Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • پاراچنار میں امن کا دشمن ، حاجی کریم، عمران خان مذمت کرے گا؟

    پاراچنار میں امن کا دشمن ، حاجی کریم، عمران خان مذمت کرے گا؟

    آج کل کی سیاست میں جب بھی کسی اہم مسئلے پر بات کی جاتی ہے، تو بعض اوقات ایسے سوالات اُٹھتے ہیں جو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل کی مذمت پر امریکہ کے ناراض ہونے کے حوالے سے عمران خان کے کردار پر سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں، چند سوالات ابھر کر سامنے آتے ہیں جو سیاسی رہنماؤں اور عوام کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

    اس وقت حاجی کریم، جو کہ ایک چھوٹے سے گاؤں بگن کا مقامی لیڈر ہے، اور کاظم، جو ٹی ٹی پی کا مقامی کمانڈر ہے، ان دونوں نے مل کر پارا چنار امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے خوراک اور امدادی سامان لے کر جانے والے قافلے پر حملہ کیا اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا عمران خان اور پی ٹی آئی کے باقی رہنماؤں میں سے کوئی ایک حاجی کریم اور کاظم کی مذمت کرے گا؟ اور کیا ان دونوں کو دہشت گرد قرار دے گا؟ یا پھر اس پر بھی امریکہ ناراض ہوگا؟

    یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ جب ندیم افضل چن نے کہا تھا کہ عمران خان نے پاک ایران گیس پائپ لائن اور سی پیک جیسے منصوبوں پر امریکہ کے دباؤ کی وجہ سے کام روک دیا تھا، تو پی ٹی آئی کے حامیوں نے اس بات پر شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔ وہ یہ کہتے تھے کہ عمران خان نے ہمیشہ امریکی مداخلت کے خلاف آواز اُٹھائی ہے اور وہ پاکستانی قوم کے مفادات کا دفاع کرتا ہے۔مگر اب حالیہ دنوں میں یہ صورتحال بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ عمران خان کے موقف میں تبدیلی آئی ہے اور وہ اسرائیل کی مذمت کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ اس کے پیچھے یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ اگر عمران خان اسرائیل کی مذمت کرے گا تو امریکہ ناراض ہوگا، لہذا وہ خاموش ہیں۔ اس پر یوتھیوں میں بھی ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی ہے اور اب وہ بے شرمی سے اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ عمران خان کو امریکہ کے ناراض ہونے کا خوف ہے۔

    یہ صورتحال پاکستانی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں ایک طرف قومی مفادات کی بات کی جاتی ہے، تو دوسری طرف عالمی دباؤ اور تعلقات کی پیچیدگیاں بھی نظر آتی ہیں۔ یہ وقت پاکستانی سیاست دانوں کے لیے ایک امتحان ہے کہ وہ کس طرح اپنے اصولوں کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور عالمی دباؤ کے باوجود اپنے عوام کے مفادات کو کیسے تحفظ دیتے ہیں۔

    عمران خان جیل میں پاؤں پکڑنے کو تیار

    پارا چنار میں امن معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا حامی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی مختلف مذاہب کے نمائندگان سے خصوصی نشست

  • عمران خان جیل میں پاؤں پکڑنے کو تیار

    عمران خان جیل میں پاؤں پکڑنے کو تیار

    یوتھیوں کے جھوٹوں کا پول کھلنا ایک معمول بن چکا ہے۔ ان کے دعوے اور بیانات اتنے جھوٹے اور متضاد ہوتے ہیں کہ عوام نے ان کے بارے میں اپنی ذہنیت کو مکمل طور پر بدل لیا ہے۔ ایک ایسا طبقہ جو ہمیشہ عمران خان کی حمایت کرتا ہے، اس کی باتوں کی سچائی پر اب سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔

    یوتھیوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ "خان اندر بیٹھ کے جیت گیا” لیکن اس دعوے کے برعکس عوام کا ماننا ہے کہ حقیقت اس کے بلکل الٹ ہے۔ یعنی جب یوتھیوں کی طرف سے یہ کہا جائے کہ خان جیت چکا ہے، تو یہ سمجھنا چاہیے کہ خان نے دراصل ہار قبول کر لی ہے اور اپنی پوزیشن مکمل طور پر کمزور کر لی ہے۔عمران خان مکمل طور پر جیل میں لیٹ چکا ہے اور ہر کسی کے پاوں پکڑنے کو تیار ہے

    یوتھیوں کے بیانات میں تضادات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ اب یہ ایک عمومی بات بن گئی ہے کہ اگر یہ کہیں بھی کوئی بات کہہ رہے ہوں، تو اس بات کا سچ یہ ہے کہ حقیقت اس سے پوری طرح مختلف ہوگی۔ لوگوں نے اس بات کو اپنا عقیدہ بنا لیا ہے کہ جب بھی یوتھیوں کی طرف سے کوئی بلند و بانگ دعویٰ کیا جائے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حقیقت میں اس کے برعکس ہار رہے ہیں۔

    یوتھیوں کی سیاست اب ایک کھلی کتاب بن چکی ہے جس میں ہر جھوٹ کی سچائی بے نقاب ہو چکی ہے۔ عوام اب ان کی باتوں پر اعتبار کرنے کے بجائے، ان کے بیانات کو مسترد کر کے ان کی حقیقت جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

  • بشریٰ بی بی کی  پارٹی کے قانونی معاملات میں بھی مداخلت

    بشریٰ بی بی کی پارٹی کے قانونی معاملات میں بھی مداخلت

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما ،سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کے سیاسی امور کے بعد قانونی معاملات میں بھی مداخلت کرتے ہوئے وکلا اور انصاف لائرز فورم کی ٹیموں میں اہم تبدیلیاں کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی نے وکلا کے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے قاضی انور ایڈووکیٹ کو ہدایت دی کہ وہ ملک بھر کے وکلا کی فہرست حاصل کریں۔ اس سلسلے میں قاضی انور اور مشعال یوسفزئی بشریٰ بی بی کو وکلا کے امور پر رپورٹ کریں گے۔ دونوں شخصیات بشریٰ بی بی کو وکلا کی کارکردگی اور تنازعات کے بارے میں آگاہ کریں گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی نے قاضی انور ایڈووکیٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے قانونی کیسز پر حتمی مشاورت فراہم کریں اور وکلا کو بانی پی ٹی آئی تک کسی بھی قسم کی پیغام رسانی سے روکا جائے۔ یہ اقدام پارٹی کے اندر اتحاد کو برقرار رکھنے اور قانونی محاذ پر مؤثر حکمت عملی اپنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔اس ہفتے کے دوران خیبر پختونخوا (کے پی کے) کے وکلا عہدیداروں کی تبدیلیوں پر بھی بشریٰ بی بی سے حتمی مشاورت کی گئی۔ بشریٰ بی بی نے وکلا کے تنازعات کو حل کیا اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ان کی آگاہی فراہم کی۔ اس دوران قاضی انور ایڈووکیٹ نے بشریٰ بی بی کو وکلا قیادت کی خرابیوں اور مسائل پر تفصیل سے بریفنگ دی۔

    اس حوالے سے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ سے بھی رابطہ کیا گیا تاکہ اس معاملے پر ان کا مؤقف حاصل کیا جا سکے، تاہم انہوں نے اس بارے میں کسی قسم کا مؤقف دینے سے گریز کیا ہے۔ شریٰ بی بی کی اس مداخلت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پارٹی کے قانونی محاذ پر مزید کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ پی ٹی آئی کے تمام مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔

    بشریٰ بی بی کی سیاسی فیصلوں میں مداخلت، پی ٹی آئی کی سینئر قیادت میں تشویش

    نیلم منیر کی دبئی میں شادی،دولہاپولیس والا نکلا

    روس میں پولیس کا نائٹ کلب پر چھاپہ، "ہم جنس پرستی کی حمایت” 7 گرفتار

  • سعید غنی نے 2025ء میں عمران خان کی رہائی کا دعویٰ کر دیا

    سعید غنی نے 2025ء میں عمران خان کی رہائی کا دعویٰ کر دیا

    پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء سعید غنی نے 2025ءمیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کادعویٰ کر دیا، کہا کہ پی ٹی آئی کا مستقبل عمران خان کے اپنے ہاتھ میں ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خا ن جیل سے رہا ہوجائیں گے تاہم ان کا سیاست میں کردار ختم ہو جائیگا.

    نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رہنماء پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھ میں ہے لیکن انہوں نے ثابت کیا ہے کہ یہ اپنا بیڑہ خود غرق کرتے ہیں۔ملک میں سیاسی عدم استحکام کم ہوچکا ہے ۔نئے سال سے ہمیں اچھی توقعات وابستہ کرنی چاہئیں۔ امید ہے نیا سال مجموعی طور پر پاکستان کیلئے بہتر ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے معاشی طور پر نیا سال بہتر ثابت ہوگا۔سیاسی عدم استحکام میں کمی آچکی ہے اور یہ نئے سال میں مکمل ختم ہوجائے گا۔یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئررہنماء منظور وسان نے اپنی پیش گوئی میں بتایا تھا کہ نئے سال میں بہت سی تبدیلیاں ہوں گی۔کچھ نئے چہرے سامنے آئیں گے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو سب چھوڑ کر چلے جائیں گے اور وہ اکیلے مار کھائیں گے۔نئے سال میں اداروں میں بھی گرما گرمی چلے گی۔پنی پیش گوئیوں کے حوالے سے مشہور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ءنے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ 2025ءدیگر سالوں سے مختلف اور خطرناک ہو گا۔اس سال کئی انوکھے واقعات ہوں گے۔قبل ازیں بھی منظور وسان کا کہنا تھا کہ باتیں ہونی چاہئیں پر باتوں کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ صرف آپ کو ریلیز کیا جائے۔ہم نہیں چاہتے کہ جمہوریت کو نقصان ہو ہم نہیں چاہتے کہ باتیں نہ ہوں۔ باتوں سے ریلیف نہیں ملے گا عدالت اور کیسز پر فیصلہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ جو پہلے کہتا تھا ہم کوئی غلام ہیں اب امریکا کو مداخلت کرنے کیلئے اپیل کر رہا تھے۔ ہم بھی غلام نہیں کہ کس کے کہنے پر تمہیں ریلیف دیں گے کیسز تو چلیں گے۔رہنماءپیپلزپارٹی کا یہ بھی کہنا تھا کہ باتیں بھی ہوتی رہیں کیسز بھی چلتے رہیں اور عدالت حق کا فاصلہ کرے گی۔ہم کسی چور دروازے سے نہیں آتے ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ان کاکہناتھا کہ آئندہ وزیراعظم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل سے باہر آ بھی گئے تو مشکلات میں گھرے رہیں گے۔انہوں نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھاکہ حالات بتا رہے تھے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کوئی مستقبل نہیں تھا۔رہنماءپیپلزپارٹی نے بانی پی ٹی آئی کو خاموش رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھاکہ عمران خان کیلئے بہتر ہے کہ خاموشی اختیار کریں۔پی ٹی آئی دھرنوں سے گریز کریں اور پارٹی مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔انہوں نے کہا تھا کہ مجھے سیاستدانوں کیلئے اچھے دن نظر نہیں آ رہے تھے۔منظور وسان نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ آئندہ ماہ اسمبلی میں اہم فیصلے ہونے اور کچھ تبدیلیوں کا امکان تھا۔

    سعید غنی نے 2025ء میں عمران خان کی رہائی کا دعویٰ کر دیا

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورہ چین کے ثمرات، 700ملین ڈالر کی چینی سرمایہ کاری

  • پی ٹی آئی رہنما کا امریکا سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مطالبہ

    پی ٹی آئی رہنما کا امریکا سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مطالبہ

    امریکا میں موجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما عاطف خان نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے اور اپنے اثرورسوخ کو پاکستانی عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرے۔

    یہ بیان عاطف خان نے امریکی مصنف مائیکل کوگلمین کے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے جواب میں دیا۔ مائیکل کوگلمین نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ وہ امریکا کی مداخلت کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے خیالات جاننا چاہتے ہیں۔

    عاطف خان نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بانی پی ٹی آئی کے خیالات جاننے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ امریکا نے ہمیشہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان میں اثرورسوخ استعمال کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا پاکستان میں اپنے اثر و رسوخ کو پاکستانی عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرے، تو اس سے پاکستان کے اندر حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

    https://x.com/akhan4pakistan/status/1873113993977757866

    عاطف خان نے اپنی گفتگو میں پاکستانی تارکین وطن کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستانیوں کو اپنے مخالفین کے بجائے اپنے اتحادی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق، پاکستانی کمیونٹی کی مدد سے پاکستان میں بہتری کے لیے کئی اقدامات کیے جا سکتے ہیں، جس سے پاکستان کو اقتصادی، سیاسی، اور سماجی لحاظ سے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔عاطف خان کے مطابق، پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے یہ مطالبات بہت سادہ ہیں: پاکستانی عوام کا مینڈیٹ واپس کیا جائے اور بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات پاکستان کی جموکری ترقی اور عوام کی فلاح کے لیے ضروری ہیں۔

    عاطف خان نے امریکہ کی عالمی سطح پر اثر و رسوخ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ایک طاقتور ملک ہے، اور اس کا اثر و رسوخ پاکستان میں تاریخی طور پر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کے مفاد میں اس اثر و رسوخ کو دوبارہ سمت دینے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان میں پی ٹی آئی کے قائد عمران خان کے خلاف جاری سیاسی بحران اور ان کی قید کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔عمران خان رہائی چاہتے ہیں، اسکے لئے مذاکراتی کمیٹی بن چکی ہے، حکومتی اور پی ٹی آئی کمیٹی کا ایک اجلاس ہو چکا ہے تا ہم ان مذاکرات کے ذریعے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں ہے، کیونکہ عمران خان کے مقدمات عدالتوں میں ہیں اور عدالتیں ہی عمران خان کے مقدمات کا فیصلہ کریں گی،

    پی ٹی وی میں جعلی سند پر بھرتی خاتون گرفتار

    ٹھٹھہ: این جی اوز کی کارکردگی پر سوالات، مقامی نوجوانوں کو روزگار نہ ملنے پر تشویش

  • مجھ سے بات کب کرنی؟ علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام بتا دیا

    مجھ سے بات کب کرنی؟ علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام بتا دیا

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے کہا ہے میں قانونی طور پر جیت چکا ہوں میرے کیس فائنل سٹیج پر ہیں میں ڈیل نہیں کروں گا۔

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا، 9 مئی کو جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہےانھوں نے 9 مئی کرایا ہے۔دس ہزار سے زیادہ لوگوں کو 9 مئی میں گرفتار کیا گیا لیکن 9 مئی کو جنہوں نے پارٹی چھوڑ دی تھی انہیں آپ نے کیسے معاف کردیا، جس سے واضح ہے یہ ڈرامہ صرف پارٹی توڑنے کیلئے تھا،ہمارے 2یہ مطالبات ہیں کہ جو ڈیشنل کمیشن بنائیں اور یہ بےگناہ لوگ جو آپ نے جیلوں میں بھریں ہوئے ہیں ان کو رہا کریں۔جب ان کو رہا کر دیں گے پھر اگر آپ نے بات کرنی ہو گی میرے سے بات کریں،عمران خان نے کہا ہے کہ بنی گالہ ہاؤس اریسٹ میں نہیں جاؤں گا،توشہ خانہ ٹو کیس توشہ خانہ کے پہلے کیس جیسا ہے۔القادر یونیورسٹی کیس میں چھ تاریخ کو بانی پی ٹی آئی کو انہوں نے سزا سنانی ہے۔القادر کا کیس اور توشہ خانہ ٹو اعلی عدالتوں میں ختم ہو جائینگے۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے عدلیہ کا مذاق بنایا گیا ہے،بانی یہ پوچھ رہے ہیں مجھے ڈیل کرنے کی کیا ضرورت ہے جب میں کیسز لڑ رہا ہوں۔ کسی باہر کے ملک کے کہنے پر ڈیل نہیں کرونگا۔

    یو اے ای کے سفیر کی جاری ترقیاتی منصوبوں پر مریم نواز کی تعریف

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

  • توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی

    عمران خان اور بشری عمران کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی کر دی گئی

    کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل کی عدالت میں پیش ہوئیں، عمران خان کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں گواہ کابینہ ڈویژن کے سیکشن آفیسر بنیامین کا بیان قلمبند کر لیا گیا وصول کیئے گئے تحائف کی تفصیلات عدالت میں پیش کر دی گئیں،سپیشل جج سنٹرل شاہ رخ خان ارجمند نےاڈیالہ جیل میں سماعت کی ،گواہ نے توشہ خانہ تحائف کی رجسٹریشن کا رجسٹر بھی عدالت میں پیش کیا،بشری بی بی کے وکیل ارشد تبریز نے گواہ پر ابتدائی جرح کی اورسماعت2جنوری تک ملتوی کر دی گئی،

    توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کررکھی ہے،عمران خان اور بشری بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا ۔عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ بشریٰ بی بی رہا ہو چکی ہے اور پشاور میں ہے،

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    ریشم کی منفرد دعا جس کے باعث وہ تاحال غیر شادی شدہ ہیں

    پی آئی اے نے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور سے مسافروں کو ملتان نہ بھجوایا

  • اسرائیل کے حامی ممالک سے عمران خان کی حمایت کیوں؟ خواجہ آصف

    اسرائیل کے حامی ممالک سے عمران خان کی حمایت کیوں؟ خواجہ آصف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے عمران خان کی بین الاقوامی حمایت کے حوالے سے ایک بیان میں سخت تنقید کی ہے۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حمایت ان تمام ممالک سے آ رہی ہے جو اسرائیل کے کھلے حامی ہیں، اور جن ممالک کی حمایت کی بدولت اسرائیل کا وجود قائم ہے۔ ان ممالک نے فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف کبھی کوئی آواز بلند نہیں کی بلکہ وہ خود فلسطینیوں کے قتل عام کے سہولت کار ہیں۔ ان ممالک سے جو افراد عمران خان کی حمایت میں آواز اٹھا رہے ہیں، یا تو وہ خود صیہونی ہیں یا پھر اسرائیل کی مسلم دشمن پالیسیوں کے کھلے طور پر حامی ہیں۔خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ سب محض اتفاق ہے، یا پھر یہ ممالک اور افراد کسی ایسے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا ہے؟ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ ممالک اور افراد چاہتے ہیں کہ پاکستان کی ایٹمی قوت کو لپیٹ کر اسے اپنے مالکوں کی ‘کلائنٹ اسٹیٹ’ بنا لیا جائے، جو ان کے مذموم ایجنڈے کی تکمیل کرے۔

    خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ایک بڑی سازش کا شکار ہو رہا ہے، اور اس سازش کو عملی طور پر مکمل کرنے کی ذمہ داری عمران خان پر عائد کی گئی ہے۔ ان کے مطابق عمران خان اور ان کے حمایتیوں کا رویہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور ایٹمی صلاحیت کے خلاف کچھ طاقتیں ایک پیچیدہ کھیل کھیل رہی ہیں۔خواجہ آصف نے عمران خان کے عالمی تعلقات اور ان کی سیاست پر گہرے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد پاکستان کی خودمختاری اور طاقت کو نقصان پہنچانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں حالیہ جوڑ توڑ صرف داخلی مسائل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے عالمی سطح پر ایک گہری سازش ہو سکتی ہے، جس میں کچھ بیرونی طاقتیں اپنی مرضی کے مطابق پاکستان کو ایک کمزور ریاست میں بدلنے کے خواہاں ہیں۔عمران خان کی غیر متوقع حمایت میں وہ ممالک اور افراد شامل ہیں جو فلسطین کے مسئلے پر مکمل خاموش ہیں اور جو اسرائیل کے حق میں کھل کر بات کرتے ہیں،

    چین،کار حادثے میں 35 افراد کو کچلنے والے ملزم کو سزائے موت

    بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں.وزیراعظم

  • نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    نو مئی کے مزید ساٹھ مجرموں کو سزائیں، کل تعداد 85 ہوگئی ہے،آج پی ٹی آئی کے مزید 60 بلوائیوں کو نو مئی کے فسادات میں ملوث ہونے پر سزائیں سنائی گئی ہیں، جس کے بعد ان مجرموں کی تعداد 85 ہوگئی ہے۔ نو مئی کے فسادات میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات، سرکاری املاک اور اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں ہنگامی حالات پیدا ہوگئے تھے۔

    یہ فسادات اس وقت ملک کی سیاست کا اہم موضوع بن گئے تھے، اور ان میں ملوث افراد کی گرفتاریوں اور مقدمات کے سلسلے میں مسلسل پیشرفت ہو رہی ہے۔ تاہم، ایک المیہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی قیادت میں سے کسی نے بھی ان بلوائیوں کا مقدمہ لڑنے کی کوشش نہیں کی۔عمران خان اور ان کی جماعت کے قائدین مسلسل اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ فوجی عدالتیں غیر انسانی ہیں، اور ان کے کارکنوں کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ موقف محض سیاسی مفادات کے تحت اپنایا گیا ہے، کیونکہ عمران خان اور ان کی جماعت کو اس بات کا خوف ہے کہ عمران خان کا ٹرائل بھی فوجی عدالت میں ہو گا ،خان کو یقین ہے کہ وہاں کیس اتنے مضبوط شواہد کے ساتھ پیش کیا جائیگا جس کیے بعد اس کے خلاف کہیں اپیل بھی منظور نہیں ہوسکے گی

    نو مئی کا واقعہ کوئی راز نہیں ہے۔ آج ہر فرد کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ کس طرح ایک مخصوص جماعت کے سیاستدانوں اور ان کے حمایتیوں نے افواج پاکستان، خفیہ ایجنسیوں اور سپاہ سالار کے خلاف زہر بھری تقاریر کیں اور ملک میں انتشاری فضا پیدا کی۔مذکورہ سیاستدانوں نے اپنے کارکنوں کو بلوائیوں کی صورت میں میدان میں اُتارا اور عوامی املاک، فوجی تنصیبات اور اہم سرکاری اداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ تاہم، 9 مئی کے بعد جب فسادیوں کے چہرے بے نقاب ہوئے، تو عوام نے ان کی حمایت کرنا بند کر دیا اور انہیں مسترد کر دیا۔

    نو مئی کے فسادات کے بعد ایک نیا بیانیہ سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ سب کچھ ایک "فالس فلیگ آپریشن” تھا۔ یعنی یہ فسادات حکومت یا ریاستی اداروں کی جانب سے کسی مقصد کے لیے خود کیے گئے تھے تاکہ کسی خاص گروہ کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکے۔ لیکن عوام ان دعووں سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے۔ عوام نے اس بیانیہ کو مسترد کردیا اور ان سیاستدانوں کی حقیقت کو پہچان لیا جو عوام کو ہمیشہ بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عمران خان جانتے تھے کہ فوجی عدالتوں میں ان کے کارکنوں کے خلاف فیصلہ آنا تقریباً یقینی تھا اور اس کے بعد ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فوجی عدالتوں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے خلاف عالمی سطح پر شور مچاتے ہیں۔

    نو مئی کے فسادات کے حوالے سے عدالتوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور ان فسادات میں ملوث افراد کو سزا دی جا رہی ہے۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سارے معاملے میں عمران خان اور ان کی جماعت نے اپنی اخلاقی ذمہ داری سے انکار کیا ہے اور اپنے کارکنوں کا مقدمہ لڑنے کے بجائے انہیں سیاسی ہمدردی کے بہانے ایک بار پھر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ 9 مئی کا واقعہ تاریخ کا ایک سیاہ باب بن چکا ہے، اور عوام نے اس کی حقیقت کو جان لیا ہے۔

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

  • عمران خان حکومت کی تعریف کرنے پر مجبور

    عمران خان حکومت کی تعریف کرنے پر مجبور

    اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان حکومت کی تعریفیں کرنے لگے

    عمران خان آج اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر صحافی بھی موجود تھے،صحافیوں نے عمران خان سے سوال کئے ،جن کے عمران خان نے جواب دیئے،صحافیوں نے عمران خان سے ملکی معیشت کے دیوالیہ ہونے سے متعلق سوال پوچھ لیا ،صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آپ تسلیم کر رہے ہیں کہ حکومت نے معیشت کو استحکام دیا ہے؟جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے دیوالیہ ہوتی معیشت کو سنبھال لیا ہے، معیشت مستحکم ہونے سے دیوالیہ ہونے سے بچ گئی ہے لیکن ترقی نہیں ہوئی۔

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پور کے علاوہ کسی کو تاحال ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، تمام رہنماؤں کو ابھی جیل داخلے سے روکا گیا ہے، کمیٹی کی ملاقات جب طے ہے انہیں روکنا تذلیل ہے، حکومت میں شامل کچھ لوگ مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، جب مذاکرات کا سلسلہ چل پڑا ہے تو رکاوٹیں کھڑی کرنے کا کیا مقصد ہے؟ مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کو ملاقات سے روکنے پر ہم احتجاج کرتے ہیں،حکومت میں شامل مریم نواز گروپ مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، مذاکراتی کمیٹی کو لوگ باعزت لوگ ہیں انہیں روکنا انکی توہین ہے،

    علاوہ ازیں عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ہاؤس اریسٹ میں جانے سے انکار کر دیا ہے۔ عمران خان نے کہا ہے سب سیاسی قیدیوں کو رہا کریں میں اگر جاؤں گا تو مکمل رہائی میں جاؤں گا ہاؤس اریسٹ میں نہیں جاؤں گا،سب کیسز کا سامنا کروں‌گا، پہلے سیاسی قیدیوں کو رہا کریں ،جیل میں رکھنا ہے تو رکھیں،بہت زیادہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ عمران خان کو بنی گالہ یا کے پی کے شفٹ کر رہے ہیں،عمران خان نے واضح کہا ہے کہ سول نا فرمانی کی کال واپس نہیں ہوگی، عمران خان کا موقف ہے کہ اوور سیز ہی زرمبادلہ بھیجتے اور سرمایہ کاری کرتے ہیں ،عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہمارے دو مطالبات میں سنجیدگی نہیں دکھائی گئی۔

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

    وزیراعظم سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم کی ملاقات