Baaghi TV

Tag: عدالت

  • عمران خان کی گرفتاری کے بعد مزید گرفتاریاں متوقع

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد انکی اہلیہ بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات ہیں، اسکے علاوہ تحریک انصاف کے کئی اور رہنما بھی گرفتار کئے جا سکتے ہیں

    عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا گیا، عمران خان کو نیب نے طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا بھی کردار ہے وہیں تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری کا بھی کردار ہے،

    القادر ٹرسٹ کیس ،نجی ہاؤسنگ سوسائٹی نے ایک ٹرسٹ کو 458 کنال زمین عطیہ کی ٹرسٹ عمران خان اور ان کی اہلیہ کے نام پر ہے، اس سارے معاملے کی تحقیقات کیلئے سب کمیٹی تشکیل دی گئی،عمران خان نے برطانیہ میں ریکور ہونے والے 50ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرانے کی بجائے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے ساتھ ایڈجسمنٹ کی،رقم کے بدلے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی نے اربوں روپے مالیت کی 458 کنال اراضی القادر ٹرسٹ کے نام پر منتقل کی گئی، بنی گالہ میں 240 کنال اراضی سابق خاتون اوّل کی دوست کے نام پر منتقل کی گئی، نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے ساتھ معاہدے پر بطور سابق وزیراعظم عمران خان اور خاتون اول کے دستخط موجود ہیں،

    قومی احتساب بیورو نے زلفی بخاری کو 9 جنوری کو راولپنڈی بیورو میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی زلفی بخاری کو اپنے ساتھ القادر یونیورسٹی پراجیکٹ ٹرسٹ کو زمین کی منتقلی کا ریکارڈ بھی لانے کی ہدایت کی گئی تھی،نیب راولپنڈی نے زلفی بخاری کو 29 نومبر اور 15 دسمبر 2022 کو القادر یونیورسٹی پراجیکٹ انکوائری میں پیش ہونے کے نوٹس بھجوائے تھے، تاہم وہ پیش نہ ہوئے، نیب راولپنڈی میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کو 458 کنال زمین منتقلی کی انکوائری جاری ہے،

    بشریٰ بی بی کا نام توشہ خانہ سیکنڈل میں بھی آیا تھا اور قادر ٹرسٹ کیس میں بھی بشریٰ بی بی کا نام چل رہا ہے،بشریٰ بی بی نے اس کیس میں بھی مال بنایا ،دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ عمران خان، بشریٰ بی بی، بخاری نے القادر یونیورسٹی پروجیکٹ ٹرسٹ بنایا تھا۔ اس کا مقصد تحصیل سوہاوہ ضلع جہلم، پنجاب میں ‘معیاری تعلیم’ فراہم کرنے کے لیے ‘القادر یونیورسٹی’ قائم کرنا تھا۔ ٹرسٹ کے دفتر کا پتہ "بنی گالہ ہاؤس، اسلام آباد” بتایا گیا ہے۔ بعد میں، ٹرسٹیز نے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک ایک نجی کمپنی، بحریہ ٹاؤن کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تاکہ مؤخر الذکر سے عطیات وصول کیے جائیں۔ تجویز کے لیے بحریہ ٹاؤن نے ٹرسٹ کو 458 کنال، 4 مرلہ، 58 مربع فٹ زمین الاٹ کی۔کاغذی رسمی کارروائیوں کو پورا کرتے ہوئے، بشریٰ بی بی نے مارچ 2019 سے بحریہ ٹاؤن کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کیے۔

    القادر یونیورسٹی کے بارے میں ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف بھی قومی اسمبلی میں فلور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ القادر یونیورسٹی کے ٹرسٹی عمران خان اور ان کے اہلخانہ تھے،50 کروڑ کی ڈونیشن دی یونیورسٹی میں 32 طلبہ پڑھتے ہیں،سوہاوہ کے قریب یونیورسٹی کیلئے 450 کنال اراضی عطا کی گئی،بحریہ ٹاون گروپ نے 200 کنال زمین فرح شہزادی کو دی،ان تمام ٹرانزیکشن کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، یہ ایک فراڈ تھا جو پلاٹ کیا گیا،یہ دال میں کالا نہیں پوری دال ہی کالی ہے،القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں ہے،

    ضلع جہلم میں سوہاوہ کے مقام پر القادر یونیورسٹی برائے صوفی ازم کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال نے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا خواب دیکھا تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ القادر یونیورسٹی نوجوانوں کو جدید تعلیم نظریہ پاکستان کی بنیاد پر پیش کرے گی

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر سے تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں کی گرفتاری بھی عمل لائے جائے گی تمام لسٹیں تیار فواد چوہدری شاہ محمود فرخ حبیب و دیگر کی گرفتاریاں متوقع ہیں، کے پی کے پرویز خٹک، اسد قیصر جبکہ
    سندھ سے حلیم عادل شیخ عمران اسماعیل علی زیدی و دیگر کی گرفتاریاں متوقع ہیں

  • خاتون کی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز شئیرکرنیوالا گرفتار

    خاتون کی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز شئیرکرنیوالا گرفتار

    ایف آئی اے سائبرکرائم سرکل ایبٹ آباد کی کارروائی ،جنسی ہراسگی میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا

    ملزم محمد اظہر خان کوحویلیاں سے گرفتار کیا۔ ملزم واٹس ایپ کے ذریعے خاتون کو ہراساں کرنے میں ملوث تھا۔ ملزم نے متاثرہ خاتون کی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز شئیر کیں۔ملزم قابل اعتراض مواد کی آڑ میں متاثرہ کو بلیک میل کر رہا تھا۔ملزم نے متاثرہ کے گھر والوں کو بھی تصاویر اور ویڈیوز بھیجنے کے لئے دھمکیاں دیں۔ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم کے موبائل سے قابل اعتراض مواد اور واٹس ایپ اکاونٹ برآمد کر لیا گیا۔ ملزم کے قبضے سے استعمال ہونے والی سم بھی برآمد کر لی گئی۔ ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج تھامقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

    دوسری جانب بیوہ خاتون کی بیٹیاں،داماد نافرمان نکل آئے،قیمتی رہائشی مکان،دوکان پر قبضہ خاطر بیٹیوں نے اپنے خاوندوں کے ساتھ ملکر بیوہ ماں کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ بیوہ خاتون نے سی پی او راولپنڈی،ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی سے نوٹس لے کر نافرمان اولاد سے تحفظ سمیت انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا۔کلرسیداں کی رہائشی بیوہ خاتون مسماۃ نسیم اختر کے خاوند مسکین حسین کی ستمبر 2022 میں وفات بعد فیصل آباد سے تعلق رکھنے والا داماد ساجد حسین معہ فیملی اپنی ساس کے گھر مقیم ہوگیا۔بیوہ خاتون نے کلرسیداں پولیس کو دی گئی تحریری درخواست میں الزام عائد کیا کہ داماد ساجد محمود، طاہر محمود نے میری بیٹیوں کے ہمراہ ملکر دوکان اور مکان پر قبضہ کرلیا۔بیوہ خاتون کے مطابق جب دوکان چھوڑنے کا کہا تو بیٹیوں نے اپنے شوہروں ساجد محمود، طاہر محمود کے ساتھ ملکر مجھے مار پیٹ کی۔بیوہ خاتون نے سی پی او راولپنڈی پولیس سے معاملے پر نوٹس لے کر تحفظ والدین آرڈیننس تحت نافرمان بیٹیوں، دامادوں خلاف کاروائی سمیت قیمتی رہائشی مکان، دوکان سے قبضہ چھڑانے کی اپیل کی۔بیوہ خاتون کے مطابق میرے بچے باپ کی وراثت کے قانونی حقدار ہیں۔ وہ مار کٹائی کرکے مجھے تشدد نشانہ بنانے اور قبضہ کرنے کی بجائے قانونی راستہ اختیار کریں۔

    لڑکی بن کر لڑکوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنیوالا ملزم گرفتار

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کیس، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    چائلڈ پورنوگرافی میں‌ ملوث ملزم گرفتار،کتنی اخلاق باختہ ویڈیوز شیطان صفت کے پاس برآمد ہوئیں

    لڑکی کو نازیبا ،فحش تصاویر بھیجنے والا ملزم گرفتار

  • ارشد شریف قتل کیس میں اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد

    سپریم کورٹ میں صحافی ارشد شریف کے قتل پر ازخودنوٹس کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایم ایل اے کا جواب تاحال نہیں آیا، جے آئی ٹی دوبارہ یو اے ای جانے کی تیاری کررہی ہے ،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ جے آئی ٹی کا مقصد بتا دیں ابھی تک کوئی میٹریل نہیں دیا گیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ارشد شریف قتل کیس تحقیقات میں پیشرفت ہوئی ہیں،متحدہ عرب امارات کا 11 اپریل کو ایم ایل اے آیا،یو اے ای کو27 اپریل کو ایم ایل اے سوالات کا جواب دیدیا،کینین حکومت نے بھی تحقیقات کے سلسلے میں ابتک انکار نہیں کیا ،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دسمبر2022 میں معاملے پر ازخودنوٹس لیا تھا،جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی نے قتل سے متعلق ابتک کیا مواد اکٹھا کیا؟جے آئی ٹی ٹیم دبئی سے آ رہی ہے کینیا جارہی ہے،اس کے علاوہ ابتک کی کیا پراگرس ہے؟ پراگرس رپورٹ میں خرم، وقار کو ملزم لکھا گیا۔

    سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل کیس کی سماعت 13جون تک ملتوی کر دی گئی،سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کیس میں اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کر دی ، چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسی رپورٹس نہیں چاہیے جن میں کچھ پیش رفت ہے ہی نہیں،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • عمران خان کی گرفتاری،عدالت نے نوٹس لے لیا

    عمران خان کی گرفتاری،عدالت نے نوٹس لے لیا

    عمران خان کی احاطہ عدالت سے گرفتاری کا معاملہ ،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    عدالت نے آئی جی اسلام آباد، سیکرٹری داخلہ کو پندرہ منٹ میں طلب کرلیا ، عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی پندرہ منٹ میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کارروائی کرنا پڑی تو وزیراعظم اور وزرا کے خلاف بھی کریں گے، ہدایات لے کر فورا بتائیں کہ یہ کام کس نے کیا ہے؟
    یہ بھی بتائیں کہ کس کیس میں گرفتاری عمل میں لائی گئی،

    ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کی جانب سے پندرہ منٹ کا وقت آدھے گھنٹے تک بڑھانے کی استدعا کی دی گئی ،عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے پندرہ منٹ میں ہی پیش ہونے کا حکم دے دیا

    کیس کی سماعت دوبارہ وقفے کے بعد شروع ہوئی،تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے ساتھ مذاق بند کیا جائے، ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آج جو کچھ ہوا وکالت ختم ہو گئی ہے ، عدالت نے استفسار کیا کہ سیکڑی داخلہ کہاں ہیں اٹارنی جنرل کہاں ہیں؟ آئی جی اسلام آباد روسٹرم پر آجائے، ،آئی جی اسلام آباد روسٹرم پر آئے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹْ عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وجہ بتائیں عمران خان کو کیوں گرفتار کیا، آئی جی پولیس نے کہاکہ ہمارے پاس وارنٹ گرفتاری موجود تھے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیب نے گرفتار نہیں کیا، آئی جی اسلام آباد پولیس نے کہا کہ نیب نے سیکورٹی فورسز سے مدد لی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی صاحب سب کچھ قانون کے مطابق ہونا چاہئے، اگر کچھ بھی خلاف قانون ہوا تو میں سب کے خلاف ایکشن لوں گا،

    ڈی نیب راولپنڈی اور پراسیکیوٹر جنرل نیب اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے ،نیب حکام نے عدالت میں کہا ہے کہ میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا جو عمران خان کا چیک کرے گا عدالت کو وقت ختم ہو چکا ہے، اس لئے کل پیش کیا جائے گا، کل عدالت میں میڈیکل رپورٹ بھی پیش کی جائے گی ،عمران خان کو جسمانی ریمانڈ کے لئے کل عدالت میں پیش کیا جائے گا،

    فواد چوہدری روسٹرم پر آ گئے، اور کہا کہ خبریں آ رہی مجھے بھی گرفتار کیا جا رہا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پہلے یہ کیس سن لوں بعد میں آپکے معاملے کو بھی دیکھتے ہیں ، خواجہ حارث نے کاہ کہ 30 اپریل کو خبر چھپی جس پر نیب کو انکوائری سے انویسٹگیشن میں تبدیلی کا لیٹر مانگا ، اسلام‌ آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کا وارنٹ یکم مئی کو جاری ہوا اور نوٹس 2 مئی کو گیا ، خواجہ حارث نے کہا کہ ہم توشہ خانہ کے ساتھ بائیو میٹرک اس کیس میں بھی کروانے جا رہے تھے ،ہم نے آج القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست آج دینا تھی ،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم عدالت انصاف کیلئے آتے ، مار کھانے نہیں آتے ،آج ہمیں اور ہمارے عملے کو مار پڑی ہے ،
    انہوں نے گرفتار کرنا ہوتا بھیرہ میں کر لیتے، موٹروے پر کر لیتے ، ہم اپنی درخواستوں پر بائیو میٹرک کیلئے جارہے تھے ، یہ تاک لگائے بیٹھے تھے ،آج ججز یعنی آپ کا گیٹ کیسے کھول لیا گیا ، آج یہ عدالت کے وقار کا معاملہ ہے،یہ ڈائری برانچ کے کمرے کا دروازہ کھول کر کھڑکیاں توڑ کر داخل ہوئے ،ہماری ڈیمانڈ ہے یہ جیسے ہائیکورٹ سے لیکر گئے ویسے ہی یہاں واپس لیکر آئیں ،

    ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے عدالت میں کہا کہ اس کیس میں عمر ندیم تفتیشی ہیں اورڈی جی نیب راولپنڈی سپر ویژن کر رہے،ہم نے وارنٹ کی تعمیل کیلئے سیکرٹری داخلہ کو خط لکھا،ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے اسلام آبادہائیکورٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وارنٹ گرفتاری سے متعلق ہمیں مکمل آگاہی تھی،

    عمران خان کی گرفتاری قانونی ہے یا غیر قانونی،؟ فیصلہ محفوظ کر لیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کاہ کہ کیس کے متعلق فیصلہ ابھی جاری کروں گا،

    واضح رہے کہ عمران خان، اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے لئے گئے تھے، وہاں سے عمران خان کو گرفتار کیا گیا ہے،عمران خان کی عدالت میں پیشی تھی،عمران خان کے اوپر متعدد مقدمے درج ہیں، عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کے لئے ہمیشہ کارکنان کو ڈھال بنایا تا ہم آج عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

  • بریکنگ، عمران خان گرفتار

    بریکنگ، عمران خان گرفتار

    عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا

    عمران خان کے اسلام آباد ہائیکورٹ داخل ہوتے ہی باہر بکتر بند گاڑی بلائی گئی تھی، رینجرز کی نفری ہائیکورٹ میں داخل، عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا، تحریک انصاف کے رہنما سیف اللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کو رینجر نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے،عمران خان کو میلوڈی میں نیب راولپنڈی بیورو پہنچا دیا گیا

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کی وجوہات جاری کردیں گئیں ،نیب کی جانب سے جاری اعلامئے کے مطابق عمران خان کو لاقادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا گیا یہ مقدمہ القادر یونیورسٹی کے لئے زمین کے غیر قانونی حصول کے لئے ہے ،نیشنل کرائم ایجنسی یوکے کے ذریعے 190 ملین پاؤنڈ کی غیر قانونی وصولی کا فائدہ اٹھایا گیا ،نیب نے قانونی طریقہ کار کو پورا کرنے کے بعد گرفتاری عمل میں لائی گئی ،عمران خان کو جسمانی ریمانڈ کے لئے کل عدالت میں پیش کیا جائے گا،

    عمران خان کے طبی معائنے کا معاملہ ،نیب نے عمران خان کے چیک اپ کے لئے پمز کو بھی ہائی الرٹ کر دیا، عمران خان کے طبی معائنے کےلئے میڈیکل بورڈ قائم کر دیا گیا،نیب راولپنڈی روسٹر پر عمران خان کی حاضری لگا دی گئی،عمران خان کو گرفتاری کے بعد میڈیکل چیک اپ کے لئے ہسپتال لے جایا جائے گامیڈیکل کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر انہیں عدالت پیش کیا جائے گا،ڈاکٹر فرید اللہ شاہ میڈیکل بورڈ کے چیئرمین ہوں گے، جبکہ میڈیکل بورڈ میں سات رکنی ڈاکٹروں کی ٹیم شامل ہے سات رکنی ٹیم میں شعبہ امراض دل، آرتھو میڈیکل ، میڈیسن اور پتھالوجسٹ شامل ہیں ،میڈیکل بورڈ میں جنرل سرجری ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر تصور مرزہ ڈاکٹر خدیجہ افتخار پیتھالاجسٹ شامل ہیں، میڈیکل بورڈ میں ڈاکٹر امتیاز ڈاکٹر صائمہ شاھ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر معمون قادر بھی شامل ہیں،

    نیب نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری یکم مئی کو جاری کیے تھے .عمران خان کو نیب کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا گیا، عمران خان کے جاری وارنٹ سامنے آئے ہیں عمران خان کیخلاف کے وارنٹ چیئرمین نیب کے دستخط سے جاری ہوئے نیب نے عمران خان کونیشنل آکاونٹیبیلٹی آرڈیننس 1999 کے سکیشن 9 اے کے تحت گرفتار کیا عمران خان کو نیب نے 34 اے ، 18 ای ، 24 اے کے تحت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے گرفتار کیا

    عمران خان، اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے لئے گئے تھے، وہاں سے عمران خان کو گرفتار کیا گیا ہے،عمران خان کی عدالت میں پیشی تھی،عمران خان کے اوپر متعدد مقدمے درج ہیں، عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کے لئے ہمیشہ کارکنان کو ڈھال بنایا تا ہم آج عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے

    عمران خان بائیومیٹرک کروانے کیلئے وہیل چیئر پر کمرے میں گئے تو پیچھے سے رینجرز نے کارروائی کرتے ہوئے عمران خان کو گرفتار کیا اور اپنے ساتھ لے گئے ،نجی ٹی وی کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کو نیب میں جاری القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا گیا ۔عمران خان پر الزام ہے کہ بیرون ملک سے ایک خطیر رقم پاکستان آئی لیکن اس کا کچھ پتا نہیں چلا ،عمران خان اور ان کی اہلیہ کو نیب میں پیش ہونے کیلئے متعدد بار نوٹسز جاری کیئے گئے لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے ،آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے حالات معمول کے مطابق ہیں اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی ہوگی

    عمران خان کے وکلا، گارڈز کے درمیان ہاتھا پائی، ایک شخص زخمی ہوا، ، اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے۔ کسی بھی فرد فرد پر کسی بھی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا۔ عمران خان کی گاڑی کے گرد پولیس کا حفاظتی حصار ہے

    ڈائری برانچ میں موجود وکیل بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا ہے کہ رینجرز اہلکاروں نے عمران خان پر تشدد کیا ، عمران خان کو گرفتار کرنے والے سب رینجرز اہلکار تھے ،عمران خان کے سر اور ٹانگ پر مارا گیا،عمران خان کی وہیل چیئر وہیں پر پھینک دی گئی ،

    عمران خان کے گاڑی سے اترنے ،وہیل چیئر پر بیٹھنے اور ہیلمٹ پہننے کے دوران ڈرون کیمرہ عکس بندی کرتا رہا ،علی نواز اعوان اور قاسم سوری نے نے ڈرون کیمرے کی عکس بندی پر اعتراض اٹھایا ، اور پولیس افسران سے کہا کہ ڈرون کیمرہ یہاں کیا کررہا ہے

    مسرت جمشید کا کہنا ہے کہ عمران خان کو گرفتار کرُلیا گیا ،عمران خان پر تشدد کیا جا رہا ہے ،پتہ نہیں یہ لوگ عمران خان کے ساتھ کیا کریں گے،

    عمران خان کی گرفتاری پر ان کے بھانجے حسان نیازی نے ویڈیو بیان جاری کیا ہے، اور کہا ہے کہ اسلام آباد سے چیئرمین عمران خان کو گرفتار کرلیا گیا ہے ،سارے پاکستانی تیار ہو جائیں اپنی اپنی کونسل میں نکلنا ہے اور بھرپور احتجاج ہو گا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست پر سماعت تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ کو یقین دہانی کرنی چاہئے تھی کہ کورٹ کے تقدس کو پامال نہیں کیا جانا چاہئے تھا،چیف جسٹس ہائیکورٹ کو اس پر فوری نوٹس لینا چاہئے تھا ایک شخص ضمانت کیلئے ہائیکورٹ آیا ہوا ہے آپ نے اسے کیسے گرفتار کیا ،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    دوسری جانب عمران خان کی سات مقدمات میں پچاس پچاس ہزار روپے مچلکوں پر عبوری ضمانت منظور کر لی گئی، عدالت نے آئندہ سماعت پر پولیس سے ریکارڈ طلب کر لیا، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ تھوڑا بیک گراؤنڈ بتانا چاہوں گا،پہلے جب ہم آئے تو 5 درخواستیں لے کر آئے تھے ،دروازے بند تھے 40 منٹ تک شدید شیلنگ کی گئی،ہم لاہور ہائیکورٹ میں گئے اور حفاظتی ضمانت حاصل کیے،جج راجہ جواد عباس حسن نے کہا کہ سلمان صاحب ہم آپ کی تفصیل بعد میں سنیں گے ،آپ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرتے ہیں ،عدالت نے ہدایت کی کہ عمران خان کی تمام 7 درخواستوں پر دستخط اور انگھوٹھے لگوا لیں،عدالت نے عمران خان کی 7 مقدمات میں 50,50 ہزار کے مچلکوں پر ضمانت منظور کر لی

    واضح رہے کہ اسلام آباد روانگی سے قبل عمران خان نے ویڈیوپیغام میں کہا تھا کہ مجھے ایک ناجائز کیس میں بند کیا جا سکتا ہے، اس سے آپ سب کو ایک چیز واضح ہو جانی چاہیے، آئین ہمیں بنیادی حقوق دیتا ہے،جمہوریت دفن ہو چکیہوسکتا ہے مجھے اس کے بعد آپ کو مخاطب کرنے کا موقع نہ ملے،پاکستانی قوم مجھے 50 سال سے جانتی ہے، میں پچھلے 50 سال سے میں اپنی عوام میں ہوں، میں کبھی پاکستان کےآئین کے خلاف گیا، نہ کبھی قانون توڑا، جب سے سیاست میں آیا میں نے پرامن رہ کر جدوجہد کی، آئین نے جو حق دیا ہمیشہ اس کے مطابق احتجاج کیا، آج جو کیا جا رہاہے وہ اس لیےنہیں کیا جارہاہ ےمیں نےکوئی قانون توڑا، یہ اس لیے کیا جارہا ہے کہ یہ چاہتے یں کہ میں حقیقی آزادی کی تحریک سے پیچھے ہٹوں، امپورٹڈ حکومت، چوروں کا ٹولہ چاہتا ہےکہ میں انہیں قبول کرلوں، سب کو اپنےحقوق اورحقیقی آزادی کےلیے سب کو باہر نکلنا ہوگا، کسی قوم کوپلیٹ میں رکھ کرآزادی نہیں ملتی، جدوجہد کرنا پڑتی ہے، آزادی کے لیے جہاد کرنا پڑتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس قوم کوآزادی کا تحفہ دیتا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ آپ سب لوگ اپنے حقوق کے لیے نکلیں،

  • عمران خان کے خلاف آئین شکنی و سنگین غداری کیس، نوٹس جاری

    عمران خان کے خلاف آئین شکنی و سنگین غداری کیس، نوٹس جاری

    بلوچستان ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف آئین شکنی و سنگین غداری کے کیس میں کارروائی شروع کرنے کی استدعا پرفریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ،

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف آئین شکنی و سنگین غداری کے کیس میں ہائی کورٹ میں آئینی درخواست کی ابتدائی سماعت چیف جسٹس ہائی کورٹ نعیم اخترافغان کی سربراہی میں2 رکنی بینچ نےکی ،عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے دائرکردہ درخواست پر آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی شروع کرنے کی استدعا پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 29 مئی کو جواب طلب کرلیا ،سپریم کورٹ کے وکیل عبدالرزاق شر نے آئین شکنی وسنگین غداری کیس کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، درخواست میں 3 اپریل کو سابق وزیراعظم کی طرف سے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا ،

    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

    درخواست گزار کی پیروی میں سابق صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی عدالت میں پیش ہوئے ،درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ کے ماضی میں سنگین غداری سے متعلق و حالیہ فیصلوں کی روشنی میں حکومت کو ہدایات جاری کرنے کی استدعا کی گئی ،درخواست میں حکومت پاکستان کو سیکرٹری قومی اسمبلی و سیکرٹری قانون و انصاف کے ذریعے فریق بنایا گیا ہے امان اللہ کنرانی کے مطابق عدالت نے فریقین کے علاوہ اٹارنی جنرل کو بھی کیس میں معاونت کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے۔

  • عمران خان کی تقاریر پر پابندی، پیمرا کو جواب جمع کروانے کی مہلت

    عمران خان کی تقاریر پر پابندی، پیمرا کو جواب جمع کروانے کی مہلت

    لاہور ہائیکورٹ میں عدالتی حکم کے باوجود چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی تقاریر پر پابندی کا معاملہ،عدالت نے چیئرمین پیمرا کو جواب جمع کرانے کےلئے مہلت دے دی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے سماعت کی، وکیل عمران خان نے عدالت میں کہا کہ قانونی طور پر سیاسی جماعتوں کو برابری کے اصول پر ائیر ٹائم ملنا قانونی تقاضا ہے۔لاہور ہاٸی کورٹ نے عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کا نوٹیفیکشن معطل کر دیا تھا ،عدالت نے پیمرا کو ہدایت کی کہ عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پر کوئی پابندی نہ لگائی جائے عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان کی تقاریر نشر کیے جانے سے روکا جا رہا ہے۔عدالتی حکم کی خلاف ورزی توہین عدالت ہے ، عدالت زمہ دار افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے ،

    واضح رہے کہ عمران خان کے اداروں کیخلاف بیانات کی وجہ سے پیمرا نے عمران خان کی تقریر نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی ۔ عمران خان نے پابندی کے اس اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

  • فرخ حبیب کا نام ای سی ایل میں ڈالنے پر جواب طلب

    فرخ حبیب کا نام ای سی ایل میں ڈالنے پر جواب طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    جسٹس انوارالحق پنوں نے فرخ حبیب کی درخواست پر سماعت کی ، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت نے سیاسی بنیادوں پر نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال رکھا ہے کاروبار کے سلسلے میں دبئی جانا تھا ایف آئی اے نے ایئرپورٹ پر روک لیا

    ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے فرخ حبیب کی درخواست پر وفاقی حکومت سمیت دیگر کو نوٹس جاری کر تے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا۔

    واضح رہے کہ فرح حبیب چند روز قبل دبئی جا ریے تھے کہ انہیں لاہور ایئرپورٹ پر روک لیا گیا اور انہیں جانے کی اجازت نہیں ملی جس پر فرح حبیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تھا

    تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب پر مقدمہ بھی درج ہے اور وہ ضمانت پر ہیں دو روز قبل انسداد دہشتگردی کی لاہور کی عدالت نے فرح حبیب سمیت تحریک انصاف کے دیگر رہنماوں کی ضمانت کی درخواست میں توسیع کی تھی اور انہیں شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

  • عدالت پیشی، عمران خان اسلام آباد روانہ

    عدالت پیشی، عمران خان اسلام آباد روانہ

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی دو مقدمات میں ضمانت کی درخواست پر سماعت آج ہوگی، عمران خان پیشی کیلئے اسلام آباد روانہ ہو گئے ہیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق دوپہر اڑھائی بجے سماعت کریں گے، عمران خان کیخلاف ایک مقدمہ بغاوت اور دوسرا اقدام قتل کی دفعات کے تحت درج ہے۔عمران خان اپنی لیگل ٹیم کے ہمراہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے، سابق وزیراعظم کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر تعینات کی گئی ہے عمران خان کے ساتھ کارکنان بھی موجود ہوتے ہیں تصادم، ہنگامہ آرائی سے بچنے کے لئے اسلام آباد پولیس کے اہلکار عدالت کے باہر تعینات ہوتے ہین

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل،وفاقی حکومت کا سپریم کورٹ میں جواب جمع

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل،وفاقی حکومت کا سپریم کورٹ میں جواب جمع

    وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل قانون کیخلاف درخواستیں مسترد کرنے کی استدعا کردی

    وفاق نے درخواستیں کیخلاف آٹھ صفحات کا جواب سریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قانون کیخلاف درخواستیں انصاف کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے،درخواست گزاروں کی قانون کو چیلنج کرنے کی نیت صاف نہیں، پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار پر کوئی قدغن نہیں،ماسٹر آف روسٹر کے تصور کو قانونی تحفظ حاصل نہیں،قانون سے چیف جسٹس کا آئین کے آرٹیکل 184/3 کا اختیار ریگولیٹ ہوگا، قانون سے عدلیہ کے اختیارات میں کمی نہیں ہوگی،قانون میں آرٹیکل 184/3 کے اختیار میں اپیل کا حق دیا گیا ہے، آئین کا آرٹیکل10A فئیر ٹرائل کا حق دیتا ہے، آرٹیکل 184/3میں نظر ثانی کا اختیار بڑا محدود ہے،فئیر ٹرائل کیلئے اپیل کا حق ضروری ہے،

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے سے متعلق درخواست دائر کر دی گئی ،سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے آرٹیکل 3/183 اختیارات کے ریگولیٹ کا قانون کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ،دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور عوام کے بنیادی حقوق کو سنگین خطرہ ہے، سیاسی لیڈر شپ کے اسمبلی کے اندر، باہر بیانات 3 رکنی بینچ کیلئے دھمکیوں کے مترادف ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے، پارلیمنٹ کے قانون کو غیر آئینی قرار دیکر کالعدم کر دیا جائے۔

    واضح رہے کہ حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج