Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • توشہ خانہ کیس، الیکشن کمیشن کا وکیل بیمار،سماعت پیر تک ملتوی

    توشہ خانہ کیس، الیکشن کمیشن کا وکیل بیمار،سماعت پیر تک ملتوی

    توشہ خانہ کیس، اسلام آباد ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے سماعت کی

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز پیش نہ ہوئے، الیکشن کمیشن کے معاون وکیل نے امجد پرویز کی طبیعت ناسازی پر آج سماعت نہ کرنے کی استدعا کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ضمانت اور سزا معطلی کی درخواست کیخلاف دلائل ہیں اتنا لمبا نہیں چل سکتے، معاون وکیل نے کہا کہ سر امجد پرویز چلنے کے قابل ہوتے تو آ جاتے، کل بھی امجد پرویز نے دلائل کے دوران دوائی لی، ایسے حالاتِ تو کسی کے ساتھ بھی ہوسکتے ہیں ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی نہیں ، ایسا کسی کے ساتھ نہیں ہوسکتا، میری کل طبیعت خراب تھی مگر آیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی غلط اقدام ہیں، ٹوٹل دس منٹ کے دلائل دینے ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ بھی سینئر وکیل ہیں اور وکالت نامہ بھی ہے، الیکشن کمیشن کے اپنے وکلاء موجود ہیں، ہم نے صرف معاونت کرنا ہے باقی آپ اللہ کو جوابدہ ہے،ایک شخص بیس دنوں سے اندر پڑا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت سوموار تک ملتوی کرتے ہیں تا کہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ نے جو کرنا ہے کر لیں بے شک مجھے اندر کر دیں۔آپ نے جو کرنا ہے کریں پھر میں آپکی عدالت نہیں آؤنگا،

    لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سزا معطلی کے لیے تیار ہی نہیں، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہیں،یہ ایک جیل میں پڑے شخص کی زندگی کے تیں دن مانگ رہے ہیں، خدارا اس ادارے کو ایسا نہ بنائے کہ آپکا ماتحت آپکی بات نہ مانے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے جو کیا غلط کیا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ اس کیس میں سقم موجود ہیں ،چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اپیلوں پر ریلیف نہ مل سکا ،لطیف کھوسہ روسٹرم چھوڑ کر چلے گئے عدالت نے ایک بار پھر کیس کی سماعت پیر تک کے لئے ملتوی کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت سوموار تک ملتوی کردی۔

    سماعت ملتوی ہونے کے بعد تحریک انصاف وکلاء اور کارکنان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں فکس میچ نا منظور اور شیم شیم کے نعرے بازی کی،

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • پولیس حراست سے فرار ہونیوالا عمران خان کا سیکرٹری دوبارہ گرفتار

    پولیس حراست سے فرار ہونیوالا عمران خان کا سیکرٹری دوبارہ گرفتار

    لاہور ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کے پولٹیکل سیکرٹری سجاد علی خان کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت میں ایس ایس پی ڈاکٹر انوش سمیت دیگر افسران عدالت پیش ہوئے،پولیس نے سجاد علی خان کو عدالت پیش کردیا ، پولیس نے عدالت میں کہا کہ سجاد علی خان کینٹ کچہری سے پولیس حراست سے فرار ہوا،گزشتہ روز ملزم کو زمان پارک ناکے پر گرفتار کیا گیا،جسٹس محمد وحید خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے علم میں آنے کے بعد آپ نے گرفتاری ڈال دی ،عدالت نے پولیس سے استفسارکیا کہ آپ ایسی غیر قانونی چیزیں کیوں کرتے ہو ؟

    عدالت نے کہا کہ ملزم کو آگے آنے دو ،ملزم آگے آیا تو عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ پولیس کی حراست میں بھاگے تھے،ملزم سجاد نے جواب دیا کہ جی میں پولیس حراست سے فرار ہوا تھا،ملزم کے وکیل اشتیاق اے خان نے کہا کہ میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں،عدالت نے کہا کہ آپ نے اب عرض کیا کرنا ہے چھوڑیں اور ریمانڈ میں جا کر پیش ہوں،عدالت نے درخواست نمٹا دی ،جسٹس محمد وحید خان نے شہزاد خان کی درخواست پر سماعت کی

    صدر مملکت نے ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس مانگ لئے

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

  • امریکہ بہادر کا فیصلہ آگیا، کاکڑ اور ہمنوا پریشان

    امریکہ بہادر کا فیصلہ آگیا، کاکڑ اور ہمنوا پریشان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے مبشرلقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو بڑی اہم خبریں ہیں، ایک طرف تیاری ہو رہی ہے کہ نگران کابینہ میں اب مزید اضافہ ہونے جا رہا ہے، تین کم از کم ایڈوائزر اور آ رہے ہیں، ایک سابق جرنیل، ایک سابق بیوروکریٹ، تیسرا ہو سکتا ہے سابق صحافی ہو یا جج، وہاں پر یہ تیاری ہو رہی کہ کابینہ کو بڑھانا، اسکا مطلب لمبا عرصہ چلنا ہے،لانگ ٹرم حکومت ہو گی

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر سے امریکی سفیر کی ملاقات ہوئی اور لمبی مشاورت ہوئی، اتنی لمبی کہ چار پانچ بار چائے منگائی گئی، پریس ریلیز میں کہا گیا کہ امریکی سفیر نے کہا آئین کے مطابق وقت پر الیکشن ہوں گے، امریکہ سے شفاف الیکشن کے لیئے جو مدد چاہئے وہ ملے گی، دوسری خبر آج کی کہ صدر نے آج چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کے لئے بلوایا تھا تو اس نے انکار کر دیا، ہمارے ملک کا چیف الیکشن کمشنر اپنے‌صدر کو نہیں ملنا چاہتا ، لکھ کر انکار کر رہا ہے،لیکن دوسرے ملک کے سفیر کو ملنے کے لئے ٹائم بھی نکال رہا، بریفنگ بھی دے رہا، یہ کیا وجہ ہے؟ اگر آئینی طور پر ملنا تھا کہ فارن آفس میں کوئی درخواست گئی؟ ملنے کا طریقہ کار ہےکہ فارن آفس کو لکھیں گے وجہ بتائیں گے اور فارن آفس اگر صحیح سمجھتا ہے تو وہ بتائے گا کہ فلاں سفیر ملنا چاہتا ہے آ کر مل لیں ، ملاقات فارن آفس میں ہوتی اور وہاں فارن آفس کا نمائندہ موجودہوتا ہے،یہاں تو فارن آفس کو کوئی ریکوئسٹ نہیں آئی، اسکے بغیر لمبی چوڑی میٹنگ ہوئی، اسکے بعد پریس ریلیز دے دی گئی، کیا مدد کرنے کی بات کی گئی؟ کیا وہ الیکشن کمیشن کو 12 ارب یا 20 ارب دے گا؟ سیکورٹی دے گا؟ اور اگر دے گا تو بدلے میں کچھ تو مانگے گا، وہ کیا مانگے گا؟ یہ کچھ نہیں پتہ، کسی کو نہیں پتہ، کیونکہ فارن آفس کو نہیں پتہ، اس سارے واقعہ کے بعد صدر مملکت کو چیف الیکشن کمشنر نے کہہ دیا کہ میں نہیں مل سکتا، میں کئی دنوں سے کہہ رہا ہوں کمزور آدمی، چھوٹے آدمی کے لئے یہاں‌کوئی قانون نہیں، اگر پاکستان کا سفیر امریکہ میں چیف الیکشن کمشنر کو ملنے کی کوشش کرے تو وہ ایمبسڈر فارغ ہو جائے گا، اسی وقت آفس سے لیٹر آ جائے گا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کاکڑ صاحب ہمارے وزیراعظم ہیں، وہ تقریریں اچھی کر رہے ہیں،کیا فارن آفس امریکی نمائندے کو بلا کر احتجاج کرے گا کہ بغیر بتائے یہ ملاقات کیوں ہوئی؟ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ میرے ویلاگ کے بعد فارن آفس اپنے لیٹر، فائل بنائے گا تا کہ کاغذی کاروائی پوری ہو، الیکشن کی ڈیمانڈ اس وقت تحریک انصاف کی ہے، کس نے پاکستان میں سی پیک کو رکوایا، کس نے پاکستان کے سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف میں گروی رکھوایا؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل چیف جسٹس نے پوری کوشش کی کہ توشہ خانہ کیس میں ہاوی ہوں اور اسکا فیصلہ مرضی کا ہائیکورٹ سے نکلوائیں، اسی لئے کہا کہ فیصلہ کرو اور دو بجے ہمارے پاس آو، اسلئے کہا کہ جو فیصلہ ہو گا اسکے بعد ہم سن لیں گے،جھوٹ اتنا ہو گیا کہ بابر اعوان نے ٹویٹ کی کہ میں عمران خان کو ملا، اور عمران خان نے کہا کہ قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھ رہا ہوں، وہ ترجمہ ہی پڑھ رہا ہو گا، قرات عمران خان نہیں پڑھ سکتا، 12 سال سے تو حضرت عمر کی زندگی پر لیکچر دے رہا تھا عمران خان اور کتاب وہ اب پڑھ رہا ہے، اسکو تو کتاب لکھنے کی ضرورت ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دشمن چاند پر پہنچ گیا اور ہم یہیں بیٹھے چن چڑھا رہے ہیں، مجھے لگتا ہے سارے چاند پر پہنچیں گے اور ہم کہیں گے زمین پر ہم اکیلے ہی رہ گئے، اب ہم ہی سپر پاور ہیں،

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ اب صاحب بہاد ر نے کہہ دیا الیکشن جلدی ہونے چاہئے کاکڑ صاحب اور ہمنوا جو کابینہ بڑھانے کے بارے سوچ رہے ہیں وہ اب یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ صاحب بہادر کو جواب کیا دینا ہے؟ سرپرائزنگ بات کہ صدر جب کہہ رہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر نے کیوں انکار کیا؟

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے ہوگی

    سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے ہوگی

    سپریم کورٹ،توشہ خانہ کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ کا حصہ ہیں،چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر اگئے،چئیرمین پی ٹی کی بہنیں علیمہ خان اور عظمیٰ خان بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ابھی کیس کی سماعت چل رہی ہے،
    ہائی کورٹ معاملے کا حل نکال رہی ہے، یہی ہمارے نظام کی خوبصورتی ہے، ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے دیں، پھر سماعت کریں گے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں، ہمیں ابھی اس بارے میں زیادہ بات نہیں کرنی چاہیے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ کل اپنے موکل سے اٹک جیل میں ملاقات کی، ملاقات کے دوران ایک پولیس والا ہمارے درمیان ڈٹ کر بیٹھا رہا، چیف جسٹس نے کہا کہ جب ہائی کورٹ کا حکم آئے گا تب دیکھ لینگے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ
    آپ اللہ کو جواب دے ہیں،میرا کام آپکی معاونت کرنا ہے ،انصاف کرنا نہیں،عدالت نے کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے تک سماعت ملتوی کردی،سپریم کورٹ نے عمران خان کو جیل میں میسر سہولیات پر رپورٹ طلب کر لی

    دوران سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “بہت تکلیف ہوتی ہے جب وکلاء ہائیکورٹ کے خلاف بیانات دیتے ہیں، سول کورٹ، مجسٹریٹ یا ہائیکورٹ سپریم کورٹ کی ماتحت نہیں ہے، مجسٹریٹ سے لیکر ہائیکورٹ تک ہمارے لیے سب قابل احترام ہیں، کوئی بھی عدالت خود کو سپریم کورٹ کے ماتحت نہ سمجھے”۔

    بعد ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کل جمعہ تک سماعت ملتوی کی تو سپریم کورٹ کی جانب سے بھی کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی،سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت ملتوی کردی گئی،سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے ہوگی،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    صوبہ بھر کی چئیر لفٹس کے معائنہ کی ہدایت

    آرمی ریسکیو ہیلی کاپٹر کے لفٹ کے قریب پہنچتے ہی ڈولی نے ہلنا شروع کر دیا 

  • سانحہ نو مئی،عمران خان کو چھ مقدمات میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت

    سانحہ نو مئی،عمران خان کو چھ مقدمات میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت

    انسداد دہشت گردی عدالت ، سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے

    تفتیشی افسران کو چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کو چھ مقدمات میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت مل گئی،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے تفتیشی افسران کی درخواست منظور کر لی ،چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کو شادمان تھانہ جلانے ، کلمہ چوک کینٹینر جلانے ، مسلم لیگ ن ہاوس حملہ کیس میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت دے دی گئی،چئیرمین تحریک انصاف کوعسکری ٹاور حملہ کیس اور پولیس تشدد کیس میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت مل گئی، پولیس کو مقدمہ1271/23 گلبرگ ، 366/23 ماڈل ٹاؤن ، 768/23 شادمان ، 1078/23 نصیر آباد ، 1280/23 گلبرگ اور 367/23 تھانہ ماڈل ٹاون میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت مل گئی

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

  • عمران خان جیل میں اہلیہ سے علیحدگی میں بات نہیں کر سکا، وکیل

    عمران خان جیل میں اہلیہ سے علیحدگی میں بات نہیں کر سکا، وکیل

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی اور ضمانت کے خلاف اپیلوں پر سماعت چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نےکی،چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ، بابر اعوان، بیرسٹر علی ظفر، بیرسٹر گوہر، شعیب شاہین سمیت دو درجن سے زائد وکلا عدالت پیش ہوئے، الیکشن کمیشن کی جانب سے امجد پرویز و دیگر عدالت پیش ہوئے،،دوران سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر ہمیں موصول ہوا ہے، سپریم کورٹ نے آج سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کا کہا ہے،عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ سب سے پہلے عدالت نے دائرہ اختیار کو طے کرنا ہے، اس کیس میں سیکرٹری الیکشن کمیشن ڈسڑکٹ الیکشن کمشنر کو اتھارٹی دے رہا ہے، سیکرٹری الیکشن کمیشن آگے اختیار نہیں دے سکتا۔

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ صدر پاکستان نے 14 اگست کو قیدیوں کی 6 ماہ سزا معاف کی،عمران خان کی 6 ماہ کی سزا معاف کی جا چکی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کا حکم مل گیا ہے ہم آج فیصلہ دینے کے پابند ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ عمران خان کی سزا معطل کر کے فوری رہا کیا جائے

    سردار لطیف کھوسہ نے خواجہ حارث کا بیان حلفی عدالت میں جمع کروا دیا، لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ دائرہ کار کا معاملہ تا حال طے نہیں ہوا۔الیکشن کمیشن شکایت کر سکتی ہے ،یہاں ایک پرائیویٹ سیکریٹری نے شکایت کی ،الیکشن ایکٹ کے مطابق سیکرٹری کمشین کی تعریف پر پورا نہیں اترتا،عمران خان کی سزا معطل کر کے فوری رہا کیا جائے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کھوسہ صاحب ماتحت عدلیہ سے غلطی ہوئی ہے تو اس کو اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ مائی لارڈ بس غلطی؟ سیشن کورٹ ڈائرکٹ کمپلینٹ نہیں سن سکتی،الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کو شکایت دائر کرنے کا اختیار دیتا ہے۔چیئرمین الیکشن کمیشن اور چار ممبران کمیشن ہی شکایت دائر کرنے کا مجاز ہے۔میرے موکل کے خلاف شکایت سیکرٹری الیکشن کمیشن نے دائر کی۔سیکرٹری کو یہ اختیار نہیں۔ آپ کی معزز عدالت نے دو بار کیس ٹرائل کورٹ کو واپس بھیجا مگر ٹرائل کورٹ نے آرڈر کو اگنور کر دیا۔

    لطیف کھوسہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹک جیل میں عمران خان کے سیل کے باہر ایک پولیس والا بیٹھا تھا، میں نے پوچھا تو خان صاحب نے کہا میں تو اپنی اہلیہ سے بھی علیحدگی میں بات نہیں کر سکا، یہ سر پر بیٹھا رہا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو آٹھ سوالات پر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دیا،ٹرائل کورٹ نے اُن سوالات کا جواب دیے بغیر اپنے پہلے آرڈر کو ہی درست قرار دیا، سپریم کورٹ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو بھی نہیں مانا،

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں پتہ ہے ہم نے کیا کرنا ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ ہمیں سُن تو لیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا کمپلینٹ دائر کرنے کا اجازت نامہ قانون کے مطابق نہیں؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل، وہ اجازت نامہ درست نہیں ہے، ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں بہت غلطیاں ہیں،میں اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈرز کا حوالہ دیتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو 8 سوالات پر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دیا،ٹرائل کورٹ نے اُن سوالات کا جواب دیئے بغیر اپنے پہلے فیصلے کو ہی درست قرار دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل منظوری کا فیصلہ 4 اگست کی شام ملا، 5 اگست کو خواجہ حارث کے منشی کو اغواء کیا گیا، خواجہ حارث کا بیانِ حلفی موجود ہے،خواجہ حارث نے وجہ لکھی کہ کیوں وہ ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہیں ہو سکے،ہم سیشن کورٹ کی جانب سے ٹرائل کو تو چیلنج ہی نہیں کر رہے، ٹرائل سیشن کورٹ ہی کرے گی لیکن براہ راست نہیں کر سکتی، اس کیس کو سیشن کورٹ میں کیوں لیکر جایا گیا ؟ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ اس نوعیت کے کیس مجسٹریٹ کے پاس جائیں گے پہلے

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپکو میں بتاتا ہوں کہ کس طرح ہمایوں دلاور کا کیس سننا نہیں بنتا تھا آپ کتاب کھولیں اور سیشن 190(2) اور 193 پڑھیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جی ٹھیک، لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں آپکو سپریم کورٹ کی ججمنٹ دیتا ہوں ،2022 SCMR 356،

    کمرہ عدالت میں رش کے باعث اے سی کام کرنا چھوڑ گئے،گرمی کے باعث لطیف کھوسہ نے معاون وکیل کو قانونی نکات پڑھنے کیلئے بلا لیا،چیف جسٹس عامر فاروق نے اے سی کے وینٹ کے سامنے سے وکلا کو ہٹنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اے سی کے وینٹ کے سامنے سے تو جگہ چھوڑ دیں، کچھ تو ہوا آئے گی، لطیف کھوسہ صاحب کو پانی پلائیں، لطیف کھوسہ کی معاون خاتون وکیل نے قانونی نکات پڑھنا شروع کر دیئے

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالت کے مطابق گواہان کا تعلق انکم ٹیکس معاملات سے ہے، عدالت نے کہا کہ یہ عدالت انکم ٹیکس کا معاملہ نہیں دیکھ رہی، عدالت نے کہا وکیل دفاع گواہان کو کیس سے متعلقہ ثابت کرنے میں ناکام رہے،اس بنیاد پر ٹرائل عدالت نے گواہان کی فہرست کو مسترد کیا، جج صاحب نے کہا گواہان آج عدالت میں بھی موجود نہیں،گواہ اس روز کراچی میں موجود تھے، عدالت نے پوچھا آپ کیوں پیش کرنا چاہتے ہیں گواہان کو؟میرے گواہ ہیں، میں اپنے خرچے پر پیش کر رہا ہوں، آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے؟

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق سے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ میں نے پچاس سال میں ایسا کام ہوتے نہیں دیکھا جو ٹرائل جج نے کیا ہے،حق دفاع کی ہماری درخواست آج بھی آپ کے پاس زیر التوا ہے۔ معذرت کے ساتھ آپ نے بھی ٹرائل کورٹ کو حتمی فیصلہ دینے سے نہیں روکا ،چیف صاحب حیران کن بات یہ ہے کہ ہمایوں دلاور نے 30 منٹ میں 30 صفحات کا فیصلہ کیا، 30 منٹ میں 30 صفحات سن کر چیف جسٹس عامر فاروق مسکرا دئیے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جج ہمایوں نے اس وقت شارٹ آرڈر لکھوایا اور 12 بج کر 34 منٹ پر خان کو اٹھا لیا گیا خان نے مجھے کل بتایا کہ انہوں نے کہا میں آرہا ہوں وہ نہا رہے تھے واش روم کا دروازہ توڑا گیا،4 اگست کو آپ کا آرڈر آیا، آپ نے قابل سماعت کا معاملہ ریمانڈ بیک کیا، 5 تاریخ کو میں نے آپ کا آرڈر سپریم کورٹ چیلنج کردیا، خواجہ حارث کے کلرک کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی، خواجہ حارث نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام درخواست لکھی اور معاملہ بتایا،خواجہ صاحب 12 بج کر 15 منٹ پر ٹرائل کورٹ پہنچ گئے، جج صاحب نے کہا اب ضرورت نہیں، آپ آرڈر سنیں، 12 بج کر 30 منٹ پر جج صاحب نے شارٹ آرڈر سناتے ہوئے تین سال کی سزا سنا دی،12 بج کر 35 منٹ پر پتہ چلا لاہور پولیس گرفتار کرنے پہنچ گئی،جج ہمایوں دلاور نے اپنا جوڈیشل مائنڈ استعمال ہی نہیں کیا۔

    لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہوئے تو وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ لطیف کھوسہ میرے نکاح کے گواہ ہیں ،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو پھر اہم گواہ بن گئے ہیں اور یہ غیر متعلقہ بھی نہیں،جس پرعدالت میں قہقے گونج اٹھے

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے وقفے کے بعد دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو 5 اگست کو سزا سنائی گئی،8 اگست کو فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے حق دفاع ختم کرنے کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری کیے تھے،انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ ڈویژن بینچ ٹرائل کورٹ اور سپریم کورٹ کے درمیان سینڈوچ بن چکا ہے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ملزم 342 کے بیان میں کہتا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں گواہان پیش کرنا چاہتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ ملزم نے مانا کہ پراسیکیوشن نے اپنا کیس ثابت کردیا اب دفاع میں گواہ پیش کرنے چاہیئں، الیکشن کمیشن کے فارم بی پر تحریر کرنے کیلئے معلومات تو ملزم نے خود دینا ہوتی ہیں،اکاؤنٹینٹ، ٹیکس کنسلٹینیٹ نے خود سے تو معلومات پر نہیں کرنا ہوتیں، یہ مس ڈیکلیریشن کا کیس ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے خلیفہ راشد دوم حضرت عمر رضی الله عنه کا حوالہ دیا اور کہا کہ حضرت عمر فاروق نے سب پہلے فارم بی کا کنسیپٹ دیا تھا،حضرت عمر نے قرار دیا کہ ارباب اختیار کو اپنے اثاثے ظاہر کرنا لازمی ہیں،اپیل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 190 کے تحت دائر کی گئی،یہ سیکشن صرف اپیل کا فورم بیان کر رہا ہے، ااس سیکشن کے تحت حتمی فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی، اپیل کی نوعیت، سماعت کے طریقہ کار سے متعلق الیکشن ایکٹ کے حصہ 7 میں پورا چیپٹر موجود ہے،

    وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی جیولری یا گاڑی تو ڈیکلیئر نہیں کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی ریٹرن میں چار بکریاں مسلسل ظاہر کی جاتی رہی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت اس وقت سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کر رہی ہے، سزا معطلی کی درخواست پر عدالت میرٹس پر گہرائی میں نہیں جائے گی، یہ سوالات تو آئیں گے کہ ملزم کو حقِ دفاع ہی نہیں دیا گیا،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے گواہوں کو غیرمتعلقہ قرار دیا،گوشوارے تو اپنے کنسلٹنٹ کی مشاورت سے جمع کرائے جاتے ہیں نا،یہ تو کلائنٹ نے بتانا ہوتا ہے کہ اُس کے اثاثے کیا تھے،چیئرمین پی ٹی آئی کی فیملی کے پاس تین سال تک کوئی جیولری یا موٹرسائیکل تک نہیں تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو کوئی اپنے ریٹرنز فائل کرنے کا کہے تو میں تو خود نہیں کر سکتا، ان کے تین سوالات ہیں ایک مجسٹریٹ والا ہے ایک دورانیے والا ہے ایک اتھارٹی والا ہے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ان کا سوال یہ بھی ہے ان کو آخری دن سنا نہیں گیا ان کا حق دفاع بھی ختم ہوا، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ان کا یہ کہنا ہے اگرچہ اسٹے نہیں تھا اس کے باوجود نوٹس تو اس عدالت نے کر رکھا تھا، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بھی معاملہ زیر التوا تھا سنگل بنچ میں بھی ان کی پٹیشن زیر التوا تھی، اکاؤنٹنٹ اپنی طرف سے تو کچھ نہیں لکھتا کلائنٹ ہی بتاتا ہے، عدالت نے کہاکہ ہم اگرچہ لیگل کمیونٹی سے ہیں لیکن ٹیکس ریٹرن تو نہیں بھر سکتے، وکیل نے کہا کہ انہوں نے گوشواروں میں چار بکریاں ظاہر کیں لیکن باقی متعلقہ چیزیں ظاہر نہیں کیں، اپیل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 190 کے تحت دائر کی گئی،یہ سیکشن صرف اپیل کا فورم بیان کر رہا ہےاس سیکشن کے تحت حتمی فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی، اپیل کی نوعیت، سماعت کے طریقہ کار سے متعلق الیکشن ایکٹ کے حصہ 7 میں پورا چیپٹر موجود ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ آپ کا اصل میں نقطہ کیا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ درخواست گزار ریاست کی قید میں ہے، سزا سنائے جانے کے بعد اب سٹیٹس تبدیل ہو گیا ہے، ریاست کی قید میں ہونے پر ریاست کو فریق بنانا ضروری ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تو ہم ضمانت کے معاملے پر چل رہے ہیں، اپیل پر بات نہیں کررہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس بنیاد پر اپیل خارج کر دی جائے،کہہ رہا ہوں کہ ریاست کو نوٹس جاری کر دیا جائے، قانون کی متعلقہ دونوں شقیں کہتی ہیں کہ ریاست کو نوٹس جاری کیا جانا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر آپ کی بات لی جائے، حکومت کو نوٹس جاری کر دیئے جائیں تو حکومت آ کر کیا کرے گی؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ ملزم تو حکومت کی تحویل میں ہے نہ،یہ قانون کا تقاضا ہے، قانون آپ کے سامنے ہے، سادہ زبان ہے، ریاست کے پاس فیصلے کے دفاع کا حق موجود ہے،ریاست نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ فیصلے کا دفاع کرے گی یا نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کو لگتا ہے کہ ریاست آ کر کہے گی کہ سزا غلط دی گئی؟ یہ مختصر سزا ہے اور یہ بغیر نوٹس بھی معطل ہو جاتی ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسا کوئی فیصلہ موجود نہیں ہے کہ بغیر نوٹس سزا معطل ہوئی ہو، ‏مختصر سزا پر سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے احکامات موجود ہیں، ایک کیس میں ملزم کو ٹرائل کے بعد ساڑھے 2 سال کی سزا سنائی گئی تھی،ملزم نے ہائیکورٹ میں شارٹ سینٹس کی بنیاد پر معطلی کی اپیل کی، ہائیکورٹ نے اس کی اپیل خارج کی، معاملہ سپریم کورٹ گیا،
    ‏سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے کہا کہ قابل ضمانت دفعات کے تحت مقدمات میں بھی سزا معطل نہیں ہوسکتی،3 سال کی سزا معطلی حق نہیں، عدالت کے استحقاق پر منحصر ہے،

    ‏اسلام آباد ہائیکورٹ ، توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل ،عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کل 11:30 پر دوبارہ سنیں گے،

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • توشہ خانہ کیس، خواجہ حارث عمران خان کی قانونی ٹیم چھوڑ گئے

    توشہ خانہ کیس، خواجہ حارث عمران خان کی قانونی ٹیم چھوڑ گئے

    خواجہ حارث توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم سے الگ ہوگئے

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قانونی ٹیم میں ڈسپلن کے حوالے سے تحفظات کے بعد خواجہ حارث نے علیحدگی کا فیصلہ کیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق خواجہ حارث نے کیس کی تمام فائلیں چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کو بھجوا دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کیلئے خواجہ حارث پیش نہیں ہونگے،توشہ خانہ کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر سماعت درخواست میں بھی خواجہ حارث وکیل نہیں ہونگے،سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نمائندگی سردار لطیف کھوسہ اور دیگر کریں گے،

    دوسری جانب ہائیکورٹ، توشہ خانہ کیس،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث کے کیس سے الگ ہونے کا معاملہ، چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے رکن بیرسٹر گوہر نے تردید کی اور کہا کہ خواجہ حارث کیس سے الگ نہیں ہوئے، ان کے معاونین آتے رہتے ہیں،خواجہ حارث کی مہارت اور قابلیت سے ہم استفادہ کرتے ہیں، خواجہ حارث کا پاوور آف اٹارنی سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ دونوں جگہ موجود ہے،

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو سزا ہو چکی ہے اور عمران خان اٹک جیل میں ہیں، توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وکیل خواجہ حارث تھے، سابق وزیراعظم نواز شریف کو جب سزا ہوئی تھی تب انکے وکیل بھی خواجہ حارث تھے، یوں خواجہ حارث نے کیس لڑتے ہوئے دو سابق وزیراعظم کو سزا سنوائی اور جیل بھجوایا، اب توشہ خانہ کیس میں عمران خان نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے سپریم کورٹ میں بھی ایک درخواست زیر سماعت ہے

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • وکیل قتل کیس،عمران خان کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع

    وکیل قتل کیس،عمران خان کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع

    سپریم کورٹ نے کوئٹہ میں وکیل قتل کیس چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع کردی

    مدعی مقدمہ کے وکیل کی عدم موجودگی پر سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل موسم گرما کی تعطیلات کے بعد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ پچھلی سماعت پر جو بدمزگی ہوئی اس پر عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا، آج شکر ہے پرسکون ماحول ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ کے حکم پر کیا آپ شامل تفتیش ہوئے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے شامل تفتیش ہونا بھی نہیں ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہ آپ نے طے کرنا ہے کہ شامل تفتیش ہوں گے یا نہیں؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی پر دہشتگردی کی دفعات نہیں لگتیں، جے آئی ٹی میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے افسران شامل ہیں وہاں پیش نہیں ہوں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں اور بھی سوالات ہم نے سوچ رکھے ہیں،شکایت کنندہ کی غیر موجودگی میں کیس نہیں سن سکتے، لطیف کھوسہ نے استدعا کی کہ کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،عدالت نے کہا کہ کیس کو عدالتی چھٹیوں کے بعد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،

    پی ٹی آئی وکیل علی اعجاز بٹر کا کہنا ہے کہ کوئٹہ وکیل قتل کیس میں دوسری طرف مدعی کے وکیل آج بیماری کی وجہ سے پیش نہیں ہوۓ اس وجہ سے کیس ملتوی ہو گیا لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے عبوری حکم کو برقرار رکھا ہے،اس کیس میں خان صاحب کو گرفتار نہیں کیا جائے گا،

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • پی ٹی آٸی نے پارٹی آٸین میں الیکشن کرانے کا طریقہ کار ہی تبدیل کردیا

    پی ٹی آٸی نے پارٹی آٸین میں الیکشن کرانے کا طریقہ کار ہی تبدیل کردیا

    چیئرمین تحریک انصاف کا انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے کا معاملہ,الیکشن کمیشن میں انٹرا پارٹی الیکشن کیس کی سماعت ہوئی

    چیئرمین تحریک انصاف کے جانب سے بیرسٹر علی ظفر کمیشن کے سامنے پیش ہوئے،کیس کی سماعت تین رکنی کمیشن نے کی، علی ظفر نے کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن دس جون 2022 میں پارٹی کے آئین کے مطابق ہوئے ،الیکشن کے بعد یکم اگست 2022 کو پارٹی آئین میں ترمیم کی گئی ، نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ ہم نے پارٹی الیکشن ترمیم سے پہلے کروا دیے ، رکن الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ آپ نے پارٹی کے الیکشن 2019 کے آئین کے تحت کروائے ، علی ظفرنے کہا کہ جی بلکل ہم نے 2019 کے آئین کے تحت الیکشن کروائے ، ہمارے چیف الیکشن کمیشن نے زبانی کہا کہ ہم 2019 والی ترمیم واپس لے رہے ہیں ،

    رکن کمیشن نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے آرڈر میں آ گیا کہ 2019 کی ترمیم واپس لی گئی ہے،علی ظفر نے کہا کہ جی بلکل آپ کے آرڈر میں آیا جو بلکل غلط تھا ہم 2022 والی ترمیم واپس لے رہے تھے ہمارے وکیل سے غلطی ہوئی تھی، رکن کمیشن نے کہا کہ آپ نے اگر ترمیم کی ہے تو پھر ترمیم کے بعد الیکشن کروائیں ناں، آپ کو نوٹس یہ بھی کیا ہے کہ آپ نے پارٹی کا پورا آئین ہی تبدیل کر دیا ہے، علی ظفر نے کہا کہ انور مقصود صاحب سے غلطی ہوئی ہے وہ اس پر بیان حلفی دیں گے، یکم اگست دوہزار باٸیس کو پی ٹی آٸی نے پارٹی آٸین میں دوبارہ ترامیم کیں ، پی ٹی آٸی کے وکلاء نے زبانی دوسری ترمیم واپس لینے کی بات کی ، معزز بنچ نے غلط فہمی کی بنیاد پہ زبانی کی گٸی بات کو حکم نامے کا حصہ بنایا،

    ممبر کمیشن جسٹس اکرام اللہ نے کہا کہ آپ حکم نامہ ملنے کے باوجود کیوں خاموش رہے ، کیا آپ کو معلوم نہیں تھا، بیرسٹر علی گوہر نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں تھا اس لیے ردعمل نہیں دیا، ممبر کمیشن نے کہا کہ دو اگست کو آپ کو نوٹس ملا تو جواب کیوں نہیں دیا، علی ظفر نے کہا کہ آج اسی نوٹس کا جواب دینے ہی آئے ہیں ،ممبر کمیشن احسن بھروانہ نے کہا کہ نوٹس اس بات پہ دیا کہ جو پارٹی آٸین میں جو ترامیم ہوٸیں وہ نہیں کرسکتے تھے، ممبر کمیشن نثار درانی نے کہا کہ آپ کو جو غلط فہمی ہوٸی اس کا جواب جمع کرا دیں، ظفر اقبال نے کہا کہ پی ٹی آٸی نے پارٹی آٸین میں الیکشن کرانے کا طریقہ کار ہی تبدیل کردیا،اس کیس کا بغور جاٸزہ لینے کی ضرورت ہے ،کیس کی سماعت 30 اگست تک ملتوی کر دی گئی

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی

    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی

    اسلام آباد: توشہ خانہ فوجداری کیس میں اسلا آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خخلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سزا کے خلاف اپیل اور سزا معطلی کی درخواست پر سماعت آج بھی ہوگی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے وکیل آج دلائل دیں گے چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت دوپہر 2 بجے ہو گی-

    گزشتہ روز دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کا حکم درست نہیں، ٹرائل کورٹ کے جج نے جلد بازی میں فیصلہ کیا ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس پر 7 دن میں فیصلہ کرنے کا کہا اور ٹرائل کورٹ نے ایک ہی دن میں فیصلہ کر دیا، اگر کوئی فیصلہ غلط ہے تو اس میں مداخلت کر سکتے ہیں۔

    ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کی پیشگوئی

    سماعت کے دوران عمران خان کی جانب سے وکیل لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست دائر کرتے ہوئےکہا کہ ہائیکورٹ نے 4 اگست کو درخواستوں پر فیصلہ دیا، 5 اگست کو ٹرائل کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے ہمارے خلاف فیصلہ دے دیا،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ سیشن عدالت کے خلاف کوئی حکم امتناع نہیں تھا، اس نے فیصلہ ہی کرنا تھا۔

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    دوسری جانب توشہ خانہ فوجداری کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیل اور سزا معطلی کی درخواست پر سماعت آج ہو گی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق جہانگیری پر مشتمل ڈویژنل بینچ کیس کی سماعت کرے گا اسلام آباد ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کے وکیل آج دلائل دیں گے عدالت نے گزشتہ روز اٹک جیل حکام کو چیئرمین پی ٹی آئی سے وکلا بابر اعوان اور لطیف کھوسہ کو ملاقات کی اجازت دی تھی۔

    خیبرپختونخوا کی نگران کابینہ کے 9 وزراء کو ذمہ داریاں سونپ دی گئیں

    جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ پر عدم اعتماد کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے اور اپنےکیسز، ٹرائل اور انکوائریاں اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور یا پشاور ہائیکورٹ منتقل کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔