Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • سائفر کیس میں چالان جمع ہوگیا ہے لیکن ہمیں اس کا ریکارڈ نہیں ملا،شعیب شاہین

    سائفر کیس میں چالان جمع ہوگیا ہے لیکن ہمیں اس کا ریکارڈ نہیں ملا،شعیب شاہین

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کے رکن شعیب شاہین نے کہا کہ اطلاع ملی ہے کہ سائفر کیس میں چالان جمع ہوگیا ہے لیکن ہمیں اس کا ریکارڈ نہیں ملا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو کئی خطرات لاحق ہیں، اڈیالا جیل میں بھی ان کے خلاف کوئی منصوبہ بنائے جانے کا پتا چلا ہے، اس معاملے پر ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل میں بی کلاس دینے کے حوالے سے جھوٹ بولا جا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہیں ایک چھوٹے سے سیل میں بند رکھا گیا ہے جہاں ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

    شعیب شاہین نے کہا کہ ایک شخص کی دشمنی میں پورے ملک کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ہائی پاور جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جو معاملے کی انکوائری کرےشعیب شاہین نے گزشتہ دنوں ٹی وی ٹاک شو کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت اور ن لیگ کے ڈاکٹر افنان اللہ کے درمیاں ہونے والے واقعے پر کہا کہ ٹی وی شو میں غلط روایت قائم کی گئی اس کی حمایت نہیں کرتے، اس حوالے سے پارٹی قیادت کوئی فیصلہ کرے گی۔

    بھارتی حکومت کا عدم تعاون، افغانستان نے نئی

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود کے خلاف چالان عدالت میں جمع کرادیا۔ ایف آئی اے نے سائفر کیس کا چالان آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی عدالت میں جمع کرایا، جس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو قصور وار قرار دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ایف آئی اے نے چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کی ہے۔

    ہائی وے اور موٹروے پر قانون کی خلاف ورزی پر

  • عمران خان نے شاید سائفر کو سیاسی رائفل سمجھ کر اپنے پاس رکھا تھا، فردوس عاشق اعوان

    عمران خان نے شاید سائفر کو سیاسی رائفل سمجھ کر اپنے پاس رکھا تھا، فردوس عاشق اعوان

    استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر اسٹیٹ سیکریٹ کے غلط استعمال کا الزام لگادیا۔

    باغی ٹی وی: سائفر کیس کا چالان جمع کرائے جانے پر رد عمل دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر اپنے پاس رکھا اور اسٹیٹ سیکریٹ کا غلط استعمال کیا،جہاں کی اینٹ وہیں پر ٹھیک‘ ایف آئی اے کی جانب سے سائفر کیس کا چالان جمع کرانے کا خلاصہ ہے، عمران خان نے شاید سائفر کو سیاسی رائفل سمجھ کر اپنے پاس رکھا تھا۔

    فردوس عاشق اعوان کاعمران خان کو اناڑی قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ سائفر نما رائفل اناڑی نے اپنے آپ پر ہی چلالی ہے، اب اس رائفل کے دیے گئے زخموں سے خون رسنا شروع ہو چکا ہے،قومی راز قومی وقار اور تشخص کے حامل ہوتے ہیں، ان کو افشا کرنا سنگین جرم ہے، چئیرمین پی ٹی آئی اینڈ کمپنی سے یہ سنگین گناہ سرزد ہوا ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کورٹ معاملے کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائے گی۔

    کراچی جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر چوہوں نے ایف

    واضح رہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو قصوروار قرار دیا گیا ہے، چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے-

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر اپنے پاس رکھا اور اسٹیٹ سیکرٹ کا غلط استعمال کیا ، شاہ محمود قریشی نے 27 مارچ کی تقریر کی پھر چیئرمین پی ٹی آئی کی معاونت کی ، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی 27 مارچ کی تقریر کا ٹرانسکرپٹ سی ڈی منسلک ہے-

    ن لیگ کا انتقامی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ سے

    ایف آئی اے نے 28 گواہوں کی لسٹ چالان کےساتھ عدالت میں جمع کرا دی ،سیکرٹری خارجہ اسد مجید اور سابقہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود بھی گواہوں میں شامل ہیں،ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ فیصل نیاز ترمزی بھی ایف آئی اے کےگواہوں میں شامل ہیں،سائفر وزا ر ت خارجہ سے لیکر وزیراعظم تک پہنچنے تک تمام چین گواہوں میں شامل ہیں-

  • انتخابات:پی ٹی آئی کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی,نگراں وزیرِ اعظم

    انتخابات:پی ٹی آئی کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی,نگراں وزیرِ اعظم

    پاکستان کے نگراں وزیرِ اعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی ممکنہ گرفتاری اور جیل بھیجنے کے بارے میں حکومت نے وزارت قانون سے رائے طلب کی ہے۔

    اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد پاکستان واپسی سے قبل لندن میں قیام کے دوران برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اُردو کو دیے گئے انٹرویو میں انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ چاہتےہیں نوازشریف کی واپسی پرقانون اپناراستہ اختیار کر ے، وطن واپسی پرممکنہ گرفتاری یا جیل بھیجنے کے معاملے پر وزارت قانون سے رائے مانگی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی, موجودہ صورتحال میں لگ رہا ہے کہ عمران خان کا مقابلہ فوج سے نہیں بلکہ ریاست سے ہے۔

    بی بی سی اردو سے گفتگو میں نگران وزیراعظم نے نوازشریف کی پاکستان واپسی اوراڈیالہ جیل میں قید چیئرمین پی ٹی آئی کو درپیش قانونی مشکلات پربات کی,نگران وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے نوازشریف کی پاکستان واپسی سے متعلق وزارت قانون سے رائے لی ہے کہ جب وہ واپس آئیں گے تو قانون کے مطابق نگراں حکومت کا انتظامی رویہ کیا ہوناچاہیے۔ انہوں نےبتایا کہ اس ضمن میں ایک اجلاس بھی طلب کیا جائے گا۔

    آئندہ عام انتخابات جیتنےکیلیے مودی حکومت کا

    ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے عمران خان کی سزا کے بارے میں جو اشارتاً بات کی اس کا مقصد تھا کہ عدالتی نظام میں جتنے بھی مواقع ہیں اگرانہیں استعمال کرنے کے بعد بھی قوانین کے تحت عمران خان کو الیکشن سے روکا گیا، تو یہ ہمارے مینڈیٹ سے باہر ہو گا کہ ہم کوئی ریلیف دے سکیں۔ قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا اگرعدالتوں سے ریلیف نہ ملاتو پھر بدقسمتی سے عمران خان کو ان نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے معاملے کے دو پہلو ہیں، ایک سیاسی ہے تاہم اس بحث میں جائے بغیر مروجہ قوانین کے تحت دیکھا جائے تو فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے۔ ایک سزا یافتہ شخص کو عدالتوں نے اجازت دی تھی، ایگزکٹیو نے نہیں دی تھی وازشریف کے خلاف جو فیصلہ آیا تھا وہ فردِ واحد کیخلاف فیصلہ تھا جس پرکچھ نے شادیانے بجائے لیکن اسی سیاسی شخص کی جماعت نے اگلے انتخابات میں 90 کے قریب نشستیں بھی حاصل کی تھیں-

    ورلڈ کپ 2023: قومی ٹیم کی سپورٹ کے بیان پر

    پی ٹی آئی کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی

    انتخابات میں غیرجانبداری یقینی بنانے سے متعلق سوال پرانوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی ہاں اُن لوگوں کے ساتھ قانون کے مطابق ضرور نمٹا جائے گا جو منفی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے اور وہ مخصوص افراد ہیں جو پچیس کروڑ کی آبادی میں پندرہ سو، دو ہزار بنتے ہوں گے، اُنہیں پی ٹی آئی سے جوڑنا منصفانہ تجزیہ نہیں ہو گا تحریک انصاف کیخلاف کارروائی کا جنرل ضیاء کے زمانے میں پیپلز پارٹی کیخلاف یاجنرل مشرف کے زمانے میں مسلم لیگ کیخلاف ہونے والی کارروائی سے موازنہ کرنا ’بیہودہ تجزیہ اورغلط بات‘ ہو گی۔

    کرپشن نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا,نگران وزیرداخلہ

    بحران روکنا نگراں حکومت کا مسئلہ نہیں

    نگراں وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگرکوئی سیاسی رہنما انتخابات میں حصہ نہیں لے پاتا تو اس سے بحران پیدا ہو یا نہ ہو، یہ نگراں حکومت کا مسئلہ نہیں کیونکہ ہمارا مقصد بحران روکنا یا پیدا کرنا نہیں، قانون کے تحت ہمارا کردار الیکشن کروانا ہے۔الیکشن کے نتیجے میں بحران پیدا ہونا پورے معاشرے اور ریاست کا معاملہ ہے، نگراں حکومت کا نہیں-

    عام انتخابات کی 90 روزہ آئینی مدت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بنیادی طور پرالیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، جہاں آئین میں 90 دن کی مدت ہے وہیں 254 آرٹیکل میں یہ بھی درج ہے کہ کوئی چیز وقت کے اندرنہیں ہوتی تو وہ محض تاخیر کے باعث غیرآئینی اور غیرقانونی نہیں ہوجاتی-

    نگران حکومت نے چین اور سعودی عرب سےمد

  • پولیس عمران خان کو ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے لے کر روانہ

    پولیس عمران خان کو ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے لے کر روانہ

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا, گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ کرتے ہوئے انہیں اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ پولیس ٹیم نے سخت سکیورٹی میں عمران خان کو لے کر اڈیالہ جیل پہنچ گئی۔ اڈیالہ جیل منتقل کرنے والے قافلے میں پولیس کی 15 گاڑیاں، 2 بکتربند اور ایک ایمبولینس شامل تھی۔

    ذرائع نے بتایاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سخت سکیورٹی میں اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا جہاں انہیں ہائی سکیورٹی بیرک میں رکھا جائے گا۔
    جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بی کلاس بیرک فراہم کی جائے گی اور انہیں اسی بیرک میں رکھا جائے گا جس میں نواز شریف کو رکھا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے مخصوص کمرے کی صفائی کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور انہیں عدالتی احکامات کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔جیل ذرائع نے بتایاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کوجیل میں کمرہ واٹیچ باتھ دیا جائے گا تاہم ان کے کھانے کے حوالے سے فیصلہ نہیں کیا گیا۔جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے ایک ملازم 24 گھنٹے تعینات کیا جائے گا۔

    تاہم خیال رہے کہ اڈیالہ پاکستان کی منفرد حیثیت والی وہ جیل ہے جس میں عمران خان سے قبل تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم رہنے والے نواز شریف سمیت چار منتخب وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی، شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی کو رکھا گیا۔اڈیالہ جیل دراصل سینٹرل جیل راولپنڈی ہے اور اسے اڈیالہ جیل اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ضلع راولپنڈی کا ایک گاؤں اڈیالہ اس سے تقریباً چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس کی مناسبت سے اس کا نام اڈیالہ جیل پڑ گیا ہے۔در اصل یہ پرانی ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی ہے، یہ جیل راولپنڈی اڈیالہ روڈ پر ضلعی عدالتوں سے تقریباً 13 کلومیٹر کے فاصلے پر گاؤں دہگل کے قریب واقع ہے۔

    سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد آنے والے برسوں میں اس جیل کو ختم کر کے یہاں پارک بنایا گیا اور 1986میں جیل کو اڈیالہ منتقل کیا گیا۔اس جیل کو 1970 کی دہائی کے آخر اور 1980 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل ضیا الحق کی حکومت کے دوران تعمیر کیا گیا تھا۔اس سے قبل راولپنڈی کی ضلعی جیل اس مقام پر واقع تھی جہاں آج جناح پارک واقع ہے اور یہ وہی جیل تھی جس میں ذوالفقار علی بھٹو کو ضیاالحق کے دور حکومت میں قید میں رکھا گیا اور اسی جیل سے متصل پھانسی گھاٹ میں انھیں پھانسی بھی دی گئی۔

    نواز شریف دو مرتبہ اس جیل میں رہے۔ پہلی مرتبہ 1999 میں طیارہ سازش کیس میں اور دوسری مرتبہ پانامہ کیس میں انھیں اسی جیل میں رہنا پڑا تھا۔ بعد میں نواز شریف اڈیالہ جیل کے علاوہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں بھی قید رہے تھے۔نواز شریف کے ساتھ ان کی بیٹی مریم نواز کو بھی اڈیالہ جیل میں قید رکھا گیا تھا۔
    سابق صدر آصف علی زرداری بھی اپنی زندگی کا کچھ وقت اڈیالہ جیل میں گزار چکے ہیں۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی ستمبر 2004 سے 2006 تک ڈیڑھ برس سے زیادہ عرصہ اڈیالہ جیل میں گزارا۔
    شہباز شریف بھی مشرف دور میں اڈیالہ جیل میں قید رہ چکے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی، سعد رفیق اور جاوید ہاشمی بھی کچھ وقت یہاں گزار چکے ہیں۔

  • نیب نے عمران خان کیخلاف ٹیلی تھون فنڈز کے غلط استعمال کا کیس بھی تیار کرلیا

    نیب نے عمران خان کیخلاف ٹیلی تھون فنڈز کے غلط استعمال کا کیس بھی تیار کرلیا

    قومی احتساب بیورو نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف کرپشن کا ایک اور کیس تیار کرلیا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی پر ٹیلی تھون کے ذریعے سیلاب زدگان کیلئے جمع کیے گئے 4 ارب روپے کے فنڈز کے غلط استعمال کا الزام ہے، انہوں نے اگست 2022 میں ٹیلی تھون کے ذریعے فنڈز اکھٹے کیے تھے۔

    تاہم ذرائع نے بتایا کہ نیب ہیڈ کوارٹرز کو انکوائری کی منظوری کی درخواست موصول ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب راولپنڈی نے کیس کی شکایت کی تصدیق کرکے انکوائری میں بدلنے کی درخواست کی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کریمنل لا ترمیمی ایکٹ 2022 کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیا جائے. درخواست گزار
    امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری
    ہیروئن، احرام میں جذب کرکے اسمگل کرنے کی کوشش ناکام
    جبکہ ذرائع کے مطابق شکایت نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ سیل کے خلاف موصول ہوئی ہے، ٹیلی تھون کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی کا کردار واضح نہیں،ان کے ملوث ہونے سے متعلق تحیقیقات جاری ہیں۔

  • غیر شرعی نکاح کیس: چیئرمین پی ٹی آئی کو بھی نوٹس جاری

    غیر شرعی نکاح کیس: چیئرمین پی ٹی آئی کو بھی نوٹس جاری

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بشریٰ بی بی کے خلاف غیر شرعی نکاح سے متعلق کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو بھی نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف مبینہ غیر شرعی نکاح سے متعلق کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد قدرت اللہ کی عدالت میں ہوئی، پراسیکیوٹر رضوان عباسی اور پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتھا پیش ہوئے-

    پراسیکیوٹر رضوان عباسی کی جانب سے سماعت بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی درخواست دائر کی گئی اور کہا گیا کہ دائرہ اختیار کی درخواست پر دلائل کیلئے تیاری کرنی ہے جس کے لیے وقت درکار ہے پی ٹی آئی وکلا کے دائرہ اختیار کی درخواست پر دلائل کے بعد ہم دلائل دیں گے۔

    اسفندیار ولی خان کی ارباب غلام محمد کے قتل کی شدید مذمت

    دوسری جانب وکیل صفائی نعیم پنجوتھا نے بھی بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی اور کہا کہ عدالت نے بشریٰ بی بی کی حاضری سے مستقل استثنیٰ کی درخواست منظور کر رکھی ہے۔

    جج قدرت اللہ نے ریمارکس دیئے کہ فرد جرم کا معاملہ آیا تو بشریٰ بی بی کی حاضری ضروری ہو گی جبکہ وکیل نعیم پنجوتھا کا کہنا تھا شیر افضل مروت دائرہ اختیار کی درخواست پر دلائل دیں گے عدالت نے کہا کہ دونوں فریقین کے دلائل ایک ہی تاریخ پر ساتھ ساتھ سن لیں گے، آپ اپنے دلائل سے قبل مختلف عدالتوں کے فیصلے بھی جمع کروا دیں۔

    دنیا کے5 ممالک کا نجرقتل کیس میں کینیڈا کیجانب سے بھارت کیخلاف تحقیقات کامطالبہ

    وکیل درخواست گزار نعیم پنجوتھا کا کہنا تھا گزارش اتنی ہے کہ آئندہ سماعت کی تاریخ چھوٹی دے دیں، جس پر جج قدرت اللہ نے کہا پیر تک سماعت ملتوی کر دیتے ہیں، فریقین ایک ساتھ دلائل دے دیں۔

    عدالت نے 25 ستمبر کو فریقین کے وکلاء کو دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف غیر شرعی نکاح کیس کی سماعت ملتوی کر دی جج قدرت اللہ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو بھی نوٹس جاری کرکے ان سے جواب طلب کر لیا۔

    نگران وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب سےملاقات

  • سائفرگمشد گی کیس:چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر

    سائفرگمشد گی کیس:چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: سائفرگمشد گی کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی درخواست ضمانت اسلام آبادہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کردی گئی-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے بینچ تشکیل دے دیا رجسٹرار آفس کی جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق پیر کو چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کریں گے۔

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس،عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت نے عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی خصوصی عدالت کا تحریری فیصلے میں کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی مقدمے میں ایک کردار کے تحت نامزد ہیں، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ان کا کیس سےلنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ہیں، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے کافی مجرمانہ مواد ہے۔

    کوئٹہ میں ایرانی پٹرول کی مانگ میں اضافہ

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا –

    انضمام الحق نے چیف سلیکٹر کے عہدے سے استعفے کی دھمکی دے دی

  • نو مئی،عمران خان کو سخت سزا دلوانے کے لیے چالانوں کی سکروٹنی مکمل

    نو مئی،عمران خان کو سخت سزا دلوانے کے لیے چالانوں کی سکروٹنی مکمل

    سانحہ نو مئی کے دس مقدمات میں چئیرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی ،گنہگار قرار دیے جانے کے بعد سخت سزا دلوانے کے لیے چالانوں کی سکروٹنی مکمل کرلی گئی ،

    جے آئی ٹی حکام کے مطابق تمام چالانوں کی سکروٹنی پراسکیوشن کے ساتھ مل کر کی گئی ،مقدمات کے چالانوں میں موجود نقائص کو دور کردیا گیا ، جناح ہاؤس حملے کے مقدمہ کا دو ہزار صفحات پر مشتمل چالان ترجیح قراردیا گیا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کو گنہگار ثابت کرنے کے لیے سوشل میڈیا سمیت تمام شواہد زیر غور لائے گئے ،چالان دو دن کے اندر عدالت میں پیش کردیا جائے ،

    چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف سوشل میڈیا سے متعلق چارسو سے زائد شواہد ملے،گرفتار ملزمان کے بیانات اور نشاندہی پر چئیرمین کو گنہگار قرار دیا گیا ،جناح ہاؤس حملے میں براہ راست ملوث 80 ملزمان کےبیانات میں سازش کاعنصر واضع ہوا،نو مئی کے واقعات پر براہ راست سازش کے شواہد بھی دوران تفتیش ملے،چیئرمین پی ٹی آئی کے اپنے بیانات حالات سے متضاد پائے گئے دیگر نو مقدمات میں بھی ٹھوس شواہد کی روشنی میں چیئرمین پی ٹی آئی گنہگار قرار پائے 

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

  • سائفر کیس،عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    سائفر کیس،عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، سائفر کیس،چیئرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عمران خان نے عدالت سے ضمانت پر رہا کرنے کی استدعا کی، عمران خان کی جانب سے انکے وکیل بیرسٹر سلمان صفدرنے درخواست ضمانت دائر کی ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا ، چودہ ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی، خصوصی عدالت نے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا، چیئرمین پی ٹی آئی کو بدنیتی سے اس من گھڑت مقدمے میں نامزد کیا گیا،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کردی تھی

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ پڑھ کر سنایا،فیصلہ کثرت رائے سے دیا گیا ،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم سے متعلق مختصر فیصلہ سنایا ،فیصلہ دو، ایک سے آیا ہے ،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا ،چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن نے عمران خان کی درخواست قابل سماعت قرار دے دی۔جب کہ جسٹس منصور علی شاہ نے اختلاف کیا ،

    سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی متعدد شقوں کو آئین کے برعکس قرار دے دیا.سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کاروائی کرے ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی،پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی گئی ہیں،عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیئے گئے ہیں ، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں ،نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کیسز جہاں رکے تھے وہیں سے 7 روز میں شروع کیے جائیں،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی ہیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں

    بے نامی کی تعریف سے متعلق نیب ترمیم بھی کالعدم قرار دے دی گئی،آمدن سے زائد اثاثوں کی تعریف تبدیل کرنے کی شق بھی کالعدم قرار دے دی گئی،سپریم کورٹ نے مقدمہ ثابت کرنے کا بوجھ نیب پر ڈالنے کی شق بھی کالعدم قرار دے دی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نیب ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، عمران خان کی درخواست پر سپریم کورٹ میں 53 سماعتیں ہوئیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پانچ ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے تھا کہ اہم کیس ہے، ریٹائرمنٹ سے قبل فیصلہ کروں گا

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اثاثے کرپشن کی نذرہوں اسمگلنگ یا سرمائے کی غیرقانونی منتقلی ہو،کارروائی ہونی چاہیے، قانون میں ان جرائم کی ٹھوس وضاحت نہ ہونا مایوس کن ہے، عوام کو خوشحال اور محفوظ بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے،

    سپریم کورٹ کا فیصلہ،آصف زرداری،نوازشریف،یوسف رضا گیلانی کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس بحال
    سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم کالعدم قرار دیے جانے کے بعد سیاستدانوں کے خلاف بند ہونے والے مقدمات دوبارہ بحال ہو گئے ہیں ،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس واپس بحال ہو گیا ہے ،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا ایل این جی ریفرنس کیس بحال ہو گیا ہے، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور ریفرنس بھی بحال ہو گیا ہے

    اسلام آباد سے صحافی اعزاز سید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے سابق صدر آصف زرداری ، سابق وزرا اعظم نواشریف ، شاہد خاقان عباسی ، یوسف رضا گیلانی ، شہباز شریف ، راجہ پرویز اشرف ، شوکت عزیز سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور دیگر کے مقدمات دوبارہ کھل جائینگے ۔

    عدالتی فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے وکلاء نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کی ہے، شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ آج پوری قوم کو مبارک ہو.عمران خان نے یہ پٹیشن فائل کی تھی پی ڈی ایم نے آتے ہی پہلے کام اپنے آپ کو این آر او دینے کا کیا تھا ،اپنے اپنے ریفرنسز اور کیسز کو بند کرنے کے لیے یہ ترامیم لائی گئی تھیں آرٹیکل 9، 14 اور 19 اے کی خلاف ورزی تھی ،سپریم کورٹ کے فیصلہ میں سیکشن 5 میں بے نامی دار کی اصل حیثیت کو بحال کر دیا گیا ہے سیکشن 9 بڑا اہم ہے جس کے سب سیکشن 5 میں آمدن سے زائد اثاثوں کی اصل شکل کو بحال کر دیا گیا یے ان کی جانب سے کوشش کی گئی تھی کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس نہ بنے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    نیب ترامیم کیس ،آخری سماعت میں کیا ہوا تھا،پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں