Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ مؤخر ہونے پر اپوزیشن کی نئی حکمت عملی تیار

    پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ مؤخر ہونے پر اپوزیشن کی نئی حکمت عملی تیار

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب اسمبلی 15 دسمبر کو تحلیل کرنے کے فیصلے پر اپوزیشن نے نئی سیاسی حکمت عملی تیار کرلی۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کا پنجاب اسمبلی 15 دسمبر کے بعد تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی انتظار کرو اور دیکھوں کی پالیسی پر چلنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سیاسی کارڈ سینے سے لگالیے۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ پندہ دسمبر تک مؤخر ہونے کے فیصلے کے پیش نظر اپوزیشن نے وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد لانے اور گورنر کی طرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ عارضی طور پر روک دیا ہے۔

    آزاد کشمیر بلدیاتی انتخابات:نتائج آنے کا سلسلہ جاری:حکمران جماعت کوشکست

    دوسری جانب لاہور: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان سنجیدہ ہیں تو حکومتی اتحاد مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر یہ کسی شرط کے بغیر ہوں گے۔ماڈل ٹاؤن میں لیگی رہنماؤں کے اہم اجلاس میں شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان اسمبلیاں توڑنے کی خواہش پوری کرلیں، جہاں اسمبلی توڑیں گے وہاں الیکشن ہوجائیں گے۔

    سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی جے یو آئی میں شامل

    انہوں نے کہا کہ عمران خان سنجیدہ ہیں تو مذاکرات کیلیے تیار ہیں، چاہتے ہیں معاملہ بگڑنے کے بجائے بہتری کی طرف آئے، مذاکرات کسی پیشگی صورت کے بغیر ہوں گے، مل کر مسائل حل کرنے کا نام ہی سیاست ہے، ملکی مستقبل کے فیصلے سیاستدانوں کو ہی کرنے ہیں اور سارے کام آئین و قانون کے مطابق ہی ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کب ہونا ہے اس سے متعلق واضح ہوجائے گا، ہم کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، سب کو ملکر ملک کا سوچنا ہوگا۔

    برادراسلامی ملک افغانستان کےبچوں کی تعلیم وتربیت کےلیےپاکستان ہرممکن تعاون جاری…

    ذرائع کے مطابق وزیر اعظم اسمبلی تحلیل اور مذاکرات کے معاملے پر عمران خان کی پیش کش کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف سے بھی مشاورت کریں گے اور حتمی مشاورت کے بعد عمران خان کی پیش کش پر پالیسی بیان جاری کیا جائے گا۔

  • عمران خان مکر گئے،کہا حکمرانوں سے بات چیت کس بنیاد پرہوگی،ہو ہی نہیں سکتی

    عمران خان مکر گئے،کہا حکمرانوں سے بات چیت کس بنیاد پرہوگی،ہو ہی نہیں سکتی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اعظم سواتی کی ایک بار پھر رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ قوم حیران ہے کہ سینیٹر اعظم سواتی کو کس جرم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے؟کیا جمہوریت میں سوال پوچھنا کسی کا حق نہیں؟ سینیٹر اعظم سواتی دل کے مریض ہیں ان کو فوری رہا کیا جائے،جو کچھ اعظم سواتی کے ساتھ ہوا میرے ساتھ ہوتا تو خود کش حملہ کردیتا،، کس کی غیرت یہ گوارہ کرسکتی ہے ؟ اگر اعظم سواتی کو کچھ ہوا تو ہم تمام ذمہ داران کے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں گے

    عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے کل کے بیان سے پی ڈی ایم کو غلط فہمی ہو گئی خیبرپختونخوا اور پنجاب اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کر لیا، میں نے کل سمجھانے کی کوشش کی لیکن شاید غلط پیغام چلا گیا، الیکشن اکتوبر میں ہوں یا اگست میں، تحریک انصاف نے جیتنا ہے

    عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں ہورہی ،الیکشن جب بھی ہوں پی ٹی آئی نے جیتنا ہے ،اکتوبر میں الیکشن ہوں یا اگست میں جیت ہماری ہوگی میرے گزشتہ روز کے بیان سے پی ڈی ایم کو غلط فہمی ہوگئی ،اسحاق ڈار نے کہا مفتاح اسماعیل نے کچھ نہیں کیا، حکمرانوں کے پاس معیشت کی بہتری کے لیے کوئی روڈ میپ نہیں ،75فیصد پاکستانی الیکشن کا مطالبہ کررہے ہیں حکمرانوں سے بات چیت کس بنیاد پرہوگی،ہو ہی نہیں سکتی 66 فیصد کے بجائے ملک بھر میں الیکشن کےخواہاں ہیں، ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنا ہے، موجودہ صورتحال میں ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے ،الیکشن پی ٹی آئی نہیں ملک کی ضرورت ہے ،الیکشن میں تاخیر ہوتی ہے تو اس میں بھی پی ٹی آئی کو فائدہ ہوگا،حکمرانوں کی کارکردگی سے لوگ تنگ آگئے ہیں،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جب ان کو لگے گا الیکشن نہیں جیت سکتے تو باہر بھاگ جائیں گے ،تاخیر کرکے ایسا ماحول بنانا چاہتے ہیں کہ الیکشن جیت جائیں الیکشن کمیشن ان کے ساتھ ملا ہے رواں ماہ ہی اسمبلیاں تحلیل کریں گے 66فیصد نشستیں خالی ہوں تو ملک کو عام انتخابات کی طرف جانا پڑے گا،ایم این ایز اور ایم پی ایز کو اب تیاری کرنی چاہیے،پرویزالہٰی نے مجھے اسمبلی توڑنے کا اخیتار دیاہے،

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

     عمران خان نے الیکشن کے لئے حکومت کے سامنے مزاکرات کی جھولی پھیلائی ہے

  • مذاکرات اور دھمکیاں،ایسا نہیں چلے گا، حکومت نے عمران خان کو آفر بھی دے دی

    مذاکرات اور دھمکیاں،ایسا نہیں چلے گا، حکومت نے عمران خان کو آفر بھی دے دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مذاکرات کی بات پر حکومتی ردعمل آ گیا ہے، وفاقی وزرا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھمکیان اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے.اگر آپ نے رابطہ کرنا ہے تو طریقہ کار کے ساتھ کریں مذاکرات کا معاملہ پی ڈی ایم کے پاس لے کر جائیں گے ملکر فیصلہ کریں گے

    وفاقی وزیر ریلوے و ہوا بازی، ن لیگ کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عمران خان ہمیں این آر او کے طعنے دیتے رہے جبکہ یہ این آر او دینےکے قابل ہی نہیں تھے،عمران خان کرسیاں پھلانگ کر اپنی کرسی پر جاتے تھے تاکہ اپوزیشن سے آنکھیں نہ ملاسکیں،انکی چارسال کی فرعونیت سب کو پتا ہے،یہ لوگ خود نالائق اور کرپٹ بھی تھے،اگر یہ سنجیدہ ہیں تو مزاکرات کا ماحول بھی بنانا پڑتا ہے،دھمکیاں اور مزاکرات ایک ساتھ نہیں ہو سکتے، عمران خان جان لیں اگر اسمبلیاں توڑیں تو بے آسرا آپ نے خود ہونا ہے،اسمبلیاں توڑنے کا مطلب عوام کے مینڈیٹ کا مذاق اڑانا ہے،اگر آپ نے رابطہ کرنا ہے تو طریقہ کار کے ساتھ کریں،دو صوبائی حکومتوں کے خرچے پر آپ نے لانگ مارچ کیا،یہ لوگ مذاکرات کا خود کہتے ہیں اور بعد میں بتانے سے شرماتے ہیں،ن لیگ کی میثاق معیشت کا مزاق بنایا گیا تھا،اسمبلیاں قانون سازی کیلئے بنتی ہیں ، توڑنے کیلئے نہیں،

    خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ کوئی ایڈونچر کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں، ہم روکیں گے نہیں، اس شخص نے پونے چار سال اسمبلی میں کسی سے ہاتھ تک نہیں ملایا، ہم نے قانون سازی میں عمران خان کی حکومت سے تعاون کیا،ہر بار ہمیں این آر او کا طعنہ دیا گیا،عمران خان مذاکرات کریں ،ہم ساری باتیں پی ڈی ایم میں رکھیں گے،مذاکرات کےلیے کسی تیسرے کی مداخلت کی ضرورت بھی نہیں،عمران خان تو کھیلتے ہی امپائر کے ساتھ ہیں ،عمران خان سنجیدہ ہیں تو 2،3باتیں سمجھ جائیں ،ہمیں مشروط مذاکرات کا کہہ کرعمران خان کیا ثابت کررہے ہیں،دھمکی آمیزمشروط مذاکرتی پیشکش سے سنجیدگی ظاہر نہیں ہوتی بعض اتحادی کہتے ہیں کہ ان کو فیس سیونگ نہیں دینی چاہیے یہ بھول جائیں کہ ہم آپ کو ملک میں آئینی بحران پیدا کرنے دیں گے،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہم سیاستدان ہیں اور سیاستدان مذاکرات میں بیٹھنے سے نہیں بھاگتے،عمران خان 2014 سے دھمکیاں سے رہا ہے، کبھی کہتا ہے اسلام آباد بند کردوں گا، ماضی میں یہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا،دھمکی آمیز طریقے سے مذاکرات کی بات نہیں مانی جاسکتی،مذاکرات کا معاملہ پی ڈی ایم کے پاس لے کر جائیں گے ملکر فیصلہ کریں گے عمران خان غیرمشروط مذاکرات کے لیے آگے آئیں

    قبل ازیں وزیراعظم شہبازشریف کی سربراہی میں سینئیر قیادت کا اجلاس ہوا، اجلاس میں عمران خان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر بات چیت کی گئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع ن لیگ کا کہنا ہے کہ عمران خان سنجیدہ مزاکرات چاہتے ہیں تو حکومت تیار ہے، مذاکرات خوش آئند بات ہے لیکن پیشگی شرط کے بغیر ہونی چاہیئے، چاہتے ہیں کہ معاملہ بگڑنے کے بجائے بہتری کی طرف آئے، ملکی حالات کو بہتر ہونا چاہیئے،عمران خان اسمبلیاں توڑنے کی خواپش پوری کر لیں، ان صوبوں میں الیکشن ہو جائیں گے،

    نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف کی زیر صدارت اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے،ن لیگ نے سیاسی محاذ پر عمران خان کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کو پہلے الزامات یاد کرائے جائیں ابھی مذاکرات کی بات کو لٹکایا جائے ،شرکاء نے رائے دی کہ عمران خان سیاست کر رہے ہیں، ہمیں بھی کرنی چاہیے، عوام کو یاد کرایا جائے کہ عمران خان مذاکرات کی دعوت پر کیا کہتا تھا ،وزہراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں نے صدق دل سے میثاق معیشت کی دعوت دی تھی ،اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ مذاکرات کے وقت کا انتظار کیا جائے پہلے، الزامات یاد کرائے جائیں ،عمران خان اگرغیرمشروط مذاکرات پر تیارہوں تو معاملہ پی ڈی ایم پلیٹ فارم پر رکھا جائے

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

     عمران خان نے الیکشن کے لئے حکومت کے سامنے مزاکرات کی جھولی پھیلائی ہے

  • عمران کی 26 سال سیاسی جدوجہد چیرٹی کے نام پر پیسے کھانے میں گزری،شیری رحمان

    عمران کی 26 سال سیاسی جدوجہد چیرٹی کے نام پر پیسے کھانے میں گزری،شیری رحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کی رہنما،وفاقی وزیر شیری رحمان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر برس پڑیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی جمہوریت کے خلاف عمران خان کا بیان قابل مذمت ہے۔ عمران خان اور ان کی پارٹی نے ہمیشہ پارلیمانی جمہوریت کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے۔ ان کی نظر میں وہی نظام درست ہے جس میں ان کو اقتدار ملے، پھر چاہئے وہ صدارتی نظام کیوں نا ہو۔ یہ خود سیاستدان کے لبادے میں ایک آمر ہیں پاکستان کے لوگوں کے اخلاقی معیار کا مذاق اڑا کر عمران خان نے ہر پاکستانی کی تذلیل کی ہے۔ وہ شخص جو کرپٹ اقدامات کی وجہ سے نااہل ہوا ہے وہ اب قوم کو بلند اخلاقیات کا درس دے رہا ہے۔ اگر یہ خود اخلاقی اصولوں پر چلتے ہیں تو نااہلی کے بعد سیاست کیوں نہیں چھوڑ رہے

    وفاقی وزیر شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ اس ملک میں آئین اور پارلیمانی جمہوریت کی بحالی میں سیاسی جماعتوں اور قوم نے قربانیاں دی ہیں۔ عمران خان کی 26 سال سیاسی جدوجہد چیرٹی کے نام پر پیسے کھانے میں گزری ہوگی لیکن اس جمہوری نظام کی بحالی کیلئے ہمارے قائدین اور کارکنان نے زندگیوں کی قربانی دی ہے

    پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے
    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن
    بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد

    عمران خان امریکی سازش کا بیانیہ پسِ پشت ڈالنے سے بات ختم نہیں ہو گی. مریم اورنگزیب

  • سوفٹ ویئر اپڈیٹ؟عمران خان کی پارٹی رہنماؤں کو اداروں پر تنقید نہ کرنے کی ہدایات

    سوفٹ ویئر اپڈیٹ؟عمران خان کی پارٹی رہنماؤں کو اداروں پر تنقید نہ کرنے کی ہدایات

    سوفٹ ویئر اپڈیٹ؟عمران خان کی پارٹی رہنماؤں کو اداروں پر تنقید نہ کرنے کی ہدایات

    ترجمان وزیر اعلیٰ و پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ چیئر مین عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو اداروں پر تنقید نہ کرنے کی ہدایات کی ہیں۔ اداروں کے خلاف نہ ہم پہلے تھے نہ مستقبل میں ان کے خلاف کسی مہم کا حصہ بنیں گے۔ ایک شخص نے جو کیا سب کو پتہ ہے اوراب وہ ماضی کا حصہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کسی فرد کے بارے میں ہمیں آئین اور قانون اپنی رائے رکھنے کا حق دیتا ہے۔ عمران خان اداروں کی مضبوطی اور قانون کی بالا دستی کی بات کرتے ہیں۔ میرا موقف میری پارٹی پالیسی کے مطابق ہے۔میری تقریر پر مخالفین کی جانب سے پراپیگنڈا کیا گیا کہ میں نے اداروں کے خلاف بات کی ہے۔اداروں کے بارے میں نہ چیئرمین عمران خان نے اور نہ میں نے کبھی بات کی ہے تحریک انصاف اور عمران خان اداروں کو مضبوط کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ق لیگ اور پی ٹی آئی حکومتی معاملات میں ایک پیج پر ہیں اور ایک دوسرے کی بات کو اہمیت دیتے ہیں۔دو جماعتوں کا الحاق ہے لیکن دونوں جماعتوں کا اپنا اپنا نظریہ ہے۔ سیاسی اتحاد کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ایک دوسرے کی سوچ بھی بدل دی جائے۔ ہر شخص کو آئین اور قانون کے مطابق اپنی رائے رکھنے کا حق ہے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما، عمر سرفراز چیمہ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کا مضبوط اتحاد ہے،ہم نے ملکر گزشتہ 6 ماہ میں شریف زرداری گینگ کا موثر طریقے سے مقابلہ کیا ہمارے درمیان غلط فہمیاں اور شک پیدا کرنے والے کامیاب نہیں ہو سکے،

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    اعظم سواتی مشکل میں پھنس گئے، حکومت کا ایک اور ایکشن

    پورے راستے مجھ پر تشدد کیا گیا، میری ویڈیوز بنائی گئیں،اعظم سواتی

    نازیبا ویڈیو کی تحقیقات،اعظم سواتی کمیٹی میں پیش نہ ہوئے،ایف آئی اے نے بتائی حقیقت

    اسلام آباد:اعظم خان سواتی نے سپاہی سےسینیٹرتک کا سفرکس طرح‌ طے کیا؟

     تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کو گرفتار کر لیا گیا

  • توہین عدالت کیس،عمران خان نے سپریم کورٹ میں جمع جواب میں جھوٹ بولا، وکیل

    توہین عدالت کیس،عمران خان نے سپریم کورٹ میں جمع جواب میں جھوٹ بولا، وکیل

    سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    وزارت داخلہ کے وکیل سلمان بٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کے وکیل نے جواب جمع کرادیا ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حکومت نے سوشل میڈیا کے کچھ کلپس عدالت میں جمع کرائے تھے،کلپس پر عمران خان کی جانب سے جواب جمع کرادیا ہے ، وکیل وزارت خارجہ نے کہا کہ عمران خان 24 مئی سے ڈی چوک پر دھرنا دینے کا اعلان کر تے رہے تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل وزارت خارجہ سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس ویڈیو کلپس ہیں؟ وکیل وزارت خارجہ نے عدالت میں جواب دیا کہ ہمارے پاس ویڈیو کلپس ہیں،وکیل وزارت داخلہ نے عدالت کا 25مئی کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا

    جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ یہ عدالت ٹرائل کورٹ نہیں ، کیسے ایک بیان کا جائزہ لیں،وکیل وزارت خارجہ نے کہا کہ عدالت توہین عدالت کارروائی میں اس بیان کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے ، فریقین کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی اور مواد بھی موجود ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ توہین کا معاملہ عدالت کے ساتھ ہوتا ہے ،آپ بطور وزارت داخلہ کے وکیل عدالت کی معاونت کریں ،جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے خیال میں جو آرڈر ہوا تھا اس پر حکم بھی جاری ہوا ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب اداروں نے رپورٹس دیں تو پھر یہ درخواست جمع کرانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ وکیل نے کہا کہ عمران خان کا پہلا موقف ہے کہ وفاقی صوبائی حکومت کی پرتشدد کارروائیوں پر ڈی چوک جانے کا فیصلہ کیا،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جواب میں جیمرز کی بات کی ہے، جیمرز صرف وفاقی حکومت کے حکم پرلگائے جاسکتے ہیں،عمران خان کے بیانات میں درست بات نہیں کی گئی سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے، عدالت توہین عدالت کا شوکاز ٹوٹس جاری کرے گی تو ٹرائل شروع ہوگا،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ معاملہ پہلے ہی غیر موثر ہوچکا ہے،توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور ملزم کے درمیان ہوتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں عمران خان نے خلاف ورزی کی ہے،آپ سمجھتے ہیں کہ عدالتی حکم عدولی کا مواد موجود ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے حکم میں حساس ادروں اور سیکیورٹی اداروں سے رپورٹ طلب کی تھی،وکیل وزارت داخلہ نے کہا کہ بطور وکیل میں عدالت کی معاونت کررہا ہوں،جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اس بارے میں آپ کوئی عدالتیں نظریں پیش کریں گے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر آپ کا متاثرہ فریق ہونے کا دعویٰ کیا ہے ؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بطور وکیل بتائیں گے کہ کونسا شخص اس وقت وہاں رابطے میں تھا؟ ہم نے اس کیس کو مکمل طور پر سنا ہے،سب کو علم ہے کہ عمران خان لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں، ہمیں یہ بتانا ہے کہ کیا عمران خان کو عدالتی حکم کا علم تھا؟ وکیل وزارت خارجہ نے کہا کہ عمران خان کی نیت ڈی چوک کی طرف مارچ کرنا تھی ،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ یہ بتائیں کیا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ایک یا دو اشخاص نے کی؟ وکیل وزارت خارجہ نے کہا کہ اپنے جواب میں واضح کیا ، اس وقت عدالتی احکامات کا عمران خان کو علم تھا ،عدالت نے کہا کہ اس وقت بتایا گیا کہ مئی کی ریلی جی نائن گراونڈ میں کرانے کی درخواست دائر کی گئی ،جب ریلی جی نائن اور ایچ ایٹ کی درمیان گراونڈ میں کرنے کی اجازت دی گئی تو بیان دیا گیا، وکیل نے عدالت میں کہا کہ آپ کتنی اور اجازت دینگے مزید جواب جمع کرانے کی،ہر بار مختلف بیان دے رہے ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب اجازت دی گئی تو عدالت نے ایک کمیٹی بنائی کہ سیکیورٹی کیسے دی جائے گی، جسٹس مظاہر نقوی نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ڈی چوک یا ریڈ زون کا علاقہ ممنوعہ ہے؟ وکیل وزارت داخلہ نے عدالت میں جواب دیا کہ ڈی چوک یا ریڈ زون کا علاقہ ممنوعہ ہے ریڈ زون میں دھرنا دیا گیا تو ججز بھی عدالت آرام سے نہیں پہنچ سکتے تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ توہین کا معاملہ عدلیہ اور ملزم کے درمیان ہوتا ہے،جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب عدالت کا حکم ہے تو توہین عدالت کی درخواست کی کیا ضرورت ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ وفاق کا توہین عدالت میں حق دعویٰ کیا ہے،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ وزارت داخلہ نے 12 اکتوبر کو توہین عدالت کی درخواست دی، عدالت نے توہین عدالت کے معاملے کا جائزہ لینے کا حکم 26 مئی کو دیا،

    عمران خان کا ڈی چوک کال دینے کا ویڈیو کلپ عدالت میں چلایا گیا، ویڈیو کلپ چلانے کے بعد جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ ہم کیسے مان لیں کہ یہ ویڈیو کلپ درست ہے،کیا ویڈیو کا فرانزک کرایا گیا ہے؟ وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ عدالت کو شواہد دکھائے ہیں باقی جو بہتر سمجھے وہ کرے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ نے جب سماعت شروع کی تو لانگ مارچ ختم ہوچکا تھا، کس نے کیا کہا اور کیا کال دی گئی تھی تمام حالات کا جائزہ لینا ہےدیکھنا ہے ڈی چوک پہنچنے والے مقامی تھے یا لانگ مارچ کا حصہ تھے،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ ڈی چوک ہی آنا چاہتے تھے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ حکومت کیخلاف احتجاج تھا، ڈسپلن سے ہونے والی پریڈ نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس پر ہم سماعت اگلے ہفتے کرینگے اس کیس میں فریق مخالف کے وکیل نے بھی ہماری معاونت کرنی ہے،ممکن ہے کہ سماعت دوبارہ جمعے کو ہو، گزشتہ کئی ہفتے عدالت کے بارے میں کئی باتیں کی گئیں ، ہم نے نوٹس نہیں لیا، ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی؟

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ کو براہ راست کوئی یقین دہانی نہیں کرائی تھی ، ثابت کرنا ہوگا کہ عمران خان کی ہدایت پر یقین دہانی کرائی گئی اگر کوئی غلط بیانی ہوئی ہے تو یہ بابر اعوان اور فیصل چوہدری کی جانب سے ہوگی ،اس لیے اگر توہین عدالت کی کارروائی ہوئی تو وہ بھی بابر اعوان اور فیصل چوہدری کے خلاف ہی ہوگی

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عدالت ان کو سزا دے جنہوں نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،توہین عدالت کیس میں استدعا

    واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں

  • پرویز الہیٰ عمران خان ملاقات کے بعد پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب

    پرویز الہیٰ عمران خان ملاقات کے بعد پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے زمان پارک میں ملاقات کی ،

    ملاقات میں پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کے حوالے سے آئینی و قانونی پہلوﺅں کا جائزہ لیاگیا،ملاقات میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق اپوزیشن کی حکمت عملی پر بھی گفتگوکی گئی، وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے اسمبلی تحلیل کے معاملے پر تجاویز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے سامنے رکھیں

    وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے اسمبلیوں سے استعفے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں مستعفی ہونے پر ملک کو عام انتخابات کی طرف جانا چاہئے ،ملاقات کے بعد پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ کل بلا لی گئی عمران خان کل پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان سے ملاقات کریں گے ۔

    ملاقات کے بعد پرویز الہیٰ زمان پارک سے روانہ ہو گئے، انکا کہنا تھاکہ ہم جس کے ساتھ چلتے ہیں اس کا پورا ساتھ دیتے ہیں،عمران خان کے ہر فیصلے کا ساتھ دیں گے،پنجاب اسمبلی عمران خان کی امانت ہے ،

    خان صاحب کی نظریں کہہ رہی ہیں کہ محمود خان آ سکتا ہے تو وہ کیوں نہیں آیا؟

    مسلم لیگ ن ایک فرد واحد کی خاطر اسمبلیاں ختم نہیں ہونے دے گی۔

    ہمارے ساتھ بیٹھ کر پرویز الہیٰ نے عمران خان کو سلیس پنجابی میں ڈیڑھ سو گالیاں دی تھیں،خواجہ آصف کا انکشاف

    الیکشن کی تاریخ چاہئے تو عمران خان پی ڈی ایم قیادت سے ملیں، وزیر داخلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ سے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    قبل ازیں تحریک انصاف کے رہنما و سابق وفاقی وزیر پرویزخٹک سے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں سیاسی امور اور موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال اور اسمبلی کے تمام رولز آف پروسیجر کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ملاقات میں اسمبلی کے حوالے سے تمام تکنیکی پہلوؤں کو زیر بحث لایا گیا۔ پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جان لے کہ پنجاب اسمبلی کسی کی ذاتی خواہش پر نہیں چلے گی۔انشاء اللہ پنجاب اسمبلی میں ہر کام قانون و آئین کے تحت ہوگا۔ عدم اعتماد لانا یا گورنر راج لگانا اپوزیشن کا خواب ہے اور خواب ہی رہے گا۔ 13 جماعتوں کا نام نہاد اتحاد آخری سانسیں لے رہا ہے۔نااہلوں پر مشتمل وفاقی حکومت نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ بہت جلد یہ اتحادی ایک دوسرے کے دست و گریبان ہوں گے۔عمران خان کی مقبولیت شک و شبہ سے بالاتر ہے۔عمران خان نے قوم کے اندر خود داری کا جذبہ بیدار کیا ہے۔ پہلے بھی عمران خان کا ساتھ دیا اور آئندہ بھی کپتان کا ساتھ دیں گے۔

  • سائفرکیس،ایف آئی اے نے عمران خان کو دوبارہ طلب کرلیا

    سائفرکیس،ایف آئی اے نے عمران خان کو دوبارہ طلب کرلیا

    سائفرکیس،ایف آئی اے نے عمران خان کو دوبارہ طلب کرلیا

    ایف آئی اے کاافسر طلبی کے سمن لے کر زمان پارک پہنچ گیا ایف آئی اے نے سائفر کیس میں وزارت داخلہ کے حکم پر تحقیقات کا آغاز کردیا ،تحقیقاتی ٹیم میں ایف آئی اے لاہور کے اعلی ٰافسران شامل ہیں،ایف آئی اے نے اس سے قبل بھی عمران خان کو طلبی کے نوٹس جاری کیے تھے عمران خان کو اس سے قبل 7نومبر اور شاہ محمود قریشی کو 3نومبر کو طلب کیا گیا تھا.

    پاکستان کو ایک مرتبہ پھر انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کا سامنا 

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

     لانگ مارچ کا آج دوبارہ سے آغاز پنجاب پولیس نے سکیورٹی پلان از سر نو تشکیل دیدیا

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی تھی تو اسوقت عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے ایک جلسے میں ایک خط لہرایا تھا اور اس خط کو انکی حکومت کے خلاف بیرونی سازش کہا تھا، بعد ازاں بتایا گیا تھا کہ امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ عمران خان کی حکومت ختم کی جائے، عمران خان اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد ابھی تک اسی بیانئے کو لے کر چل رہے تھے تا ہم سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں واضح کہا گیا کہ کسی قسم کی دھمکی نہیں دی گئی، عمران خان اسی سائفر کو لے کر اپنی تحریک چلا رہے ہیں اور عمران خان کا غیر ملکی سازش و مداخلت کا بیانیہ عوام میں مقبول ہو چکا ہے تا ہم سائفر کے حوالہ سے عمران خان کی دو آڈیو لیک ہو چکی ہیں جس کے بعد سائفر کا بیانیہ پٹ گیا

    سائفر کے حوالہ سے 25 اپریل کو ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار سے سوال کیا گیا کہ مراسلہ سے متعلق نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس کے بعد بہت کنفیوژن ہے،جس کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں ہونے والی بحث کو دیکھنا ہو گا،این ایس سی کے دونوں اجلاسوں میں کوئی کنفیوژن نہیں ہے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے سب کچھ واضح کیا ہے،سیکیورٹی ایجنسیز نے بتایا کہ کوئی غیر ملکی سازش نہیں ہوئی،اسد مجید کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد تھیں، اور ہیں کمیٹی اجلاس میں سفیر اسد مجید ہو کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا کسی سفیر پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا.ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخارکا مزید کہنا تھا کہ مراسلے کوکئی روز تک کو دبانے کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔ ٹیلیگرام جیسے ہی دفترخارجہ پہنچا اور قانون کے مطابق متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا مراسلہ قومی سلامتی کمیٹی میں زیر بحث لایا گیا اور پھر ڈی مارش دیا گیا

    پیپلز پارٹی کے رہنما علی موسیٰ گیلانی نے 30 مارچ کو دعویٰ کیا تھا کہ دھمکی آمیز خط شاہ محمود قریشی نے خود دفتر خارجہ کے سفارت کار سے لکھوایا،علی موسیٰ گیلانی کا کہنا تھا کہ فارن آفس کے ڈپلومیٹ نے شاہ محمود قریشی کے کہنے پر یہ خط وزیر خارجہ شاہ محمود کو بھجوایا,ڈپلومیٹ سے خود ساختہ خط موصول ہونے کے بعد شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو خط پہنچایا,اس معاملے کے حقائق جلد قوم کے سامنے آئیں گے, شاہ محمود قریشی اور فارن آفس اس جعلی سازی کے اصل کرادر ہیں,شاہ محمود قریشی اور فارن آفس لیڑ گیٹ سکینڈل میں بری طرح پھنس چکے ہیں,ہم عمران خان، شاہ محمود قریشی اور فارن آفس کے ملوث کرداروں کو اس کیس سے نہیں نکلنے دیں گے,

  • بچا لو مائی باپ۔ پی ٹی آئی امریکہ کے قدموں میں ، منتیں ترلے ملاقاتیں بڑا سیاسی طوفان آنے والا ہے:مبشرلقمان

    بچا لو مائی باپ۔ پی ٹی آئی امریکہ کے قدموں میں ، منتیں ترلے ملاقاتیں بڑا سیاسی طوفان آنے والا ہے:مبشرلقمان

    لاہور:بچا لو مائی باپ۔ پی ٹی آئی امریکہ کے قدموں میں ، منتیں ترلے ملاقاتیں بڑا سیاسی طوفان آنے والا ہے، یہ کہنا ہے مبشرلقمان کا جو کہ پاکستان کے سیاسی معاملات پر بہت زیادہ دسترس رکھتے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پھر یوٹرن لینے شروع کردیئے ہیں، جوکل کو امریکہ کو برا بھلا کہتے تھے ، آج پھرامریکہ کے ساتھ پینگیں بڑھا رہے ہیں، کبھی وہ کہتے تھے کہ امریکہ پاکستان کی معیشت کو دیوالیہ کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے ،

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اب فواد چوہدری امریکی سفیر سے ملاقاتیں کررہےہیں، یہ کیا ہورہا ہے، انکا کہنا تھاکہ لگتا ہے کہ عمران خان نے اب پھر یوٹرن لے لیا ہے اور یہ یقین کرلیا ہے کہ امریکہ کےبغیر وہ آگے نہیں بڑھ سکتے،

    اس حوالے سے مبشرلقمان نے سینیئرصحافی منیب فاروق سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہاں گئے وہ دعوے جن کی بنیاد پر عمران خان نے ایک بیانیہ دیا تھا ، جس پر منیب فاروق نے کہا کہ ان لوگوں کی ذہنی حالت کیسی ہوگی کہ جو کہتے ہیں کہ ان کو بلا کر کہا گیا کہ نوازشریف چور ہے ،فلاں نے کرپشن کی اور فلاں نے ملک کو لوٹا،وہ لوگ پھر یہ باتیں اس طرح پھیلاتے رہے کہ حیرانی ہوتی ہے ، کہ یہ کیسے لوگ ہیں کس طرح‌کے صحافی ہیں کہ جو اس قسم کا بیانیہ بناتے ہیں‌

    منیب فاروق کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں‌ کہ جو یہ بیانیہ لے کرپھر وی لاگ کرتےہیں ،اورپھراس کو آگےبڑھاتےہیں، ان کو چاہیے تھاکہ وہ پہلے یہ پتہ تو کرلیتےکہ یہ جو کچھ بتایا جارہا ہے کہ یہ درست بھی ہے یا کہ نہیں ، منیب فاروق نے مزید کہا کہ پھر اس قسم کا تاثر دیا جاتا ہے کہ تھمنل بھی ایسے ایسے اپلوڈ کیے جاتے ہیں کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے، منیب فاروق نےکہا کہ چلو ایسا کرنا پڑتا ہے،لیکن اس حد تک نہیں جانا چاہیے ، اس پر مبشرلقمان نے کہا کہ چلو میں ان چہروں کا بتادیتا ہوں جن میں چوہدری غلام حسین اور صابرشاکرجیسے لوگ شامل ہیں ، جس پرمنیب فاروق نے کہا کہ میں کسی کا نام نہیں لے رہا مگرایسے بہت سے لوگ ہیں

    منیب فاروق کا کہنا تھا کہ پھر ایسے لوگوں کو روکا نہیں گیا ، پیسے تو کمائے ہیں ، مگرایسا نہیں کرنا چاہیے تھا،منیب فاروق نے کہا کہ جو صحافی کہتے ہیں کہ ان کو بلا بلا کر بتایا گیا کہ فلاں چور ہے اور فلاں کرپٹ ، ان کا یہ کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو روکنا چاہیے تھا مگرروکا نہیں گیا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوازشریف کی بات کرتے ہیں کہ وہ چور تھا تو جب حکومت نوازشریف کی ختم کی گئی تو اس قدر تو معاملات نہیں تھے جس حد تک بتائے جاتے ہیں

    منیب فاروق کا کہنا تھا کہ جس طرح کے فیصلے کروائے گئے اور نوازشریف کو فارغ کیا گیا اور پھر عمران خان کا لایا گیا ، میں تو سوچتا ہوں کہ آخرت کو یہ جج صاحبان کیا جواب دیں گے اس پر مبشرلقمان نے کہا کہ چھوڑیں آخرت کو ، جن لوگوں کو آخرت کی فکر ہی نہیں اور وہ خود اس گھڑےمیں گررہےہیں ان کا کیا لینا دینا آخرت سے ،

     

     

    مبشرلقمان نے ایک موقع پر منیب فاروق کی ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے کارکنان نے جس طرح جنرل باجوہ کے خلاف مہم چلائی یہ تو بہت ہی پریشان کن پہلو ہے، یہ ٹرولز کس طرح جنرل باجوہ کے خلاف عوام الناس کو اکساتے رہے ،جس پر منیب فاروق نے کہا کہ عمران خان جو کہ پارٹی کے سربراہ ہیں ،ان کو چاہیے تھا کہ جب وہ اقتدار میں تھے تو وہ یہ کام کردیتے ،لیکن ان کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ جنرل باجوہ کے خلاف یہ اقدام اٹھائیں کیونکہ جنرل باجوہ نے ان کے لیے بہت بڑے فیصلے کیے اور ان کو اقتدار میں لانے کےلیے بہت کچھ کیا ، دو ہزار اٹھارہ میں دیکھیں ، اس سے پہلے ہی عمران خان کےلیے سلسلہ شروع ہوچکا تھا ، ان کواقتدار میں لانے کے لیے ان کے سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے لیے تمام غیر قانونی طریقے استعمال کیے گئے ، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اس چیز کا بھی لحاظ نہیں رکھا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان نے جنرل عاصم منیرکوآرمی چیف لگانے کی مخالفت کی تھی

    مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ عمران خان نے جب عاصم منیر سے اپنے پہلے بجٹ کی منظوری کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی توانہوں نے انکار کردیا تھا کہ یہ آپ کا کام ہیں میرا نہیں ، اور کچھ کرپشن بھی سامنے لانےکی وجہ سے عاصم منیر کو تبدیل کردیا گیا تھا ، ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے شاہد تو روکھڑی صاحب بھی ہیں جو کہ اس وقت اس سارے منظر نامے میں ساتھ تھے

    منیب فاروق نے کہا کہ وہ فرح گوگی ، احسن جمیل اور مانیکا فیملی نے جوفائدے اٹھائے ہیں، اب بڑے بڑے ترجمان آجاتے ہیں ، ان کا کہنا تھا ڈی ایچ اے میں فرح گوگی کی آنیاں جانیوں سے کون واقف نہیں ، جو اختیارات اس کو حاصل تھے وہ کسی اور کونہیں تھے ، گھڑی کی طرح اور معاملات بھی ہیں جن کی چھان بین ہونا ضروری ہے ، ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ کہہ گئے ہیں کہ عمران خان کی خاطرتین چارجرنیل بھی قربان ہوگئے ، اس پر مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ ابھی اور بھی قربان ہونے والے ہیں ، منیب فاروق کا کہنا تھاکہ بہرکیف اب اس ملک کو چلنے دیا جائے جس طرح بھی ممکن ہو،یہ ملک اب مزید ایسے سیاسی بحرانوں کا متحمل نہیں ہوسکتا

  • بہت ہو گئی امریکی مخالفت، عمران خان کا قریبی ساتھی امریکی سفارتخانے پہنچ گیا

    بہت ہو گئی امریکی مخالفت، عمران خان کا قریبی ساتھی امریکی سفارتخانے پہنچ گیا

    بہت ہو گئی امریکی مخالفت، تحریک انصاف کا رہنما امریکی سفارتخانے پہنچ گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے خلاف تحریک انصاف کا بیانیہ زمین بوس، تحریک انصاف کے رہنما امریکی سفارتخانے پہنچ گئے اور امریکی سفیر سے ملاقات کی،

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات ہوئی ہے، فواد چودھری امریکی سفارتخانے میں گئے اور انکی امریکی سفیر سے ملاقات سفارتخانے میں ہوئی ، ملاقات تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کی خواہش پر ہوئی،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور پاکستان کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما اور امریکی سفیر کے مابین یہ ملاقات آج دن کو تین سے چار بجے کے درمیان ہوئی،

    ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ تحریک انصاف امریکہ کے خلاف تحریک چلا کر اب یوٹرن لے رہی ہے او رایک بارپھر اقتدار میں آنے کے لئے اب شاید امریکہ سے مدد مانگ رہی ہے،سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کو امریکی مداخلت قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کمزور ملکوں کی حکومتوں کو گرا کروہاں اپنی مرضی کی حکومتیں لاکرپھر ان کے ذریعے اپنے مقاصد پورے کرتاہے،عمران خان نے یہ ایک بیانیہ قوم کےسامنے رکھا تھا ،مگراب امریکی سفیر سے تحریک انصاف کے رہنما کی امریکی سفارتخانے میں ملاقات کے بعد یہ نظرآرہا ہے کہ عمران خان کے رویے میں لچک آرہی ہے یا پھر اب انہوں نے امریکہ سے کرسی کے لئے مدد مانگنا شرورع کر دی ہے، ہر جلسے میں ایاک نعبد و ایاک نستعین سے تقریر شروع کرنے والے عمران خان ایسے لگتا ہے کہ اب امریکہ کے سامنے جھکنے کے لئے تیار ہیں،

    سابق امریکی سفیر سے عمران خان خود ملاقات کر چکے ہیں، جبکہ امریکی سفیر سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیراعلیٰ پنجاب کی بھی ملاقاتیں ہو چکی ہیں،  خیبر پختونخواہ حکومت نے امریکی امداد بھی قبول کی ہے ۔ اس امداد پر عمران خان پر تنقید کی گئی تا ہم وہ خاموش رہے۔ اب  امریکیوں سے رابطے۔امداد کی قبولیت نے عمران خان کے امریکہ مخالف بیانیہ کو زمین بوس کر دیا ہے

    دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے

    جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں

    خاندان میں اختلافات، چودھری شجاعت نے بڑا سرپرائز دے دیا

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات