Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • عمران خان کا ممکنہ ملٹری حراست اور ٹرائل ، اٹارنی جنرل آفس سے وضاحت طلب

    عمران خان کا ممکنہ ملٹری حراست اور ٹرائل ، اٹارنی جنرل آفس سے وضاحت طلب

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ممکنہ ملٹری حراست اور ٹرائل روکنے کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت جاری ہے –

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اعتراضات کے ساتھ عمران خان کی ممکنہ ملٹری حراست اور ٹرائل روکنے درخواست پر سماعت کی،دوران سماعت عدالت نے اٹارنی جنرل آفس سے وضاحت طلب کرلی جبکہ کمرہ عدالت میں موجود اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عظمت بشیر تارڑ کو روسٹرم پر طلب کرلیا گیا۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اٹارنی جنرل آفس سے ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کیا جائے، آپ کہہ رہے ہیں کہ کوئی کیس نہیں لیکن آگے ہو سکتا ہے؟ جس پر عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ سیاست ہے، جس پر وکیل بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ڈی جی کی طرف سے بیان آیا ہےجج نے کہا کہ وہ بھی سیاست ہے، جس پر عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اعلیٰ حکومتی اور فوجی عہدیداروں کی طرف سے بیانات دیے گئے۔

    بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا،دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر اعتراضات دور کرتے ہوئے رجسٹرار آفس اسلام آباد ہائیکورٹ کو درخواست پر نمبر لگانے کی ہدایت کردی۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ وزراء کی طرف سے بانی پی ٹی آئی کے ملٹری ٹرائل کی دھمکی دی گئی، عمران خان ایک سویلین ہیں، سویلین کا ملٹری ٹرائل درخواست گزار اور عدالت کے لیے باعثِ فکر ہے، درخواست گزار کے وکیل کہتے ہیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے بیان آیا ہے، اگر ایسا ہے تو فیڈریشن کی طرف سے واضح مؤقف آنا چاہیئے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج نے مزید کہا کہ آج ہم کہہ دیں کہ ابھی کچھ نہیں کل آپ ملٹری ٹرائل کا آرڈر لے آئیں پھر کیا ہوگا؟ وفاقی حکومت سے ہدایات لے کر پیر کو عدالت کو واضح آگاہ کریں، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ پہلے درخواست پر عائد اعتراضات کا فیصلہ کر لیا جائے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ میں درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر رہا ہوں، سپریم کورٹ کا فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل سے متعلق فیصلہ موجود ہے، جواب دیں کہ کیا عمران کے ملٹری ٹرائل کا معاملہ زیرغور ہے؟ اگر ایسا کچھ نہ ہوا تو درخواست غیرموثر ہو جائے گی اور اگر ایسا کچھ زیرغور ہوا تو پھر ہم اس کیس کو سن کر فیصلہ کریں گے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16 ستمبر تک وفاقی حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے عمران خان کی ممکنہ ملٹری حراست اور ٹرائل روکنے کی درخواست اعتراضات کے ساتھ سماعت کے لیے مقرر کردی تھی بانی پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ 9 اور 10 مئی کے مقدمات کےلیے فوجی تحویل میں دینے کی خبریں زیر گردش ہیں۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ بانی پی ٹی آئی کو سویلین کورٹس کے دائرہ اختیار میں رکھنے اور فوجی تحویل میں دینے سے روکنے کے احکامات دیے جائیں درخواست میں وفاق کو بذریعہ وزارت قانون، وزارت داخلہ اور وزارت دفاع جبکہ آئی جی اسلام آباد، آئی جی پنجاب پولیس، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا۔

    رجسٹرار آفس کی جانب سے درخواست پر اعتراضات عائد کردیے گئے تھے کہ کسی مخصوص ایف آئی آر کا حوالہ دیے بغیر عمومی ریلیف کیسے مانگا جا سکتا ہے؟ درخواست کے ساتھ کوئی آرڈر یا دستاویز نہیں لگائی گئی۔ پنجاب کے مقدمات پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست کیسے دائر ہو سکتی ہے؟آخری اعتراض یہ تھا کہ ملٹری کورٹس کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التواء ہوتے ہوئے ہائیکورٹ میں درخواست کیسے دائر ہوسکتی ہے؟

  • جلسے کی ناکامی،پارٹی میں انتشار،عمران خان مزید بدحواس

    جلسے کی ناکامی،پارٹی میں انتشار،عمران خان مزید بدحواس

    پی ٹی آئی جلسے کی ناکامی نے بانی پی ٹی آئی کو مزید بدحواس کردیا

    بانی پی ٹی آئی عمران خان جب سے اقتدار سے قانونی اور آئینی طریقے سے بے دخل ہوا ہے اور پھر 8 فروری کے ہونے والے شفاف اور پرامن انتخابات میں اس کی جماعت کے شرپسندی کے بیانیے کو ووٹرز نے مسترد کیا ہے اس کے بعد سے بانی پی ٹی آئی نے تقریباً ہر وہ حربہ آزما لیا ہے جس سے وہ اقتدار میں واپس آسکتا ہے مگر اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے، سائفر ڈرامے سے لیکر ریاستی اداروں پر ہرزہ سرائی، دھمکیاں، دھونس، مذاکرات کی کوشش مگر ہر حربہ ناکام ہو چکا ہے۔ آج بھی بانی پی ٹی آئی نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کی جس میں سوائے تضادات کے اور کچھ نہیں تھا۔ موصوف کہتے ہیں کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر22 اگست کا جلسہ ملتوی کیا تھا اور ساتھ موصوف کہتے ہیں کہ ان کی تو اسٹیبلشمنٹ سے کسی طرح کی کوئی گفتگو ہی نہیں ہو رہی۔دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اس شخص کو کسی طرح کی گھاس نہیں ڈالی جا رہی یہی وجہ ہے کہ بداحواسی یہ شخص اپنی باتوں سے حسب روایت مکرتا اور بیانیے بدل رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے نزدیک دلچسپ امر یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ مذاکرات صرف فوج سے کئے جائیں مگر ساتھ یہ بھی کہتا میرا ملٹری ٹرائل نہیں ہونا چاہئے، یعنی مذاکرات کیلئے فوج قبول ہے مگر جرائم کے ٹرائل کیلئے ملٹری کی عدالت قبول نہیں۔

    میڈیا نمائندوں کے ساتھ گفتگو میں بانی پی ٹی آئی نے دل کھول کر قومی احتساب آرڈیننس پر تنقید کی حالانکہ اسی ترمیم شدہ قانون کے تحت نئے توشہ خانہ ریفرنس میں موصوف کی جانب سے بریریت کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے، اگر یہ قانونی ترمیم اس کے نزدیک قابل قبول نہیں تھی تو مثال قائم کرتے ہوئے کہہ دیتا میں اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا مگر جو شخص سر تا پیر تضادات کا شکار ہو اس سے یہ امید نہیں کی جاسکتی۔

    اسلام آباد کے جلسے میں علی امین گنڈاپور نے جس طرح کی گھٹیا زبان استعمال کی اس حوالے سے تمام مکتبہ فکر کی جانب سے شدید تنقید کی اور مذمت کی جارہی ہے۔ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کو کیا زیب دیتا ہے کہ وہ سٹیج پر کھڑا ہو کر خواتین کی بے حرمتی کرے اور ریاستی اداروں کو دھمکیاں دے۔۔؟ آج بانی پی ٹی آئی کی طرف سے علی امین گنڈا پور کی تقریر کی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ تقریر کا سارا سکرپٹ ذہنی انتشار سے بھرپور شخص کی ذہن کی عکاس تھی۔ اس میں اب کوئی دو رائے نہیں کہ بانی پی ٹی آئی ذہنی انتشار سے بھرپور، حدود و قیود سے آزاد، منتشر خیالات کا مالک انسان ہے جس کے نزدیک قانون یا آئین یا معاشرتی حدود کوئی معنی نہیں رکھتیں۔

    میڈیا نمائندوں کی جانب سے یہ سوال کیا گیا کہ علی امین گنڈاپور کی تقریر پر تو پی ٹی آئی کے رہنما معافی مانگ رہے ہیں جس کے جواب میں بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جو معافی مانگ رہے ہیں وہ ڈرپوک اور بزدل ہیں اس کے اس جواب میں ایک بار پھر یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس کے بیانیے اور ان کی پارٹی رہنماؤں کے بیانیے میں اب فرق آچکا ہے اور دونوں کے درمیان خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے۔دوسری طرف بانی پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے رہنماؤں اور کارکن سے اظہار لاتعلقی پرانی روش ہے جس طرح 9 مئی کے بعد بھی اس نے اپنے کارکنوں سے لاتعلقی کا اظہار کردیا تھا۔

    بانی پی ٹی آئی نے میڈیا نمائندوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان کے حوالے سے ہرزہ سرائی کہ بلوچستان آپ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے کا یہ بیان بانی پی ٹی آئی کا کم اور گولڈ سمتھ بیانیے کی تقلید زیادہ لگ رہا ہے۔ اس طرح کا بیان دے کر وہ بھارتی لابی کے ساتھ ساتھ صہیونی سہولت کاروں کو بھی خوش کرنا چاہتا ہے۔

    سیاسی حلقوں کے مطابق تمام حربوں کی ناکامی کے بعد اب بانی پی ٹی آئی ذہنی بدحواسی کا شکار ہو چکا ہے۔ پارٹی میں جاری انتشار، علیمہ خان اور بشریٰ کی چپقلش نے موصوف مزید ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ اس کے ذہنی مریض ہونے کا اس سے بڑاکیا ثبوت ہوگا کہ آئے روز میڈیا نمائندوں سے ہونے والی گفتگو میں اس کی ذہنی پریشانی اور بیانات میں تضاد واضح نظر آتاہے

    اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دھوکہ دیا،کوئی بات چیت نہیں،عمران خان

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

  • بشریٰ،مانیکا کے بیٹے کے وارنٹ گرفتاری جاری

    بشریٰ،مانیکا کے بیٹے کے وارنٹ گرفتاری جاری

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور خاورمانیکا کے بیٹے کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے

    ساہیوال میں کروڑوں روپے کی کرپشن کے معاملے پرعدالت نے بشریٰ اور خاورمانیکا کے بیٹے موسی مانیکا کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کئے ہیں، ساہیوال میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا معاملہ،خاور مانیکا اینٹی کرپشن عدالت میں پیش ہوئے،اسپیشل جج اینٹی کرپشن آصف بشیر نے خاور مانیکا کی جانب سے بریت کیلئے دی جانے والی درخواست خارج کرتے ہوئے کیس قابل سماعت قرار دیدیا،دوران سماعت موسی مانیکا کی عدم حاضری پر میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کروایا گیا،عدالت نے موسی مانیکا کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا۔ کیس کی آئندہ سماعت 20 ستمبر 2024 ہو گی،خاور مانیکا پر قبرستان کی 10 کروڑ روپے مالیت کی سرکاری زمین ایک کروڑ روپے 32 لاکھ روپے خورد برد کرنے کا بھی الزام ہے

    اینٹی کرپشن اوکاڑہ نے 11 اگست 2023 کو بشریٰ بی بی کے سابق شوہر اور بیٹوں کیخلاف مقدمہ درج کیا تھا،بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا اور دونوں بیٹوں پر اراضی پرقبضہ کرکے مارکیٹ تعمیر کرنے کا الزام ہے، مارکیٹ تعمیر کرکے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے نقصان پہنچایا گیا۔

    واضح رہے کہ خاوید فرید مانیکا کے خلاف ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ نے اینٹی کرپشن میں رواں سال جون میں ایک فوجداری ریفرنس دائر کیا گیا تھاریفرنس میں کہا گیا تھا کہ خاور فرید مانیکا وغیرہ نے محکمہ اوقاف کی زمین پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے اور اس پر شادی ہال اور دکانیں تعمیر کی ہوئی ہیں خاور فرید مانیکا نے شادی ہال اور دکانوں کا حکومت کو ٹیکس دیا نہ محکمہ اوقات کو کوئی معاوضہ دیا جس کی مالیت لاکھوں میں ہے اینٹی کرپشن نے اس ریفرنس پر خاور فرید مانیکا کو گرفتار کیا تھا اور بتایا کہ ان پر سرکاری خزانے کو 13 کروڑ 67 لاکھ روپے سے زائد نقصان پہنچانے کا الزام ہے

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دھوکہ دیا،کوئی بات چیت نہیں،عمران خان

    اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دھوکہ دیا،کوئی بات چیت نہیں،عمران خان

    اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آج سے پارٹی کو ہدایت کر رہا ہوں اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دھوکہ دیا ہے

    عمران خان کا کہنا تھا کہ میں آج سے اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی فریق سے بھی مذاکرات کے دروازے بند کر رہا ہوں،میں نے 6پارٹی رہنماؤں کو اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کی اجازت دے رکھی تھی ،میں نے کبھی کسی کو بات چیت سے نہیں روکا،8ستمبر کے جلسہ کی تاریخ اور این او سی اسٹیبلشمنٹ نے دیا تھا،ہمیں اجازت ملے یا نہ ملے 21 ستمبر کو لاہور میں جلسہ کریں گے ،علی امین گنڈاپور کو اسٹیبلشمنٹ نے اٹھایا یہ اخبارات میں چھپا ہے ،ایک صوبے کے وزیراعلی کو اٹھا کر آپ نفرتیں بڑھا رہے ہیں۔

    صحافی نے سوال کیا کہ علی امین گنڈاپور کے بیانات سے بغاوت کا تاثر جاتا ہے کہ آپ بغاوت کی ترغیب دے رہے ہیں ،جس پر عمران خان کا کہنا تھاکہ ہم نے کون سی بغاوت کی ہے ؟علی امین گنڈا پور نے قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے،میں علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہوں ،علی امین گنڈا پور کے بیان پر معافی مانگنے والا بزدل ہے اسے پارٹی میں نہیں ہونا چاہیے وہ پارٹی چھوڑ دے ،فیصل واوڈا ان کا ماؤتھ پیس ہے،ٹھیک ہے آپ ارشد شریف قتل کیس کا اوپن ٹرائل کر لیں۔

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • عمران خان کو سزا سنانے والے جج ہمایوں دلاور کے وارنٹ جاری

    عمران خان کو سزا سنانے والے جج ہمایوں دلاور کے وارنٹ جاری

    ‏سرکاری اراضی پر قبضہ، اسپیشل جج ہمایوں دلاور کےوارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے
    سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے پر اسپیشل جج ایف آئی اے کورٹ اسلام آباد ہمایوں دلاور، انکے بھائی صادق دلاور ، والد دلاور خان اور رجسٹرار تاج مالی خان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اینٹی کرپشن نے عدالت سے وارنٹ گرفتاری حاصل کرلیے۔اس مقدمے میں ملزموں نے عدالتی فیصلے میں جعلی اندراج کے ذریعے زمین اپنے نام کرنے کے بعد ہاؤسنگ سوسائٹی میں شامل کی جس سے حکومت کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا،

    واضح رہے کہ جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو سزا سنائی تھی،جج نے توشہ خانہ کیس میں عمران، بشریٰ کو سزا سنائی تھی، بعد ازاں جج ہمایوں دلاور کو اسلام آباد میں بطور اسپیشل جج سینٹرل ٹو تعینات کردیا گیا تھا

    صحافی و تجزیہ کار رضوان رضی ایکس پر کہتے ہیں کہ سیاسی انتقام کی بد ترین مثال،عمران احمد خان نیازی کے خلاف فیصلہ دینے والے حاضر سروس جج ہمایوں دلاور کے وارنٹ گرفتاری جاری ،اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں موجود عمران خان کے ’’پی ٹی آئی کے ججز‘‘ کی گرفتاری کی راہ ہموار ہو گئی؟

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • توشہ خانہ ٹو کیس،جج ہمایوں دلاور نے سماعت 16 ستمبر کیلئے مقرر کر دی

    توشہ خانہ ٹو کیس،جج ہمایوں دلاور نے سماعت 16 ستمبر کیلئے مقرر کر دی

    اسلام آباد ، اسپیشل جج سنٹرل ، توشہ خانہ ٹو کیس،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    ڈیوٹی اسپیشل جج سنٹرل ہمایوں دلاور نے کیس کی سماعت کی،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے وکیل سلمان صفدر عدالت کے سامنے پیش ہوئے،عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے کچھ کہنا ہے ؟ وکیل نے کہا کہ مجھے آپ کے پاس بھیجا گیا کچھ کہنا چاہوں گا ،جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ میں سن نہیں سکتا 16 ستمبر کے لیے فکس کر رہا ہوں ، میں ان کو بھی نوٹس کر رہا ہوں ان کو آئندہ سماعت پر پیش کریں ،عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس 16 ستمبر سماعت کے لئے مقرر کر دیا

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں گذارشات کچھ کرنا چاہتاہوں، جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ 16 ستمبر تک سماعت ملتوی کر رہا ہوں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ مجھے اچھا لگتا اگر آپ میری گذارشات سن لیتے،ایک ہی طرح کا توشہ خانہ کیس ہے، ملزمان بھی وہی ہیں، جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ مجھے دلچسپی ہی نہیں کیس میں، اسپیشل جج سینٹرل ون کا کیس ہے

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

  • اسٹیبلشمنٹ نے جلسے کی سہولت کاری کی ضمانت دی تھی،عمران خان کا انکشاف

    اسٹیبلشمنٹ نے جلسے کی سہولت کاری کی ضمانت دی تھی،عمران خان کا انکشاف

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں میڈیا سے غیررسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 22اگست کا جلسہ اسٹیبلشمنٹ کی درخواست پر ملتوی کیا،اعظم سواتی صبح 7 بجے میرے پاس آئے اور کہا اسٹیبلشمنٹ نے بھیجا ہے،اسٹیبلشمنٹ نے درخواست کی کہ ملک کی خاطر جلسہ ملتوی کریں،اعظم سواتی نے پیغام دیا تھا،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ضمانت دی تھی کہ 8ستمبر جلسہ میں مکمل سہولت فراہم کریں گے ،اسی پیغام پر پاکستان کی خاطر 22 اگست کا جلسہ ملتوی کیا، پیغام دیا گیا تھا ایک جانب کرکٹ میچ دوسری جانب مذہبی جماعتوں کا اسلام آباد میں احتجاج ہے ملک میں انتشار پھیل سکتا ہے،گارنٹی دی گئی تھی کہ جلسے کے لیے این او سی دیا جائے گا اور سہولیات فراہم کی جائیں گی،جلسے کو روکنے کے لیے کنٹینرز لگائے گئے اور رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور پھر کہا گیا کہ سات بجے جلسہ ختم کریں،قاضی فائز عیسیٰ کو دوبارہ مسلط کیا گیا تو ملکی تاریخ کی بھرپور سٹریٹ موومنٹ شروع کریں گے،قاضی فائز عیسیٰ ملکی تاریخ کا ایک جانبدار ترین جج ہے، سپریم کورٹ ایک ہی ادارہ بچا ہے جس کی تباہی کی کوشش ہو رہی ہے،فراڈ الیکشن کو بچانا چاہتے ہیں انتخابی دھاندلیوں کے کھلنے سے ڈرے ہوئے ہیں، راولپنڈی کے کمشنر نے کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس ملے ہوئے تھے، 9 مئی کی جوڈیشل انکوائری بھی اسی لیے نہیں ہو رہی کیونکہ قاضی ان کے ساتھ ملا ہوا ہے،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہقانون پاس کر کے خود کو این آر او دیا گیا جمہوریت کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا،قانون پاس کر کے اربوں روپے کے کیسز معاف کروائے گئے ہیں،پاکستان قرضے لے کر نہیں بچے گا، نیب ترامیم کے ذریعے این آر او دے کر منی لانڈرنگ جائز قرار دے دی گئی ہے اب ان کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا،آمدنی سرمایہ کاری سے بڑھتی ہے اور تاریخ کی سب سے کم سرمایہ کاری پاکستان میں ہوئی ہے، پاکستان میں قانون کی بالادستی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آسکتی، وہ تمام ممالک خوشحال ہیں جہاں قانون کی حکمرانی ہے،سنگاپور لاہور سے آدھا ہے اور وہاں 140 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، پاکستان میں قانون کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں تمام اداروں کو ایک جماعت ختم کرنے پر لگا دیا گیا ہے، ملک بیرون ملک پاکستانیوں کی سرمایہ کاری سے بچے گا،بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاری کریں تو قرضوں کی ضرورت نہیں پڑے گی، بیرون ملک مقیم پاکستانی اس وقت سرمایہ کاری کریں گے جب ملک میں قانون کی بالادستی ہوگی،پاکستان وہ ملک ہے جہاں ہر چیز میں سرمایہ کاری ہو سکتی ہے،بیرون ملک مقیم 17 ہزار پاکستانی فزیشنز کی اثاثوں کی مالیت 200 ارب ڈالر ہے، اگر میں نے مقدمات سے ریلیف لینا ہوتا تو ملک سے بھاگ جاتا،مجھے یہی کہا گیا تھا کہ3 سال خاموش رہو مقدمات ختم ہو جائیں گے،نیب ترامیم بحالی اب قانون بن چکا ہے یہ قانونی معاملہ ہے،

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • نیب عمران خان پر مہربان،توشہ خانہ کیس واپس لے لیا

    نیب عمران خان پر مہربان،توشہ خانہ کیس واپس لے لیا

    نیب نے عمران خان اور بشری بی بی کیخلاف نیا توشہ خانہ کیس واپس لے لیا۔

    نیب نے نیا توشہ خانہ کیس احتساب عدالت سے واپس لے لیا ۔ احتساب عدالت نے کیس اسپیشل جج سنٹرل کو منتقل کر دیا،نیب ترامیم بحال ہونے کے بعد توشہ خانہ ٹو کیس نیب کے دائرہ اختیار سے نکل گیا. احتساب عدالت کے محمد علی وڑائچ نے کیس اسپیشل جج سنٹرل کی عدالت کو بھیج دیا. اسپیشل جج سنٹرل کل سماعت کریں گے اور عمران خان اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستیں بھی وہی سن کر فیصلہ کرینگے.

    عمران خان کے خلاف نئے توشہ خانہ ریفرنس میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔ وکیل بانی پی ٹی آئی سلمان صفدر کا کہنا تھاکہ نیب ترامیم بحالی کے بعد نیا توشہ خانہ کیس بنتا ہی نہیں، نیب ترامیم بحالی کےبعدیہ کیس بنتاہی نہیں، اس وقت جو قانون ہے اس کے تحت جرم بنتا ہی نہیں، دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم کی بحالی کے بعد نیا توشہ خانہ ریفرنس نیب کے دائرہ اختیار سے نکل چکا ہے،نیب نے نیا توشہ خانہ کیس احتساب عدالت سے واپس لے لیا،احتساب عدالت نے حکم دیاکہ نئے توشہ خانہ کیس میں ضمانت کی درخواستیں متعلقہ عدالت ہی سنے گی، نئے توشہ خانہ کیس کی سماعت 10ستمبر کو متعلقہ عدالت کرے گی۔

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشری بی بی جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہیں۔نیب توشہ خانہ بلغاری جیولری سیٹ کیس میں ریفرنس دائر کر چکا ہے،نیب کے تفتیشی افسر محسن ہارون اور کیس آفیسر وقارالحسن نے احتساب عدالت میں دائر کیا ، نیب کی جانب سے دائر نیا توشہ خانہ ریفرنس 2 والیمز پر مشتمل ہے،نیب کی جانب سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 13 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا، عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی مجموعی طور پر 37 دن نیب کی تحویل میں رہے،تحقیقات کے دوران عمران خان، بشریٰ بی بی کو نیب کی جانب سے سوال نامہ بھی فراہم کیا گیا تھا، دونوں ملزمان نے سوال نامے کے جوابات نیب کو جمع کروا دیے تھے،تحقیقات مکمل ہونے پر  سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا

    توشہ خانہ نیا ریفرنس،عمران خان کے پرسنل سیکریٹری انعام اللّٰہ شاہ بھی گواہوں میں شامل
    عمران خان کے خلاف نئے توشہ خانہ ریفرنس میں گواہوں کی فہرست سامنے آ ئی ہے جس میں 22 گواہوں کے نام شامل ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق گواہان میں بنیامین سیکشن آفیسر توشہ خانہ کیبنٹ ڈویژن کا نام سرِ فہرست ہے ،پروٹوکول افسر وزیرِ اعظم ہاؤس طلعت محمود، ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب قیصر محمود ،وزارت خارجہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد فہیم، سابق ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر محمد احمد ،سابق وزیرِ اعظم کے پرسنل سیکریٹری انعام اللّٰہ شاہ ،ڈائریکٹر نیب شفقت محمود اور کیس کے تفتیشی افسر محمد محسن ہارون بھی گواہوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس کیلئے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • تحریک انصاف انتشار کا دوسرا نام

    تحریک انصاف انتشار کا دوسرا نام

    پاکستان میں سب سے زیادہ پرتشدد احتجاج کی تاریخ رکھتی ہے۔ پی ٹی آئی کو جب جب جلسے کی اجازت ملی، تب تب اس نے انتشار کو فروغ دیا۔
    پی ٹی آئی کو 2014 میں احتجاج کی اجازت دی گئی، انہوں نے پارلیمنٹ پر حملہ کیا، پی ٹی وی کے ہیڈکوارٹر پر قبضہ کیا۔ ڈی چوک کا آدھا حصہ جلا دیا، کئی عمارتوں پر حملہ کیا جن میں جیو کا دفتر اور علاقے کا اسپتال شامل تھے۔

    2016 میں انہیں احتجاج کی اجازت دی گئی، انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کو بند کرنے کے لیے خیبر پختونخوا پولیس کو اسلام آباد اور پنجاب پولیس پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی فورس کو وفاقی حکومت کی سیکیورٹی فورسز پر حملہ کروایا۔ انہوں نے پولیس افسران پر حملے کیے، ان کی وینز کو جلایا، جبکہ عمران خان نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے ان پر پٹرول بم بھی پھینکے۔

    25 مئی 2022 کو انہیں اسلام آباد کے باہر احتجاج کی اجازت دی گئی لیکن انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہر کی سڑکوں کو جلایا۔ اس کی توہین عدالت کا کیس ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔
    9 مئی کو انہیں عمران خان کی گرفتاری پر پرامن احتجاج کی اجازت دی گئی، لیکن انہوں نے کور کمانڈر ہاؤس اور 200 سے زیادہ دیگر مقامات کو جلا دیا۔
    ان کے وزیر اعلیٰ جلسے سے پہلے اس بات پر ریکارڈ پر ہیں کہ وہ اسلام آباد آ کر بیٹھیں گے اور عمران خان کو جیل سے نکالیں گے۔

    ایسی پارٹی پر بھروسہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کیا ہمارے پولیس افسران کی جانیں اور عوامی انفراسٹرکچر اتنے سستے ہیں کہ ہم پی ٹی آئی کو اس پر ناچنے دیں اور عوام اس کی قیمت ادا کرے؟

    https://twitter.com/AmjadHBokhari/status/1832827929723646257

    تجزیہ:سید امجد حسین بخاری

  • پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    تحریک انصاف کا اسلام آباد جلسہ، این او سی کی خلاف ورزی، وقت ختم ہونے کے باوجود جلسہ جاری ہے

    تحریک انصاف آج اسلام آباد میں پاور شو کر رہی ہے،جلسے کے لئے این او سی میں کہا گیاتھا کہ چار بجے سے سات بجے تک جلسے کا وقت ہے، سات بجے جلسہ ختم کرنا ہو گا تاہم پی ٹی آئی نے مقررہ وقت پر جلسہ ختم نہ کیاجس کے بعد انتظامیہ نے وارننگ دی کہ جلسے کو ختم کریں لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے جلسہ ختم نہ کیا گیا ، اب انتظامیہ کی جانب سے پی ٹی آئی کے خلاف کاروائی کی توقع ہے، این او سی کی خلاف ورزی پر پی ٹی آئی رہنماؤں پر مقدمے ، گرفتاریاں متوقع ہیں.

    دوسری جانب 26 نمبر چونگی کے مقام پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے ہوئے پی ٹی آئی کارکنان کے پتھراؤ سے ایس ایس پی سیف سٹی شعیب خان زخمی ہوگئے۔ پی ٹی آئی کارکنان کے پتھراؤ سے کئی پولیس والوں کی حالت غیر ہوگئی۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیرداخلہ محسن نقوینے زخمی ایس ایس پی شعیب خان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے خیریت دریافت کی،محسن نقوی نے کہا کہ زخمی پولیس اہلکاروں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے جلسے کی وجہ سے کئی شہروں میں انٹرنیٹ سروس بھی ڈاؤن ہو گئی، واٹس ایپ بھی بند کر دیا گیا ہے، ویڈیو، تصاویر ڈاون لوڈ نہیں ہو رہی، فیس بک، ٹویٹر بھی بند ہے، صارفین کو سوشل میڈیا ایپس استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

    اشتہاری مراد سعید کا ویڈیو خطاب،حماد اظہر بھی خطاب کے بعد غائب
    سنگجانی کی مویشی منڈی میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسہ میں خٰیبر پختونخوا سے سرکاری وسائل پر عوام کو لایا گیا، پی ٹی آئی کے اشتہاری رہنما حماد اظہر بھی جلسہ گاہ آئے، خطاب کیا اور پھر غائب ہو گئے، پی ٹی آئی رہنماؤں شیر افضل مروت، ، جمشید دستی، عون عباس پبی اور دیگر نے بھی خطاب کیا،عمران خان کی بہنیں بھی جلسہ گاہ میں موجود تھیں،تحریک انصاف کے جلسے میں اشتہاری اور مفرور پی ٹی آئی رہنما مرادسعید کا ویڈیو پیٍغام بھی چلایا گیا،جلسے سے محمود اچکزئی، خالد خورشید و دیگر نے خطاب کیا، بیرسٹر گوہر نے بھی جلسے سے خطاب کیا،خالد خورشید نے یکم اکتوبر کو اڈیالہ جیل جانےکا اعلان کردیا، کہا، ہمارے مطالبات نہ مانے تو ہم اڈیالہ جیل کا رخ کریں گے، سڑکوں پر آئیں گے پھر واپس نہیں جائیں گے .بیرسٹر گوہر نے بھی جلسے سے خطاب کیا اور کہا کہ این آر او کا وقت گزر گیا، اب ماننا پڑے گا عمران خان ایک حقیقت ہیں، وہ لیڈر تھے، لیڈر ہیں اور لیڈر رہیں گے،زین قریشی نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کا پیغام ہے متحد رہیں، جیسے 8 فروری کو عمران خان کو مینڈیٹ دیا ویسے متحد ہوکر اب عمران خان کو رہا کروانا ہے،

    پنگا مت لینا وہ حال کریں گے کہ بنگلہ دیش بھول جاؤ گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
    علی امین گنڈا پور نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے غلام ہیں، واضح پیغام دے رہے ہیں ہم عمران خان کیساتھ ہیں وہ حق کیساتھ ہے، سب کو پتہ چل گیا نہ جب زور دکھاتے ہیں تو یہ پاؤں پکڑتے ہیں، اعظم سواتی کیلئے 7 بجے گیٹ کھولے اور کہا عمران خان اللہ کا واسطہ ہے عوام کو روک لے، علی امین گنڈا پور نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف تمہارا باپ بھی عمران خان کا ملٹری ٹرائل نہیں کرسکتا، جس کو تم باپ سمجھتے ہو وہ بھی نہیں کر سکتے، جنرل فیض کیا ہمیں جہیز میں ملا تھا؟ اپنا ادارہ ٹھیک کرو،اگلا جلسہ لاہور میں ہوگا، مریم میں آرہا ہوں، مینار پاکستان میں اجازت ہو گی تو ٹھیک ہو گی،پنگا مت لینا وہ حال کریں گے کہ بنگلہ دیش بھول جاؤ گے، ہمارے پٹھانوں کا اصول ہے ڈھول بھی لاتے ہیں اور بارات بھی،ایک سے دو ہفتہ میں عمران خان قانونی طور پر رہا نہ ہوا تو ہم خود عمران خان کو رہا کروائیں گے، میں لیڈ کروں گا، پہلی گولی کھاؤں گا، پیچھے نہیں ہٹنا،

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر کہا کہ جلسے کے شرپسند شرکاء نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ جس سے پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، اِسی لیے ہم کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی انتشار پسند جماعت ہے اور پرامن احتجاج یا جلسہ پر یقین ہی نہیں رکھتی۔ یہ واقعہ ایک جگہ پر ہوا اور اب امن بحال ہو چکا ہے۔

    ایک اور پوسٹ میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ نوبت اب یہاں تک آ چُکی ہے کہ کشمیر ریلی اور چودہ اگست کی ریلیوں کی تصاویر اور ویڈیوز شئیر کر کے جلسے کی کامیابی کا تاثر دیا جا رہا ہے، تحریک انتشار کے جلسے کے یہ مناظر دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کے پاکستان کی باشعور عوام انتشار اور بدامنی کی سیاست کو مسترد کر چکے ہیں۔

    صحافی حسن ایوب نے ایکس پر لکھا کہ توقعات کے عین مطابق کہ یہ 9 مئی والے تشدد اور بد امنی کا راستہ اختیار کرینگے ٹھیک ویسا ہی انہوں نے آج بھی کیا ہے ۔۔ پی ٹی آئی کارکنان کے پتھراؤ سے اس وقت تک ایس ایس پی سیف سٹی اور متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوچکے ہیں ۔ ان حالات کی مکمل ذمہ داری تحریک انصاف کو سہولتکاری فراہم کرنے والے ججز پر عائد ہوتی ہے۔

    صحافی و اینکر غریدہ فاروقی نے ایکس پر لکھا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کے قریبی سیاسی ذرائع سے میری بات ہوئی؛ بتایا گیا کہ وزیراعلی جلسے میں شرکت کرنا ہی نہیں چاہتے تھے اور اسی وجہ سے روانگی بھی تاخیر سے کی گئی اور دانستہ وہ روٹ استعمال کیا گیا جو بند تھا۔ بجائے اس روٹ کے جو انتظامیہ کیساتھ طے پایا تھا اور کھلا ہوا تھا۔

    ایک اور ٹویٹ میں غریدہ فاروقی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کیساتھ بڑا باریک کام بڑی مہارت کیساتھ کیا۔ جلسے کا مقررہ وقت دن کے اوقات میں شام 4 سے 7 بجے تک کا دیا تاکہ دن کے اُجالے میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے۔ PTI کا تو مشہور کارہائے نمایاں ہی یہی ہے کہ رات کے اندھیرے میں بڑی بڑی فلڈ لائٹس سے عوام کے جَمِّ غفیر ہونے کا illusion تشکیل دیا جا سکے۔ پہلی بار PTI نے دن کے اُجالے میں جلسہ کیا اور مکمل ناکام ہو گیا۔ عوام نے مسترد کر دیا۔ پنجاب نے مسترد کر دیا۔ KP کی عدم دلچسپی۔ اسلام آباد/راولپنڈی sunday mode اور mood میں۔ کسی نے جلسے کیلئے نکلنا گوارا نہ کیا۔ اس سے تو بہتر تھا ایک بار پھر NOC کینسل کروا لیا جاتا؛ بڑا بھرم رہ جاتا۔ اب پتہ چلا کہ 22 اگست کا جلسہ بھی کینسل کروانے کیلئے انتہائی آسانی سے کیوں تسلیم کر لیا گیا ۔۔۔!!!! کیونکہ بندے 22 اگست کو بھی نہیں نکلنے تھے ۔۔۔ یہ جلسہ عمران خان کی رہائی کیلئے تھا ۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ کو “انقلابی” جواب کیلئے تھا ۔۔۔۔ جلسہ تو ختم شُد ہو گیا ۔۔۔ عمران خان پہلے ہی ختم شُد ہیں ۔۔۔ صرف سوشل میڈیا پر رہے سہے انقلاب سے کام چلا لیا جائے ۔۔

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

    ریاست کے خلاف منصوبہ بندی کرنے کے جرم کی کوئی معافی نہیں،مریم اورنگزیب

    پی ٹی آئی جلسے کیلئے خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل کا استعمال

    حریک انصاف (پی ٹی آئی) میں اختلافات ، جلسے میں اہم رہنماؤں کو مدعو نہیں کیا گیا

     جلسے کے لیے خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال