Baaghi TV

Tag: عدالت

  • سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس

    سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں الیکشن سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں

    نئے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان ،سینیٹر فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے، دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کو سنیں گے سادہ سا سوال ہے جو الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا ہے کیا الیکشن کمیشن کے پاس ایسا اختیار تھا؟ کارروائی کو لمبا نہیں کرنا چاہتے،سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟اگر الیکشن کمیشن کا اختیارہوا تو بات ختم ہو جائے گی، سیاسی جماعتوں کو فریق بنانے کیلئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نکتہ اٹھایا تھا جمہوریت کیلئے قانون کی حکمرانی لازمی ہے، قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی،سیاسی درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوگا تو مسائل بڑھیں گے

    اٹارنی جنرل نے انتخابات کیس کے لیے فل کورٹ بنچ بنانے کی استدعا کردی ،اٹارنی جنرل نے تحریک انصاف کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر بھی اعتراض کردیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کیلیے قانون کی حکمرانی لازمی ہے قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی،فارق ایچ نائیک نے کہا کہ ملک میں اس وقت انار کی اور فاشزم ہے، موجودہ سیاسی ومعاشی حالات میں جمہوریت اور ملک کے لیے کیا بہترہے، سیاسی جماعتیں اسٹیک ہولڈرز ہیں،انہیں لازمی سنا جائے ،جسٹس جمال مندوخیل نے فاروق ایچ نائیک سے سوال کیا کہ آپ یہ پوائنٹ پارلیمنٹ کیوں نہیں لےجاتے؟ اس پر فاروق ایچ نائیک نےکہا کہ پارلیمنٹ میں معاملہ اٹھانےکا سوچ رہے ہیں ، جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ کیا نوے روز میں انتخابات کرانا آئینی تقاضا نہیں ہے؟کیا الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ منسوخ کر سکتا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ کلیئر کرنے پر جسٹس جمال مندوخیل کا مشکور ہوں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات کیس میں استدعا ہی ازخود نوٹس کے فیصلے پر عملدرآمد کی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنچ کے ارکان تحریک انصاف کی درخواست میں اٹھائے گئے سوال کا جائزہ لینے بیٹھے ہیں اٹارنی جنرل کا انحصار تکنیکی نقطے پر ہے سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار درخواست تک محدود نہیں ہوتا،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کی درخواست پر اعتراضات اور فل کورٹ بنچ بنانے کی استدعا عملاً مسترد کردی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کی اور تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر کو دلائل شروع کرنے کا حکم دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت کے آخر میں اٹارنی جنرل کی استدعا کو دیکھیں گے،

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں دو ججز کا اختلافی فیصلہ دینے کا معاملہ اٹھا دیا ، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم مارچ کا عدالتی فیصلہ کتنے ارکان کا ہے یہ سپریم کورٹ کا اندرونی معاملہ ہے یہ بتائیں کہ کیا آئین نوے روز میں انتخابات کرانے کا تقاضا کرتا ہے یا نہیں؟

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اپنی سیاسی قیادت سے بات کی؟ پی ٹی آئی کو پہل کرنا ہوگی کیونکہ عدالت سے رجوع انہوں نے کیا ہے ملک میں اس وقت تشدد اور عدم برداشت ہے، معاشی حالات دیکھیں، آٹے کے لیے لائنیں لگی ہوئی ہیں آپس میں دست وگریباں ہونے کے بجائے ان لوگوں کا سوچیں ، پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ انتخابات میں تاخیر ہوئی تو یہ بحران مزید بڑھے گا چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جواب دیا کہ تحریک انصاف اگر پہل کرے تو ہی حکومت کو کہیں گے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن 6 ماہ الیکشن آگے کر سکتا ہے تو 2 سال بھی کر سکے گا، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات آگے کون لے جا سکتا ہے یہاں آئین خاموش ہے، کیا پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم نہیں کرنی چاہیئے؟ جسٹس منیب اختر نے اس بات سے اتفاق کیا۔دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی قانون الیکشن کمیشن کو انتخابات ملتوی کرنے کا اختیار نہیں دیتا- قانون نے صدر مملکت کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار دیا ہے- الیکشن 90 دنوں میں ہی ہونا ہیں-آئین میں واضح لکھا ہے- الیکشن ایکٹ کی سیکشن 58 انتخابات کو منسوخ کرنے کی اجازت نہیں دیتا-

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس نیشنل کاز کے لئے جو لوگ تنخواہیں لے رہے ہیں ان کو کٹ لگایا جاسکتا ہے؟ ا سے اہم انتخابات کا ٹاسک مکمل کیا جاسکتا ہے،لیکن اس سب پر جواب وزارت خزانہ ہی دے سکتی ہے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو وزارت خزانہ نے فنڈز کی فراہمی سے انکار کردیا،جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ انکار وزارت خزانہ کیسے کرسکتا ہے،؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ آئین کے ایمرجنسی prevision میں موجود ہے کہ خراب ترین صورتحال میں انتخابات ملتوی کئے جاسکتےہیں،کیا اس وقت ایسی ایمرجسنی کی صورتحال ہے کہ انتخابات نہ ہوں؟ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا ایسی کوئی صورتحال نہیں ،،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کے لئے ججز کی تنخواہوں میں کٹوتی کی تجویز دے دی۔ دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے، بحران سے نمٹنے کے لیے قربانی دینا ہوتی ہے، 5 فیصد تنخواہ کٹنے سے الیکشن کا خرچہ نکل سکتا ہے،انتخابات کے لئے پورے بجٹ کی ضرورت نہیں 20 ارب کا کٹ ہماری تنخواہوں پر بھی لگایا جاسکتا ہے،

    فیڈرل کنسولییڈیٹڈ فنڈ سے رقم کے اجرا پر بھی بحث، فاروق ایچ نائیک نے کہا یہاں سے فنڈ پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد خرچ ہوتے ہیں. جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر اسمبلی تحلیل ہوجائے تو کیا فنڈز جاری ہی نہیں ہو سکیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی بات کرتا ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ابسلوٹلی ناٹ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ابسلوٹلی ناٹ تو آپ نے کسی اور کو کہا تھا،چیف جسٹس کے ریمارکس پر عدالت میں قہقے گونج اٹھے. دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سب سے زیادہ آپریشن کیے، پنجاب میں اب تک صرف 61 آپریشن ہوئے، سندھ میں 367 جبکہ خیبرپختونخوا میں 1245 آپریشن ہوئے،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 58 انتخابات منسوخ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، 2008 میں انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آئین کے 2 آرٹیکلز کا سہارا لیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے وجوہات بتا کر کہا آئینی ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر ہیں، الیکشن کمیشن 8 اکتوبر کی تاریخ نہ دیتا تو کیا ہوتا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن تاریخ تبدیل کرنے کیلئے صدر سے رجوع کر سکتا تھا،تمام انتظامی ادارے الیکشن کمیشن سے تعاون کے پابند ہیں، وجوہات ٹھوس ہوں تو ہی کمیشن رجوع کر سکتا ہے ، وکیل علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 220 تمام حکومتوں، اداروں کو کمیشن سے تعاون کا پابند کرتا ہے،الیکشن کمیشن نے صرف اداروں سے موقف لے کر فیصلہ لکھ دیا، دالت کمیشن سے پوچھے آئینی اختیاراستعمال کیوں نہیں کیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انتظامی ادارے تعاون نہ کریں تو آرٹیکل 5 کا اطلاق ہوگا،ہر ادارہ آئین اور شخص قانون پر عمل کرنے کا پابند ہے، الیکشن کے مطابق آرٹیکل 254 الیکشن منسوخ کرنے کا اختیار دیتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کی تاریخ پہلے ہی 90 دن کے بعد کی تھی،کیا 90 دن بعد کی تاریخ درست تھی؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اب بھی عدالت حکم دے تو 90 دن میں الیکشن نہیں ہو سکتا، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے بھی الیکشن تاریخ 90 دن کے بعد کی دی،آرٹیکل 254 کا سہارا کام ہونے کے بعد لیا جا سکتا ہے پہلے نہیں، جسٹس اعجازاالاحسن نے کہا کہ عملی طور پر الیکشن 90 دن میں ممکن نہ ہوں تو عدالت حکم دے سکتی ہے

    دوران سماعت اٹارنی جنرلنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 30 جون تک 170 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف ہے،آئی ایم ایف کا مطالبہ تھا شرح سود میں اضافہ کیا جائے، شرح سود میں اضافے سے مقامی قرضوں میں اضافہ ہوا۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا 20 ارب روپے جمع کرنا حکومت کیلئے مشکل کام ہے؟ کیا عام انتخابات کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ صوبوں کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے بچانا وفاق کی آئینی ذمہ داری ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاق غریب اورصوبے امیر ہوئے ہیں،معاشی صورتحال سے کل آگاہ کروں گا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا تھا الگ الگ الیکشن کروانے کے پیسے نہیں ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکرٹری خزانہ نے الیکشن کمیشن کے بیان پر کہا تھا انہوں نے ایسا کہا ہوگا،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ ترجیحات کا ہے،لیپ ٹاپ کیلئے10ارب نکل سکتے ہیں توالیکشن کیلئے 20 ارب کیوں نہیں؟ فوادچودھری نے کہا کہ ترقی منصوبوں کیلئے بھی ارکان کو فنڈز دیئے گئے ہیں ،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان کو فنڈز دینا عدالتی حکم کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ترقیاتی فنڈز سے متعلق ہدایت لے کر آگاہ کروں گا، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا الیکشن کیلئے فنڈز دینا صوبے کی ذمہ داری ہے یا وفاق کی؟ کیا ترقیاتی فنڈز کے اعلان کے وقت آئی ایم ایف کی شرائط نہیں تھیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ ترقیاتی فنڈز والی بات شاہد 5 ماہ پرانی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کیلئے فنڈز فراہم کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت سلپمنٹری گرانٹ جاری کی جا سکتی ہے۔

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • عدالت میں پیشی کیلئے عمران خان لاہور سے اسلام آباد روانہ

    عدالت میں پیشی کیلئے عمران خان لاہور سے اسلام آباد روانہ

    لاہور:سابق وزیراعظم عمران خان عدالت میں پیشی کے لیے لاہور سے اسلام باد روانہ ہو گئے-

    باغی ٹی وی : عمران خان عدالت میں پیشی کے لیے زمان پارک سے قافلے کی صورت میں روانہ ہوگئے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے ساتھ جوڈیشل کمپلیکس میں بھی ممکنہ پیشی کا امکان ہےعمران خان ممکنہ طورپر جوڈیشل کمپلیکس میں توڑپھوڑ کے مقدمات میں ضمانت سمیت 7 مقدمات میں عبوری ضمانتیں حاصل کرنے کے لیے آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے۔


    عمران خان کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’آج عمران خان پر درج 7 مقدمات میں ہم ان کی عبوری ضمانت کروایں گے، پچھلی پیشی پر جوڈیشل کمپلیکس میں ہونے والی صورت حال کے بر عکس ہم سیدھا ہائی کورٹ میں جا رہے ہیں تمام مقدمات میں کل ہی دائری ہو گی اور کل ہی عبوری ضمانت لیں گے۔


    اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ممکنہ عدالت پیشی سے متعلق کوئی اطلاع نہیں، اسلام آباد پولیس عدالتی احکامات کی روشنی میں ہی سکیورٹی انتظامات کرےگی عدالت کے احاطے میں صرف متعلقہ اشخاص کو داخلے کی اجازت دی جائے گی، پہلےکی طرح طرزعمل اپنایا تو پولیس بلا تفریق قانونی طریقہ اپنائے گی قانون کی مکمل عملداری برابری کی سطح پر عمل میں لائی جائے گی۔

  • جلسہ گاہ کو جانیوالے والے راستوں کی بندش، پی ٹی آئی پہنچی عدالت

    جلسہ گاہ کو جانیوالے والے راستوں کی بندش، پی ٹی آئی پہنچی عدالت

    لاہور ہائیکورٹ میں مینار پاکستان جلسہ گاہ کو جانیوالے والے راستوں کی بندش کے خلاف درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے دائر کی ،درخواست میں چیف سیکرٹری. ڈی سی لاہور اور آئی جی پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے مینار پاکستان پر جلسہ کی اجازت دی تھی،لوگوں کو جلسے میں جانے سے روکا جا رہا ہے یہ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، نگراں حکومت کا کام صرف الیکشن کرانا ہے، لاہور ہائی کورٹ فوری طور پر راستے کھولنے کا حکم دے،

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمو دقریشی کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے ہمیں جلسے کی اجازت دی ، لاہور کی انتظامیہ نے اجازت میں رکاوٹیں ڈالیں نگران حکومت جانبدار ہے، نگران حکومت ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے ،ہر شہر کو سیل کردیا گیا، جگہ جگہ کنٹینر لگا دئیے گئے ، اب تک 1500 سے 1800 کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا، تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب کا سارا زور پی ٹی آئی کے ورکرز کواُٹھانے پر ہے ،پولیس آفیسر حراست میں ورکرز کی جیبوں سے پیسے نکال کر ہتھیا لیتے ہیں میں پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ سی آئی اے تھانے میں پچھلے پانچ دنوں سے جیل میں گل سڑ رہے ہیں، یہ سب اظہر مشوانی ہیں، فواد چودھری کا کہنا ہے کہ پورا لاہور شہر اسوقت کینٹینروں سے بھرا ہوا ہے،لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کو ردی میں پھینک دیا گیا ہے، ملک میں فاشزم ایسا ننگا ناچ دکھارہا ہے جس کی مثال نہیں ملتی، آج کے جلسے میں تمام پابندیوں کو توڑ کر لاکھوں لوگ شامل ہونگے،

     انتظامیہ نے مختلف سڑکوں پر کنٹینرز لگا دیئے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    دوسری جانب رکن سندھ اسمبلی صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے نگران پنجاب حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کے 500سے زائد کنٹینرز پکڑے جانے پر اظہارِ برہمی کیا اور کہا کہ پورا لاہور شہر جام کر دیا گیا ہے ، یہ نگران حکومت کیا چاہتی ہے ٹرانسپورٹرز کے نقصان کی کا ازالہ کون ادا کرے گا کروڑوں روپے کے مال سے بھرے کنٹینر لاہور کی سڑکوں پر لاوارث پڑے ہیں۔ سپریم کورٹ پنجاب حکومت کے اس قانون کے خلاف کاروائی کا نوٹس لے۔ سپریم کورٹ ٹرانسپورٹرز کی مدد کرے، یہ ظلم اب ناقابل برداشت حد پر پہنچ چکا ہے۔

    علاوہ ازیں پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات عامر میر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے جلسے کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کر رہے ، کارکنان کو جانے کی اجازت ہے، کچھ مقامات پر کینٹینر لگائے گئے ہیں وہ سیکورٹی کی وجہ سے لگائے ہیں، عوام کو سیکیورٹی فراہم کرنا اور انکی جانوں کو محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے عوامی اجتماعات کی صورت میں دہشتگردی کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنوں کو جلسے میں شمولیت سے نہیں روکا جا رہا حکومت نے پی ٹی آئی کو جلسہ کرنے کی اجازت دی رکھی ہے

    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ عمران خان کو قاتلانہ حملہ میں 11 گولیاں ماری گئیں ، 127 مقدمات درج کیے گئےعمران خان کے گھر پرمتعدد حملے اور کارکنان پر تشد د کیا گیا ، پاکستانی عوام کی سیاسی نسل کشی ، جمہوریت کی تباہی کو روکنے میں کردار ادا کریں یورپی پارلیمنٹ ،ہاؤس آف کامن ، آئی پی یو، سی پی اے سمیت دنیا کے مختلف فورمز کو خطوط، بطور سابق اسپیکر پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سامنے لانا چاہتا ہوں ، عمران خان کو سیاست سے نکالنے کیلئے جھوٹے فوجداری مقدمات درج کیے گئے

    تحریک انصاف آج مینار پاکستان پر جلسہ کرنے جا رہی ہے، جلسے سے عمران خان خصوصی خطاب کریں گے، جلسے کی تاریخ چار بار بدلی گئی تا ہم آج جلسہ ہو گا، جلسے کے لئے تیاریاں و انتظامات جاری ہیں تو دوسری جانب حکومت بھی ایکشن میں ہے، حکومت نےپنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے مختلف راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا، ریلوے سٹیشن سے مینار پاکستان جانے والے تمام راستے بند کر دیئے گئے ہیں، شاہ عالم مارکیٹ چوک، بانساں والا بازار چوک پر دونوں اطراف کنٹینرز لگا دیئے گئے ہیں، لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں کو بھی کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے 25 مارچ کو مینار پاکستان لاہور میں جلسے کا اعلان کر رکھا ہے، جلسے کے حوالہ سے عمران خان کہتے ہیں کہ آج رات مینارِپاکستان پر ہمارا چھٹا جلسہ ہےاور میرا دل کہہ رہا ہے کہ یہ پہلےتمام ریکارڈز توڑ دےگا۔ میری لاہور میں سب کو دعوت ہے کہ نمازِتراویح کے بعد اس تاریخی جلسےمیں شریک ہوں۔ میں حقیقی آزادی کے اپنے ویژن پر روشنی ڈالوں گا اور اپنی قوم کو بتاؤں گاکہ ہم پاکستان کو تباہی کی اس دلدل سے کیسے نکالیں گے جس میں مجرموں کےاس گروہ نے ملک کو دھکیلاہے۔ یہ(مجرم)لوگوں کو جلسے میں شرکت سے روکنے کیلئےہرطرح کی رکاوٹ ڈالیں گے مگر میں سب کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ایک سیاسی اجتماع میں شرکت آپکا بنیادی حق ہے چنانچہ اپناحق استعمال کیجئےاور مینارِ پاکستان کےاس تاریخی اجتماع میں شریک ہوں

  • اظہر مشوانی کی بازیابی کی درخواست پر نوٹس جاری

    اظہر مشوانی کی بازیابی کی درخواست پر نوٹس جاری

    عمران خان کے فوکل پرسن اظہر مشوانی کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج کرانے سے متعلق درخواست پر سیشن کورٹ لاہور میں سماعت ہوئی

    سیشن کورٹ لاہور نے واقعے پر پولیس سے 28 مارچ تک جواب طلب کرلیا ،سیشن کورٹ لاہور میں درخواست اظہر مشوانی کے بھائی نے جمع کرائی۔ درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ بھائی کو زمان پارک جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا جبکہ پولیس کو ایف آئی ار کے لیے درخواست دی لیکن مقدمہ درج نہیں کیا گیا ،درخواست گزار نے عدالت کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دینے اور مبینہ مغوی کو بازیاب کرانے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی،عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد سیشن کورٹ لاہور نے مقدمہ درج نہ کرنے پر پولیس سے 28 مارچ تک جواب اور رپورٹ طلب کرلی

    واضح رہے کہ اظہر مشوانی کو غائب ہوئے دو روز گزر چکے ہیں، کسی بھی ادارے نے اظہر مشوانی کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی، تحریک انصاف اظہر مشوانی کی رہائی کےلئے ٹرینڈ چلا رہی ہے ،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ اظہر مشوانی کو لاہور سے دوپہر میں اغوا کیا گیا، کہاں رکھا گیا، پتہ نہیں چل رہا ہے

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     انتظامیہ نے مختلف سڑکوں پر کنٹینرز لگا دیئے

    مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعظم عمران خان پر کڑی تنقید کی ہے

  • اسلام آباد پولیس پر لگائے جانے والے الزامات میں کوئی صداقت نہیں،ترجمان

    اسلام آباد پولیس پر لگائے جانے والے الزامات میں کوئی صداقت نہیں،ترجمان

    ترجمان اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل پولیس عدالتوں کے احکامات کی بجا آوری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھاتی ہے ۔اسلام آباد پولیس پر لگائے جانے والے الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔ پولیس نے عدالتی احکامات پر عمل کیا لیکن دوسری جانب سے مجرمانہ عمل دھرائے گئے۔ الزامات محض تفتیش پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہے۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ بے بنیاد الزامات اور پراپیگنڈہ پولیس کو اپنے قانونی اقدامات سے نہیں روک سکتا ۔اسلام آباد پولیس قانون کی عملداری اور عدالتوں سے تعاون کے فرائض سر انجام دیتی رہے گی۔پولیس کا بنیادی فرض عوام کی جان و مال کی حفاظت ہے جو کہ پولیس بخوبی ادا کرتی رہے گی۔قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔کسی سے امتیازی سلوک نہیں کیا جائیگا ۔اسلام آباد پولیس کو منصوبہ بندی کے تحت افواہوں اور الزامات کا نشانہ بنایا جارہا ہےجسکی اسلام آباد پولیس مذمت کرتی ہے۔ اسلام آباد کیپیٹل پولیس بیک وقت دہشتگردی ،امن عامہ کے قیام اور جرائم کی سرکوبی کیلئے مصروف عمل ہے

    عمران خان کہتے تھےعدالت جاؤں گا تو قتل ہوجاؤں گا اب کل پیش ہوئے تو کیا قتل ہوگئے؟ مریم اورنگزیب
    ایکواڈوراورپیرو میں زلزلہ،15 افراد ہلاک اور 125 سے زائد زخمی،بلوچستان میں بھی زلزلے کے جھٹکے
    جوڈیشل کمپلیکس سانحہ: امجد نیازی سمیت تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنےکا حکم
    ٹیم غازی نے نیشنل برج فیڈریشن آف ایشیاء اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ میں کوالیفائی کرلیا

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عدالت پیشی کے لئے گئے تھے وہاں تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی گئی تھی، عمران خان عدالت پیش نہیں ہو سکے تھے بلکہ عدالت نے عمران خان کی حاضری کے لئے فائل گاڑی میں بھجوا دی تھی، بعد ازاں فائل بھی گم ہو گئی، عمران خان اسکے بعد لاہور واپس آ گئے، عمران خان کی پیشی کے حوالہ سے ہونیوالی ہنگامہ آرائی پر اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کی گرفتاریاں بھی جاری ہیں

  • عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت پہنچ گئے،تین مقدموں میں ضمانت منظور

    عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت پہنچ گئے،تین مقدموں میں ضمانت منظور

    سابق وزیراعظم عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت پہنچ گئے

    عمران خان سخت سیکورٹی میں عدالت پہنچے،عمران خان اپنی بلٹ پروف گاڑی میں احاطہ عدالت میں داخل ہوٸے عمران خان کی تینوں مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی گئی، انسداد دہشتگردی عدالت نے گرفتاری سے روک دیا،عدالت نے چار اپریل تک عمران‌ خان کی ضمانت منظور کر لی،

    عمران خان کے خلاف تھانہ ریس کورس میں تین مقدمات درج ہیں جن میں پی ٹی آئی کارکن ظل شاہ کی موت، جلاؤ گھیراؤ اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمات ہیں جس میں انسداد دہشتگردی اور اعانت جرم کی دفعات ہیں،

    عدالت پیشی کے موقع پر مختصر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ آج اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے مینار پاکستان پر تاریخی جلسہ ہوگا، یہ ڈراتے رہیں ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں،خوف کی زنجیریں توڑ دی ہیں ہمارے 1600 ورکرز کو پکڑ لیا گیا ہے مگر آج کا جلسہ ہر صورت کامیاب ہوگا،لوگ آٹے کی لائنوں میں مر رہے ہیں، ہم بتائیں گے قوم کو دلدل سے کیسے نکالنا ہے،

    https://twitter.com/TheImranRaj/status/1639541629001293824

    قبل ازیں عمران خان نے لاہور میں درج تین مقدمات میں ضمانت کے لیے انسداد دہشتگری عدالت سے رجوع کر لیا ،عمران خان کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے عبوری ضمانتیں دائر کر دیں ،عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ شامل تفتیش ہونا چاہتا ہوں ،پولیس کی جانب سے گرفتاری کا خدشہ ہے ۔ عدالت تینوں مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر کے پولیس کو گرفتاری سے روکے عمران خان کے خلاف تھانہ ریس کورس میں دہشتگردی دفعات کے تحت تین مقدمات درج ہیں

    عمران خان کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سیکیورٹی کے لیے درخواست داٸر کر دی گئی، وکیل عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان آج انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوں گےعمران خان کو شدید سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں ،پہلے بھی عمران خان پر حملہ ہو چکا ہے عمران خان کو گاڑی سمیت عدالت میں اندر آنے دیا جائے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی عمران خٌان لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے تھے، عمران خان کی درخواست ضمانت لاہور ہائیکورٹ نے منظور کر لی تھی، پانچ مقدمات میں حفاظتی ضمانتوں میں 27 مارچ تک توسیع کر دی گئی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کا بھی حکم دیا تھا،

    بیان حلفی دیں کہ آپ نے دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ضمانت دائر کی تھی, عمران خان کو بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت
    20 رمضان سے قبل پنشن اور تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، قائمہ کمیٹی
    سوال یہ ہے کہ اکتوبر میں کیسے ہوں گے الیکشن؟ عمران خان
    راہول گاندھی کو بھارتی پارلیمنٹ نے نااہل قرار دے دیا

  • حماد اظہر، فواد چودھری کی ضمانتیں خارج

    حماد اظہر، فواد چودھری کی ضمانتیں خارج

    انسداد دہشت گردی عدالت ، پاکستان تحریک انصاف کی ریلی کے وقت پولیس پر تشدد٫,اقدام قتل ٫ قتل اور جلاؤ گھیراؤ کرنے اور کار سرکار میں مداخلت کا معاملہ ،عدالت نے پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر اور فواد چوہدری کی عبوری ضمانتیں خارج کردیں، عدالت میں عدم پیشی کی وجہ سے دونوں رہنماؤں کی درخواست ضمانت خارج کی گئی،

    عدالت نے میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کی عبوری ضمانتوں پر 4 اپریل تک توسیع کر دی ،پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف تھانہ ریس کورس پولیس نے 12 مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا مقدمہ میں دہشت گردی ، قتل ،اقدام قتل ، لڑائی جھگڑا ، کار سرکار میں مداخلت سمیت بارہ دفعات شامل ہیں عدالت نے پی ٹی آئی رہنما محمود الرشید اعجاز چوہدری کی عبوری ضمانت 4 اپریل تک منظور کر لی

    تحریک انصاف کے رہنماء محمود الرشید نے انسداد دہشتگردی عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں موجودہ بحران کا حل صرف انتخابات ہیں ، چیف الیکشن کمیشنر پارٹی بن چکا ہے،امپورٹیڈ حکومت انتخابات سے بھاگ رہی ہے،انتخابات میں جتنی تاخیر ہو گی سیاسی اور معاشی عدم استحکام اتنا ہی بڑھے گا،وکلاء سول سوسائٹی اور عوام مل کر عوامی تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں،ایک سال میں ملک کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے،مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عمران خان، فواد چودھری اور اسد عمر کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا گیا

    علاوہ ازیں سیشن کورٹ لاہور ، تحریک انصاف کے سوشل میڈیا رکن اظہر مشوانی کے اغوا کا مقدمہ درج کرانے کی درخواست پر سماعت ہوئی،سیشن کورٹ نے پولیس سے 28 مارچ تک جواب طلب کرلیا ،ایڈیشنل سیشن جج نے اظہر مشوانی کے بھائی کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بھائی کو زمان پارک جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے ۔پولیس کو ایف آئی ار کے لیے درخواست دی لیکن مقدمہ درج نہیں کیا گیا ۔عدالت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے اظہر مشوانی کو بازیاب کرانے کا حکم دے

  • جسٹس نقوی کیخلاف ریفرنس پر ابتدائی کارروائی شروع

    جسٹس نقوی کیخلاف ریفرنس پر ابتدائی کارروائی شروع

    سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس نقوی کیخلاف ریفرنس پر ابتدائی کارروائی شروع ہو گئی ہے

    سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل نے شکایت کنندگان سے ریفرنس کی بابت مزید تفصیلات مانگ لیں ،سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل نے میاں دائود ایڈووکیٹ کو مراسلہ جاری کر دیا،مراسلہ سپریم جوڈیشل کونسل انکوائری رولز کی دفعہ5 کی ضمنی دفعہ 3 کے تحت جاری کیا گیا. میاں داود ایڈووکیٹ سے جسٹس نقوی کیخلاف ریفرنس کی بابت بیان حلفی طلب کر لیا گیا

    میاں داود ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل انکوائری رولز کے تحت بیان حلفی قانونی تقاضا نہیں ہے،قانونی تقاضا نہ ہونے کے باوجود سپریم جوڈیشل کونسل کو بیان حلفی اسی ہفتے جمع کرا دیں گے،رولز کے تحت شکایت کنندہ نے صرف اپنی شناخت کی تصدیق کرنی ہوتی ہے، ایسی خط و کتابت جسٹس نقوی کیخلاف ریفرنس میں تکنیکی حربوں کے ذریعے تاخیر پیدا کرنے کی کوشش ہے، تاخیر پیدا کرکے سربراہ سپریم جوڈیشل کونسل بدنیتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں،

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

  • حسان نیازی کوئٹہ پولیس کے حوالے

    حسان نیازی کوئٹہ پولیس کے حوالے

    سابق وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کو کوئٹہ منتقل کئے جانے کا امکان ہے

    حسان نیازی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے،کوئٹہ پولیس حسان نیازی کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد کچہری پہنچ گئی ،عدالت نے حسان نیازی کو جیل سے کچہری پیش کرنے کی ہدایت کردی جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے طلبی کا روبکار جاری کیا

    اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس نے حسان نیازی کا ایک روزہ راہداری ریمانڈ منظور کرکے کوئٹہ پولیس کے حوالے کردیا ،عدالت نے حکم دیا کہ تھانہ ائیرپورٹ میں درج مقدمہ میں کل پولیس کوئٹہ کے متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے حسان نیازی کو پیش کرے

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب نے دعویٰ کیا ہے کہ حسان نیازی جو وکیل ہے اب انتقامی کاروائی کے تحت 18مارچ کو تھانہ ائیرپورٹ کوئٹہ میں درج مقدمہ میں گرفتار کرکے بلوچستان لے جا رہے ۔پاکستان میں عملی طور پرجنگل کا قانون نافذ ہوچکا ہے۔جعلی مقدمات بنا کرگرفتاریاں ڈالی جارہی ہیں،چیف جسٹس صاحب اس لاقانونیت اور انسانی حقوق خلاف ورزی کو روکیں ،فرح حبیب نے روبکار طلبی بھی ٹویٹ کی،

    قبل ازیں عمران خان کے بھانجے حسان نیازی نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کر دی ،حسان نیازی نے درخواستِ ضمانت اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں دائر کی عدالت نے حسان نیازی کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری کر دیئے، عدالت نے پولیس کو حسان نیازی سے متعلق ریکارڈ سمیت کل طلب کر لیا ،گذشتہ روز حسان نیازی کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا تھا، فاضل جج نے انویسٹی گیشن افسر کی جانب سے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی تھی

    واضح رہے کہ حسان نیازی کو تین روز قبل گرفتار کیا گیا تھا، حسان نیازی کا عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ دیا تھا جس کے بعد انہوں نے ریمانڈ چیلنج کیا تھا مگر عدالت نے ریمانڈ کے خلاف اپیل مسترد کر دی تھی،

    وکیل نعیم حیدر کا کہنا ہے کہ حسان خان نیازی میرے ساتھ نکلے ، ہم نے بتایا ضمانت ہو گئی ہے ، تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب کا کہنا ہے کہ تمام مقدمات میں ضمانت کے باوجود ایس پی نوشیروان نے دہشت گردی عدالت کے باہر سے حسان نیازی کو اغوا کرلیا ہے۔ پولیس گردی کی انتہا ہوگئی ہے حسان نیازی وکیل جس کی ابھی عدالت نے ضمانت منظور کی ہے اسکو اغوا کرلیا ہے ،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

  • شاندانہ گلزار کے خلاف بغاوت کا مقدمہ خارج

    شاندانہ گلزار کے خلاف بغاوت کا مقدمہ خارج

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی رہنما شاندانہ گلزار کے خلاف بغاوت کا مقدمہ خارج کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے 14 مارچ کودرخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا ہے، عدالت نے شاندانہ گلزار کے خلاف اسلام آباد کے ویمن تھانے میں بغاوت کا مقدمہ خارج کرنے کا حکم دے دیا، جسٹس محسن اختر کیانی نے محفوظ فیصلہ سنایا ،شاندانہ گلزار کے خلاف نجی ٹی وی کے پروگرام میں اداروں کے خلاف اکسانے پر اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں 153 اے، 124 اے اور 505 کی دفعات شامل کی گئی تھیں جو بغاوت، اشتعال انگیزی اور منافرت پھیلانے کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جب سے حکومت ختم ہوئی ہے، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت رہنما بھی اداروں پر مسلسل تنقید کررہے ہیں، عمران خان نے پہلے امریکہ کو مورد الزام ٹھہرایا کہ امریکہ نے ہماری حکومت گرائی ، پھر یوٹرن لیا اور چیف الیکشن کمشنر کا نام لے لیا، پھر یوٹرن لے لیا اور جنرل ر باجوہ کا نام لے لیا، تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ورکرز بھی اداروں پر تنقید سے باز نہیں آ رہے جب کسی کی گرفتاری ہوتی ہے تو پھر معافیاں مانگ کر انکو رہائی ملتی ہے،

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل