Baaghi TV

Tag: عدالت

  • جلاﺅ گھیراﺅ اور پولیس پر تشدد کیس، تحریک انصاف کے رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع

    جلاﺅ گھیراﺅ اور پولیس پر تشدد کیس، تحریک انصاف کے رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کی عدالت نے جلاﺅ گھیراﺅ اور پولیس پر تشدد کیس میں تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری، فرخ حبیب ، حماد اظہر اور دیگر کی عبوری ضمانت میں 16 مئی تک توسیع کردی

    زمان پارک میں جلاﺅ گھیراﺅاور پولیس پر تشدد کیس میں پی ٹی آئی رہنماﺅں کی عبوری ضمانتوں پر سماعت ہوئی،پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب، اعجاز چودھری ، حماداظہراور محمود الرشید عدالت پیش ہوئے،فواد چودھری نے حاضری معافی کی درخواست دائر کی،درخواست میں موقف اختیارکیا گیا کہ فوادچودھری حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کا حصہ ہیں ،عدالت نے حماد اظہر سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کب کی تاریخ رکھیں؟حماد اظہر نے عدالت میں کہا کہ 14 مئی کو الیکشن، 17 کو اسلام آباد پیش ہونا ہے اس کے بعد کی کوئی تاریخ رکھ دیں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا 14 مئی کو الیکشن ہورہا ہے؟ حماد اظہر نے کہا کہ قانون کے مطابق تو ہیں، باقی سرکارکا پتہ نہیں ،عدالت نے فوادچودھری کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی، عدالت نے فوادچودھری، فرخ حبیب ، حماد اظہر اور دیگر کی عبوری ضمانت میں 16 مئی تک توسیع کردی .

    تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے اے ٹی سی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے جعلی مقدمات بنائے گئے ہیں ،تمام مقدمات انتقامی کارروائیوں پر مبنی ہیں ،کبھی کوئی تاریخ اسلام آباد کبھی لاہور اور کبھی کراچی میں ہو رہی ہے، سب سے بڑا ٹارگٹ عمران خان ہے،عمران خان کو لندن پلان کے تحت ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے، عمران خان کو سیکیورٹی بلکل فراہم نہیں کی جا رہی ، ان پر آج بھی قاتلانہ حملے کا خدشہ ہے،ایک سال کے دوران ان پر درجنوں مقدمات درج کئے گئے،

    تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے اے ٹی سی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے جعلی مقدمات درج کئے جا رہے ہیں، پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ اس ماحول میں معاملات کو خراب کیا جائے ،عمران خان کی جگہ کوئی اور لیڈر ہوتے تو شاید آ ج اس طرح کا امن و امان نظر نہ آتا، کچھ لوگ مراد سعید کیخلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،لوگ اس رجیم سے نفرت کرتے ہیں ، ڈنڈے کے زور پر عوام کا ذہین تبدیل نہیں کیا جاسکتا،جعلی پرچوں کے ذریعے بلیک میل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

  • عدالت پیشی، عمران خان بھی وہیل چیئر پر آ گئے

    عدالت پیشی، عمران خان بھی وہیل چیئر پر آ گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سابق وزیر اعظم عمران خان کی 7 مقدمات میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی ،سابق وزیر اعظم عمران خان لیگل ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر، شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری، سیف اللہ نیازی کمرہ عدالت میں موجود تھے علی محمد خان، علی نواز اعوان، بابر اعوان، عامر کیانی، ملائکہ بخاری عمران اسماعیل بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آج باہر سیکشن 154 کا بیہیمانہ استعمال کیا جارہا ہے،ہمیں آج کچھ برا ہونے کا گمان ہورہا ہے، ہمارے علم میں جتنے مقدمات ہیں سب میں ضمانت کی درخواست دے چکے ہیں، اگر کوئی خفیہ ایف آئی آر ہے تو اس سے متعلق جاننا ہمارا حق ہے، ڈویژن بنچ نے کہا تھا کہ آپ ٹرائل کورٹ سے براہ راست رجوع کریں، کچھ وجوہات کی وجہ سے ہم ڈائریکٹ ٹرائل کورٹ نہیں گئے، درخواست گزار کی پیشی پر آج بھی پولیس کی جانب سے ہراساں کیا گیا،چیف کمشنر اور آئی جی کو بلایا جائے کہ بار بار ایسا کیوں ہورہا ہے ؟ ہم عدالت پرامن طریقے سے آتے ہیں مگر پولیس جان بوجھ کرہراساں کرتی، سپولیس سے پوچھا جائے کہ اگر کوئی مقدمہ اور درج ہے اور ابھی تک بتایا نہیں تو وہ بتائے،مقدمات کی تفصیلات آپ ہی کی درخواست پر آپ کو مل گئی ہے، میرا موکل عدالتی حکم پر آج ویل چیئر پر عدالت پیش ہوئے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آبزرویشن دی تھی کہ ہم آپ کو حفاظتی ضمانت دیتے ہیں، آپ متعلقہ عدالت چلے جائیں، آپ اب تک شامل تفتیش بھی نہیں ہوئے، ہم نے پہلی سماعت سے آپ کو باور کرایا ہوا تھا کہ آپ کو حفاظتی ضمانت دیں گے،وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ہم آج انسداد دہشت گردی عدالت پیش ہونا چاہتے تھے مگر سیکورٹی کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپکی ضمانت میں توسیع کرتے ہیں مگر آپکو ٹرائل کورٹ پھر بھی جانا ہوگا، وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کریمنل کیسسز سے متعلق سب کچھ واضح ہے، ہم ایک مہینے سے کہہ رہے ہیں کہ بیان لیں لے مگر یہ نہیں لے رہے، سلمان صفدر

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سات مختلف مقدموں میں 7 مختلف تفتیشی افسران کے پاس سات مختلف تاریخوں پر ہم کیسے پیش ہوں؟ تفتیش جوائن کرنے کا کوئی دن مقرر کر دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ آج اسلام آباد میں موجود ہیں نہ؟ تفتیشی بھی سارے موجود ہیں، ان کو بیان ریکارڈ کرا دیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم یہاں 7 ضمانتوں میں آئے ہیں اور ہم شامل تفتیش ہونا چاہتے ہیں، ہم ان تمام مقدمات میں ایک وقت پر پیش ہونا چاہتے ہیں، ہم ابھی انکو جواب دیتے ہیں، عدالت نے کہا کہ ایسا نہیں ہوتا کہ آپ تحریری جواب دیں، آپ جاکر طریقہ کار کو فالو کریں،

    ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ عمران خان کی جانب سے جو میڈیکل سرٹیفکیٹ دی گئی وہ جعلی ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے میڈیکل سرٹیفکیٹ منظور نہ کرتے ہوئے بلایا ہے، فواد چوہدری نے کہا کہ سابق وزیراعظم زخمی حالت میں عدالت میں پیش ہوگئے، 121 کیسسز میں لاہور ہائی کورٹ نے فل کورٹ بنایا ہے،عدالت نےفواد چوہدری اور جہانگیر جدون کی باتوں پر برہمی کا اظہار کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    اگر ایسا آپ لوگ کررہے تو ہم ججمنٹ دیں گے، عدالت نے عمران خان کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ،

    فواد چوہدری نے کہا کہ یہ حکومت نے جو انتظامات کیے ہیں یہ سکیورٹی کیلئے کم، ڈرانے کیلئے زیادہ ہیں،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب ہم آرڈر پاس کریں گے، فواد چوہدری نے شکوہ کیا کہ عمران خان سابق وزیر اعظم ہیں، ان کی گاڑی اندر نہیں آنے دی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو ریلیف دے رہے ہیں آپ نہیں لینا چاہتے تو ایسا ہی سہی، چیف جسٹس عامر فاروق اور میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل بینچ اُٹھ گیا ،ججز کمرہ عدالت سے ججز چیمبر میں چلے گئے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سات مقدمات میں 10 روز کیلئے عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ،دو مقدمات میں عبوری ضمانت میں 9 مئی تک توسیع کردی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کی ہدایت کر دی،

    عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے ،عمران خان کی گاڑی اسلام آباد ہائی کورٹ کے گیٹ پر موجود ہے،تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی گاڑی گیٹ کے اندر لیجانے کی درخواست دی گئی ،عمران خان کی گاڑی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں ملی عمران خان مرکزی گیٹ سے وہئیل چیئر کے ذریعے عدالت میں گئے عمران خان کو گاڑی سے اتارنے کے لئے حفاظتی شیلڈ بنائی گئی

    عمران خان نے کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو کی، صحافی نے سوال کیا کہ امریکیوں کے ساتھ میٹنگز ہو رہی ہیں، عمران خان نے جواب دیا کہ ستائیس سال ہو گئے، ہم ہر ملک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، لاہور ہائیکورٹ میں پانچ رکنی بینچ جو نام بتایا ہے جس سے جان کو خطرہ ہے،اس کا نام لوں گا تو اخبار نام نہیں چھاپے گا، اسی لیے میں اس کو ڈرٹی ہیری کہتا ہوں، کیئر ٹیکر گورنمنٹ وہ چلا رہا ہے،

    صحافی نے سوال کیا کہ بلاول کے انڈیا کے دورے پر کمنٹ کر دیں، جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے کشمیر کا ایشو نہیں ہے؟ دوستی سب سے چاہتے ہیں کسی کی غلامی نہیں چاہتے،امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں غلامی نہیں چاہتے،

    پی ٹی آئی رہنماؤں عمر ایوب اور فیاض الحسن چوہان نے اسلام آباد ٹول پلازہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کی بڑی تعداد آج عمران خان کے استقبال کے لیے پہنچی ہے،عمر ایوب کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کے خلاف سازش کی، اللہ نے عمران خان کو بچایا، ان کو سمجھ نہیں لگ رہی کہ عمران خان کو کیسے ہینڈل کریں ،پچھلی پیشی پر غیر قانونی طور پر ہمارے 23 کارکنان کو گرفتار کیا گیا، اس وقت پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں غیر قانونی ہیں، ان کے احکامات نہیں ماننے چاہیئے ،فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ یہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ، چوہدری پرویز الٰہی کے گھر پر حملے کی کوئی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں، میں چوہدری پرویز الٰہی کے گھر پر حملے کی شدید مزمت کرتا ہوں آج ہم اپنے قائد عمران خان کے استقبال کے لیے پہنچے ہیں، عمران خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو بیمار ہونے کے باوجود عدالتوں کے احترام میں پیش ہو رہے ہیں،

    عمران خان زمان پارک سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے لئے روانہ ہوئے،عمران خان کے ساتھ مسرت جمشید ، شبلی فراز کے ساتھ سئینر رہنما موجود تھے،عمران خان کے ہمراہ پی ٹی آئی کارکنان بھی موجود تھے، عمران خان وہیل چیئر پرگھر سے نکلے اور انہوں نے ویڈیو پیغام ریکارڈ کروایا،اسکے بعد وہ قافلے کے ہمراہ اسلام آباد عدالت پیشی کے لئے روانہ ہو گئے،

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کو جب بھی عدالتیں طلب کرتی ہیں یا انکو گرفتار کیا جاتا ہے تو وہ وہیل چیئر پر آ جاتے ہیں، تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو بھی جب گرفتار کیا گیا تھا وہ وہیل چیئر پر عدالت میں پیش ہوتے تھے، تا ہم جب ایک بار انہیں کہا گیا کہ ضمانت ہو گئی ہے تو وہ وہیل چیئر کی بجائے چل کر آئے اور اس کے بعد اگلے ہی روز عدالت میں پھر وہیل چیئر پر آئے، اب عمران خان نے بھی وہیل چیئر پر سفر کا اغاز کر دیا ہے

    عمران خان نے اسلام آباد روانگی سے قبل ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ چار چیزوں پر میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں میرے پاؤں ہر ورم (سوجن) ہے عدالت نے طلب کیا ہے اس کے باوجود جا رہا ہوں،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں ،دوسرے لوگ جو ہر وقت حرکتیں کرتے ہیں ہم ان جیسے نہیں،کچھ دن پہلے میں لاہور ہائیکورٹ کو صاف کہا ہے کہ مجھے دو بار قتل کرنے کی کوشش کی ہے جس کو ہم ڈرٹی ہیری کہتے ہیں، اب مراد سعید کو بھی یہ لوگ دہشت گرد کہہ رہے ہیں ہے اگر مراد سعید کو کچھ ہوا تو اس کے پیچھے ڈرٹی ہیری ہوگا،اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کے پیچھے بھی ڈرٹی ہیری ہوگا،میں سب کو کال دے رہا ہوں آپ سب نے پرسوں ہفتے کے روز اپنے گھروں سے مغرب کے وقت نکلنا ہے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شوکت خانم کے میڈیکل بورڈ نے عمران خان کو مکمل آرام کا مشورہ دیا تھا، میڈیکل بورڈ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر عمران خان نے آرام نہ کیا تو عمران خان کی متاثرہ ٹانگ میں سوجن بڑھ سکتی ہے اور سوجن بڑھنے سے انفیکشن کا خطرہ ہے سوجن سے انفیکشن ہوا تو دوبارہ آپریٹ کرنا پڑے گا، میڈیکل بورڈ کی جانب سے عمران خان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر معمولی نقل و حرکت سے پرہیز کریں اور متاثرہ ٹانگ پر دباؤ ڈالنے سے پرہیز کریں

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

  • پی ٹی آئی کا  انتہائی خطرناک کھیل، مراد سعید نے کیا عدالت سے رجوع

    پی ٹی آئی کا انتہائی خطرناک کھیل، مراد سعید نے کیا عدالت سے رجوع

    تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے بھی لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    مراد سعید نے عبوری ضمانت اور زیر تفتیش تمام کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کی استدعا کر دی ،مراد سعید نے تحریک انصاف کے تمام رہنماؤں کے کیسز کی تفصیلات کی فراہمی اور گرفتاری سے روکنے کی استدعا بھی کر دی ،مراد سعید کی درخواست میں وفاقی حکومت، آئی جی پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا کو فریق بنایا گیا ہے ،مراد سعید نے ڈی جی ایف آئی اے اور چیئرمین نیب کو بھی فریق بنایا ہے

    مراد سعید کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف مسلسل مقدمات کا اندراج کررہی ہیں، تحریک انصاف کے رہنماوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،تحریک انصاف کے رہنماوں کے خلاف کارروائیاں آئین و قانون کے خلاف ہیں،

    دوسری جانب تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے مراد سعید کی ممکنہ گرفتاری یا حملے پر رد عمل میں کہا ہے کہ واضح طور پر یہ بہت سے ممالک کی ایجنسیوں کے نفسیاتی سیاہ، "گندے” آپریشن کا حصہ ہے، عمران خان نے گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے 5 رکنی بینچ کو بتایا کہ ان پر وزیر آباد اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس پر 2 قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کی تھی اب مراد سعید اور دیگر رہنما بھی انکے ٹارگٹ میں شامل ہو گئے ہیں،

    واضح رہے کہ ٹویٹر پرصحافی وقار ستی نے ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ انتہائی خطرناک کھیل ،باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے ایک یا دو سیاسی رہنماؤں کے خلاف جھوٹےاور مصنوعی فلیگ آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے،ایسی صورت میں فوڈ پوائزننگ یا کسی بھی پارٹی لیڈر کی ٹارگٹ کلنگ یا اسے زخمی کیا جاسکتا ہے۔ پی ٹی آئی کی اس ممکنہ سازش کو حقیقت بنانے کےلیے آسان ہدف مراد سعید ہوسکتےہیں ۔واضح رہےکہ پی ٹی آئی نے پہلے ہی اپنی قیادت اور کارکنوں کوملک گیر ہڑتال /احتجاج کی تیاری کرنےکی ہدایات دے رکھی ہیں ان کی کوشش ہے کہ کسی صورت ایسا کوئی واقعہ رونماہو جائےجو حالات کومذید گھمبیر بنا دے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ منصوبہ مستقبل میں ملک میں مزید افراتفری پھیلانے کے لیے ہے تاکہ اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لایا جائے،مذاکرات کو ناکام بنایا جائے اورسپریم کورٹ سےاپنے حق میں فیصلہ لیا جائے ذرائع نے یہ بھی بتایاہےکہ پی ڈی ایم کا ایک وفاقی کابینہ کا رکن وفاقی حکومت کی تمام اندرونی معلومات پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے ساتھ شیئر کر رہا ہے۔ جس کا نام جلد سامنے آنے والاہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

    کیسوں کی تفصیلات آنے تک مراد سعید کی گرفتاری سے روکنے کا حکم

    گلگت میں چھپا ہوں، رانا ثنا سے ڈر لگتا ہے،مراد سعید

    ٹویٹر پر صارف حجاب رندھاوا نے لکھا کہ اگر یہ سچ ہے کہ مُلک کی ایک بڑی اپوزیشن سیاسی جماعت فالس فلیگ آپریشن کرنے جا رہی ہے تو یہ انتہائی خوفناک ہے مراد سعید کو تحفظ دیا جانا بہت ضروری ہے ۔

    https://twitter.com/Hijabrandhawa1/status/1653484232122028036

  • غلط بیانی کی تو عدالت اپنا حکم سنائے گی، عدالت کا اظہار برہمی

    غلط بیانی کی تو عدالت اپنا حکم سنائے گی، عدالت کا اظہار برہمی

    لاہور ہائیکورٹ، حفاظتی ضمانت کے باوجود پرویز الہی کی رہائش گاہ پر آپریشن کا معاملہ ، ایڈیشنل ڈی جی وقاص کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ اینٹی کرپشن گوجرانوالہ کے مقدمے میں پولیس گرفتاری کے لئے رہائش گاہ گئی۔ عدالت نے کہا کہ اگرمقدمہ درج تھا تو سرچ وارنٹ کدھرہیں۔ سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہمارے پاس صرف مقدمہ کی کاپی تھی۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک تو عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی اور دوسرا عدالتی حکم سے متعلق الفاظ کہے۔ ایڈیشنل ڈی جی اینٹی کرپشن نے عدالت میں کہا کہ میں تو توہین عدالت کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کان کھول کرسن لیں اگر غلط بیانی کی تو عدالت اپنا حکم سنائے گی۔

    عدالتی حکم پر ایڈیشنل ڈی جی کےالفاظ کی ویڈیو عدالت میں سنوا دی گئی ،ایڈیشنل ڈی جی نے عدالت میں کہا کہ اگر میرا غلط بیانی کرنا ثابت ہوجائے تو خود کو عدالت کے رحم وکرم پرچھوڑوں گا۔ عدالت نے ڈی جی اینٹی کرپشن سمیت اینٹی کرپشن کے تین مزید افسروں کوتوہین عدالت کےشوکازنوٹس جاری کردئیے عدالت نے تمام افسرون کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا

    عدالت نے تینوں افسروں کے جواب جمع نہ کرانے پر سخت اظہار برہمی کیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جواب جمع نہ کرانا تو ایک اور توہین عدالت ہے۔ ایڈیشنل ڈی جی وقاص حسن نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی ،عدالت نے شوکاز نوٹس کا تحریری جواب داخل کرنے کے لئے ایڈیشنل ڈی جی کو کل تک موقع دے دیا

    پولیس چھاپہ،کوئی نہ آیا، پولیس کے جاتے ہی پرویز الہیٰ سے یکجہتی کیلئے گھر کا دورہ

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

  • وزیراعظم شہباز شریف کیخلاف کاروائی کی درخواست پر سماعت ملتوی

    وزیراعظم شہباز شریف کیخلاف کاروائی کی درخواست پر سماعت ملتوی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کیخلاف کارروائی کیلئے درخواست پر ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی،

    سماعت کے دوران عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کی درخواست ناقابل سماعت قرار دینے کی فوری استدعا مسترد کر دی ،درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ نواز شریف نے دھوکہ دیا اور بیرون ملک سفر کیا وہ یورپ اور سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں لیکن پاکستان واپس نہیں آ رہے ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اس معاملے پر کسی انتظامی ادارے سے مشاورت کی گئی ؟درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام اداروں اور عمران خان سے اس معاملے کو دیکھنے کی درخواست کی ہے ،قائم مقام اٹارنی جنرل شیراز ذکاء نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار فریق نہیں ہیں۔ جب متعلقہ فورم دستیاب ہو تو درخواست ناقابل قبول ہے ،عدالت نے دلائل سننے کے بعد وفاقی حکومت کے وکیل کی اپیل مسترد کر دی، عدالت نے درخواست گزار کو درخواست کے ساتھ مزید دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شہبازشریف نے بیان حلفی دیا کہ نواز شریف علاج کے بعد واپس آ جائیں گے لیکن نواز شریف واپس نہ آئے

    واضح رہے کہ نواز شریف جیل میں بیمار ہو گئے تھے جس کے بعد عمران خان کی حکومت نے انہیں باہر علاج کے لئے بھجوایا تھا ، نواز شریف ایک طویل عرصے کے بعد بھی واپس نہیں آئے، نواز شریف ابھی ماہ رمضان میں سعودی عرب گئے تھے، مریم بھی انکے ہمراہ تھیں، نواز شریف پاکستان واپس کب آتے ہیں اس بارے ن لیگ صرف دعوے کرتی ہے کوئی حتمی بات نہیں کرتی،

    مریم نواز بھائی کی مقروض،کیپٹن ر صفدر دوستوں کے مقروض

     سابق وزیراعظم نوازشریف کو بھی از خود نوٹس کے خلاف اپیل کا حق مل گیا

    سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • توشہ خانہ کیس،وکیل کی عدم موجودگی،سماعت ملتوی

    توشہ خانہ کیس،وکیل کی عدم موجودگی،سماعت ملتوی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق توشہ خانہ کیس، سماعت کے بغیر ہی کاروائی ملتوی کر دی گئی

    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں الیکشن کمیشن کی درخواست پر توشہ خانہ فوجداری کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے کی خواجہ حارث کی عدم موجودگی کے باعث سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی، عدالت نے کیس کی سماعت 5 مئی تک ملتوی کردی، عدالت نے آئندہ سماعت پر درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کرلئے عدالت نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظورکرلی

    گزشتہ سماعت پر عدالت کے جج چھٹی پر تھے جس کی وجہ سے سماعت ملتوی ہو گئی تھی ، اس سے قبل جج کا تبادلہ ہونے کی وجہ سے سماعت نہیں ہو سکی تھی،

    اسلام آباد کی مقامی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی رہنما محسن شاہ نواز رانجھا کا کہنا تھا کہ جو سہولت لاڈلے کو مہیا ہے وہ نوازشریف کو بھی ہونی چاہئے تھی ،3 ماہ میں سزااورجزا کا اعلان ہو جانا چاہئے تھا عمران خان کی چوری عیاں ہے عمران خان کے ساتھ دوسروں جیسا سلوک نہیں کیا جا رہا،عمران خان اور عام شہری کیلئے عدالتی نظام میں فرق ہے 8 ماہ گزرنے کے بعد بھی عمران خان پر فردجرم نہیں لگ سکی ثاقب نثار کی باقیات آج بھی متحرک ہیں عمران خان کو 2018 کے الیکشن میں نقل مار کر پاس کرایا گیا ،ٹی سیٹ سے لے کر ہار اور گھڑیاں چوری کی گئیں نوازشریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر تاحیات نااہل کیا گیا نواز شریف تاحیات نااہل اورعمران خان ڈی سیٹ، یہ کہاں کا انصاف ہے؟

    دوسری جانب توشہ خانہ کیس میں نیب نوٹسز کیخلاف عمران خان، بشریٰ بی بی کی درخواستیں نمٹا دی گئیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ آئندہ نوٹس سپریم کورٹ فیصلوں کے مطابق قانون کے تحت بھیجے جائیں، عدالت نے نیب کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کاروائی آگے بڑھانے کی ہدایت کر دی، عدالت نے کہا کہ نیب کو کاروائی اور تحقیقات سے نہیں روک سکتے، عمران خان تفتیش میں شامل نہیں ہو رہے تو نیب قانون کے مطابق کاروائی کا مجاز ہے،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

  • کل تک عمران خان پیش ہوگئے تو ٹھیک، ورنہ عبوری ضمانت منسوخ،عدالت

    کل تک عمران خان پیش ہوگئے تو ٹھیک، ورنہ عبوری ضمانت منسوخ،عدالت

    اداروں کے خلاف بیان پر تھانہ رمنا میں مقدمہ ،عمران خان کی عدم پیشی پر اسلام آباد ہائی کورٹ برہم ہو گئی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان پیش نا ہوئے تو عبوری ضمانت خارج کر دیں گے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان پراداروں کیخلاف الزامات کا مقدمہ کی سماعت ہوئی، عمران خان نے عبوری ضمانت کی درخواست دائر کررکھی ہے ، عمران خان عدالت پیش نہ ہوئے، دوران سماعت عدالت نے کہا کہ درخوست گزار کی عدم پیشی پر عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کردی جائے گی ،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کہاں ہیں؟، عدالتوں کو مذاق بنا رکھا ہے ہائیکورٹ کو سول کورٹ بنا دیا بس گاﺅن کا فرق رہ گیا ہے وکیل درخواست گزارنے عدالت میں کہا کہ عمران خان کو گزشتہ روز پیشی کے دوران انجری ہوئی، حاضری سے استثنیٰ کی درخواست آج دائر ہو جائے گی،کیس کی سماعت میں عدالتی وقت تک وقفہ کردیا گیا۔

    کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں کل تک توسیع کردی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل تک عمران خان پیش ہوگئے تو ٹھیک، ورنہ عبوری ضمانت منسوخ کردی جائے گی، وکیل سلمان صفدر نے 3، 4 دن دینے کی استدعا کی، عدالت نے سلمان صفدر کی مزید 3، 4 دن دینے کی استدعا مسترد کردی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو کل تک پیش ہونے کی مہلت دے دی ، ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ ہم نے آج بھی سیکورٹی انتظامات کرائے تھے اور کل پھر کریں گے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ لاہور سے نہیں نکلے تو آپ سیکورٹی انتظامات ہی نہ کرتے، عدالت نے کیس کی سماعت میں کل تک کیلئے ملتوی کردی ،عمران خان کی عبوری ضمانت میں کل تک توسیع، آج حاضری سے استثنا کی درخواست منظور کر لی گئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سابق وزیر اعظم عمران خان کی سنگل بینچ میں مزید دو مقدمات میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی و،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آج استثنیٰ دے دیں، معاملہ کل تک رکھ دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل آپ پیش نہ ہوےے تو یہ آرڈر بھی آپ پرچڑھ جائے گا، وکیل سلمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ کل عمران خان کو ایمبولینس میں بھی پیش ہونا پڑا تو ہوں گے،عدالت نے عمران خان کی ان دونوں مقدمات میں بھی ضمانت میں کل تک توسیع کردی ایک مقدمہ تھانہ رمنا میں بغاوت پر اکسانے سے متعلق ہے دوسرا مقدمہ محسن شاہنواز رانجھا پر حملہ کیس کا ہے،عمران خان کی ڈویژن بنچ میں زیر سماعت سات مقدمات میں عبوری ضمانت میں کل تک توسیع کر دی گئی، عمران خان کی اپنے خلاف مقدمات پر کارروائی روکنے کی درخواست پر سماعت بھی کل ہوگی.

    واضح رہے کہ عمران خان اپنی حکومت جانے کے بعد سے لے کر اب تک اداروں پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں اور کارکنان کو بھی اکسا رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ نہ صرف عمران خان بلکہ پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف بھی مقدمے درج ہو چکے ہیں،،کئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا تو انہوں نے معافیاں مانگیں اور پی ٹی آئی کا کوئی رہنما گرفتار کارکنان کا حال پوچھنے تک بھی نہیں گیا، عمران خان کئی مقدموں میں ضمانت پر ہیں اور زمان پارک میں مقیم ہیں، پولیس نے عمران خان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی مگر کامیاب نہیں ہو سکی

    عمران خان موو کرتے ہیں تو انکے ساتھ سیکیورٹی ہوتی ہے؟حکومت سے جواب طلب

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے

  • قوم کو ماموں بنانے والے سپریم کورٹ کے مامے نہ بنیں،رانا ثناء اللہ

    قوم کو ماموں بنانے والے سپریم کورٹ کے مامے نہ بنیں،رانا ثناء اللہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ٹرک چھپاؤ یا پہنچاؤ تحریک کی پریس کانفرنس تھی، قوم کو ماموں بنانے والے سپریم کورٹ کے مامے نہ بنیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو نوٹس نہ بھیجیں، بشری بی بی عدالت میں پیش ہو کر کرپشن کا جواب دے جہاں خاوند منہ پر بالٹی پہن کر جاتا ہے؛ خاوند کو منہ پہ بالٹی ڈال کر عدالت لے کر جائیں ،الیکشن کمیشن، وکلاء، صحافیوں اور سیاسی مخالفین پر گند اچھالنا گالی دینا دھمکانا عمران خان کا وطیرہ ہے، جو خلاف بات کرے وہ وکلاء پے رول پے ہیں اور صحافی لفافے ہیں، الیکشن کمیشن بکاؤ ہے۔ جو غلامی نہ کرے وہ مسلم لیگ (ن) کے ہے رول پر اور جو صحافی حق کی بات کرے وہ لفافہ۔

    رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ 190 ملین پاؤنڈ کے لفافے کا جواب دو جو فراڈ نیازی نے فراڈ کرکے اپنے سپانسر کو خیرات کیا، پورا قومی خزانہ عمران مافیا کے نشانے پرتھا۔ عدلیہ کا اختیار پارلیمنٹ نے شفاف بنایا ہے، منصب، کرسی اور اختیار کا ناجائز استعمال سب سے بڑی آئین شکنی ہے۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

  • بہتر تھا پرویزالہیٰ کو ہی اعزازی جج لگا دیتے،ملک احمد خان

    بہتر تھا پرویزالہیٰ کو ہی اعزازی جج لگا دیتے،ملک احمد خان

    وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاء تارڑ اور ملک احمد خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے

    معاون خصوصی عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ہماری سوچ یہ ہے کہ اس اہم معاملے پہ 7 سینئر ترین ججز کا بینچ بنایا جائے.یہ سینئر ترین ججز کا اختیار ہے کہ وہ ایسے آئینی اور قانونی پیچیدگیوں والے معاملات پہ سماعت اور فیصلہ کریں.جب اسی بل کے اندر چیف جسٹس کے اختیارات کو محدود کیا گیا ہے تو کیا چیف جسٹس کا اس کیس کو سننا مفادات کا تصادم نہیں ہے؟ یہ واحد کیس ہے جس میں ایک ایسا قانون جو ابھی نافذ العمل نہیں ہوا تھا جو قانون کی شکل اختیار کرنے سے پہلے کے لوازمات ہیں وہ پورے نہیں ہوئے تھے اور قانون کی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی اس کے اطلاق کو روک دیا گیا یہ سب پارلیمان کے اختیارات پہ سوالیہ نشان ہے.

    ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 3 اور 4 تقاضا کرتے ہیں کہ انکی پابندی کی جائے.ایک آرٹیکل میں یہ ہے کہ آپ اپنے کسی دوست اور عزیز کا مقدمہ نہیں سُنیں گے جسٹس گھرال کی چوہدری پرویز الہی سے قربت داری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے.پرویزالٰہی کی ضمانت کی درخواست جسٹس اسجد گھرال کی عدالت میں لگانے سے بہتر تھا پرویزالہیٰ کو ہی اعزازی جج لگا دیتے، یا گھر جاکر سماعت کرکے ضمانت دے دیتے،عدالتوں کے اندر سے وہ مقدمات جن میں سے عمران خان اور انکی پارٹی کو ریلیف مل رہا ہے وہ دہشگردی کر ے معاف , وہ عدالتوں پہ حملہ کرے معاف , وہ پیٹرول بموں کے ساتھ پولیس وینز پہ حملہ کرے معاف, وہ عدت میں نکاح کرے معاف

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

  • عمران خان کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جمع

    عمران خان کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جمع

    عمران خان کے خلاف 121 مقدمات کے اخراج کا معاملہ ،عمران خان کمرہ عدالت میں پہنچ گٸے

    عمران خان کے وکلا بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں عمران خان کی پیشی پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، غیر متعلقہ افراد کو عدالت میں داخلے سے روک دیا گیا پولیس کی بھاری نفری احاطہ عدالت میں تعینات ہے،

    لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کیخلاف 121 مقدمات کے اخراج کے لیےدرخواست پر سماعت ہوئی جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی لارجر بنچ میں جسٹس عالیہ نیلم، جسٹس طارق سلیم شیخ شامل ہیں دیگر ججز میں جسٹس انوار الحق پنوں اور جسٹس امجد رفیق بھی شامل ہیں

    عمران خان کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جمع کروا دی گئی، عمران خان کیخلاف اسلام آباد میں 31 لاہور میں 30 فیصل آباد مین 14 بھکر، میں 4 شیخوپورہ 3 گجرانوالہ میں 2 جہلم میں 3 اٹک میں 4 راولپنڈی میں 10،اٹک،میں 4 بہاولپور میں 5 مقدمات درج ہیں،

    جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپکی درخواست پڑھی ہے ،پٹیشن اچھی ڈرافٹ کی گئی ہے ۔
    لیکن درخواست میں زیادہ تر پی ٹی آئی کی کارکردگی کے بارے میں لکھا ہے ۔ جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پٹیشن کے پیرا 7 سے آگے پڑھیں کیوں کہ اس سے پیچھے تو آپ نے درخواستگزار کے بارے میں ہی بتایا ہے ۔ کیا 121 ایف آئی آر تمام میں عمران خان نامزد ہیں ۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ عدالت مجھے 15 منٹ کا وقت دے میں اپنا سارا کیس عدالت کے سامنے رکھ دیتا ہوں ۔وکیل عمران خان نے کہا کہ حکومت طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے ۔ عمران خان کو سیاسی بنیادوں پر مقدمات درج کیے جا رہے ہیں،جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ مقدمات کو خارج کروانا چاہتے ہیں وہ نکات بیان کریں ،وکیل بیرسٹر سلیمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ عمران خان کے خلاف ایک ہی مدعی کے تحت مقدمات درج کیے جارہے ہیں ،وکیل عمران خان نے کہا کہ پولیس کی مدعیت میں مقدمات درج کیے جارہے ہیںجو بھی واقعہ ہوتا ہے مقدمہ عمران خان پر درج کیا جاتا ہے اسکی مثالیں موجود ہیں ظل شاہ قتل کیس ،وزیر آباد حملہ کیس ارشد شریف قتل کیس سمیت دیگر مقدمات کی مثالیں موجود ہیں

    جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیسز کی نشاندھی کریں ،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ جنرل باتیں کررہے ہیں وکیل عمران خان نے کہا کہ کیسز ڈسچارج ہورہے ہیں ضمانتیں ہورہی ہیں کوالٹی تو اس سے پتہ چل جاتی ہے ایک روٹ لگا ہوا ہے، کراچی، کوئٹہ، اسلام آباد، بھکر سمیت ملک بھر میں مقدمات درج ہے، ایسا لگتا ہے کہ کوئی بس سروس ہے جس نے ملک بھر جانا ہے، جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ روٹ پہلی مرتبہ نہیں لگا بدقسمتی سے اس سے پہلے بھی ہوچکا ہے، وکیل نے کہا کہ یہ کیس 71 سالہ شخص کا ہے جو پاکستانی شہری ہے ۔ ہر روز ضمانت لینا پڑتی ہے جو ممکن نہیں ہے ،جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ مقدمات کا اخراج چاہتے ہیں تو نکات کی نشاندہی کریں ۔ سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان پر وزیر آباد میں حملہ ہوا ہر کیس میں پولیس ہی مدعی بنتی ہے ۔ 140 مقدمات ہیں پولیس بتائے کس میں عمران خان کی گرفتاری کی ضرورت ہے ۔ایک واقعے پر ایک سے زیادہ مقدمات درج کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔یہ سب سیاسی بنیادوں پر ہو رہا ہے تاکہ الیکشن نہ ہوں اور کیمپین نہ کی جا سکے۔ ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں 2500 افراد کے خلاف کیس بنایا گیا لیکن اس کیس میں صرف عمران خان نے ضمانت لی ۔ میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا کہ 3 ماہ میں 140 مقدمات درج ہوگئے ہوں،ابتک ہم نے 25 مقدمات میں ضمانت لے لی ہے،عمران خان کیخلاف انہیں کوئی فنانشل کرپشن نہیں ملی،اسکے بعد انہوں نے فوجداری مقدمات درج کر دئیے دہشت گردی، غداری، مزہبی، مشورہ ،اقدام قتل سمیت سنگین دفعات کو مقدمات کا حصہ بنایا گیا ہے،

    عمران خان روسٹرم پر آ گئے، جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواستگزار کو سمن بھیجا گیا لیکن سمن کی تعمیل نہیں ہونے دی گئی کیا رکاوٹ نہیں ڈالی گئی ۔سمن تعمیل کی راہ میں رکاوٹ کا ایک اور پرچہ ہو گیا ۔جسٹس عالیہ نیلم نے عمران خان کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا وارنٹ کے تعمیل والے دن کوئی پولیس افسر زخمی نہیں ہوا ۔ وکیل عمران خان نے کہا کہ پولیس افسر زخمی ہوا ہو گا ۔ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اگر پولیس افسر زخمی ہوا ہو گا تو اس بارے انوسٹی گیشن درکار ہے انوسٹی گیشن افسر بتائے گا کہ کیا ہوا اس لیے انوسٹی گیشن ہونے دیں ۔ وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان کو بطور سابق وزیر اعظم سیکیورٹی بھی نہیں دی گئی ۔کاغذوں میں عمران خان کو سیکیورٹی دے گئی گئی ہے حقیقت میں نہیں ملی ۔ جھوٹے کیسز میں انصاف لینے جان ہتھیلی پر رکھ کر روز عدالت آتے ہیں ۔جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ جب سے کیس لارجر بینچ کے سامنے لگا ہے کوئی نئی ایف آئی آر ہوئی ہے ۔ وکیل عمران خان نے کہا کہ نہیں ۔ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری وکیل صاحب اس صورتحال میں عدالتیں خاموش تماشائی نہیں بن سکتی ہے ایک ایسا شخص جس پر زندگی بھر کوئی مقدمہ نہ ہو اقتدار سے نکلتے ہی اتنے مقدمات کیون درج ہوگئے ، عدالت نے پنجاب حکومت کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا عمران خان کو انتخابات سے دور رکھنے کے لیے آیسا ہورہا ہے ؟

    بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ جب وزیر آباد کا ملزم پکڑا تو کس نے اسکا اقبالی بیان لے کر ٹی وی پر چلایا۔ جب سے نگران حکومت ائی ہمیں سیکیورٹی نہیں ملتی۔ ہم جان ہتھیلی پر رکھ کر عدالت میں آتے ہیں ، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی ساری باتیں ٹاک شو کے لیے اچھی ہونگی۔ لیکن میں تو قانونی نکات ہی مرتب نہیں کر پا رہا۔اپ کو اس درخواست میں ترمیم کرکے اسے قانون کے دائرہ میں لانا چاہیے۔ بیرسٹر سلمان صفد نے کہا کہ میں پہلے ہی ترمیم کر چکا ہوں۔ میں نے مقدمات کے اخراج کی استدعا نکال دی۔ صرف ضمانت لینا ممکن نہیں رہا۔ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ انفرادی طور پر کیسیز کی نشاندھی کریں جن پر آپکو اعتراض ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ابھی تک آپکے دلائل عمومی ہیں ۔ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ سلمان صفدر صاھب آپ ٹو دی پوائینٹ بات کرتے ہیں۔ آج بھی ایسے ہی کریں۔عمران خان کے خلاف کتنے کیسیز ہیں۔ وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان نے اب تک 25 کیسیز میں ضمانت لی ہے۔ ان میں دہشتگردی کی دفعات اور اعانت جرم کی دفعات کا زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔ جسٹس مس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ آپ نے کیسیز کا اخراج نہیں مانگا ہوا۔ اگرآپ اخراج مقدمات مانگتے تو آفس کا اعتراض لگ جاتا۔ جسٹس انوارالحق پنوں نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ تو آپ اب چاہتے کیا ہیں۔جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ بیرسٹر سلمان ، پہلے اپ اپنے دلائل مکمل کر لیں پھر لاء افسر سے سوالات پوچھیں گے۔

    عمران خان نے عدالت کے سامنے چند گزارشات کی استدعا کردی، جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کیا آپ اپنے وکیل سے مطمن نہیں ہیں، عمران خان نے عدالت میں کہا کہ سلمان صفدر بہترین کیس پیش کر رہے ہیں،عمران خان نے عدالت میں کہا کہ آج میں عدالت کو کہا رہا ہوں انہوں نے مجھے قتل کرنا ہے میں آج یہ بات تیسری مرتبہ کر رہا ہوں، مجھے 2 مرتبہ قتل کرنے، کی کوشش کی گئی، پہلے وزیر آباد اور اسکے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی کے دران کوشش ہوئی، میں جب بھی گھر سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہوں تو مارنے کی کوشش کرتے ہیں،

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو تمام مقدمات میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا ، بینچ نے ہدایت کی کہ جمعے کے روز 2 بجے عمران خان پولیس تفتیش جوائن کریں ۔پنجاب حکومت تفتیش مکمل کر کے 8 مئی تک مکمل رپورٹ عدالت میں جمع جائے ۔ عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کر دی عدالت نے عمران خان اور وکلاء کو کیسز میں شامل تفتیش ہونے سے متعلق لائحہ عمل طے کرنے کی ہدایت کر دی

    سابق وزیراعظم عمران خان نے 121 مقدمات کو خارج کرانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، وزارت قانون، دفاع، سیکرٹری کیبنیٹ ڈویژن، چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب، اینٹی کرپشن، نیب، ایف آئی اے، وزیر اعظم، پیمرا اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملک میں مجھ پر 121 ایف آئی آر درج کی گئیں، مقدمات کوئٹہ، کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں درج کیےگئے ہیں، نگران صوبائی حکومت کی جانب سے انتقامی کاروائیاں کی گئی ہیں تحریک انصاف کے سپورٹرز اوررہنماؤں کو نظربند اور گرفتار کیا جا رہا ہے-درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ درخواست کےفیصلے تک عدالت درج مقدمات میں کارروائی روکنےکا حکم دے پہلے سے درج مقدمات میں تادیبی کارروائی سے روکا جائے، عدالت بغیرنوٹس فوجداری کارروائی کرنے سے روکنے کا حکم جاری کرے

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

    رمضان میں ماہواری میں عورت کیا کرے؟