Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • جی ایچ کیو حملہ کیس، زین قریشی سمیت مزید 3 ملزمان پر فرد جرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس، زین قریشی سمیت مزید 3 ملزمان پر فرد جرم عائد

    9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس،مزید تین ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی.

    فرد جرم زین قریشی،راجہ ناصر محفوظ،راجہ شہباز پر عائد کی گئی،زین قریشی پیش نہ ہوئے وکیل کے ذریعے فرد جرم عائد ہوئی،جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی،دورانِ سماعت اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نوید ملک اور ظہیر شاہ عدالت میں پیش ہوئے، پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک اور فیصل چوہدری بھی عدالت میں پیش ہوئے۔عمران خان کو عدالت میں پیش کیا گیا، ملزم زین قریشی عدالت پیش نہیں ہوئے،سماعت کے دوران مزید 3 ملزمان زین قریشی، راجہ ناصر محفوظ اور راجہ شہباز ٹائیگر پر فردِ جرم عائد کر دی ہے،جی ایچ کیو حملہ کیس میں مزید 3 ملزمان پر فردِ جرم عائد ہونے کے بعد مجموعی طور پر 116 ملزمان پر فرد جرم عائد ہو گئی،پراسیکیوشن نے ملزمان بلال، اعجاز، عاصم اور شہیر سکندر کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کی استدعا کر دی،عدالت نے سی سی ٹی وی کے حصول کے لئے عمران خان اور فواد کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، بعد ازاں عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 24 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان و دیگرکی بریت درخواستیں خارج

    جی ایچ کیو حملہ کیس، شیخ رشید کی بریت کی درخواست مسترد،فیصلہ جاری

    جی ایچ کیو حملہ کیس، گنڈا پور ،قریشی،شبلی فراز سمیت مزید 14 ملزمان پر فردجرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس، مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان و دیگرکی بریت درخواستیں خارج

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان و دیگرکی بریت درخواستیں خارج

    راولپنڈی: انسداد دہشت گردی کی عدالت راولپنڈی میں 9 مئی کو ہونے والے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی، جس میں تحریک انصاف کے بانی عمران خان، علی امین گنڈاپور، شاہ محمود قریشی سمیت 12 ملزمان کی درخواست بریت پر فیصلہ سنایا گیا۔ عدالت نے ان تمام ملزمان کی درخواست بریت کو خارج کر دیا۔

    عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان، علی امین گنڈاپور، اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کی درخواستیں بریت خارج کرتے ہوئے انہیں مزید قانونی مراحل سے گزرنے کا حکم دیا۔ ان کے علاوہ، پی ٹی آئی کے دیگر رہنما جیسے شبلی فراز، شہریار آفریدی، فواد چودھری، کنول شوذب اور عمر تنویر بٹ کی درخواستیں بھی مسترد کر دی گئیں۔اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی طرف سے بریت کی درخواستوں میں کوئی قانونی جواز نہیں ہے اور ان پر الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ ظہیر شاہ نے عدالت سے استدعا کی کہ ان درخواستوں کو مسترد کیا جائے تاکہ ملزمان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جا سکے۔

    عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جب تک فرد جرم عائد نہیں ہو جاتی، بریت کی درخواستوں کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ فرد جرم عائد ہو چکی ہے، اس لیے ان درخواستوں کو غیر مؤثر قرار دیا جاتا ہے،عدالت نے 4 ملزمان کی طرف سے بیرون ملک جانے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ ان ملزمان کے وکلاء نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کے دستاویزات نامکمل ہیں اور ان کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔ تاہم، عدالت نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیس کی نوعیت اور شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    پاکستان تحریک انصاف کے وکلاء فیصل چودھری اور فیصل ملک نے عدالت میں اپنے دلائل دیے اور کہا کہ ان کے موکلین کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں، اس لیے انہیں بری کیا جانا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے وکلاء نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزمان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کرنے سے پہلے ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

    عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت کے لیے تاریخ مقرر کرتے ہوئے تمام ملزمان کو اپنے دفاع کے لیے حاضر ہونے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ، عدالت نے مزید شواہد اور گواہوں کی پیشی کا بھی حکم دیا ہے تاکہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس، شیخ رشید کی بریت کی درخواست مسترد،فیصلہ جاری

    جی ایچ کیو حملہ کیس، گنڈا پور ،قریشی،شبلی فراز سمیت مزید 14 ملزمان پر فردجرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس، مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    جی ایچ کیو حملہ کیس،گنڈاپور،شبلی فراز سمیت 25 ملزمان کے وارنٹ

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان سمیت دیگر پر فردجرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمر ایوب کی بریت کی درخواست خارج

  • 190 ملین پاؤنڈ کتنی بڑی کرپشن کا کیس , عمران خان قومی مجرم

    190 ملین پاؤنڈ کتنی بڑی کرپشن کا کیس , عمران خان قومی مجرم

    پاکستان میں کرپشن کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں، مگر 190 ملین پاؤنڈ کا معاملہ واقعی ایک بڑا اور پیچیدہ کیس ہے۔ یہ وہ رقم ہے جو القادر ٹرسٹ کے کیس میں برطانوی اداروں سے ملنے والے لوٹ کے پیسے کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اب ایک سادہ حساب کے ذریعے اس کرپشن کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    سب سے پہلے، اگر ہم نواز شریف کے مے فئیر اپارٹمنٹس کے کیس کو دیکھیں تو یہ اپارٹمنٹس 1 ملین پاؤنڈ سے کم کی قیمت پر خریدے گئے تھے۔ اب اس قیمت کو 190 سے ضرب دیں، تو یہ ایک بہت بڑی رقم بنتی ہے، جو القادر ٹرسٹ کے کیس سے ملتی جلتی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر ہم اس کا موازنہ کریں تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ کیس پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کرپشن کیس بن چکا ہے۔عمران خان، جو کبھی یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ لوٹے ہوئے مال کو واپس لائیں گے، جب انہیں برطانوی اداروں سے یہ لوٹا ہوا پیسہ مل گیا، تو انہوں نے اس کو قومی خزانے میں جمع کروانے کی بجائے، اسی مجرم کو بھی بخش دیا۔اور اس مجرم سے زمینیں اور قیمتی جواہرات حاصل کر کے اُسے ملک کا "ہیرو” بھی بنا دیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کرپشن کے اس بڑے کیس میں کس طرح سیاسی مفادات کا کھیل کھیلا گیا۔یہ صورتحال پاکستانی عوام کے لیے ایک سبق ہے کہ کس طرح حکومتیں اور سیاستدان اپنی ذاتی مفادات کے لیے قومی خزانے کا استحصال کرتی ہیں اور ایک بڑے کرپشن کیس کو چھپانے کے لیے دیگر ذرائع اختیار کیے جاتے ہیں۔190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان اور بشری بی بی نے دیگر پی ٹی آئی رہنماون کے ساتھ ملکر قومی خزانے کے ساتھ کھلواڑ کیا ۔گزشتہ روز عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا جو 23 دسمبر کو سنایا جائے گا اس کیس میں عمران و بشریٰ کو سزا یقینی ہے۔

    طالبان کے حمایتی عمران خان کے ساتھ امریکی ہمدردیاں کیوں؟

    سلمان احمد کو بشری پر تنقید مہنگی پڑ گئی، پارٹی میں رہنے کیلیے بشری کی وفاداری ضروری

    بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے خلاف مقدمہ درج

  • طالبان کے حمایتی عمران خان کے ساتھ امریکی ہمدردیاں کیوں؟

    طالبان کے حمایتی عمران خان کے ساتھ امریکی ہمدردیاں کیوں؟

    افغانستان میں امریکہ کی شکست پر طالبان کی فتح کا جشن منانے والے عمران خان کے لئے اب امریکہ سے ہی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی لابنگ فرم نے کام دکھانا شروع کر دیا ۔ امریکی غلامی سے آزادی لینے کے دعویدار امریکہ سے مدد مانگ رہے تو وہیں امریکی بھی عمران خان کے لیے لابنگ کرنے لگے

    طالبان جنہوں نے دو دہائیوں تک امریکی افواج کے خلاف جنگ لڑی اور 2,400 سے زائد امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا۔ 2021 میں جب طالبان افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آئے، عمران خان نے اس فتح کو خوشی کے ساتھ سراہا اور طالبان کے قبضے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس موقع پر امریکی تربیت یافتہ افغان فوجیوں کی شکست کا مذاق اُڑایا اور طالبان کو ایک عظیم کامیابی قرار دیا۔یہاں تک کہ عمران خان نے طالبان کی کامیابی کو ایک علامتی فتح کے طور پر پیش کیا، جسے اس وقت کے عالمی سیاست میں ایک غیر معمولی موقف کے طور پر دیکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے نہ صرف امریکہ کی فوجی طاقت کو شکست دی بلکہ افغانستان کی آزادی اور خود مختاری کے لیے بھی ایک بڑا قدم اُٹھایا ہے۔

    مگر آج کچھ عجیب سی صورتحال سامنے آئی ہے۔ امریکی کانگریس کے کئی اہم ارکان اب عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہیں ایک ایسے ہیرو اور جمہوریت کے علمبردار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس نے امریکہ کے دشمنوں کی حمایت کی۔ ایک ایسا شخص جو کبھی طالبان کے حق میں بول رہا تھا، آج وہ امریکہ میں اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک محبوب شخصیت بن چکا ہے۔ یہ تبدیلی کس طرح آئی؟اس تبدیلی کا ایک بڑا سبب واشنگٹن کا لابنگ نظام ہے۔ وہ طاقتور لابنگ جو طالبان کے حمایتی کو بھی امریکہ کا دوست بنا دیتی ہے اور ناقدین کو بھی حامیوں میں تبدیل کر دیتی ہے۔ امریکہ کا لابنگ سسٹم نہایت حیرت انگیز طریقے سے اپنے مخالفین کو اپنے اتحادیوں میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وقت نہیں آیا کہ ہم اس لابنگ سسٹم کی ذہانت اور اس کے کمالات کو تسلیم کریں؟ ایک ایسی قوت جو اپنے مخالفین کو بھی اپنے کیمپ میں شامل کر لیتی ہے، کیا یہ ایک سیاسی جادو نہیں؟ اس کا جواب شاید آنے والے دنوں میں ہمیں مزید واضح ہو سکے گا۔

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ 23 دسمبر کو سنایا جائیگا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ 23 دسمبر کو سنایا جائیگا

    اسلام آباد: احتساب عدالت نے اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    عدالت نے اس کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں کی جہاں دونوں ملزمان، عمران خان اور بشریٰ بی بی، عدالت میں موجود رہے۔احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا کی سربراہی میں اس کیس کی سماعت جاری تھی۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کے وکلا نے اپنے حتمی دلائل مکمل کرلیے جبکہ پراسیکیوشن ٹیم نے گزشتہ روز اپنے دلائل مکمل کیے تھے۔ عدالت نے فریقین کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور کہا کہ 23 دسمبر کو اس کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ اس فیصلے کا انتظار ملک بھر میں کیا جا رہا ہے کیونکہ اس مقدمے کی نوعیت اہم ہے اور اس سے سیاسی منظرنامے پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • عمران خان کو ویڈیو لنک سے عدالت پیش کرنے کا نوٹفکیشن کالعدم قرار

    عمران خان کو ویڈیو لنک سے عدالت پیش کرنے کا نوٹفکیشن کالعدم قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کو بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔

    جسٹس طارق سلیم شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا ،فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق اس معاملے کو کابینہ کے سامنے پیش کیا جاتا، دہشتگردی قوانین کے تحت انفرادی طور پر اس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاسکتا، ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کابینہ کی منظوری کے بغیر عمران خان کو ویڈیو لنک پر عدالت پیش کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، اے ٹی اے کے تحت جرائم انتہائی خطرناک ہوتے ہیں،آئین ملزمان کے بنیادی حقوق کی بات کرتا ہے، جسمانی ریمانڈ میں ملزمان کو ویڈیو لنک پر پیش کرنے سے بنیادی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں،اے ٹی اے کے قانون میں کئی ترامیم ہو چکی ہیں، جسمانی ریمانڈ کے سیکشن 21 ای میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، ٹرائل کے دوران عدالت میں ملزم کو ویڈیو لنک پر پیش کیا جاسکتا ہے، جسمانی ریمانڈ پر ویڈیو لنک کے ذریعے پیش نہیں کیا جا سکتا، عدالت 15 جولائی 2024 کو بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک پر عدالت پیش کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتی ہے، بانی پی ٹی آئی کی درخواست کو منظور کیا جاتا ہے۔

    بعدازاں عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اے ٹی سی عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا، عدالت نے محکمہ داخلہ کے ویڈیو لنک پرعدالت پیشی کے نوٹیفکیشن کو غیرقانونی قرار دے دیا

    یاد رہے کہ عمران خان نے لاہور میں 9 مئی کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے لیے ویڈیو لنک پیشی کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا تھا

  • عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    جیل ریفارمز کمیٹی ممبر خدیجہ شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا.

    چیف جسٹس جیل ریفارمز کمیٹی نے کل اڈیالہ جیل کا وزٹ کیا لیکن کمیٹی کو عمران خان کے سیل کا دورے کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی قائم کردہ جیل ریفارمز کمیٹی احد چیمہ ، خدیجہ شاہ اور آمنہ قدیر نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل کا دورہ کیا ہے کمیٹی ممبران کو جیل افسران کی جانب سے مختلف جگہوں کا دورہ کرایا گیا کمیٹی کو عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرایا گیا، جس پر خدیجہ شاہ نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے

    چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں خدیجہ شاہ کا کہنا تھا کہ میں آپ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف دلانے کے لئے یہ خط لکھ رہی ہوں جو ہماری سب کمیٹی کے اڈیالہ جیل، راولپنڈی کے دورے کے دوران پیش آیا۔ ہمارے وفد کو جیل انتظامیہ، بشمول سپرنٹنڈنٹ، نے جیل کی سہولتوں کا دورہ کرایا۔ہمارے دورے کے دوران ہم نے مشاہدہ کیا کہ تمام علاقوں کو ہمارے استقبال کے لئے تیار کیا گیا تھا اور ماحول بہت صاف ستھرا تھا۔ جیل کے عملے کی بڑی تعداد ہمارے ہمراہ تھی۔ ہم نے مختلف حصوں کا دورہ کیا، جن میں ہسپتال، خواتین کے بیرک، ذہنی بیماریوں اور نشے کی لت میں مبتلا قیدیوں کے لئے مخصوص علاقے شامل تھے۔ ہم نے سزائے موت کے قیدیوں کا بھی معائنہ کیا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہماری سب کمیٹی قیدیوں کے ساتھ سلوک اور ان کی حالتوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ قیدیوں کے حقوق کے معیارات، جیسے مینڈیلا رولز اور بنکاک رپورٹ کے مطابق جانچ رہی ہے۔ ملک گزشتہ دو سالوں سے بحران میں ہے، اور اس کا اثر جیلوں کی آبادی پر پڑا ہے، جہاں سیاسی قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    خدیجہ شاہ نے خط میں کہا کہ اڈیالہ جیل ایک ایسی جیل ہے جہاں گذشتہ دو سالوں میں اور تاریخاً بہت سے سیاسی قیدی رکھے گئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان بھی وہاں قید ہیں۔ ان سے رائے لینا ضروری تھا کیونکہ یہ ہمیں سیاسی قیدیوں کے حالات اور ان کے حقوق کے بارے میں اصلاحات کی سمت سمجھنے میں مدد دے سکتا تھا۔آپ نے جیل انتظامیہ اور حکومتی افسران کو ہمارے جیل اصلاحات کے اجلاسوں میں صاف طور پر ہدایت دی تھی کہ سب کمیٹی کو جیل کے تمام حصوں تک مکمل رسائی دی جائے اور ہمیں قیدیوں سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ آپ نے انہیں یہ بھی کہا تھا کہ ہمیں جیل عملے کی نگرانی کے بغیر آزادی کے ساتھ جیل کے اندر حرکت کرنے کی سہولت فراہم کی جائے۔بدقسمتی سے، ہمارے جیل کے دورے کے بعد جب ہم نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے کمروں تک رسائی کی درخواست کی تو ہمیں ان تک رسائی دینے سے انکار کر دیا گیا۔ پہلے تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ جیل کی سماعت میں ہیں، اور جب ہم نے اصرار کیا کہ ہم ان کے رہائشی حالات کو دیکھنا چاہتے ہیں، تو یہ درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد ڈی آئی جی عبدالرؤف رانا آئے اور انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ ہمیں ان تک رسائی نہیں دی جائے گی۔مجھے اس رسائی کے انکار پر بہت حیرانی ہوئی، کیونکہ جب میں خود قید تھی، تو ہم نے ان تمام کمیٹیوں اور حکومتی اراکین سے ملاقات کی تھی جو کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کی حالتوں کا جائزہ لینے آئی تھیں۔ ہم نے اپنی رائے دی تھی، جس میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور عالیا حمزہ بھی شامل تھیں، جو سابقہ حکومت کی اراکین تھیں اور سیاسی قیدی بھی رہ چکی ہیں۔اس واقعے سے نہ صرف ہماری سب کمیٹی کی آزادی میں رکاوٹ آئی بلکہ اس سے قیدیوں کے حقوق کے بارے میں ہمارے جائزہ اور مشاہدے کی اہمیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ہم نے ہمیشہ جیلوں میں قیدیوں کی حالتوں کا معقول اور شفاف جائزہ لینے کی کوشش کی ہے تاکہ اصلاحات کی جا سکیں اور اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور جیل اصلاحات کی نگرانی اور قیدیوں کے حقوق کی بہتری کے لئے مناسب اقدامات کریں۔

    قبل ازیں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خدیجہ شاہ کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ پاکستانی جیلوں میں بھی اصلاحات ہونگی،جیل اصلاحات کی کمیٹی مختلف جیلوں کا دورہ کر رہی ہے، ہم قیدیوں سے تاثرات پتہ کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کس طرح کا رویہ ہے، انسانی حقوق متاثر ہو رہے یا نہیں، میں خود بھی قیدی رہی ہوں، تمام دورے مکمل ہونے کے بعد ہم اپنی رپورٹ دیں گے، ہم سیاسی قیدی تھے، میں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا، نومئی کے مقدمے میں مجھے جیل میں ڈالا گیا تھا،ضمانت میر ا حق تھا بہت عرصے تک نہیں دی گئی، میری چیزیں جیل میں اندر نہیں آ سکتی تھیں، سزا یافتہ قیدیوں کے ساتھ مجھے رکھا گیا تھا حالانکہ مجھے سزا نہیں ہوئی تھی، اسکے باوجود،اور پھر مجھے بلوچستان بھی بھیجا، یہ کسی طرح بھی قانون کے مطابق نہیں ہے، جن لوگوں نے جرائم کئے اور وہ جیل میں ہیں، انکے ساتھ برتاؤ کو دیکھنا ہے

    لائیو اسٹاک ایمپلائز ایسوسی ایشن پنجاب کے انتخابات، شاہین گروپ کامیاب

    ارکان کی تنخواہوں میں اضافہ پنجاب اسمبلی کا شرمناک عمل ہے،حافظ نعیم

    شیر افضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

  • شیر افضل مروت نے  پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

    شیر افضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے عمر ایوب کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے بدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت سے کسی نے کوئی وضاحت نہیں مانگی۔ ان کا اشارہ شیر افضل مروت کے اس بیان کی طرف تھا جو انہوں نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں دیا تھا۔ اس بیان میں شیر افضل مروت نے حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی بنانے اور مذاکرات کے لیے ٹی او آرز وضع کرنے کی درخواست کی تھی۔ شیر افضل مروت کی اس آفر کو حکومتی وزیروں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا گیا تھا۔بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کی پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی ہے۔ ان کے مطابق، یہ تمام اقدامات ملکی مفاد میں ہیں اور پی ٹی آئی کی قیادت ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مسائل کا حل بات چیت میں ہی ہے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی ختم ہوگیا ہے جس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی پنجاب کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے گھروں اور ڈیروں پر چھاپوں کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز پر دباؤ ڈالنا بند کیا جائے، اور اگر چھاپوں اور دباؤ کا سلسلہ جاری رہا تو ایوان میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا جائے گا۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر فوری طور پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے ان دونوں واقعات کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی ضرورت پر زور دیا۔ ساتھ ہی پارٹی نے بانی تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

    پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے بھی ایک اہم بیان میں کہا کہ "سول نافرمانی تب شروع ہو گی جب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔ پاکستان کو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ ایک آزاد عدلیہ کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی مکمل طور پر بااختیار ہے اور ان کے مطابق عدلیہ کی آزادی، 9 مئی کے واقعات، اور مینڈیٹ کی چوری سمیت دیگر اہم مسائل مذاکرات میں زیر بحث آئیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاسی قیادت دیرپا فارمولے پر رضامند ہو گی۔شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ ملک میں مسائل سنگین صورتِ حال اختیار کر چکے ہیں اور مذاکرات اب ناگزیر ہو گئے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کی موجودہ صورتحال میں ہزاروں کارکن جیلوں میں بند ہیں، اور اگر مسائل کا حل پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے نکل آتا ہے تو یہ ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

  • اسلام آباد کا موسم شدید سرد،عمران کی رہائی کے منصوبے فلاپ

    اسلام آباد کا موسم شدید سرد،عمران کی رہائی کے منصوبے فلاپ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کہتے ہیں ناں مال مفت، دل بے رحم، اڈیالہ میں عمران خان کو 500 دن مکمل ہو چکے ہیں،دو کام ہوئے، تنزلی کا شکار معیشت میں بہتری آنا شروع ہوئی تو وہیں عمران خان کی رہائی کی ہر کوشش ناکام ہوئی، اب حالات یہ ہیں کہ اسلام آباد میں دوبارہ یلغار کی سکت نہیں، سارے کے سارے جعلی انقلابی شہباز شریف سے منت ترلے کر رہے ہیں

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی سے حکومت کیا مذاکرات کرے، بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب کے پاس سوال کا جواب نہیں نہ ہی اسد قیصر،شبلی فراز کو کچھ پتہ، عمران خان کو یقین ہے اسکی رہائی ممکن نہیں اور واحد امید کی کرن ڈونلڈ ٹرمپ ہے کہ وہ عمران کی رہائی کی بات کرے گا، ٹویٹ کا انتظار کر رہے ہیں یہ، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ عمران خان نے عدلیہ پر بھی امریکی دباؤ ڈالنے کی سازش تیار کر لی ہے، یہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے عدالتی نظام کو بدنام کرنا چاہتے ہیں، ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں عدلیہ آزاد نہیں عمران خان کے حقوق اور آزادی کو سلب کیا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کر کے امن کا ستیاناس کیا، معیشت تباہ کی،اور عدلیہ انکی سہولت کاری کرتی رہی، گڈ ٹوسی یو انہیں کہا جاتا رہا، اب توشہ خانہ ٹو اور نومئی کے مقدمات انکے سروں پر تلوار ہیں، اور خطرہ اب ٹلنے والا نہیں، امریکہ شکیل آفریدی کی رہائی کے لئے سارے ہتھکنڈے آزما چکا، اوباما کا دباؤ فیل ہوا تھا، عمران خان کی رہائی کے لئے ٹرمپ کا دباؤ بھی کام نہیں آئے گا

    جی ایچ کیو حملہ کیس میں شیری مزاری پر فردجرم عائد کر دی گئی، تا ہم قریشی بچ گئے، علی امین گنڈا پور جیل گئے لیکن عمران خان سے ملاقات نہ ہو سکی، ٹارزن کو اس کی اوقات یاد دلا دی گئی،چڑیل کے مطابق فون پر ایک گھنٹے تک منتیں کرتا رہا، لیکن کسی نے گھاس نہیں ڈالی، گنڈا پور کو فائنل وارننگ دے دی گئی ہے، علی امین گنڈا پور اچھا بچہ ہے اسلئے وہاں سے فوری پشاور پہنچ گیا اور کوئی پریس کانفرنس نہ کی، پنکی پیرنی کو اس نے خبردار کر دیا کہ اسلام آباد کا موسم شدید سردی میں بھی گرم ہے، مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا کیونکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں، انتشاری ٹولے نے عسکری اداروں کے بائیکاٹ کی مہم چلائی تو سیل بڑھنا شروع ہو گئی،شرح سود میں کمی ہو رہی ہے، ڈالر کی من مانی ختم ہو رہی ہے،بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لئے آئی پی پیزسے جان چھڑائی جا رہی ہے، مہنگائی میں کمی نہیں ہو رہی تو اضافہ نہیں ہو رہا،معاشی استحکام ایس آئی ایف سی کی مسلسل محنت و لگن کا نتیجہ ہے،

    دس سالہ سارہ کا قتل،برطانوی عدالت نے والدین،چچا کو سنائی سزا

    پھر اک بک فئیر ہے اور ہم ہیں دوستو.تحریر:راحت عائشہ

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، پراسیکیوشن کے حتمی دلائل مکمل

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، پراسیکیوشن کے حتمی دلائل مکمل

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، پراسیکیوشن کے حتمی دلائل مکمل

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں پراسیکوشن نے حتمی دلائل مکمل کر لئے

    عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی، عدالت نے وکیل صفائی کو کل دلائل دینے کا حکم دے دیا، کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئیں تو عمران خان کو بھی عدالت پیش کیا گیا.  احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے ریفرنس پر سماعت کی ،پراسیکیوشن ٹیم نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں حتمی دلائل مکمل کر لیے ،نیب کے وکیل امجد پرویز کی جانب سے دلائل دیے گئے ،دلائل میں کہا گیا کہ چھ نومبر 2019 کو ڈیڈ سائن جبکہ رقم کی پہلی قسط 29 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں آچکی تھی ۔ڈیڈ کی منظوری کابینہ سے تین دسمبر 2019 کو لی گئی ۔کابینہ کو بھی نہیں بتایا گیا کہ پہلی قسط پاکستان پہنچ چکی ہے ۔ایسٹ ریکوری یونٹ اور نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان بات چیت 2018 سے جاری تھی۔ کابینہ کی منظوری سے پہلے ہی ڈیڈ این سی اے کو بھجوائی جا چکی تھی ۔معاملات پر پردہ ڈالنے کے لیے بعد میں کابینہ سے منظوری لی گئی۔ پیسے وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ کی بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منگوائے گئے۔ کوئی قانون یہ نہیں کہتا کہ نیشنل کرائم ایجنسی اور ایسٹ ریکوری یونٹ کے درمیان سائن ہونے والی ڈیڈ کو پبلک نہیں کیا جائے گا ۔ نیب قانون کے مطابق اگر پبلک افس ہولڈر کوئی بھی گرانٹ یا ڈونیشن لیتا ہے تو وہ حکومت پاکستان کی ملکیت ہوگی۔عمران خان نے بطور وزیراعظم فیور دی جس کے بدلے میں ڈونیشن ملی۔نیب ارڈیننس کے تحت اگر معاملہ پبلک افس ہولڈر کے پاس زیر التوا ہو تو اس شخص سے کوئی بھی چیز لینا رشوت ہے۔فرح گوگی کے نام پر بھی 240 کنال اراضی ٹرانسفر ہوئی،زلفی بخاری کے نام پر بھی جب زمین ٹرانسفر ہوئی اس وقت بھی ٹرسٹ کا وجود تک موجود نہیں تھا ،190 ملین پاؤنڈ کی ایڈجسٹمنٹ ہونے کے بعد ٹرسٹ بنایا گیا ،رولز اف بزنس 1973 کی بھی خلاف ورزی کی گئی ،کابینہ میں کوئی بھی معاملہ زیر بحث لانے سے سات روز قبل اسے سرکولیٹ کرنا ہوتا ہے ۔ کیا جلدی تھی کہ اس معاملے کو سات دن پہلے کا بینہ ممبران کو سرکولیٹ نہیں کیا گیا۔

    کل عمران خان اور بشری بی بی کے وکلا کی جانب سے حتمی دلائل کا آغاز کیا جائے گا ،190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت کل صبح ساڑھےدس بجے تک ملتوی کر دی گئی،6 نومبر کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا تھا، جہاں وکلا صفائی نے 35 گواہوں پر جرح مکمل کر لی تھی۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔  اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا