Baaghi TV

Tag: عدالت

  • سماعت کیوں ملتوی کی، ملزم نے جج کو چپل مار دی

    سماعت کیوں ملتوی کی، ملزم نے جج کو چپل مار دی

    بھارت میں مہاراشٹر کے تھانہ ضلع کی ایک مقامی عدالت میں قتل کے مقدمے میں گرفتار ایک قیدی نے مقدمے کی کارروائی ملتوی ہونے پر جج پر چپل پھینک دی۔

    یہ واقعہ گزشتہ روز اس وقت پیش آیا جب ملزم کرن سنتوش بھرم، جو 2012 میں قتل کے مقدمے میں گرفتار ہوا تھا، عدالت میں پیش ہوا۔ملزم کرن سنتوش بھرم کے خلاف قتل کا مقدمہ گزشتہ کئی برسوں سے زیر سماعت تھا۔ گزشتہ روز جب عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تو ملزم شدید غصے میں آ گیا۔ جج کی طرف سے مقدمے کی تاریخ ملتوی ہونے کے بعد ملزم نے کمرہ عدالت سے باہر نکل کر دروازے کے قریب کھڑے ہو کر اپنی چپل اٹھائی اور جج پر پھینک دی۔ چپل کمرہ عدالت میں ایک میز سے ٹکرا گئی، جس کے بعد کمرہ عدالت میں سنسنی پھیل گئی۔

    واقعے کے فوراً بعد عدالت کے عملے نے پولیس کو اطلاع دی اور ملزم کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔ پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو مقامی عدالت کے سامنے پیش کیا اور اس کی پولیس تحویل حاصل کر لی۔ عدالت کے حکام نے اس کارروائی کو سنگین توہین عدالت قرار دیا اور ملزم کے خلاف مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔

    یہ واقعہ نہ صرف عدلیہ کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ اس نے عوامی سطح پر بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ عدلیہ میں ہونے والی کارروائیوں کو کس طرح کنٹرول کیا جائے تاکہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔ وکلاء اور قانونی ماہرین نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے.

    ہمیں نئی نسل کے ڈیجیٹل حقوق کے لئے جدو جہد کرنا ہو گی،بلاول بھٹو

    آذربائیجان کے نائب وزیر دفاع کی ایئر چیف سے ملاقات

  • کرنٹ لگنے سے بچے کی ہلاکت ، کے الیکٹرک کو 1.93 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

    کرنٹ لگنے سے بچے کی ہلاکت ، کے الیکٹرک کو 1.93 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

    کراچی: کرنٹ لگنے سے بچے کی ہلاکت کے کیس میں کے الیکٹرک کو 1.93 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا گیا-

    باغی ٹی وی: کرنٹ سے جاں بحق ہونے والے کمسن اذان کے لواحقین کو انصاف مل گیاسینئر سول جج ایسٹ کی عدالت نے کمسن اذان کے کرنٹ سے جاں بحق ہونے کے مقدمے میں کے الیکٹرک کے خلاف تاریخی فیصلہ سنا دیا۔

    عدالت نے 6 سال بعد مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے کے الیکٹرک حکام کے خلاف ڈگری جاری کر دی اور کے الیکٹرک کو حکم دیا کہ متاثرہ خاندان کو ہرجانہ ادا کیا جائے جج عنبرین جمال کی جانب سے دیے گئے فیصلے میں کے الیکٹرک کو حکم دیا گیا ہے کہ لواحقین کو ایک کروڑ 93 لاکھ روپے کا ہرجانہ ادا کیا جائے۔
    دبئی،18 سالہ لڑکے کا 17 سالہ لڑکی سے رضامندی سے جنسی تعلق مہنگا پڑ گیا
    مقدمے کے وکیل ایڈووکیٹ عثمان فاروق کے مطابق 2017 میں کراچی میں ہونے والی بارشوں کے دوران کمسن اذان کرنٹ لگنے سے جان کی بازی ہار گیا تھا، انہوں نے بتایا کہ واقعے میں کے الیکٹرک کی غفلت واضح تھی، کیونکہ گارڈ وائر لگانے میں ناکامی کے باعث یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا،عدالت نے ان کے دعوے کو درست تسلیم کرتے ہوئے لواحقین کو انصاف فراہم کیا ہے۔
    روس کا کارگو جہاز بیڑھ میں دھماکے کے بعد غرق ،دو افراد لاپتہ

  • جی ایچ کیو حملہ کیس، ایک اور ملزم پر فرد جرم، ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی درخواستیں مسترد

    جی ایچ کیو حملہ کیس، ایک اور ملزم پر فرد جرم، ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی درخواستیں مسترد

    راولپنڈی: سانحہ 9 مئی کے دوران جی ایچ کیو پر حملے کے کیس کی سماعت میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، جس میں عدالت نے ملزم بلال اعجاز کو چارج شیٹ جاری کر دی ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے ملزم عاصم اور شہیر سکندر کا اشتہار جاری کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

    انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ 9 مئی کے دوران جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کی سماعت ہوئی، جس میں ملزم بلال اعجاز پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ عدالت نے اس موقع پر ملزم عاصم اور شہیر سکندر کے بارے میں حکم جاری کیا کہ ان کا اشتہار شائع کیا جائے تاکہ ان کی گرفتاری عمل میں لائی جا سکے۔اس کے علاوہ، عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو،آڈیو ریکارڈنگ فراہم کرنے کی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے فوٹیج کی فراہمی کے لیے درخواستیں دائر کی گئی تھیں، جنہیں عدالت نے مسترد کر دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ان درخواستوں پر کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی اور اس حوالے سے درخواست گزار پنجاب حکومت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ محکمہ داخلہ اور عدالت کو دوسرے معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں۔عدالت نے کیس کی سماعت 6 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ 9 مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں نے ملک بھر میں احتجاج کیا تھا جس کے دوران جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد ملک بھر میں شدید تشویش اور تنقید کی لہر دوڑ گئی تھی، اور اس مقدمے میں ملزمان کی گرفتاری اور قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔

    جی ایچ کیو راولپنڈی کیس: قید کی سزا پانے والے 2 مجرم اڈیالہ جیل منتقل

    جی ایچ کیو حملہ کیس، زین قریشی سمیت مزید 3 ملزمان پر فرد جرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان و دیگرکی بریت درخواستیں خارج

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،لاپتہ شہری کی بازیابی بارے رپورٹ طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ،لاپتہ شہری کی بازیابی بارے رپورٹ طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آزاد کشمیر کے لاپتہ شہری کی بازیابی کے حوالے سے اہم کیس کی سماعت کے دوران ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی زیر صدارت ہوئی۔ کیس میں درخواست گزار ناظمہ فتح یاب کی جانب سے ان کے وکیل ایمان زینب مزاری نے عدالت میں پیش ہوکر موقف اختیار کیا کہ ان کے شوہر مظفرآباد سے لاپتہ ہوئے ہیں اور اس ضمن میں متعلقہ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔اس دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور وزارتِ دفاع کے نمائندہ بھی عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کا شوہر مظفرآباد سے لاپتہ ہوا ہے، جہاں اس کے لاپتہ ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
    عدالت نے کیس کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کو حکم دیا کہ وہ لاپتہ شہری کے بارے میں بند لفافہ رپورٹ جمع کرائیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ رپورٹ متعلقہ حکام کے ذریعہ فراہم کی جائے اور اس کی تفصیلات جلد از جلد عدالت میں پیش کی جائیں تاکہ معاملہ کی مزید تفتیش کی جا سکے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس کیس کو اہمیت دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کی حفاظت اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہر صورت میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

    سوشل میڈیا کے غلط استعمال میں پی ٹی آئی کے لیڈر کا ہاتھ ہے،شرجیل میمن

    اسلام آباد:3 حلقوں سے متعلق حکم امتناع،کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی

  • لاہور ہائیکورٹ کادارالامان سے مرد ملازمین ہٹانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کادارالامان سے مرد ملازمین ہٹانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو تمام دارالامان سے مرد ملازمین کو ہٹانے کا حکم دے دیا۔

    یہ فیصلہ جسٹس طارق سلیم شیخ کی سربراہی میں 36 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا گیا، جس میں پنجاب حکومت کو دارالامان میں رہائش پذیر خواتین اور بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے اہم اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر حکم دیا کہ تمام دارالامان سے مرد ملازمین کو ہٹا دیا جائے۔ یہ حکم انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد خواتین اور بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ خواتین کے لئے مخصوص پناہ گاہوں میں مرد ملازمین کی موجودگی ان کی حفاظت میں رکاوٹ بن سکتی ہے، اس لئے ان ملازمین کو ہٹایا جائے۔عدالت نے پنجاب حکومت کو شیلٹر ہومز کی بہتر مانیٹرنگ کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ہدایت بھی دی۔ اس کے تحت ایک جدید ڈیٹا بیس اور سافٹ ویئر تیار کرنے کی ضرورت ہوگی، جس کے ذریعے شیلٹر ہومز کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے گا۔ مزید برآں، عدالت نے تمام دارالامان کے داخلی راستوں اور احاطے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا حکم دیا تاکہ وہاں موجود افراد کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کی جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

    یہ حکم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں کے بعد آیا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ دارالامان میں بچیوں کے حفاظتی اقدامات ناکافی ہیں اور خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ پر مناسب عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

    ہر ضلع کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو جائزہ لینے کا حکم
    عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ ہر ضلع کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو کم از کم ہر دو ماہ بعد متعلقہ دارالامان کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔ اس جائزے کا مقصد دارالامان میں رہنے والی خواتین کی حفاظت، ان کی رہائشی سہولتوں اور دیگر ضروریات کو دیکھنا ہے۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ دارالامان میں رہنے والی خواتین کی معاشی بحالی کے لئے انہیں پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ خودمختار بن سکیں اور معاشرتی طور پر بہتر طور پر انضمام کر سکیں۔عدالت نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو بھی ہدایت کی کہ وہ بچوں کی حفاظت کے لئے ایک مستحکم ضابطہ تیار کرے اور بچوں کے تحفظ کے اداروں کی رجسٹریشن کو یقینی بنائے۔ اس کے علاوہ تحصیل اور ضلعی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن یونٹس قائم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ بچوں کی بہتر نگہداشت اور حفاظت کی جا سکے۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ دارالامان اور شیلٹر ہومز کی تمام معلومات متعلقہ ویب سائٹس پر فراہم کی جائیں تاکہ عوام کو ان پناہ گاہوں کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل ہو سکے۔

    اس فیصلے کا اثر پنجاب بھر کے دارالامان اور شیلٹر ہومز پر پڑے گا جہاں خواتین اور بچوں کی بہتر حفاظت کے لئے اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ حکم نہ صرف خواتین اور بچوں کے حقوق کی پاسداری کے حوالے سے اہم ہے بلکہ پنجاب حکومت کے لئے ایک چیلنج بھی ہے کہ وہ ان اقدامات کو عملی طور پر نافذ کرے۔لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ پنجاب میں خواتین اور بچوں کی حفاظت کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔ اس فیصلے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ دارالامان کی انتظامیہ خواتین اور بچوں کے حقوق کو بہتر طور پر تحفظ دے سکے گی اور ان کے لئے مزید محفوظ ماحول فراہم کر سکے گی۔

    مذاکرات کو مذاق کی رات نہیں بنانا،شیخ رشید

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

  • مذاکرات کو مذاق کی رات نہیں بنانا،شیخ رشید

    مذاکرات کو مذاق کی رات نہیں بنانا،شیخ رشید

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ مذاکرات کی بیل چڑھتی نظر نہیں آ رہی، دعا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ جیلیں آباد اور غریب لوگ برباد ہو رہے ہیں، چاہتے ہیں کہ مذاکرات سے جیلوں کے دروازے کھلیں اور جوڈیشل کمیشن بنے، مجھ پر اتنے کیسز بنا دیئے گئے کہ زندگی سے اکتاہٹ پیدا ہو چکی ہے۔میں نے تو 40 دن کا چلہ کاٹا ہے، پھر دو بار سسرال (جیل) بھی گیا۔ چند دنوں میں عالمی اور اخلاقی دباؤ حکومت پر بڑھنے والا ہے، پاؤں پڑی ، صدقے پر چلنے والی حکومت ہے، چاہتا ہوں مذاکرات کا نتیجہ نکلے، ایک شخص سے تعلق ہے وہی نبھانے کی کوشش کررہا ہوں،آئندہ دنوں میں اہم فیصلے کرنے ہوں گے ورنہ حکومت پر عالمی دباؤ بڑھے گا، اس حکومت کے ساتھ کسی کی سپورٹ نہیں ہے، پاکستان میں مذاکرات کو مذاق کی رات نہیں بنانا،کامیاب کرنا ہے، حکومتیں معافی دیتی ہیں،قیدیوں کو معافی ملنی چاہئےاسکی استدعا ہونی چاہئے، پی ٹی آئی کی کیا سوچ ہے، حکومت کہاں پھنسی ہوئی ہے سب کو پتہ ہونا چاہئے،ہماری معیشت مزید بیٹھی تو لوگوں میں تباہی و بربادی پھیلے گی، دعا ہے مذاکرات کامیاب ہوں اور جیلوں کے دروازے کھلیں،غریب لوگ جیلوں میں ہیں، میرے جیسا بندہ پیشیاں بھگت بھگت کر تھک گیا، اصل حکمرانوں سے درخواست ہے کہ سیاسی قیدی،غریبوں کو رہا کریں،اسٹاک ایکسچنیج کی بجائے کسی ریڑھی والے سے پوچھیں ،عوام نالاں ہے، عوام سے پوچھیں ،میں پی ٹی آئی میں نہیں، ایک بندے سے تعلق ہے وہی نبھانے کی کوشش کر رہا ہوں.

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

  • نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ ہماری جدوجہد آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے ہے، ہم آزاد عدلیہ چاہتے ہیں،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ کل مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، تین مطالبات سامنے رکھے،غیر قانونی کام بند کئے جائیں، جیلوں میں بند ورکر، عمران خان کو رہا کیا جائے، رہائی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم رعایت مانگ رہے ہیں، انہوں نے انتقاما کیس بنائے کوئی قانونی حیثیت نہیں،سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا، نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں،اتنے کیسز بنائے گئے ہیں کہ اہم مقدمات کی اہمیت ختم ہوگئی ہیں،پارلیمنٹرین پر دھشتگردی، قتل اور غداری کے مقدمات درج کیے گئے ہیں، سویلین کا ملٹری کورٹ میں فیصلے پر مایوسی ہوئی،پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، پاکستان تحریک انصاف کے کسی کارکن ایک گملہ تک نہیں توڑا، ہم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، قانون کی حکمرانی ہونی چاہئے، پارلیمنٹ کے پاس اختیارات ہونی چاہئے، ہم آزاد عدلیہ چاہتے ہیں،ہم نے اپنا مؤقف حکومت کے سامنے رکھا ہے، آگے بڑھنا ہے، ملک کی معاشی صورتحال، امن و امان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم ملک کو بحران سے نکالنا چاہتے ہیں،ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل پر ہمیں شدید تشویش ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی ہمیں شدید مایوسی ہے کہ اگر سپریم کورٹ ہی آئین کے خلاف چلی جائے تو پھر عام لوگ کہاں جائیں،

    قبل ازیں اسد قیصر کو پشاور ہائی کورٹ سے 30 جنوری تک راہداری ضمانت مل گئی ہے

    صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

    سری لنکا کے مرکزی بینک کا بھارتی بینک پر جرمانہ

  • صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

    صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

    لاہور ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سوشل ایکٹوسٹ صنم جاوید کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں انہوں نے اپنے نام کو پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) سے نکالنے کی استدعا کی۔ درخواست کی سماعت جسٹس فاروق حیدر نے کی۔

    عدالت نے رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو پہلے متعلقہ فورم پر رجوع کرنا چاہیے تھا۔ رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا تھا کہ درخواست گزار نے براہ راست ہائیکورٹ سے رجوع کیا، حالانکہ اس نوعیت کے معاملات میں متعلقہ فورم سے پہلے درخواست دائر کرنی چاہیے تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صنم جاوید کو پہلے متعلقہ فورم پر درخواست دائر کرنی ہوگی، اور اگر وہاں شنوائی نہیں ہوتی تو وہ پھر ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتی ہیں۔

    صنم جاوید کی درخواست میں وفاقی حکومت سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کو سیاسی بنیادوں پر مقدمات میں ملوث کیا گیا ہے اور صرف الزامات کی بنیاد پر کسی شخص کا نام پی سی ایل میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت نے بلا جواز صنم جاوید کا نام پی سی ایل میں شامل کر دیا ہے، جو ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کا نام پی سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا جائے تاکہ وہ بیرون ملک سفر کر سکیں اور اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار سکیں۔

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لئے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ پہلے متعلقہ فورم سے رجوع کریں اور اگر وہاں پر کوئی شنوائی نہیں ہوتی تو دوبارہ ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتی ہیں۔

    سری لنکا کے مرکزی بینک کا بھارتی بینک پر جرمانہ

    مرد استاد کو "حاملہ” ہونے پر سکول سے ملی چھٹی

  • گرفتاری کا خدشہ،خدیجہ شاہ کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

    گرفتاری کا خدشہ،خدیجہ شاہ کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

    اسلام آباد ہائیکورٹ: خدیجہ شاہ نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے حصول کیلئے درخواست دائر کر دی

    خدیجہ شاہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا کہ فریقین کو اسلام آباد میں درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے،9 مئی مقدمات میں شامل کیا گیا، ایک سال جیل میں رہی پھر ضمانت منظور ہوئی، مستند ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مجھے مزید خفیہ مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے، عدالت گرفتاری سے روک کر متعلقہ عدالتوں سے رجوع کرنے کی اجازت دے،فریقین کو درخواست گزار اور اُسکی فیملی کو ہراساں کرنے سے روکا جائے، درخواست میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی پولیس اور ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے

    عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    پشاور ہائیکورٹ،شبلی فراز،زرتاج گل،خدیجہ شاہ و دیگر کی ضمانت منظور

    جیل ریفارمز،چیف جسٹس نے آمنہ قادر،احدچیمہ،خدیجہ شاہ پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر

    اسلام آباد احتساب عدالت ،190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف محفوظ شدہ فیصلہ نہ سنایا جا سکا

    سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی ،وکیل خالد چوہدری نے کہا کہ ہم توقع کر رہے ہیں آج فیصلہ آئیگا،جج احتساب عدالت نے کہا کہ فیصلہ تو آج نہیں آئیگا،چھٹیاں آرہی ہیں اور ہائیکورٹ کا کورس بھی ہے،دس منٹ تک تاریخ معلوم کر لیجئے گا، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے دلائل سننے کے بعد 18 دسمبر کو سینٹرل جیل اڈیالہ میں فیصلہ محفوظ کیا تھاجو آج سنایا جانا تھا تاہم آج نہیں سنایا گیا

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کے فیصلے کا معاملہ ، 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر کر دیا ،کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے وکیل خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،نیب کے پراسیکیوٹر سہیل عارف عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے کچھ دیر بعد محفوظ فیصلے کی نئی تاریخ مقرر کر دی، احتساب عدالت 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر 6 جنوری کو اڈیالہ جیل میں فیصلہ سنائے گی،احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا