Baaghi TV

Tag: عدالت

  • سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے پارٹی فنڈنگ کیسز کے فیصلے جلد کرنے کی تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کی درخواست پرفیصلہ محفوظ کیا ،دوران سماعت پٹیشنر کی جانب سے وکیل انور منصور خان اور ان کی معاون عمائمہ انور عدالت میں پیش ہوئیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہ عدالت الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کرسکتی ہے؟ یہ ایک سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کرنے پر کوئی ججمنٹ یا قانون ہے تو پیش کریں الیکشن کمیشن کا طریقہ کار تھوڑا خراب ہوگیا ورنہ یہ مسائل نہ ہوتے پارٹی اکاؤنٹس کے آڈٹ کے بعد پارٹی کو شوکاز کرکے صفائی کا موقع دینا چاہیے تھا الیکشن کمیشن کو باقی کارروائی بعد میں کرنی چاہیے تھی .معاون وکیل عمائمہ انور نے عدالت میں کہا کہ آرٹیکل199 سی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو وسیع اختیارات دیئے ہیں ہمارا کیس یہ ہے کہ ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کتنا وقت لگے گا باقی پارٹیز کی اسکروٹنی کرنے میں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ ہم اس حوالے سے فکس ٹائم نہیں دے سکتے ابھی معاملہ اسکروٹنی کمیٹی میں ہی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی میں ایک اکاؤنٹنٹ کو بھی شامل کرنا چاہیے تھا۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی میں اے جی پی آر سے ایک اکاؤنٹنٹ شامل ہے، معاون وکیل نے کہا کہ گورنمنٹ اکاؤنٹس اور پارٹی اکاؤنٹ میں فرق ہوتا ہے کوئی پرائیویٹ اکاؤنٹنٹ ہائر کرنا چاہیے تھا ، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابات کی وجہ سے کام کا بڑا بوجھ ہےعدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن تو آپ کروا ہی نہیں رہے وہ تو اکتوبر میں ہیں تب تک یہ کام مکمل کرلیں ،معاون وکیل عمائمہ انور نے کہا کہ ہمیں اس کیس کی بنیاد پرالیکشن سے ڈی فرنچائز کرسکتے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو کوئی ڈی فرنچائز نہیں کر رہا ، معاون وکیل کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے جو ٹی او آرز تھے وہ باقی پارٹیوں کے لیے نہیں ہیں ہمارے 5 سال کے اکاؤنٹ دیکھےباقیوں کے 6 ماہ کے دیکھ رہے ،عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے جلد کرنے کے لئے عدالت میں درخواست دائرکر رکھی ہے، درخواست تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب نے دائر کی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے، پی ٹی آئی کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرح دیگر جماعتوں کے کیس سننے میں الیکشن کمیشن ناکام رہا پی ٹی آئی کی درخواست میں مزید کہا گیا کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جمہوریت کے تحفظ کیلئے پٹیشن میں اٹھائے گئے سوالات کا فیصلہ کیا جائے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جائے کہ دیگر جماعتوں کے ممنوعہ فنڈنگ کیسز کی روزانہ سماعت کی جائے

  • قاسم علی شاہ کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    قاسم علی شاہ کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں قاسم علی شاہ کو الحمراء آرٹس کونسل کے بورڈ آف گورنر کا چئیرپرسن تعینات کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے فریقین کو دوبارہ نوٹس جاری کر دیئے ، دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ نگراں وزیر اعلی کو تعیناتی کا کوئی اختیار نہیں ہے قاسم علی شاہ سمیت ممبر بورڈ آف گورنرز کی تعیناتی کالعدم قرار دی جائیں،نگراں وزیر اعلی کو دائرہ اختیار سے باہر نکل کر تعیناتیاں کرنے سے روکا جائے،

    واضح رہے کہ قاسم علی شاہ کو نگران حکومت نے عہدہ دیا تو تحریک انصاف کے وکیل قاسم علی شاہ کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں گئے تھے اور اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دی تھی تاہم عدالت نے درخواست خارج کر دی تھی اور قاسم علی شاہ کو عہدے پر برقرار رکھا تھا، اب قاسم علی شاہ کے خلاف دوبارہ لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس پر ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں،

    سوشل میڈیا پر وائرل تصاویرلیک ہوئیں‌:اوربھی آسکتی ہیں:

    قاسم علی شاہ کی عمران خان پر تنقید، پی ٹی آئی ٹرولز آگ بگولا ہوگئے.

    خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر جلسوں میں استعمال کیا جا رہا ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    اسلام آباد انتظامیہ نے عمران خان کے ہیلی کاپٹر کو پریڈ گراؤنڈ میں لینڈنگ کی اجازت دینے سے انکارکر دیا

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

  • علی امین گنڈا پور کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب

    علی امین گنڈا پور کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور کیخلاف کیس کا دو صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کردیا

    عدالت نے علی امین گنڈا پور کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں اور آئندہ سماعت تک علی امین گنڈا پور کے خلاف تادیبی کارروائی سے روک دیا ،عدالت نے مقدمات کے اندراج کی صورت میں ایف آئی آر کی نقول رپورٹ کے ساتھ منسلک کرنے کا حکم دیا، عدالت نے علی امین گنڈا پور کیخلاف انکوائریزکی تفصیلات طلب کرتے ہوئے 31 مارچ تک تمام فریقین سے جواب طلب کر لیا،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کردیئے، تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ وکیل درخواست گزار کے مطابق علی امین گنڈا پور کو متعدد جعلی مقدمات میں نامزد کیا گیا ،وکیل درخواست گزار کے مطابق ایف آئی آر کی تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے حکمنامہ تحریر کیا عدالت نے کیس کی مزید سماعت31 مارچ تک ملتوی کردی گئی

    علی امین خان گنڈہ پور کی گرفتاری کیلئے ضلعی پولیس کاالامین ہاؤس پر چھاپہ

    پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈہ پور گرفتاری کے ڈر سے روپوش ہوگئے.

    علی امین گنڈا پور کی مشکلات میں اضافہ

    علی امین گنڈا پور کی جانب سے داجل چیک پوسٹ بھکر پر فائرنگ

  • حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،چیف جسٹس

    حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب اورکے پی میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر سپریم کورٹ پہنچ گئے،الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم بھی سپریم کورٹ پہنچ گئی ،وفاقی کابینہ کے ارکان کی کمرہ عدالت آمد ہوئی،وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ بھی عدالت میں موجود تھے،کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل لارجر بینچ نے کی،

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں، فیصلہ چار کا تھا تین کا نہیں،چار ججز نے اس معاملے کو نمٹا دیا تھا، آرڈر اف کورٹ جاری نہیں ہوا تو الیکشن کمیشن کیسے عملدرآمد کرسکتا ہے، آرڈر اف کورٹ چار ججز کا بنتا ہے، اپنے فیصلے پر قائم ہوں، میرے بارے میں غلط تاثر دیا گیا، میرے کل سے منسوب بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، سپریم کورٹ رولز سے متعلق میں نے کہا کہ وہ اندرونی معاملہ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس جمال کو کہا کہ الیکشن کمیشن آرڈر کے بغیر کیسے عمل کررہا ہے،چار ججز میں سے 2 میرے بھی سینئر ہیں چلیں آپ کی وضاحت آ گئی ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میں نےابھی بات کرنی ہےفل کورٹ کیوں وہی 7 ججز بنچ میں بیٹھنے چاہیں،چار ججز نے پی ٹی آٸی کی درخواستیں خارج کی ،ہمارے حساب سے فیصلہ چار ججز کا ہے، ،چیف جسٹس نے آج تک آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں کیا، جب آرڈر آف کورٹ نہیں تھا تو صدر مملکت نے الیکشن کی تاریخ کیسے دی،جب آرڈر آف کورٹ نہیں توالیکشن کمیشن نے شیڈول کیسے دیا؟

    وکیل فاروق ایچ نائیک روسٹرم پر اگئے اور کہا کہ پارٹی بننے کی درخواست دائر کردی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا موقف پیش کرنا چاہتے ہیں، آپ کی درخواست پی ڈی ایم کی طرف سے ہے؟پہلے الیکشن کمیشن کے وکیل کو سنیں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سے عرفان قادر عدالت میں پیش،کہا میری آج پہلی پیشی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سے پہلے سواتی صاحب کمیشن کے وکیل تھے،ہم اس کیس کو اگے لے جانا چاہتے ہیں،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے ماحول کو خراب نہ کیا جائے، سماعت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھائیں تو دیکھیں گے،وکیل پیپلز پارٹی نے کہا کہ آپ فریق بنیں گے تو ہم اعتراض اٹھائیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تحمل کا مظاہرہ کریں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں تحمل کا ہی مظاہرہ کر رہا ہوں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تاریخ مقرر کرنے کے بعد شیڈول جاری کیا اور انتخابات کی تیاریاں شروع کردیآرٹیکل 218 کی زمہ داری کسی بھی قانون سے بڑھ کر ہے ،انتخابات کےلیے سازگار ماحول کا بھی آئین میں ذکر ہے، آرٹیکل 224 کےتحت الیکشن 90 روز میں ہونا ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اچھی تیاری کی ہے،

    سجیل سواتی نے کہا کہ عدالتی آرڈر میں لکھا ہے کہ فیصلہ 3/2 سے ہے، 3/2 والے فیصلے پر پانچ ججز کے دستخط ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کمیشن نے فیصلہ کے پیراگراف 14 اور ابتداء کی سطروں کو پڑھ کرعمل کیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا آپ نے مختصر حکم نامہ دیکھا تھا ، سجیل سواتی نے کہا کہ ممکن ہے کہ ہمارے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا مختصرحکمنامے میں لکھا ہے کہ فیصلہ 4/3 کا ہے،سجیل سواتی نے کہا کہ اسی بات کو دیکھ کر عدالتی حکم پر عمل کیا ،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم مارچ کے اختلافی نوٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ فیصلہ 4/3 کا ہے،اختلاف رائے جج کا حق ہے،یہ اقلیت کسی قانون کے تحت خود کو اکثریت میں ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی، کھلی عدالت میں پانچ ججز نے مقدمہ سنا اور فیصلے پردستخط کیے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا، مختصرحکم نامے میں لکھا ہے کہ اختلافی نوٹ لکھے گئے ہیں، اختلافی نوٹ میں واضح لکھا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی اور اطہرمن اللہ کے فیصلے سے متفق ہیں،کیا جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے ہوا میں تحلیل ہو گئے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو معاملہ ہمارے چیمبرز کا ہے اسے وہاں ہی رہنے دیں، اٹارنی جنرل اس نقطہ پر اپنے دلائل دیں گے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کا کیا موقف ہے،سجیل سواتی نے کہا کہ 4/3 کے فیصلے پر الیکشن کمیشن سے ہدایات نہیں لیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ججز کا احترام ہے مگر اقلیتی فیصلہ اکثریتی فیصلے پرغالب نہیں آ سکتا، قانون واضح ہے کہ اقلیتی فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی،جسٹس منصور اور جسٹس جمال خان کا فیصلہ اقلیتی ہے

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ آٹھ فروری کے لیٹرز پر انحصار کر رہے ہیں ، عدالت نے یکم مارچ کو اپنا فیصلہ دیا، کیا آپ کو فروری میں خیال تھا کہ اکتوبر میں الیکشن کروانا ہے، دوسری طرف آپ کہتے ہیں کہ عدالتی فیصلے سے انحراف کا سوچ نہیں سکتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس کے علاوہ بہت سارے سوالات ہیں، جسٹس منیب اختر کے سوالات نوٹ کر لیں، آپ دلائل دیں پھر سوالوں کے جواب دیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابات کے لیے فوج کے جوان دینے سے انکار کیا گیا ،آئین کا آرٹیکل 17 پرامن انتخابات کی بات کرتا ہے، آئین کے مطابق انتخابات صاف شفاف پرامن سازگار ماحول میں ہوں ،ایجنسیوں نے الیکشن کمیشن کو خفیہ رپورٹس دیں ،عدالت کہے گی تو خفیہ رپورٹس بھی دکھا دیں گے،رپورٹس میں بھکر میانوالی میں مختلف کالعدم تنظیموں کی موجودگی ظاہر کی گئی،الیکشن کے لیے چار لاکھ بارہ ہزار کی نفری مانگی گئی تھی،دو لاکھ ستانوے ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے، پس منظر کے طور پر ان رپورٹس کا حوالہ دیا،الیکشن کمیشن نے فیصلہ 22 مارچ کو کیا،اس سے پہلے یہ گراؤنڈز دستیاب تھے، اس کے بعد انتخابات کے حوالے سے میٹنگز ہوئیں،وزارت داخلہ نے بھی 8 فروری کے خط میں امن و امان کی خراب صورتحال کا زکر کیا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں 20 ارب کا ذکر ہے لیکن کل عدالت کو 25 ارب کا بتایا گیا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پانچ ارب روپے پہلے ہی الیکشن کمیشن کو جاری ہو چکے ہیں، وزارت خزانہ نے بتایا کہ موجودہ مالی سال میں الیکشن کے لیے فنڈز جاری نہیں کر سکتے،پنجاب کیلئے 2لاکھ 97 ہزار سیکورٹی اہلکاروں کی کمی کا بتایا گیا،جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا الیکشن کیلئے قومی اسمبلی نے فنڈز کی منظور دی ہوئی ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ وزارت خزانہ اس بات کا تفصیل سے جواب دے سکتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ الیکشن تو ہر صورت 2023 میں ہونا تھے، کیا بجٹ میں 2023 الیکشن کیلئے رقم مختص نہیں کی گئی تھی؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ انتخابات کیلئے بجٹ آئندہ مالی سال میں رکھنا ہے، قبل ازوقت اسمبلی تحلیل ہوئی اس کا علم نہیں تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اگر انتخابات پورے ملک میں ایک ساتھ ہوں تو کتنا خرچ ہوگا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ملک بھر میں ایک ہی دفعہ انتخابات ہوں تو 47ارب روپے خرچ ہوں گے،انتخابات الگ الگ ہوں تو 20 ارب روپے اضافی خرچ ہوگا، وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ سپیشل سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ سیاسی شخصیات کو سیکورٹی خطرات ہیں، وزارت داخلہ کے مطابق سیکورٹی خطرات صرف الیکشن کے روز نہیں الیکشن مہم کے دوران بھی ہوں گے،الیکشن کمیشن کو بتایا گیا تھا کہ فوج کی تعیناتی کے بغیر الیکشن کو سکیورٹی فراہم کرنا ناممکن ہو گا، سپیشل سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ ان حالات میں پرامن انتخابات کا انعقاد نہیں ہو سکتا، سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی نے بتایا کہ کے پی کے میں کالعدم تنظیموں نے متوازی حکومتیں بنا رکھی ہیں، خفیہ رپورٹس میں بتایا گیا کہ دو مختلف دہشتگرد تنظیمیں متحرک ہیں، خفیہ رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شیڈو حکومتیں قائم ہیں ،2023 میں سکیورٹی کے 443 تھریٹس کے پی کے میں موصول ہوئے، کے پی کے میں رواں سال دہشگردی کے 80 واقعات ہوئے، 170 شہادتیں ہوئیں، خفیہ رپورٹس کے مطابق ان خطرات سے نکلنے میں چھ سے سات ماہ لگیں گے، رپورٹس کے مطابق عوام میں عدم سکیورٹی کا تاثر بھی زیادہ ہے،خیبرپختونخوا کے 80 فیصد علاقوں سکیورٹی خطرات زیادہ ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسی بات کر رہے ہیں ، دو اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ خفیہ اداروں کی رپورٹس میں جو حقائق بیان کیے گئے وہ نظرانداز نہیں کر سکتے، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی طریقہ کار ہے الیکشن کمیشن ان رپورٹس کی تصدیق کروا سکے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کا ایشو تو ہے !بیس سال سے ملک میں دہشتگردی کا مسئلہ ہے، اس کے باوجود ملک میں انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ 90کی دہائی میں تین دفعہ الیکشن ہوئے، 90 کی دہائی میں ملک میں فرقہ واریت اور دہشگردی عروج پر تھی،58/2 بی کے ہوتے ہوئے ہر تین سال بعد اسمبلی توڑ دی جاتی تھی، پنجاب میں دہشتگردی کے پانچ واقعات ہوئے ، آخری واقعہ سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملہ تھا،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ صدر مملکت کو یہ حقاٸق بتائے بغیر آپ نے الیکشن کی تاریخیں تجویز کر دیں، صدر مملکت نے تاریخ کی تبدیلی پرالیکشن کمیشن کو خط نہیں لکھا ،صدر مملکت نے تاریخ کی تبدیلی پر وزیراعظم کو خط لکھ دیا ، جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر ادارے آپکو معاونت فراہم کریں تو کیا آپ الیکشن کروائینگے؟ بظاہر الیکشن کمیشن کا سارا مقدمہ خطوط پر ہے، الیکشن کمیشن کا مسٸلہ فنڈزکی دستیابی کا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا مقصد سیاسی نظام کو چلنے رہنے دینا ہے۔ سیاسی جماعت بھی سیاسی نظام کو آگے بڑھانے کی مخالفت نہیں کرتی، ایک مسئلہ سیاسی درجہ حرارت کا ہے، علی ظفر اور اٹارنی جنرل کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے پر ہدایت لیکر آگاہ کرنے کا کہا تھا، سیاسی درجہ حرارت کم ہونے تک انتحابات پر امن نہیں سکتے، کسی فریق نے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی یقین دہانی نہیں کرائی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت کو مکمل یقین دہانی کروانے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ یقین دہانی کس کی طرف سے ہے؟ وکیل عی ظفر نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے تحریری یقین دہانی کروائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پارٹی کی باری آئے گی تو ان سے بھی اس حوالے سے بات کریں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جہاں مسئلہ زیادہ ہے اس ضلع میں انتحابات موخر بھی ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کچے کے آپریشن کیوجہ سے پورے پنجاب میں الیکشن ملتوی کردیا ۔کے پی کے میں الیکشن کیُ تاریخ دیکر واپس لی گئی۔ اٹھ اکتوبر کی تاریخ پہلے سے مقرر کی گئی ،آٹھ اکتوبر کو کونسا جادو ہو جائے گا جو سب ٹھیک ہو جائے گا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آٹھ اکتوبر کی تاریخ عبوری جائزے کے بعد دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عبوری جائزے کا مطلب ہے کہ انتحابات مزید تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں۔عدالت کو پکی بات چاہیے۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ صاف شفاف انتخابات یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن کوئی بھی حکم جاری کرسکتا ہے،ورکرز پارٹی فیصلہ کے مطابق صاف شفاف انتخابات کے لئے وسیع اختیارات ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اداروں سے معاونت نہیں مل رہی،الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری سے کیسے بھاگ سکتا ہے؟ صاف شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی زمہ داری ہے انتخابی شیڈول پر عملدرآمد شروع ہوگیا تھا، اگر کوئی مشکل تھی تو عدالت آ جاتے، الیکشن کمیشن وضاحت کرے کہ انتخابات 6 ماہ آگے کیوں کردیئے؟ کیا ایسے الیکشن کمیشن اپنیذمہ داری پورے کریگا؟ کیا انتخابات میں 6 ماہ کی تاخیر آئینی مدت کی خلاف ورزی نہیں؟

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کرانے کا اختیار کس دن سے شروع ہوتا ہے؟ انتخابی تاریخ مقرر ہونے سے اختیار شروع ہوتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تاریخ مقرر ہوجائے تو اسے بڑھانے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف پولنگ کا دن نہیں پورا الیکشن پروگرام موخر کیا ہے،الیکشن کمیشن شیڈول تبدیل کرسکتا ہے تاریخ نہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن ٹھوس وجوہات پر الیکشن پروگرام واپس لے سکتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ گورنر اور صدر کی دی گئی تاریخ الیکشن کمیشن کیسے تبدیل کر سکتا ہے!آئین میں واضح ہے کہ پولنگ کی تاریخ کون دے گا !کیا الیشکن ایکٹ کا سیکشن 58 آئین سے بالا تر ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ سے رجوع کر کے قائل کرنا چاہئے تھا الیکشن کمیشن کو موقع ہے آج بھی عدالت کو قائل کرسکتا ہے، کیا 8 اکتوبر کوئی جادوئی تاریخ ہے جو اس دن سب ٹھیک ہوجائے گا ،8 اکتوبر کی جگہ 8 ستمبر یا 8 اگست کیوں نہیں ہوسکتی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 6 ماہ کا وقت مکمل ہونے کے بعد 8 اکتوبر کو پہلا اتوار بنتا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا پولنگ کی تاریخ الیکشن پروگرام کا حصہ ہوتی ہے؟ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ صدر کی تجویز کردہ تاریخ کمیشن کی تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتی، صدرکو فروری میں ہونے والے اجلاسوں سے کیوں آگاہ نہیں کیا گیا؟ جب معلوم تھا کہ 30 اپریل کو الیکشن نہیں ہوسکتے تو تاریخ تجویز ہی کیوں کی گئی؟ عدالت نے صدر کو آگاہ کرنے سے نہیں روکا، الیکشن شیڈول پر عمل کرنے کا کیا فائدہ ہوا جب آج پھر عدالت میں کھڑے ہیں؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر صدر تاریخ کا اعلان کردیں تو کیا الیکشن کمیشن اختیار استعمال کرکے انتخابات سے انکار کرسکتا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پرانا شیڈول ختم کرکے نیا شیڈول جاری نہیں کیا،الیکشن شیڈول کی بجائے الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کو جھنڈا لگا دیا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیکشن 58 الیکشن کمیشن کو تاریخ بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت 8 اکتوبر کی تاریخ پر مہر لگائے، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صرف اپنے حکم کا دفاع کرنا ہے،عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں یہ درخواست گذار نے ثابت کرنا ہے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں تو کیا الیکشن کمیشن انتخابات سے معذوری ظاہر کر سکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کیلئے حکومت پر انحصار کرتا ہے، حکومت نے بتانا ہے کہ وہ مدد کرنے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں، کیا الیکشن کمیشن حکومت کی بریفنگ پر مطمئن ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اگر پیسے اور سکیورٹی مل جائے تو 30 اپریل کو انتخابات ہو سکتے ہیں؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن راستہ نہیں ڈھونڈ سکتا تو ہم ڈھونڈیں گے، 1988 میں بھی عدالت کے حکم پر الیکشن تاخیر سے ہوئے تھے، 2008 میں حالات ایسے تھے کہ کسی نے انتخابات ملتوی کرنے پہ اعتراض نہیں کیا، اللہ کرے 2008 والا واقعہ دوبارہ نہ ہو، بنیادی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین کی تشریح ہو گئی ہے، آرٹیکل 218-3 ارٹیکل 224 سے بالاتر کیسے ہوسکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 218-3 شفاف منصفانہ انتحابات کی بات کرتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شفاف انتحابات نہیں ہوں گے تو کیا ہو گا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن شفاف نہ ہوں تو جہموریت نہیں چلے گی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساز گار ماحول کا کیا مطلب ہے کہ کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے، چھوٹی موٹی لڑائی جھگڑے تو ہر ملک میں ہوتے ہیں، اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلحہ کا استعمال نہ ہو،اگر معمولی جھگڑا بھی نہیں چاہتے تو ایسا نظام بنائیں لوگ گھر سے ہی ووٹ کاسٹ کریں،سمندر پار پاکستانی ووٹ کا حق مانگتے ہیں سپریم کورٹ کا حکم بھی موجود ہے،الیکشن کمیشن نے ابھی تک سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کے لیے کچھ نہیں کیا،حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،

    ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے دلائل شروع ہو گئے ، عدالت میں کہا کہ گورنر کے پی نے ابھی تک انتخابات کی تاریخ نہیں دی، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ نگران حکومت نے گورنر کو تاریخ دینے کا کیوں نہیں کہا؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی معاونت کے لئے تیار ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا گورنر کے پی نے تاریخ کا اعلان کیا ہے؟ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو تاریخ سے آگاہ کردیا ہے، گورنر نے 28 مئی کی تاریخ دی تھی،ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ گورنر کے پی نے 8 اکتوبر کی تاریخ دی ہے،گورنر کا خط کل موصول ہوا ہے ہدایات کےلئے وقت دیں ، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فوری اور جلد از جلد تاریخ دینے کا کہا تھا،گورنر کے پی نے 8 اکتوبر کی تاریخ کس بنیاد پر دی ہے؟اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 روز 30 اپریل کو پورے ہورہے ہیں،90 دن سے کم سے کم آگے کی تاریخ 28 مئی کیسے دی گئی؟ وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ کل گورنر کے پی سے ہدایات لیکر آگاہ کرونگا،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کمرہ عدالت میں سو گئے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنی سیٹ سے اٹھ کر رانا ثنا اللہ کو نیند سے جگایا ،وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور بھی کمرہ عدالت میں سو گئے

    سماعت کے آغاز سے قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کی جانب سے انتخابات ملتوی کیس میں فریق بننے کی درخواست وصول کرلی،قبل ازیں رجسٹرار آفس نے ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یوآئی ف کی پارٹی بننے کی متفرق درخواست لینے سے انکار کر دیا تھا، رجسٹرار آفس نے تینوں سیاسی جماعتوں کو پارٹی بننے کی درخواست دوران سماعت عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی تھی مگر بعد میں رجسٹرار آفس نے درخواست وصول کر لی،

    گزشتہ روز سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایمرجنسی لگا کر ہی الیکشن ملتوی کیے جا سکتے ہیں سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں، اگر الیکشن کمیشن کا اختیار ہوا تو بات ختم ہوجائے گی

    دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ گزشتہ قومی اسمبلی اجلاس میں پیش ہونے والے بل کو کمیٹی میں بھجوایا گیا سپریم کورٹ میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے یہ بل پیش کیا گیا 184(3) کے دائر اختیار کو زیر بحث لایا جائے بنیادی حقوق کے حوالے سے وزارت قانون کام کر رہی تھی گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی صورت میں بھی آوازیں آئیں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مناسب وقت ہے کہ پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرے

    تحریکِ انصاف کے وکیل علی ظفر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں جہاں نظام کو بہتر بنانے کی بات ھے ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اٹارنی جنرل کا بڑا عہدہ ہوتا ہے، مجھے نا کبھی شوق ہوا نا آفر ہوئی،جتنے اٹارنی جنرل آئے ہیں سب اچھے پائے دار وکیل تھے ،مجھے اٹارنی جنرل بننے کا کوئی شوق نہیں

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حاضر ہوئے کہ عدالت عظمی سے انصاف چاہتے ہیںملک میں رواداری رول آف لاء میں عدالت عظمی اپنا کردار ادا کرے ،بد قسمتی سے ایسے فیصلے ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں ان بیلنس ہوا،ان فیصلوں پر لوگوں کو شکوک و شبہات ہے، کہا جارہا ہے یہ تین دو کا فیصلہ کیا، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ چار ایک کا فیصلہ ہے، یہ معاملات ختم ہونے چاہئیے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اندرونی معاملہ نہیں ہوسکتا ،یہ ابہام فل کورٹ ہی ختم کرسکتا ہے،کل پارلیمنٹ میں سوموٹو نوٹس کے متعلق ایکٹ قومی اسمبلی میں پیش ہوا ہے ، امید ہے وہ آج پاس ہوجائے گا،بابا رحمتے بعد میں بابا زحمتے ثابت ہوا ، کورٹ سے انصاف چاہتے ہیں،ملک میں رول آف لاء میں عدالت عظمی کا کرادر چاہتے ہیں،اس سے پہلے جو ناانصافیاں ہوئی لوگوں کو اس پر اعتراض ہے،ججز بھی کہہ رہے ہیں فیصلہ 4 تین سے تھا،آج بھی استدعا ہے سوموٹو کو فل کورٹ کی طرف لے جایا جائے،سپریم کورٹ آف پاکستان قوم کی رہنمائی کرے گی،سپریم کورٹ کے پاس مارل اتھارٹی ہے،جب سپریم کورٹ کے ججز آمنے سامنے ہوں اس وقت پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے،

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • کراچی مقدمہ،عدالت نے حسان نیازی کو بری کر دیا

    کراچی مقدمہ،عدالت نے حسان نیازی کو بری کر دیا

    سابق وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کی درخواست ضمانت پر سندھ ہائیکورٹ میں کل سماعت ہو گی،

    عدالت نے فوری سماعت کی استدعا مسترد کر دی، حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں فوری سماعت کی درخواست کی گئی، جس پر جسٹس کے کے آغا نے آج سماعت سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ کل معمول کے مطابق کارروائی کریں گے، سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے فوری سماعت کی درخواست پر کل دلائل دینے کی ہدایت کر دی

    حسان نیازی کی درخواست ضمانت میں موقف اپنایا گیا ہے کہ بیٹے کے خلاف مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں حسان نیازی کے خلاف مقدمات خارج کیے جائیں ایک ہی معاملے کی ایک سے زیادہ ایف آئی آر نہیں درج کی جا سکتیں، عدالت ضمانت دے گرفتاری کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے

    دوسری جانب سٹی کورٹ کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں اشتعال انگیز تقاریر کیس کی سماعت ہوئی، پولیس نے حسان نیازی کو عدالت میں پیش کردیا ،عدالت نے حسان نیازی کے خلاف مقدمہ ڈسچارج کرتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا ،وکلا پی ٹی آئی نے کہا کہ سیاسی مخالفت ہر جھوٹا کیس بنایا گیا ہے ، تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ملزم سے تفتیش کرنی ہے انتہائی سخت الزامات ہیں،وکلا نے عدالت میں کہا کہ حسان نیازی کو رہا کیا جائے۔ عدالت نے حسان نیازی کی ہتھکڑیاں کھولنے کا حکم دے دیا ،عدالت کے حکم پر حسان نیازی کی ہتھکڑیاں کھل گئیں

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    دوسری جانب کراچی پولیس نے حسان نیازی کو لاہور سے اپنی حراست میں لے کر کراچی منتقل کر دیا ہے، کراچی پولیس کی 4 رکنی ٹیم نے حسان نیازی کو اپنی حراست میں لیا ٹیم میں ایس آئی اور3 پولیس اہلکار شامل ہیں، تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ حسان نیازی کو تفتیش کے بعد کورٹ میں پیش کیا جائے گا، حسان نیازی کے خلاف کراچی کے جمشید کوارٹر تھانے میں مقدمہ درج ہے جس میں ان پر اشتعال انگیز تقاریر کی دفعات شامل ہیں،

  • ماسٹر پلان 2050 پرعملدر آمد روکنے کے حکم میں توسیع

    ماسٹر پلان 2050 پرعملدر آمد روکنے کے حکم میں توسیع

    لاہور ہائیکورٹ نے ماسٹر پلان 2050 پر عملدر آمد روکنے کے حکم میں 6 اپریل تک توسیع کر دی

    لاہور ہائیکورٹ میں ماسٹر پلان 2050 کی منظوری کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی، عدالت نے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات لینے اور ان کی تجاویز کو ماسٹر پلان میں شامل کرنے کا حکم دے دیا،دوران سماعت ایل ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ موجودہ ماسٹر پلان پرعوامی پیسہ خرچ ہوچکا ہے جس پر عدالت نے کہا کہ آپ پی ایس ایل کیلئے اربوں روپے لگاتے ہیں، اب آپ کوعوامی پیسہ یاد آ رہا ہے، مجھےعوامی پیسہ نکلوانا آتا ہے موجودہ ماسٹر پلان بالکل قانون کے برعکس بنایا گیا ہے،ایل ڈی اے کے وکیل نے ماسٹر پلان 2021ء پرعملدرآمد جاری رکھنے کا حکم دینے کی استدعا کی جس پرفاضل جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں پتا ماسٹر پلان 2021 آپ کا ختم ہو رہا ہے آپ نے جو کرنا ہے جا کر کرو عدالت نے صرف ماسٹر پلان 2050ء پرعملدرآمد روکا ہے عدالت نے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے بین الااقوامی ماہرین سے متعلق پیشرفت کی رپورٹ طلب کرلی

    علیم خان اتنے بااثر ہیں کہ ریاست نے اپنی زمین استعمال کیلئے دے دی؟

    آئی بی افسران کا ہاؤسنگ سکیم کے نام پر بڑا دھوکہ، رقم لیکر ترقیاتی کام کروانے کی بجائے مزید زمین خرید لی

    ہاؤسنگ سوسائٹیز میں لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے، سپریم کورٹ نے دی حکومت کو مہلت

    فلمسٹار لکی علی کا فراڈ ہاوسنگ سوسائٹیوں سے عوام کو چونا لگانے کا اعتراف،نیب نے کی ریکارڈ ریکوری

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے اسلام آباد میں پراپرٹی کا کام شروع کئے جانے کا انکشاف

  • گرفتار اشتہاری مجرم سے دوران تفتیش بھاری مقدارمیں ہیروئن، خنجر،پسٹل برآمد

    گرفتار اشتہاری مجرم سے دوران تفتیش بھاری مقدارمیں ہیروئن، خنجر،پسٹل برآمد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کاروائی جاری ہے

    نیوٹاؤن پولیس کی موثر تفتیش ،گرفتار اشتہاری مجرم ندیم کیانی سے دوران تفتیش بھاری مقدار میں ہیروئن، خنجر اور پسٹل برآمد کر لیا گیا،اشتہاری مجرم ندیم کیانی کے گھر سے دو کلو سے زیادہ ہیروئن برآمد ہوئی، ملزم ندیم کیانی خواتین پر تشدد اور ہراساں کرنے اور اپنے ہی منشیات فروش ساتھی کو خنجر کے وار کر کے زخمی کرنے کے مقدمات میں زیر تفتیش تھا، نیوٹاؤن پولیس نے دوران تفتیش ملزم کے انکشاف پر خنجر اور پسٹل کی برآمدگی کے لئے ملزم کی نشاندہی پر اس کے گھر گئی تھی، وارداتوں میں استعمال ہونے والے خنجر اور پسٹل کی برآمدگی کے دوران ملزم کے گھر سے لاکھوں روپے مالیت کی 2130 گرام ہیروئن بھی برآمد ہوئی، ملزم قبل ازیں بھی منشیات فروشی کے مقدمات میں ریکارڈ یافتہ ہے جس کے بارے میں پولیس کو منشیات فروشی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں،

    ملزم نے جنوری 2023 میں گرفتاری سے بچنے کے لئے پولیس سے مزاحمت کی اور اسی دوران خنجر کے وار سے اپنے ساتھی منشیات فروش ہارون سلیمان کو زخمی کیا تھا، ملزم ندیم کیانی نے جولائی 2022 میں گھر میں داخل ہو کر خواتین کو ہراساں کرنے کے ساتھ اسلحہ کی نوک پر ان پر تشدد کیا جس مقدمہ میں اشتہاری بھی تھا، ملزم سے مزید تفتیش میں اس کے ساتھیوں اور سہولت کاروں کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں جن کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی،

    موثر تفتیش، وارداتوں میں استعمال ہونے والے خنجر اور پسٹل کے ساتھ ساتھ بھاری مقدار میں ہیروئن کی برآمدگی پر ایس پی راول نے ایس ایچ اور نیوٹاؤن اور تفتیشی ٹیم کو شاباش دی اور کہا کہ نوجوان نسل کی رگوں میں زہر اتارنے والے معاشرہ کے ناسور قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے،خواتین پر تشدد ناقابل برداشت ہے ملزم کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کر کے قرارواقعی سزا دلوائی جائے گی،

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے والدین بھی عدالت پہنچ گئے

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے ریمانڈ میں توسیع

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ریاست کو مدعی بننا چاہئے،صارفین

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،جوڑے کے وارنٹ گرفتارری جاری

    عثمان مرزا کیس،لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی گئی

  • سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس

    سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں الیکشن سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں

    نئے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان ،سینیٹر فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے، دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کو سنیں گے سادہ سا سوال ہے جو الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا ہے کیا الیکشن کمیشن کے پاس ایسا اختیار تھا؟ کارروائی کو لمبا نہیں کرنا چاہتے،سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟اگر الیکشن کمیشن کا اختیارہوا تو بات ختم ہو جائے گی، سیاسی جماعتوں کو فریق بنانے کیلئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نکتہ اٹھایا تھا جمہوریت کیلئے قانون کی حکمرانی لازمی ہے، قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی،سیاسی درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوگا تو مسائل بڑھیں گے

    اٹارنی جنرل نے انتخابات کیس کے لیے فل کورٹ بنچ بنانے کی استدعا کردی ،اٹارنی جنرل نے تحریک انصاف کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر بھی اعتراض کردیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کیلیے قانون کی حکمرانی لازمی ہے قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی،فارق ایچ نائیک نے کہا کہ ملک میں اس وقت انار کی اور فاشزم ہے، موجودہ سیاسی ومعاشی حالات میں جمہوریت اور ملک کے لیے کیا بہترہے، سیاسی جماعتیں اسٹیک ہولڈرز ہیں،انہیں لازمی سنا جائے ،جسٹس جمال مندوخیل نے فاروق ایچ نائیک سے سوال کیا کہ آپ یہ پوائنٹ پارلیمنٹ کیوں نہیں لےجاتے؟ اس پر فاروق ایچ نائیک نےکہا کہ پارلیمنٹ میں معاملہ اٹھانےکا سوچ رہے ہیں ، جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ کیا نوے روز میں انتخابات کرانا آئینی تقاضا نہیں ہے؟کیا الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ منسوخ کر سکتا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ کلیئر کرنے پر جسٹس جمال مندوخیل کا مشکور ہوں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات کیس میں استدعا ہی ازخود نوٹس کے فیصلے پر عملدرآمد کی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنچ کے ارکان تحریک انصاف کی درخواست میں اٹھائے گئے سوال کا جائزہ لینے بیٹھے ہیں اٹارنی جنرل کا انحصار تکنیکی نقطے پر ہے سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار درخواست تک محدود نہیں ہوتا،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کی درخواست پر اعتراضات اور فل کورٹ بنچ بنانے کی استدعا عملاً مسترد کردی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کی اور تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر کو دلائل شروع کرنے کا حکم دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت کے آخر میں اٹارنی جنرل کی استدعا کو دیکھیں گے،

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں دو ججز کا اختلافی فیصلہ دینے کا معاملہ اٹھا دیا ، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم مارچ کا عدالتی فیصلہ کتنے ارکان کا ہے یہ سپریم کورٹ کا اندرونی معاملہ ہے یہ بتائیں کہ کیا آئین نوے روز میں انتخابات کرانے کا تقاضا کرتا ہے یا نہیں؟

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اپنی سیاسی قیادت سے بات کی؟ پی ٹی آئی کو پہل کرنا ہوگی کیونکہ عدالت سے رجوع انہوں نے کیا ہے ملک میں اس وقت تشدد اور عدم برداشت ہے، معاشی حالات دیکھیں، آٹے کے لیے لائنیں لگی ہوئی ہیں آپس میں دست وگریباں ہونے کے بجائے ان لوگوں کا سوچیں ، پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ انتخابات میں تاخیر ہوئی تو یہ بحران مزید بڑھے گا چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جواب دیا کہ تحریک انصاف اگر پہل کرے تو ہی حکومت کو کہیں گے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن 6 ماہ الیکشن آگے کر سکتا ہے تو 2 سال بھی کر سکے گا، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات آگے کون لے جا سکتا ہے یہاں آئین خاموش ہے، کیا پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم نہیں کرنی چاہیئے؟ جسٹس منیب اختر نے اس بات سے اتفاق کیا۔دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی قانون الیکشن کمیشن کو انتخابات ملتوی کرنے کا اختیار نہیں دیتا- قانون نے صدر مملکت کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار دیا ہے- الیکشن 90 دنوں میں ہی ہونا ہیں-آئین میں واضح لکھا ہے- الیکشن ایکٹ کی سیکشن 58 انتخابات کو منسوخ کرنے کی اجازت نہیں دیتا-

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس نیشنل کاز کے لئے جو لوگ تنخواہیں لے رہے ہیں ان کو کٹ لگایا جاسکتا ہے؟ ا سے اہم انتخابات کا ٹاسک مکمل کیا جاسکتا ہے،لیکن اس سب پر جواب وزارت خزانہ ہی دے سکتی ہے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو وزارت خزانہ نے فنڈز کی فراہمی سے انکار کردیا،جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ انکار وزارت خزانہ کیسے کرسکتا ہے،؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ آئین کے ایمرجنسی prevision میں موجود ہے کہ خراب ترین صورتحال میں انتخابات ملتوی کئے جاسکتےہیں،کیا اس وقت ایسی ایمرجسنی کی صورتحال ہے کہ انتخابات نہ ہوں؟ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا ایسی کوئی صورتحال نہیں ،،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کے لئے ججز کی تنخواہوں میں کٹوتی کی تجویز دے دی۔ دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے، بحران سے نمٹنے کے لیے قربانی دینا ہوتی ہے، 5 فیصد تنخواہ کٹنے سے الیکشن کا خرچہ نکل سکتا ہے،انتخابات کے لئے پورے بجٹ کی ضرورت نہیں 20 ارب کا کٹ ہماری تنخواہوں پر بھی لگایا جاسکتا ہے،

    فیڈرل کنسولییڈیٹڈ فنڈ سے رقم کے اجرا پر بھی بحث، فاروق ایچ نائیک نے کہا یہاں سے فنڈ پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد خرچ ہوتے ہیں. جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر اسمبلی تحلیل ہوجائے تو کیا فنڈز جاری ہی نہیں ہو سکیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی بات کرتا ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ابسلوٹلی ناٹ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ابسلوٹلی ناٹ تو آپ نے کسی اور کو کہا تھا،چیف جسٹس کے ریمارکس پر عدالت میں قہقے گونج اٹھے. دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سب سے زیادہ آپریشن کیے، پنجاب میں اب تک صرف 61 آپریشن ہوئے، سندھ میں 367 جبکہ خیبرپختونخوا میں 1245 آپریشن ہوئے،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 58 انتخابات منسوخ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، 2008 میں انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آئین کے 2 آرٹیکلز کا سہارا لیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے وجوہات بتا کر کہا آئینی ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر ہیں، الیکشن کمیشن 8 اکتوبر کی تاریخ نہ دیتا تو کیا ہوتا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن تاریخ تبدیل کرنے کیلئے صدر سے رجوع کر سکتا تھا،تمام انتظامی ادارے الیکشن کمیشن سے تعاون کے پابند ہیں، وجوہات ٹھوس ہوں تو ہی کمیشن رجوع کر سکتا ہے ، وکیل علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 220 تمام حکومتوں، اداروں کو کمیشن سے تعاون کا پابند کرتا ہے،الیکشن کمیشن نے صرف اداروں سے موقف لے کر فیصلہ لکھ دیا، دالت کمیشن سے پوچھے آئینی اختیاراستعمال کیوں نہیں کیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انتظامی ادارے تعاون نہ کریں تو آرٹیکل 5 کا اطلاق ہوگا،ہر ادارہ آئین اور شخص قانون پر عمل کرنے کا پابند ہے، الیکشن کے مطابق آرٹیکل 254 الیکشن منسوخ کرنے کا اختیار دیتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کی تاریخ پہلے ہی 90 دن کے بعد کی تھی،کیا 90 دن بعد کی تاریخ درست تھی؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اب بھی عدالت حکم دے تو 90 دن میں الیکشن نہیں ہو سکتا، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے بھی الیکشن تاریخ 90 دن کے بعد کی دی،آرٹیکل 254 کا سہارا کام ہونے کے بعد لیا جا سکتا ہے پہلے نہیں، جسٹس اعجازاالاحسن نے کہا کہ عملی طور پر الیکشن 90 دن میں ممکن نہ ہوں تو عدالت حکم دے سکتی ہے

    دوران سماعت اٹارنی جنرلنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 30 جون تک 170 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف ہے،آئی ایم ایف کا مطالبہ تھا شرح سود میں اضافہ کیا جائے، شرح سود میں اضافے سے مقامی قرضوں میں اضافہ ہوا۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا 20 ارب روپے جمع کرنا حکومت کیلئے مشکل کام ہے؟ کیا عام انتخابات کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ صوبوں کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے بچانا وفاق کی آئینی ذمہ داری ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاق غریب اورصوبے امیر ہوئے ہیں،معاشی صورتحال سے کل آگاہ کروں گا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا تھا الگ الگ الیکشن کروانے کے پیسے نہیں ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکرٹری خزانہ نے الیکشن کمیشن کے بیان پر کہا تھا انہوں نے ایسا کہا ہوگا،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ ترجیحات کا ہے،لیپ ٹاپ کیلئے10ارب نکل سکتے ہیں توالیکشن کیلئے 20 ارب کیوں نہیں؟ فوادچودھری نے کہا کہ ترقی منصوبوں کیلئے بھی ارکان کو فنڈز دیئے گئے ہیں ،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان کو فنڈز دینا عدالتی حکم کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ترقیاتی فنڈز سے متعلق ہدایت لے کر آگاہ کروں گا، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا الیکشن کیلئے فنڈز دینا صوبے کی ذمہ داری ہے یا وفاق کی؟ کیا ترقیاتی فنڈز کے اعلان کے وقت آئی ایم ایف کی شرائط نہیں تھیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ ترقیاتی فنڈز والی بات شاہد 5 ماہ پرانی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کیلئے فنڈز فراہم کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت سلپمنٹری گرانٹ جاری کی جا سکتی ہے۔

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • عدالت میں پیشی کیلئے عمران خان لاہور سے اسلام آباد روانہ

    عدالت میں پیشی کیلئے عمران خان لاہور سے اسلام آباد روانہ

    لاہور:سابق وزیراعظم عمران خان عدالت میں پیشی کے لیے لاہور سے اسلام باد روانہ ہو گئے-

    باغی ٹی وی : عمران خان عدالت میں پیشی کے لیے زمان پارک سے قافلے کی صورت میں روانہ ہوگئے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے ساتھ جوڈیشل کمپلیکس میں بھی ممکنہ پیشی کا امکان ہےعمران خان ممکنہ طورپر جوڈیشل کمپلیکس میں توڑپھوڑ کے مقدمات میں ضمانت سمیت 7 مقدمات میں عبوری ضمانتیں حاصل کرنے کے لیے آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے۔


    عمران خان کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’آج عمران خان پر درج 7 مقدمات میں ہم ان کی عبوری ضمانت کروایں گے، پچھلی پیشی پر جوڈیشل کمپلیکس میں ہونے والی صورت حال کے بر عکس ہم سیدھا ہائی کورٹ میں جا رہے ہیں تمام مقدمات میں کل ہی دائری ہو گی اور کل ہی عبوری ضمانت لیں گے۔


    اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ممکنہ عدالت پیشی سے متعلق کوئی اطلاع نہیں، اسلام آباد پولیس عدالتی احکامات کی روشنی میں ہی سکیورٹی انتظامات کرےگی عدالت کے احاطے میں صرف متعلقہ اشخاص کو داخلے کی اجازت دی جائے گی، پہلےکی طرح طرزعمل اپنایا تو پولیس بلا تفریق قانونی طریقہ اپنائے گی قانون کی مکمل عملداری برابری کی سطح پر عمل میں لائی جائے گی۔

  • جلسہ گاہ کو جانیوالے والے راستوں کی بندش، پی ٹی آئی پہنچی عدالت

    جلسہ گاہ کو جانیوالے والے راستوں کی بندش، پی ٹی آئی پہنچی عدالت

    لاہور ہائیکورٹ میں مینار پاکستان جلسہ گاہ کو جانیوالے والے راستوں کی بندش کے خلاف درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے دائر کی ،درخواست میں چیف سیکرٹری. ڈی سی لاہور اور آئی جی پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے مینار پاکستان پر جلسہ کی اجازت دی تھی،لوگوں کو جلسے میں جانے سے روکا جا رہا ہے یہ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، نگراں حکومت کا کام صرف الیکشن کرانا ہے، لاہور ہائی کورٹ فوری طور پر راستے کھولنے کا حکم دے،

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمو دقریشی کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے ہمیں جلسے کی اجازت دی ، لاہور کی انتظامیہ نے اجازت میں رکاوٹیں ڈالیں نگران حکومت جانبدار ہے، نگران حکومت ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے ،ہر شہر کو سیل کردیا گیا، جگہ جگہ کنٹینر لگا دئیے گئے ، اب تک 1500 سے 1800 کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا، تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب کا سارا زور پی ٹی آئی کے ورکرز کواُٹھانے پر ہے ،پولیس آفیسر حراست میں ورکرز کی جیبوں سے پیسے نکال کر ہتھیا لیتے ہیں میں پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ سی آئی اے تھانے میں پچھلے پانچ دنوں سے جیل میں گل سڑ رہے ہیں، یہ سب اظہر مشوانی ہیں، فواد چودھری کا کہنا ہے کہ پورا لاہور شہر اسوقت کینٹینروں سے بھرا ہوا ہے،لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کو ردی میں پھینک دیا گیا ہے، ملک میں فاشزم ایسا ننگا ناچ دکھارہا ہے جس کی مثال نہیں ملتی، آج کے جلسے میں تمام پابندیوں کو توڑ کر لاکھوں لوگ شامل ہونگے،

     انتظامیہ نے مختلف سڑکوں پر کنٹینرز لگا دیئے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    دوسری جانب رکن سندھ اسمبلی صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے نگران پنجاب حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کے 500سے زائد کنٹینرز پکڑے جانے پر اظہارِ برہمی کیا اور کہا کہ پورا لاہور شہر جام کر دیا گیا ہے ، یہ نگران حکومت کیا چاہتی ہے ٹرانسپورٹرز کے نقصان کی کا ازالہ کون ادا کرے گا کروڑوں روپے کے مال سے بھرے کنٹینر لاہور کی سڑکوں پر لاوارث پڑے ہیں۔ سپریم کورٹ پنجاب حکومت کے اس قانون کے خلاف کاروائی کا نوٹس لے۔ سپریم کورٹ ٹرانسپورٹرز کی مدد کرے، یہ ظلم اب ناقابل برداشت حد پر پہنچ چکا ہے۔

    علاوہ ازیں پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات عامر میر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے جلسے کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کر رہے ، کارکنان کو جانے کی اجازت ہے، کچھ مقامات پر کینٹینر لگائے گئے ہیں وہ سیکورٹی کی وجہ سے لگائے ہیں، عوام کو سیکیورٹی فراہم کرنا اور انکی جانوں کو محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے عوامی اجتماعات کی صورت میں دہشتگردی کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنوں کو جلسے میں شمولیت سے نہیں روکا جا رہا حکومت نے پی ٹی آئی کو جلسہ کرنے کی اجازت دی رکھی ہے

    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ عمران خان کو قاتلانہ حملہ میں 11 گولیاں ماری گئیں ، 127 مقدمات درج کیے گئےعمران خان کے گھر پرمتعدد حملے اور کارکنان پر تشد د کیا گیا ، پاکستانی عوام کی سیاسی نسل کشی ، جمہوریت کی تباہی کو روکنے میں کردار ادا کریں یورپی پارلیمنٹ ،ہاؤس آف کامن ، آئی پی یو، سی پی اے سمیت دنیا کے مختلف فورمز کو خطوط، بطور سابق اسپیکر پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سامنے لانا چاہتا ہوں ، عمران خان کو سیاست سے نکالنے کیلئے جھوٹے فوجداری مقدمات درج کیے گئے

    تحریک انصاف آج مینار پاکستان پر جلسہ کرنے جا رہی ہے، جلسے سے عمران خان خصوصی خطاب کریں گے، جلسے کی تاریخ چار بار بدلی گئی تا ہم آج جلسہ ہو گا، جلسے کے لئے تیاریاں و انتظامات جاری ہیں تو دوسری جانب حکومت بھی ایکشن میں ہے، حکومت نےپنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے مختلف راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا، ریلوے سٹیشن سے مینار پاکستان جانے والے تمام راستے بند کر دیئے گئے ہیں، شاہ عالم مارکیٹ چوک، بانساں والا بازار چوک پر دونوں اطراف کنٹینرز لگا دیئے گئے ہیں، لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں کو بھی کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے 25 مارچ کو مینار پاکستان لاہور میں جلسے کا اعلان کر رکھا ہے، جلسے کے حوالہ سے عمران خان کہتے ہیں کہ آج رات مینارِپاکستان پر ہمارا چھٹا جلسہ ہےاور میرا دل کہہ رہا ہے کہ یہ پہلےتمام ریکارڈز توڑ دےگا۔ میری لاہور میں سب کو دعوت ہے کہ نمازِتراویح کے بعد اس تاریخی جلسےمیں شریک ہوں۔ میں حقیقی آزادی کے اپنے ویژن پر روشنی ڈالوں گا اور اپنی قوم کو بتاؤں گاکہ ہم پاکستان کو تباہی کی اس دلدل سے کیسے نکالیں گے جس میں مجرموں کےاس گروہ نے ملک کو دھکیلاہے۔ یہ(مجرم)لوگوں کو جلسے میں شرکت سے روکنے کیلئےہرطرح کی رکاوٹ ڈالیں گے مگر میں سب کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ایک سیاسی اجتماع میں شرکت آپکا بنیادی حق ہے چنانچہ اپناحق استعمال کیجئےاور مینارِ پاکستان کےاس تاریخی اجتماع میں شریک ہوں