گھر سے منگوایا جائے لیکن ذمہ داری کون لےگا؟ اگر کھانا جیل میں تیار ہو تو جیل حکام ذمہ دار ہوتے ہیں،میں سائیکل والے معاملے پر آرڈر کر دیتا ہوں، معاملے کو حل کر دیتے ہیں،

    وکیل صفائی شیراز احمد رانجھا نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے عدالت آج آنا ہے، جج ابو الحسنات نے استفسار کیا کہ کیوں آپ چاہتے ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ کی موجودگی میں ریلیف دوں؟ چلیں علیمہ خان کو پہنچ جانے دیں، میرے لئے قابل احترام ہیں، جب تک علیمہ خان آتی ہیں، تب تک میں چائے پی لیتاہوں،

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ کے آنے تک وقفہ کردیا

    عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کی عدالت نے دی اجازت
    چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کرنے کی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت جاری کرتاہوں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے،سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت ہے، میں آپ کے حق میں کہہ رہاہوں، میں ٹیلیفونک گفتگو کی اجازت دےدیتاہوں،

    جج نے کہا کہ ایس او پیز آگئےہیں جن کے مطابق ملزم کو بات کرنے کی اجازت نہیں، میں پھر بھی جیل مینوئل کے مطابق ٹیلیفونک گفتگو کے معاملے کو دیکھ لیتاہوں،وکیل شیراز نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کو اپنی فیملی سے ٹیلیفونک گفتگو کروانے پر پابندی نہیں، پریزنرز رولز کے مطابق 12 گھنٹے اہلیہ، بچوں سے جیل میں ملاقات کروانے کی اجازت ہے،دیگر ملزمان کو ٹیلیفونک گفتگو کروانے کی بلکل اجازت ہے،جج نے کہا کہ مجھے جیل مینوئل میں بیرونِ ملک بات کرنے کی اجازت تحریر ہوئی دکھا دیں، وکیل نے کہا کہ جیل مینوئل میں اجازت نہیں لیکن فیڈرل شریعت کورٹ نے اس حوالے سے فیصلہ جاری کیاہے،

    وکیل شیرازاحمدرانجھا کی جانب سے فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے کو عدالت میں جمع کروا دیا اور کہا کہ ہفتے کو تمام قیدیوں کی ٹیلیفونک گفتگو کروائی جاتی ہے،جج نے کہا کہ مجھے بیرون ملک بات کروانے کی اجازت کے حوالے سے بتائیں، وکیل نے کہا کہ اٹک سپرٹنڈنٹ جیل نے غلط بیانی کی، شو کاز نوٹس دینا چاہیے،

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین اور چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کے درمیان سائیکل پر دلچسپ گفتگو ہوئی،علیمہ خان عدالت پیش ہوئیں اور کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتی ہوں، اڈیالہ جیل میں جِم کی سہولت موجود ہے عمران خان کے گھر میں سائیکل ہے جو وہ استعمال کرتے ہیں میرے بھائی نے سائیکل کے علاؤہ اور کچھ نہیں مانگا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں نے فیملی کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو فیور دےدی ہے، ٹینشن نہ لیں، علیمہ خان نے کہا کہ ہمارا بھائی اور کچھ نہیں مانگتا، بس ایک سائیکل مانگی ہے کیا ایسا ہوسکتاہے کہ ایک مخصوص شخص گھر سے سائیکل خود جیل میں مہیا کردے؟ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اہم شخصیت ہیں، اہم زندگی ہے، سائیکل پہنچاتے ہوئے دوران راستہ کچھ ہوجائے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ علیمہ خان نے جج ابوالحسنات سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ صاف سی بات ہے! جیل کا کنٹرول آپ کے پاس ہے، سائیکل پر آپ جب حکم جاری کریں گے توجیل پہنچا دی جائے گی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں نے جیل میں جا کر دیوار تڑوا دی، کون جج ایسا کرتاہے؟ جیل سے دیوار توڑ دی، اب چیئرمین پی ٹی آئی کی چہل قدمی آرام سے جاری ہے، علیمہ خان نے عدالت میں بار بار اسرار کیا کہ جتنی جلدی ہو جائے سائیکل دےدیں،جس پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سائیکل کیا موٹر سائیکل بھی دےدیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے علیمہ خان سے سوال کیا کہ کچھ بتائیں کہ پٹشنر نے مانگا ہو اور میں نے نہ دیا ہو، علیمہ خان نے جواب دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو انصاف مل جائے تو بہت شکر ادا کریں گے،چیئرمین پی ٹی آئی نے زندگی میں صرف اپنی صحت مانگی ہے،جج صاحب!! آپ سے ہی امید ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سائیکل بھی پہنچادیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سوئمنگ پول کے علاوہ باقی سب کچھ مہیا کردیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ سائیکل کا خیال رکھیےگا کہیں پنکچر نہ ہو،علیمہ خان یہ کہتے ہوئے کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئیں کہ جج صاحب آرڈر کریں، سائیکل ہم ابھی بھیج رہے ہیں،

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی عمران خان کی بیٹوں سے ملاقات کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی، عمران خان اسوقت اٹک جیل میں تھے، اب عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، سائفرکیس میں ایف آئی اے نے چالان جمع کروا دیا ہے جس میں عمران خان کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے سزا دینے کی استدعاکی گئی ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری،سماعت ملتوی

    نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری،سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نواز شریف کی وطن واپسی کا معاملہ،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ حفاظتی ضمانت کی درخواست ہے نواز شریف سرنڈر کرنا چاہتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ابھی آپ کا اسٹیٹس کیا ہے؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ابھی اشتہاری کا اسٹیٹس ہے، لیکن عدالتی فیصلے موجود ہیں سرنڈر کرنے پر پروٹیکشن دی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کس فیصلے کی آپ بات کر رہے ہیں؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ عاصمہ عالمگیر کا کیس ہے جس میں فیصلہ ہوا تھا،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا پراسیکیوشن کے بعد حفاظتی ضمانت دی گئی تھی ؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی پراسیکیوشن کو سن کر حفاظتی ضمانت دی گئی تھی ، میں نے اس ملک کی کسی عدالت کی ضمانت کا غلط استعمال نہیں کیا ،میرے خلاف جتنے کیس بنے میں خود پیش ہوتا رہا ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو اس طرح کہہ رہے ہیں کہ terrible کام ہائیکورٹ نے کیا ہے کہ عدم پیروی اپیل خارج کردی ،

    عدالت نے استفسار کیا کہ نواز شریف کب واپس آ رہے ہیں ، اعظم نذیر تارڑ نے عدالت میں کہا کہ 21 اکتوبر کو نواز شریف واپس آ رہے ہیںَ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب کی طرف سے کوئی ہے؟ نیب پراسیکیوٹر فوری عدالت کے سامنے پیش ہو گئے اور کہا کہ نواز شریف واپس آنا چاہتے ہیں تو آنے دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر پراظہارِ برہمی کیا اور کہا کہ اگر یہی ہدایات ہیں تو اپیلوں کی پیروی کیوں کر رہے ہیں؟ کل تو آپ کہیں گے اپیلیں ہی کالعدم قرار دے دیں،نیب کو کیا پہلے ہی ہدایات ملی ہوئی ہیں؟یہ کرنا ہے تو پھر چیئرمین نیب سے پوچھیں آج ہی نوازشریف کی سزائیں کالعدم بھی کر دیتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ جب اپیل فکس ہو گی تو اس وقت ہدایات لے کر دلائل دیں گے،

    عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک کے لئے ملتوی کر دی،عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل جواب طلب کر لیا

    قبل ازیں سابق وزیر اعظم  نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی،نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں حفاظتی ضمانت دائر کی درخواست دائر کی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حفاظتی ضمانت دائر کی درخواست دائر کی گئی،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کی جائے کیسز کا سامنا کرنا چاہتے ہوں عدالت پہنچنے کے لیے گرفتاری سے روکا جائے،درخواست پر سماعت کے لیے آج ہی بینچ بنا کر سماعت کرنے کی استدعا کی گئی.درخواست میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف اسپیشل فلائٹ سے اسلام آباد آرہے ہیں،

    نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر ہونے کے بعد نیب کےپراسیکیوٹر بھی عدالت پہنچ گئے،نواز شریف کی لیگل ٹیم عدالت پہنچ گئی،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی دونوں درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے کوئی اعتراض عائد نہیں کیا رجسٹرار آفس نے 3333/2023 اور 3334/2023 نمبر الاٹ کردیا گیا ، نواز شریف کی درخواست پر آج ہی بنچ تشکیل اور سماعت کا امکان ہے

    نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی دونوں درخواستیں آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کی دائری برانچ نے نوٹ بنا کر چیف جسٹس کے سیکرٹری کو بھجوا دیا، رجسٹرار آفس کے نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ” پٹشنر کی جانب سے درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے ”

    ن لیگی رہنما عطا تارڑ بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے۔اس موقع پر عطا تارڑ نے صحافیوں کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکارکیا صرف کہا کہ "میں صرف قانونی ذمہ داری پوری کرنے آیا ہوں” اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف نے اسپیشل اٹارنی عطا تارڑ کے ذریعے دونوں درخواستیں دائر کیں عطا تارڑ نے بطور اسپیشل اٹارنی ہائی کورٹ میں بائیو میٹرک کرائی.

    مسلم لیگ ن نے حکمت عملی کے تحت آج درخواست دائر کی ہے اگر عدالت نے پہلے سرنڈر کرنے کا حکم دیا تو نواز شریف لاہور کی بجائے پہلے اسلام آباد لینڈ کریں گے،اسکے بعد لاہور آئیں گے،

    نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں دس سال اور العزیز یہ کیس میں سات سال سزا سنائی گئی تھی،23 جون 2021 ہائیکورٹ اسلام آباد نے عدم پیشی پر نواز شریف کی اپیلیں خارج کر دی تھیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا تھا،ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں پاکستان واپس آنے پر اپیلوں کی بحالی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی ہے،حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہونے کی استدعا کی جائے گئی،توشہ خانہ کیس اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بھی نواز شریف کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا 

    سابق وزیراعظم نواز شریف لندن میں4 سال رہنے کے بعد 21 اکتوبر کو پاکستان پہنچ رہے ہیں،پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اسلام آباد کے بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا ، ،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

  • حنیف عباسی کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،فیصلہ محفوظ

    حنیف عباسی کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،فیصلہ محفوظ

    لاہور ہائیکورٹ، ن لیگی رہنما حنیف عباسی کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    عدالت نے حنیف عباسی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا،لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے کہا گیا کہ اپیل پر فیصلہ کل صبح سنایا جائیگا،سرکاری وکیل نے دوران سماعت کہا کہ ایفیڈرین حنیف عباسی کی کمپنی کو موصول ہوئی تھی ،ایفیڈرین سے کتنے کیپسول، گولیاں تیار ہوئیں ثبوت انہوں نے دینا تھے، کتنی لاٹ کون کون سی کمپنی کو دی گئی انوائس فراہم نہیں کی گئی، تین اپیلوں میں جمع کرائے گئے بیان دیکھیں تو صورتحال مختلف ہوگی،عدالت نے کہا کہ جتنی سخت سزا ہوگی شہادت کا ریکارڈ بھی اتنا ہی درست ہونا چاہیے، ریکارڈ اور ثبوت کی کوالٹی بھی اتنی ہی ٹھیک ہونا چاہئے

    جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے حنیف عباسی کی اپیل پر سماعت کی،وکیل حنیف عباسی نے کہا کہ محکمہ صحت نے 28 کمپنیوں کو ایفیڈرین کا کوٹہ الاٹ کیا، روٹین سے ہٹ کر زیادہ کوٹہ الاٹ کرنے کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا، یہ بھی الزام لگایا گیا کہ ایفیڈرین منشیات فروشوں کو فراہم کی گئی ،جن لوگوں نے ایفیڈرین کوٹہ الاٹ کیا ان کیخلاف کارروائی ہوئی ، زیادہ کوٹہ الاٹ کرنیوالوں کیخلاف کارروائی نہیں کی گئی، صرف سات کمپنیوں کیخلاف مقدمات درج کیے گئے باقی کو چھوڑ دیا گیا، حنیف عباسی کو ایفیڈرین کیس میں ٹرائل کورٹ نے 25 سال قید کی سزا سنائی،ٹرائل کورٹ نے حقائق کے برعکس حنیف عباسی کو سزا سنائی، عدالت ٹرائل کورٹ کی سنائی گئی سزا کالعدم قرار دے

    عام آدمی کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    جو لوگ غلط فیصلے میں ملوث تھے ان کا احتساب ہونا چاہیئے،بلاول

     بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کوئی چاہے یا نہ چاہے، کوئی نہیں روک سکتا، الیکشن ہوں گے۔

     پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن نوے دن کے اندر ہوں

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام محکموں کو خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد سے روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام محکموں کو خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد سے روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ: قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے متاثرہ ملازمین کی سفارشات کے تحت سرکاری ملازمین کی بحالی اور مستقل کرنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں بحال اور مستقل ہونے والے سرکاری ملازمین کو بڑا دھچکہ لگ گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام وزارتوں اور محکموں کو خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد سے روک دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ای او بی آئی ، سی ڈی اے، اوور سیز پاکستان فاؤنڈیشن خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہ کریں، پاکستان اسٹیل ملز، ایف آئی اے بھی خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہ کریں ، اگر کمیٹی کی ملازمین کی بحالی کی سفارشات پر عمل ہوا ہے تو محکمے ان احکامات کو ختم کریں ،

    خصوصی کمیٹی کی سفارشات کیخلاف درخواستوں گزاروں کی تمام درخواستیں منظور کر لی گئی،کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے افسران کیخلاف تادیبی کاروائی غیر قانونی قراردے دی گئی، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ قومی اسمبلی کے رولز آف بزنس کے تحت اسپیشل کمیٹی اپنے مقرر کردہ اختیارات سے تجاوز نہیں کرسکتی، وفاقی حکومت نے بھی خصوصی کمیٹی کی سفارشات کو سپورٹ نہیں کیا، اسپیشل کمیٹی کی سفارشات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ،کمیٹی کا پارلیمنٹ کو سفارشات بھیجنے کا مینڈیٹ تھا ، کمیٹی نے براہ راست اداروں کو ہدایات بھیجنا شروع کردی تھیں ،کمیٹی نے ای او بی آئی کو عدالتی فیصلے سے برطرف ہونے والے 358 ملازمین کو بحال کرنے کا حکم دیا ،ان تمام اقدامات سے تاثر دیا گیا کہ کمیٹی قانون سے بالا تر اور آئینی مینڈیٹ سے باہر ہے، خصوصی کمیٹی کے کام سے تاثر تھا کہ وہ اداروں میں اختیارت کی تقسیم کی اسکیم کیخلاف کام کررہی ہے، ایف آئی اے افسران کو کریمنل پروسیڈنگ کے لیے شوکاز نوٹس جاری کئے جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ، عدالت کو بتایا گیا کہ رولز میں ایسا کچھ نہیں تھا کہ کمیٹی حکومتی اداروں کو بلا کر احکامات جاری کرے،

    پاکستان اسٹیل ملز ، ای او بی آئی و دیگر نے خصوصی کمیٹی کی ملازمین کے حوالے سے سفارشات کو چیلنج کیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ سنایا ،خصوصی کمیٹی نے کنٹریکٹ ، ڈیلی ویجر اور پروجیکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کی ہدایت کی تھی ،کمیٹی نے چیئرمین ای او بی آئی ، وزارتِ تعلیمات و دیگر کیخلاف سفارشات پر عملدرآمد نہ ہونے پر کارروائی کی ہدایت کی تھی ،قادر خان مندوخیل خصوصی کمیٹی برائے متاثرہ ملازمین کی کمیٹی کے چیئرمین تھے