Baaghi TV

Tag: عدالت

  • جلاؤ گھیراؤ کیس، مراد سعید شامل تفتیش نہیں ہوئے، تفتیشی افسر

    جلاؤ گھیراؤ کیس، مراد سعید شامل تفتیش نہیں ہوئے، تفتیشی افسر

    انسداددہشت گردی عدالت لاہور ،جلاؤ گھیراؤ اور پولیس تشدد کا مقدمہ ،پی ٹی آئی رہنما اسد عمر،ڈاکٹر یاسمین راشد ،میاں اسلم اقبال ،زبیر نیازی ،حسان نیازی سمیت چھ ملزمان کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    انشداد دہشت گردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل کیس نے سماعت کی،اسد عمر،فرخ حبیب،یاسمین راشد،میاں اسلم اقبال،حسان نیازی،زبیر نیازی اور دیگر عدالت میں موجود تھے ،پی ٹی آئی رہنماوں کی حاضری مکمل کی گئی ،جے آئی ٹی سربراہ عمران کشور کمرہ عدالت میں موجود تھے، تفتیشی افسر نے کہا کہ 8 لوگوں نے تفشیش جوائن کر لی مراد سعید رہ گئے ہیں ، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ انجارچ سیکٹرنے یہ ایف آئی ار درج کروائی 7ATA کے تحت، ٹریفک آفیسر نے سب کو انفارم کیا 36 کھنٹوں تک ایف آئی درج نہیں ،اس ایف آئی ار میں 72 لوگ پکڑ لئے ، 72 کارکنان ڈسچارچ ہوگئے ،موقع پر کوئی بندہ موجود نہیں خود انکی تفشیش کہ رہی ہے سیاسی بنیادوں پر مقدمہ درج کیا گیا ہے،ایف آئی آر مفروضوں پر درج کی گئی ہے،ہم سیاسی پارٹی کے کارکن اور لیڈر ہیں،ایف آئی آر بالکل خاموش ہے کہ جرم کہاں،کس نے کب کیا سیاسی احتجاج کا سب کو حق ہے مگر ان کے خلاف انسداد دہشتگردی کی دفعات نہیں لگ سکتی،شفاف تحقیقات سب کا بنیادی حق ہے،آپ کے سامنے سابق وفاقی وزراء ممبر اسمبلی اور معزز شہریوں کی ضمانت کی درخواست زیر سماعت ہے،ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹھوس شواہد کا ہونا ضروری ہے،شہریوں کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے

    سلمان صفدر وکیل اسد عمر نے عدالت میں کہا کہ اسد عمر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل ہیں،تمام مقدمات میں پولیس ہی مدعی اور تفتیشی ہے،ابھی کیس کوئی بنا ہی نہیں جس کا جواب دیں،جو مقدمات بنائے ان کی زندگی چار پانچ روز سے زیادہ کی نہیں ہے،پولیس بھی مجبور ہے،تمام دفعات حکومت نے آزما لیے مگر کام نہیں بن رہا،ایس ایس پی عمران کشور سربراہ جوائنٹ انوسٹی گیشن کمیٹی نے عدالت میں کہا کہ اسد عمر نے تحقیقات میں شامل ہو گئے ہیں،پیمرا کو ویڈیوز کے لیے درخواست کی ہے،سی ٹی ڈی سے سوشل میڈیا کی تفصیلات اکھٹی کر رہے ہیں، وکیل ملزمان نے کہا کہ ہائیکورٹ میں بتایا گیا کہ درج دس مقدمات میں انسداد دہشتگردی دفعات نہیں بنتی،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے یہ بیان ہائیکورٹ میں دیا،

    عدالت پیشی کے موقع پر اسد عمر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک اور دہشت گردی کے مقدمہ کے سلسلہ میں آئے ہوئے ہیں، نہ کوئی دیکھنے والا ہے، کوئی وٹنس نہیں یہ سارا جو دباو پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ جو ہمارا آئینی مطالبہ ہے الیکشن کا اس سے پیچھے ہٹانے کی کوشش ہے،جو لوگ کہتے تھے کہ اگر ایک دن الیکشن نہ ہوا تو پتہ نہیں کیا ہو جائے گا، انکے سامنے یہ چیز رکھی گئی کہ الیکشن اگلے مالی سال میں ہو گا اور ایک ہی دن ہو گا یہ وہ بھی ماننے کو تیار نہیں، اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ عوام کا سامنا نہیں کر سکتے،یہ قانون کیا آئین توڑنے کوبھی تیار ہیں، دیکھتے ہیں سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا آتا ہے، عجیب سیاسی اور جمہوری لیڈر ہیں جو اپنی قوم سے ڈرتے ہیں، کل اسلام آباد ہائیکورٹ نے واضح ہدایت دیں کہ ہمارا آئینی حق ہے ہمیں ریلی کی اجازت دی جائے آج صبح ڈی سی نے اجازت معطل کر دی،طاقت کا زور ہے،یہ خود بھی ڈوبیں گے ساتھ ملک کو بھی لے کر ڈوب رہے ہیں،اب انکے اپنے اندر بھی دراڑیں پیدا ہو گئی ہیں،آج عمران خان کی کال پر پورے پاکستان میں بشمول لاہور کے لوگ نکلیں گے، اسد عمر ،ایک پرامن طریقے سے اپنا پیغام پہنچائیں گے،پاکستان کے عوام اپنے آئین کے ساتھ کھڑے ہیں عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں،عمران خان زمان پارک سے خود ریلی لیڈ کریں گے، بلاول انڈیا سے سوائے ذلت کمانے کے اور کیا لے کر آیا ہے،بغیر بھارت کے کوئی ہاتھ بڑھائے یہ وہاں پہنچ گئے، وہاں پہنچ کر بھی بھارت نے ہاتھ نہیں بڑھایا یہ نمستے کر کے آ گئے،یہ صرف بیرونی آقاؤں کو خوش کرنا چاہ رہے ہیں کہ دیکھیں ہم کتنے تابعدار ہیں،سپریم کورٹ نے اب تک جتنے فیصلے دیئے سب آئینی دیئے،ہم نے پہلے بھی کسی جج پر ذاتی حملہ نہیں کیا،یہ جو بائیس کروڑ سے زیادہ عوام کا ملک ہے یہ آئین کے بغیر نہیں چلے گا،پاکستان جیسے ملک میں جب آئین نہ ہو تو وہی ہو گا جو ابھی ہو رہا ہے،

    تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں سلطنت جاتی امرا کا آئین نافذ کر دیا جائے، جہاں جسٹس تارڑ مرحوم جیسے جج ہوں اور یہ اپنی مرضی کے فیصلے لے سکیں،شہباز شریف کی حالت یہ ہے کہ یہ ایسی شہباز سپیڈ ہے کہ عمران خان کے دور میں مہنگائی بارہ فیصد تھی آج ساڑھے اڑتالیس فیصد پہنچ گئی ہے، بلاول بھٹو وزیر خارجہ ہیں یا وزیر سیر و تفریح ہیں،یہ اپنی کیٹ واک کے لیے بھارت گئے،یہ ساری ذمہ داری پی ڈی ایم کی حکومت کی ہے،پاکستان کی عوام کو فیصلہ کرنے دیں، کیا بند کمروں میں چند لوگ فیصلہ کریں گے،آپ نے ایف آئی آرز کاٹ لیں قتل کی دفعات لگا دیں صحافیوں کو زندانوں میں ڈال دیا، ان سب چیزوں کے باوجود قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے،

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

  • 30 سوالات کا جواب مانگا عثمان بزدار نے چار سوالات کا جواب دیا،تفتیشی افسر

    30 سوالات کا جواب مانگا عثمان بزدار نے چار سوالات کا جواب دیا،تفتیشی افسر

    احتساب عدالت لاہور،آمدن سے زائد اثاثہ جات انکوائری کا معاملہ ،سابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی عبوری ضمانت پر سماعت ہوئی،

    عدالت نے عثمان بزادر کو 10 مئی کو نیب آفس پیش ہونے کی ہدایت کردی ،عدالت نے عثمان بزادر کی عبوری ضمانت میں 13 مئی تک توسیع کردی ، عدالت نے حکم دیا کہ عثمان بزدار اور نیب دونوں فریق قانون کی پاسداری کرے،وکیل عثمان بزدار نے کہا کہ عثمان بزدار نے سوالات کے جوابات جمع کروا دیے ہیں ، تفتیشی افسر نے کہا کہ انہوں نے مکمل سوالات کے جوابات نہیں دیے، جج نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ مخالفت ہی کرنی ہے یا انصاف کی بات بھی کرنی ہے ،

    تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ہم نے قانون اور ریکارڈ کے مطابق کام کرنا ہے ہم نے 30 سوالات کا جواب مانگا عثمان بزدار نے چار سوالات کا جواب دیا،عثمان بزدار کو دوبارہ نو مئی کو سمن کیا ہے باقی سوالات کے جوابات دیں ،وکیل عثمان بزدار نے کہا کہ نو مئی کو عثمان بزدار نے لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ میں پیش ہونا ہے ،عدالت نے آئندہ عثمان بزدار کی مکمل تفتیشی رپورٹ نیب لاہور سے طلب کرلی ،جج نیب عدالت شیخ سجاد احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس درخواست کا جلد فیصلہ کرنا ہے

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    عثمان بزدار اور انکے بھائیوں سمیت انکے مبینہ فرنٹ مین طور بزدار کے خلاف انٹی کرپشن میں انکوائری شروع

  • عدالت پیش نہیں ہو سکتا،عمران خان نے اسپیشل پاور آف اٹارنی تیار کرلی

    عدالت پیش نہیں ہو سکتا،عمران خان نے اسپیشل پاور آف اٹارنی تیار کرلی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اسپیشل پاور آف اٹارنی تیار کرلی

    عمران خان نے ملک بھر کی عدالتی کارروائیوں کے لیے پاور آف اٹارنی تیار کر لی، عدالتی کارروائیوں کے لیے عمران خان نے اپنے متبادل کے طور پر وکیل نعیم پنجوتھہ کو نامزد کردیا ،عدم پیشی پر ملک بھر کی عدالتوں کے لیے نعیم پنجوتھہ کو عمران خان کی نمائندگی کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا ،

    عمران خان کا کہنا ہے کہ ذاتی مصروفیات کے باعث عدالت میں سول اور فوجداری کیسز پر پیش نہیں ہو سکتا، عدالتی کیسز کے لیے اپنی عدم پیشی پر نعیم پنجوتھہ کو اٹارنی نامزد کرتا ہوں،سپریم کورٹ، ہائیکورٹس اور کچہری میں نعیم پنجوتھہ کو تمام درخواستیں اپیلیں انٹراکورٹ اپیلیں دائر کرنے کا اختیار ہے، نعیم پنجوتھہ میری طرف سے عدالت میں بیان ریکارڈ کروانے کا اختیار بھی رکھتے ہیں،

    واضح رہے کہ عمران خان پر کئی مقدمات درج ہیں اور انہوں نے ضمانتیں کروا رکھی ہیں، عمران خان زمان پارک میں مقیم ہیں، گزشتہ روز بھی جے آئی ٹی نے زمان پارک کا دورہ کیا تھا اور عمران خان سے سوالات کئے تھے، عمران خان کے خلاف لاہور، اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں مقدمے درج ہیں، عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانتیں کروائیں،لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو 121 مقدمات میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا تھا،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

  • عمران خان کی 121 مقدمات کی کاروائی روکنے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    عمران خان کی 121 مقدمات کی کاروائی روکنے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    لاہور ہائیکورٹ: عمران خان کی 121 مقدمات کی کاروائی روکنے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی

    جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ 8 مئی کو درخواستوں پر سماعت کرے گا ،رجسٹرار آفس نے عمران خان کی درخواستوں پر سماعت کی کازلسٹ جاری کردی ،بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس مس عالیہ نیلم ،جسٹس طارق سلیم شیخ ،جسٹس انوار الحق پنوں اور جسٹس امجد رفیق حصہ ہیں ،پانچ رکنی بینچ نے عمران خان کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے عدالت نے آٹھ مئی کو مقدمات کی تفتیش سے متعلق رپورٹ طلب کررکھی ہے،عمران خان نے درج مقدمات میں کاروائی روکنے کے لیے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کررکھی ہے

    گزشتہ سماعت پر لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جمع کروا دی گئی تھی،عمران خان کیخلاف اسلام آباد میں 31 لاہور میں 30 فیصل آباد مین 14 بھکر، میں 4 شیخوپورہ 3 گجرانوالہ میں 2 جہلم میں 3 اٹک میں 4 راولپنڈی میں 10،اٹک،میں 4 بہاولپور میں 5 مقدمات درج ہیں،

    سابق وزیراعظم عمران خان نے 121 مقدمات کو خارج کرانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، وزارت قانون، دفاع، سیکرٹری کیبنیٹ ڈویژن، چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب، اینٹی کرپشن، نیب، ایف آئی اے، وزیر اعظم، پیمرا اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملک میں مجھ پر 121 ایف آئی آر درج کی گئیں، مقدمات کوئٹہ، کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں درج کیےگئے ہیں، نگران صوبائی حکومت کی جانب سے انتقامی کاروائیاں کی گئی ہیں تحریک انصاف کے سپورٹرز اوررہنماؤں کو نظربند اور گرفتار کیا جا رہا ہے-درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ درخواست کےفیصلے تک عدالت درج مقدمات میں کارروائی روکنےکا حکم دے پہلے سے درج مقدمات میں تادیبی کارروائی سے روکا جائے، عدالت بغیرنوٹس فوجداری کارروائی کرنے سے روکنے کا حکم جاری کرے

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

  • عمران خان کو سی ٹی ڈی نے طلب کر لیا

    عمران خان کو سی ٹی ڈی نے طلب کر لیا

    سابق وزیراعظم عمران خان کو سی ٹی ڈی نے طلب کر لیا۔

    سی ٹی ڈی اسلام آباد کی جانب سے طلبی کا نوٹس جاری کر دئیے گئے۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے عمران خان کو دو مقدمات میں 10مئی کو طلب کیا گیا ہے۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے دو مقدمات میں 11مئی کو پولیس لائن ہیڈ کوارٹر میں طلب کیا گیا ہے۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عمر ان خان شامل تفتیش ہو کر اپنا موقف پیش کریں۔اگر عمران خان کے پاس اپنے حق میں کوئی شواہد ہیں تو پیش کریں۔حاضر نہ ہونے کی صورت میں کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے نوٹس عمران خان کو انکی رہائشگاہ کے پتے پر بھجوایا گیا ہے

    واضح رہے کہ عمران خان پر کئی مقدمات درج ہیں اور انہوں نے ضمانتیں کروا رکھی ہیں، عمران خان زمان پارک میں مقیم ہیں، گزشتہ روز بھی جے آئی ٹی نے زمان پارک کا دورہ کیا تھا اور عمران خان سے سوالات کئے تھے، عمران خان کے خلاف لاہور، اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں مقدمے درج ہیں، عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانتیں کروائیں،لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو 121 مقدمات میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا تھا،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

     10 مئی کو عمران خان پر فرد جرم عائد کی جائے گی،

  • عثمان بزدار پیر تک گرفتار نہیں ہونگے تو ویک اینڈ اچھا گزر جائے گا ،عدالت

    عثمان بزدار پیر تک گرفتار نہیں ہونگے تو ویک اینڈ اچھا گزر جائے گا ،عدالت

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی مقدمات کی تفصیلات اور حفاظتی ضمانت کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت ہوئی،

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارعدالت میں پیش ہوئے،جسٹس طارق سلیم شیخ نے عثمان بزدار کی درخواست پر سماعت کی۔عدالت نے سرکاری وکیل کی عثمان بزدار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم واپس لینے کی استدعا مسترد کردی،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آتی ہر کیس میں گرفتاری کیوں درکار ہوتی ہے؟ پرویز الٰہی کے گھر پر جو کچھ ہوا اس کے بعد آپ کو آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں، پیر تک گرفتار نہیں ہوں گے تو کچھ فرق نہیں پڑتا،ان کا ویک اینڈ اچھا گزر جائے گا عدالت نے عثمان بزدارکو گرفتارنہ کرنے کے حکم میں 8 مئی تک توسیع کردی اور کیس لارجر بنچ کو بھجوا دیا۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن نے انکوائری کا آغاز کر دیا ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی ہدایت پرڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ڈیرہ غازی خان ریجن کی سربراہی میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے خلاف انکوائری نمبر224/23 شروع کر دی گئی ہے

    محکمہ اینٹی کرپشن کے ترجمان کے مطابق 2022ء میں 2کروڑ 44لاکھ کی مالیت سے سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے قصبہ بارتھی میں اپنی رہائش کے قریب نجی قطہ اراضی پر سرکاری خرچ سے جرگہ ہال تعمیر کرا یا۔اس ہال کی تعمیر کے لئے لینڈ ایکوزیشن کی کوئی کارروائی نہ کی گئی اور نہ ہی پرائیویٹ فریقین سے سرکار کے نام کوئی انتقال درج کرایا گیا۔ عثمان خان بزداراس جرگہ ہال کو ذاتی استعمال میں لارہے ہیں۔جرگہ ہال عثمان بزدار کے والد کی قبر کے ساتھ تعمیر کرایا گیا ہے۔

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

  • قوم کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں،چیف جسٹس

    قوم کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں،چیف جسٹس

    ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات کروانے کا کیس ،سیاسی جماعتوں کے رہنما سپریم کورٹ پہنچ گئے

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہوگئی، چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سمیت فریقین کے وکلاء اور سیاسی رہنما کمرہ عدالت میں موجود ہیں،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آج سعد رفیق اور شاہ محمود قریشی دونوں نظر آ رہے ہیں،آج اپنے حوالے سے بھی کچھ بتانا ہے فاروق نائیک نے اتحادی حکومت کا جواب عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ قرضوں میں78 فیصد، سرکولر ڈیٹ میں 125 فیصد اضافہ ہو چکا ہے،سیلاب کے باعث31 ارب ڈالر کا نقصان ہوا،اسمبلی تحلیل سے پہلے بجٹ، آئی ایم ایف معاہدہ، ٹریڈ پالیسی کی منظوری لازمی ہے، لیول پلیئنگ فیلڈ اور ایک دن انتخابات پر اتفاق ہوا،اسمبلی تحلیل کی تاریخ پر اتفاق نہیں ہو سکا،ملکی مفاد میں مذاکرات کا عمل بحال کرنے کو حکومت تیار ہے،ہر حال میں اسی سال ایک دن الیکشن ہونے چاہئیں،سندھ اور بلوچستان اسمبلی قبل از وقت تحلیل پر آمادہ نہیں،ہر فریق کو مذاکرات میں لچک دکھانی پڑتی ہے،مذاکرات میں کامیابی چند روز میں نہیں ہو سکتی،مذاکرات کیلئے مزید وقت درکار ہے

    فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی یقین رکھتی ہے سیاسی ایشوز جو ہیں وہ سیاسی طور پر حل ہوسکتےہیں۔مذاکرات میں تاریخ اور مہینہ ابھی طے ہونا ہیں،پیپلز پارٹی یقین رکھتی ہے کہ مداخلت کے بغیر معاملات حل کئے جاسکتے ہیں اس لئے مزہد وقت درکار ہے ۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ فنانس منسٹرکی دستخط سے جمع ہوئی ہے سیاسی ایشوز کو سیاسی قیادت حل کرے لیکن موجودہ درخواست ایک حل پر پہنچنے کی ہے۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات اس وقت بہت crucial ہیں۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بجٹ صرف قومی اسمبلی پاس ہی کرسکتی ہے ۔اگر آج پنجاب یا کے پی کی حکومت ختم نہ ہوتی تو یہ مسئلہ کھڑا نہ ہوتا۔ آپ کو پھر تکلیف نہ دی جاتی۔اس وجہ سے عدالت کا دوسرا کام ڈسٹرب ہوتا ہے سندھ اور بلوچستان اسمبلی قبل از وقت تحلیل پر آمادہ نہیں،ہر فریق کو مذاکرات میں لچک دکھانی پڑتی ہے
    مذاکرات میں کامیابی چند روز میں نہیں ہوسکتی، مذاکرات کیلئے مذید وقت درکار ہے حکومت نے مذاکرات سے متعلق عدالت سے مہلت کی استدعا کردی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا بجٹ آئی ایم ایف کے پیکج کے تحت بنتا ہے؟ اخبارات کے مطابق دوست ممالک بھی قرضہ آئی ایم ایف پیکج کے بعد دیں گے،کیا پی ٹی آئی نے بجٹ کی اہمیت کو قبول کیا یا رد کیا؟ آئین میں انتخابات کیلئے 90 دن کی حد سے کوئی انکار نہیں کرسکتا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ 90 روز میں انتخابات کرانے میں کوئی دو رائے نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ قومی اور عوامی اہمیت کے ساتھ آئین پر عملداری کا معاملہ ہے،90 روز میں انتخابات کرانے پر عدالت فیصلہ دے چکی ہے، کل رات ٹی وی پر دونوں فریقین کا مؤقف سنا، مذاکرات ناکام ہوئے تو عدالت 14 مئی کے فیصلے کو لیکر بیٹھی نہیں رہے گی، عدالت نے اپنے فیصلے پر آئین کے مطابق عمل کرنا ہے، آئین کے مطابق اپنے فیصلے پر عمل کرانے کیلئے آئین استعمال کرسکتے ہیں، عدالت صرف اپنا فرض ادا کرنا چاہتی ہے،کہا گیا ماضی میں عدالت نے آئین کا احترام نہیں کیا اور راستہ نکالا،عدالت نے احترام میں کسی بات کا جواب نہیں دیا، غصے میں فیصلے درست نہیں ہوتے اس لئے ہم غصہ نہیں کرتے،آئینی کارروائی کو حکومت نے سنجیدہ نہیں لیا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہمیں تو عدالت نے سنا ہی نہیں تھا، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے راؤنڈ میں آپ نے بائیکاٹ کیا تھا، کبھی فیصلہ حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی، آپ چار تین کی بحث میں لگے رہے،جسٹس اطہر من اللہ نے اسمبلیاں بحال کرنے کا نقطہ اٹھایا تھا، حکومت کی دلچسپی ہی نہیں تھیآج کی گفتگو ہی دیکھ لیں، کوئی فیصلے یا قانون کی بات ہی نہیں کررہا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فنڈز اور سیکیورٹی ملنے کا کہا تھا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئینی نکات پر دلائل نہیں ہوسکے تھے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ نظرثانی اپیل تک حکومت نے دائر نہیں کی، حکومت قانون کی بات نہیں سیاست کرنا چاہتی، پہلے بھی کہا تھا سیاست عدالتی کارروائی میں گھس چکی ہے، ہم سیاست کا جواب نہیں دیں گے، اللہ کے سامنے آئین کے دفاع کا حلف لیا ہے، معاشی، سیاسی، معاشرتی، سیکیورٹی بحرانوں کے ساتھ ساتھ آئینی بحران بھی ہے،کل بھی اٹھ لوگ شہید ہوئے،
    حکومت اور اپوزیشن کو سنجیدہ ہونا ہوگا،معاملہ سیاسی جماعتوں پر چھوڑ دیں تو کیا قانون پر عملدرآمد نہ کرائیں، کیا عدالت عوامی مفاد سے آنکھیں چرا لے ؟ سپریم صرف اللہ کی ذات ہے،حکومت عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرنے کی پابند ہے، عدالت تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے،قانون پر عملدرآمد کیلئے قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے، سپریم کورٹ، قوم کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تحریک انصاف نے ایک دن الیکشن کرانے پر اتفاق کیا ہے، شرط رکھی کہ اسمبلیاں 14 مئی تک تحلیل کی جائیں، دوسرے شرط تھی کہ جولائی کے دوسرے ہفتے میں الیکشن کرائے جائیں، تیسری شرط تھی کہ انتخابات میں تاخیر کو آئینی ترمیم کے ذریعے قانونی شکل دی جائے،14 مئی چند دن بعد ہے لیکن فنڈز جاری نہیں ہوئے،نظریہ ضرورت کی وجہ سے الیکشن مزید تاخیر کا شکار نہیں کرسکتے،

    خواجہ سعد رفیق عدالت پہنچے تو چیف جسٹس نے کہا کہ خوش آمدید خواجہ سعد رفیق صاحب، خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وکیل نہیں ہوں اس لیے عدالت میں بات کرنے کا سلیقہ نہیں ہے، جو کہوں گا سچ کہوں گا، سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا، اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان عدم اعتماد بہت گہرا ہے،2017 سے عدالت نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی، میں بھی ایک شکار آپ کے سامنے کھڑا ہوں، کوئی بھی اداروں میں تصادم نہیں چاہتا،عوام کو صاف پانی نہیں دے سکتے، اداروں میں تصادم کے متحمل کیسے ہوسکتے ہیں، مذاکرات کے دوران بہت کچھ سننا پڑا، مذاکرات کے ذریعے ہی سیاسی بحران نکالا جا سکتا ہے،آئین 90 دن کے ساتھ شفافیت کا بھی تقاضہ کرتا ہے،پنجاب پر الزام لگتا ہے کہ یہی حکومت کا فیصلہ کرتا ہےالیکشن نتائج تسلیم نہ کرنے پر پہلے بھی ملک ٹوٹ چکا ہے آئین کے تقاضوں کو ملا کر ایک ہی دن الیکشن ہوں،صرف ایک صوبے میں الیکشن ہوا تو تباہی لائے گا،سیلاب اور محترمہ بینظیر کی شہادت پر انتخابات میں تاخیر ہوئی،اگر حکومت نے کوئی قانونی نقطہ نہیں اٹھایا تو عدالت ازخود ان پر غور کرے،کئی ماہ سے 63 اے والا نظرثانی کیس زیر التواء ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 63 اے والی نظرثانی درخواست سماعت کیلئے مقرر ہورہی ہے،اٹارنی جنرل کو اس حوالے سے آگاہ کردیا گیا ہے، خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ چاہتے ہیں شفاف الیکشن ہوں اور سب ان نتائج کو تسلیم کریں، مذاکرات میں طے ہوا ہے کہ یہ لوگ نتائج تسلیم کریں گے،سندھ اور بلوچستان میں اسمبلیاں بہت حساس ہیں، دونوں اسمبلیوں کو پنجاب کیلئے وقت سے پہلے تحلیل کرنا مشکل کام ہے، پی ٹی آئی نے کھلے دل سے مذاکرات کیے اس پر ان کا شکر گزار ہوں، مذاکرات کا مقصد وقت کا ضیاع نہیں ہے، مذاکرات جاری رکھنے چاہیئے، یہ میری تجویز ہے، عدالت کو سیاسی معاملات میں الجھانے سے پیچیدگیاں ہوتی ہیں، اپنی مدت سے حکومت ایک گھنٹہ بھی زیادہ نہیں رہنا چاہتی، ملک کی قیمت پر الیکشن نہیں چاہتے، مستقل کوئی بھی عہدے پر نہیں رہنا چاہیے اپ ہوں یا ہم، عدالت ہدایت نہ دے ہم خود مل بیٹھیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کوئی ہدایت دیں گے نا ہی مذاکرات میں مداخلت کریں گے، اگر چند دنوں میں معاملہ حل نہ ہوا تو پھر دیکھ لیں گے، کیا نظرثانی اپیل دائر کرنے کی مدت ختم ہوچکی ہے؟نظرثانی اپیل دائر کرنے کا وقت گزر چکا ہے،وکیل شاہ خاور نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نظرثانی اپیل دائر کر رکھی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل قابل سماعت ہے؟الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ صرف فنڈز اور سیکیورٹی چاہیے، شاہ خاور نے کہا کہ شہباز شریف اور عمران خان مذاکرات میں شامل ہوں تو حل نکل سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور عمران خان مصروف لوگ ہیں ان کے نمائندے موجود ہیں،پارٹی لیڈران کیلئے سیاسی قائدین سے بات کریں، خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مذاکراتی ٹیموں کو ہی بات کرنے دی جائے، عدالت کو مذاکرات میں نا لایا جائے، پہلے ہی کافی خرابی ہو کی ہے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے کوئی نئی بات نہیں کی، پرانا مؤقف دہرایا ہے، اپنی پوری کوشش کی کہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوسکیں،حکومتی بینچز سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی اور تکبر والی باتیں آرہی ہیں، ہماری متفرق درخواست پر تمام کمیٹی ارکان کے دستخط ہیں، حکومتی جواب میں صرف اسحاق ڈار کے دستخط ہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حکومتی درخواست صبح آئی ابھی نمبر بھی نہیں لگا، لیکن اسے سن لیا، پی ٹی آئی اور حکومت کی آپس کی گفتگو میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہے کسی تاریخ پر اتفاق ہوا یا نہیں، کیا دو یا تین دن میں کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے؟ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کہتی تھی بارہ جماعتیں ہیں مشاورت کیلئے وقت دیں، عمران خان سمیت سب نے تنقید کی کہ تین دن کا وقت کیوں دیا، تیسری نشست دن گیارہ بجے ہونی تھی لیکن رات نو بجے ہوئی، نظرثانی یہ نا دائر کریں، مرضی کی مہلت بھی لیں، فیصلہ نہ ہو تو آئین کیوں داؤ پر لگائیں؟ آئی ایم ایف کے ساتھ کوئی پیشرفت نہیں ہورہی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آئی ایم ایف والا معاملہ نہ ہمیں معلوم ہے نہ سننا چاہتے ہیں،

    تحریک انصاف نے 14مٸی کو انتخابات کے حکم پرعملدرآمد کی استدعا کردی، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ عدالت اپنے حکم پر عملدرآمد کرواتے ہوئے فیصلہ نمٹا دے،حکومت نے 14مٸی انتخابات کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست داٸر نہیں کی ،فاروق ناٸیک نے جو نکات اٹھائے ہیں وہ غیر متعلقہ ہے،آٸین سے باہر نہیں جایا جا سکتا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فاروق ناٸیک نے عدالت کو صرف مشکلات سے آگاہ کیا،

    تحریک انصاف نے حکومت کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کردیا، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت لچک مظاہرہ نہیں کررہی ہم مذاکرات اور یہ پکڑ دھکڑ کر رہے ہیں تنقید کے باوجود ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھے ، فاروق نائیک نے کہا کہ مسئلہ حل ہوجائے گا، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ صرف وعدہ کرتے ہیں ملک بھر میں ایک ہی روز انتخابات سےمتعلق کیس کی سماعت مکمل ،عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا، عدالت نے کہا کہ مناسب حکم جاری کیا جائے گا

    پاکستان تحریک انصاف سے فواد چوہدری اور علی محمد خان سپریم کورٹ پہنچ گئے ،پاکستان مسلم لیگ ن سے خواجہ سعد رفیق سپریم کورٹ پہنچ گئے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے سیکرٹری الیکشن کمیشن سمیت الیکشن کمیشن کے حکام بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے

    وفاقی حکومت نے بھی الیکشن پر مذاکرات سے متعلق جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا، جواب اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا، جواب میں کہا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن ایک تاریخ پر الیکشن کرانے پر متفق ہیں ملک کی بہترین مفاد میں مذاکرات کا عمل بحال کرنے کو تیار ہیں قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کی تاریخ پر اتفاق نہ ہوسکا ،

    پی ٹی آئی وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے حاضر ہوئے ہیں، پی ڈی ایم سرکار کے ساتھ تین نشستوں کا خلاصہ عدالت کے سامنے پیش کر دیا، تحریک انصاف نیک نیتی سے معاملات سلجھانا چاہتی ہے،جانتے ہیں آئین کی خلاف ورزی ہوئی ،انتخابات کے لئے حتمی امیدواروں کی لسٹ بنائی جا چکی،اس کے باوجود سیاسی حل کے لئے ہم ساتھ بیٹھے ہم نے بہت لچک دکھائی ہے،مذاکرات میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا،اب سپریم کورٹ کا فیصلہ دیکھنا ہو گا پی ٹی آئی نے آئین کے دفاع کا فیصلہ کیا ہے، سپریم کورٹ کی آئینی حیثیت سے غافل نہیں رہنا،کل بروز ہفتہ پورے پاکستان میں چیف جسٹس کے ساتھ 5:30 بجے اظہار یکجہتی کے اجتماعات ہوں گے، عمران خان خود لاہور میں ریلی کی قیادت کریں گے، اسلام آباد میں بھی ریلی کا اہتمام کیا جائے گا،

    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • توشہ خانہ کیس، 10 مئی کو عمران خان پر فرد جرم عائد کی جائے گی،عدالت

    توشہ خانہ کیس، 10 مئی کو عمران خان پر فرد جرم عائد کی جائے گی،عدالت

    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی،

    توشہ خانہ کیس, فیصلہ سنا دیا گیا عدالت نے عمران خان کی درخواستیں مسترد کردیں ,عدالت نے عمران خان کو ذاتی حثیت میں 10 مئی کو طلب کرلیا , عدالت نے کہا کہ 10 مئی کو عمران خان پر فرد جرم عائد کی جائے گی،

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے الیکشن ایکٹ کا سیکشن 190 اور193 پڑھ کر سنایا،خواجہ حارث نے کہاکہ کیس کا قابل سماعت ہونا اور ٹرائل ہونا دو مختلف چیزیں ہیں،توشہ خانہ کیس کا تاحال ٹرائل شروع ہوا نہ انکوائری ہوئی،سیشن عدالت کو سماعت سے قبل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 190 اے سے گزرنا ہو گا

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کیس کے دائرہ اختیار پر دلائل مکمل کرلئے جج نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے دلائل دونوں درخواستوں پر مکمل ہو چکے ہیں،خواجہ حارث نے کہا ابھی میں نے توشہ خانہ کیس کے دائرہ اختیار پر دلائل دیئے ہیں،اگر آپ کو لگتا ہے دونوں درخواستوں پر دلائل دے دیئے ہیں تو فیصلہ فرما دیں ،جج نے خواجہ حارث کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو نہیں سکتے کہ فیصلہ کریں یا نہ کریں ،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاک ہ وکیل گوہر علی نے گزشتہ سماعت پر درخواستوں پر دلائل دینے کا ایفیڈیوٹ دیا تھا ،جج نے کہا کہ آپ کی ناقابل ضمانت وارنٹ سیشن عدالت نے جاری کئے جو اپیل پر بھی مسترد ہوئی ،جج نے استفسار کیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں اعتراض نہیں اٹھایا آپ نے، سیشن عدالت وارنٹ جاری نہیں کر سکتی ،خواجہ حارث نے استدعا کی کہ اگلے جمعہ تک سماعت ملتوی کردیں کیس کو کیس رہنے دیں، وکیل امجد پرویز نے کہا میراتو اعتراض ہےعمران خان کی دونوں درخواستیں بھی قابل سماعت ہیں بھی یا نہیں ،سیشن عدالت اپنا فیصلہ واپس نہیں کر سکتی،عمران خاان کو ٹرائل کا سامنا کرنا پڑے گا
    جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواستوں کی حد تک سماعت ملتوی نہیں ہوگی، دلائل آج ہی ہوں گے ،آپ اپنے دلائل کو آج ہی مکمل کریں، ٹرائل پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے

    دوسری جانب توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہلی کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی، جس میں عدالت نے میانوالی کی نشست پر ضمنی الیکشن روکنے کے حکم میں 11 مئی تک توسیع کردی ،عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے، سماعت کے آغاز پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ویسے یہ ایک سیکنڈ کا کیس ہے، لیکن پتا نہیں کیوں اس میں دیر ہو رہی ہے ۔ وکیل نے کہا اصل ایشو یہ ہے کہ درخواست واپس لینے کی متفرق درخواست ہے، لاہور ہائی کورٹ میں کیس فل بنچ کے سامنے زیر سماعت ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں آپ کا کیس کب لگا ہوا ہے، جس پر وکیل نے کہا کہ ہمارا کیس لاہور میں 19 مئی کو شاید مقرر ہے مسلسل کیسز لگے ہوئے ہیں، میں نے چھٹی پر بھی جانا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے آج التوا کی درخواست آئی ہے توشہ خانہ کیس میں نا اہلی کے فیصلے کو عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کر رکھا ہے۔ عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایسی ہی دائر درخواست واپس لینے کے لیے رجوع کر رکھا ہے بعد ازاں عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل خالد اسحاق کی جانب سے التوا کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت جمعرات 11 مئی تک ملتوی کردی

    عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

  • پولیس ریڈ کے دوران مزاحمت اور پولیس ہر حملہ کیس،پرویز الٰہی کی ضمانت منظور

    پولیس ریڈ کے دوران مزاحمت اور پولیس ہر حملہ کیس،پرویز الٰہی کی ضمانت منظور

    پرویز الٰہی کے گھر پولیس ریڈ کے دوران مزاحمت اور پولیس ہر حملہ کا معاملہ کا معاملہ ،چودھری پرویز الٰہی غالب مارکیٹ مقدمہ میں عبوری ضمانت کروانے انسداد دہشت گردی عدالت پہنچ گئے

    انسداد دھشت گردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل خان کے روبرو وکلاء نے پرویز الٰہی کی درخواست ضمانت دائر کی ،درخواست میں کہا گیا کہ غالب مارکیٹ پولیس نے پولیس پارٹی پر حملہ کرنے کا بے بنیاد الزام لگایا، پولیس پارٹی پر پیٹرول بم پھینکنے کے الزام بھی مقدمہ میں لگایا گیا،پولیس نے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے جھوٹا مقدمہ درج کیا، گرفتاری کا خدشہ، مقدمہ میں شامل تفتیش ہونے کیلئے عبوری ضمانت دی جائے، اٹرائل کے حتمی فیصلے تک ضمانت قبل از گرفتاری بھی منظور کی جائے،

    انسداد دہشتگردی کی عدالت نے مقدمے میں پرویز الٰہی کی 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی،

    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی نے اے ٹی سی عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے دن سے ہم نے پُرامن راستہ بنایا ہے،یہ سارا خاندان بد نیت ہے انہوں نے کچھ نہیں کرنا صرف لوگوں کے خلاف پرچے کاٹنے ہیں ،ہم ہمیشہ ساتھ چلیں گے ایک ساتھ کام کریں گے ہم نے پیچھے ہٹنا سیکھا ہی نہیں ہے،ہمارا مشن ہے کہ اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے، خواجہ آصف روزانہ گالیاں دیتے ہیں آئین کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں، انہوں نے آڈیو ز اور ویڈیوز کا فیک کام کا سلسلہ شروع کیا ہوا،ان لوگوں کی بہت ہونی ہے ان کو لگ سمجھ جانی ہے،میرے وزیر اعلی بننے کا فیصلہ عمران خان کا ہوگا،

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

     خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

  • وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا عمران خان کو چیلنج

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا عمران خان کو چیلنج

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا عمران خان کو چیلنج

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ عدالت جا کر جس جس سے خطرہ ہے ثبوت دو ورنہ اپنا منہ بند کرو ،فارن ایجنٹ بہروپیا ہے حالات کے مطابق سکرپٹ اور حلیہ بنا لیتا ہے،گرفتاری کے ڈر سے چارپائی کے نیچے اور ضمانت خارج ہونے کے ڈر سے وہیل چئیر کا ڈرامہ، فارن ایجنٹ تمہارے پاؤں پہ دباؤ نہیں تمہارے دماغ پہ سازشی دباؤ ہے ،تمہیں خطرہ اب صرف فارن فنڈنگ، توشہ خانہ ، ٹیرین کیس سے ہے اِس لئے گولی ، پلستر، ڈبے، ویل چئیر اور الیکشن کا بہانہ ہے عدالت بلائے تو گولی ، پلستر ، معذوری ، بالٹی ڈبہ اور اب وہیل چئیر کے بہانے، پہلے اپنی حکومت ہٹانے کا ملبہ امریکہ پر ڈالا، سائیفر کا ڈرٹی کھیل کھیلا، پھر امریکہ سے معافی مانگ کر جنرل باجوہ، پھر آصف زرداری اور پھر محسن نقوی پر ملبہ ڈالا،چار سال کی ناکامیوں، اسمبلیاں توڑنے کا ملبہ جنرل باجوہ پر ڈالا ،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ شہدا، اداروں اور ان کی قیادت کے خلاف اندرون و بیرون ملک غلیظ مہم چلانے والا پھر الزام تراشی کر رہا ہے، قوم کو گھروں سے نکالنے سے پہلے خود تو گھر سے باہر نکلو ڈرپوک،پہلے کالی بالٹی سے منہ تو باہر نکالنے کا اعلان کرو پھر قوم کو باہر نکالنے کا اعلان کرنا، چیف جسٹس کی تصویر پہ جوتے مارنے کے لئے بھی باہر نکلنے کی کال تم نے دی تھی،

    دوسری جانب ن لیگی رہنما ، عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان واحد محرم ہے جو عدالتوں سے مرضی کی تاریخ لینے پر مجبور کرتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کا کیس 6 سال زیر التواء رہا ،کیسز کو تاخیر کا شکار کرکے فائدہ لینے کی کوشش کی جارہی ہے،عمران خان کی ٹانگ ایسی مشکوک ٹانگ ہے جو کہتی ہے میرا علاج صرف شوکت خانم میں ہوگا ،وزیر آباد حملے کے بعد قوم کو بتایا گیا کہ عمران خان کو 4 گولیاں لگیں ، میڈیکل رپورٹ میں ثابت ہوا کہ کوئی گولی نہیں لگی ، عمران خان کی ٹانگ ایک معمہ بن گئی ہے ،ریلی نکالنے کیلئے 4 گھنٹے میں بیٹھا جا سکتا ہے ،
    مگر جیسے ہی ٹانگ کی معلوم ہو عدالت میں پیش ہونا ہے ٹانگ میں درد شروع ہوجاتا ہے ،یہ ٹانگ بزدلی کی علامت ہے ،
    میں عمران نیازی کو چیلنج کرتا ہوں کہ شوکت خانم کے علاوہ کسی ہسپتال سے معائنہ کروا لیں .ہم ایک سرکاری میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کو بھی تیار ہیں ، شوکت خانم ایک کینسر کا ہسپتال ہے مگر وہاں ٹانگ کا خصوصی علاج ہوتا ہے ،میری ججز سے گزارش ہے کہ شوکت خانم کی رپورٹس کو تسلیم نہ کیا جائے ، شوکت خانم کو عطیات کے پیسے ملتے ہیں پھر اسے جوئے پر لگایا جاتا ہے ،

    عتا تارڑ کا کہنا تھا کہ آپ عدالتوں سے التواء لیتے ہیں کیونکہ آپکو پتہ آپ نے چوری کی ہے ،عمران خان کیخلاف جتنے بھی کیسز ہیں انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے آج اداروں کے خلاف ایک منظم کیمپن چلائی جارہی ہے ، ادارے کا کوئی خاکروب بھی عمران خان کو فون کرے یہ تیار بیٹھے ہیں ، یہ اداروں کو دوبارہ سیاست میں گھسیٹنا چاہتے ہیں ،وزیر آباد واقعے کے ملزم نے خود تسلیم کیا کہ یہ مذہبی منافرت کا کیس ہے ،

    واضح رہے کہ شوکت خانم کے میڈیکل بورڈ نے عمران خان کو مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے، میڈیکل بورڈ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر عمران خان نے آرام نہ کیا تو عمران خان کی متاثرہ ٹانگ میں سوجن بڑھ سکتی ہے اور سوجن بڑھنے سے انفیکشن کا خطرہ ہے سوجن سے انفیکشن ہوا تو دوبارہ آپریٹ کرنا پڑے گا، میڈیکل بورڈ کی جانب سے عمران خان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر معمولی نقل و حرکت سے پرہیز کریں اور متاثرہ ٹانگ پر دباؤ ڈالنے سے پرہیز کریں

    پولیس چھاپہ،کوئی نہ آیا، پولیس کے جاتے ہی پرویز الہیٰ سے یکجہتی کیلئے گھر کا دورہ

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،