Baaghi TV

Tag: عدالت

  • بشریٰ بی بی کی گرفتاری مطلوب ہے،تفتیشی،عدالت نے دی ضمانت

    بشریٰ بی بی کی گرفتاری مطلوب ہے،تفتیشی،عدالت نے دی ضمانت

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ میں جعلی رسیدوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    بشری بی بی کی 12ستمبر تک عبوری ضمانت میں توسیع کر دی گئی،بشری بی بی ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا کی عدالت میں پیش ہوئیں، بشری بی بی اپنے وکلا سلمان صفدر،انتظار پنجوتھا، نعیم پنجوتھا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں، تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ بشری بی بی کی گرفتاری مطلوب ہے،بشری بی بی کی ایف آئی اے کو آڈیو کی فرانزک کیلئے بھیجی ہوئی ہے،وکیل سپمان صفدر نے کہا کہ تین تین گھنٹے بلایا جاتا ہے اور بٹھائے رکھتے ہیں تفتیش کے دوران بتایا بھی گیا کہ آڈیو بشری بی بی کی نہیں،

    عدالت نے استفسار کیا کہ معاملہ رسیدوں کا ہے تو آڈیو کہاں سے آگئی ،ایف آئی آر کے مطابق کیس کو لے کر چلیں،تفتیشی افسر نے استدعا کی کہ بشری بی بی کی وائس میچنگ کیلئے وقت دیا جائے،عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی

    توشہ خانہ کیس،بشری بی بی نیب راولپنڈی آفس میں پیش
    توشہ خانہ کیس کی نیب تحقیقات ،عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نیب راولپنڈی آفس میں کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہو گئی ہیں ،بشری بی بی سے لاکٹ، چین، کانٹے، 2 انگوٹھیاں اور بریسلٹ لینے کے الزامات پر سوالات پوچھے جائیں گے، بشریٰ بی بی پر سونے اور ہیرے کا نیکلس، سونے اور ہیرے کا بریسلٹ، سونے اور ہیرے کی انگوٹھی،بندے اور بریسلٹ واچ لینے کا بھی الزام ہے، نیب حکام کے مطابق تحائف کی قیمت کا شفاف تخمینہ لگانے کیلئے انہیں توشہ خانہ میں جمع ہی نہیں کروایا گیا، نیب

    توشہ خانہ کیس میں اہلیہ بشریٰ بی بی کو آج نیب نے طلب کیا تھا جبکہ ذرائع مطابق بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس کے سلسلے میں نیب راولپنڈی کی جانب سے طلب کیا گیا تھا ۔جبکہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی نے 18 ستمبر 2020 کو ہیرے اور سونے کی انگوٹھی، بریسلٹ اور ہار حاصل کیا، لیکن وہ اسے اپنے اثاثوں میں درج کرنے میں ناکام رہی۔

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • بجلی چوری کے کیسز سننے کیلئے اسپیشل عدالتوں کا قیام زیر غور،وزیرِ توانائی

    بجلی چوری کے کیسز سننے کیلئے اسپیشل عدالتوں کا قیام زیر غور،وزیرِ توانائی

    نگراں وزیرِ توانائی محمد علی نے کہا ہے کہ بجلی چوری میں ملوث افسران کیخلاف کارروائی ہورہی ہے،

    نگراں وزیرِ توانائی محمد علی کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو بل ادا نہیں کرتے، ملک میں 589 ارب روپے کی بجلی ہر سال چوری ہوتی ہے،پانچ کمپنیوں کی 344 ارب روپے کی بلنگ میں 100 ارب کا نقصان ہے،بجلی چوری کی وجہ سے عام لوگوں کو زیادہ بل ادا کرنا پڑتے ہیں، نگران وزیراعظم کی ہدایت پر بجلی چوری کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاؤن کررہے ہیں، بجلی چوری کے کیسز سننے کیلئے اسپیشل عدالتوں کا قیام زیر غور ہے، گھریلو صارفین میں بعض بجلی چوری کرتے ہیں اور بعض بل ادا نہیں کرتے، ہمارے پاس سارا ڈیٹا ہے کہ کن علاقوں میں زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے،جو بجلی کے بل ادا نہیں کرتے ان سے ریکوری کریں گے،

    نگراں وزیرِ توانائی محمد علی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان ڈسکوز میں 100 ارب کا نقصان ہوتا ہےان پانچ ڈسکوز میں سے 3044 ارب کی بلنگ ہوتی ہے اور 100 ارب کا نقصان ہوتا ہے ، پشاور، حیدرآباد، کوئٹہ، سکھر، قبائلی علاقوں اور آزاد کشمیر ڈسکوز میں 489 ارب کا نقصان ہوتا ہے، ان پانچ ڈسکوز کے 737 ارب کی بلنگ میں سے 489 ارب کا نقصان ہوتا ہے بجلی کی 60 فیصد پیداواری لاگت بجلی چوری کی وجہ سے ضائع ہوجاتی ہے، تاہم اس حوالے سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں

    بجلی کے بھاری بلوں کیخلاف پہیہ جام ہڑتال جاری

    مہنگائی، بچوں کو بھوکا دیکھنا مشکل کام خود کشیاں، احتجاج، بجلی بل موت کا پروانہ

    نگران حکومت سے عوام کی توقعات ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاستدان سیاست پر ملک کے مفاد کو ترجیح دیں، ڈاکٹر سبیل اکرام

    پاکستان کا زرعی ومعاشی مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    حکومت بھارت کی آبی جارحیت کا فوری سدباب کرے،ڈاکٹر سبیل اکرام

  • 1960 کا قانون  اس کا استعمال اسلام آباد پر کیسے ہو گا ؟عدالت

    1960 کا قانون اس کا استعمال اسلام آباد پر کیسے ہو گا ؟عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی ایم پی او گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس بابر ستارنے درخواست پر سماعت کی، عدالت نے استفسار کیا کہ ایم پی او کا اختیار ڈی سی اسلام آباد کس اختیار کے تحت استعمال کرتا ہے ؟کس دائرہ اختیار کے تحت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ایم پی او جاری کر رہے ہیں ؟ آپ نے صرف 1965 کا نوٹیفکیشن پیش کیا ہے ؟ اٹارنی جنرل کو نوٹس کرنا پڑے گا ، وفاقی دارالحکومت کیسے چل رہا ہے ؟ عدالتی معاونت کی ضرورت ہے ، عدالت نے عرفان میمن سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو کوئی نوٹیفکیشن دیا گیا ؟ ڈی سی اسلام آباد نے کہا کہ جب بھی کوئی ڈی سی تعینات ہوتا ہے تو اسے نوٹیفکیشن دیا جاتا ہے ، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ 1960 کا قانون ہے اس کا استعمال اسلام آباد پر کیسے ہو گا ؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تاحکم ثانی ڈی سی اسلام آباد کو تھری ایم پی او اختیارات استعمال کرنے سے روک دیا،جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بتائیں کہ قانون میں کہاں سے آپ یہ اختیار استعمال کررہے ہیں ، عدالت نے ایم پی او کے اختیار سے متعلق قانونی معاونت طلب کرلی،عدالت نے ڈی سی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت تک آپ ایم پی او کا کوئی آرڈر پاس نہیں کرینگے ، جسٹس بابر ستار نے کہا ڈی سی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈی سی صاحب آپ سمجھ رہے ہیں نہ ؟ ڈی سی صاحب آپ نے سن لیا؟ آپ آئندہ سماعت تک آپ ایم پی او آرڈر جاری نہیں کرینگے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو معاونت کیلئے نوٹس جاری کر دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے تاحکم ثانی ڈی سی اسلام آباد کو تھری ایم پی او اختیارات استعمال کرنے سے روک دیا ،

    شہریار آفریدی آج پیش نہ ہوسکے ،لا افسر نے ملٹری ڈکٹیٹر کے دور کا 1965 کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پیش کیا ،عدالت نے اسسٹنٹ کونسل کا جواب غیر تسلی بخش قرار دیا ،عدالت نے استفسار کیا کہ تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لی گئی خاتون رہنما شاندانہ گلزار کے موبائل کہاں گئے ؟ وکیل شیر افضل مروت کی عدالت سے شاندانہ گلزار کے موبائل فونز کی واپسی کیلئے آرڈر جاری کرنے کی استدعا کی گئی، کمرہ عدالت میں موجود ایس ایس پی آپریشنز اور ڈی سی اسلام آباد ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ،ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ میرے علم کے مطابق موبائل فون واپس کئے جا چکے ہیں ، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ شاندانہ گلزار کمرہ عدالت میں ہی موجود ہیں ،ان سے پوچھ لیں موبائل نہیں ملے، عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز کو شاندانہ گلزار کے موبائل واپس دلانے کا حکم دے دیا، عدالت نے شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کو مزید کسی کیس میں گرفتار نہ کرنے ہے حکم میں آئیندہ سماعت تک توسیع کر دی،

    ابھی ایم پی او کو کالعدم تو نہیں کیا بلکہ کچھ شرائط عائد کی ہیں

    پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

     شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا یے

  • چوہدری پرویز الٰہی کا 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور

    چوہدری پرویز الٰہی کا 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور

    تحریک انصاف کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کو انسداد دہشت گردی عدالت پہنچا دیا گیا

    پرویز الٰہی نے وکالت نامہ پر دستخط کر دیے ،انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد ،چوہدری پرویز الہی کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمہ کا معاملہ ،اسلام آباد پولیس کی جانب سے چوہدری پرویز الہی کو عدالت کے روبرو پیش کر دیا گیا ،کیس کی سماعت ڈیوٹی جج شاہ رخ ارجمند نے کی،پرویز الہی کے وکلا کی جانب سے وکالت نامہ جمع کروا دیا گیا ،وکیل سردار عبدالرازق نے کہا کہ چوہدری صاحب کے خواہش تھی کہ میں خود اوپر کورٹ روم جاؤں گا،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز الہی صاحب کو بٹھا دیں،پولیس کی جانب سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگ لیا گیا

    پرویز الہٰی کے وکیل سردار عبدلرازق نے دلائل کا آغاز کر دیا گیا، وکیل نے کہا کہ پرویز الٰہی کے خلاف بہت ہی مضحکہ خیز مقدمہ بنایا ہے،پرویز الٰہی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا،حال ہی میں پرویز الٰہی کو متعدد کیسز میں ڈسچارج کیاگیا لیکن دوبارہ گرفتار بھی کرلیا گیا،ڈپٹی کمشنر لاہور نے بھی پرویز الٰہی کو گرفتار کروایا،لاہور ہائیکورٹ میں پرویز الٰہی کی گرفتاری کے خلاف درخواست دائر کی،عدالت پرویز الٰہی کق ڈسچارج کرتی ہے، پولیس دوبارہ گرفتار کرلیتی ہےپرویز الٰہی کو نیب کے کیس میں بھی گرفتار کیا گیا،لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں تحریر کیاکہ پرویز الٰہی کو گرفتار نہ کیا جائے، لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیاکہ پرویز الٰہی کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کیاجائے،عدالت نے فیصلہ دیاپرویز الٰہی کو سیکیورٹی کے تحت گھر تک چھوڑا جائے،پرویز الٰہی اپنے گھر جارہےتھے اور انہیں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا،اسلام آباد پولیس نے پرویز الٰہی کو اغوا کیا ہے،پولیس نے عدالتی احکامات کی دھجیاں اکھیڑی ہیں،لاہور ہائیکورٹ نے اٹک مجسٹریٹ کو حکم دیا کہ پرویز الٰہی کو لاہور ہائیکورٹ پیش کیا جائے ،پرویز الٰہی کے خلاف کوئی ایک واقعہ نہیں، گزشتہ تین ماہ سے گرفتار کیا جارہا،پرویز الٰہی کو پمز میں طبی معائنہ کروانے کے بہانے اسلام آباد لایاگیا اور جیل میں بند کردیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نےکہا پرویز الٰہی کی گرفتاری بادی النظر میں غیر قانونی ہے،

    پرویز الٰہی نے دلائل کے حوالے سے اپنے وکیل کے کانوں میں سرگوشیاں بھی دوران سماعت جاری رکھیں،وکیل صفائی سردار عبد الرازق نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ لے کر پولیس لائنز گئے، پولیس نے میری گاڑی میں پرویز الٰہی کو بٹھایا، فیملی سے نہیں ملنے دیا،پولیس لائینز کے گیٹ پر پہنچے تو پرویز الٰہی کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا،پرویز الٰہی کے وکلاء کو گاڑی سے پولیس نے اتارا اور گرفتار کرکے تھانے لے گئے،پولیس نے نہیں بتایا کیوں پرویز الٰہی کو گرفتار کیا جارہا، وارنٹ بھی نہیں دکھائے ،پاکستان میں قانون کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں،عدالتیں ریلیف دیتی ہیں، عدالتیں اخری امید ہیں ،پرویز الٰہی نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ساری رات تھانے میں سونے نہیں دیا گیا، وکیل صفائی سردار عبد الرازق نے عدالت میں کہا کہ پرویز الٰہی سے سیاسی وابستگی تبدیل کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے،چیرمین پی ٹی آئی مارچ میں جوڈیشل کمپلیکس پہنچے، توڑپھوڑ کامقدمہ درج کیا گیامقدمے میں نامعلوم ملزمان کا نام شامل کیا گیا، پرویز الٰہی کا نام مقدمے میں نہیں،پرویز الٰہی چیرمین پی ٹی آئی کے پیشی والے دن لاہور میں موجود تھے،نامعلوم افراد مقدمے میں وہ ہوتے جن کی شناخت نہ ہو پارہی ہو،پرویز الٰہی دو بار وزیر اعلیٰ رہے، معروف سیاسی خاندان سے تعلق ہے، نامعلوم کیسے ہوسکتے؟ عام انسان کو بھی نظر آرہا کہ پرویز الٰہی کے خلاف ریاستی دہشتگردی کی جارہی،عدالتوں کو نہیں ماننا تو عدالتوں کو بند کردیں،پرویز الٰہی کے خلاف تمام کیسز ختم ہوگئے، دل نہیں بھرا تو دہشتگردی کا مقدمہ درج کردیا،وکیل سردار عبدلرازق نے پرویز الٰہی کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کر دی ،کہا کہ تین ماہ سے زیادہ عرصے سے پرویز الٰہی زیر حراست ہیں،پرویز الہی کے وکیل سردار عبدلرازق کے دلائل مکمل ہو گئے

    پرویز الٰہی کے دوسرے وکیل علی بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کرنا کیا واقعی ریمانڈ کاکیس ہے یا سیاسی کیس ہے،لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے دیگر عدالتوں پر بھی نافذ ہوتے ہیں،پرویز الٰہی پولیس کی حراست میں ہی تھے، 24 گھںٹے میں تفتیشی افسر نے کیا کیا؟ پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا میں تفتیش کا کوئی زکر ہی نہیں پرویز الٰہی کے خلاف پولیس کے پاس کچھ تفتیش کرنے کے لیے ہے ہی نہیں ،عدالت کو دیکھنا ہوگا کیا واقعی پرویز الٰہی سے تفتیش درکار ہے بھی یا نہیں،ریمانڈ کسی وجہ سے درکار ہوگانا؟ ڈنڈا، گاڑی، ماچس برآمد کرنی ہوگی، کچھ ہے ہی نہیں مقدمے میں؟صورتحال ایسی ہے کہ کل وکلاء ایک دوسرے کی ضمانتیں کروا رہے ہوں گے،شاہ محمد قریشی کا میں وکیل تھا، اسی کیس میں ضمانت کنفرم ہوئی،قانون کے مطابق خود ہی مدعی اور قاضی نہیں ہوسکتے،پرویز الٰہی کی شناخت پریڈ کی بھی ضرورت نہیں، ملک انہیں جانتا ہے،قانون کے مطابق خود ہی وکیل اور خود ہی قاضی نہیں ہو سکتے،میں آج پہلی بار مل رہا ہوں لیکن میں انکو پہلے کا جانتا ہوں،وکیل علی بخاری کی جانب سے مختلف قانونی حوالے دیئے گئے،اور کہا گیا کہ سیکشن 167 میں لکھا ہے ملزم کو ڈسچارج کریں اور بانڈز عدالت میں جمع کروائیں،کوئی شواہد ہو تو پھر مجھے پھانسی لگا دیں لیکن کوئی شواہد ہیں ہی نہیں،وکیل صفائی علی بخاری نے پرویز الٰہی کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کردی، دلائل مکمل ہو گئے

    پروسیکیوٹرکے دلائل شروع ہوئے تو پروسکیوٹر نے کہا کہ اسلام آباد پولیس ڈپٹی کمشنر لاہور یا پنجاب پولیس کو ڈکٹیٹ نہیں کررہی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے دیگر مقدمے میں گرفتاری کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں دیا،پرویز الٰہی مارچ میں درج مقدمے میں اسلام آباد پولیس کو درکار تھے،ثبوتوں کو اکٹھا کرنا ہے، مخبر نے مدعی کو بتایا کہ پرویز الٰہی شامل تھے، ڈنڈا، گاڑیاں، مددگار افراد وغیرہ کے حوالے سے پرویز الٰہی کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے،پرویز الٰہی کو قانون کے مطابق گرفتار کیا گیا ہے،

    وکیل سردار عبدلرازق نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے خود بتایا کہ پرویز الٰہی موقع پر موجود نہیں تھے،اصل الزام چیرمین پی ٹی آئی،شاہ محمود قریشی اور دیگر پر تھا جنکی ضمانتیں کنفرم ہوگئی ہیں،6 ماہ پہلے مقدمہ درج ہوا اور آج تک انکو معلوم نہیں ہوا کہ پرویز الٰہی اس کیس میں ہیں،لاہور ہائیکورٹ کا حکم تھا کہ کوئی ادارہ انکو گرفتار نہ کرے،لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد یہ کیسے گرفتار کر سکتے ہیں ،ہائیکورٹ نے کہا پرویز الٰہی کو کسہ مقدمے میں گرفتار نہیں کرنا،پرویز الٰہی کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت لی درخواست دائر کردی ہے

    عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں چوہدری پرویز الہی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا، "تفتیش” کے لیے پرویز الٰہی دو روز کے لئے "پولیس” کے حوالے کر دیئے گئے،عدالت نے پرویز الہیٰ کو8 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا،

    عدالت نے ریمانڈ دیا تو پولیس اہلکار پرویز الہی کے پاس گئے اور کہا کہ ہمارے ساتھ چلیں آپ کا 2 روز کا ریمانڈ منظور ہوگیا ہے،پرویز الہی نے کہا کہ پہلے تحریری آرڈر لیکر آئیں،پولیس نے تحریری حکم نامہ پرویز الہی کے وکلا کو دکھا دیا ،پرویز الہی نے جج کی تصدیق کے بغیر باہر نہ جانے کا کہہ دیا ،ملزم کو لے جانے کے لیے سی ٹی ڈی اہلکار کمرہ عدالت پہنچ گئے

    مجھ سے کسی نے کیا ملاقات کرنی، میں ہی کسی سے ملاقات نہیں کرنا چاہتا،پرویز الٰہی
    اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،پرویز الٰہی نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے رات بھر تھانہ سی آئی اے میں رکھا گیا ہے، مجھ سے کسی نے کیا ملاقات کرنی، میں ہی کسی سے ملاقات نہیں کرنا چاہتا،زرداری نواز شہباز اپنا پیسہ لے آئیں تو ملک کے مالی حالات ٹھیک ہو جائیں،عمران خان صاحب کے ساتھ کھڑا تھا اور کھڑا رہوں گا، سوال کیا گیا کہ چوہدری صاحب کوئی پریس کانفرنس کرنے کا ارادہ تو نہیں ہے۔؟ جس کے جواب میں پرویز الہی نے کہا کہ بلکل نہیں

    واضح رہے کہ پرویز الہیٰ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر رہائی کے بعد گزشتہ روز 5 ستمبر کو پولیس لائن سے ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا تھا سادہ لباس اہلکار پرویز الہیٰ کووکیل کی گاڑی میں گھرجاتے ہوئے گرفتار کرکے لے گئے،صدر پی ٹی آئی کو اسلام آباد پولیس کے انسداد دہشت گردی ڈویژن نے گرفتار کیا-

    ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ پرویزالہیٰ کو تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمہ نمبر 3/23 میں گرفتار کیا گیا پرویزالہیٰ کو جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس پر ہنگامہ آرائی کا مقدمہ پرویزالہیٰ کے خلاف ایس ایچ او تھانہ رمنا کی مدعیت میں درج ہوا تھا مقدمے میں انسداد دہشتگردی سمیت 11 دفعات شامل ہیں، اور جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری ڈالی گئی، جبکہ اٹھارہ مارچ جوڈیشل کمپلیکس پیشی پر ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج ہوا تھا اور چوہدری پرویز الٰہی کو گرفتار افراد کے ریکارڈ بیان گرفتار کیا گیا-

    پرویز الہی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    پولیس میری گاڑی بھی ساتھ لے گئی،پرویز الہی کے وکیل کا دعویٰ

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • عمران ریاض بازیابی کیس،آئی جی پنجاب کو ملی مزید مہلت

    عمران ریاض بازیابی کیس،آئی جی پنجاب کو ملی مزید مہلت

    لاہور ہائیکورٹ میں یوٹیوبر،اینکر عمران ریاض کے والد کی درخواست پر عمران ریاض کی بازیابی کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی نے درخواست پر سماعت کی، آئی جی پنجاب عثمان انور عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ عمران ریاض کی بازیابی میں کافی مثبت پیش رفت ہوئی ہے ہم آئندہ دس سے پندرہ دنوں میں خوشخبری دینگے آئی جی پنجاب نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے عمران ریاض کو بازیاب کرانے کے لیے مزید مہلت مانگ لی

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ صرف مزید مہلت مانگی جا رہی ہے کوئی پیش رفت بھی ہے کیا؟ آئی جی پنجاب عثمان انور نے عدالت میں کہا کہ آپ ہمیں صرف دس دن کی ہی مہلت عنایت کر دیں ہم خوشخبری ہی سنائیں گے ،عدالت نے آئی جی پنجاب کی عمران ریاض کو بازیاب کرنے کے لیے 13 دنوں کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ کوئی پیش رفت بھی ہونی چاہیے

    وکیل عمران ریاض نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں آئی جی پنجاب ایک گھنٹہ کی میٹینگ کا وقت دیں، جس پرچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ آئی جی پنجاب آج شام پانچ بجے عمران ریاض کے والد اورلیگل ٹیم سے ملاقات کریں ،لاہور ہائیکورٹ نے سماعت 13ستمبر تک ملتوی کر دی،

    عدالت پیشی کے موقع پر عمران ریاض کے والد کا کہنا تھا کہ عمران ریاض سے نہ تو ملاقات ہوئی اور نہ ہی بات، مگر مجھے اللہ سے پوری امید ہے کہ میرا بیٹا خیریت سے ہوگا،

    دوسری جانب عمران ریاض کے وکیل ایڈوکیٹ میاں علی اشفاق کا کہنا ہے کہ جس وقت ہم عدالت پہنچے، عمران ریاض خان صاحب کے والد کو آج سماعت سے پہلے ایک انتہائی اہم کال موصول ہوئی ہے جسکی تصدیق آج شام 5 بجے تک آئی جی پنجاب کریں گے، آئی جی پنجاب نے بھی آج عدالت کو بتایا کہ انکے پاس بھی عمران ریاض کے حوالے سے اہم شواہد ہیں، ہم نے اسی لئے عدالت سے کہا کہ آئی جی سے وقت لے کر دیں تا کہ ہم آنے والی کال کی تصدیق کر سکیں، آئی جی سے عدالت نے پوچھا تو انہوں نے دو ہفتوں کی مہلت مانگی،

    عمران ریاض خان پر ایک اور مقدمہ درج

    عمران ریاض کا پتا چل گیا۔ جان کو خطرہ ،عمران خان پر کڑا وار ،سیاست دفن

    وزارت دفاع کے نمائندے کا کہنا تھا عمران ریاض کی بازیابی کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں ۔

    پولیس نے عمران ریاض کو 11 مئی کو سیالکوٹ ایئرپورٹ سے گرفتار کرکے جیل منتقل کرنے کا اعتراف کیا تھا، پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کی طرف سے نظربندی کا حکم واپس لیے جانے اور جیل سے رہائی کے بعد سے اینکر پرسن کا ٹھکانہ معلوم نہیں ہو سکا۔

    عمران ریاض ہمیں مطلوب نہیں تھا 

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

  • انتخابات نوے روز میں نہ کرانے کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    انتخابات نوے روز میں نہ کرانے کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ: الیکشن کمیشن پاکستان کی جانب سے انتخابات نوے روز میں نہ کرانے کے اقدام کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر سماعت بغیر کسی کارروائی کے غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی ،عدالت کے روبرو درخواست گزار پیش نہ ہوئے ،عدالت میں وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن نے جوابات داخل نہ کرایا ،دونوں فریقین کی طرف سے جوابات داخل کرانے کے لیے مہلت طلب کی گئی ،جسٹس عابد عزیز نے شہری محمد مقصد سلیم ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی

    درخواست میں الیکشن کمیشن،وفاقی حکومت،ادارہ شماریات سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نے 17 اگست کو انتخابات سے معذرت کا نوٹیفکیشن جاری کیا،الیکشن کمیشن نے نوٹفکیشن میں کہا کہ انہوں نے مردم شماری اور نئی حلقہ بندیاں کرنی ہیں،الیکشن کمیشن کا موقف آرٹیکل 224 شق دو کی خلاف ورزی ہے،سیکشن 17 شق دو الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی ہے،5 اگست 2022 کو مرد شماری کے اعداد وشمار چھپ چکے ہیں،ایک سال کی تاخیر سے حلقہ بندیوں کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے،آئین کے مطابق نوے روز میں انتخابات منعقد ہونے چاہیے،الیکشن کمیشن کا جاری نوٹیفکیشن کو درخواست کے فیصلے تک معطل کیا جائے،عدالت الیکشن کمیشن کو نوے روز میں انتخابات کروانے کا حکم جاری کرئے،

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

    واضح رہے کہ شیریں مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی، عدالت میں دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ چند ہفتوں قبل حکومت کی جانب سے شیریں مزاری سمیت پی ٹی آئی کے متعدد موجودہ اور سابق رہنماؤں و قائدین کے نام ای سی ایل ڈالے گئے تھے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے 70 رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالےگئے ۔ذرائع کے مطابق جن رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں شامل کئے گئے ہیں ان میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، شیخ رشید، شہریار آفریدی، مراد سعید، علی محمد خان، قاسم سوری، اسد عمر، اسد قیصر، ملیکہ بخاری اور دیگر سابق ایم این ایز شامل ہیں رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ پولیس کی سفارش پر کیا گیا ۔

  • سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت،ایف آئی اے نے جواب کیلئے مہلت مانگ لی

    سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت،ایف آئی اے نے جواب کیلئے مہلت مانگ لی

    چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے،سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت کی ،وکیل شیرافضل نے کہا کہ اٹک جیل میں بی کلاس ہی نہیں ہے، یہ صرف تکلیف دینے کیلئے کیا جا رہا ہے، حکام کہتے ہیں کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اٹک جیل میں رکھا گیا ہے،اڈیالہ جیل زیادہ محفوظ ہے یا اٹک جیل، یہ سب کو معلوم ہے، سردار لطیف کھوسہ نے چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کیلطیف کھوسہ نے کہا کہ اٹک جیل بے شمار نامعلوم قیدی ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو جہاں رکھا گیا وہاں چھت نہیں، پانی گرتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو رات کو نیند نہیں آتی، وہاں مکھیاں ہیں، سپریٹنڈنٹ جیل نے میرے خلاف ایف آئی آر کرائی کہ میں نے اسے مارا ہے،
    اس سپریٹنڈنٹ نے بھی اللہ کو جان دینی ہے میں تو اس سے ملا بھی نہیں تھا،

    اٹک جیل کی طرف سے اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ حسرت عدالت میں پیش ہوئے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ جگہ نہ ہونے کے باعث اٹک جیل منتقل کیا گیا ، صرف اور صرف زیادہ تکلیف دینے کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل منتقل کیا گیا ، اڈیالہ جیل میں سکیورٹی انتظامات بہتر ہیں ،بی کلاس بھی موجود ہے ، ہمارا حق ہے ہمیں اڈیالہ جیل منتقل کرکے بی کلاس فراہم کی جائے ، بشری بی بی جیل میں ملنے گئیں تو ان پر بھی مقدمہ بنانے کی کوشش کی گئی ،الزام لگایا گیا کہ بشری بی بی نے جیل اہلکار کو 20ہزار روپے رشوت دینے کی کوشش کی ، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ جیل میں اے اور بی کلاس ختم کر دی گئی ہے،جیل میں اب عام اور بیٹر کلاسز موجود ہیںچیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں بیٹر کلاس دی گئی ہے، چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیٹر کلاس کا یہ حال ہے تو عام کا کیا ہو گا؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں جو مسائل تھے وہ دور کر دیے گئے ہیں، باتھ روم کا مسئلہ تھا اسکی دیواریں اونچی کر کے سفیدی کروا دی گئی، چیئرمین پی ٹی آئی کو بیڈ، کرسی، 21 انچ ٹی وی اور پانچ اخبار فراہم کئے گئے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو کھانا بھی انکی مرضی سے دیا جاتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے پانچ ڈاکٹر تعینات کیے گئے ہیں، اانہیں دو دن چکن اور مٹن دیسی گھی میں بنا کر دیا جاتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو بیڈ، کرسی، 21 انچ ٹی وی اور پانچ اخبار فراہم کئے گئے ہیں

    ایف آئی اے وکلا نے جواب جمع کرانے کیلئے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے یہ ساری باتیں بتائیں لیکن درخواست گزار کا بنیادی اعتراض کچھ اور ہے، ٹرائل کورٹ نے اڈیالہ جیل میں رکھنے کا کہا تو اٹک جیل منتقل کیوں کیا گیا؟ کیا اڈیالہ جیل سپریٹنڈنٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنے کی درخواست کی؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آئی جی کے پاس کسی بھی قیدی کو ایک سے دوسری جیل میں منتقل کرنے کا اختیار ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی اپنی کوئی جیل نہیں تو قیدیوں کو اڈیالہ جیل میں رکھا جاتا ہے، وکیل شیرافضل نے کہا کہ جب یہ درخواست دائر کی گئی تب چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا ہوئی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا اب معطل ہو چکی اور ضمانت مل چکی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کا دوران حراست سٹیٹس اب تبدیل ہو چکا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی اس وقت سزا نہیں کاٹ رہے، چیئرمین پی ٹی آئی ایک اور انڈر ٹرائل کیس میں حراست میں ہیں، اسلام آباد کے اندر ٹرائل قیدیوں کو اڈیالہ جیل میں ہی رکھا جاتا ہے، اگر اٹک سے اٹھا کر کوٹ لکھپت لے جاتے ہیں تو کیا ہر پیشی پر لایا جا سکتا ہے؟ کوٹ لکھپت سے تو پانچ چھ گھنٹے کا سفر ہے، اٹک جیل سے اسلام آباد کا سفر کتنا ہے؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ اٹک سے اسلام آباد کا ڈیڑھ گھنٹے کا سفر ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس گاڑی میں یہ لاتے ہیں اس میں دس پندرہ منٹ زیادہ ہی لگتے ہونگے، کیا سزا معطل ہونے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل رکھنے کا کوئی فیصلہ ہوا؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ میں اس حوالے سے ہدایات لے کر آگاہ کر سکتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شیر افضل صاحب کو ملاقات کرنے دیں اور یقینی بنائیں کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سائفر کیس کی آئندہ تاریخ کیا ہے؟ وکیل شیرافضل نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا 13 ستمبر کو کوئی نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے کہا کہ اس حوالے سے ہم ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کر دینگے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کیس اُس سماعت سے پہلے رکھ لیتے ہیں، عدالت کو آگاہ کیا جائے، چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر عدالت ایف ایٹ کچہری سے جوڈیشل کمپلیکس منتقل کی گئی، وزارت داخلہ متعلقہ وزارت بنتی ہے، وزارت قانون نے یہ نوٹیفکیشن کیسے کیا؟ پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں بھی اسی نوعیت کی درخواست زیرسماعت ہے،تو ٹرائل کورٹ اس درخواست پر فیصلہ کرے ہائیکورٹ نے تو نہیں روکا ،ٹرائل کورٹ فیصلہ کر دے تو ہائیکورٹ میں درخواست غیرموثر ہو جائے گی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ فیصلہ کرے جو متاثرہ فریق ہوا وہ اپیل کر لے گا، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت 12 ستمبر تک ملتوی کر دی،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جزوی دلائل سماعت شد، بارہ ستمبر کو دلائل مکمل ہوگئے تو اسی دن فیصلہ کردیں گے،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزارت قانون کے عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن چیلنج کردیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اٹک جیل میں منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے کلعدم قرار دیا جائے، انسداد دہشتگری عدالت نمبر ون کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا اختیار سماعت بھی چیلنج کر دیا گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے ذریعے درخواست دائر کی ، درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ ، چیف کمشنر ، آئی جی ، ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے، سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواست میں کہا کہ انسداد دہشتگری عدالت ون کے جج اس معاملے میں مطلوبہ اہلیت کے بنیادی معیار پر بھی پورا نہیں اترتے ،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • چیئرمین پی ٹی آئی کی تکنیکی بنیاد پر ضمانت خارج کی گئی،وکیل

    چیئرمین پی ٹی آئی کی تکنیکی بنیاد پر ضمانت خارج کی گئی،وکیل

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی چھ مقدمات میں عدم پیروی پر ضمانت کی درخواستیں خارج ہونے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سیشن عدالت نے چیرمین پی ٹی آئی کے چھ ضمانت کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دیں تھیں ،چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وکلا ایسوسی ایٹس کو روسٹرم آنے سے روک دیا ،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس نے دلائل دینے ہیں صرف وہی وکیل روسٹرم پر کھڑے ہوں ،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدرنے دلائل دیئے اور کہا کہ متعلقہ عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی پیش ہوتے رہے ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کی تکنیکی بنیاد پر ضمانت خارج کی گئی،جب ملزم گرفتار ہوئے تو وہ خود سے پیش نہیں ہوسکتا، پھر ریاست کی زمہ داری ہے کہ وہ اپنی زمہ داری نبھائے،چیئرمین پی ٹی آئی اٹک جیل میں قید ہیں ، ایسا نہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی جان بوجھ کر عدالت میں پیش نہیں ہوئے ، چالیس کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہو چکی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی عدم موجودگی کی وجوہات پر مبنی ہماری درخواست پر کوئی نوٹس جاری نہیں کیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسی نوعیت کی درخواست دو رکنی بینچ کے روبرو بھی زیر سماعت ہے ، دو رکنی بینچ کے روبرو یہ درخواست بھی سن لینگے ،کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا

    عمران خان کی ضمانت کی درخواستیں عدم پیروی خارج کرنے کے خلاف درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ جمعرات تک جواب طلب کر لیا

    عمران خان کو باہر بھیجنے سے متعلق مختلف ذرائع سے رابطے ہوئے، علیمہ خان

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    ،جیل میں عمران خان کے بازوؤں کے پٹھے بہت کمزور ہو چکے ہیں 

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے مختلف مقدمات میں ضمانتیں خارج ہونے والے مقدمات کو اسلام ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ،چیرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں درج مختلف مقدمات میں ضمانت خارج ہونے پر ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ،نو مئی سے متعلقہ مقدمات میں بھی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، عمران خان نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیسز ، دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے کیس میں بھی ضمانت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،چیرمین پی ٹی آئی کی دہشتگردی کے مقدمات اور توشہ خانہ جعلی سازی کیس سمیت 9 مقدمات میں عدم پیروی ضمانتیں خارج ہوئیں تھیں .چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ضمانتیں خارج ہونے والے مقدمات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ،درخواست میں عدالت سے پولیس کو ان مقدمات میں گرفتاری سے روکنے کی استدعا کی گئی ،عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت سیشن کورٹ اور انسدادِ دہشت گردی عدالت کے ضمانت خارج کرنے کے فیصلے کالعدم قرار دے ،ہائیکورٹ ضمانت کی درخواستیں دوبارہ میرٹ پر سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کرے

  • یاسمین راشد سمیت دیگر کی درخواست ضمانت خارج

    یاسمین راشد سمیت دیگر کی درخواست ضمانت خارج

    لاہور ہائیکورٹ نے ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر کی درخواست بعدازگرفتاری ضمانت خارج کردی

    سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ مقدمے میں نئی دفعات شامل ہوچکی ہیں نئی دفعات کے کے تحت ملزمان سے تفتیش کرنی ہے ، جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے شامل تفتیش ہوں پھر ٹرائل کورٹ میں ضمانتیں فائل کریں،جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی ،ملزمان نے تھانہ شادمان میں جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں ضمانتیں دائر کررکھی ہیں

    ڈاکٹر یاسمین راشد نے جیل سے رہائی کیلیے درخواست ضمانت دائر کر رکھی ہے ،ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر کیخلاف تھانہ سرور روڑ نے مقدمہ درج کر رکھا ہے ،ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر پر تھانہ شادمان میں جلاؤ گھیراؤ کا الزام ہے

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

  • بشریٰ بی بی کی درخواست پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری

    بشریٰ بی بی کی درخواست پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ، چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ پر مقدمات، انکوائریوں کی تفصیلات کے حصول کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیئے،عدالت نے حکم دیا کہ جو محکمہ جس روز رپورٹ جمع کرائے اس کے بعد ایف آئی آر یا انکوائری نہیں نکلنی چاہئے،اگر عدالت کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی تو متعلقہ افسران ذمہ دار ہونگے، لاء افسران متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کو یقینی بنائیں، عدالت نے درخواست کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی جسٹس عالیہ نیلم نے سابق وزیراعظم کی اہلیہ بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کی

    درخواست میں حکومت پاکستان سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی درخواست گزار کے خاوند اور جیل میں قید ہیں، درخواست گزار کیخلاف ملک بھر میں کیسز درج ہیں،درخواست گزار کیخلاف مختلف حکام کی جانب سے نظربندی کے احکامات جاری کیے گئے، نیب، ایف آئی اے، انٹی کرپشن اور پولیس میں ایف آئی آرز، انکوائرئیز زیر التوا ہیں، عدالت تمام معلوم اور نامعلوم کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے، عدالت تمام کیسز میں درخواست گزار کی حفاظتی ضمانت منظور کرے، عدالت درخواست گزار کو کسی بھی کیس میں گرفتاری سے روکنے کا حکم دے،

     بشریٰ بی بی کی 12 ستمبر تک عبوری ضمانت منظور

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    عدلیہ،فوج،حکومت پر کب دباؤ ڈالنا؟ بشریٰ بی بی کی ہاتھ سے لکھی ڈائری پکڑی گئی

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    رات کے اندھیرے میں بشریٰ بی بی،بزدار یتیم خانوں میں کیا کرتے تھے؟

    واضح رہے کہ عمران خان سائفر کیس میں اٹک جیل میں ہیں، عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا ہوئی تھی تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کر دی تھی، عمران خان اب بھی جیل میں ہیں، توشہ خانہ کیس میں نیب نے بشریٰ کو طلب کیا تھا مگر وہ پیش نہیں ہوئیں، نیب نے القادر یونیورسٹی کس میں بھی بشریٰ کو طلب کیا تھا، بشریٰ نے عدالت سے ضمانت کروا رکھی ہے تا ہم پھر بھی انکو گرفتاری کا خوف کھائے ہوئے ہے، بشریٰ بی بی جیل میں عمران خان سے ملنے بھی جا چکی ہیں