Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • بابراعوان،لطیف کھوسہ کی عمران خان سے ملاقات کروائی جائے،عدالت

    بابراعوان،لطیف کھوسہ کی عمران خان سے ملاقات کروائی جائے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا

    چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے تحریری حکم نامہ جاری کیا، تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے اپیل پر تیاری کیلئے 2 ہفتوں کا وقت مانگا، درخواست گزار وکلا نے الیکشن کمیشن کی وقت حاصل کرنے کی استدعا کی مخالفت کی، انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دو دن کا وقت دیا جاتا ہے، درخواست کو 24 اگست کو دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کیا جائے، وکیل ڈاکٹر بابر اعوان نے چیئرمین پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کی درخواست دی، ڈاکٹر بابر اعوان کی درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کیے، حبابر اعوان نے موقف اپنایا کہ اگر ملاقات کی اجازت مل جائے تو وہ اعتراضات کیخلاف نہیں جائیں گے،بابر اعوان کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھے جاتے ہیں،اٹک جیل حکام بابر اعوان کی چیئرمین پی ٹی آئی سے 23 اگست دوپہر 1 سے 3 بجے کے درمیان ملاقات کرائیں، وکیل لطیف کھوسہ کی جانب سے بھی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست کی گئی، لطیف کھوسہ کی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست منظور کی جاتی ہے،جیل حکام 23 اگست دوپہر 2 بجے لطیف کھوسہ کی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کروائیں،

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ میں چیرمین پی ٹی ائی کا توشہ خانہ کیس ٹرائل کو بھجوانے کے ہائیکورٹ حکم کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کی جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے مختلف احکامات کے خلاف تین درخواستیں دائر کی ہیں، چیرمین پی ٹی ائی 2018 انتخابات میں میانوالی سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے، الیکشن ایکٹ ہر رکن اسمبلی کو اثاثہ جات کی تفصیل جمع کروانے کا کہتا ہے،6 اراکین اسمبلی نے چیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کیلئے سپیکر اسمبلی کے پاس ریفرنس بھیجا ،اراکین اسمبلی نے چیرمین پی ٹی پر اثاثوں کی غلط ڈیکلریشن کا الزام لگایا سپیکر اسمبلی نے ریفرنس الیکشن ایکٹ کے سیکشن 137 کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو بھجوا دیا

    جسٹس مظاہر علی اکبرنے لطیف کھوسہ کو ہدایت کی کہ آپ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 137 پڑھیں ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ قانون کے مطابق الیکشن کمیشن 120 دنوں میں ہی کاروائی کرسکتا یے،جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا ایک ممبر دوسرے کے خلاف ریفرنس بھیج سکتا ہے ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ کوئی ممبر ریفرنس نہیں بھیج سکتا الیکشن کمیش خود بھی ایک مقررہ وقت میں کاروائی کرسکتا ہے ،چیئیرمین پی ٹی آئی کیخلاف سپیکر نے ریفرنس بھیجا لیکن 120 دن گزرنے کے بعد، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کا کیس تو ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہے شکایت کی قانونی حیثیت پر نہیں، ٹرائل کورٹ سے مقدمہ ختم ہوچکا اب کس کو ریمانڈ کیا جا سکتا ہے؟ موجودہ کیس کا سزا کیخلاف مرکزی اپیل پر کیا اثر ہوگا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالت کو گھڑی کی سوئیاں واپس پہلے والی پوزیشن پر لانی ہونگی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر مرتبہ غلط بنیاد پر بنائی گئی عمارت نہیں گر سکتی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 21 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی کو نااہل کرکے شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا،الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا نہ کوئی فوجداری کارروئی تاحکم ثانی نہیں ہوگی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست وہاں ہی دائر ہوسکتی جس عدالت کی توہین ہوئی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے فوجداری شکایت درج کرائی،ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کو الیکشن کمیشن نے مقدمہ درج کرانے کی اتھارٹی نہیں دی تھی،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ اپ نے شکایت کی قانونی حیشت کو چیلنج ہی نہیں کیا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے شکایت کی قانونی حیشت کو ہی چیلنج کیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کا کیس اب ٹرائل کورٹ میں زیر التوا نہیں، آپ کا کیس سن کر اب ہم کہاں بھیجیں گے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس ساری مشق کو سپریم کورٹ کالعدم قرار دے سکتی ہے ،انصاف تک کی رسائی کو روکا جاتا رہا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہتے ہیں شکایت ایڈیشنل سیشن کے بجائے مجسٹریٹ کے پاس جانی چاہیے تھی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے فیصلے پبلک ہوتے ہیں، فیصلوں پر تنقید ہوتی ہے اور فیصلوں تک ہی رہنی چاہیے، ادارے ایسے ہی کام کر سکتے ہیں،جسٹس مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کرپٹ پریکٹس کا فیصلہ دینے کے کتنے دن بعد شکائت بھیجی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ قانون میں دنوں کا تعین اثاثوں کے تفصیل جمع کرانے کے بعد سے لکھا ہے، سردار لطیف کھوسہ نے قانون پڑھ کر سنا دیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 342 اسمبلی ممبران پھر صوبائی ممبران سب کی تفصیل الیکشن کمشن 120 دن میں کیسے دیکھ سکتا ہے ؟ 120 دن کہاں سے شروع ہوں گے کے یہ دیکھنے کے لیے اپنا مائنڈ اپلائی کرنا ہو گا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرا مقدمہ بار بار ایک ہی جج کو بھجوایا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کسی عدالت پر تعصب کا الزام نہیں لگا سکتے، سپریم کورٹ یہاں سول جج تک اپنے تمام ججز کا دفاع کرے گی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے اس عدلیہ کے لیے اپنا خون بہایا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس لیے تو آپ سے توقعات زیادہ ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم آپ کے لیے حاضر ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے لیے نہیں اس چئیر کے لیے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے معاملہ ٹرائل کورٹ بھیجا تھا جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے فیصلہ کیا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ وہ جج فیصلہ دیکر لندن روانہ ہو گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لندن والی بات نہ کریں، آپ صرف یہ بتائیں ہائی کورٹ کے بتائے نکات پر ٹرائل کورٹ نے فیصلہ کیا یا نہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ان نکات پر فیصلہ نہیں کیا کیس قابل سماعت ہونے کا اپنا سابقہ فیصلہ بحال کردیا،ان جج صاحب نے فیس بک پر چئیرمیں پی ٹی آئی کیخلاف زہر اگلا ہوا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہو گئے ،سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی.

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں غلطیاں ہیں، عمران خان کو غلط طریقے سے سزا سنائی گئی،عمران خان کو سزا سنانے میں کوئی ایک نہیں کئی بڑی غلطیاں ہوئیں، عمران خان کا حق دفاع ختم کرنا غلط تھا، ٹرائل کورٹ کے جج نے اس فیصلے پر انحصار کیا، جو کالعدم ہو چکا تھا، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ملک کی کسی اور عدالت میں یہ سب ہوتا ہے جو جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں ہوا؟

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ کی سرزنش کی اور کہا کہ آپ ہر بات پر اسلام آباد ہائیکورٹ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ اعتراض نہ کریں تو پھر کیا کریں ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے فیصلہ کردیا تو آپ اپیل کردیں، عدالت کا ہر فیصلہ پبلک ڈومین میں جاتا ہے،
    عدالت کا فیصلہ ڈسکس ہونا چاہیے ججز نہیں، لطیف کھوسہ نے جواب دیا ،ٹھیک ہے سر، چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ہائیکورٹ نے چار اگست کو آپ کی درخواستوں پر فیصلہ کردیا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ پانچ اگست کو ٹرائل کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے ہمارے خلاف فیصلہ دے دیا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ سیشن عدالت کے خلاف کوئی حکم امتناع نہیں تھا اس نے فیصلہ ہی کرنا تھا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ قانون میں پھر 120 کی حد کیوں دی گئی ہے ؟ کیا ساری عمر یہ تلوار لٹکتی رہے گی ؟ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ قانون میں لکھا ہے کہ جب ڈیکلریشن کا جھوٹا ہونے کا پتہ چلے گا اس کے 120 دن تک شکایت درج ہوسکتی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 800 سے زیادہ ارکان ہیں، الیکشن کمیشن نے سینکڑوں ارکان اسمبلی کے اثاثوں کا جائزہ 120 دن میں تو نہیں لے سکتا،120 دن کب شروع ہوں گے اس کے لیے مائنڈ آپلائی کرنا پڑتا ہے، پانچ اگست کو اپیل کا فیصلہ ہوگیا آپ نے چینلج بھی کردیا،ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ کو تعصب کے ساتھ ٹرائل کی تیز رفتاری پر بھی اعتراض تھا،اگر کوئی فیصلہ غلط ہے اس میں مداخلت کرسکتے ہیں، سپریم کورٹ یہاں ہر جج کے تحفظ کے لیے بیٹھی ہے،سپریم کورٹ کے جج سے لے کر ماتحت عدالت تک ہر جج کی عزت برابر ہے،جب فیصلہ آجاتا ہے تو وہ عوام کی ملکیت ہوتی ہے، تنقید عدالتی فیصلے پر کریں ادارے پر نہیں،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلے چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف کرپٹ پریکٹس ثابت ہوئی پھر شکایت بھیجی گئی، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ٹرائل کورٹ یا اپیلٹ کورٹ نے کسی معاملے کو نہیں دیکھا تو ہم اس کو دیکھ سکتے،اگر متعلقہ کورٹ نے کسی معاملے پر فیصلہ کرلیا ہے تو اپیل میں ہم دیکھ سکتے ہیں،قومی اسمبلی کے 342 ارکان ہوتے ہیں،120دن میں شکایت بھیجنا مشکل ہے،آپ عدالتی فیصلے پر بات کریں، جج پر بات نا کریں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج سے لے کر ٹرائل کورٹ تک سب کی برابر عزت و تکریم ہے، ہم نے آپ کیلئے خون دیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے ہمارا ساتھ دیا، آئین کیلئے ہم گواہ ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ نے آئین کیلئے جدوجہد کی، کسی جج کیلئے نہیں،

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی واپس ہائیکورٹ بھیج دیا،سپریم کورٹ ہمارے اعتراضات کو سن کر فیصلہ کرے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ ہائیکورٹ کے فورم کو کیوں ضائع کررہے ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ
    ہائیکورٹ کا فورم ضائع ہوتا ہے تو ہونے دیں،ہم خوار ہورہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ جزباتی ہونے کی بجائے قانون کے مطابق دلائل دیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہائیکورٹ میں اپیلیں زیرسماعت ہیں انہیں فیصلہ کرنے دیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بہتر نہیں ہوگا ہائیکورٹ مائنڈ اپلائی کرکے فیصلہ دے، بار بار کیسز عدالتوں میں آتے رہے، امجد پرویز وکیل الیکشن کمیشن نےکہا کہ اس کیس میں پیش ہونے کیلئے میرے پاس اٹارنی نہیں ہے، عدالت نے وکیل الیکشن کمیشن سے کہا کہ آپ پہلے بھی پیش ہوتے رہے ہیں، اس کیس پر آپ سے معاونت لیں گے، ہائیکورٹ نے خود فیصلہ کرنے کی بجائے پھر ریمانڈ بیک کردیا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے 3سے4 مرتبہ کیس میں وقفہ کیا لیکن ملزم کی طرف سے کوئی پیش نہیں ہوا، پھر سیشن کورٹ نے فیصلہ کردیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کتنے دن کے مواقع دئیے گئے، اگر ٹرائل کورٹ یا اپیلٹ کورٹ نے کسی معاملے کو نہیں دیکھا تو ہم اس کو دیکھ سکتے،اگر متعلقہ کورٹ نے کسی معاملے پر فیصلہ کرلیا ہے تو اپیل میں ہم دیکھ سکتے ہیں،

    توشہ خانہ کیس میں جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو سزا سنائی ،جس کے بعد عمران خان اٹک جیل میں ہیں، جج ہمایوں دلاور پر پی ٹی آئی نے اعتراض عائد کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی تا ہم عدالت نے دو بار یہی فیصلہ دیا تھا کہ جج ہمایوں دلاور ہی کیس کو سنیں گے جس کے بعد پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جج ہمایوں دلاور کیس کا فیصلہ سنا چکے ہیں اور عمران خان جیل میں ہیں

    عمران خان کو جب زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل لے جایا گیا تھا تو ابتدائی ایام میں عمران خان کو جیل میں مشکلات کا سامنا تھا ، انکو ایک چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا تھا اور واش روم بھی اسی بیرک کے اندر ہی موجود تھا تا ہم اب عمران خان کو جیل میں سہولیات ملنے لگ گئی ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • جج ہمایوں دلاور نے ہدایت پر سزا سنائی،سپریم کورٹ میں درخواست

    جج ہمایوں دلاور نے ہدایت پر سزا سنائی،سپریم کورٹ میں درخواست

    پی ٹی آئی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو میرے خلاف تمام مقدمات کی شنوائی سے روکا جائے،میرے تمام مقدمات اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور یا پشاور ہائیکورٹس منتقل کیے جائیں،عدالتی فیصلہ ہونے تک جسٹس عامر فاروق کو مقدمات کی سماعت سے روکا جائے،

    سپریم کورٹ میں درخواست آرٹیکل 186 اے کے تحت دائر کی گئی ،درخواست ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ کی وساطت سے دائر کی گئی ،درخواست میں کہا گیا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے میرے خلاف تعصب کے بارے میں ٹھوس شواہد موجود ہیں، مجھے جیل میں رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے تاکہ میں انتخابات میں حصہ نہ لے سکوں،مجھے میرے قانونی حقوق سے محروم رکھا جا رہا، جج ہمایوں دلاور مجھے سزا دینے کے لیے تیار تھا اس لیے میرا مقدمہ اس کے پاس بھجوایا گیا،جج ہمایوں دلاور مجھ سے نفرت کرتا ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایت پر جج ہمایوں دلاور نے مجھے سزا سنائی،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو سزا سنائی ،جس کے بعد عمران خان اٹک جیل میں ہیں، جج ہمایوں دلاور پر پی ٹی آئی نے اعتراض عائد کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی تا ہم عدالت نے دو بار یہی فیصلہ دیا تھا کہ جج ہمایوں دلاور ہی کیس کو سنیں گے جس کے بعد پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جج ہمایوں دلاور کیس کا فیصلہ سنا چکے ہیں اور عمران خان جیل میں ہیں

    عمران خان کو جب زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل لے جایا گیا تھا تو ابتدائی ایام میں عمران خان کو جیل میں مشکلات کا سامنا تھا ، انکو ایک چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا تھا اور واش روم بھی اسی بیرک کے اندر ہی موجود تھا تا ہم اب عمران خان کو جیل میں سہولیات ملنے لگ گئی ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عائشہ علی بھٹہ سمیت 25 کارکنان کے ریمانڈ میں توسیع

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عائشہ علی بھٹہ سمیت 25 کارکنان کے ریمانڈ میں توسیع

    نو مئی کو راحت بیکری افشان چوک میں پولیس کی گاڑیاں نزر آتش کرنے کا معاملہ ، پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عائشہ علی بھٹہ کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا

    عدالت نے ملزمہ عائشہ علی بھٹہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ ہر جیل بھجوا دیا ،انسداد دھشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے سماعت کی ،پولیس نے نئے مقدمہ میں جسمانی ریمانڈ کے بعد عدالت میں پیش کیا ، تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ملزمہ تھانہ سرور روڑ کے مقدمہ نمبر 103/23 مین ملوث ہے،ملزمہ راحت بیکری افشان چوک میں پولیس کی گاڑیاں نزر آتش کرنے میں ملوث ہے تفتیش مکمل ہو گئی ہے ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا جائےشناخت پریڈ میں عائشہ علی بھٹہ کی شناخت ہو گئی ہے ملزمہ عائشہ علی بھٹہ جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہے

    ملزمہ کی جانب سے رانا مدثر عمر اور یوسف وائیں ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور کہا کہ ملزمہ کو پہلے جناح ہاؤس حملہ کیس میں ملوث کیا گیا اب نئے مقدمہ میں ملوث کر دیا گیا ہےملزمہ کی جناح ہاؤس حملہ میں ضمانت منظور ہو چکی ہے ،ملزمہ کو رہا کیا جائے،

    انسداد دہشتگردی عدالت ،پی ٹی آئی کے 25 کارکنان کے جوڈیشل ریمانڈ کا معاملہ ،عدالت نے پی ٹی آئی کے 25 کارکنان کو پیش کیا ،عدالت نے کارکنانِ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کر دی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے سماعت کی،عدالت نے تمام ملزمان کو 5 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا، پولیس نے کہا کہ ملزمان کا جوڈیشل ریمانڈ ختم ہو چکا ہے،ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی جائےملزمان کے مقدمہ کا چالان آخری مراحل میں ہے ،چالان جلد مکمل کر کے پیش کر دیا جائے گا ،ملزمان کے خلاف نو مئی کے واقعات میں توڑ پھوڑ جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات درج ہیں

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

  • پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈر کی بازیابی کی درخواست حسان نیازی کی درخواست کیساتھ یکجا

    پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈر کی بازیابی کی درخواست حسان نیازی کی درخواست کیساتھ یکجا

    پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر کو ملٹری کورٹس کے حوالے کرنے کا معاملہ ،لاہور ہائیکورٹ نے محمد مجید کی بازیابی کی درخواست حسان نیازی کی درخواست کیساتھ یکجا کردی

    عدالت نےمزید سماعت 25 اگست تک ملتوی کردی جسٹس سلطان تنویر احمد نے حیدر مجید کی درخواست پر سماعت کی ،پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پیش ہوئے ،فاضل جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس بیرسٹر حسان خان نیازی کیس سے لنک ہے، اس کیساتھ 25 اگست کو سنیں گے، پنجاب حکومت کے وکیل نے گزشتہ روز پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر محمد مجید کو فوج کے حوالے کرنے کا بیان دیا تھا

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواستگزار کے والد کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے، صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں ٹکٹ ہولڈر بھی تھے،پولیس نے حراست میں لیا، بتایا نہیں جارہا کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے،عدالت درخواستگزار کے والد کو بازیاب کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے،

    قبل ازیں حسان خان نیازی کی بازیابی سے متعلق درخواست کا معاملہ ،پولیس نے لاہور ہائیکورٹ میں جواب جمع کروا دیا ،پولیس نے رپورٹ میں کہا کہ حسان خان نیازی جناح ہاؤس حملہ کیس میں نامزد ہیں حسان نیازی جناح ہاؤس حملہ کیس میں مرکزی ملزمان میں شامل ہیںحسان نیازی کو ٹرائل کے لیے ملٹری کے حوالے کردیا گیا ہے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی

    حسان خان نیازی کو 18 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست،الیکشن کمیشن کے وکیل نے وقت مانگ لیا

    عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست،الیکشن کمیشن کے وکیل نے وقت مانگ لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    ڈاکٹر بابر اعوان اور شیر افضل مروت نے سب سے پہلے عمران خان سے وکلاء کی ملاقات نہ کرانے کا معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری کے سامنے رکھ دیا ،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ آپ کے احکامات کے باوجود ہمیں عمران خان سے ملنے نہیں دیا جا رہا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ آپکو ملاقات سے کیوں روکا گیا ہے، میں نے تو کہا تھا دو تین وکلاء ملاقات کیلئے چلے جائیں اور زیادہ رش نہ ہو،ملاقات میں کوئی ممانعت نہیں ہے، ہم نے گزشتہ سماعت پر جیل رولز بھی دیکھے تھے، میں نے اس تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آرڈر پاس کیا تھا،

    شیرافضل مروت ایڈوکیٹ نے کہاکہ ابھی کچھ ہی دیر پہلے میرے گھر پر ریڈ کیا گیا ہے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے اپیل پر نوٹس جاری کر کے کیس کا ریکارڈ طلب کیا تھا، کیا ریکارڈ عدالت میں آ گیا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ مجھے کیس کا تصدیق شدہ ریکارڈ ابھی نہیں مل سکا،کیس کے میرٹس پر سزا معطلی کی درخواست دی گئی ہے، میری استدعا ہے کہ مجھے تیاری کیلئے مناسب وقت دیا جائے، بابر اعوان نے کہا کہ لطیف کھوسہ، خواجہ حارث اور دیگر سینئر وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میں اس حوالے سے آرڈر پاس کروں گا، سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ میری درخواست سن لیں شاید آج سزا معطل ہی ہو جائے، عدالت نے کہا کہ عمران خان کی وکلاء سے ملاقات کے بارے میں آج واضح فیصلہ جاری کرونگا

    ایڈیشنل جج اٹک کی رپورٹ سردار لطیف کھوسہ نے جسٹس عامر فاروق اور جہانگیری صاحب کے آگے رکھ دی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ سیشن جج صاحب نے خود رپورٹ دی ہے وہاں پرائیوسی تک نہیں،ایک سابق وزیراعظم کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے، ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر رحم نہ کھائیں مگر آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں ،

    الیکشن کمیشن کے وکیل کی جانب سے وقت مانگنے پر عدالت نے سماعت پرسوں تک ملتوی کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی اپیل پر سماعت 24 اگست تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • عمران خان کے وکیل کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب

    عمران خان کے وکیل کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب

    اسلام آباد ہائی کورٹ ،چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے رکن اور وکیل شیر افضل مروت کی کیسوں کی تفصیلات فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے شیر افضل مروت کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات 30 اگست تک طلب کرلیں ،عدالت نے مقدمات کی تفصیلات آنے تک شیر افضل مروت کے خلاف مزید تادیبی کاروائی سے روک دیا عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 30 اگست تک جواب طلب کرلیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،عدالت نے شیر افضل مروت کی درخواست پر اعتراضات دور کردیے ،وکیل شیر افضل مروت ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ میری درخواست پر بایومیٹرک نہ کرانے کا عتراض تھا ، جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکو بائیو میٹرک کی کیا ضرورت ہے ، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ درخواست دائر کرنے کے لیے بائیو میٹرک تصدیق لازمی ہوتی ہے ، عدالت نے استفسارکیا کہ آپکو کیس چاہیے کیا درخواست ہے آپکی ، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ فریقین کے خلاف کیسز کرتے ہیں تو وہ ہراساں کرتے ہیں ،جنھیں فریق بناتے ہیں وہ ہمارے خلاف ہوجاتے ہیں،روزانہ کی بنیاد کیسز بن رہے ہیں،میرے خلاف اٹک میں ایف آئی آر درج کی گئی، عدالت کیسوں کی تفصیلات طلب کرے اور گرفتاری سے روکنے کے احکامات جاری کرے ،

    عدالت نے کیسوں کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ،عدالت نے فریقین کو شیر افضل مروت کے خلاف تادیبی کاروائی سے روکتے ہوئے کیس کی سماعت 30 اگست تک ملتوی کر دی،

    آئین پر عمل سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا،شازیہ مری

    آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • صدر اور سیکرٹری کے تنازعے نے ایوان صدر کو فٹبال میدان بنا دیا،فیصل کریم کنڈی

    صدر اور سیکرٹری کے تنازعے نے ایوان صدر کو فٹبال میدان بنا دیا،فیصل کریم کنڈی

    سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صدر اور سیکرٹری کے تنازعے نے ایوان صدر کو فٹبال میدان بنا دیا ہے ‘

    فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صدر اور ان کے سیکرٹری کی بیان بازی سے ملک تماشا بن رہا ہے عمران خان نے سائفر کے نام پر ملک کو تماشا بنایا اب ڈاکٹر علوی ملک کو تماشا بنا رہا ہے غیر آئینی طریقے سے اسمبلی توڑنے پر صدر کے خلاف کارروائی ہوتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ،2018 کے انتخابات میں بد دیانتی کے مضر اثرات کھل کر سامنے آ رہے ہیں 1995 میں میں بوئی ہوئی طفیلی جڑ نے پور ملک اور معاشرے کو لپیٹ میں لے لیا ہے 90 دن کے اندر آزادانہ غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات ہی ملک کو درست سمت میں لے جائیں گے 90 دن کے اندر انتخابات نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہوگی الیکشن کمیشن 90 دن کے اندر انتخابات کروا کر اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے

    آئین پر عمل سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا،شازیہ مری
    سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری نے کہا ہے کہ آئینی مدت پوری ہونے سے تین ہفتے قبل صدر کا ٹیوٹ سوالیہ نشان ہے، شازیہ مری کا کہنا تھا کہ صدر عارف علوی کے طرز عمل نے ملک کی ساکھ خراب کرنے کی ایک اور واردات ہے،اس سے پہلے صدر علوی غیر آینئی طریقے سے قومی اسمبلی بھی توڑ چکے ہیں، دنیا میں کوئی صدر سوشل میڈیا کے ذریعے آئینی امور نہیں نمٹاتے،سوشل میڈیا یا ٹویٹ کے زریعے آئینی زمیداری سے بری ہونا نامناسب ہے،لگائے گئے الزام سنگین ہیں لہٰزا تحقیق ضروری ہے،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دن رات محنت کرکے ملک کی ساکھ بحال کی ہے، کسی بڑے بحران سے بچنے کے لیے 90 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں،90 دن کے اندر انتخابات نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہوگی، ہمیں آئین کے مطابق چلنا ہوگا آئین پر عمل سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا،

    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    یاد رہے کہ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اپنے عملے سےکہا بغیر دستخط شدہ بلز مقررہ وقت میں واپس کردیں تاکہ غیرمؤثر بنایاجاسکے. میں نے کئی بار تصدیق کی اور مجھے یقین دلایا گیا کہ بلز واپس جاچکے ہیں۔ صدرمملکت نے کہا کہ مجھے آج پتہ چلا میرا عملہ میری مرضی،حکم کیخلاف گیا، میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو قانون اس سے متاثرہوں گے۔ اللہ سب جانتا ہے وہ انشاءاللہ معاف کردے گا۔

  • جیل میں عمران خان کے حالات پر مفتی منیب کا بھی بیان سامنے آ گیا

    جیل میں عمران خان کے حالات پر مفتی منیب کا بھی بیان سامنے آ گیا

    اسلام آباد: توشہ خانہ فوجداری کیس میں سزا کے بعد اٹک جیل میں قید چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کیلئے جیل کے واش روم میں بھی پرائیویسی نہ ہونے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سابق چیئرمین روہت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے بھی بیان جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز ہردو ہفتےبعد کی جانے والی معمول کی انسپکشن کے تحت ایڈیشنل سیشن جج اٹک شفقت اللہ نے 15 اگست کو جیل کا دورہ کرنے کے بعد تحریری رپورٹ جمع کروائی تھی کہ عمران خان کو جیل میں کس قسم کے حالات کاسامنا ہے انہوں نے عمران خان کو واش روم سہولیات میں پریشانی کا ذکر کیا تھا۔

    ترجمان محکمہ جیل خانہ جات پنجاب کا کہنا ہے کہ اٹک جیل میں مقید چیئرمین تحریک انصاف کو پریزنز رولز کے مطابق تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں، چیئرمین تحریک انصاف کے کمرے میں بروز ہفتہ نیا واش روم تعمیر کیا گیا، واش روم میں ویسٹرن کموڈ اور بیسن لگائے گئے ہیں۔

    سعودی عرب:روبوٹ کے ذریعے مرگی کے مریض کے دماغ میں چپ لگا دی گئی

    محکمہ جیل خانہ جات کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جیل قوانین کے مطابق تمام سہولتیں فراہم کی جا چکی ہیں جس میں نیا باتھ روم بھی بنوا دیا گیا ہے جس کی دیواریں 5 فٹ اونچی ہیں اور نیا دروازہ بھی لگایا گیا ہے، واش روم میں ویسٹرن کموڈ اور واش بیسن بھی ہے۔

    ترجمان محکمہ جیل خانہ جات کے مطابق عمران خان کیلئے بنائے گئے باتھ روم میں باتھ سوپ ، پرفیوم، ائیر فریشنر، تولیہ اور ٹیشو پیپر بھی موجود ہیں،کمرے میں بیڈ ، تکیہ ، میٹرس، میز ، کرسی، ائیر کولر ایگزاسٹ فین بھی موجود ہے، فروٹ، شہد، کھجوریں، جائے نماز انگریزی ترجمے والا قرآن مجید اورکتابیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔

    ملک میں مزید مون سون بارشوں کی پیش گوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے 5 ڈاکٹر تعینات ہیں جن کی چیکنگ کے بعد عمران خان کو اسپیشل خوراک دی جاتی ہے، سکیورٹی کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے بر آمد ےمیں نصب ہیں منگل کو فیملی اور جمعرات کو وکلا سے عمران خان کی ملاقات کرائی جاتی ہے۔


    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں متی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ اگر خان صاحب کے دورمیں اپنے مخالفین کے ساتھ کچھ ناروا کیا گیا تھا تو وہ بھی غلط تھا اور اگر آج عمران خان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیاجارہا ہے تو یہ بھی غلط ہےایک غلطی دوسری غلطی کے جوازکا سبب نہں بن سکتی، ہمیں اسلامی اقدار کی پاسداری کرنی چاہیےانہوں نے قرآنی آیت کا حوالہ بھی دیا-

    واضح رہے کہ توشہ خانہ فوجداری کیس میں 3 سال قید کی سزا پانے والے عمران خان کو 5 اگست کو گرفتاری کے فوراً بعد لاہور زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا۔ ان کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست زیرسماعت ہے۔

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سمندری طوفان نے تباہی مچا دی

  • توہین عدالت کارروائی: الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹس جاری

    توہین عدالت کارروائی: الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹس جاری

    چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ہوئی

    ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے سماعت کی ،چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ہم نے لاہور ہائیکورٹ میں یہ کیس چیلنج کیا ہوا ہے،چیئرمین تحریک انصاف جیل میں ہیں،چیئرمین تحریک انصاف کو آج حاضری سے استثنی دی جائے، وکیل انور منصور نے کہا کہ اسد عمر کے کیسز انسداد دہشتگردی عدالت میں ہیں، ویاں کیسز ہیں، شعیب شاہین نے کہا کہ ہمیں شوکاز نوٹس کا جواب نہیں دیا گیا، مجھے ابھی تک چیئرمین تحریک انصاف سے ملنے نہیں دیا گیا، میری کلائنٹ سے ملاقات ہو گی تو اس کے بعد اس پوزیشن میں ہوں کہ جواب جمع کرانا یا کچھ اور،ڈی جی لا نے کہا کہ فرد جرم لگانی ہو تو روبکار کے ذریعے بھی یہاں بلایا جا سکتا ہے، الیکشن کمیشن نے اسد عمر اور چیئرمین تحریک انصاف کے کیس کی سماعت 5 ستمبر تک ملتوی

    لاہور ہائی کورٹ نے درخواست پر الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے- لاہور ہائی کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف الیکشن کمیشن کی جاری توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست پر سماعت میں ہوئی جسٹس وحید خان نے سماعت کی، بیرسٹر سمیر کھوسہ کی وساطت سے دائر کی گئی درخواست میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا اور چئیر مین پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کو 20 جون کا حکم نامہ چیلنج کیا ہے۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف حتمی فیصلہ کرنے سے روک دیاعدالت نے درخواست چیف جسٹس کو بھجواتے ہوئے فل بنچ کے روبرو لگانے کی سفارش کردی جسٹس محمد وحید خان نےریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کیس میں اپنی کارروائی جاری رکھے سپریم کورٹ کے کے فیصلے تک الیکشن کمیشن توہین عدالت کیس کا حتمی فیصلہ نہیں کرے گا۔

    حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی خدمات انجام دینے سے انکار کر …

    عدالت نے درخواست پر الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے، اور ریمارکس دیئے کہ دو ملزمان میں سے ایک کو شوکاز نوٹس جاری کر رہے ہیں، شریک ملزم کی معذرت قبول کرکے معافی دے رہے ہیں یہ تو امتیازی سلوک واضح نظر آرہا ہے۔

    سعودی عرب:روبوٹ کے ذریعے مرگی کے مریض کے دماغ میں چپ لگا دی گئی