Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • منصوبہ بندی ہو چکی،نومئی دوبارہ کروایا جائے، جاوید لطیف کا دعویٰ

    منصوبہ بندی ہو چکی،نومئی دوبارہ کروایا جائے، جاوید لطیف کا دعویٰ

    مسلمُ لیگ ن کے مرکزی رہنما جاوید لطیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو ماحول دیکھ رہے ہیں یہ ماحول میثاق جمہوریت پر دستخط کئے تو دس سال تک اطمینان رہا ماحول ختم ہو رہا تھا۔ پانچ سال پی پی پی اور پانچ سال ن لیگ نے حکومت کی مگر تیسری جماعت پیدا کرنے والے کا شوق رکھنے والوں نے جو سوچ لائی اس نے قوم و معاشرہ کی بربادی کردی،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ تیسری جماعت کو کرسی پر بٹھایا تو چار سال پاکستانی کلچر و معاشرے انتظامی ڈھانچوں کی بربادی کی وہ چیزیں نظر آنا شروع ہوگئی جس کی وجہ سے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے۔ ایک سو نوے ملین پائونڈ اور القادر ٹرسٹ کے بینفشیری کون ہے؟ اسے گڈ ٹو سی یو یا معصوم یا صادق و امین کا سرٹیفکیٹ دے تو دو باتوں سے سروکار ہے کہ اپنی چھت کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں،ہم دو وقت کی روٹی کھانا چاہتے ہیں ان کے اللوں تلوں سے روٹی چھین لی جائے تو پوچھ سکتا ہوں بربادی کیوں ہوئی،نو مئی کا فعل پاکستان میں بسنے والوں کو بتانا ہوگا یہ جرم تھا تو جرم تھا تو سات ماہ میں مٹی کیوں ڈالی جارہی فیصلے کیوں نہیں آ رہے۔ نو مئی والے منصوبہ سازوں کو عبرت کا نشان بناتے اور تحقیقات میں قوم کو بتاتے فارن فنڈنگ جہاں سے ہوئی سہولت کاروں کے ڈانڈے وہیں ملتے ہیں،اسوقت کے سہولت کار چکوال سے شروع ہوکر بندیال سے ثاقب نثار تک سب اکٹھے ہورہے ہیں منصوبہ بندی و ماحول بنا رہے الیکشن کو متنازعہ بنایاجائے، یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے، چکوال کے صاحب کہاں جاتے اور کہاں آتے ہیں ملکی ادارے مذاق بن کر رہ جائیں گے پتہ لگائیں کیا ہو رہا ہے،

    جاوید لطیف کا مزید کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت سے جمہوریت مضبوط ہوئی استحکام آیا تیسری قوت کو بنانے سے معاشرہ تباہ ہوا اس کی تپش ہم محسوس کررہے ہیں، ہم راکھ کا ڈھیر بن رہے ہیں وہ شعلہ بھڑکا رہے ہیں سیسلیس مافیا بری ہونے کے باوجود مجرم رہے، جن کا نو مئی اور فارن فنڈنگ ثابت شدہ ہے اگر کوئی ایکشن ہوتا تو سہولت کاروں کو جرات نو مئی کا واقعہ نہ ہوتا، اربوں روپے کہاں خرچ کیاجارہے، ذہن سازی دوبارہ کی جا رہی ہے،سانحہ نو مئی کے تانے بانے جہاں ملتے سہولت کار تھے یا ریٹائرڈ ہوگئے لیکن پالیسی بنانے والوں کو سزا نہیں مل رہی ،آپ کہتے مقبول ہیں ہمیں لیول پلینگ فیلڈ نہیں مل رہی ،چاہتے ہیں خدانخواستہ یہی راستہ ہر کوئی مقبولیت کا اپنائے ،اگر یہ معصوم نظر آتے ہیں تو محب وطن اور باغیوں کی تعداد کا پتہ چل جائے گا،سہولت کاری ہو رہی تھی انصاف کے ادارے کی آڈیو ساس کی ہو یا کسی اور کی اس پر بار بار بات کی جاتی کون لیک کرتا ہے ،پکی عمر کی مرغیاں کھانے والے کو کیوں ننگا نہیں کیاجاتا ،جہاں جہاں سے فارن فنڈنگ ہوئی ان ممالک سے اب بھی فنڈنگ جاری ہے تانے بانے انہی منصوبہ بندی سے ملتے ہیں،الیکشن کمیشن اور انصاف کے اداروں سے کہہ رہے جو ڈرامہ بازی جاری ہے الیکشن مہم چلا رہے نہ بتاتے کس پرتشدد ہوا نہ بتاتے کون ڈرامہ رچا رہاہے،ہمیں تو پتہ نہیں چلنے دیتے کون کہاں گیا آج تو ہر چیز کی سہولت کاری مل رہی ہے،جو خاندان یا فیملیوں سے تین لوگ ورکر ہیں یا کام کرتے تو انہیں نظر انداز نہیں کیاجا سکتا ہے، پارٹی کا ورکر کسی طورپر بھی حقیقی نظریاتی ساتھی کو نظر انداز نہیں ہونے دیں گے،پنجاب میں بہت سی خواہش لے کر پھر رہے ہیں،میثاق جمہوریت پر اتفاق سے اس مقام تک پہنچے جو ہم ماحول بنا رہے ہیں اس سے جان چھڑوانا نسل کو اچھی معاشرہ کےلئے میثاق جمہوریت کیا،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل 11 جنوری تک روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل 11 جنوری تک روک دیا

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سائفر کیس کا ٹرائل 11 جنوری تک روکنے کا حکم جاری کر دیا، عدالت نے سائفر کیس میں حکم امتناع دے دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کی اور کہا کہ یہاں پر مجھے دو سوالات کے جوابات چاہئیں، اس عدالت نے کہا تھا کہ اوپن ٹرائل ہوناچاہیے تو ان کیمرہ سماعت کیوں شروع ہوئی؟ سیکیورٹی عدالتی دائرہ اختیار نہیں تو اس میں ہم مداخلت نہیں کریں گے،عدالت نے کہا کہ سائفر کیس کا ٹرائل عارضی طور پر روکا جاتا ہے اور پہلے وفاقی حکومت اور ایف آئی اے کو نوٹس کیا جائے گا تاکہ ان کا جواب آ سکے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس ٹرائل میں 12 دسمبر کے حکم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری کر دیئے. جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ایک درخواست میں بھی سامنے آیا تھا ،پراسکیوشن کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بعد کیس فائل کیا گیا ،عمران خان کے وکیل نے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کیس درج کرانے کیلئے قانونی طریقہ نہیں اپنایا گیا.

    سماعت کے آغاز پر جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ آپ کا نکتہ کیا ہے؟ اس پر وکیل عثمان گل نے کہا کہ نکتہ یہ ہے کہ فرد جرم سے پہلے قانونی طریقہ کار مکمل نہیں کیا گیا، جج نے جس نوٹیفکیشن کا حوالہ دیا وہ یکم دسمبر کا ہے اور سائفر ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر چل رہا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اب تک کتنے گواہان کے بیانات مکمل ہو چکے ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ کُل 27 گواہان میں سے 25 کے بیانات اور تین کی جرح مکمل ہوئی ہے،

    دوران سماعت بانی تحریک انصاف عمران خان کے وکیل نے سائفر ٹرائل پر حکم امتناع کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے نوٹس ہوں گے،عدالت نے سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے خلاف درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری کردیا اور عمران خان کے وکیل کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر سائفر ٹرائل سے متعلق تمام ضروری دستاویزات جمع کرائیں،

    سائفر کیس ،ان کیمرہ کاروائی کیخلا ف درخواست پر سماعت ملتوی
    دوسری جانب سائفر کیس کی ان کیمرہ کارروائی کے خلاف درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، بیرسٹر سلمان اکرم راجا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے وکلاء سکندر ذولقرنین، عثمان ریاض گل، انتظار پنجوتا و دیگر عدالت پیش ہوئے ،عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت پیش ہوئے، ایف آئی اے اسپیشل پراسیکوشن ٹیم بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئی،سماعت کے آغاز پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کچھ تشویش ہے جس طرح کارروائی آگے بڑھ رہی ہے، بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے ٹرائل سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا جائزہ لینا ہے، ایک دو لوگوں یا خاندان کے افراد کی موجودگی سے بھی یہ کلوزڈ ڈور ٹرائل ہی رہے گا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پراسکیوشن کے 25 گواہان کا بیان ریکارڈ کیا جاچکا ہے، 21 دسمبر کے بعد 12 گواہان کے بیانات میڈیا کی موجودگی میں ریکارڈ کیے گئے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت کے مطابق ٹرائل جیل میں ہو گا تو اوپن ہو گا ، اب صورتحال تبدیل ہوئی ہے کہ جیل ٹرائل ان کیمرہ ٹرائل ڈکلیئر کر دیا گیا ، ان کیمرہ کا سیکشن 14 کا آرڈر فیلڈ میں ہے اس کی موجودگی میں کیا ہوا ، ہم نے اس ججمنٹ میں اوپن ٹرائل کو سمجھنے کی کوشش کی ہے کیوں نہیں سمجھتے،سائفر ٹرائل کو جلد بازی میں کیا جا رہا ہے، اوپن سماعت کی اہمیت خصوصی عدالت کے جج پر واضح ہے نہ ہی پراسیکیوٹرز پر،سائفر ٹرائل اپنی نوعیت کا پہلا ٹرائل ہے،دیکھنا ہو گا کہ اس طرح کے کیسز میں آرٹیکل 10 اے کے تحت فئیر ٹرائل کا حق ملا یا نہیں؟ 1923 میں انسانی حقوق بنیادی حقوق دنیا کو معلوم نہیں تھے، یہ میرے سامنے فرسٹ ایمپریشن کا کیس ہے ، اسٹیٹ کی سیفٹی کمپرومائز نہیں ہونی چاہیے ،سپریم کورٹ کا فیصلہ دیکھیں وہ کہہ رہے ہے میٹریل ناکافی ہے،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اسٹیٹ کا موقف ہے کہ 3 ایسے گواہ تھے جن کا بیان نشر نہیں کیا جانا چاہیے تھا،ان گواہان کے بیانات 15 دسمبر کو ریکارڈ کیے گئے ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 12 دیگر گواہان کے بیانات بھی تو کلوزڈ ڈور ٹرائل میں ہوئے ہیں ناں، آپ سمجھتے کیوں نہیں ہیں ، ہم نے آپ کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اوپن ٹرائل کیا ہوگا ، ان کیمرہ کرنے کی جج کی وجوہات دیکھ لیں اس میں 3 لائنیں لکھی ہوئی ہیں ، اوپن ٹرائل کیا ہے یہ واضح کر چکے ہیں، تم آ جاؤ اور تم آ جاؤ، یہ اوپن ٹرائل نہیں ہوتا، اوپن ٹرائل میں جو چاہے آ سکتا ہے، میڈیا کو اجازت ہے کہ جو چاہے آ سکتا ہے، ایسے نہیں ہوتا، اس بارے باقاعدہ آرڈر ہونا چاہیے، کیا جرح میڈیا کی موجودگی میں کی گئی؟اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جن 3 افراد کی جرح ہوئی وہ سائفر کی کوڈ، ڈی کوڈ سے متعلق تھے، سائفر سے متعلق سیکرٹری خارجہ کا بیان بھی ان کیمرہ ہو گا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن کو کہنا چاہیے تھا کہ جج صاحب 3 گواہان کے لیے ان کیمرہ ٹرائل کا حکم دیں تا کہ ٹرائل پر سوالات نہ اٹھیں، کبھی کبھی اچھا بھلا کیس ہوتا ہے لیکن جس طریقے سے چلایا جاتا ہے،خراب ہو جاتا ہے،پراسیکیوٹر راجا رضوان عباسی نے عدالت میں کہا کہ سائفر ان کیمرہ ٹرائل کے خلاف درخواست قابل سماعت نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سائفر ٹرائل کے لیے 14 دسمبر کو حکم ہوا اور 15 دسمبر کو ٹرائل شروع ہوااگر عدالت چاہتی ہے کہ جرح اوپن ہو تو ہو جائے گی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت نہیں کہہ رہی یہ ضرورت ہے کہ ٹرائل اوپن ہو اور یہ پوری دنیا میں ہوتا ہے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ یقین دہانی کراتا ہوں کہ ان کیمرہ جرح صرف ان 4 گواہان کی ہو گی جو دفتر خارجہ کے سائفر سکیورٹی سے جڑے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ یہ چاروں گواہان دفتر خارجہ کے ملازمین ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ چاروں گواہان دفتر خارجہ کے ملازمین ہیں۔چاروں گواہان سائفر ٹرانسکرپٹ کرنے اور سائفر سکیورٹی سسٹم سے جڑے ہیں۔ان ملازمین کا کام پوری دنیا سے سائفر ڈی کوڈ کرنا ہے، سائفر سسٹم کیسے کام کرتا ہے یہ تفصیلات پبلک کے سامنے نہیں لائی جا سکتی۔ 13 میں سے جو باقی 9 گواہان ہیں ان کی جرح دوبارہ کر لیں گےاگر عدالت 13 میں سے 9 گواہان کے بیانات کالعدم قرار دیتی ہے تو دوبارہ ہوں گے،

    عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ اٹارنی جنرل کی اس پیشکش پر کیا کہیں گے کہ گواہان کے بیانات دوبارہ ریکارڈ کرلیے جائیں؟ وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ عدالت پہلے ٹرائل کورٹ کے ان کیمرہ پروسیڈنگ کے آرڈر کو دیکھے، میرے پاس پہلے 3 گواہان کے بیانات کے عدالتی آرڈر کی کاپی ہے،ہ سرٹیفائیڈ کاپی تو پبلک دستاویز ہوتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری استدعا ہوگی کہ اسے پبلک نہ کیا جائے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں یہ دستاویزات دیکھنا چاہتا ہوں، آپ یہ مجھے فوری طور پر فراہم کریں، اس معاملے میں اہم آئینی ایشوز سامنے آئے ہیں عدالت ان کو دیکھے گی، سپریم کورٹ نے اس کیس میں اپنے فیصلے میں بھی مواد کو ناکافی قرار دیا تھا، میرا مائنڈ آج آپ نے بہت کلئیر کردیا ، عدالت نے کیس کی سماعت 11 جنوری تک کے لیے ملتوی کردی.

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض،سماعت  کل تک ملتوی

    عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض،سماعت کل تک ملتوی

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے حلقہ این اے 122سے کاغذات کی جانچ پڑتال شروع ہو گئی
    پی ٹی آئی وکلاء کے قافلے کی صورت میں پہنچے ، رائے محمد علی بانی چیئرمین عمران خان کی طرف سے ریٹرنگ آفیسر کے سامنے پیش ہوئے،وکیل اعتراض کنندہ نے کہا کہ ہماری کوئی زاتی عناد نہیں ہے،کچھ قانونی باتیں آپ کے سامنے رکھنی ہیں،کاغذات نامزدگی کی منظوری کےلیے تجویز اور تائید کنندہ کا حلقہ سے ہونا ضروری ہے ،الیکشن کمیشن نے پانچ سال کے لیے نااہل کر رکھا ہے ،وکیل سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ نااہلی کے خلاف ہماری درخواست لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے ،ریٹرننگ افسر نے استفسار کیا کہ کیا ہائیکورٹ نے نااہلی معطلی کی ہے ؟ عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ابھی تک ہائیکورٹ نے معطل نہیں کی، ریٹرننگ آفیسر نے استفسار کیا کہ کیا امیدوار کے تجوید کنندہ اور تائید کنندہ کا تعلق حلقے سے نہیں ہیں،کیا آپ کے پاس اسکا کوئی ثبوت ہے ، وکیل اعتراض کنندہ نے کہا کہ حلقے سے نہ ہو تو کاغذات نامزدگی مسترد کر دیں.

    سابق چیرمین پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر وکلاء کے دلائل کے دوران پی ٹی آئی زندہ باد کے نعرے لگائے گئے، جس پر لیگی وکلاء اور پی ٹی آئی وکلاء کے درمیان تلخ جملوں کا استعمال ہوا،

    وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اعتراض کرنے والے کا حلقہ سے تعلق نہیں،اعتراض قابل سماعت ہی نہیں ہے،
    ریٹرننگ افسر نے عمران خان کےکاغذات نامزدگی پر کارروائی کل تک ملتوی کردی ، ریٹرننگ افسر نے کہا کہ کل دوپہر 12:30 بجے دوبارہ دلائل مکمل کریں،

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف ن لیگ میدان میں آ گئی، کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کر دیئے،عمران خان نے لاہور کے حلقہ این اے 122 سے کاغذات جمع کروائے تھے، ن لیگ کے سابق رکن پنجاب اسمبلی میاں نصیر احمد نے عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کیا، میاں‌نصیر احمد نے وکیل سپریم کورٹ محمد رمضان چودھری،بیرسٹر عبدالقدوس سوہل کے توسط سے درخواست دائر کی،میاں نصیر احمد کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان سزا یافتہ ہے الیکشن لڑنے کے اہل نہیں کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں، ریٹرننگ افسر نے عمران خان کے کاغذات پر اعتراض سننے کے لئے 2 بجے کا وقت دے دیا۔

    ن لیگی رہنما ملک نصیر احمد کی عمران خان کے کاغذات نامزدگی کے خلاف درخواست میں مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریٹرننگ آفیسر کو کاغذات نامزدگی کی مکمل جانچ پڑتال اور اگر ضروری ہو تو مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔عمران خان کے کاغذات پر ان کا تائید کنندہ حلقہ این اے 122 کا ووٹر نہیں عمران خان نے جیل سے جو کاغذات جمع کروائے اس پر جیل سپریٹنڈنٹ کی تصدیق نہیں ہے،

    میاں نصیر احمد کی درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ٹرائل کیا گیا، الیکشن ایکٹ کی دفعہ 167 اور 173 کے تحت اسے سزا سنائی گئی ،مورخہ 05.08.2023 کو انہوں نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی اور درخواست بھی دائر کی۔سزا کی معطلی کے لیے (C.M. No.01/2023) اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرنے اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطلی کی درخواست مسترد کر دی،عمران خان کو الیکشن کمیشن نے سزا سنائی ،سزا کی وجہ سے عمران خان الیکشن نہیں لڑ سکتے،

    میاں نصیر احمد کی درخواست میں کہا گیا کہ ریٹرننگ آفیسر کو الیکشن ایکٹ کی دفعہ 62 کے تحت کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔انتخابی عمل کی سالمیت کو برقرار رکھنے، قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ امیدوار ضروری قابلیت کو پورا کرتے ہیں اور قانونی کی تعمیل کرتے ہیں۔درخواست میں عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مبشر حسن اور دیگر کے معاملے میں بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان،یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ،آئین کا آرٹیکل 63(1)(ایچ) جو کہ کسی شخص کو نااہل قرار دیتا ہے،اگر عدالت نے بدعنوانی کے الزام میں سزا سنائی ہو،ایک انتخاب کنندہ، اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے، اس پر اعتماد کرتاہے۔نمائندے کے لئے ضروری ہے کہ وہ امانت میں خیانت نہ کرے، اپنے آپ کو بدعنوانی یا اخلاقی پستی کے جرم میں ملوث ہونے پر نااہل قرار دیا جاتا ہے،قانونی تقاضے ان قانونی دفعات کی پابندی کے لیے ضروری ہیں،

  • سپریم کورٹ، عمران خان کی نااہلی ختم کرنے کی اپیل پر فوری سماعت کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ، عمران خان کی نااہلی ختم کرنے کی اپیل پر فوری سماعت کی استدعا مسترد

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی درخواست کے مقرر کرنے کا معاملہ ،سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی اپیل کو چھٹیوں میں مقرر کرنے کی استدعا مسترد کر دی

    قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ چھٹیوں میں تین رکنی بینچ دستیاب نہیں، چھٹیوں کے بعد تین رکنی بینچ اس کیس کو سنے گا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا ہے،ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کے فیصلے کیخلاف درخواست تین رکنی بینچ سن سکتا ہے ،توہین عدالت کی درخواست شاید کل لگ جائے،توہین عدالت کی درخواست آئی ہے اس کو مقرر کرنے سے متعلق چیمبر میں جا کر فیصلہ کریں گے

    قبل ازیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فیصلہ معطلی اور لیول پلیئنگ فیلڈ کے کیس کی سماعت کے لیے تحریک انصاف کے وکلاء قائم مقام چیف جسٹس پاکستان کی عدالت پہنچ گئے،تحریک انصاف کے سینئر وائس صدر لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے،اور کہا کہ سپریم کورٹ میں دو درخواستیں دائر کی ہیں،عمران خان کے خلاف فیصلہ معطلی کی استدعا کی گئی ہے، لیول پلیئنگ فیلڈ کے معاملے میں بھی توہین عدالت دائر کر رکھی ہے، قائمقام چیف جسٹس جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ دونوں درخواستوں کی آفس سے معلومات حاصل کر لیتے ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر میرے اسٹاف سے فائل چھینی گئی اور دھمکایا گیا،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ یہ معاملہ ایڈمنسٹریٹو سائڈ پر دیکھا جائے گا، اس میں کوئی آئینی ایشو نہیں جو عدالت میں لگایا جائے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ تو انصاف سے رسائی سے انکار ہے،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ آپ کی درخواست میں بہت ہی سنجیدہ الزامات ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر بروقت کیس جمع ہوتا تو آج اتنی ایمرجنسی نہ ہوتی،

    واضح رہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکر رکھی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے

    قبل ازیں عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے، ہائی کورٹ نے صرف سزا معطل کی پورا فیصلہ نہیں،ہائی کورٹ فیصلے میں غلطی کا الیکشن کمیشن نے فائدہ اٹھایا،الیکشن کمیشن نے چیئیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، انتخابات قریب ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو انتخابات سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں سزا پر مبنی فیصلہ معطل کرے تاکہ انتخابات میں حصہ لیا جا سکے،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • احتساب کرنا ہے تو سب کے ساتھ مساوی سلوک کیا جانا چاہئے،جاوید لطیف

    احتساب کرنا ہے تو سب کے ساتھ مساوی سلوک کیا جانا چاہئے،جاوید لطیف

    سابق وفاقی وزیر،مسلم لیگ (ن )کے رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ بظاہر نظر نہیں آتا کہ کسی امیدوار کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، احتساب کرنا ہے تو سب کے ساتھ مساوی سلوک کیا جانا چاہئے،

    پریس کانفرنس کرتےہوئے ن لیگی رہنما جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ عمران خان کو عدم اعتماد سے ہٹایا تو وہ معصوم اور ہم ظالم کہلائے گئے،ذوالفقار علی بھٹو کی بھی بڑی جماعت تھی۔اسے بھی پھانسی دی گئی ،پاکستان کے آئین کو ختم کریں، جس کی جتنی طاقت اس کا اتنا پاکستان،فارن فنڈنگ کیس کو لے کر جہاں سے سارا سلسلہ شروع ہوا اسے انویسٹگیٹ کیا جاتا تو آسانی ہوتی کہ 9 اور 10 مئی کو جو کچھ ہوا اس کے پیچھے کون کون سی قوتیں تھیں جنہوں نے پیسہ دیا ان کے محرکات کیا تھے مگر ہم 9 مئی کو ایسے لے کر چل رہے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ ریاست کے اندر ہونے والی دہشت گردی سختی سے کچل دے, یہاں عالم یہ ہے کہ اسے ایک بڑی جماعت کا سربراہ اور معصوم کہا جا رہا ہے،

    ایک سوال کے جواب میں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ بظاہر نظر نہیں آتا کہ کسی امیدوار کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کوئی ادارہ ہے جو کاغذات نامزدگی چھیننے کی تحقیقات کرے، اگر کسی امیدوار سے کاغذات نامزدگی چھینے گئے ہیں تو ادارے تحقیقات کریں،جس نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنایا اسے ہائی جیکر بنا دیا گیا، مسلم لیگ( ن) نے ہمیشہ اپنے پلیٹ فارم سے دو تہائی اکثریت حاصل کی،استحکام پارٹی اور ق لیگ سمیت پنجاب میں کسی سے اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں کریں گے، کسی جماعت کو کسی جماعت سے نہیں ووٹرز سے امیدیں لگانی چاہیے، اگر 9 مئی کے ذمہ داروں کو سزا نہیں دینی تو ادارے میں سزا دینے والوں کو معاف کر دیا جائے،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • پشاور ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کا انتخابی نشان "بلا” بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کا انتخابی نشان "بلا” بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ،تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہونے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم اور پارٹی نشان واپس لینے کے فیصلے کو عبوری معطل کردیا،عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کردیا،عدالت نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ ہونے تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل ہوگا،پشاور ہائی کورٹ نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ چھٹیوں کے ختم ہونے کے بعد پہلے ڈبل بینچ میں کیس سنا جائے۔

    وکیل تحریک انصاف بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 2 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کو تسلیم کیا، الیکشن کے انعقاد میں کوئی بے ضابطگی کا نہیں کہا، الیکشن کمیشن نے انتخابات کو درست جبکہ اس کے انعقاد کرنے والے پر اعتراض کیا، الیکشن کمیشن نے ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی سے انتخابی نشان لیا، اب ہم الیکشن میں بطور پارٹی حصہ نہیں لے سکتے،مخصوص نشستیں بھی سیاسی جماعت کو بغیر انتخابی نشان نہیں مل سکتیں، سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر کردیا گیا، انتخابی نشان سیاسی پارٹی کی پہچان ہوتی ہے، اسکے بہت سنجیدہ ایشو ہوں گے،انتخابی نشان کے بغیر امیدوار میدان میں نہیں اُترسکتے، ریزرو سیٹ بھی اقلیتی امیدوار کو نہیں مل سکتی ،جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کیلیے جنرل سیکرٹری کے کمیشن بنانے پر اعتراض کیا؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو صحیح جبکہ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کیجانب سے کمیشن کی تقرری پر اعتراض کیا ، علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کو سوالیہ نشان بنانے کا اختیار نہیں ،الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ،پولیٹکل پارٹیز ایکٹ اور الیکشن ایکٹ واضح ہے اور ان میں اختیارات کا تعین ہے ،

    جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ میں نے فیصلہ نہیں پڑھا، کیا صرف یہی لکھا ہے کہ الیکشن کرانے والے کی تعیناتی غلط ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بالکل الیکشن کمیشن نے یہی لکھا ہے، الیکشن کمیشن پارٹی میں تعیناتیوں پر سوال نہیں اٹھا سکتا، الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم نہیں کرسکتا، اگر الیکشن کمیشن کو یہ اختیارات دیئے گئے تو آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہوگی۔الیکشن کمیشن کے پاس کسی بھی سیاسی پارٹی کے عہدیدار کی تقرری ، انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ، الیکشن کمیشن کے پاس کورٹ کی طرح اختیارات نہیں ہیں ، الیکشن کے حوالے سے معاملات سول کورٹ باقاعدہ ٹرائل کے بعد طے کرتا ہے، 8 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جنہوں نے انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض نہیں کیا ،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر سیکرٹری جنرل مستعفی ہوجائے تو کیا ہوگا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عہدے سنبھالا لیتا ہےاس وقت عمر ایوب تھے،جسٹس کامران حیات نے کہا کہ کیا اسد عمر نے استعفیٰ دیا اور وہ منظور ہوا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی بالکل ، جنوری میں اسد عمر گرفتار ہوئے اور جب واپس آئے تو استعفیٰ دیا، اسد عمر کے بعد عمر ایوب جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے،

    جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواستگزار کون ہیں ؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواست عام شہریوں کے طور پر دی گئی ،کسی بھی سیاسی پارٹی کو صرف سپریم کورٹ نکال سکتی ہے الیکشن کمیشن کمیشن نہیں، جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ آپ کی پارٹی کے آئین و رولز میں انٹرا پارٹی انتخابات کا کیا طریقہ کار ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پارٹی چیئرمین کا انتخاب خفیہ بیلٹ پر ہوگا، رجسٹرڈ ووٹرز ہی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں ، ، انٹرا پارٹی انتخابات رولز ہم نے بنائے ہیں ہم ہی اپ ڈیٹ کرینگے،الیکشن کمیشن ڈائریکشن نہیں دے سکتا، جسٹس کامران حیات نے کہا کہ الیکشن کمیشن یہ کہ رہی ہے کہ آئین کے مطابق الیکشن نہیں ہوا،آپ یہ کہنا جاتے ہیں کہ اگر الیکشن نہیں کروائیں گے تو پھر پارٹی جرمانہ ہوگا، علی ظفر نے کہا کہ یہاں تو اس سے بڑا فیصلہ ہوا ہے اور پارٹی کو الیکشن سے ہی باہر نکال دیا،ایک طرف ہمیں کہا جاتا ہے کہ 20دن میں انٹرا پارٹی انتخابات کروائیں دوسری جانب اعتراض کررہے ہیں ، انٹرا پارٹی کے خلاف 14بندوں نے الیکشن کمیشن میں درخواست دی ایک بھی پارٹی ممبر نہیں تھا، الیکشن کمیشن کو بتایا کہ درخواستگزار پی ٹی آئی ممبر شپ کو کوئی ثبوت دیں ، اگر انتخابی نشان نہیں ملا تو ہمیں اقلیتی اور خواتین کی مخصوص نشستیں نہیں ملے گی، 30دسمبر اسکروٹنی کا آخری دن ہے ہمیں نشان الاٹ کیا جائے،

    جسٹس کامران حیات نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ آج نہیں کرسکتے، کیونکہ یہ ڈویژنل بینچ کا کیس ہے،پی ٹی آئی کی آج ہی درخواست پر فیصلہ کرنے کی استدعا پشاور ہائیکورٹ نے مسترد کر دی،انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کچھ دیر کا وقفہ کر دیا گیا، بیرسٹر علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے، عدالت نے کہا کہ سرکاری وکلاء کو وقفے کے بعد سنتے ہیں.

    دوبارہ سماعت ہوئی جسٹس کامران حیات میاں خیل نے وکیل الیکشن کمیشن سے کہاکہ آپ ادھر ادھر جاتے ہیں جو سوال کیا ہے اس پر آ جائیں،وکیل نے کہاکہ پارٹی کو نشان تب الاٹ ہوتا ہے جب وہ الیکشن کرائے اور سرٹیفکیٹ جمع کرائے،جسٹس کامران نے کہاکہ الیکشن شیڈول جاری ہو گیا ہے اب تو نشان نہیں روک سکتے،الیکشن شیڈول جاری ہو گیاہے نشان دینا ہوگا،

    قبل ازیں تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کوپشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، درخواست میں پی ٹی آئی کے وکلاء نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے استدعا کی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی انتخابات کرانے کے طریقے پر فیصلے کا اختیار نہیں، پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے پارٹی ممبر ہی نہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان بلا بھی واپس لے لیا ہے،تحریکِ انصاف نے اپنی درخواست میں الیکشن اور انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے درخواست گزاروں کو بھی فریق بنایا ہے،عدالت سے سینئر ججز پر مشتمل بینچ بنانے اور درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے،

    پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ، بیرسٹر علی ظفر
    پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کا بلے کا نشان بحال کردیا ہے، عدالت نے حکومتی وکیل سے پوچھا کہ الیکشن کمیشن نے کس شق کے تحت فیصلہ کیا؟ یقین ہے ہر فیصلہ قانون کے مطابق ہوتا ہے، التجا کرتا ہوں کہ آئین و قانون پر یقین رکھیں،پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ہے عدالت نے الیکشن کمیشن کے بلے چھیننے کے آرڈر کو معطل کردیا ہے اور کہا کہ بلے کا نشان واپس کیا جائے،

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا تھا اور بلا ہی رہے گا،بانی پی ٹی آئی چیئرمین تھے اور رہیں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں سپریم کورٹ بھی توہین عدالت کا کیس دائر کرنے جا رہے ہیں، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن میں جو بھی رکاوٹ ڈالے گا، اس کے خلاف توہینِ عدالت کا مقدمہ ہو گا، پنجاب میں پی ٹی آئی کے ساتھ پری پول ریگنگ ہو رہی ہے، امیدواروں سے کاغذاتِ نامزدگی تک چھینے گئے

    قبل ازیں تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر شیر افضل مروت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلا پی ٹی آئی کا نشان تھا اور رہے گا،پرویز خٹک کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے، بیٹ کا نشان صرف الیکشن کمیشن ہی آفر کر سکتا ہے،بیٹ کا نشان آفر کرنے کی ضرورت کیوں تھی؟ پرویز خٹک نے تو تحریک انصاف کے مقابلے میں اپنی پارٹی بنائی ہے، پرویز خٹک کے بیان سے ان کے اور الیکشن کمیشن کے تانے بانے ملتے ہیں،بانی پی ٹی آئی نے این اے 32 پشاور سے الیکشن کے لیے مجھے نامزد کیا تھا، اپنے حلقے لکی مروت سے بھی قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کرائے ہیں، الیکشن کہاں سے لڑنا ہے یہ فیصلہ پارٹی کرے گی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہ کرانے پر بلے کا نشان واپس لے لیا تھا،عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں ، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ ان کو بلے کا نشان واپس مل جائے، بلے کا نشان واپس نہ ملنے کی صورت میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد الیکشن لڑنا پڑے گا.ایسے میں سب امیدواروں کے انتخابی نشان مختلف ہوں گے.ہم عوام پاکستان پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن سے بلے کا نشان مانگ رکھا ہے ، وہیں ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو بلے کی بجائے گھڑی کا انتخابی نشان دیا جائے تا کہ سب کو پتہ چلے کہ یہ گھڑی چور ہیں

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • پیپلزپارٹی کا راستہ روکنے کیلئے لاڈلے پیدا کئے گئے،وقار مہدی

    پیپلزپارٹی کا راستہ روکنے کیلئے لاڈلے پیدا کئے گئے،وقار مہدی

    سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی سندھ سینیٹر وقار مہدی نے کہا ہے کہ 1977 کے انتخابات کے خلاف تحریک پاکستان کی ترقی کے خلاف سازش تھی،

    سینیٹر وقار مہدی کا کہنا تھا کہ محمد علی درانی جیسے سیاسی بونے تاریخ کو مسخ نہیں کر سکتے، 1977 کے انتخابات سے قبل وفاقی وزیر رفیع رضا نے بھٹو شہید کو عالمی سازش سے آگاہ کیا تھا، 1977 کو چلائی جانے والی تحریک کے پیچھے ڈالر تھے، غیر ملکی سرمایہ سے چلنے والی تحریک نے ملک کو اندھیرے میں دھکیل دیا، پاکستان آج بھی 1977 کی تحریک کے مضمرات کا شکار ہے، پاکستان پیپلزپارٹی کا راستہ روکنے کیلئے لاڈلے پیدا کئے گئے، عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لیے سیاسی پارٹیوں میں توڑ پھوڑ کی گئی،

    ایک اور بیان میں وقار مہدی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے تین کے ٹولے کو عوام خوب پہچانتے ہیں ،بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں ایشیا کا بڑا ٹراما سینیٹر بنایا ‘بلاول بھٹو زرداری نے NICVD کراچی میں دل کے علاج معالجے کی مفت سہولیات فراہم کیں ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کی حکومت سندھ نے کراچی کے عوام کو فلائی اوور انڈر پاسسز، پبلک پارک اور کھیل کے میدانوں کے تحفے دیئے ہیں، متوقع شکست کے خوف سے ایم کیو ایم انتخابات کے بائیکاٹ کا ڈرامہ کر سکتی ہے،پیپلزپارٹی کی خدمات کو دیکھ کر کراچی کے عوام نے بلدیاتی انتخابات میں ووٹ دیئے،ایم کیو ایم اس بات کا جواب دے کہ اس نے 1993 میں قومی اسمبلی کے الیکشن کا بائیکاٹ کس کی فرمائش پر کیا تھا۔ایم کیو ایم عوام کو اس بات کا بھی جواب دے کی اس نے 2001 اور 2023 کے بلدیاتی الیکشن کا بائیکاٹ کس کی ہدایت پر کیا تھا۔

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • ماموں کی وفات،عمران خان کو پیرول پر رہا کرنے کا مطالبہ

    ماموں کی وفات،عمران خان کو پیرول پر رہا کرنے کا مطالبہ

    تحریک انصاف نے عمران خان کی پیرول پر رہائی کا مطالبہ کر دیا

    عمران خان کے ماموں کی وفات پر تحریک انصاف نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو پیرول پر رہا کیا جائے تا کہ وہ ماموں کی نماز جنازہ میں شرکت کر سکیں،ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے ماموں جاوید زمان خان وفات پا گئے ہیں وہ زمان پارک لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر مقیم تھے، مرحوم جاوید زمان عمران خان کے مربی تھے، جن سے بانی پی ٹی آئی کو نہایت قریبی وابستگی تھی، عمران خان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ مرحوم ماموں کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی اجازت کا دیا جانا عمران خان کا بنیادی انسانی حق ہے،سائفر مقدمے میں ضمانت کی منظوری کے بعد عمران خان کو جیل میں قید رکھنے کا کوئی قانونی اور آئینی جواز نہیں، اپنے وکلاء سے مشاورت کے بعد ان کی وساطت سے عدالت سے عمران خان کی نمازِجنازہ میں شرکت کی اجازت کی استدعا کریں گے

    عمران خان کے ماموں اور سابق فرسٹ کلاس کرکٹر جاوید زمان خان کی نمازجنازہ آج دوپہر12بجے زمان پارک گراؤنڈمیں اداکی جائےگی، جاوید زمان کو میاں میر قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا

    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف سید عدنان بادشاہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ جیل حکام سے درخواست ہے عمران خان کو جنازے پر چھوڑنے سے پہلے کیمرے کے سامنے اس سے نماز جنازہ پڑھ کر سنائیں ۔۔۔ جو خاتم النبین لفظ نہیں پڑھ سکتا وہ جنازہ کیا پڑھیگا۔۔۔ عمران خان نے انگلینڈ میں جوا کھیلنے کی خاطر اپنی ماں کے جنازے میں شرکت نہیں کیا مگر آج ٹی وی پر بیان داغنے کے لئے ماموں کے جنازے میں شرکت کے لیے درخواست جمع کرادیا ،عمران خان نے ڈاکٹر عبدالقدیر سے لے کر نعیم الحق اور دوسرے قریب ترین دوستوں کے جنازوں میں بھی شرکت نہیں کی تھی ۔۔ صرف شرپسندی اور جھوٹے بیانات دینے کے لئے جنازہ بہانہ بنا رہا ہے ۔

  • تحریک انصاف کو انتخابی نشان گھڑی دینی چاہئے،محسن شاہنواز رانجھا

    تحریک انصاف کو انتخابی نشان گھڑی دینی چاہئے،محسن شاہنواز رانجھا

    مسلم لیگ ن کےرہنما محسن شاہنواز رانجھا نےپریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہےکہ تحریک انصاف کو انتخابی نشان گھڑی دینی چاہئے

    محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ اب عمران خان کو معصوم کہا جا رہا ،یہ کیا مذاق بنا ہوا ہے،جو ریمارکس ایک ایسی شخصیت کے کیسز سن رہے ہوں جو انتہائی متنازعہ ہے، کرپٹ ثابت ہو چکا ہے، پاکستان کی عدالتوں نے ہی کرپٹ اور چور ٹھہرا دیا ہے، فیصلے آ چکے ہیں وہ نااہل ہو چکا پھر بھی اسے معصوم کہا جاتا ہے،ہماری سمجھ سے بالاتر ہے یہ بات، ایک شخص جو پاکستان کے سائفر کوجلسوں میں پڑھ کر سناتا ہے، اسکو ڈی کوڈ کیا جاتا ہے، ہم یہ تصور نہیں کرتے ایک شخص جس کو معصوم کہتے ہیں وہ تھریٹ ٹو نیشنل سیکورٹی ہے، اسکو معصوم کہہ دینا اس ملک، پاکستان کی 23 کروڑ عوام سے زیادتی ہے، اس شخص نے پاکستان کی عوام کو غربت میں دھکیل دیا، پارلیمنٹ پر حملہ کیا، پی ٹی وی پر حملہ کیا، سپریم کورٹ کی دیوار پر شلواریں لٹکائیں، قبریں کھودیں، اس کو معصوم کا سرٹفکیٹ، ایسا شخص جو پاکستان کی فارن پالیسی کے لئے تھریٹ ہے، دوست ممالک سے تعلقات خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اس کو معصوم کا سرٹفکیٹ کیوں؟

    محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ سی پیک میں کام کرنیوالی کمپنیوں کو کہا گیا کہ وہ کرپٹ ہیں، جس سے پاکستان کے چائنہ کے ساتھ تعلقات متاثر ہو گئے ہیں، سعودی عرب پاکستان کا کتنا بڑا دوست ہے، پاکستانی قوم جانتی ہے، پاکستانیوں کا روزگار وہاں سے چل رہا ہے، سعودی سربراہوں بارے جو گفتگو کرتے ہیں اسکے بعد پھر بھی کہتے ہیں کہ یہ معصوم ہیں،سعودی عرب، چائنہ ،جیسے ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات صرف اس شخص کی وجہ سے خراب ہو جاتے ہیں،ترکی کے ساتھ بھی تعلقات خراب ہوئے،یہ حضرت معصوم نہیں بلکہ پاکستان کی نیشنل سیکورٹی تھریٹ ہیں، گھڑیاں چوری کرتے ہیں، پاکستان کے سربراہ کی حیثیت سے ملنے والے تحائف دبئی کی منڈیوں میں فروخت کئے جاتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ معصوم ہیں.یہ کیسا معصوم ہے جس کا وائلنس 2013 سے شروع ہوتا ہے، نو مئی تک جاتا ہے، شہداء کی یادگاریں، جناح ہاؤس ہر جگہ توڑ پھوڑ کی گئی، یہ کیسے معصوم ہیں،ہماری سمجھ سے باہر ہے ایسی معصومیت،تحریک انصاف کو انتخابی نشان گھڑی دینی چاہئے تا کہ پوری قوم کو پتہ چلے کہ یہ شخص گھڑی چور تھا،

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • توشہ خانہ کیس، سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر

    توشہ خانہ کیس، سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر

    توشہ خانہ کیس، سپریم کورٹ میں عمران خان کی اپیل پر اعتراض عائد

    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل کرنے کا معاملہ،بانی پی ٹی آئی کی اپیل واپس کر دی گئی،سپریم کورٹ دفتر نے بانی تحریک انصاف کی درخواست پر اعتراض عائد کردیا، اعتراض میں کہا گیا کہ اپیل کیساتھ لف کیے گئے دستاویزات نا مکمل ہیں، تمام متعلقہ دستاویزات کے ہمراہ اپیل چھ جنوری تک دائر کی جا سکتی ہے،

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،
    سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے، ہائی کورٹ نے صرف سزا معطل کی پورا فیصلہ نہیں،ہائی کورٹ فیصلے میں غلطی کا الیکشن کمیشن نے فائدہ اٹھایا،الیکشن کمیشن نے چیئیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، انتخابات قریب ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو انتخابات سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں سزا پر مبنی فیصلہ معطل کرے تاکہ انتخابات میں حصہ لیا جا سکے،

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی توشہ خانہ کیس کا سیشن کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے نو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا،

    بانی پی ٹی آئی عمران خان انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد کردی ،بانی پی ٹی آئی کے پاس سزا ختم کرانے کا آپشن ختم ہوگیا ، بانی پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس میں سزا یافتہ ہیں،بانی پی ٹی آئی کی پانچ سال کیلئے نااہلی کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن برقرار رہے گا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردیا.

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی