Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • ڈیزل کے بغیر حکومت ، عمران خان نے حقیقت بیان کردی

    ڈیزل کے بغیر حکومت ، عمران خان نے حقیقت بیان کردی

    اسلام آباد :اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں نوجوانوں‌ کے لیے پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے ہم فضل الرحمان کےلوگوں کوبھی قرضے دیں گےاگروہ میرٹ پرہوں گے، مدارس کے بچوں کو دینی تعلیم کے علاوہ سائنس کی تعلیم بھی دینے کا فیصلہ کیا ہے اور مدارس میں 500 اسکلز لیباٹریز بنارہے ہیں، ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم لارہے ہیں، دو ہزار اساتذہ کو انٹرنیشنل ٹریننگ دیں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ 14 مہینے سے دیکھ رہا ہوں کہ لوگ ٹیکس نہیں دے رہے، یہ لوگ کہتے ہیں تعلیم ، صحت و صاف پانی چاہیئے لیکن ٹیکس نہیں دینا اگرٹیکس نہیں دیں گے تو ملک کیسے چلے گا، ہمیں خود کو بدلنا ہوگا، میں ابھی آہستہ آہستہ تبدیلیاں کررہا ہوں، ہمیں خوددار قوم بننا ہے تو ٹیکس دینا پڑے گا۔

    وزیراعظم نے اپنی تقریر میں‌کہا کہ مشکل وقت گزر گیا اب حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں عوام سے کیے گئے وعدوں‌پر عمل کرکے دکھاوں‌گا، کنونشن سینٹرمیں‌تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ قوم اس لیے مشکل وقت کا سامنا کررہی ہے کیونکہ وہ پرانے کرپشن کے گند سے جان چھڑانا چاہتے ہیں‌اور میں‌اس ملک کو کرپشن کے ضرور پاک کروں‌گا

  • پاکستان میں معیشت کی بہتری ممکن ہے ، لیکن کیسے ؟

    پاکستان میں معیشت کی بہتری ممکن ہے ، لیکن کیسے ؟

    اب تک تقریبا ہر شخص یہ تسلیم کرچکا ہے کہ کھپت پر مبنی ترقی کا ماڈل جس پر پاکستان بہتر شرح نمو کو حاصل کرنے کے لئے بھروسہ کرتا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ زیادہ تر مبصرین اس بات سے بھی متفق ہیں کہ پاکستان کو ترقی کے کلیدی محرک کی حیثیت سے برآمدات کی طرف رخ کرنا چاہئے۔ اس بیانیہ نے موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو استحکام کے ضروری اقدامات پر عمل درآمد کرنے کے لئے اہم گنجائش فراہم کی ہے جس کا مقصد کھپت پر قابو پانا ہے جبکہ بیک وقت ، صنعتوں کو برآمد کرنے کے لئے مراعات فراہم کرنا ہے۔

    تاہم ، بیشتر مبصرین کی یہ اور اس جیسی پالیسی تجاویز نے اس غلط فہمی کو جنم دیا ہے کہ معاشی عدم توازن کا ازالہ کرنے کے لئے صرف استحکام کی پالیسیاں ہی کسی نہ کسی طرح اعلی نمو کے راستے کو جنم دیتی ہیں جو کہ آئی ایم ایف کے بیل آوٹ پیکج سے بچا لیتی ہیں یہ غلط ہے۔

    استحکام کی پالیسیاں جس میں مالی اور مالیاتی پالیسیاں شامل ہیں معیشت کو اس کی بنیادی پیداواری شرح نمو کے گرد مستحکم کرتی ہیں۔ اس کو دیکھنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ، جب بھی جی ڈی پی بنیادی پیداواری شرح نمو سے زیادہ بڑھتی ہے ، معاشی عدم توازن سامنے آنا شروع ہوتا ہے ، جس سے پالیسی سازوں کو استحکام کی پالیسیوں کے ساتھ جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
    اگر 2013 سے 2018 تک کے مالی سال اور ان کی جی ڈی پی گروتھ کی بات کی جائے تو ان سالوں میں شرخ نمو 4 فیصد سے زائد رہی لیکن کرنٹ اکاونٹ خسارہ کل جی ڈی پی کا 1.54- سے 6.14- تک جا پہنچا ، جس کے نتائج ابھی تک موجودہ حکومت بھگت رہی ہے،

    اسی طرح کی صورتحال مالی سال 2004 سے 2008 کے درمیان پیدا ہوئی جب جب ملک کی جی ڈی پی گروتھ 5 فیصد سے زائد تھی لیکن پانچ سال بعد کرنٹ اکاونٹ خسارہ جو کہ جی ڈی پی کا 0.8 فیصد تھا وہ 9.2 فیصد تک جا پہنچا، ان دونوں ادوار میں خسارے کی بنیادی وجہ پالیسی ایڈجسٹمنٹ کا دیر بعد ہونا ثابت ہوئی، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر آپ اپنی ترقی کی شرخ 5 فیصد سے اوپر لیکر جانا چاہتے ہیں تو اس کی بنایدی وجہ ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہونا چاہیے نہ کہ مانیٹری یا مالیاتی پالیسی کی توسیع ہونی چاہیے،

    مہاتیر محمد نے بھارت سے تجارت کے متعلق اہم اعلان کر دیا

    ہماری توجہ کو پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی طرف موڑنے کی اہمیت کو اس اہم کردار کو تسلیم کرکے مزید سراہا جاسکتا ہے جو اس نے ملک کی برآمدات کی کارکردگی میں ادا کیا ہے۔ جرنل آف انٹرنیشنل اکنامکس میں شائع ہونے والے 2002 کے ایک مقالے میں ، محققین ہسپانوی مینوفیکچرنگ فرموں کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہیں تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ برآمدی منڈی میں داخل ہونے کا امکان زیادہ تر پیداواری فرموں کے پاس ہے۔جائزہ برائے عالمی اقتصادیات میں شائع ہونے والے 2005 کے ایک مقالے میں ، بوکونی یونیورسٹی اور سنٹر فار یورپی اقتصادی تحقیق کے محققین نے جرمن مینوفیکچرنگ فرموں کے لئے اسی طرح کے نتائج برآمد کیے۔ امریکن اکنامک ریویو میں شائع ہونے والا 2008 کا ایک مقالہ تائیوان کے الیکٹرانکس پروڈیوسروں کے لئے بھی یہی دکھایا گیا ہے۔

    معیشت کی پیداواری صلاحیت کا تعین کرنے والے عین عوامل بہت زیادہ چرچ کا موضوع بنے ہوئے ہیں جو ابھی تک حل طلب نہیں ہیں۔ لیکن نسبتا یقین کے ساتھ جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ پیداواری شرح نمو اس بات پر منحصر ہے کہ کسی ملک کے معاشی وسائل پیداواری مقاصد کے لئے کس طرح موثر انداز میں اکٹھے ہوسکتے ہیں، پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کی خاطر، پالیسی سازوں کو اپنی توجہ صرف وسائل کے معیار پر ہی محدود نہیں رکھنا چاہئے۔ اس کے بجائے ، اور جیسا کہ رابرٹ سولو (ایک اور نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات) کہتا ہے کہ ، معاشرتی اصول اور ادارے بھی کسی ملک کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی جستجو میں عوامل کو محدود کرنے یا ان کو بہتر کرنے میں اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔

    گوادر پورٹ پوری طرح فعال ہے، برآمدات میں کتنا ہوا اضافہ؟ مشیر تجارت نے بتائی اہم باتیں

    اس پر غور کرتے ہوئے ، ایسی کوئی بھی پالیسی جو کسی ملک کے وسائل یعنی زمین ، مزدوری اور سرمایے کے مابین تعامل کو سہولت فراہم کرتی ہے یا اس طرح کے وسائل کے معیار کو بہتر بناتی ہے وہ معیشت کی پیداوری کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔
    بہت سے معاملات میں ، قدیم اور ناقص تحقیق شدہ قواعد و ضوابط کی بہتات معاشی وسائل کو اکٹھا کرنے میں کلیدی رکاوٹ پیش کرتی ہے۔ دوسرے معاملات میں ، مناسب قوانین کا فقدان وہ ہے جو مارکیٹوں کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔

    سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

    اسی طرح علاقائی وسطی اور جنوبی ایشین معیشتوں کے ساتھ تجارتی روابط کو فروغ دینے کے مقصد کے ساتھ اہم انفراسٹرکچر اور سفارتی راہداری میں رکاوٹوں کا ازالہ کرنا معیشت کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں بہت آگے جاسکتا ہے۔ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کی اصلاح ایک اور شعبہ ہے جس پر ضروری توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اب جبکہ حکومت نے استحکام کے بیشتر اقدامات پہلے ہی کر رکھے ہیں ، لہذا توجہ مرکوز کو پیداواری صلاحیت میں بہتری لانے کی طرف ہونا چاہئے۔ توقع ہے کہ ایک سال کے عرصے میں معیشت مستحکم ہونے لگے گی۔ تاہم ، یہ سارے اسباب کم و بیش چار فیصد کی معمولی شرح سے بڑھ رہے ہیں۔

    اور اب اگر حکومت ان اصلاحات کا آغاز نہیں کرتی تو الیکشن کے قریب حکومت کو ایک بار پھر پرانے گھسے پٹے نعروں اور ترقی کے اشاروں کا سہارا لینا ہوگا جو کہ عین ممکن ہے کہ ایلکشن میں کامیاب نہ کرو سکیں،

  • لیڈی ڈیانا نےکیسےعزت پائی؟ وزیر اعظم نے شہزادہ ولیم کا بتادیا

    لیڈی ڈیانا نےکیسےعزت پائی؟ وزیر اعظم نے شہزادہ ولیم کا بتادیا

    اسلام آباد: پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانوی شاہی جوڑے نے آج وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی، وزیر اعظم نے شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ شہزادی کیٹ میڈلٹن سے گفتگو میں کہا کہ لیڈی ڈیانا نے انسانی ہمدردی اور خیراتی کاموں سے عزت پائی۔

    تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے برطانوی شاہی جوڑے کا پرتپاک استقبال کیا، ملاقات کے بعد جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شاہی جوڑے نے پرتپاک خیر مقدم کرنے اور شان دار مہمان نوازی پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا، شاہی جوڑے کا کہنا تھا کہ پاکستان برطانیہ کے لیے بہت اہم ملک ہے۔

    وزیر اعظم نے شاہی جوڑے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا شہزادی ڈیانا کے لیے پاکستانی عوام کے دلوں میں پیار اور خلوص ہے، انھیں انسانی ہم دردی اور خیراتی کاموں سے عزت ملی۔

  • سفیرکشمیر، وزیراعظم پاکستان زندگی کےاہم ترین مشن پرآج سعودی عرب جائیں‌گے

    سفیرکشمیر، وزیراعظم پاکستان زندگی کےاہم ترین مشن پرآج سعودی عرب جائیں‌گے

    اسلام آباد:سفیرکشمیر، وزیراعظم پاکستان زندگی کےاہم ترین مشن پرآج سعودی عرب جائیں‌گے ، اطلاعات کےمطابق ایران اور سعودی عرب میں کشیدگی ختم کرنے کے مشن کے لیے وزیر اعظم عمران خان آج سعودی عرب کے اہم دورے پر روانہ ہوں گے۔

    پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم پاکستان آج سعودی عرب کے دورے پر جائیں گے جہاں وہ سعودی قیادت کو ایرانی حکام سے ہونے والی ملاقات سے آگاہ کریں گے۔

    شہزادہ اورشہزادی پاکستان پہنچ گئے، استقبال کس نے کیا خبرآگئی

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے دورہ تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کی تھی، انھوں نے کہا تھا کہ خلیج کی موجودہ صورت حال پر تنازعات سے بچنے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم کے دورہ ایران اور سعودی عرب پر دینا نظریں‌ جمائے بیٹھی ہے

    2424 افراد قتل کردیئے گئے ، کیوں اور کیسے قتل ہوئے ،خطرناک رپورٹ آگئی

    دورہ ایران کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ایرانی قیادت سے کہا کہ فریقین بات چیت سے مسائل حل کریں، سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان سہولت کاری کرسکتا ہے، ہم مذاکرات سے مسائل حل کرنے میں سہولت کاری کے لیے تیار ہیں۔

    نئی کھچڑی پک گئی، مولانا پرشدید بداعتمادی، ن لیگ تین حصوں میں‌بٹ گئی

  • وزیراعظم  عمران خان کی آیت اللہ خامنہ ای سےاہم ترین ملاقات،

    وزیراعظم عمران خان کی آیت اللہ خامنہ ای سےاہم ترین ملاقات،

    تہران: وزیراعظم عمران خان امت مسلمہ کے اتحاد اور باہمی الفت ومحبت کو پھر سے تروتازہ کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو بڑھاوا دیتے ہوئے اس وقت ایرانی قیادت سے اہم ترین ملاقاتیں کررہے ہیں، اسی سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات کی،اس دوران عمران خان نے کشمیری عوام کی حمایت کرنے پر ایرانی سپریم لیڈر کا شکریہ ادا کیا ۔اس موقع پر عمران کان کا کہنا تھا کہ مسلم امہ کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے ،مسلم اقوام کی جانب سے اتحاد اور یکجہتی کا پیغام جانا انتہائی اہم ہے۔

    مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا 70 واں روز، نظام زندگی مفلوج،ظلم وتشدد جاری

    ایرنی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ امت مسلمہ کو متحد دیکھنا چاہتے ہیں ، عمران خان نے ایرانی سپریم لیڈر کو اپنی کوششوں سے آگاہ کرتے ہوئےکہا کہ سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی ختم کرانے کے مشن پر گامزن ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے لیے متحرک ہیں۔اسی سلسلہ میں وزیراعظم عمران خان آج ایک روزہ دورے پر ایران پہنچے۔جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی جس میں خطے کی صورتحال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی موجود تھےاورملاقات میں مختلف امور پر مشاورت کی گئی۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے ایرانی وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی تھی۔

    فرانس اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدے خطرے میں‌؟

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کا اس سال کا ایران کا یہ دوسرا دورہ ہےاوروزیراعظم کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر سے ملاقات ہوئی تھی۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے دورہ امریکا کے دوران وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ امریکی صدر سے ملاقات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان سے ایران اور سعودی عرب کےدرمیان ثالثی کرانے اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    چونیاں: درندہ صفت انسان نے خود ہی حقائق سے پردے اٹھادیئے

  • میری قوم نے2005 کے زلزلے میں قربانی کے مثالی جذبے کا مظاہرہ کیا: وزیر اعظم کا خراج تحسین

    میری قوم نے2005 کے زلزلے میں قربانی کے مثالی جذبے کا مظاہرہ کیا: وزیر اعظم کا خراج تحسین

    اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی قوم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ میری قوم بہت عظیم اور قربانی دینے والی قوم ہے، وزیراعظم نےکہا کہ آج 2005 کے زلزلے کے 14 سال مکمل ہونے پر زلزلے کی یاد میں پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس زلزلے میں قوم نے قربانی کے مثالی جذبے کا مظاہرہ کیا۔

    تفصیلات کے مطابق آج دو ہزار پانچ کے تباہ کن زلزلے کو چودہ سال مکمل ہو گئے ہیں، اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے پیغام جاری کیا، انھوں نے زلزلے میں پیاروں کو کھونے والے متاثرین سے اظہار تعزیت کیا۔وزیر اعظم نے کہا زلزلے نے تباہی، درد اور غم کی ناقابل فراموش یادیں چھوڑیں، لیکن پاکستانی قوم نے بھی قربانی، انسان دوستی اور مثالی جذبے کا مظاہرہ کیا۔

    مرنے والے فقیر کی جھونپڑی میں‌بینک ، اور بھی بینک بیلنس ،فقیر بادشاہ سرکار

    وزیراعظم نے زلزلہ 2005 کی سنگینی بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جو نظام تھا وہ صورت حال سنبھالنے کے قابل نہ تھا، ہم نے پارلیمنٹ کے ذریعے مؤثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم کو قائم کیا، نظام کو مزید اصلاح اور مستحکم کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔

    زیابطس (شوگر) کے لیے انسولین سے بہت جلد جان چھوٹ جائے گی ،امریکی ماہرین

    وزیر اعظم نے کہا حالیہ زلزلے کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، متاثرہ علاقوں میں مکمل بحالی تک ہر ممکن مدد فراہم کرتے رہیں گے، حکومت مؤثر تیاری سے تباہی سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی۔انھوں نے مزید کہا 8 اکتوبر کا دن تیاری، حفاظت، خود انحصاری کے پیغام کو بھی عام کرے گا، امید ہے عوام ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ میں زیادہ معلومات لیں گے۔

    ترکی کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیں‌گے ، ٹرمپ کی ترکی کو دھمکی

    واضح رہے کہ 8 اکتوبر 2005 کو آزاد کشمیر اور خیبر پختون خوا میں آنے والے تباہ کن زلزلے کو آج 14 برس بیت گئے۔ اس اندوہ ناک سانحے میں 80 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، اس قیامت صغریٰ میں بلند و بالا عمارتیں مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی تھیں، 7.6 شدت کے زلزلے نے کئی شہروں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا تھا۔

  • چین جانے سے پہلے وزیراعظم نے کراچی اور اسلام آباد کے متعقلق دو اہم فیصلے کرڈالے

    چین جانے سے پہلے وزیراعظم نے کراچی اور اسلام آباد کے متعقلق دو اہم فیصلے کرڈالے

    اسلام آبادچین جانے سے قبل کراچی کے حوالے سے وزیراعظم کے اہم فیصلے ، اہم تجاویز اور اہم مشاورت کی گئی ، اطلاعات کےمطابق آج وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اسلام آباد اور کراچی میں نئے مقامات پر تعمیرات کے سلسلے میں جائزہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں کراچی کے بندال جزیرے اور اسلام آباد نیو بلیو ایریا کی تعمیر کا جائزہ لیا گیا۔

    کشمیر میں بھارتی پابندیاں مارشل لاء سے کم نہیں‌، بھارتی ماہر معیشت امرتاسین

    کراچی کے جزائر اور اسلام آباد میں نئی بلند عمارتوں کی تعمیر کے سلسلے میں جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں علی زیدی، فردوس عاشق اعوان، زبیر گیلانی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی نے شرکت کی۔اس اجلاس میں وزیراعظم نے

    اسلام آباد میں‌وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں پورٹ قاسم کراچی کی حدود میں موجود جزائر کی تعمیر کے لیے جامع پلان پر غور کیا گیا، کراچی کے مضافاتی علاقوں کی تعمیر پر پلان وزیر اعظم کو پیش کیا گیا، بتایا گیا کہ یہ پلان معیاری ہاؤسنگ منصوبے اور سرمایہ کاری میں دل چسپی رکھنے والوں کو سہولت دے گا۔

    2019 کا نوبل انعام 3 سائنسدانوں کے نام ،کس وجہ سے نوبل انعام ملا 

    اجلاس میں اسلام آباد میں بلیو ایریا کی ترقی سے متعلق بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ گھروں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بلند عمارتوں کی تعمیر ترجیح ہونی چاہیے۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ چین سے واپسی پر پھر سے ان مسائل کے حل کے لیے اجلاس بلائیں گے اور جائزہ لیں‌گے

    ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری—از–محمد نعیم شہزاد

  • وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے بھارت کو بہت زخم دے دیئے ، بھارت نے اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کو نفرت انگیز قرار دے دیا

    وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے بھارت کو بہت زخم دے دیئے ، بھارت نے اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کو نفرت انگیز قرار دے دیا

    نئی دہلی :وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے بھارت کو بہت زخم دے دیئے ، بھارت نے اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کو نفرت انگیز قرار دے دیا،بھارت نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایٹمی جنگ کی دھمکی دے کر خطے کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کی پالیسی کا اظہار کر دیا ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے وزیر اعظم کے خطاب کے بعد ردعمل دیتے ہوئے بھارتی وزارتِ خارجہ کی فرسٹ آفیسر ودیشا میترا نے کہا کہ عمران خان نے اپنی تقریر میں نفرت اور تشدد کو ہوا دی۔بھارتی مندوب کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں ایسا بہت کم ہوا ہے جب ایک عالمی لیڈر نے اس فورم پر خون کی ندیاں، نسلی تعصب، ہتھیار اٹھانے، آخر تک لڑنے جیسے الفاظ استعمال کیے ہوں۔

    اھلاوسھلا :کامیاب سفارتقاری کے بعدوزیراعظم عمران خان وطن واپسی کیلئے نیویارک سے روانہ

    ودیشا میترا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گرد کیمپ موجود نہ ہونے کا دعویٰ بھی جھوٹا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے عالمی مبصرین کو اس ضمن میں دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے اب انہیں اپنے وعدے پر قائم رہنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ 21 ویں صدی اور مہذب معاشروں میں ایسے الفاظ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    “بھارت نے حملہ کرکے کشمیر پر قبضہ کیا ، اقوام متحدہ کی قراردادیں‌ بولتی ہیں‌کہ یہ قبضہ غلط ہے ، مہاتیر محمدکا جنرل اسمبلی میں خطاب” لاک ہے

    بھارت نے حملہ کرکے کشمیر پر قبضہ کیا ، اقوام متحدہ کی قراردادیں‌ بولتی ہیں‌کہ یہ قبضہ غلط ہے ، مہاتیر محمدکا جنرل اسمبلی میں خطاب

    بھارتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ کیا پاکستان اس کی تردید کر سکتا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئی 25 تنظیموں اور 130 دہشت گردوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران امن کا پیغام دیا تاہم پاکستانی وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے ذریعے نفرت کی آگ کو بھڑکایا۔

    وزیراعظم پاکستان کے خلاف بھارت میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی گئی ، بھارت پر خوف کے سائے

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں لگ بھگ 50 منٹ تک خطاب کیا تھا۔ عمران خان نے ماحولیاتی تبدیلیوں، منی لانڈرنگ، اسلاموفوبیا اور کشمیر کے معاملے پر اظہار خیال کیا تھا،خیال رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان روایتی جنگ شروع ہو گئی تو اس کا اثر پوری دنیا محسوس کرے گی۔

  • دنیا والو سن لو! مقبوضہ کشمیر سے متعلق جدوجہد جاری رہے گی: وزیراعظم عمران خان کی وطن  واپسی پر امریکی میڈیا سے گفتگو

    دنیا والو سن لو! مقبوضہ کشمیر سے متعلق جدوجہد جاری رہے گی: وزیراعظم عمران خان کی وطن واپسی پر امریکی میڈیا سے گفتگو

    نیو یارک: دنیا والو سن لو! مقبوضہ کشمیر سے متعلق جدوجہد جاری رہے گی: وزیراعظم عمران خان کی وطن واپسی پر امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کاکہنا تھا کہ عزت دینے والی ذات اللہ کی ہے، جو پیغام دینے آئے تھے وہ کامیابی سے دیا۔ دنیا کو پیغام مل گیا کہ 80 لاکھ کشمیریوں پر ظلم ہو رہا ہے، امریکا ، روس اور یورپ سمیت پوری دنیا کو پیغام مل گیا ہے۔

    نیو یارک میں‌ میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ 30 سال کے دوران 1 لاکھ سے زائد کشمیری جدوجہد آزادی میں شہید ہو چکے ہیں، ہزاروں کشمیری خواتین کی عصمت دری کی گئی، کیا نریندری مودی جانتا ہے کہ مزاحمت کے کیا نتائج نکلیں گے، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹتے ہی بڑی خونریزی ہو سکتی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانے کا فیصلہ قابل قدر ہے، پاکستان بزنس کمیونٹی

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب کشمیری عوام باہر حقوق کے لیے نکلیں گے تو 9 لاکھ فوجی ان پر فائرنگ کریں گے جس سے خدشہ ہے خونریزی نہ شروع ہو جائے، بھارت اسلامی دہشتگردی کا واویلا کر کے دنیا کو مزید گمراہ نہیں کرنا چاہتا، کیا نریندر مودی کو مسلمانوں میں موجود 18 کروڑ مسلمانوں کے جذبات کا احساس ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، اگر مقبوضہ کشمیر میں خونریزی بڑھی تو خوفناک ہے، دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرے۔ اورکشمیریوں کے ساتھ کیے گئے وعدے کو پورا کرے۔ ہم حق آزادی اور خود داری کے لیے آخری سانس تک لڑیں گے۔ بھارت کشمیریوں کو بنیادی حق خود ارادیت دے۔

    بھارت نے حملہ کرکے کشمیر پر قبضہ کیا ، اقوام متحدہ کی قراردادیں‌ بولتی ہیں‌کہ یہ قبضہ غلط ہے ، مہاتیر محمدکا جنرل اسمبلی میں خطاب

    یاد رہے کہ اس سے قبل ایک امریکی ٹی وی انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ بھارت آزادی کی تحریک کو دہشت گردی کا نام دے رہا ہے۔ نریندر مودی نے پاکستان پر ہمیشہ دہشتگردی کے بے بنیاد الزامات لگائے، بھارت الزامات سے کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے، 9 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں پاکستان 500 دہشتگرد کیسے بھیج سکتا ہے، مسئلہ کشمیر پر پہلی بار 2 جوہری طاقتیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔

    اس سے قبل وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بزرگوں، بچوں اور خواتین سمیت بڑی تعداد میں لوگوں کو قید کر کے رکھا گیا ہے، نریندر مودی ہندو پسند تنظیم آر ایس ایس کا تاحیات رکن ہے، آر ایس ایس مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائیوں پر بھی ظلم کر رہی ہے۔

    اھلاوسھلا :کامیاب سفارتقاری کے بعدوزیراعظم عمران خان وطن واپسی کیلئے نیویارک سے روانہ

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی 9 لاکھ فوج صرف کشمیریوں کی آزادی کی تحریک دبانے چاہتی ہے، وادی میں آزادی کی تحریکوں کو بھی دہشتگردی کا نام دیا جا رہا ہے، بھارت نے کشمیر میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا ہے

  • وزیراعظم پاکستان کے خلاف بھارت میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی گئی ، بھارت پر خوف کے سائے

    وزیراعظم پاکستان کے خلاف بھارت میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی گئی ، بھارت پر خوف کے سائے

    اسلام آباد:وزیراعظم پاکستان کے خلاف بھارت میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی گئی ، بھارت پر خوف کے سائے ، تفصیلات کےمطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف بھارت کو ایٹمی جنگ کی دھمکیاں دینے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔بھارت کی ریاست بہار میں مقامی وکیل سدھیر کمار اوجھا نے مجسٹریٹ کی عدالت میں عمران خان پر قابل اعتراض زبان استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔

     

    بھارت نے حملہ کرکے کشمیر پر قبضہ کیا ، اقوام متحدہ کی قراردادیں‌ بولتی ہیں‌کہ یہ قبضہ غلط ہے ، مہاتیر محمدکا جنرل اسمبلی میں خطاب

    ریاست بہار میں مقامی وکیل سدھیر کمار اوجھا نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ عمران خان کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا جائے۔سدھیر نے الزام لگایا ہے کہ آرٹیکل370 کے اوپر عمران خان کا بیان بھارت میں انتشار پھیلا سکتا ہے۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے کے بعد وہاں خون کی ندیاں بہیں گی۔

     

    عنوان: دہشتگردی کا دوسرا نام RSS—————آرزوئے سحر——–از–انشال راؤ

    ریاست بہار میں مقامی وکیل سدھیر کمار اوجھا نے عدالت سے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ تھا کہ نسلی برتری کا دھوکہ انسان کو غلطی اور بھیانک فیصلوں کی طرف جاتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ تھا کشمیر سے کرفیو ہٹنے کے بعد وہاں پلوامہ جیسے حملے کا اندیشہ ہے جس کا الزام پاکستان پر لگایا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر سے کرفیو ہٹنے کے بعد وہاں کے لوگ احتجاج کریں گے اور وادی میں موجود 90 لاکھ فوج ان کو روک نہیں سکے گی۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ کرفیو ہٹنے کے بعد عوام بھارت کی حاکمیت تسلیم کرلیں گے تو وہ غلط فہمی میں مبتلا ہے۔

    کامیاب سفارتقاری کے بعد وزیراعظم عمران خان وطن واپسی کیلئے نیویارک سے روانہ

    ریاست بہار میں مقامی وکیل سدھیر کمار اوجھا نے اپنی درخواست میں‌کہا ہےکہ پاکستانی وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے خطاب میں‌ کہا تھا کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حقوق نہیں دیے جا رہے، اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ قرادادوں کے مطابق حل کرے۔بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانا ہوگا اور سیاسی قیدی رہا کرنے ہوں گے۔درخواست گزار نے کہا کہ عمران خلاف مقدمہ درج کیا ورنہ وہ ہمیں‌بہت مارےگا