Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکراتی عمل کا آغاز ہونے کے باوجود، تحریک انصاف کی جانب سے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا بدستور جاری ہے۔

    حکومت نے قومی مسائل کے حل، استحکام کی بحالی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لئے پی ٹی آئی سے مذاکرات کی پیشکش کی، جبکہ آرمی چیف کی جانب سے 9 مئی کے فسادات میں ملوث 19 سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کو معافی دے کر خیرسگالی کا پیغام دیا گیا۔ یہ اقدام مفاہمت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے اور مذاکرات کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔اس فیصلے کو ریاست کی کمزوری کے طور پر نہیں، بلکہ کشیدگی کم کرنے کے لئے ایک خیرسگالی کے اقدام کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یہ اقدام ریاست کے متوازن رویے کی عکاسی کرتا ہے، جو احتساب کو متاثر کئے بغیر مفاہمت کو ترجیح دیتا ہے۔ اس سے ریاست کے اعتماد اور برداشت کا اظہار ہوتا ہے اور یہ ایسے اقدامات کی مثال بناتا ہے جو قومی اتحاد کو فروغ دیتے ہیں، قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتے ہیں اور مستقبل میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکتے ہیں۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے اور بیرونی حمایت حاصل کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر ایک اینٹی ریاست مہم چلائی۔ پی ٹی آئی نے بانی پی ٹی آئی کی وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لئے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرانے سے لے کر امریکی انتظامیہ سے روابط استوار کرنے تک، اپنے بیانیہ میں تبدیلی کی۔ اس کے علاوہ، پی ٹی آئی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف چلائی جانے والی مہم ان کے ارادوں اور مستقل مزاجی پر سوالات اٹھاتی ہے۔

    مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی نے سیاسی نقصان اور این آر او کے الزامات کے خوف سے تحریری چارٹر آف ڈیمانڈز جمع کرانے سے گریز کیا۔ تاہم، پی ٹی آئی کے اہم مطالبات میں عمران خان اور زیر حراست دیگر ارکان کی رہائی کے ساتھ ساتھ 9 مئی اور 26 نومبر کے فسادات کے حوالے سے عدالتی کمیشن کی تشکیل شامل ہے۔ حکومت نے شفافیت اور آئینی مطابقت کو یقینی بنانے کے لئے پی ٹی آئی کے مطالبات پر قانونی جائزہ لینے اور اتحادی شراکت داروں سے مشاورت کا وعدہ کیا ہے۔

    حکومت کا مقصد احتساب کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوری شمولیت کو فروغ دینا اور مستقبل میں پرتشدد سیاسی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ پی ٹی آئی کے مذاکرات کار موجودہ حکومت کو عوامی مینڈیٹ سے محروم قرار دیتے ہوئے بات چیت کو آئینی اور گورننس کے مسائل حل کرنے کی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ حکومتی نمائندے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ 9 مئی کے فسادات کے لئے احتساب قومی سلامتی اور ریاستی اداروں کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔

    حکومت کا متوازن رویہ پی ٹی آئی کی پراپیگنڈا مہم کو بے اثر کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ اتحاد کا احساس پیدا ہو اور سیاسی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل مہم چلانا قومی اتحاد کو نقصان پہنچا رہی ہے اور سیاسی فائدے کو پاکستان کے استحکام اور ترقی پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا اور غلط معلومات کی تشہیر پاکستان کے استحکام اور ادارہ جاتی سالمیت کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔”ڈراپ سائٹ نیوز”، جو متنازع اور سنسنی خیز کہانیاں شائع کرنے کے لئے جانا جاتا ہے، پی ٹی آئی کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ یہ خبریں من گھڑت سیاسی انتقام اور حکومتی زیادتیوں کے بیانیے پر مرکوز ہیں، جس سے پی ٹی آئی کی طرف سے ریاست کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی شدت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کو معاف کرنے کا ایک سنجیدہ اقدام ہے، جو مذاکرات کے عمل کو فروغ دینے اور قومی استحکام کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔

    مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کا دوہرا رویہ، جس میں ایک طرف اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اور دوسری طرف بیرونی مداخلت کی کوششیں شامل ہیں، مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بناتا ہے۔ دونوں فریقوں کی کامیابی کا انحصار پاکستان کے جمہوری مستقبل اور قومی مفادات کو ذاتی یا سیاسی ایجنڈوں پر ترجیح دینے کے حقیقی عزم پر ہے۔ اگر پی ٹی آئی اور حکومت دونوں مل کر ملک کے قومی مفادات کو اہمیت دیں، تو مذاکراتی عمل میں کامیابی کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل ایک نازک موڑ پر ہے، جہاں دونوں طرف سے سنجیدہ عزم کی ضرورت ہے۔ حکومت کے متوازن رویے اور پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پراپیگنڈا مہم کے درمیان ایک توازن قائم کرنا ضروری ہے تاکہ پاکستان کی سیاسی استحکام اور قومی مفادات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    کرکٹ آسٹریلیا نے سنیل گواسکر کو اختتامی تقریب میں نہ بلانے کی غلطی تسلیم کر لی

    ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا.احسن اقبال

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنایا جائے گا نئی تاریخ احتساب عدالت نے نیب اور عمران خان کے وکلا کو بتا دی

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آج سنا یا جانا تھا تا ہم آج بھی نہ سنایا جا سکا، عمران خان کے وکیل عدالت پہنچے تو انہیں عدالتی عملے نے آگاہ کیا کہ اب کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،مگر ابھی تک فیصلہ نہیں سنایا گیا بلکہ مزید مؤخر کر دیا گیا ہے.

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • خیبر پختونخوا حکومت ناکام ،کرم ایجنسی کے لیے بھی فوج آگئی

    خیبر پختونخوا حکومت ناکام ،کرم ایجنسی کے لیے بھی فوج آگئی

    پاکستان کے خیبر پختونخوا کے علاقے کرم ایجنسی میں گزشتہ 85 دنوں سے فسادات اور بدامنی کی صورتحال جاری تھی، جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے فوج کی مدد کی درخواست کی ہے۔

    فوج آج کرم ایجنسی کے علاقے ٹل پہنچ گئی، جہاں حالات بہت زیادہ خراب تھے۔ ان فسادات میں سینکڑوں افراد کی ہلاکتیں ہوئیں، جن میں ڈیڑھ سو کے قریب بچے بھی شامل تھے جو جان بحق ہو گئے۔ اس دوران پی ٹی آئی اور عمران خان کی جانب سے اس سنگین مسئلے پر کوئی ردعمل یا ٹویٹ سامنے نہیں آیا، جو اس بات کا غماز ہے کہ پی ٹی آئی نے حالات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔کرم ایجنسی کی صورتحال 85 دنوں تک بگڑتی رہی، لیکن پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے اس پر کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ جرگے کی بات کی گئی تھی لیکن جرگہ بھی بھیجنے میں ناکامی ہوئی۔ یہ صورتحال اس وقت اور بھی پیچیدہ ہو گئی جب پی ٹی آئی نے فوج سے مدد کی درخواست کی۔ لیکن یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر پی ٹی آئی حکومت کو شروع میں ہی اس مشکل کا پتا تھا تو اس نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوج کو کیوں نہیں بلایا؟

    فوج کی مدد کی درخواست کرنے سے پہلے، پی ٹی آئی نے اس موقف کا اظہار کیا تھا کہ ان کے پاس دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں قراردادیں پاس کیں، جن میں کہا گیا کہ صوبہ خود ہی اپنے مسائل حل کرنے کے قابل ہے اور اس میں کسی بھی فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم اب انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنا ہی واحد حل ہے، تو پی ٹی آئی نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کی اور فوج کی مدد طلب کی۔ اس فیصلے کے پیچھے کیا عوامل ہیں، اس پر سوالات اٹھتے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی کا فوجی آپریشن کے خلاف موقف محض سیاسی مفادات کے لیے تھا؟

    ڈیرہ اسمعیل خان بھی اسی طرح کی بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ یہاں رات کے اوقات میں دہشت گردوں کا راج ہوتا ہے اور امن کی صورت حال بہت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ ممکن ہے کہ پی ٹی آئی کو وہاں بھی فوج کی مدد کی درخواست کرنا پڑے۔ اگر یہ دو اہم علاقے یعنی کرم ایجنسی اور ڈیرہ اسمعیل خان میں امن قائم نہیں کر سکے، تو سوال اٹھتا ہے کہ پی ٹی آئی پورے صوبے میں امن قائم کرنے کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے؟

    یہاں یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں جس طرح سے امن قائم کرنے کے دعوے کیے گئے تھے، وہ اب مکمل طور پر ناکام نظر آ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت کا موقف تھا کہ وہ صوبے کے اندر خود حالات کو بہتر کر لیں گے، لیکن اب فوج کی مدد طلب کرنا ان دعووں کے ساتھ تضاد کا باعث بن رہا ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی کا اصل مقصد صوبے میں امن قائم کرنا تھا یا اس کی حکمت عملی میں کہیں نہ کہیں ٹی ٹی پی کی حمایت کا پہلو چھپا ہوا تھا۔اگر پی ٹی آئی ان دو علاقوں میں بھی امن قائم نہیں کر سکتی، تو یہ بات انتہائی اہم ہے کہ پارٹی کی حکومتی کارکردگی پر نظرثانی کی جائے۔ عوام کا اعتماد پی ٹی آئی پر اس بات کے بعد کس طرح قائم رہ سکتا ہے؟ اس کی کارکردگی اور حکومتی فیصلے عوامی سطح پر سنگین سوالات پیدا کر رہے ہیں، اور اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ پی ٹی آئی اس بحران کا کس طرح حل نکال پاتی ہے۔

    کرم ایجنسی میں فوج کی آمد اور پی ٹی آئی کی جانب سے فوجی مدد کی درخواست ایک ایسی صورتحال کا عکاس ہے جس میں سیاسی قیادت نے اپنی ابتدائی پالیسیوں کو تبدیل کر دیا۔ اس سے نہ صرف پی ٹی آئی کی حکومتی پالیسیوں پر سوالات اٹھتے ہیں، بلکہ پورے صوبے میں امن قائم کرنے کے دعووں کی حقیقت بھی سامنے آ گئی ہے۔ اب وقت یہ بتائے گا کہ پی ٹی آئی ان مسائل کا حل کس طرح نکالتی ہے، اور آیا وہ عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کر پائے گی یا نہیں۔

  • پاراچنار میں امن کا دشمن ، حاجی کریم، عمران خان مذمت کرے گا؟

    پاراچنار میں امن کا دشمن ، حاجی کریم، عمران خان مذمت کرے گا؟

    آج کل کی سیاست میں جب بھی کسی اہم مسئلے پر بات کی جاتی ہے، تو بعض اوقات ایسے سوالات اُٹھتے ہیں جو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل کی مذمت پر امریکہ کے ناراض ہونے کے حوالے سے عمران خان کے کردار پر سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں، چند سوالات ابھر کر سامنے آتے ہیں جو سیاسی رہنماؤں اور عوام کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

    اس وقت حاجی کریم، جو کہ ایک چھوٹے سے گاؤں بگن کا مقامی لیڈر ہے، اور کاظم، جو ٹی ٹی پی کا مقامی کمانڈر ہے، ان دونوں نے مل کر پارا چنار امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے خوراک اور امدادی سامان لے کر جانے والے قافلے پر حملہ کیا اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا عمران خان اور پی ٹی آئی کے باقی رہنماؤں میں سے کوئی ایک حاجی کریم اور کاظم کی مذمت کرے گا؟ اور کیا ان دونوں کو دہشت گرد قرار دے گا؟ یا پھر اس پر بھی امریکہ ناراض ہوگا؟

    یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ جب ندیم افضل چن نے کہا تھا کہ عمران خان نے پاک ایران گیس پائپ لائن اور سی پیک جیسے منصوبوں پر امریکہ کے دباؤ کی وجہ سے کام روک دیا تھا، تو پی ٹی آئی کے حامیوں نے اس بات پر شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔ وہ یہ کہتے تھے کہ عمران خان نے ہمیشہ امریکی مداخلت کے خلاف آواز اُٹھائی ہے اور وہ پاکستانی قوم کے مفادات کا دفاع کرتا ہے۔مگر اب حالیہ دنوں میں یہ صورتحال بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ عمران خان کے موقف میں تبدیلی آئی ہے اور وہ اسرائیل کی مذمت کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ اس کے پیچھے یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ اگر عمران خان اسرائیل کی مذمت کرے گا تو امریکہ ناراض ہوگا، لہذا وہ خاموش ہیں۔ اس پر یوتھیوں میں بھی ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی ہے اور اب وہ بے شرمی سے اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ عمران خان کو امریکہ کے ناراض ہونے کا خوف ہے۔

    یہ صورتحال پاکستانی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں ایک طرف قومی مفادات کی بات کی جاتی ہے، تو دوسری طرف عالمی دباؤ اور تعلقات کی پیچیدگیاں بھی نظر آتی ہیں۔ یہ وقت پاکستانی سیاست دانوں کے لیے ایک امتحان ہے کہ وہ کس طرح اپنے اصولوں کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور عالمی دباؤ کے باوجود اپنے عوام کے مفادات کو کیسے تحفظ دیتے ہیں۔

    عمران خان جیل میں پاؤں پکڑنے کو تیار

    پارا چنار میں امن معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا حامی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی مختلف مذاہب کے نمائندگان سے خصوصی نشست

  • عمران خان جیل میں پاؤں پکڑنے کو تیار

    عمران خان جیل میں پاؤں پکڑنے کو تیار

    یوتھیوں کے جھوٹوں کا پول کھلنا ایک معمول بن چکا ہے۔ ان کے دعوے اور بیانات اتنے جھوٹے اور متضاد ہوتے ہیں کہ عوام نے ان کے بارے میں اپنی ذہنیت کو مکمل طور پر بدل لیا ہے۔ ایک ایسا طبقہ جو ہمیشہ عمران خان کی حمایت کرتا ہے، اس کی باتوں کی سچائی پر اب سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔

    یوتھیوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ "خان اندر بیٹھ کے جیت گیا” لیکن اس دعوے کے برعکس عوام کا ماننا ہے کہ حقیقت اس کے بلکل الٹ ہے۔ یعنی جب یوتھیوں کی طرف سے یہ کہا جائے کہ خان جیت چکا ہے، تو یہ سمجھنا چاہیے کہ خان نے دراصل ہار قبول کر لی ہے اور اپنی پوزیشن مکمل طور پر کمزور کر لی ہے۔عمران خان مکمل طور پر جیل میں لیٹ چکا ہے اور ہر کسی کے پاوں پکڑنے کو تیار ہے

    یوتھیوں کے بیانات میں تضادات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ اب یہ ایک عمومی بات بن گئی ہے کہ اگر یہ کہیں بھی کوئی بات کہہ رہے ہوں، تو اس بات کا سچ یہ ہے کہ حقیقت اس سے پوری طرح مختلف ہوگی۔ لوگوں نے اس بات کو اپنا عقیدہ بنا لیا ہے کہ جب بھی یوتھیوں کی طرف سے کوئی بلند و بانگ دعویٰ کیا جائے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حقیقت میں اس کے برعکس ہار رہے ہیں۔

    یوتھیوں کی سیاست اب ایک کھلی کتاب بن چکی ہے جس میں ہر جھوٹ کی سچائی بے نقاب ہو چکی ہے۔ عوام اب ان کی باتوں پر اعتبار کرنے کے بجائے، ان کے بیانات کو مسترد کر کے ان کی حقیقت جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

  • بشریٰ بی بی کی  پارٹی کے قانونی معاملات میں بھی مداخلت

    بشریٰ بی بی کی پارٹی کے قانونی معاملات میں بھی مداخلت

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما ،سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کے سیاسی امور کے بعد قانونی معاملات میں بھی مداخلت کرتے ہوئے وکلا اور انصاف لائرز فورم کی ٹیموں میں اہم تبدیلیاں کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی نے وکلا کے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے قاضی انور ایڈووکیٹ کو ہدایت دی کہ وہ ملک بھر کے وکلا کی فہرست حاصل کریں۔ اس سلسلے میں قاضی انور اور مشعال یوسفزئی بشریٰ بی بی کو وکلا کے امور پر رپورٹ کریں گے۔ دونوں شخصیات بشریٰ بی بی کو وکلا کی کارکردگی اور تنازعات کے بارے میں آگاہ کریں گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی نے قاضی انور ایڈووکیٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے قانونی کیسز پر حتمی مشاورت فراہم کریں اور وکلا کو بانی پی ٹی آئی تک کسی بھی قسم کی پیغام رسانی سے روکا جائے۔ یہ اقدام پارٹی کے اندر اتحاد کو برقرار رکھنے اور قانونی محاذ پر مؤثر حکمت عملی اپنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔اس ہفتے کے دوران خیبر پختونخوا (کے پی کے) کے وکلا عہدیداروں کی تبدیلیوں پر بھی بشریٰ بی بی سے حتمی مشاورت کی گئی۔ بشریٰ بی بی نے وکلا کے تنازعات کو حل کیا اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ان کی آگاہی فراہم کی۔ اس دوران قاضی انور ایڈووکیٹ نے بشریٰ بی بی کو وکلا قیادت کی خرابیوں اور مسائل پر تفصیل سے بریفنگ دی۔

    اس حوالے سے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ سے بھی رابطہ کیا گیا تاکہ اس معاملے پر ان کا مؤقف حاصل کیا جا سکے، تاہم انہوں نے اس بارے میں کسی قسم کا مؤقف دینے سے گریز کیا ہے۔ شریٰ بی بی کی اس مداخلت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پارٹی کے قانونی محاذ پر مزید کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ پی ٹی آئی کے تمام مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔

    بشریٰ بی بی کی سیاسی فیصلوں میں مداخلت، پی ٹی آئی کی سینئر قیادت میں تشویش

    نیلم منیر کی دبئی میں شادی،دولہاپولیس والا نکلا

    روس میں پولیس کا نائٹ کلب پر چھاپہ، "ہم جنس پرستی کی حمایت” 7 گرفتار

  • سعید غنی نے 2025ء میں عمران خان کی رہائی کا دعویٰ کر دیا

    سعید غنی نے 2025ء میں عمران خان کی رہائی کا دعویٰ کر دیا

    پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء سعید غنی نے 2025ءمیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کادعویٰ کر دیا، کہا کہ پی ٹی آئی کا مستقبل عمران خان کے اپنے ہاتھ میں ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خا ن جیل سے رہا ہوجائیں گے تاہم ان کا سیاست میں کردار ختم ہو جائیگا.

    نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رہنماء پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھ میں ہے لیکن انہوں نے ثابت کیا ہے کہ یہ اپنا بیڑہ خود غرق کرتے ہیں۔ملک میں سیاسی عدم استحکام کم ہوچکا ہے ۔نئے سال سے ہمیں اچھی توقعات وابستہ کرنی چاہئیں۔ امید ہے نیا سال مجموعی طور پر پاکستان کیلئے بہتر ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے معاشی طور پر نیا سال بہتر ثابت ہوگا۔سیاسی عدم استحکام میں کمی آچکی ہے اور یہ نئے سال میں مکمل ختم ہوجائے گا۔یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئررہنماء منظور وسان نے اپنی پیش گوئی میں بتایا تھا کہ نئے سال میں بہت سی تبدیلیاں ہوں گی۔کچھ نئے چہرے سامنے آئیں گے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو سب چھوڑ کر چلے جائیں گے اور وہ اکیلے مار کھائیں گے۔نئے سال میں اداروں میں بھی گرما گرمی چلے گی۔پنی پیش گوئیوں کے حوالے سے مشہور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ءنے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ 2025ءدیگر سالوں سے مختلف اور خطرناک ہو گا۔اس سال کئی انوکھے واقعات ہوں گے۔قبل ازیں بھی منظور وسان کا کہنا تھا کہ باتیں ہونی چاہئیں پر باتوں کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ صرف آپ کو ریلیز کیا جائے۔ہم نہیں چاہتے کہ جمہوریت کو نقصان ہو ہم نہیں چاہتے کہ باتیں نہ ہوں۔ باتوں سے ریلیف نہیں ملے گا عدالت اور کیسز پر فیصلہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ جو پہلے کہتا تھا ہم کوئی غلام ہیں اب امریکا کو مداخلت کرنے کیلئے اپیل کر رہا تھے۔ ہم بھی غلام نہیں کہ کس کے کہنے پر تمہیں ریلیف دیں گے کیسز تو چلیں گے۔رہنماءپیپلزپارٹی کا یہ بھی کہنا تھا کہ باتیں بھی ہوتی رہیں کیسز بھی چلتے رہیں اور عدالت حق کا فاصلہ کرے گی۔ہم کسی چور دروازے سے نہیں آتے ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ان کاکہناتھا کہ آئندہ وزیراعظم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل سے باہر آ بھی گئے تو مشکلات میں گھرے رہیں گے۔انہوں نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھاکہ حالات بتا رہے تھے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کوئی مستقبل نہیں تھا۔رہنماءپیپلزپارٹی نے بانی پی ٹی آئی کو خاموش رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھاکہ عمران خان کیلئے بہتر ہے کہ خاموشی اختیار کریں۔پی ٹی آئی دھرنوں سے گریز کریں اور پارٹی مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔انہوں نے کہا تھا کہ مجھے سیاستدانوں کیلئے اچھے دن نظر نہیں آ رہے تھے۔منظور وسان نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ آئندہ ماہ اسمبلی میں اہم فیصلے ہونے اور کچھ تبدیلیوں کا امکان تھا۔

    سعید غنی نے 2025ء میں عمران خان کی رہائی کا دعویٰ کر دیا

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورہ چین کے ثمرات، 700ملین ڈالر کی چینی سرمایہ کاری

  • پی ٹی آئی رہنما کا امریکا سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مطالبہ

    پی ٹی آئی رہنما کا امریکا سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مطالبہ

    امریکا میں موجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما عاطف خان نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے اور اپنے اثرورسوخ کو پاکستانی عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرے۔

    یہ بیان عاطف خان نے امریکی مصنف مائیکل کوگلمین کے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے جواب میں دیا۔ مائیکل کوگلمین نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ وہ امریکا کی مداخلت کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے خیالات جاننا چاہتے ہیں۔

    عاطف خان نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بانی پی ٹی آئی کے خیالات جاننے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ امریکا نے ہمیشہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان میں اثرورسوخ استعمال کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا پاکستان میں اپنے اثر و رسوخ کو پاکستانی عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرے، تو اس سے پاکستان کے اندر حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

    https://x.com/akhan4pakistan/status/1873113993977757866

    عاطف خان نے اپنی گفتگو میں پاکستانی تارکین وطن کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستانیوں کو اپنے مخالفین کے بجائے اپنے اتحادی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق، پاکستانی کمیونٹی کی مدد سے پاکستان میں بہتری کے لیے کئی اقدامات کیے جا سکتے ہیں، جس سے پاکستان کو اقتصادی، سیاسی، اور سماجی لحاظ سے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔عاطف خان کے مطابق، پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے یہ مطالبات بہت سادہ ہیں: پاکستانی عوام کا مینڈیٹ واپس کیا جائے اور بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات پاکستان کی جموکری ترقی اور عوام کی فلاح کے لیے ضروری ہیں۔

    عاطف خان نے امریکہ کی عالمی سطح پر اثر و رسوخ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ایک طاقتور ملک ہے، اور اس کا اثر و رسوخ پاکستان میں تاریخی طور پر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کے مفاد میں اس اثر و رسوخ کو دوبارہ سمت دینے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان میں پی ٹی آئی کے قائد عمران خان کے خلاف جاری سیاسی بحران اور ان کی قید کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔عمران خان رہائی چاہتے ہیں، اسکے لئے مذاکراتی کمیٹی بن چکی ہے، حکومتی اور پی ٹی آئی کمیٹی کا ایک اجلاس ہو چکا ہے تا ہم ان مذاکرات کے ذریعے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں ہے، کیونکہ عمران خان کے مقدمات عدالتوں میں ہیں اور عدالتیں ہی عمران خان کے مقدمات کا فیصلہ کریں گی،

    پی ٹی وی میں جعلی سند پر بھرتی خاتون گرفتار

    ٹھٹھہ: این جی اوز کی کارکردگی پر سوالات، مقامی نوجوانوں کو روزگار نہ ملنے پر تشویش

  • مجھ سے بات کب کرنی؟ علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام بتا دیا

    مجھ سے بات کب کرنی؟ علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام بتا دیا

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے کہا ہے میں قانونی طور پر جیت چکا ہوں میرے کیس فائنل سٹیج پر ہیں میں ڈیل نہیں کروں گا۔

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا، 9 مئی کو جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہےانھوں نے 9 مئی کرایا ہے۔دس ہزار سے زیادہ لوگوں کو 9 مئی میں گرفتار کیا گیا لیکن 9 مئی کو جنہوں نے پارٹی چھوڑ دی تھی انہیں آپ نے کیسے معاف کردیا، جس سے واضح ہے یہ ڈرامہ صرف پارٹی توڑنے کیلئے تھا،ہمارے 2یہ مطالبات ہیں کہ جو ڈیشنل کمیشن بنائیں اور یہ بےگناہ لوگ جو آپ نے جیلوں میں بھریں ہوئے ہیں ان کو رہا کریں۔جب ان کو رہا کر دیں گے پھر اگر آپ نے بات کرنی ہو گی میرے سے بات کریں،عمران خان نے کہا ہے کہ بنی گالہ ہاؤس اریسٹ میں نہیں جاؤں گا،توشہ خانہ ٹو کیس توشہ خانہ کے پہلے کیس جیسا ہے۔القادر یونیورسٹی کیس میں چھ تاریخ کو بانی پی ٹی آئی کو انہوں نے سزا سنانی ہے۔القادر کا کیس اور توشہ خانہ ٹو اعلی عدالتوں میں ختم ہو جائینگے۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے عدلیہ کا مذاق بنایا گیا ہے،بانی یہ پوچھ رہے ہیں مجھے ڈیل کرنے کی کیا ضرورت ہے جب میں کیسز لڑ رہا ہوں۔ کسی باہر کے ملک کے کہنے پر ڈیل نہیں کرونگا۔

    یو اے ای کے سفیر کی جاری ترقیاتی منصوبوں پر مریم نواز کی تعریف

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

  • توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی

    عمران خان اور بشری عمران کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی کر دی گئی

    کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل کی عدالت میں پیش ہوئیں، عمران خان کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں گواہ کابینہ ڈویژن کے سیکشن آفیسر بنیامین کا بیان قلمبند کر لیا گیا وصول کیئے گئے تحائف کی تفصیلات عدالت میں پیش کر دی گئیں،سپیشل جج سنٹرل شاہ رخ خان ارجمند نےاڈیالہ جیل میں سماعت کی ،گواہ نے توشہ خانہ تحائف کی رجسٹریشن کا رجسٹر بھی عدالت میں پیش کیا،بشری بی بی کے وکیل ارشد تبریز نے گواہ پر ابتدائی جرح کی اورسماعت2جنوری تک ملتوی کر دی گئی،

    توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کررکھی ہے،عمران خان اور بشری بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا ۔عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ بشریٰ بی بی رہا ہو چکی ہے اور پشاور میں ہے،

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    ریشم کی منفرد دعا جس کے باعث وہ تاحال غیر شادی شدہ ہیں

    پی آئی اے نے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور سے مسافروں کو ملتان نہ بھجوایا