Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • شیر افضل مروت نے  پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

    شیر افضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے عمر ایوب کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے بدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت سے کسی نے کوئی وضاحت نہیں مانگی۔ ان کا اشارہ شیر افضل مروت کے اس بیان کی طرف تھا جو انہوں نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں دیا تھا۔ اس بیان میں شیر افضل مروت نے حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی بنانے اور مذاکرات کے لیے ٹی او آرز وضع کرنے کی درخواست کی تھی۔ شیر افضل مروت کی اس آفر کو حکومتی وزیروں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا گیا تھا۔بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کی پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی ہے۔ ان کے مطابق، یہ تمام اقدامات ملکی مفاد میں ہیں اور پی ٹی آئی کی قیادت ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مسائل کا حل بات چیت میں ہی ہے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی ختم ہوگیا ہے جس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی پنجاب کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے گھروں اور ڈیروں پر چھاپوں کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز پر دباؤ ڈالنا بند کیا جائے، اور اگر چھاپوں اور دباؤ کا سلسلہ جاری رہا تو ایوان میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا جائے گا۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر فوری طور پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے ان دونوں واقعات کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی ضرورت پر زور دیا۔ ساتھ ہی پارٹی نے بانی تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

    پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے بھی ایک اہم بیان میں کہا کہ "سول نافرمانی تب شروع ہو گی جب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔ پاکستان کو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ ایک آزاد عدلیہ کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی مکمل طور پر بااختیار ہے اور ان کے مطابق عدلیہ کی آزادی، 9 مئی کے واقعات، اور مینڈیٹ کی چوری سمیت دیگر اہم مسائل مذاکرات میں زیر بحث آئیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاسی قیادت دیرپا فارمولے پر رضامند ہو گی۔شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ ملک میں مسائل سنگین صورتِ حال اختیار کر چکے ہیں اور مذاکرات اب ناگزیر ہو گئے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کی موجودہ صورتحال میں ہزاروں کارکن جیلوں میں بند ہیں، اور اگر مسائل کا حل پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے نکل آتا ہے تو یہ ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

  • اسلام آباد کا موسم شدید سرد،عمران کی رہائی کے منصوبے فلاپ

    اسلام آباد کا موسم شدید سرد،عمران کی رہائی کے منصوبے فلاپ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کہتے ہیں ناں مال مفت، دل بے رحم، اڈیالہ میں عمران خان کو 500 دن مکمل ہو چکے ہیں،دو کام ہوئے، تنزلی کا شکار معیشت میں بہتری آنا شروع ہوئی تو وہیں عمران خان کی رہائی کی ہر کوشش ناکام ہوئی، اب حالات یہ ہیں کہ اسلام آباد میں دوبارہ یلغار کی سکت نہیں، سارے کے سارے جعلی انقلابی شہباز شریف سے منت ترلے کر رہے ہیں

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی سے حکومت کیا مذاکرات کرے، بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب کے پاس سوال کا جواب نہیں نہ ہی اسد قیصر،شبلی فراز کو کچھ پتہ، عمران خان کو یقین ہے اسکی رہائی ممکن نہیں اور واحد امید کی کرن ڈونلڈ ٹرمپ ہے کہ وہ عمران کی رہائی کی بات کرے گا، ٹویٹ کا انتظار کر رہے ہیں یہ، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ عمران خان نے عدلیہ پر بھی امریکی دباؤ ڈالنے کی سازش تیار کر لی ہے، یہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے عدالتی نظام کو بدنام کرنا چاہتے ہیں، ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں عدلیہ آزاد نہیں عمران خان کے حقوق اور آزادی کو سلب کیا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کر کے امن کا ستیاناس کیا، معیشت تباہ کی،اور عدلیہ انکی سہولت کاری کرتی رہی، گڈ ٹوسی یو انہیں کہا جاتا رہا، اب توشہ خانہ ٹو اور نومئی کے مقدمات انکے سروں پر تلوار ہیں، اور خطرہ اب ٹلنے والا نہیں، امریکہ شکیل آفریدی کی رہائی کے لئے سارے ہتھکنڈے آزما چکا، اوباما کا دباؤ فیل ہوا تھا، عمران خان کی رہائی کے لئے ٹرمپ کا دباؤ بھی کام نہیں آئے گا

    جی ایچ کیو حملہ کیس میں شیری مزاری پر فردجرم عائد کر دی گئی، تا ہم قریشی بچ گئے، علی امین گنڈا پور جیل گئے لیکن عمران خان سے ملاقات نہ ہو سکی، ٹارزن کو اس کی اوقات یاد دلا دی گئی،چڑیل کے مطابق فون پر ایک گھنٹے تک منتیں کرتا رہا، لیکن کسی نے گھاس نہیں ڈالی، گنڈا پور کو فائنل وارننگ دے دی گئی ہے، علی امین گنڈا پور اچھا بچہ ہے اسلئے وہاں سے فوری پشاور پہنچ گیا اور کوئی پریس کانفرنس نہ کی، پنکی پیرنی کو اس نے خبردار کر دیا کہ اسلام آباد کا موسم شدید سردی میں بھی گرم ہے، مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا کیونکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں، انتشاری ٹولے نے عسکری اداروں کے بائیکاٹ کی مہم چلائی تو سیل بڑھنا شروع ہو گئی،شرح سود میں کمی ہو رہی ہے، ڈالر کی من مانی ختم ہو رہی ہے،بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لئے آئی پی پیزسے جان چھڑائی جا رہی ہے، مہنگائی میں کمی نہیں ہو رہی تو اضافہ نہیں ہو رہا،معاشی استحکام ایس آئی ایف سی کی مسلسل محنت و لگن کا نتیجہ ہے،

    دس سالہ سارہ کا قتل،برطانوی عدالت نے والدین،چچا کو سنائی سزا

    پھر اک بک فئیر ہے اور ہم ہیں دوستو.تحریر:راحت عائشہ

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، پراسیکیوشن کے حتمی دلائل مکمل

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، پراسیکیوشن کے حتمی دلائل مکمل

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، پراسیکیوشن کے حتمی دلائل مکمل

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں پراسیکوشن نے حتمی دلائل مکمل کر لئے

    عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی، عدالت نے وکیل صفائی کو کل دلائل دینے کا حکم دے دیا، کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئیں تو عمران خان کو بھی عدالت پیش کیا گیا.  احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے ریفرنس پر سماعت کی ،پراسیکیوشن ٹیم نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں حتمی دلائل مکمل کر لیے ،نیب کے وکیل امجد پرویز کی جانب سے دلائل دیے گئے ،دلائل میں کہا گیا کہ چھ نومبر 2019 کو ڈیڈ سائن جبکہ رقم کی پہلی قسط 29 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں آچکی تھی ۔ڈیڈ کی منظوری کابینہ سے تین دسمبر 2019 کو لی گئی ۔کابینہ کو بھی نہیں بتایا گیا کہ پہلی قسط پاکستان پہنچ چکی ہے ۔ایسٹ ریکوری یونٹ اور نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان بات چیت 2018 سے جاری تھی۔ کابینہ کی منظوری سے پہلے ہی ڈیڈ این سی اے کو بھجوائی جا چکی تھی ۔معاملات پر پردہ ڈالنے کے لیے بعد میں کابینہ سے منظوری لی گئی۔ پیسے وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ کی بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منگوائے گئے۔ کوئی قانون یہ نہیں کہتا کہ نیشنل کرائم ایجنسی اور ایسٹ ریکوری یونٹ کے درمیان سائن ہونے والی ڈیڈ کو پبلک نہیں کیا جائے گا ۔ نیب قانون کے مطابق اگر پبلک افس ہولڈر کوئی بھی گرانٹ یا ڈونیشن لیتا ہے تو وہ حکومت پاکستان کی ملکیت ہوگی۔عمران خان نے بطور وزیراعظم فیور دی جس کے بدلے میں ڈونیشن ملی۔نیب ارڈیننس کے تحت اگر معاملہ پبلک افس ہولڈر کے پاس زیر التوا ہو تو اس شخص سے کوئی بھی چیز لینا رشوت ہے۔فرح گوگی کے نام پر بھی 240 کنال اراضی ٹرانسفر ہوئی،زلفی بخاری کے نام پر بھی جب زمین ٹرانسفر ہوئی اس وقت بھی ٹرسٹ کا وجود تک موجود نہیں تھا ،190 ملین پاؤنڈ کی ایڈجسٹمنٹ ہونے کے بعد ٹرسٹ بنایا گیا ،رولز اف بزنس 1973 کی بھی خلاف ورزی کی گئی ،کابینہ میں کوئی بھی معاملہ زیر بحث لانے سے سات روز قبل اسے سرکولیٹ کرنا ہوتا ہے ۔ کیا جلدی تھی کہ اس معاملے کو سات دن پہلے کا بینہ ممبران کو سرکولیٹ نہیں کیا گیا۔

    کل عمران خان اور بشری بی بی کے وکلا کی جانب سے حتمی دلائل کا آغاز کیا جائے گا ،190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت کل صبح ساڑھےدس بجے تک ملتوی کر دی گئی،6 نومبر کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا تھا، جہاں وکلا صفائی نے 35 گواہوں پر جرح مکمل کر لی تھی۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔  اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • شہباز شریف ہرجانہ کیس، عمران خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    شہباز شریف ہرجانہ کیس، عمران خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    لاہور: وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف ہرجانے کے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے گواہوں کو تحریری گواہی دینے کی اجازت دینے کے خلاف درخواست لاہور ہائیکورٹ میں ناقابل سماعت قرار دے دی گئی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چودھری محمد اقبال نے یہ فیصلہ سنایا۔

    عمران خان نے اپنے وکیل کے ذریعے درخواست دائر کی تھی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا، تاہم انہیں ٹرائل میں طلب نہیں کیا گیا۔ عمران خان نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ حقائق کے برعکس ہے اور عدالت نے گواہوں کو تحریری صورت میں گواہی دینے کی اجازت دی ہے جو کہ غلط تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گواہ کمرہ عدالت میں آ کر گواہی دیں، اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔اس درخواست پر گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا اور آج عدالت نے اسے ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے عمران خان کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

    شہباز شریف نے درخواست میں کہا تھا کہ عمران خان نے میرے اوپر دھرنہ ختم کرنے کے حوالے سے پیسے دینے کا بے بنیاد الزام عائد کیا، عمران خان نے کروڑوں روپے آفر کا بے بنیاد الزام عائد کیا،عمران خان کیخلاف 8 جولائی 2017 کو ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا۔شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف دس ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے ، شہباز شریف نے یہ درخواست وزیراعظم عمران خان کی25 اپریل 2017 میں شوکت خانم ہسپتال میں تقریر کے خلاف دائر کی تھی تقریر میں عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں پاناما کیس پر خاموشی اختیار کرنے کے عوض 10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی تھی.بعدازں عمران خان نے ایک انٹرویو کے دوران مالی پیشکش کرنے والے شخص کا نام تو نہیں بتایا البتہ ان کا کہنا تھا کہ وہ شخص وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا بہت قریبی ہے جولائی 2017 میں شہباز شریف کی جانب سے تحریک انصاف کے چیئرمین اور عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا.

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

  • عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد: اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں 7 جنوری تک توسیع کر دی ہے۔ضمانتوں میں توسیع عمران خان کے چھ اور بشریٰ کے ایک مقدمے میں کی گئی ہے

    یہ فیصلہ عدالت نے دونوں ملزمان کے خلاف زیر سماعت مقدمات کی ضمانت کی درخواستوں پر کیا۔سماعت کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔ وکلا نے بتایا کہ سینئر کونسل، جو مرکزی جیل اڈیالہ میں مصروف تھے، اس لیے وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہو سکے۔ اس پر عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کر دی اور اگلی سماعت 7 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔عدالت کے اس فیصلے سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مزید وقت مل گیا ہے تاکہ وہ مقدمات میں پیش رفت کر سکیں اور عدالت میں اپنے دفاع کے لیے تیاری کر سکیں۔

    یاد رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مختلف مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں تحریک انصاف کی قیادت اور پارٹی کی جانب سے مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں سے کچھ میں ضمانت کی درخواستیں پہلے ہی دائر کی جا چکی تھیں، اور اس میں مزید پیش رفت کے لیے یہ فیصلہ اہمیت رکھتا ہے۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    فیصل آباد،پیزا ڈکیتی کی چوتھی واردات،پولیس بے بس

  • توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    اسلام آباد: سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف کیس کی سماعت آج (پیر) کو ہوئی، جس کی سربراہی ممبر سندھ نثار درانی نے کی۔

    تین رکنی بینچ کے سامنے کیس کی سماعت جاری تھی، تاہم عمران خان کی حاضری کو یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ الیکشن کمیشن نے جیل حکام سے عمران خان کی پیشی کے حوالے سے جواب طلب کر لیا اور کیس کی سماعت 15 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔عمران خان کی پیشی کے حوالے سے عدالت میں ایک نیا موڑ آیا، جب وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ عمران خان کو ویڈیو لنک پر پیش ہونے دیا جائے گا، جس پر ممبر سندھ نثار درانی نے الیکشن کمیشن حکام سے استفسار کیا کہ آیا ویڈیو لنک کے ذریعے عمران خان کی پیشی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن حکام نے بتایا کہ "ہماری طرف سے تمام انتظامات مکمل ہیں، لیکن جیل حکام کی جانب سے کوئی تعاون نہیں ہو رہا۔ جیمرز کی وجہ سے ویڈیو لنک فعال نہیں ہو سکا، اور جیل حکام بالکل تعاون نہیں کر رہے ہیں۔” وکیل فیصل چوہدری نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی ممکن نہیں تو الیکشن کمیشن عمران خان کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیل حکام کی جانب سے عدم تعاون پر توہین کا کیس بنتا ہے۔ تاہم ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ "آپ تو کیس لڑ رہے ہیں، ہم کیس کو کیسے ڈراپ کر سکتے ہیں؟”الیکشن کمیشن نے جیل حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 جنوری تک ملتوی کر دی۔ اس دوران وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ممکن ہے کہ کوئی تکنیکی مسئلہ ہو جس کی وجہ سے پیشی میں تاخیر ہو رہی ہو، تاہم یہ بات واضح ہے کہ ملزم کی حاضری کے بغیر شواہد ریکارڈ نہیں کیے جا سکتے۔

    یہ کیس اس وقت شروع ہوا جب اگست 2022 میں الیکشن کمیشن نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو الیکشن کمیشن کی توہین اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین آمیز بیانات دینے پر نوٹس جاری کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق عمران خان نے متعدد بار اپنے بیانات، پریس کانفرنسز اور انٹرویوز میں الیکشن کمیشن اور اس کے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے تھے۔الیکشن کمیشن نے عمران خان کو 30 اگست 2022 کو اپنے جواب کے ساتھ کمیشن میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے مختلف مواقع پر اپنی تقاریر میں الیکشن کمیشن کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی اور سکندر سلطان راجا پر بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ 11 مئی، 16 مئی، 29 جون، 19 جولائی، 20 جولائی اور 7 اگست 2022 کو عمران خان کے بیانات مرکزی ٹی وی چینلز پر نشر ہوئے، جن میں انہوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ 15 جنوری 2024 تک یہ معاملہ کیسے آگے بڑھتا ہے، اور آیا جیل حکام اپنی جانب سے تعاون کرتے ہیں یا نہیں۔ اس کیس میں ایک طرف تو عمران خان کے خلاف توہین کا الزام ہے، جبکہ دوسری طرف الیکشن کمیشن کی طرف سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عمران خان کو اس کیس میں ذاتی طور پر پیش کیا جائے یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی ممکن بنائی جائے۔

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    فیصل آباد،پیزا ڈکیتی کی چوتھی واردات،پولیس بے بس

    یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

  • عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی،گنڈاپور واپس روانہ

    عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی،گنڈاپور واپس روانہ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت نہ ملی۔ وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اڈیالہ جیل کے باہر سے واپس روانہ ہو گئے

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا عمران خان سے ملاقات کے لئے اڈیالہ جیل پہنچے تھےتاہم علی امین گنڈا پور کو اڈیالہ جیل جانے سے روک دیا گیا.گنڈا پور کے پروٹوکول افسر کو آگاہ کیا گیا کہ جیل جانے کی اجازت نہیں،جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اڈیالہ جیل سے عمران خان کو ملے بغیر ہی واپس روانہ ہو گئے

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ سول نافرمانی کی تحریک کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ہے، ان کا جو بھی فیصلہ ہو گا اس پر من و عن عمل کریں گے۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا وفاق میں ہماری حکومت نہیں ہے جس کی وجہ سے ہمیں مسائل کا سامنا ہے، وفاق سے خیبر پختونخوا کے پیسے لینے میں مشکلات ہیں لیکن ہم لیکر رہیں گے۔

    پنجاب کو دنیابھرکےلیےتجارت اورسرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے،مریم نواز

    جیسن گلیسپی نے پاکستانی ٹیم کی کوچنگ چھوڑنے کی وجوہات بتا دیں

    مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے دشمن

  • عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    امریکا کے نو منتخب صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھی ،ہم جنس پرست اور نیشنل انٹیلی جنس کے سابق قائم مقام ڈائریکٹر، رچرڈ گرینل کو "ایلچی برائے خصوصی مشنز” مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    رچرڈ گرینل، جو کہ ایک معروف ہم جنس پرست شخصیت ہیں، کچھ دن پہلے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔ 26 نومبر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے بلوم برگ کی ایک رپورٹ شیئر کرتے ہوئے رچرڈ گرینل نے لکھا کہ "عمران خان کو رہا کیا جائے”۔ ان کے اس مطالبے پر پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری نے شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

    رچرڈ گرینل ماضی میں کئی تنازعات کا شکار رہے ہیں جن میں خواتین کے حوالے سے بے ہودہ ٹوئٹس، ان کی ہم جنس پرستی اور بعض سیاسی مخالفین پر ذاتی حملے شامل ہیں۔ ان کا سیاسی سفر خاصا متنازعہ رہا ہے۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران جرمنی میں امریکا کے سفیر رہے، اور اس دوران ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے اپنے عہدے کو یورپ میں دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔

    امریکی اخبار کے مطابق، رچرڈ گرینل وزیر خارجہ بننے کی امید رکھتے تھے اور انہیں ٹرمپ کی طرف سے وزارت خارجہ میں بڑی پوزیشن دینے کی توقع تھی۔ وہ اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان بھی رہ چکے ہیں، جہاں ان کے بیانات اور ٹوئٹس نے انہیں متعدد بار تنازعات میں گھیر لیا۔

    ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ رچرڈ گرینل وینزویلا اور شمالی کوریا جیسے عالمی سطح پر اہم مقامات پر کام کریں گے۔ گرینل نے 2018 سے 2020 تک جرمنی میں امریکا کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں، اور انہیں خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور یورپ میں امریکا کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے جانا جاتا ہے۔یاد رہے کہ گرینل کو وینزویلا کے لیے بطور ایلچی اہم ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، خاص طور پر 2023 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے تناظر میں، جنہیں وسیع پیمانے پر دھوکہ دہی پر مبنی سمجھا گیا تھا۔

    رچرڈ گرینل کے حوالے سے کئی تنازعات نے سر اٹھایا ہے، جن میں ان کی خواتین کے بارے میں کی جانے والی بے ہودہ ٹوئٹس شامل ہیں۔ 2012 میں جب وہ خارجہ پالیسی کے مشیر بنے، تو ان کی ٹوئٹس کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان ٹوئٹس میں خواتین خصوصاً ڈیموکریٹس اور لبرلز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس پر ان کو بعد میں یہ ٹوئٹس ڈیلیٹ کرنا پڑے۔ان کے ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے قدامت پسند حلقوں میں شدید ردعمل بھی دیکھنے کو ملا، اور ان کی تقرری پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ تاہم، گرینل نے ہمیشہ اپنی جنسیت کو کھل کر تسلیم کیا ہے اور اپنے موقف کا دفاع کیا ہے۔

    رچرڈ گرینل کی نئی ذمہ داریوں پر امریکی سیاست میں مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقے ان کی تقرری کو ٹرمپ کی جانب سے ایک اور متنازعہ قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر ان کی سیاسی بصیرت اور تجربے کو سراہ رہے ہیں۔ڈیموکریٹک نیشنل سکیورٹی لیڈر سوزن ای رائس نے گرینل کو سب سے زیادہ "خراب بے ایمان” افراد میں سے ایک قرار دیا ہے، جو کہ ان کے سیاسی مخالفین کی نظر میں گرینل کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

  • عمران خان کےخلاف توہین الیکشن کمیشن کیس سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان کےخلاف توہین الیکشن کمیشن کیس سماعت کیلئے مقرر

    الیکشن کمیشن نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت کے لیے 17 دسمبر کی تاریخ مقرر کردی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق الیکشن کمیشن نے کاز لسٹ اور نوٹسز بھی جاری کر دیے، عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمشنر کیس کی سماعت بھی اسی روز ہو گی۔اس سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف توہین الیکشن کمیشن و الیکشن کمشنر کیس کی سماعت ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے کی تھی۔واضح رہے کہ 21 نومبر کو عمران خان کو توہین الیکشن کمیشن کیس میں اگلی سماعت پر حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی تھی۔دوران سماعت الیکشن کمیشن کے خیبرپختونخوا کے ممبر نے کہا تھا کہ عمران خان کی تو کل ضمانت ہوگئی تھی جس پر ان کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا تھا کہ ان کی کسی اور کیس میں گرفتاری ڈال دی گئی ہے، تاہم شواہد ریکارڈ کرنے کے لیے ملزم کی حاضری ضروری ہوتی ہے۔جس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ہدایت کی تھی کہ آئندہ سماعت پر عمران خان کی ویڈیو لنک سے حاضری یقینی بنائی جائے،بعد ازاں کیس کی سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کردی گئی تھی۔

    بنگلہ دیشی سیاستدان نے بھارتی علاقے پر اپنا دعوی کر دیا

    صدر کے مدارس ایکٹ پر اعتراضات غیر آئینی قرار

    سندھ میں 25 دسمبر کو عام تعطیل کا اعلان

    بشار کا تحتہ الٹنےکے بعد روس نے شام کی گندم فراہمی روک دی

  • عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف  بیان دینے سے روکا تھا،جاوید بدر

    عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف بیان دینے سے روکا تھا،جاوید بدر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے سابق میڈیا کوآرڈینیٹر جاوید بدر نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے ماضی کی کچھ انتہائی سنسنی خیز باتوں کو منظر عام پر لایا ہے

    جاوید بدر نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی سرگرمیاں 2013 سے ہی ملک دشمن تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا فوری طور پر فوجی ٹرائل شروع ہونا چاہیے۔جاوید بدر نے انکشاف کیا کہ 2013 میں تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مدد حاصل کی تھی۔ عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی بیان دینے سے روک دیا تھا، جبکہ پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کے جلسوں اور میٹنگز پر بم دھماکے اور فائرنگ ہو رہی تھی۔جاوید بدر نے مزید بتایا کہ عمران خان نے ان سے کہا تھا کہ "ٹی ٹی پی کے ساتھ میری بات ہوگئی ہے، وہ ہمیں مکمل سپورٹ کریں گے اور صوبے میں کسی اور پارٹی کو کمپین نہیں کرنے دیں گے۔” ان کے مطابق، عمران خان نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو ٹی ٹی پی کے خلاف کسی بھی قسم کے بیان دینے سے روک دیا تھا۔

    جاوید بدر کا کہنا تھا کہ عمران خان اقتدار کی خواہش میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، اور انہوں نے اپنے مفادات کے لیے دہشت گرد تنظیموں سے ہاتھ ملایا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ٹی ٹی پی اس وقت ہمارے شہریوں اور فوجیوں کو شہید کر رہی تھی، اور عمران خان نے ان سے حمایت حاصل کی۔”عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات رکھتی ہے اور یہ تعلقات ابھی تک قائم ہیں۔ جاوید بدر کے مطابق، پی ٹی آئی کے ہر احتجاج میں دہشت گرد عناصر شامل ہوتے ہیں، اور عمران خان نے "تبدیلی” کے نام پر ملک کے نوجوانوں کو ریاست کے خلاف استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ڈرون حملوں کو سیاسی بیانیہ بنا کر دہشت گردوں کی حمایت کی۔

    پنجاب کو معاشی طورپر مستحکم اور ایک عوامی فلاحی صوبہ بنانا چاہتی ہوں،مریم نواز

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت 12 ملزمان پر فردجرم عائد