Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • اسرائیل کے حامی ممالک سے عمران خان کی حمایت کیوں؟ خواجہ آصف

    اسرائیل کے حامی ممالک سے عمران خان کی حمایت کیوں؟ خواجہ آصف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے عمران خان کی بین الاقوامی حمایت کے حوالے سے ایک بیان میں سخت تنقید کی ہے۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حمایت ان تمام ممالک سے آ رہی ہے جو اسرائیل کے کھلے حامی ہیں، اور جن ممالک کی حمایت کی بدولت اسرائیل کا وجود قائم ہے۔ ان ممالک نے فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف کبھی کوئی آواز بلند نہیں کی بلکہ وہ خود فلسطینیوں کے قتل عام کے سہولت کار ہیں۔ ان ممالک سے جو افراد عمران خان کی حمایت میں آواز اٹھا رہے ہیں، یا تو وہ خود صیہونی ہیں یا پھر اسرائیل کی مسلم دشمن پالیسیوں کے کھلے طور پر حامی ہیں۔خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ سب محض اتفاق ہے، یا پھر یہ ممالک اور افراد کسی ایسے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا ہے؟ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ ممالک اور افراد چاہتے ہیں کہ پاکستان کی ایٹمی قوت کو لپیٹ کر اسے اپنے مالکوں کی ‘کلائنٹ اسٹیٹ’ بنا لیا جائے، جو ان کے مذموم ایجنڈے کی تکمیل کرے۔

    خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ایک بڑی سازش کا شکار ہو رہا ہے، اور اس سازش کو عملی طور پر مکمل کرنے کی ذمہ داری عمران خان پر عائد کی گئی ہے۔ ان کے مطابق عمران خان اور ان کے حمایتیوں کا رویہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور ایٹمی صلاحیت کے خلاف کچھ طاقتیں ایک پیچیدہ کھیل کھیل رہی ہیں۔خواجہ آصف نے عمران خان کے عالمی تعلقات اور ان کی سیاست پر گہرے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد پاکستان کی خودمختاری اور طاقت کو نقصان پہنچانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں حالیہ جوڑ توڑ صرف داخلی مسائل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے عالمی سطح پر ایک گہری سازش ہو سکتی ہے، جس میں کچھ بیرونی طاقتیں اپنی مرضی کے مطابق پاکستان کو ایک کمزور ریاست میں بدلنے کے خواہاں ہیں۔عمران خان کی غیر متوقع حمایت میں وہ ممالک اور افراد شامل ہیں جو فلسطین کے مسئلے پر مکمل خاموش ہیں اور جو اسرائیل کے حق میں کھل کر بات کرتے ہیں،

    چین،کار حادثے میں 35 افراد کو کچلنے والے ملزم کو سزائے موت

    بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں.وزیراعظم

  • نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    نو مئی کے مزید ساٹھ مجرموں کو سزائیں، کل تعداد 85 ہوگئی ہے،آج پی ٹی آئی کے مزید 60 بلوائیوں کو نو مئی کے فسادات میں ملوث ہونے پر سزائیں سنائی گئی ہیں، جس کے بعد ان مجرموں کی تعداد 85 ہوگئی ہے۔ نو مئی کے فسادات میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات، سرکاری املاک اور اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں ہنگامی حالات پیدا ہوگئے تھے۔

    یہ فسادات اس وقت ملک کی سیاست کا اہم موضوع بن گئے تھے، اور ان میں ملوث افراد کی گرفتاریوں اور مقدمات کے سلسلے میں مسلسل پیشرفت ہو رہی ہے۔ تاہم، ایک المیہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی قیادت میں سے کسی نے بھی ان بلوائیوں کا مقدمہ لڑنے کی کوشش نہیں کی۔عمران خان اور ان کی جماعت کے قائدین مسلسل اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ فوجی عدالتیں غیر انسانی ہیں، اور ان کے کارکنوں کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ موقف محض سیاسی مفادات کے تحت اپنایا گیا ہے، کیونکہ عمران خان اور ان کی جماعت کو اس بات کا خوف ہے کہ عمران خان کا ٹرائل بھی فوجی عدالت میں ہو گا ،خان کو یقین ہے کہ وہاں کیس اتنے مضبوط شواہد کے ساتھ پیش کیا جائیگا جس کیے بعد اس کے خلاف کہیں اپیل بھی منظور نہیں ہوسکے گی

    نو مئی کا واقعہ کوئی راز نہیں ہے۔ آج ہر فرد کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ کس طرح ایک مخصوص جماعت کے سیاستدانوں اور ان کے حمایتیوں نے افواج پاکستان، خفیہ ایجنسیوں اور سپاہ سالار کے خلاف زہر بھری تقاریر کیں اور ملک میں انتشاری فضا پیدا کی۔مذکورہ سیاستدانوں نے اپنے کارکنوں کو بلوائیوں کی صورت میں میدان میں اُتارا اور عوامی املاک، فوجی تنصیبات اور اہم سرکاری اداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ تاہم، 9 مئی کے بعد جب فسادیوں کے چہرے بے نقاب ہوئے، تو عوام نے ان کی حمایت کرنا بند کر دیا اور انہیں مسترد کر دیا۔

    نو مئی کے فسادات کے بعد ایک نیا بیانیہ سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ سب کچھ ایک "فالس فلیگ آپریشن” تھا۔ یعنی یہ فسادات حکومت یا ریاستی اداروں کی جانب سے کسی مقصد کے لیے خود کیے گئے تھے تاکہ کسی خاص گروہ کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکے۔ لیکن عوام ان دعووں سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے۔ عوام نے اس بیانیہ کو مسترد کردیا اور ان سیاستدانوں کی حقیقت کو پہچان لیا جو عوام کو ہمیشہ بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عمران خان جانتے تھے کہ فوجی عدالتوں میں ان کے کارکنوں کے خلاف فیصلہ آنا تقریباً یقینی تھا اور اس کے بعد ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فوجی عدالتوں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے خلاف عالمی سطح پر شور مچاتے ہیں۔

    نو مئی کے فسادات کے حوالے سے عدالتوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور ان فسادات میں ملوث افراد کو سزا دی جا رہی ہے۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سارے معاملے میں عمران خان اور ان کی جماعت نے اپنی اخلاقی ذمہ داری سے انکار کیا ہے اور اپنے کارکنوں کا مقدمہ لڑنے کے بجائے انہیں سیاسی ہمدردی کے بہانے ایک بار پھر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ 9 مئی کا واقعہ تاریخ کا ایک سیاہ باب بن چکا ہے، اور عوام نے اس کی حقیقت کو جان لیا ہے۔

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

  • عمران خان حکومت کی تعریف کرنے پر مجبور

    عمران خان حکومت کی تعریف کرنے پر مجبور

    اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان حکومت کی تعریفیں کرنے لگے

    عمران خان آج اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر صحافی بھی موجود تھے،صحافیوں نے عمران خان سے سوال کئے ،جن کے عمران خان نے جواب دیئے،صحافیوں نے عمران خان سے ملکی معیشت کے دیوالیہ ہونے سے متعلق سوال پوچھ لیا ،صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آپ تسلیم کر رہے ہیں کہ حکومت نے معیشت کو استحکام دیا ہے؟جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے دیوالیہ ہوتی معیشت کو سنبھال لیا ہے، معیشت مستحکم ہونے سے دیوالیہ ہونے سے بچ گئی ہے لیکن ترقی نہیں ہوئی۔

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پور کے علاوہ کسی کو تاحال ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، تمام رہنماؤں کو ابھی جیل داخلے سے روکا گیا ہے، کمیٹی کی ملاقات جب طے ہے انہیں روکنا تذلیل ہے، حکومت میں شامل کچھ لوگ مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، جب مذاکرات کا سلسلہ چل پڑا ہے تو رکاوٹیں کھڑی کرنے کا کیا مقصد ہے؟ مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کو ملاقات سے روکنے پر ہم احتجاج کرتے ہیں،حکومت میں شامل مریم نواز گروپ مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، مذاکراتی کمیٹی کو لوگ باعزت لوگ ہیں انہیں روکنا انکی توہین ہے،

    علاوہ ازیں عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ہاؤس اریسٹ میں جانے سے انکار کر دیا ہے۔ عمران خان نے کہا ہے سب سیاسی قیدیوں کو رہا کریں میں اگر جاؤں گا تو مکمل رہائی میں جاؤں گا ہاؤس اریسٹ میں نہیں جاؤں گا،سب کیسز کا سامنا کروں‌گا، پہلے سیاسی قیدیوں کو رہا کریں ،جیل میں رکھنا ہے تو رکھیں،بہت زیادہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ عمران خان کو بنی گالہ یا کے پی کے شفٹ کر رہے ہیں،عمران خان نے واضح کہا ہے کہ سول نا فرمانی کی کال واپس نہیں ہوگی، عمران خان کا موقف ہے کہ اوور سیز ہی زرمبادلہ بھیجتے اور سرمایہ کاری کرتے ہیں ،عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہمارے دو مطالبات میں سنجیدگی نہیں دکھائی گئی۔

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

    وزیراعظم سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم کی ملاقات

  • ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

    امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور قائم مقام انٹیلی جنس ڈائریکٹر ایک مشرقی یورپی آلیگارک کے لیے مشاورتی خدمات فراہم کی تھیں، جس پر امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے بدعنوانی کے الزامات کے تحت امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق رچرڈ گرنیل نے 2016 میں وادی میر سے تعلق رکھنے والے مولڈووا کے سیاستدان ولادیمیر پلاہوتنیوک کے حق میں کئی مضامین لکھے تھے، لیکن انہوں نے یہ انکشاف نہیں کیا کہ انہیں اس کام کے لیے ادائیگی کی جا رہی تھی۔ دستاویزات اور انٹرویوز کے مطابق، گرنیل نے امریکی قانون "فارین ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ” کے تحت اس کام کی اطلاع بھی نہیں دی تھی، جو کہ غیر ملکی سیاستدانوں کی طرف سے کی جانے والی سرگرمیوں کا انکشاف کرنے کی ضرورت رکھتا ہے۔FARA وہی قانون ہے جس کی خلاف ورزی پر ٹرمپ کے سابق انتخابی مینیجر پال مینایفورٹ اور ان کے نائب ریک گیٹس کو سزا ہوئی تھی۔ مینایفورٹ نے مقدمے کا سامنا کیا، جبکہ گیٹس نے جرم تسلیم کیا۔

    یہ واضح نہیں کہ آیا گرنیل کے لکھے گئے مضامین ان کی پلاہوتنیوک کے لیے کی جانے والی مشاورتی خدمات کا حصہ تھے یا نہیں۔ اگرچہ غیر ادا شدہ کام بھی FARA کے تحت انکشاف کے لیے ضروری ہو سکتا ہے، اگر وہ کام کسی غیر ملکی سیاستدان کی ہدایت پر کیا جائے یا اس سے براہ راست فائدہ پہنچے۔ میتھیو سینڈرسن، جو ایک وکیل ہیں اور FARA کے حوالے سے مشورے دیتے ہیں، کا کہنا ہے کہ "یہ واقعی ایسا موقع ہے جس کی تحقیقات امریکی محکمہ انصاف کو مزید کرنی چاہیے۔”

    گرنیل کے وکیل کریگ اینگل نے پرو پبلیکا کی جانب سے گرنیل کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گرنیل کو FARA کے تحت رجسٹر کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ کسی غیر ملکی طاقت کی ہدایت پر کام نہیں کر رہے تھے۔ اینگل کے مطابق، "گرنیل نے یہ مضامین اپنی ذاتی رائے کے طور پر لکھے اور یہ ان کی ذاتی کوششیں تھیں، نہ کہ کسی فرد کے لیے کام کرنا۔”تاہم، اگر کسی فرد نے غیر ملکی سیاستدان کے لیے کام کیا ہو اور وہ اس کا انکشاف نہ کرے، تو یہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسی میں نوکری کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنے میں مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔ اس صورت میں یہ بات اہم ہے کہ کسی فرد کے غیر ملکی تعلقات، کاروبار یا مالی مفادات کی بنا پر اس کے خلاف غیر ملکی اثرورسوخ یا دھمکیوں کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

    رچرڈ گرنیل نے اپنے کیریئر کا آغاز امریکی اقوام متحدہ میں ترجمان کے طور پر کیا تھا ،وہ جرمنی میں امریکی سفیر اور کوسوو اور سربیا کے درمیان مذاکرات کے لیے خصوصی ایلچی کے طور پر کام کر چکے۔ انہوں نے ٹرمپ کے سامنے اپنی وفاداری اور جارحانہ ٹویٹس کی وجہ سے صدر کا اعتماد حاصل کیا۔ گرنیل نے برلن میں جرمن سیاست میں مداخلت کر کے مقامی سیاست میں بھی ہلچل مچائی تھی، جو کہ عام سفارتی پروٹوکول سے ہٹ کر تھا۔رچرڈ گرنیل کا انٹیلی جنس میں کوئی تجربہ نہیں ہے اور وہ اس سے قبل بھی امریکی حکومت میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں، لیکن ان کا براہ راست انٹیلی جنس یا سیکیورٹی سے تعلق نہیں رہا۔

    ولادیمیر پلاہوتنیوک مولڈووا کے سب سے امیر ترین شخص تھے، جو اس وقت کے حکومتی اتحاد کے اہم رکن بھی تھے۔ 2016 میں، گرنیل نے پلاہوتنیوک کے حق میں مختلف مضامین لکھے اور ان کے مخالفین کو روسی مفادات کا حامی قرار دیا تھا، جب کہ پلاہوتنیوک اور ان کے اتحادی ایک ارب ڈالر کے بینک فراڈ میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کر رہے تھے۔پلاہوتنیوک نے خود کو مغربی مفادات کا حامی ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ مغربی حکومتیں ان کی حمایت کریں۔ تاہم، امریکہ کے محکمہ خارجہ نے پلاہوتنیوک اور ان کے خاندان پر بدعنوانی کے الزامات کی تصدیق کی اور ان کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔ وزارت خارجہ کے مطابق، "پلاہوتنیوک نے اپنے سرکاری عہدے کا فائدہ اٹھا کر قانون کی حکمرانی کو کمزور کیا اور جمہوری اداروں کی آزادی کو نقصان پہنچایا۔”

    عمران خان کی رہائی کے حق میں ہوں،ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

    پی ٹی آئی کا ناروے کی ہم جنس پرستی کی حامی پارٹی سے رابطہ

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

  • اڈیالہ  کا قیدی این آر او   کیلیے کسی کے بھی پاؤں پکڑنے کیلیے تیار ہے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ کا قیدی این آر او کیلیے کسی کے بھی پاؤں پکڑنے کیلیے تیار ہے،عظمیٰ بخاری

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور پنجاب صوبائی وزیر اطلاعات، عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکہ کو دوٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی صورت میں امریکہ کے ساتھ اپنے داخلی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم نے واضح طور پر ‘ابسلوٹلی ناٹ’ (بالکل نہیں) کہہ کر امریکہ کو اپنے موقف سے آگاہ کیا۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت اپنے داخلی معاملات میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو تسلیم نہیں کرے گی اور یہ پالیسی کبھی بھی تبدیل نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور آزادی کے لیے پُرعزم ہے اور اس میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔عظمیٰ بخاری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ایک طرف مذاکرات کا ڈرامہ کھیل رہی ہے اور دوسری طرف سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کر رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ پی ٹی آئی کی قیادت کا ایک ہی مقصد اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل ہے، اور ان کا یہ طرز عمل عوامی مفاد سے کوسوں دور ہے۔

    عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ تحریک انصاف سوشل میڈیا پر اوورسیز پاکستانیوں کو ترسیلات زر نہ بھیجنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ ان کے مطابق، پارٹی کے رہنما جیسے ذلفی بخاری، شہباز گل اور شہزاد اکبر اس مہم میں پیش پیش ہیں۔ وہ اوورسیز پاکستانیوں کو مالی طور پر پاکستان کی مدد نہ کرنے پر اکسا رہے ہیں، جو کہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں کام کیا ہے، اور اسی کا نتیجہ ہے کہ رواں سال پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ترسیلات زر بھیجی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے پی ٹی آئی کی فتنہ سازی اور ملک دشمنی کو مسترد کر دیا ہے۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما، جو اڈیالہ جیل میں قید ہیں، نے ڈیڑھ سال تک قوم کو یقین دلایا کہ وہ امریکہ کی غلامی سے پاکستان کو آزاد کرائیں گے، لیکن اب وہ خود امریکی لابی سے درخواستیں کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں مداخلت کریں۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ پاکستانی عوام کو یہ تاثر دے رہے تھے کہ وہ ملک کو امریکی اثر سے آزاد کرائیں گے، آج وہ خود امریکی مداخلت کی درخواستیں کر رہے ہیں۔ یہ ایک بڑی بددیانتی ہے اور ان کی سیاست کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔

    عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ اڈیالہ جیل کا قیدی این آر او (قومی مفاہمت آرڈیننس) مانگنے کے لیے کسی کے بھی پاؤں پکڑنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ سیاسی فائدے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور اب تک کی سیاست میں ان کا کردار صرف ذاتی مفادات کے گرد گھومتا رہا ہے۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام نے اس قسم کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے اور وہ اب ملک کی ترقی اور خوشحالی کی جانب بڑھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اشتہاری قرار

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اشتہاری قرار

  • توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی

    توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی

    اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت ہوئی

    سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے سماعت کی ،بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا ،بشریٰ بی بی کیس کی سماعت کے لیے اڈیالہ جیل آئیں ،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل خالد یوسف اور عائشہ خالد پیش ہوئی،بشری بی بی کے وکیل ارشد تبریز عدالت میں پیش ہوئے،وکیل سلمان صفدر اور کوثین فیصل مفتی کی جانب سے ذاتی مصروفیات کے باعث سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی،وکلا کی عدم موجودگی کے باعث پراسیکوشن کے گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہو سکا،عدالت نے بغیر کارروائی توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 30 دسمبر تک ملتوی کر دی

    توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کررکھی ہے،عمران خان اور بشری بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا ۔عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ بشریٰ بی بی رہا ہو چکی ہے اور پشاور میں ہے،

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ،پہلا ٹیسٹ میچ،جنوبی افریقا کا بولنگ کا فیصلہ

    ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ کراچی کے مسافروں کیلیے گیم چینجر ہے، شرجیل انعام میمن

  • بانی پی ٹی آئی  اسرائیلی اثاثہ،ہماری ترجیح پاکستان ہے، خواجہ آصف

    بانی پی ٹی آئی اسرائیلی اثاثہ،ہماری ترجیح پاکستان ہے، خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آپریشن گولڈ اسمتھ کے ریکروٹ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی رہائی کے لیے ایک عالمی مہم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    خواجہ آصف نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد ایلچی رچرڈ گرینل کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "بانی پی ٹی آئی کے لیے مغرب سے آواز اٹھانے والوں کو یہ واضح ہونا چاہیے کہ پاکستانی قوم اپنے مفادات کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور ہماری پہلی اور آخری ترجیح صرف اور صرف پاکستان ہے۔” یہ مہم بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے چلائی جا رہی ہے، جس میں مغربی ممالک بھی عمران خان کی حمایت میں آواز اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ "عمران خان کی رہائی کے لیے جو عناصر آواز اٹھا رہے ہیں، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ان عناصر کی حمایت اسرائیل سے حاصل ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی ایک اسرائیلی اثاثہ ہیں، اور ان کے ذریعے عالمی طاقتیں پاکستان کی ایٹمی قوت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔”

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینیٹر طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کو امریکی حکومت یا کسی بھی دوسرے ملک کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جب یہ لوگ حکومتی نمائندے کے طور پر بات کریں گے تو پاکستانی حکومت بھی اپنے موقف کا دفاع کرے گی۔”طلال چوہدری نے مزید کہا کہ "یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکہ پہلے بانی پی ٹی آئی کو آزادی دلائے گا اور پھر وہ قوم کو امریکہ سے آزاد کروائیں گے؟ یہ بات ناقابلِ فہم ہے۔”

    پاکستان کی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے معاملے پر کسی بھی بیرونی دباؤ کو تسلیم نہیں کرے گی، اور ملک کے مفادات کو پہلے اور آخری ترجیح دے گی۔ خواجہ آصف اور طلال چوہدری نے مغربی طاقتوں کی مداخلت کو مسترد کیا ہے،

    پولیس نے شاملات جگہ پر قبضہ کروانے کی کوشش کی،اہلیان علاقہ کا ڈی پی او سے نوٹس کا مطالبہ

    26 نومبر کے چار مقدمے، بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

  • عمران خان نے سول نافرمانی کی کال واپس لینے کا حکومتی مطالبہ مسترد  کر دیا

    عمران خان نے سول نافرمانی کی کال واپس لینے کا حکومتی مطالبہ مسترد کر دیا

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے سول نافرمانی کی کال واپس لینے کا حکومتی مطالبہ مسترد کر دیا جبکہ پارٹی کو مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے-

    باغی ٹی وی:بشریٰ بی بی خیبرپختونخوا حکومت کے سرکاری پروٹوکول میں اڈیالہ جیل پہنچیں، ان کی سیکیورٹی پر 12 سرکاری اہلکار تعینات تھے جبکہ 2 بلٹ پروف گاڑیاں بھی سرکاری پروٹوکول میں شامل تھیں بشریٰ بی بی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد جیل سے روانہ ہوگئیں جس کے بعد چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان، سابق صدر سپریم کورٹ بار قاضی انور، وکلاعلی بخاری اور علی اعجاز بٹر اور فیصل چوہدری نے بھی اڈیالہ جیل پہنچ کر عمران خان سے ملاقات کی۔

    اسرائیل میں اتنا دم خم نہیں،وہ حماس کا مقابلہ نہیں کرسکتا،حافظ نعیم

    ذرائع کے مطابق عمران خان نے پارٹی کو حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے سول نافرمانی کی کال واپس لینے کا مطالبہ مسترد کردیا ،کہا کہ جب تک حکومت مذاکرات سے متعلق سنجیدگی نہیں دکھاتی کال واپس نہیں لی جائے گی 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، حکومت مذاکرات کو لٹکائے گی، مذاکرات کو جلد از جلد پایہ تکمیل کی طرف لے کر جائیں اور سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات ہونے چاہییں، سپریم کورٹ کے ججز کے حالیہ ریمارکس حوصلہ افزا ہیں، شکر ہے کہ موجودہ حالات کا سپریم کورٹ کو احساس ہوگیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق عمران خان نے حامد رضا کو مذاکراتی کمیٹی کا ترجمان مقرر کرنے کی ہدایت دے دی جبکہ فیصل چوہدری نے حامد رضا کو ترجمان مقرر کرنے کے اطلاعات کی تصدیق کر دی-

    آئی سی سی نے چیمپئنز ٹرافی کے شیڈول کا اعلان کر دیا

    دوسری جانب عمران خان سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خان صاحب کو مذاکرات کے آغاز کے بارے میں آگاہ کردیا مگر انھوں نے کہا ہے کہ ٹائم فریم ہونا چاہیئے، جو ہمارے جائز مطالبات ہیں ان پر جلد از جلد مگر ایک مقررہ وقت کے اندر کوئی پیش رفت ہونی چاہیئے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان سے کوئی بین الاقوامی معاملہ ڈسکس نہیں ہوا، خان صاحب کی ہدایت ہے کہ فارن پالیسی کے معاملات پر چیئرمین، سیکرٹری اور انفارمیشن سیکرٹری کے سوا کوئی بات نہیں کرے گا، سول نافرمانی کی تحریک پر کوئی بات نہیں ہوئی صرف مذاکرات پر بات ہوئی۔

    بلاول بھٹو زرداری کی آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کے 11ویں کانووکیشن میں شرکت

    چیئرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے 4 لوگ کل مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بن سکے جس کا اسپیکر قومی اسمبلی کو پہلے سے بتا دیا تھا، مذاکرات کے اگلے دور میں چارٹر آف ڈیمانڈ حکومت کے آگے رکھیں گے اور اس پر آگے بڑھیں گے، کوشش ہے کہ مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے قبل مذاکراتی کمیٹی کی عمران خان سے ملاقات ہوجائے، علی امین اپیکس کمیٹی میں شرکت کے باعث مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بن سکیں۔

    ہمیں نئی نسل کے ڈیجیٹل حقوق کے لئے جدو جہد کرنا ہو گی،بلاول بھٹو

    انہوں نے کہا کہ کمیٹی بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بنائی ہے مجھ سمیت بہت سارے لوگ اس میں شامل نہیں، ہم مذاکرات کے عمل پر پُرامید ہیں، کوشش کرنی چاہیے کہ سارے مسائل کا حل ضرور نکل آئے، بانی پی ٹی آئی پر جتنے مقدمات بنے وہ سارے سیاسی ہیں، ان سب میں ان کی ضمانت ہوچکی ہے ایک ہی ریفرنس بچاتھا جس کا فیصلہ آئندہ ماہ ہونا ہے ہمیں امید ہے کہ اگر فیئر ٹرائل ہوگا تو عمران خان اس میں بھی بری ہوں گے اور ضمانت بھی ملے گی، 2 جنوری کو ہمارے تمام کمیٹی ممبران مذاکرات کا حصہ ہوں گے، ہم تحریری طور پر اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھیں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے پہلے دور میں پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم نے عمران خان سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • جی ایچ کیو حملہ کیس، ایک اور ملزم پر فرد جرم، ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی درخواستیں مسترد

    جی ایچ کیو حملہ کیس، ایک اور ملزم پر فرد جرم، ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی درخواستیں مسترد

    راولپنڈی: سانحہ 9 مئی کے دوران جی ایچ کیو پر حملے کے کیس کی سماعت میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، جس میں عدالت نے ملزم بلال اعجاز کو چارج شیٹ جاری کر دی ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے ملزم عاصم اور شہیر سکندر کا اشتہار جاری کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

    انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ 9 مئی کے دوران جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کی سماعت ہوئی، جس میں ملزم بلال اعجاز پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ عدالت نے اس موقع پر ملزم عاصم اور شہیر سکندر کے بارے میں حکم جاری کیا کہ ان کا اشتہار شائع کیا جائے تاکہ ان کی گرفتاری عمل میں لائی جا سکے۔اس کے علاوہ، عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو،آڈیو ریکارڈنگ فراہم کرنے کی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے فوٹیج کی فراہمی کے لیے درخواستیں دائر کی گئی تھیں، جنہیں عدالت نے مسترد کر دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ان درخواستوں پر کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی اور اس حوالے سے درخواست گزار پنجاب حکومت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ محکمہ داخلہ اور عدالت کو دوسرے معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں۔عدالت نے کیس کی سماعت 6 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ 9 مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں نے ملک بھر میں احتجاج کیا تھا جس کے دوران جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد ملک بھر میں شدید تشویش اور تنقید کی لہر دوڑ گئی تھی، اور اس مقدمے میں ملزمان کی گرفتاری اور قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔

    جی ایچ کیو راولپنڈی کیس: قید کی سزا پانے والے 2 مجرم اڈیالہ جیل منتقل

    جی ایچ کیو حملہ کیس، زین قریشی سمیت مزید 3 ملزمان پر فرد جرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان و دیگرکی بریت درخواستیں خارج

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر

    اسلام آباد احتساب عدالت ،190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف محفوظ شدہ فیصلہ نہ سنایا جا سکا

    سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی ،وکیل خالد چوہدری نے کہا کہ ہم توقع کر رہے ہیں آج فیصلہ آئیگا،جج احتساب عدالت نے کہا کہ فیصلہ تو آج نہیں آئیگا،چھٹیاں آرہی ہیں اور ہائیکورٹ کا کورس بھی ہے،دس منٹ تک تاریخ معلوم کر لیجئے گا، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے دلائل سننے کے بعد 18 دسمبر کو سینٹرل جیل اڈیالہ میں فیصلہ محفوظ کیا تھاجو آج سنایا جانا تھا تاہم آج نہیں سنایا گیا

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کے فیصلے کا معاملہ ، 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر کر دیا ،کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے وکیل خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،نیب کے پراسیکیوٹر سہیل عارف عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے کچھ دیر بعد محفوظ فیصلے کی نئی تاریخ مقرر کر دی، احتساب عدالت 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر 6 جنوری کو اڈیالہ جیل میں فیصلہ سنائے گی،احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا