Baaghi TV

Tag: عدالت

  • بنگلہ دیش  کےبھارت میں ججز تربیتی پروگرام منسوخ

    بنگلہ دیش کےبھارت میں ججز تربیتی پروگرام منسوخ

    بنگلہ دیش نے بھارت میں 50 ججوں اور عدالتی افسران کے تربیتی پروگرام کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اتوار کے روز بنگلہ دیش کی وزارت قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکلر میں کیا گیا۔

    اس تربیتی پروگرام میں شامل ہونے والے اہلکاروں میں اسسٹنٹ ججز، سینئر اسسٹنٹ ججز، جوائنٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور دیگر مساوی سطح کے عدالتی افسران شامل تھے۔ یہ پروگرام بھارت میں 10 سے 20 فروری تک منعقد ہونا تھا، تاہم اب اس کی منسوخی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔وزارت قانون کے سرکلر کے مطابق، یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات کی تعمیل میں کیا گیا۔ سرکلر میں کہا گیا کہ بھارت میں ججز کی تربیت کے لیے منظور شدہ اس پروگرام کو اب منسوخ کیا جا رہا ہے۔

    ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیشی عبوری حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات مزید کشیدہ ہو چکے ہیں۔ محمد یونس کی سربراہی میں بنگلہ دیشی حکومت کی تشکیل کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ آیا ہے، جس کے نتیجے میں اس تربیتی پروگرام کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
    اس فیصلے کے بعد، دونوں ممالک کے عدالتی افسران اور دیگر حکومتی اہلکاروں کے درمیان تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سیاسی تناؤ کا یہ واقعہ دونوں ممالک کے حکومتی تعلقات اور عدالتی تعاون پر ایک نیا سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے۔

    اس پیش رفت کے بعد، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان عدالتی اور قانونی تعاون میں ممکنہ تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ملکوں کی عدالتوں میں کام کرنے والے افسران کو نئے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی رسک برقرار رہیں گے،گورنر اسٹیٹ بینک

    ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

  • یونان کشتی حادثہ،وزیراعظم، وزیر داخلہ،خارجہ کو نوٹس جاری

    یونان کشتی حادثہ،وزیراعظم، وزیر داخلہ،خارجہ کو نوٹس جاری

    سکھر،یونان میں حالیہ کشتی حادثے میں پاکستانی شہریوں کی جانوں کے ضیاع کے حوالے سے ایڈیشنل سیشن جج نے اہم فیصلہ کیا ہے۔

    درخواست گزار کی جانب سے دائر کردہ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومتی لاپرواہی کے سبب بے روزگار پاکستانی شہری غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے پر مجبور ہوئے، جس کے نتیجے میں 75 پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے، اور اس حادثے کے ذمہ دار حکومتی افسران کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ درخواست گزار نے مطالبہ کیا کہ روہڑی تھانے میں حکومتی ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔اس معاملے پر ایڈیشنل سیشن جج ٹو سکھر نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایس ایس پی سکھر کو 15 جنوری 2025 کو عدالت میں پیش ہونے کے لئے نوٹس جاری کیا۔

    یونان کشتی حادثہ میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی کوشش میں کشتی کے حادثے کا شکار ہوئے۔ اس حادثے میں 75 پاکستانی شہریوں کی جانیں گئیں، جس کے بعد پورے ملک میں سوگ کی لہر دوڑ گئی اور عوامی سطح پر حکومت کی ذمہ داریوں کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے۔

    ایڈیشنل سیشن جج نے اس سنگین معاملے کی سماعت کرتے ہوئے وزیر اعظم، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے تاکہ اس معاملے کی تحقیقات کی جا سکیں اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق، اس فیصلے سے حکومتی سطح پر اس حادثے کی تحقیقات کی رفتار میں تیزی آ سکتی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے کی کوششیں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔

    تیونس میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 27 افراد ہلاک

    یونان کشتی حادثہ،انتہائی مطلوب انسانی اسمگلر سمیت 10 گرفتار

    یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

    ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟

  • سپریم کورٹ،سابق ڈپٹی اسپیکر  رولنگ  کیس ،پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ،سابق ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس ،پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سابق ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے کیس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کو نوٹس جاری کر دیا ہے

    عدالت نے پرویز الہٰی کو نوٹس حمزہ شہباز نظرثانی کیس میں جاری کیا،دوران سماعت جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ کیس غیر مؤثر تو نہیں ہو گیا،حمزہ شہباز کے وکیل حارث عظمت نے کہا کہ کیس غیر مؤثر نہیں ہوا، آئینی بینچ نے گزشتہ سماعت پر فریقین کو نوٹسز بھی کیے تھے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پرویز الہٰی کی طرف سے کون پیش ہو گا وہ بھی کیس میں فریق ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیا تھا،سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے فیصلہ نظرثانی میں چیلنج کیا تھا

    حکومت بتائے کہ اس نے کچی آبادی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ،سپریم کورٹ
    دوسری جانب سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کچی آبادی کیس میں وفاق سے کچی آبادیوں سے متعلق پالیسی رپورٹ دو ہفتوں میں طلب کر لی ہے،آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین نے کہا ہے کہ کچی آبادی کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار صوبوں اور مقامی حکومتوں کا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا ہے کہ صوبائی اختیارپر وفاقی حکومت کیا قانون سازی کر سکتی ہے؟ پہلے تو یہ بتایا جائے کہ کچی آبادی کیا ہوتی ہے؟ بلوچستان میں تو سارے گھر ہی کچے ہیں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ قبضہ گروپ ندی نالوں کے کنارے کچی آبادی بنا لیتے ہیں۔ عوامی سہولتوں کے پلاٹ پر کچی آبادی او مکانات بن جاتے ہیں۔ حکومت بتائے کہ اس نے کچی آبادی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں،وکیل سی ڈی اے نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھاڑی نے 10 کچی آبادیوں کو نوٹیفائی کر رکھا ہے۔ سب سے پہلے تو کچی آبادی کی تعریف طے کی جائے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر ان کچی آبادی کے علاوہ کوئی قبضہ ہے تو کارروائی کریں۔ غیر قانونی قبضہ چھڑانے کے قوانین موجود ہیں۔ اس پر وکیل سی ڈی اے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالت نے ہی قبضہ چھڑانے کے خلاف حکم امتناع دے رکھا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر حکم امتناع ہے، تو عدالت سے اس کو ختم کرائیں۔ تجاوزات کیسے بن جاتی ہیں۔ سب سے پہلے چھپرا ہوٹل بنتے ہیں اور پھر وہاں آہستہ آہستہ آبادی بن جاتی ہے۔ تجاوزات کی تعمیر میں ادارے کے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں۔

    شادی کی آڑ میں مجرا پارٹی سے رقاصاؤں سمیت 50 افراد گرفتار

    بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس کا پہلا کیس رپورٹ

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنایا جائے گا نئی تاریخ احتساب عدالت نے نیب اور عمران خان کے وکلا کو بتا دی

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آج سنا یا جانا تھا تا ہم آج بھی نہ سنایا جا سکا، عمران خان کے وکیل عدالت پہنچے تو انہیں عدالتی عملے نے آگاہ کیا کہ اب کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،مگر ابھی تک فیصلہ نہیں سنایا گیا بلکہ مزید مؤخر کر دیا گیا ہے.

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر

    ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر

    نیو یارک: امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہش منی کیس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ نیو یارک کی عدالت نے 10 جنوری 2025 کو ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق، جج نے کاروباری معلومات میں جعلسازی کے مقدمے میں ٹرمپ پر فرد جرم برقرار رکھی ہے۔ اس کیس میں ٹرمپ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے کاروباری معاملات میں جعلی معلومات فراہم کی تھیں، جس کے نتیجے میں انہوں نے مالی فوائد حاصل کیے۔تاہم، ابتدائی طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کو اس کیس میں جیل کی سزا ممکنہ طور پر نہیں سنائی جائے گی۔ اس کے بجائے، انہیں جرمانے یا دیگر سزائیں مل سکتی ہیں۔ اس مقدمے میں ٹرمپ کی ذمہ داری کی نوعیت کی وجہ سے جج نے یہ کہا کہ ان پر فرد جرم برقرار رکھی جائے گی، لیکن اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں صدر کے عہدے کے لیے خدمات انجام دینے کی اجازت دی جائے گی، حالانکہ وہ مجرم قرار پائیں گے۔

    واضح رہے کہ 10 جنوری کے فیصلے کے بعد صرف چند دنوں میں، یعنی 20 جنوری 2025 کو، ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر کے عہدے کے لیے حلف اٹھانا ہے۔ اس حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ کی صدر کے طور پر حلف برداری کے عمل میں کوئی قانونی رکاوٹ آئے گی یا نہیں، اور آیا وہ اس مقدمے کے باوجود امریکی صدر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے پائیں گے۔

    ٹرمپ کی ٹیم اور ان کے حامیوں کی جانب سے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ری پبلکن پارٹی کے کئی رہنما اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی نوعیت کا مقدمہ ہے جو ٹرمپ کی صدارت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے۔اگرچہ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا جائے گا، لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اپنے سیاسی کیریئر کو جاری رکھیں گے اور 2025 میں صدر کے طور پر اقتدار سنبھالیں گے، کیونکہ امریکی آئین میں کسی شخص کو صدر بننے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ عدالتی مقدمات میں بے قصور ہو۔

    جج رخصت پر،اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ملتوی

    خواب سے حقیقت تک کا سفر: گلگت، آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام

  • تشدد کیس، اداکارہ نرگس نے شوہر کو معاف کر دیا

    تشدد کیس، اداکارہ نرگس نے شوہر کو معاف کر دیا

    سیشن کورٹ لاہور،سابق اداکارہ نرگس پر مبینہ تشدد کے مقدمے میں پیش رفت سامنے آئی ہے

    اداکارہ نرگس اور شوہر ماجد بشیر کے درمیان صلح ہوگی ،عدالت میں دونوں کی جانب سے باہمی رضا مندی سے صلح نامہ جمع کروا دیا گیا ،عدالت سے ماجد بشیر نے عبوری ضمانت واپس لے لی ،ایڈیشنل سیشن جج نے ضمانت واپس کرتے ہوئے مسترد کردی ،وکیل اداکارہ نے کہا کہ ہمارے بڑوں نے باہمی رضا مندی سے معاہدہ کروایا ہے ،بڑوں کے کہنے پر اداکارہ نے شوہر کو معاف کیا،کوئی فریق اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا ،

    ماجد بشیر نے گزشتہ سال نومبر میں اپنی بیوی نرگس کو تشدد کا نشانہ بنایاتھا، تشدد کرنے کا مقدمہ اداکارہ نرگس نے تھانہ ڈیفنس سی میں درج کروایا تھا، انسپکٹر ماجدبشیر تشدد کیس میں ابھی تک ضمانت پر تھے۔

    اداکارہ نرگس کا کہنا تھا کہ خاندان کے بڑوں کی مداخلت پر انسپکٹر ماجد بشیر کو معافی دی، میرے بچے اور خاندان والے ناراض لیکن بڑوں کے کہنے پرخاوند کو معاف کیا، عدالت میں بھی صلح نامے کا بیان حلفی جمع کروا دیا ہے، باقی زندگی اپنے بیٹے اور بیٹی کےلئے جینا چاہتی ہوں۔

    اداکارہ نرگس پر شوہر کا تشدد کیس،ملزم کی ضمانت میں توسیع

    اداکارہ نرگس کی درخواست پر عابدہ عثمانی و دیگر پرمقدمہ درج

    اداکارہ نرگس کی درخواست پر عابدہ عثمانی کو ایف آئی اے طلبی کا نوٹس

  • خاتون گاہک سے مبینہ زیادتی،دکاندار کی ضمانت مسترد

    خاتون گاہک سے مبینہ زیادتی،دکاندار کی ضمانت مسترد

    لاہور ہائیکورٹ نے خاتون گاہک سے مبینہ زیادتی کرنے والے کپڑے کی دوکان کے مالک کی ضمانت مسترد کردی

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ملزم زین طارق کی عبوری ضمانت پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ،ملزم کے خلاف تھانہ فیصل آباد پولیس نے مقدمہ درج کیا گیا ہے ،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ رپورٹ کے مطابق ملزم کے موبائل فون سے واٹس ایپ چیٹ سمیت دیگر اشیاء ریکور کیں ،پولیس رپورٹ کے مطابق دونوں کے درمیان تصاویر کا تبادلہ ہوا ہے ،تفتیش اور شواہد کے مطابق ملزم قصور وار ہے ،ٹرائل کورٹ ٹرائل میں سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد کا جائزہ لے گی ف،ملزم کے وکیل کے مطابق ملزم نے خاتون کاہگ کو بوتیک کے کاروبار کے لیے پیسے ادھار دیے ،ملزم کے وکیل کے مطابق ادھارے پیسے واپس کرنے کی خاطر مدعیہ نے مقدمہ درج کروایا،ملزم عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا ،ملزم پراسکیوشن کے الزامات پر ٹھوس شواہد پیش نہیں کرسکا .

    اسلام آباد ہائیکورٹ، 3 ارب کا فراڈ، ملزم کی 100 روپے مچلکوں پر ضمانت منظور

    امریکی ریاست ورجینیا سے 150 سے زائد پائپ بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد

    یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

  • عمران ریاض کے خلاف  کتنے مقدمات،رپورٹ عدالت پیش

    عمران ریاض کے خلاف کتنے مقدمات،رپورٹ عدالت پیش

    اسلام آبادہائیکورٹ، صحافی و یوٹیوبر عمران ریاض کے خلاف اسلام آباد میں کوئی مقدمہ نہیں، ایف آئی اے میں تین مقدمات اور ایک انکوائری ہے،رپورٹ عدالت پیش کر دی گئی

    جسٹس محسن اخترکیانی نے عمران ریاض کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی درخواست پر سماعت کی، وفاقی پولیس کے ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ اور ایف آئی اے حکام عدالت پیش ہوئے،عدالت نے استفسار کیا کہ وفاقی پولیس کے پاس عمران ریاض کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں، اسلام آباد پولیس حکام ایف آئی اے میں کوئی مقدمہ ہے کیا؟،ایف آئی اے حکام نے کہا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم میں تین ایف آئی آر اور ایک انکوائری ہے، عدالت نے کہا کہ مقدمات اور انکوائری کی تفصیلات دے دیں،ایف آئی اے حکام نے کہا کہ ایف آئی آرز اسلام آباد جبکہ انکوائری ایف آئی اے لاہور میں ہے، عدالت نے رپورٹ پیش ہوجانے پر درخواست نمٹادی

    عمران ریاض خان نے مقدمات کی تفصیلات فراہمی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے ایف آئی اے سے جواب طلب کیا تھا

    پشاور ہائیکورٹ ، اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور

    سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

  • پشاور ہائیکورٹ ، اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ ، اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 30 جنوری تک کسی بھی مقدمے میں گرفتار کرنے سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کی راہداری ضمانت کی درخواستوں پر پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل نے سماعت کی۔ اس موقع پر اسد قیصر کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف مختلف مقدمات درج ہیں اور وہ اس وقت اپنی راہداری ضمانت کی درخواست دائر کر رہے ہیں۔جسٹس کامران حیات میاں خیل نے وکیل سے استفسار کیا کہ اس وقت درخواست گزار کہاں ہیں تو اسد قیصر کے وکیل نے بتایا کہ وہ راستے میں ہیں اور عدالت آ رہے ہیں۔ جسٹس کامران حیات میاں خیل نے ریمارکس دیے کہ "ٹھیک ہے، جب وہ عدالت آئیں گے تو پھر کیس کی سماعت کریں گے۔”اس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے اسد قیصر کو 2 لاکھ روپے زر ضمانت کے عوض راہداری ضمانت دی اور پولیس کو 30 جنوری تک ان کی گرفتاری سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی رہنما،سابق اسپیکر اسد قیصر کے خلاف مختلف تھانوں میں ایف آئی آرز درج ہیں

    پشاور ہائیکورٹ میں سماعت کے بعد اسد قیصر نے میڈیا سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کے خلاف بے تحاشا مقدمات درج ہیں اور ان کے ارکان اسمبلی کے خلاف بھی جعلی مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ اسد قیصر نے 26 نومبر کے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دن پی ٹی آئی کے کارکنوں پر تشدد کیا گیا، جس کی وہ شدید مذمت کرتے ہیں۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ "26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی نظام مفلوج ہو چکا ہے، ” انہوں نے بانی چیئرمین عمران خان سے جیل میں ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور ان کا مؤقف یہ ہے کہ جب تک کارکنوں کی رہائی نہیں ہوگی، وہ خود کو رہائی کے لیے پیش نہیں کریں گے۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے مذاکراتی کمیٹی کے حوالے سے بتایا کہ حکومت کے سامنے دو اہم مطالبات رکھے گئے ہیں۔ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، جبکہ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ "ہمیں افغانستان کے ساتھ کشیدگی پر افسوس ہے، اور اس معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کیا جانا چاہیے۔”اسد قیصر نے افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اپنا کلچر ہے اور ہمیں افغانستان کے ساتھ مفاہمت کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان افہام و تفہیم سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

    سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

  • جنسی ہراسانی کیس،ٹرمپ کی نظر ثانی درخواست مسترد

    جنسی ہراسانی کیس،ٹرمپ کی نظر ثانی درخواست مسترد

    نیو یارک: امریکی فیڈرل اپیل کورٹ نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف جنسی ہراسانی کے کیس میں فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ان کی نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے ٹرمپ کو مصنفہ ای جین کیرول کے خلاف 50 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جسے اب اپیل کورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے۔

    یاد رہے کہ ای جین کیرول، ایک معروف امریکی صحافی اور مصنفہ ہیں، جنہوں نے ٹرمپ پر 1990 کی دہائی میں نیو یارک کے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور کے ڈریسنگ روم میں جنسی طور پر بدسلوکی کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ کیرول کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا، جس پر انہوں نے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔
    ای جین کیرول نے ٹرمپ پر الزام عائد کیا تھا کہ 1990 کی دہائی کے وسط میں نیو یارک کے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور کے ڈریسنگ روم میں ٹرمپ نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔ٹرمپ نے اس الزام کو مکمل طور پر مسترد کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ کیرول جھوٹ بول رہی ہیں۔اس کے بعد کیرول نے ٹرمپ کے اس الزامات کی تردید پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔2023 میں نیو یارک کی وفاقی عدالت نے ٹرمپ کو ای جین کیرول کی جنسی ہراسانی کا مرتکب قرار دیا اور انہیں 50 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی، تاہم فیڈرل اپیل کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کو سیاسی طور پر متعصب قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ ان کے خلاف ایک "سیاسی حملہ” ہے۔ ٹرمپ نے اس بات کا بھی ذکر کیا تھا کہ یہ مقدمہ دراصل 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کو متاثر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم، اپیل کورٹ نے ان کے موقف کو تسلیم نہیں کیا اور فیصلہ برقرار رکھا۔

    یہ فیصلہ ٹرمپ کی سیاسی زندگی کے لیے ایک سنگین دھچکہ ہے۔ ان کے خلاف جنسی ہراسانی کے مقدمات اور ہتک عزت کے مقدمات کئی برسوں سے جاری ہیں، اور یہ فیصلہ ان کے لیے ایک نیا قانونی مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ای جین کیرول کے حق میں آیا گیا یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ عدالت نے متاثرہ خاتون کی گواہی کو سچ سمجھا اور اسے تسلیم کیا، جس سے ٹرمپ کے خلاف قانونی جنگ میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

    نیو یارک کی عدالت کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف فیصلہ برقرار رکھنے اور ہرجانے کا حکم دینے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ قانونی نظام میں کسی بھی شخص کو انصاف سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ ای جین کیرول کی قانونی فتح نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ خواتین کے حقوق اور ان کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔

    میئر لندن صادق خان کو بادشاہ چارلس نے نائٹ اعزاز سے نواز دیا

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ