Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • شہباز شریف ہرجانہ کیس، عمران خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    شہباز شریف ہرجانہ کیس، عمران خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    لاہور: وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف ہرجانے کے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے گواہوں کو تحریری گواہی دینے کی اجازت دینے کے خلاف درخواست لاہور ہائیکورٹ میں ناقابل سماعت قرار دے دی گئی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چودھری محمد اقبال نے یہ فیصلہ سنایا۔

    عمران خان نے اپنے وکیل کے ذریعے درخواست دائر کی تھی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا، تاہم انہیں ٹرائل میں طلب نہیں کیا گیا۔ عمران خان نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ حقائق کے برعکس ہے اور عدالت نے گواہوں کو تحریری صورت میں گواہی دینے کی اجازت دی ہے جو کہ غلط تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گواہ کمرہ عدالت میں آ کر گواہی دیں، اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔اس درخواست پر گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا اور آج عدالت نے اسے ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے عمران خان کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

    شہباز شریف نے درخواست میں کہا تھا کہ عمران خان نے میرے اوپر دھرنہ ختم کرنے کے حوالے سے پیسے دینے کا بے بنیاد الزام عائد کیا، عمران خان نے کروڑوں روپے آفر کا بے بنیاد الزام عائد کیا،عمران خان کیخلاف 8 جولائی 2017 کو ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا۔شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف دس ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے ، شہباز شریف نے یہ درخواست وزیراعظم عمران خان کی25 اپریل 2017 میں شوکت خانم ہسپتال میں تقریر کے خلاف دائر کی تھی تقریر میں عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں پاناما کیس پر خاموشی اختیار کرنے کے عوض 10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی تھی.بعدازں عمران خان نے ایک انٹرویو کے دوران مالی پیشکش کرنے والے شخص کا نام تو نہیں بتایا البتہ ان کا کہنا تھا کہ وہ شخص وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا بہت قریبی ہے جولائی 2017 میں شہباز شریف کی جانب سے تحریک انصاف کے چیئرمین اور عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا.

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

  • عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد: اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں 7 جنوری تک توسیع کر دی ہے۔ضمانتوں میں توسیع عمران خان کے چھ اور بشریٰ کے ایک مقدمے میں کی گئی ہے

    یہ فیصلہ عدالت نے دونوں ملزمان کے خلاف زیر سماعت مقدمات کی ضمانت کی درخواستوں پر کیا۔سماعت کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔ وکلا نے بتایا کہ سینئر کونسل، جو مرکزی جیل اڈیالہ میں مصروف تھے، اس لیے وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہو سکے۔ اس پر عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کر دی اور اگلی سماعت 7 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔عدالت کے اس فیصلے سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مزید وقت مل گیا ہے تاکہ وہ مقدمات میں پیش رفت کر سکیں اور عدالت میں اپنے دفاع کے لیے تیاری کر سکیں۔

    یاد رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مختلف مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں تحریک انصاف کی قیادت اور پارٹی کی جانب سے مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں سے کچھ میں ضمانت کی درخواستیں پہلے ہی دائر کی جا چکی تھیں، اور اس میں مزید پیش رفت کے لیے یہ فیصلہ اہمیت رکھتا ہے۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    فیصل آباد،پیزا ڈکیتی کی چوتھی واردات،پولیس بے بس

  • توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    اسلام آباد: سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف کیس کی سماعت آج (پیر) کو ہوئی، جس کی سربراہی ممبر سندھ نثار درانی نے کی۔

    تین رکنی بینچ کے سامنے کیس کی سماعت جاری تھی، تاہم عمران خان کی حاضری کو یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ الیکشن کمیشن نے جیل حکام سے عمران خان کی پیشی کے حوالے سے جواب طلب کر لیا اور کیس کی سماعت 15 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔عمران خان کی پیشی کے حوالے سے عدالت میں ایک نیا موڑ آیا، جب وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ عمران خان کو ویڈیو لنک پر پیش ہونے دیا جائے گا، جس پر ممبر سندھ نثار درانی نے الیکشن کمیشن حکام سے استفسار کیا کہ آیا ویڈیو لنک کے ذریعے عمران خان کی پیشی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن حکام نے بتایا کہ "ہماری طرف سے تمام انتظامات مکمل ہیں، لیکن جیل حکام کی جانب سے کوئی تعاون نہیں ہو رہا۔ جیمرز کی وجہ سے ویڈیو لنک فعال نہیں ہو سکا، اور جیل حکام بالکل تعاون نہیں کر رہے ہیں۔” وکیل فیصل چوہدری نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی ممکن نہیں تو الیکشن کمیشن عمران خان کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیل حکام کی جانب سے عدم تعاون پر توہین کا کیس بنتا ہے۔ تاہم ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ "آپ تو کیس لڑ رہے ہیں، ہم کیس کو کیسے ڈراپ کر سکتے ہیں؟”الیکشن کمیشن نے جیل حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 جنوری تک ملتوی کر دی۔ اس دوران وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ممکن ہے کہ کوئی تکنیکی مسئلہ ہو جس کی وجہ سے پیشی میں تاخیر ہو رہی ہو، تاہم یہ بات واضح ہے کہ ملزم کی حاضری کے بغیر شواہد ریکارڈ نہیں کیے جا سکتے۔

    یہ کیس اس وقت شروع ہوا جب اگست 2022 میں الیکشن کمیشن نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو الیکشن کمیشن کی توہین اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین آمیز بیانات دینے پر نوٹس جاری کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق عمران خان نے متعدد بار اپنے بیانات، پریس کانفرنسز اور انٹرویوز میں الیکشن کمیشن اور اس کے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے تھے۔الیکشن کمیشن نے عمران خان کو 30 اگست 2022 کو اپنے جواب کے ساتھ کمیشن میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے مختلف مواقع پر اپنی تقاریر میں الیکشن کمیشن کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی اور سکندر سلطان راجا پر بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ 11 مئی، 16 مئی، 29 جون، 19 جولائی، 20 جولائی اور 7 اگست 2022 کو عمران خان کے بیانات مرکزی ٹی وی چینلز پر نشر ہوئے، جن میں انہوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ 15 جنوری 2024 تک یہ معاملہ کیسے آگے بڑھتا ہے، اور آیا جیل حکام اپنی جانب سے تعاون کرتے ہیں یا نہیں۔ اس کیس میں ایک طرف تو عمران خان کے خلاف توہین کا الزام ہے، جبکہ دوسری طرف الیکشن کمیشن کی طرف سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عمران خان کو اس کیس میں ذاتی طور پر پیش کیا جائے یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی ممکن بنائی جائے۔

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    فیصل آباد،پیزا ڈکیتی کی چوتھی واردات،پولیس بے بس

    یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

  • عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی،گنڈاپور واپس روانہ

    عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی،گنڈاپور واپس روانہ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت نہ ملی۔ وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اڈیالہ جیل کے باہر سے واپس روانہ ہو گئے

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا عمران خان سے ملاقات کے لئے اڈیالہ جیل پہنچے تھےتاہم علی امین گنڈا پور کو اڈیالہ جیل جانے سے روک دیا گیا.گنڈا پور کے پروٹوکول افسر کو آگاہ کیا گیا کہ جیل جانے کی اجازت نہیں،جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اڈیالہ جیل سے عمران خان کو ملے بغیر ہی واپس روانہ ہو گئے

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ سول نافرمانی کی تحریک کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ہے، ان کا جو بھی فیصلہ ہو گا اس پر من و عن عمل کریں گے۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا وفاق میں ہماری حکومت نہیں ہے جس کی وجہ سے ہمیں مسائل کا سامنا ہے، وفاق سے خیبر پختونخوا کے پیسے لینے میں مشکلات ہیں لیکن ہم لیکر رہیں گے۔

    پنجاب کو دنیابھرکےلیےتجارت اورسرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے،مریم نواز

    جیسن گلیسپی نے پاکستانی ٹیم کی کوچنگ چھوڑنے کی وجوہات بتا دیں

    مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے دشمن

  • عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    امریکا کے نو منتخب صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھی ،ہم جنس پرست اور نیشنل انٹیلی جنس کے سابق قائم مقام ڈائریکٹر، رچرڈ گرینل کو "ایلچی برائے خصوصی مشنز” مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    رچرڈ گرینل، جو کہ ایک معروف ہم جنس پرست شخصیت ہیں، کچھ دن پہلے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔ 26 نومبر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے بلوم برگ کی ایک رپورٹ شیئر کرتے ہوئے رچرڈ گرینل نے لکھا کہ "عمران خان کو رہا کیا جائے”۔ ان کے اس مطالبے پر پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری نے شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

    رچرڈ گرینل ماضی میں کئی تنازعات کا شکار رہے ہیں جن میں خواتین کے حوالے سے بے ہودہ ٹوئٹس، ان کی ہم جنس پرستی اور بعض سیاسی مخالفین پر ذاتی حملے شامل ہیں۔ ان کا سیاسی سفر خاصا متنازعہ رہا ہے۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران جرمنی میں امریکا کے سفیر رہے، اور اس دوران ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے اپنے عہدے کو یورپ میں دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔

    امریکی اخبار کے مطابق، رچرڈ گرینل وزیر خارجہ بننے کی امید رکھتے تھے اور انہیں ٹرمپ کی طرف سے وزارت خارجہ میں بڑی پوزیشن دینے کی توقع تھی۔ وہ اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان بھی رہ چکے ہیں، جہاں ان کے بیانات اور ٹوئٹس نے انہیں متعدد بار تنازعات میں گھیر لیا۔

    ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ رچرڈ گرینل وینزویلا اور شمالی کوریا جیسے عالمی سطح پر اہم مقامات پر کام کریں گے۔ گرینل نے 2018 سے 2020 تک جرمنی میں امریکا کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں، اور انہیں خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور یورپ میں امریکا کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے جانا جاتا ہے۔یاد رہے کہ گرینل کو وینزویلا کے لیے بطور ایلچی اہم ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، خاص طور پر 2023 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے تناظر میں، جنہیں وسیع پیمانے پر دھوکہ دہی پر مبنی سمجھا گیا تھا۔

    رچرڈ گرینل کے حوالے سے کئی تنازعات نے سر اٹھایا ہے، جن میں ان کی خواتین کے بارے میں کی جانے والی بے ہودہ ٹوئٹس شامل ہیں۔ 2012 میں جب وہ خارجہ پالیسی کے مشیر بنے، تو ان کی ٹوئٹس کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان ٹوئٹس میں خواتین خصوصاً ڈیموکریٹس اور لبرلز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس پر ان کو بعد میں یہ ٹوئٹس ڈیلیٹ کرنا پڑے۔ان کے ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے قدامت پسند حلقوں میں شدید ردعمل بھی دیکھنے کو ملا، اور ان کی تقرری پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ تاہم، گرینل نے ہمیشہ اپنی جنسیت کو کھل کر تسلیم کیا ہے اور اپنے موقف کا دفاع کیا ہے۔

    رچرڈ گرینل کی نئی ذمہ داریوں پر امریکی سیاست میں مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقے ان کی تقرری کو ٹرمپ کی جانب سے ایک اور متنازعہ قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر ان کی سیاسی بصیرت اور تجربے کو سراہ رہے ہیں۔ڈیموکریٹک نیشنل سکیورٹی لیڈر سوزن ای رائس نے گرینل کو سب سے زیادہ "خراب بے ایمان” افراد میں سے ایک قرار دیا ہے، جو کہ ان کے سیاسی مخالفین کی نظر میں گرینل کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

  • عمران خان کےخلاف توہین الیکشن کمیشن کیس سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان کےخلاف توہین الیکشن کمیشن کیس سماعت کیلئے مقرر

    الیکشن کمیشن نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت کے لیے 17 دسمبر کی تاریخ مقرر کردی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق الیکشن کمیشن نے کاز لسٹ اور نوٹسز بھی جاری کر دیے، عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمشنر کیس کی سماعت بھی اسی روز ہو گی۔اس سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف توہین الیکشن کمیشن و الیکشن کمشنر کیس کی سماعت ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے کی تھی۔واضح رہے کہ 21 نومبر کو عمران خان کو توہین الیکشن کمیشن کیس میں اگلی سماعت پر حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی تھی۔دوران سماعت الیکشن کمیشن کے خیبرپختونخوا کے ممبر نے کہا تھا کہ عمران خان کی تو کل ضمانت ہوگئی تھی جس پر ان کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا تھا کہ ان کی کسی اور کیس میں گرفتاری ڈال دی گئی ہے، تاہم شواہد ریکارڈ کرنے کے لیے ملزم کی حاضری ضروری ہوتی ہے۔جس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ہدایت کی تھی کہ آئندہ سماعت پر عمران خان کی ویڈیو لنک سے حاضری یقینی بنائی جائے،بعد ازاں کیس کی سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کردی گئی تھی۔

    بنگلہ دیشی سیاستدان نے بھارتی علاقے پر اپنا دعوی کر دیا

    صدر کے مدارس ایکٹ پر اعتراضات غیر آئینی قرار

    سندھ میں 25 دسمبر کو عام تعطیل کا اعلان

    بشار کا تحتہ الٹنےکے بعد روس نے شام کی گندم فراہمی روک دی

  • عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف  بیان دینے سے روکا تھا،جاوید بدر

    عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف بیان دینے سے روکا تھا،جاوید بدر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے سابق میڈیا کوآرڈینیٹر جاوید بدر نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے ماضی کی کچھ انتہائی سنسنی خیز باتوں کو منظر عام پر لایا ہے

    جاوید بدر نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی سرگرمیاں 2013 سے ہی ملک دشمن تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا فوری طور پر فوجی ٹرائل شروع ہونا چاہیے۔جاوید بدر نے انکشاف کیا کہ 2013 میں تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مدد حاصل کی تھی۔ عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی بیان دینے سے روک دیا تھا، جبکہ پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کے جلسوں اور میٹنگز پر بم دھماکے اور فائرنگ ہو رہی تھی۔جاوید بدر نے مزید بتایا کہ عمران خان نے ان سے کہا تھا کہ "ٹی ٹی پی کے ساتھ میری بات ہوگئی ہے، وہ ہمیں مکمل سپورٹ کریں گے اور صوبے میں کسی اور پارٹی کو کمپین نہیں کرنے دیں گے۔” ان کے مطابق، عمران خان نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو ٹی ٹی پی کے خلاف کسی بھی قسم کے بیان دینے سے روک دیا تھا۔

    جاوید بدر کا کہنا تھا کہ عمران خان اقتدار کی خواہش میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، اور انہوں نے اپنے مفادات کے لیے دہشت گرد تنظیموں سے ہاتھ ملایا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ٹی ٹی پی اس وقت ہمارے شہریوں اور فوجیوں کو شہید کر رہی تھی، اور عمران خان نے ان سے حمایت حاصل کی۔”عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات رکھتی ہے اور یہ تعلقات ابھی تک قائم ہیں۔ جاوید بدر کے مطابق، پی ٹی آئی کے ہر احتجاج میں دہشت گرد عناصر شامل ہوتے ہیں، اور عمران خان نے "تبدیلی” کے نام پر ملک کے نوجوانوں کو ریاست کے خلاف استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ڈرون حملوں کو سیاسی بیانیہ بنا کر دہشت گردوں کی حمایت کی۔

    پنجاب کو معاشی طورپر مستحکم اور ایک عوامی فلاحی صوبہ بنانا چاہتی ہوں،مریم نواز

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت 12 ملزمان پر فردجرم عائد

  • صحافیوں کے سوالات، بشریٰ بی بی کا چپ کا روزہ

    صحافیوں کے سوالات، بشریٰ بی بی کا چپ کا روزہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے میڈیا نمائندوں کے سوالات کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔

    بشریٰ بی بی ضمانت منسوخی کیس میں عدالت پیش ہوئی،اس دوران صحافیوں کی جانب سے مختلف سوالات پوچھے گئے، جن میں بشریٰ بی بی کی حالیہ سرگرمیوں، عدالت میں پیش ہونے کے حوالے سے سوالات شامل تھے، لیکن انہوں نے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا اور چپ چاپ عدالت کے احاطے سے روانہ ہو گئیں۔صحافیوں نے بشریٰ بی بی سے ان کے موقف کے بارے میں سوالات پوچھے، صحافیوں نے سوال کیا کہ ڈی چوک جانے کا کس کا فیصلہ تھا،آپ کا یا علی امین گنڈا پور کا، ایک اور سوال کیا گیا کہ ڈی چوک میں کیا ہوا تھا، ایک اور صحافی نے بشریٰ بی بی سے سوال کیا کہ سنا ہے آپ سیاست میں آنا چاہتی ہیں، تاہم بشریٰ بی بی نے مکمل خاموشی اختیار کی اور صحافیوں کے سوالوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے راستے پر چلتی رہیں۔ ان کی جانب سے اس رویے کو دیکھتے ہوئے کئی افراد نے ان کے جوابدہ نہ ہونے اور عوام کے سوالات سے گریز پر سوالات اٹھا دیے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کا اس طرح صحافیوں سے بات نہ کرنے کا مطلب ہے کہ وہ عوامی سوالات سے بچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جو لوگ عوام کو جوابدہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کا اصل چہرہ اب سامنے آ رہا ہے، جہاں نہ شفافیت ہے اور نہ ہی کوئی وضاحت دینے کا عمل، ڈی چوک کارکنان کو لانے اور اکسانے کے لئے تو بشریٰ بی بی مسلسل خطابات کرتی رہیں، اسلامی ٹچ دیتی رہیں تا ہم صحافیوں کے سامنے منہ نہ کھول سکیں، ایسے لگتا ہے کہ بشریٰ بی بی نے چپ کا روزہ رکھ لیا، عوامی حلقوں میں بشریٰ بی بی کی خاموشی پر تنقید کی جا رہی ہے کہ اگر وہ عوام کے سامنے آئیں تو ان کے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔

    26 نومبر کو جو ڈی چوک فتح کرنے آئی تھی آج صحافیوں کے سوالوں پر ایک لفظ نہیں بول سکیں،عظمیٰ بخاری
    بشریٰ بی بی کی جانب سے عدالت پیشی کے موقع پر صحافیوں کے سوالوں کے جوابات نہ دینے پر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کہتی ہیں کہ بشریٰ بی بی آج اچھے بچوں کی طرح خاموش ہیں، 26 نومبر کو جو جھانسی کی رانی بن رہی تھی آج منہ چھپائی کر رہی تھی، بشریٰ بیگم اپنی بہن اور ترجمان کے ذریعے ساری پارٹی کو چارج شیٹ کرنے کے بعد آج خود چپ ہو گئیں، 24 اور 26 نومبر کو جوشیلے خطاب کرنے والی بشریٰ بی بی آج اپنا انقلابی بھاشن پشاور چھوڑ آئیں، 26 نومبر کو جو ڈی چوک فتح کرنے آئی تھی آج صحافیوں کے سوالوں پر ایک لفظ نہیں بول سکیں،بشریٰ بی بی میڈیا کو بتاتیں ڈی چوک سے بھاگنے کا پلان ان کا تھا یا گنڈاپور کا تھا؟ آج قوم کو بتاتیں ڈی چوک سے دوڑ کیوں لگائی، بے چاری نے پہلا انقلاب لیڈ کیا وہ بھی گلے پڑ گیا، بشریٰ بی بی کی غیر سیاسی سوچ اور غیر سیاسی فیصلوں نے ان کی پارٹی کو تقسیم کیا ہے، پی ٹی آئی کا ’انقلاب فروم ہوم‘ مہینے میں ایک بار انگڑائی لیتا ہے، جیسے ہی ریاست اپنی رٹ قائم کرتی ہے انقلاب دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔

    توشہ خانہ ٹو، عمران،بشریٰ پر فرد جرم عائد

    اسلام آباد ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی پیش،ضمانت منسوخی درخواست نمٹا دی گئی

    میں بشریٰ بی بی کے ساتھ” فل ٹائم” تھا،علی امین گنڈا پور

    ڈی چوک سے کون بھاگا؟ بشریٰ یا پی ٹی آئی قیادت

    عدالت پیش نہ ہونیوالی بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک

    رقص و سرور کی محفل،بیٹے موسیٰ اور سابق شوہر خاورمانیکا کو بشریٰ بی بی کب "تبلیغ” کریں گی

    عمران ‏خان کی زندگی کو بشریٰ بی بی، گنڈا پور اور ان کے حواریوں سے خطرہ ہے،فیصل واوڈا

  • توشہ خانہ ٹو، عمران،بشریٰ پر فرد جرم عائد

    توشہ خانہ ٹو، عمران،بشریٰ پر فرد جرم عائد

    توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشری بی بی پر جیل ٹرائل کے دوران فرد جرم عائد کر دی گئی

    کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل عدالت پیش ہوئیں، عمران خان کو بھی عدالت پیش کیا گیا،توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کر دی،عمران خان اور بشری بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا ۔ عدالت نے استغاثہ کے گواہ 18 دسمبر کوطلب کرلئے

    عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ بشریٰ بی بی رہا ہو چکی ہے اور پشاور میں ہے، بشریٰ رہائی کے بعد بنی گالہ سے ہوتی ہوئی پشاور پہنچ چکی ہے

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

  • ملزم فیض حمید پر فردجرم،قید اور موت کی سزا،سب ختم شد،عمران خان شدید مایوس

    ملزم فیض حمید پر فردجرم،قید اور موت کی سزا،سب ختم شد،عمران خان شدید مایوس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے، فیض حمید پر فردجرم عائد ہوئی، کون کون کٹہرے میں آئے، نواز شریف کو بم سے اڑانے کی سازش،سول نافرمانی کی کال،کیا ہے عمران خان کی اگلی چال،کال کوٹھڑی یا پھانسی کا پھندہ،ڈو اور ڈائی کا وقت آ چکا ہے،

    مبشر لقمان آفیشل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جس شدت سے پی ٹی آئی ٹرمپ کا صدارتی منصب سنبھالنے کا انتظار کر رہی تھی، اسی طرح پاکستان میں اسی شدت سے فیض حمید کے کورٹ مارشل بارے بڑی خبر کا انتظار کر رہے تھے، جنرل عاصم منیر کی تعیناتی سے لے کر اب تک پی ٹی آئی ہر میچ ہارتی آئی ہے، یہ میچ بھی پی ٹی آئی ہار گئی، آرمی چیف نے خود احتسابی کا وعدہ پورا کیا،طاقتور ترین جنرل فیض حمید پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے، دو الزامات ہیں، کرپشن والے معاملے کی بات ثابت شدہ ہے، ٹاپ سٹی ہاؤسنگ کے مالک کا بیان ریکارڈ پر ہے،جنرل فیض حمید کو کلین چٹ ثاقب نثار نے دی تھی، ریاستی مفادات کو ٹھیس پہنچانے، سیاسی مقاصد کے لئے پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات معمولی نہیں، کورٹ مارشل میں تب تک فرد جرم عائد نہیں ہوتی جب تک ناقابل تردید شواہد حاصل نہ کر لئے جائیں، اب صرف ضابطے کی کاروائی کی جائے گی اور پھر سزا سنائی جائے گی،کرپشن پر تو قید کی سزا کافی ہے، ریاست کے خلاف بغاوت کی سزاپھانسی ہے، حالات بتا رہے ہیں کہ فیض حمید کو پھانسی اور عمر قید کی سزائیں اکٹھی سنائی جائیں گی،مشکل یہ ہے کہ پھانسی کا پھندہ ایک،گردنیں دو، بچے گا کون،فیض حمید یا عمران خان

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جس دن فیض حمید کو تحویل میں لیے جانے کی خبر آئی تھی اسی دن انتشاری ٹولے اور عمران خان نے کہہ دیا تھا کہ فیض حمید جانے اور فوج جانے،ہمارا فیض حمید سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، فیض حمید پر عمران خان نے کوئی یوٹرن نہیں لیا، جو مؤقف اپنایا تھا آج بھی وہی دوہرا رہے ہیں، فیض حمید کیخلاف کاروائی آگے بڑھے گی تو عمران خان کے لئے اس موقف پر کھڑا رہنا مشکل ہو جائے گا،عمران خان کا سارا نیٹ ورک ابتدائی تحقیقات کے دوران ہی بے نقاب ہو گیا تھا، فیض حمید جن شخصیات کے ذریعے انتشاری ٹولے سے رابطے میں تھے وہ رابطہ کار بھی بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں، فیض حمید نے اپنی گردن بچانی ہے تو کسی اور کی گردن پیش کرنی ہو گی،نو مئی کے بعد مراد سعید کی ویڈیو ریکارڈ پر ہیں جس میں وہ اکسا رہا ہے کہ جگہیں دکھا دی ہیں جائیں حملے کریں، یہی کام 26 نومبر کو کیا گیا، نومئی کو مراد سعید اور 26نومبر کو یہ ذمہ داری پنکی پیرنی کو سونپی گئی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فیض حمید نے وکیل کی خدمات حاصل کر لی ہیں، فوج بھی ایک وکیل دے گی، عمران خان کو زعم ہے کہ وہ شکست تسلیم نہیں کرتا،لیکن اب عمران خان ہار گیا، اس کا غرور خاک میں مل گیا، سائفر لہرایا منہ کی کھائی، آزادی کے جھوٹے خواب کی تعبیر پورے قوم نے بھگتی، نومئی کو فوج میں بغاوت برپا کرنے کی مذموم کوشش کی ناکامی سے دوچار ہوا، جلسوں سے ملک کو انتشار میں دھکیلنے کی کوشش کی، ناکام ہوا، فائنل کال کی کال دی تو پنکی سمیت سب دم دبا کر بھاگ گئے،یہ فتنہ پہلے بھی ناکام ہوا تھا پھر بھی ناکام ہو گا، فیض حمید اسے نومئی کا ماسٹر مائنڈ ثابت کر ے گا،پھندا ایک ہے گردنیں دو ہیں، مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے گھر جاتی امرا کے باہر کسی نے مشتبہ ڈیوائس پھینکی، وہ شخص پکڑا گیا، اس بم نما ڈیوائس سے باردو نہیں ملا لیکن معاملہ کچھ بھی ہو سکتا ہے، فسادی ٹولہ کچھ بھی کر سکتا ہے، انہی کی دھمکیوں کی وجہ سے اے این پی کو انتخابی مہم چلانے کا موقع نہیں ملا، مولانا فضل الرحمان گھر تک محدود ہو گئے تھے، نواز شریف کے گھر کے باہر سے ڈیوائس کا ملنا پیغام،دھمکی ہو سکتی ہے، اسکو سنجیدہ لیا جائے، ورنہ ذرا سی غفلت کسی سانحے سے دوچار نہ کر دے

    فیض حمید کیخلاف ٹرائل سبوتاژ کرنے کیلیے سول نافرمانی کی کال دی گئی،طلال چودھری

    فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ جاری ہونا اہم پیشرفت ہے۔مصطفیٰ کمال

    فیض حمید کیخلاف چارج شیٹ،عمران کا بچنا ممکن نہیں، فیصل واوڈا

    فیض حمیدکیخلاف چارج شیٹ،اصل مجرم عمران اور پی ٹی آئی قیادت

    فیض حمید کو چارج شیٹ کر دیا گیا 9 مئی کے الزامات بھی شامل