Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • انتخابی نشان چھن جانے کے بعد تحریک انصاف کے پاس حل کیا؟

    انتخابی نشان چھن جانے کے بعد تحریک انصاف کے پاس حل کیا؟

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جمعہ کو جہاں سپریم کورٹ نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں ضمانت دی وہیں الیکشن کمیشن نے فیصلہ سناتے ہوئے تحریک انصاف سے انتخابی نشان ،بلے کا نشان واپس لے لیا،اور انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دے دیئے، اب الیکشن کمیشن کے پاس تحریک انصاف نام کی کوئی پارٹی رجسٹر ڈ نہیں ہے،الیکشن کمیشن کے فیصلے کےبعد تمام عہدیداروں کے عہدے بھی ختم ہو چکے ہیں

    پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے ہی حکم پر انٹرا پارٹی انتخابات کروائے، اکبر ایس بابر اور دیگر نے چیلنج کیا، گزشتہ روز فیصلہ آیا، اس فیصلے سے تحریک انصاف کو عام انتخابات میں کافی بڑا نقصان ہونے والا ہے، تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، اگر عدالتوں نے فیصلہ برقرار رکھا تو تحریک انصاف کا شیرازہ مزید بکھرے گا،الیکشن میں تحریک انصاف کے امیدوار آزاد الیکشن لڑیں گے اور سب کے انتخابی نشان الگ ہوں گے،مخصوص نشستوں پر بھی الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف رجسٹرڈ نہ ہونے کی وجہ سے نقصان ہو گا کیونکہ مخصوص نشستیں صرف الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ جماعتوں کو ملتی ہیں.اگر عدالتوں سے بلے کا نشان واپس نہیں ملتا تو تحریک انصاف کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خواتین اور اقلیتوں کی 227 مخصوص نشستوں پر کافی نقصان کا امکان ہے،اگر بلے کا نشان نہ ملایا تحریک انصاف کو الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی اور نشان نہ ملا تو مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں بھی تحریک انصاف کو کوئی نشست نہیں ملے گی، کیونکہ آئین کہتا ہے کہ مخصوص نشستیں صرف رجسٹرڈ پارٹیوں اور ایک انتخابی نشان پر لڑنے والی جماعتوں کو الاٹ کی جاتی ہیں

    اس وقت قومی اسمبلی میں جنرل نشستوں کی کی تعداد 266 ہے، جن میں سے پنجاب کی 141، سندھ کی 61، خیبر پختونخوا کی 45 ، بلوچستان کی 16 اور اسلام آباد کی 3 نشستیں ہیں،اسی طرح صوبائی اسمبلی کی 593 جنرل نشستوں میں سے پنجاب کی 297 ، سندھ کی 130، خیبر پختونخوا کی 115 اور بلوچستان کی 51 نشستیں ہیں

    تحریک انصاف کو اگر انتخابی نشان نہیں ملتا تو تحریک انصاف کے لئے ایک راستہ ہے کہ وہ عوامی مسلم لیگ ، یا کسی اور جماعت کے ساتھ اتحاد کرے اور اسکے انتخابی نشان پر الیکشن لڑے، اس سے سب امیدواروں کا نشان ایک ہو گا،اور پھر اسی جماعت کو ہی بنیاد بنا کر سینیٹ میں نشستیں لی جا سکتی ہیں،13 جنوری تک انتخابی نشان الاٹ ہونے ہیں،13 جنوری تک تحریک انصاف کو اگر عدالتوں نےر یلیف دے دیا تو اسکی مشکل کم ہو سکتی ہے، نہیں تو آزاد، یا پھر کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد، یہ دو ہی راستے ہیں،

    عمران خان کے وکیل، بیرسٹر گوہر نے امید ظاہر کی ہے کہ سپریم کورٹ تحریک انصاف کا انتخابی نشان بلا بحال کر دے گی، اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بلے کا نشان واپس لینے کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے، امید ہے عدالت انصاف کرے گی،بلا پاکستان کے 70 فیصد عوام کی نشانی ہے، کوئی بھی نشان الاٹ ہو وہ آپ سےکوئی نہیں چھین سکتا، الیکشن کمیشن نے آرڈر میں کوئی ذکر نہیں کیا کہ جنہوں نے درخواستیں جمع کرائیں کیا وہ پی ٹی آئی کا حصہ تھے یا نہیں، الیکشن کمیشن نے ذکر ہی نہیں کیا ہم نےکسی قانون یا ضابطے کی خلاف ورزی کی ہے، ہمارے انٹرا پارٹی الیکشن پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا، الیکشن کمیشن نے جو کل آرڈر پاس کیا ہے وہ اس کے پہلے آرڈر سے متصادم ہے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز تحریک انصاف سے بلے کا نشان الیکشن کمیشن نے واپس لے لیا ہے، تحریک انصاف ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کرے گی.

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

  • عدالتوں کا احترام  مگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر تشویش ہے،ملک احمد خان

    عدالتوں کا احترام مگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر تشویش ہے،ملک احمد خان

    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما ملک احمد خان نے کہا ہے کہ میاں محمد شہباز شریف حلقہ این اے 132 قصور سے الیکشن لڑیں گے ،یہ حلقہ ملک رشید احمد خان کا ہے

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کا احترام ہے مگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر تشویش ہے،گزشتہ روز سپریم کورٹ نے سائفر کیس کا فیصلہ دیا،عدالتی فیصلہ صرف ضمانت تک رہتا ہے تب بھی سوال اٹھتا ہے،بطور سیاسی کارکن فیصلے کے بعد میرے کچھ سوالات ہیں،جب سائفر کیس پر ججمنٹ سنی تو چند سوالات ذہن میں آئے،کل مجھے تشویش ہوئی جس کا اظہار کرنا چاہتا ہوں،قاسم سوری نے ڈپٹی اسپیکر کی کرسی پر بیٹھ کر سربمہر لفافہ لہرایا، سربمہر لفافہ لہرانے کے بعد کہا یہ چیف جسٹس کے پاس بھیج رہا ہوں، سائفر کو بنیاد بناکر پی ٹی آئی حکومت نے سیاست کی،پی ٹی آئی کو بند لفافوں کے ساتھ بڑی رغبت ہے، پی ٹی آئی بند لفافوں میں کرپشن کرتی آئی ہے، بندلفافے میں چاہے 190 ملین پاؤنڈ ہو یا بند لفافے سے اسمبلی توڑ دیں،

    ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ جس کے حق میں فیصلہ ہو وہی لاڈلہ ہوتا ہے،اعظم خان پر ایک آڈیو لیک پر کیس چل رہا ہے، سائفر پر کابینہ کی ایک مختصر میٹنگ کی گئی تھی،پی ٹی آئی دور میں صدر نے فوری طور پر اسمبلی تحلیل کردی، عدالت نے کہا معاملے پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا، ملک میں آئین صرف آمر نہیں توڑتے،سائفر کا معاملہ اٹھا کر جلسوں میں تقاریر کی گئیں، جب سیاسی جماعت کالعدم ہوگی تو الیکشن کمیشن اسے کیسے نشان دے گا؟اگر ایک شخص نے جرم کیا ہے اور اس جرم کی تفصیلات ابھی تفتیش طلب ہیں اور اس میں شواہد ریکارڈ کرنے کیلیے اس شخص کی ضرورت پڑسکتی ہے تو پھر قانون پہ عملدرآمد کو یقینی بنانا سب سے ضروری ہے۔سانحہ 9 مئی بھی ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا , 9 مئی سے چند روز پہلے لاہور , پنڈی , پشاور میں عمران نیازی اپنے ایکٹیوسٹ کے ساتھ حمایت چیف جسٹس ریلی نکالتے ہیں۔کینٹ میں حمایت چیف جسٹس ریلی کا کیا تعلق بنتا ہے؟ آج اگر میاں نوازشریف کے خلاف بنائے مقدمات جو یکسر جھوٹے اور بنیاد ہیں وہ ختم ہورہے ییں تو شور ہوتا ہے۔6 سال گزر جانے کے بعد اگر کوئی شواہد پیش نہیں کیے جاتے تو ایک دن انہیں ختم تو ہونا ہی ہے

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

  • ہر چیز کی ایک ڈومین،اگر یہ سب ہونا  تو پھر عدالتوں کو بند کریں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    ہر چیز کی ایک ڈومین،اگر یہ سب ہونا تو پھر عدالتوں کو بند کریں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں طیبہ گل ہراسگی کیس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے دائرہ اختیار سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں چیئرمین، ڈی جیز نیب کی طلبیوں اور سفارشات کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے وکیل ایس اے رحمان ،نیب کی جانب سے جہانزیب بھروانہ ، رافع مقصود اورجسٹس (ر)جاوید اقبال کی جانب سے وکیل شعیب صدیقی و دیگر عدالت پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبا ل دوگل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کے پاس رولز کے تحت طلبی کا اختیار ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے بھیجے گئے نوٹسز عدالت کو سنائے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ طیبہ گل کی شکایت پر چیئرمین نیب کو بلایا کہ فنڈ غلط استعمال ہوتا ہے؟ کمیٹی بلاتی ہے مگر براہ راست چیئرمین کو نہیں بلا سکتی، ہمیں بھی نوٹسزآتے ہیں مگر رجسٹرار کو بلایا جاتا ہے اوروہ جاتے بھی ہے،طیبہ گل پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کیوں گئیں؟ ایف آئی اے یا اینٹی کرپشن کیوں نہیں گئیں؟ آپ پی اے سی کو کہیں گے کہ عدالت میں زیرسماعت کیسز میں مداخلت کرے؟پی اے سی کااختیار نہیں کہ کسی کی درخواست پر ادارے کے سربراہ کو بلائے،اگر شکایت یہی تھی کہ فنڈز میں خوردبرد ہورہی ہے تو ایف آئی اے کےپاس جانا چاہئے تھا،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ میں کہتا ہوں کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو چیئرمین نیب کو نہیں بلانا چاہئے تھا،عدالت نے استفسار کیا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو کون سمجھائے گا کہ ان کا اختیار کیا ہے؟ ہم نے اٹارنی جنرل سے بھی کہا تھا کہ ان کو سمجھائیں مگر سمجھتا کون ہے؟اگر یہ سب ہونا ہے تو پھر عدالتوں کو بند کریں،ایڈیشل اٹارنی جنرل نے کہاکہ رولز 27میں کمیٹی کے پاس بلانے کااختیار ہے،عدالت نے کہاکہ رولز کے تحت کمیٹی بلا سکتی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ڈائریکٹ چیئرمین کو بلائیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ دوگل صاحب آپ ماشاللہ سے بڑے قابل لاء افسر ہے،آپ جانتے ہیں کہ ہر چیز کی ایک ڈومین ہوتی ہے،اس کا مطلب کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سول اور کرمنل کیسز کو بھی لکھ سکتی ہے،

    وکیل شعیب شاہین نے کہاکہ یہ تو پھر قتل اور زمینوں پر قبضے کے کیسز میں بھی طلبی کر سکتی ہے،عدالت نے کہاکہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایساہی چلتا رہے، تو چلنے دیں پھر، ہمارا کام تو ختم ہوجائے گا، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ایک غلط پریسڈینٹ سیٹ کر رہی ہے ایسا نہ کریں، پارلیمنٹ کا قانون ساز اپنا کام کرتا نہیں اور باہر کام کا شوق ہوتا ہے،وکیل درخواست گزار نے کہاکہ ایسے معاملات اکثرذاتی عناد کی وجہ سے ہوتے ہیں،عدالت نے کہاکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جس کو بلایا وہ چائے کے کپ کیلئے نہیں بلکہ ایک مقصد سے بلایا، نیب ایف آئی اے اور دیگر اداروں کے نوٹسز یہاں چیلنج ہوتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ طیبہ گل کیس جب زیرسماعت تھا تو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نہیں بلا سکتی تھی، یہ معاملہ سپیکر قومی اسمبلی کے پاس جانا چاہئے تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ سول جج کے اختیارات آرٹیکل 190سے زیادہ ہیں،ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے کہاکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کادائرہ اختیار قانون میں واضح ہے،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی دائرہ اختیار سے تجاوز نہیں کرسکتی۔

    عدالت نے طیبہ گل ہراسگی کیس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے دائرہ اختیار ،چیئرمین، ڈی جیز نیب کی طلبیوں اور سفارشات کے خلاف کیس ،جسٹس (ر)جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی سے ہٹانے کے خلاف کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    طیبہ گل ہراسگی کیس؛ عمران خان اور جاوید اقبال کو ایک بار پھرطلبی کا نوٹس

    واضح رہے کہ طیبہ گل نے الزام عائد کیا تھا کہ چیئرمین نیب نے انہیں ہراساں کیا ہے،سابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کے خلاف درخواست گزار طیبہ گل پی اے سی میں پیش ہوئی تھیں، طیبہ گل نے کہا کہ انیس جنوری 2019 کو مجھے نیب نے گرفتار کیا،مجھے نہیں پتہ تھا مجھے کیوں گرفتار کیا جارہا ہے،اس سے پہلے میرے خاوند کو گرفتار کیا گیا، میری ایک مرتبہ لاپتہ افراد کمیشن میں ایک لاپتہ فرد کے معاملے پرملاقات ہوئی، میرے خاوند کی چچی لاپتہ تھی مجھے جسٹس جاوید اقبال بار بار بلاتے تھے، مجھے جاوید اقبال کہتا تھا کہ آپ ہر بار خود آیا کریں،میں آپکی وجہ سے جلدی پیشی ڈالتا ہوں، مجھے بار بار بلاتا رہا اور پھر کہا کہ کسی اور مرد کے ساتھ دیکھا تو آپ کے ٹکڑے جھنگ جائیں گے، مجھے بلیک میلر کہا جاتا ہے کہ میں نے ویڈیو ریکارڈز کیوں کیں،میرے پاس پورا ریکارڈ فون کالز اور ویڈیوز موجود ہیں،

    درخواست گزار طیبہ گل کا مزید کہنا تھا کہ گرفتاری مرد اہلکاروں نے کی میرے کپڑے پھاڑے گئے،میرے جسم پر زخموں کے نشان تھے،میرے ساتھ وہ ہوا جو بت ابھی نہیں سکتی میرا میڈیکل نہیں کروایا جاتا، مجھے جج نے جوڈیشل کردیا،مجھ سے جیل میں سادہ کاغذ پر دستخط کرواکر لکھا گیا کہ میں میڈیکل نہیں کروانا چاہتی،میرے خاوند کو پچاس دن جیل رکھ کر میری ویڈیوز دکھا کر اسے ہراساں کیا گیا،مجھ پر چالیس مقدمات درج کئے گئے مجھ پر کوئلہ ٹرک چوری کرنے، بچوں سے میری زیادتی کے مقدمات بنائے گئے، میں چاہتی ہوں کہ جاوید اقبال اور شہزاد سلیم میرے سامنے بیٹھے ہوں،انہوں نے دو کروڑ کا ریفرنس فائل کردیا،

    میرے کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کیا گیا ،ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    درخواست گزار طیبہ گل نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں مزید انکشاف کیا کہ نیب کے ایک ڈی جی نے مجھے برہنہ کرکے ویڈیو بھی بنائی،مجھے سمجھ نہیں آئی میری ویڈیوز ایک چینل پر کیسے چل گئی،ترجمان نیب کی آڈیو میرے پاس موجود ہے، جس میں ترجمان نیب نے مجھے کہا کہ چیئرمین آپ سے صلح کرنا چاہتے ہیں،مجھے ترجمان نیب نے بتایا کہ ویڈیوز کی وجہ چیئرمین بلیک میل ہورہے ہیں،میں نے وزیر اعظم پورٹل پر شکایت کی ،مجھ سے نیوز ون کے مالک ملے جنہوں نے اپنے دفتر میں مجھ سے ویڈیوز آڈیوز لیکر چینل پرچلا دیں،پھر پی ٹی آئی کے تمام مالم جبہ طرز کے کیس ختم ہوگئے،

    چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

    چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

    چیئرمین نیب کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

  • دوران عدت نکاح کیس،جیل ٹرائل کیلیے خط لکھ دیا گیا

    دوران عدت نکاح کیس،جیل ٹرائل کیلیے خط لکھ دیا گیا

    بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے غیر شرعی نکاح کا کیس،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے کیس کی سماعت 2 جنوری تک ملتوی کردی

    کیس کی سماعت سینئر سول جج قدرت اللہ نے کی ،بشریٰ بی بی کی جانب سے وکیل عثمان گل عدالت پیش ہوئے اور کہا کہ عدالت نے جیل ٹرائل کا آرڈر کیا تھا،ہم نے بشریٰ بی بی کو جیل بھیج دیا ، ضمانتی مچلکے تیار کرلیے گئے ہیں ،جج قدرت اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ کو عدالت بلانا ہوگا، جب پتا لگ چکا کہ جیل میں ٹرائل نہیں ہے تو ان کو آ جانا چاہیے ، وکیل بشریٰ بی بی نے کہا کہ ہمارے پاس انفارمیشن ہے کہ بشریٰ بی بی کا عدالت آنے میں خطرہ ہے،جج قدرت اللہ نے کہا کہ آج رش نہیں ہے عدالت بھی خالی ہے آپ پیش کریں ، فائنل ہے انہوں نے آنا ہوگا، میری طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے،جیل اتھارٹیز کو آگاہ کردیا گیا تھا تو وہ وہاں کیوں گئی ہیں ،عدالت نے بشریٰ بی بی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا،بشری بی بی کے آنے تک سماعت میں وقفہ کردیا گیا

    دوبارہ سماعت ہوئی تووکیل بشریٰ بی بی نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے آرڈر کیے تھے کہ جیل ٹرائل ہوگا، بشریٰ بی بی صبح جیل پہنچ گئی تھیں عدالت نے بعد میں بتایا، جیل جیمرز کی وجہ سے بشریٰ بی بی کے ساتھ رابطہ نہیں ہو پا رہا ،بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنیٰ دائر کردی گئی،عدالت نے بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی ، دوران سماعت عدالت نے بشریٰ بی بی کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہاربھی کیا.

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا غیر شرعی نکاح کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،عدالت نے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو جیل ٹرائل کے لیے خط لکھ دیا.

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

  • حسان نیازی کی الیکشن لڑنے کی درخواست پر سماعت ملتوی

    حسان نیازی کی الیکشن لڑنے کی درخواست پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ: تحریک انصاف کے رہنما حسان نیازی کا عام انتخابات میں حصہ لینے کا معاملہ ،حسان نیازی کی والدہ کی کاغذات نامزدگی پر دستخط کی اجازت کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر سماعت تھوڑی دیر تک ملتوی کردی،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصر احمد کو پیش ہونے کی ہدایت کر دی ، عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیس دے کر کوئی بھی کاغذات نامزدگی لے سکتا ہے، عدالت نے سرکاری وکلاء سے استفسار کیا کہ اگر کسی امیدوار کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل چل رہا ہے تو قانون کیا کہتا ہے ؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ الیکشن لڑنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فوجی عدالت ٹرائل کیس کے ملزم کو وفاقی حکومت ہی الیکشن لڑنے کی اجازت دے سکتی ہے ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل جاری رکھنے کی اجازت دی لیکن حتمی فیصلہ سے روکا ہے ،جسٹس علی باقر نجفی نے حسان نیازی کی والدہ نورین نیازی کی درخواست پر سماعت کی

    درخواست میں وفاقی و ہنجاب حکومت اور کمانڈنگ افیسر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔حسان نیازی نہ نا اہل ہیں یہ سزا یافتہ ہیں۔حسان نیازی اس وقت ملٹری کسٹڈی میں ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ حسان نیازی کو کاغزات نامزدگی جمع کرانے کا پراسس مکمل کرنے کی اجازت دے۔

    حسان نیازی کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، نو مئی کے واقعہ کے بعد حسان نیازی روپوش ہو گئے تھے، انہیں دوست کے گھر سے پولیس نے گرفتار کیا تھا،حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی، تحریک انصاف کے خلاف ہیں،انہوں نے ٹویٹر پر تصدیق کی کہ حسان نیازی کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے شرپسندوں نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، لاہور میں جناح ہاؤس سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہیں ن لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگائی گئی تھی، شرپسند عناصر کے‌ خلاف کاروائیاں جاری ہیں، کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کئی روپوش ہیں، تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب کارکنان اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں

    حسان خان نیازی کو 18 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • سائفر کیس،عمران خان،شاہ محمود قریشی کی سپریم کورٹ سے ضمانت منظور

    سائفر کیس،عمران خان،شاہ محمود قریشی کی سپریم کورٹ سے ضمانت منظور

    سپریم کورٹ نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظوری کا فیصلہ جاری کردیا
    سپریم کورٹ کی جانب سے4 صفحات پر مشتمل ضمانت منظوری کا فیصلہ جاری کیا گیا،جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے 5صفحات پر مشتمل علیحدہ نوٹ بھی لکھا،سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کا فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا، تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے دوسرے ملک کے فائدے کیلئے سائفر کو پبلک کیا ایسے شواہد نہیں، فیصلے میں دی گئی آبزویشنز ٹرائل کو متاثر نہیں کریں گی،سابق چیئرمین پی ٹی آئی ضمانت کا غلط استعمال کریں تو ٹرائل کورٹ اسے منسوخ کر سکتی ہے ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5(3) بی کے جرم کا ارتکاب ہونے کے شواہد نہیں ،ملزمان کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے جرم کے ارتکاب کیلئے مزید انکوائری کے حوالے سے مناسب شواہد ہیں،مزید تحقیقات کا فیصلہ ٹرائل کورٹ شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہی کر سکتی ہے،

    عمران خان کو قید رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ، ان کی رہائی عوام کو موثر اور بامعانی حق رائے دہی کا موقع دے گی، آئین توڑنے والے کسی ڈکٹیٹر نے تو ایک دن جیل نہیں کاٹی،کیس میں ایسے حالات نہیں کہ ضمانت کو مسترد کیا جائے،جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ
    سائفر کیس کی ضمانت کے مقدمے میں جسٹس اطہر من اللہ نے اضافی نوٹ لکھا اور کہا کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے خواہشمند امیدواران ہیں، سوال کیا کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو انتخابات سے قبل گرفتار رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟ انتخابات کی پچھلی سات دہائیوں سے تاریخ دیکھنا ضروری ہے، عمران خان ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی اور شاہ محمود قریشی اعلی عہدے پر ہیں، ملک میں حقیقی انتخابات کے لیے تمام امیدواروں کو یکساں مواقع دینا آئینی ضرورت ہے، عمران خان کو قید رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ، ان کی رہائی عوام کو موثر اور بامعانی حق رائے دہی کا موقع دے گی، آئین توڑنے والے کسی ڈکٹیٹر نے تو ایک دن جیل نہیں کاٹی،کیس میں ایسے حالات نہیں کہ ضمانت کو مسترد کیا جائے،پورا ٹرائل دستاویزی شواہد پر منحصر ہے،ملزمان کی گرفتاری کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا،

    قبل ازیں سائفر کیس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    سائفر کیس، سپریم کورٹ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت منظور کر لی،شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت بھی منظور کر لی گئی،عدالت نے دس دس لاکھ ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ صرف عمران کا نہیں عوامی مفاد کا معاملہ ہے، وہ ابھی سزا یافتہ نہیں صرف ملزم ہیں، کیا آپ 2018 کی تاریخ دہرانا چاہتے ہیں؟عمران خان پر ابھی جرم ثابت نہیں ہوا وہ معصوم ہیں، انتخابات 8 فروری کو ہیں، جو جیل میں ہے وہ ایک بڑی جماعت کی نمائندگی کرتا ہے،کیا حکومت 1970 اور 77 والے حالات چاہتی ہے،عمران کے جیل سے باہر آنے سے کیا نقصان ہوگا؟

    قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر نوٹس نہیں ہوا، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی نوٹس کر دیتے ہیں آپ کو کیا جلدی ہے، عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے جلدبازی میں 13 گواہان کے بیانات ریکارڈ کر لئے ہیں، عدالت نے کہا کہ سپیڈی ٹرائل ہر ملزم کا حق ہوتا ہے، آپ کیوں چاہتے ہیں ٹرائل جلدی مکمل نہ ہو؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ان کیمرا ٹرائل کیخلاف آج ہائی کورٹ میں بھی سماعت ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ دوسری درخواست فرد جرم کیخلاف ہے،

    قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ جو فرد جرم چیلنج کی تھی وہ ہائی کورٹ ختم کرچکی ہے، نئی فرد جرم پر پرانی کارروائی کا کوئی اثر نہیں ہوگا، وکیل حامد خان نے کہا کہ ٹرائل اب بھی اسی چارج شیٹ پر ہو رہا ہے جو پہلے تھی، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ پرانی چارج شیٹ کے خلاف درخواست غیرموثر ہوچکی ہے،نئی فرد جرم پر اعتراض ہے تو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں،حامد خان نے استدعا کی کہ مناسب ہوگا آج ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایسا نہ ہو آئندہ سماعت تک ٹرائل مکمل ہوجائے،شام چھ بجے تک ٹرائل چلتا ہے، عدالتی اوقات کار کے بعد بھی ٹرائل چل رہا ہوتا ہے، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں ہمارے کیس چلتے نہیں، آپ کا چل رہا تو آپکو اعتراض ہے،فرد جرم والی درخواست غیرموثر ہونے پر نمٹا دیتے ہیں،وکیل سلمان صفدر نےکہا کہ حامد خان درخواست میں ترمیم کر چکے ہیں اب اسے نئی درخواست کے طور پر لیا جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ترمیم شدہ درخواست بھی ہائیکورٹ سے پہلے ہم کیسے سن سکتے ہیں؟

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس میں وزارتِ داخلہ کے سیکریٹری شکایت کنندہ ہیں، لاہور ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں طلبی پر 7 ماہ حکمِ امتناع دیے رکھا، 7 ماہ ایف آئی اے خاموش رہا، توشہ خانہ کیس میں ضمانت ہوتے ہی گرفتار کر لیا، عمران خان کو اسلام آباد میں گرفتار کرنے کی 40 مرتبہ کوشش کی گئی، ملک بھر کے دیگر مقدمات اسلام آباد کے 40 کیسز سے الگ ہیں،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ آڈیو لیک کے بعد وفاقی حکومت کی ہدایت پر ایف آئی اے نے انکوائری شروع کی تھی،سلمان صفدر نے کہا کہ الزام لگایا گیا کہ 28 مارچ 2022ء کو بنی گالہ میں ہوئے اجلاس میں سائفر کے غلط استعمال کی سازش ہوئی، سابق وزیرِ اعظم پر سائفر کی کاپی تحویل میں لے کر واپس نہ کرنے کا بھی الزام ہے، ایک الزام پورے سائفر سسٹم کی سیکیورٹی رسک پر ڈالنے کا بھی ہے، اسد عمر اور اعظم خان کے کردار کا تعین تفتیش میں ہونا تھا، ایف آئی آر میں 4 ملزمان نامزد ہیں لیکن ٹرائل صرف 2 کا ہو رہا ہے، اعظم خان پر میٹنگ منٹس اور اس کے مندرجات توڑ مروڑ کر تحریر کرنے کا الزام ہے، ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے، ایف آئی آر میں کردار کے تعین کے باوجود اعظم خان کو گرفتار کیا گیا نہ اسد عمر کو، اعظم خان ملزم کے بجائے سائفر کیس کے مقدمے کے اندراج کے اگلے دن گواہ بن گئے۔

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کو کیسے معلوم ہوا کہ بنی گالہ میں میٹنگ ہوئی تھی؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ ایف آئی اے ہی بتا سکتی ہے کیونکہ اب تک پراسیکیوشن نے ذرائع نہیں بتائے، سائفر وزارتِ خارجہ سے آیا، پراسیکیوشن کے مطابق سیکیورٹی سسٹم رسک پر ڈالا گیا، وزارتِ خارجہ نے سائفر سے متعلق کوئی شکایت نہیں کی، سابق وزیرِ اعظم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، رانا ثناء اللہ نے بطور وزیرِ داخلہ ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا کہا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا دائرہ وسیع کر کے سابق وزیرِاعظم پر لاگو کیا گیا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ افواجِ پاکستان سےمتعلق ہے جو ملکی دفاع سے جڑا ہے، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سائفر کا مقدمہ بنا ہے،سائفر کے خفیہ کوڈز کبھی سابق وزیرِ اعظم کے پاس تھے ہی نہیں،

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ سائفرکا حکومت کو بتاتی ہےتاکہ خارجہ پالیسی میں مدد مل سکے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا مقصد ہی یہی ہے کہ حساس معلومات باہر کسی کو نہ جا سکیں، ڈپلومیٹک معلومات بھی حساس ہوتی ہیں لیکن ان کی نوعیت مختلف ہوتی ہے،وکیل نے کہا کہ امریکا میں پاکستانی سفیر اسد مجید نے سائفر حساس ترین دستاویز کے طور پر بھیجا تھا،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ اس بات پر تو آپ متفق ہیں کہ حساس معلومات شیئرنہیں ہو سکتیں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دیکھنا یہی ہے کہ حساس معلومات شیئر ہوئی بھی ہیں یا نہیں، سابق وزیرِ اعظم کے خلاف سزائے موت یا عمر قید کی دفعات عائد ہی نہیں ہوتیں،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کسی سے شیئر نہیں کیا لیکن اسے آن ایئر تو کیا ہی گیا ہے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ وزارتِ خارجہ سے سائفر اعظم خان کو بطور پرنسپل سیکریٹری موصول ہوا تھا، جس میٹنگ میں سائفر سازش کی منصوبہ بندی کا الزام ہے وہ 28 مارچ 2022ء کو ہوئی، چالان کے مطابق جس جلسے میں سائفر لہرانے کا الزام ہے وہ 27 مارچ 2022ء کو ہوا تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اصل سائفر تو وزارتِ خارجہ میں ہے، وہ باہر گیا ہے تو یہ دفترِ خارجہ کا جرم ہے، سائفر کو عوام میں زیرِ بحث نہیں لایا جا سکتا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے تقریر میں کہا کہ وزیرِ اعظم کو سازش کا بتا دیا ہے، حلف کا پابند ہوں، اس بیان کے بعد شاہ محمود قریشی 125 دن سے جیل میں ہیں، وکیل سلمان صفدر نے پریڈ گراؤنڈ میں 27 مارچ 2022ء کے جلسے میں شاہ محمود قریشی کی تقریر پڑھ دی اور کہا کہ شاہ محمود نے تقریر میں کہا کہ بہت سے راز ہیں لیکن حلف کی وجہ سے سامنے نہیں رکھ سکتا،

    دوران سماعت قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ وزیرِ خارجہ خود سمجھدار تھے، سمجھتے تھے کہ کیا بولنا ہے کیا نہیں،وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بتا نہیں سکتا اور عمران خان کو پھنسا دیا، وزیرِ خارجہ نے عمران خان کو پھنسا دیا کہ آپ جانیں اور وہ جانیں، شاہ محمود خود بچ گئے اور عمران خان کو کہا کہ سائفر پڑھ دو، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان نے بھی پبلک سے کچھ شیئرنہیں کیا تھا، اگر سائفر پبلک ہو ہی چکا ہے تو پھر سائفر ٹرائل اِن کیمرا کیوں چاہیے پراسیکیوشن کو؟جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ کس بنیاد پر پراسیکیوشن سمجھتی ہے کہ ملزمان کو زیرِ حراست رکھنا ضروری ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم نے جلسے میں کہا تھا کہ میرے پاس یہ خط سازش کا ثبوت ہے، جلسے میں کہیں نہیں کہا کہ سائفر میں کیا ہے اور کہاں سے آیا ہے۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ سابق وزیرِ اعظم کو جیل میں رکھنے سے معاشرے کو کیا خطرہ ہو گا؟

    قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ہدایت کی کہ اعظم خان کا بیان پڑھ دیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دفعہ 164 کا بیان ملزم کا اعترافی بیان ہوتا ہے، اعظم خان کے اہلِ خانہ نے ان کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا، اعظم خان 2 ماہ لاپتہ رہے، یہ اغواء برائے بیان کا واقعہ ہے،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اغواء برائے تاوان تو سنا تھا، اغواء برائے بیان کیا ہوتا ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ میرے لیے سب سے آسان الفاظ اغواء برائے بیان کے ہی تھے،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اغواء برائے بیان ابھی اصطلاح ہے،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ کیا تفتیشی افسر نے اعظم خان کی گمشدگی پر تحقیقات کیں؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کا بیان دباؤ کا نتیجہ ہے، تفتیشی افسر نے کوئی تحقیقات نہیں کیں، اعظم خان نے واپس آتے ہی سابق وزیرِ اعظم کے خلاف بیان دے دیا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حساس معاملہ ہے اور ہم کوئی آبزرویشنز دینا نہیں چاہتے،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہو گا کہ سیاسی دلائل نہ دیں، آپ کو معلوم ہی ہے کہ سیاسی دلائل پر کیسے فیصلے آیا کرتے ہیں

    ایک ماہ اعظم خان خاموش کیوں رہا؟ کیا اعظم خان شمالی علاقہ جات گئے تھے؟ قائمقام چیف جسٹس
    جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ اگر سائفر گم گیا تھا تو سلامتی کونسل کے دو اجلاسوں میں شہباز شریف نے کیوں نہیں بتایا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا تفتیشی افسر نے حساس دستاویزات پر مبنی ہدایت نامہ پڑھا ہے؟ تفتیشی رپورٹ میں کیا لکھا ہے کہ سائفر کب تک واپس کرنا لازمی ہے؟ نہ پراسیکیوٹر کو سمجھ آ رہی ہے نہ تفتیشی افسر کو تو انکوائری میں کیا سامنے آیا ہے؟ جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ کیا گواہان کے بیانات حلف پر ہیں؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ گواہی حلف پر ہوتی ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق گواہ اعظم خان کا بیان حلف پر نہیں ہے،کیا اعظم خان کی گمشدگی کی تحقیقات کی ہیں؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ اعظم خان نے واپس آنے کے ایک ماہ بعد بیان دیا، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ماہ اعظم خان خاموش کیوں رہا؟ کیا اعظم خان شمالی علاقہ جات گئے تھے؟ رضوان عباسی نے کہا کہ اعظم خان کے مطابق پی ٹی آئی کا ان پر دبائو تھا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عباسی صاحب ایسی بات نہ کریں جو ریکارڈ پر نہ ہو،قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ شہباز شریف نے کس دستاویز پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کیا تھا؟ رضوان عباسی نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں سائفر پیش ہوا تھا، قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا اصل سائفر پیش ہوا تھا؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ رضوا ن عباسی نے کہا کہ ڈی کوڈ کرنے کے بعد والی کاپی سلامتی کمیٹی میں پیش ہوئی تھی،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس میں سزائے موت کی دفعات بظاہر مفروضے پر ہیں، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا بنیادی مقصد ملکی سیکیورٹی کا تحفظ ہے، سائفر ڈسکلوز بھی ہوا تو کسی غیرملکی قوت کو کیسے فائدہ پہنچا؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جو دستاویزات آپ دکھا رہے ہیں اس کے مطابق تو غیرملکی طاقت کا نقصان ہوا ہے، انتخابات 8 فروری کو ہیں اور جو شخص جیل میں ہے وہ ایک بڑی جماعت کی نمائندگی کرتا ہے، کیا حکومت 1970 اور 1977 والے حالات چاہتی ہے؟ نگران حکومت نے آپ کو ضمانت کی مخالفت کرنے کی ہدایت کی ہے؟ ہر دور میں سیاسی رہنمائوں کیساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟سابق وزیراعظم کے جیل کے باہر آنے سے کیا نقصان ہوگا؟ اس وقت سوال عام انتخابات کا ہے، اس وقت عمران خان نہیں عوام کے حقوق کا معاملہ ہے، عدالت بنیادی حقوق کی محافظ ہے، سابق وزیراعظم پر جرم ثابت نہیں ہوا وہ معصوم ہیں،

    آج سرکار ثابت نہیں کر سکی کہ یہ سزائے موت کا کیس ہے،سائفر کیس سے ہوا نکل گئی،وکیل عمران خان
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی وکلاء نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکی ہے، بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں چار گھنٹے تک سماعت جاری رہی، سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں بانی چیئرمین اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی، سائفر کیس میں ایف آئی اے نے بلاجواز گرفتاری کر رکھی ہے، سائفر کیس حقیقی معنوں میں آج صفر ہو چکا ہے، سابق وزیر خارجہ کو بلاوجہ 125 دن تک جیل میں رکھا گیا،شاہ محمود قریشی اس آرڈر کے بعد رہائی کے حقدار ہیں،آج سرکار ثابت نہیں کر سکی کہ یہ سزائے موت کا کیس ہے،سائفر کیس سے ہوا نکل گئی،

    شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتقام پر مبنی کیس تھا، سپریم کورٹ نے آج شاہ محمود قریشی کو ضمانت دی ہے، آج ہمیں خوشی ہوئی کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور میرے والد کو ضمانت ملی، قید تنہائی میں میرے والد نے چار ماہ گزارے ہیں،

    عمران خان کم سے کم ایک سال جیل میں رہیں گے،سائفر کیس کے فیصلے کے بعد صحافی کا دعویٰ
    سپریم کورٹ سے سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت منظوری کے بعد صحافی حسن ایوب نے سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کم سے کم ایک سال جیل میں ہی رہینگے جبکہ دوسری جانب راوی بھی چین ہی چین لکھتا رہے گا ۔

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • انتخابات میں حصہ لینے کا مساوی حق دیا جائے،سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی درخواست

    انتخابات میں حصہ لینے کا مساوی حق دیا جائے،سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی درخواست

    چیئرمین پی ٹی آئی نے لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی، درخواست میں وفاق، الیکشن کمیشن اور چاروں صوبائی حکومتوں کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی ہے،بیرسٹر گوہر کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں سے کاغذات نامزدگی چھینے جا رہے ہیں، تحریک انصاف کے امیدواروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، تحریک انصاف کو انتخابات میں حصہ لینے کا مساوی حق دیا جائے

    چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ تحریک انصاف کو لیول پلیئنگ فیلڈ اور شفاف انتخابات کیلئے فریقین کو ہدایات جاری کرے، فریقین کو تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماؤں کو ہراساں کرنے سے بھی روکا جائے

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

  • توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد، عمران خان کی نااہلی برقرار

    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد، عمران خان کی نااہلی برقرار

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی سماعت ،عدالت نے محفوط فیصلہ سنا دیا،

    عمران خان کی توشہ خانہ کیس کا سیشن کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے نو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا،

    بانی پی ٹی آئی عمران خان انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد کردی ،بانی پی ٹی آئی کے پاس سزا ختم کرانے کا آپشن ختم ہوگیا ، بانی پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس میں سزا یافتہ ہیں،بانی پی ٹی آئی کی پانچ سال کیلئے نااہلی کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن برقرار رہے گا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردیا

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • تحریک انصاف دور میں مقدمات،جے آئی ٹی رپورٹ میں عمر فاروق ظہور بے گناہ قرار

    تحریک انصاف دور میں مقدمات،جے آئی ٹی رپورٹ میں عمر فاروق ظہور بے گناہ قرار

    تحریک انصاف کے دور حکومت میں بے بنیاد مقدمات بھگتنے والے، دبئی میں مقیم پاکستانی تاجر،عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ کی گھڑی خریدنے والے عمرظہور پر عائد الزامات بارے جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آئی ہے

    نجی ٹی وی کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی ہے، جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عمر فاروق ظہور کے کسی جرم میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملا،تحقیقات کرنے والی ٹیم میں ایف آئی اے کے تین سینیئر ڈائریکٹرز شامل تھے، تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی مرزا شہزاد اکبر جو اس وقت لندن میں مقیم ہیں نے ایف آئی اے کو عمرفاروق کی سابقہ اہلیہ کی مدد کا کہا تھا، قانونی تقاضے پورے کیے بغیر عمر فاروق ظہور کے غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیے گئے اور ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلیک لسٹ کر دیا گیا تھا،جوڈیشل مجسٹریٹ عمران عابد نے فیصلے میں کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ حقیقت پر مبنی ہے

    جوڈیشل مجسٹریٹ کے مطابق 2009 میں ایف آئی آر کے وقت عمر فاروق ظہور پاکستان میں تھے ہی نہیں ان کے خلاف مقدمہ میرٹ اور قانون کے مطابق درج نہیں ہوا تھا،عمرفاروق ظہور کے خلاف کوئی مصدقہ مواد نہیں ملا، ناکافی شواہد پائے گئے

    گزشتہ برس انٹرپول نے عمر فاروق ظہور کا نام اپنی لسٹ سے نکال دیا تھا جبکہ ان کو لاہور کی مجسٹریٹ عدالت نے بھی بری کر دیا تھا،لاہورمجسٹریٹ کورٹ نے عمر فاروق ظہور کو جعلی شاختی کارڈ اور اپنی ہی بیٹیوں کے اغوا کے الزام سے بھی بری کیا تھا

    عمر فاروق ظہور سے کس نے رابطہ کیاِ؟

    عمر فاروق ظہور منی لانڈرنگ کے دو کیسز میں بری

    توشہ خانہ کی گھڑی؛ عمران خان کی عمرفاروق ظہور کیخلاف دی گئی درخواست خارج

    گھڑی سے متعلق انکوئری: عمرفاروق ظہور نے ثبوت پیش کردیئے

    صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    میرے مؤقف کی تصدیق ہوئی،عمران خان کو سزا پر عمر فاروق ظہور کا ردعمل

    واضح رہے کہ دبئی میں مقیم ارب پتی تاجر عمر فاروق ظہور اس انکشاف کے بعد پاکستانی خبروں کی سرخیوں میں آئے کہ انہوں نے دبئی میں ایک لین دین کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کی قیمتی گراف گھڑی، وہ مشہور گھڑی جو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان نے عمران خان کو تحفے میں دی تھی، فرح خان سے تقریباً 2 ملین ڈالرز میں خریدی تھی۔

  • سائفر کیس، ان کیمرہ ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد،کل اٹارنی جنرل طلب

    سائفر کیس، ان کیمرہ ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد،کل اٹارنی جنرل طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آگئے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ راجہ صاحب آپ کا کیس ایک گھنٹے بعد سنیں گے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی بلا لیتے ہیں پھر تفصیل سے دیکھ لیتے ہیں ، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کا چودہ دسمبر کا فیصلہ ہائیکورٹ کے فیصلے کی صریح خلاف ورزی ہے،کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا،

    وقفے کے بعد کیس کی سماعت ہوئی، سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے سائفر کیس کی تمام کارروائی ان کیمرہ کرا دی ہے ،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب ملک میں ہیں ؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی وہ ملک میں موجود ہیں،سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا کہ ایف آئی آر پڑھ دیتا ہوں کہ اصل میں الزام کیا ہے ،پراسیکیوشن کی درخواست پر عدالت نے ٹرائل ان کیمرہ کرنے کا فیصلہ سنایا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عدالت نے ان کیمرا پروسیڈنگ کی درخواست پر نوٹس جاری کیا تھا ؟ملزمان پر فرد جرم کب عائد ہوئی ؟عدالت نے پوچھا کہ اس کیس میں مسئلہ ہو رہاہے ، ٹرائل کوئی کر رہاہے اور اپیلیں کوئی دوسرا وکیل ، سلمان اکرم راجہ نے عدالت کہا کہ مسٹر پنجوتھا یہاں ہیں ، یہ ٹرائل کر رہے ہیں، مسٹر پنجوتھا نے بتایا 14 دسمبر کو فرد جرم عائد ہوئی ،13 دسمبر کو ان کیمرا کارروائی کی درخواست پر 14 دسمبر کیلئے نوٹس ہوا تھا ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ ان کیمرا کارروائی کی درخواست پر ٹرائل کورٹ نے نوٹس جاری کیا تھا ، سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا ملزمان کے اہل خانہ کو ٹرائل میں بیٹھنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے اہل خانہ کو پابند بنایا گیا ہے کہ عدالتی کارروائی سے متعلق بات نہیں کر سکتے ،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر فرد جرم عائد ہو گئی ہے تو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ فرد جرم عائد ہو گئی ہے ؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بالکل انہیں پابند کیا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی نہیں بتا سکتے ، میڈیا ، سوشل میڈیاپر سائفر کیس کی کارروائی پبلش کرنے کی پابندی لگائی گئی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کے خلاف درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی ، عدالت نےٹرائل روکنے کی درخواست فوری منظور نہیں کی،جسٹس گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملے پر اٹارنی جنرل کو سننا چاہتے ہیں

    واضح رہے کہ عمران خان نے سائفر کیس کی ان کیمرا سماعت کا ٹرائل کورٹ کا حکم چیلنج کردیا۔عمران خان کی طرف سے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ سائفر عدالت کا 14 دسمبرکا حکم نامہ اسلام آبادہائیکورٹ کے 21 نومبر کے فیصلےکی خلاف ورزی ہے، عدالت نے اپنے حکم میں سائفرکیس کی رپورٹنگ پربھی پابندی عائد کردی جو خلاف آئین ہے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہےکہ بانی پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی، انصاف کو صرف ہونا نہیں بلکہ ہوتا دکھائی دینا چاہیے اس لیے انصاف کے تقاضے پورےکرنے کے لیے عوام اور میڈیا کی موجودگی میں اوپن ٹرائل ضروری ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ ٹرائل کورٹ کا 14دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور اس درخواست کے فیصلے تک ٹرائل کورٹ کو مزید کارروائی سے روکا جائے۔

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت