Baaghi TV

Tag: غزہ

  • فلسطین پر فلسطینیوں کا حق،کوئی مائی کا لال قبضہ نہیں کر سکتا،مولانافضل الرحمان

    فلسطین پر فلسطینیوں کا حق،کوئی مائی کا لال قبضہ نہیں کر سکتا،مولانافضل الرحمان

    اسلام آباد: سربراہ جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ پر طویل عرصے تک قبضے سے متعلق بیان پر شدید ردعمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی : مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی غزہ پر ہرزہ سرائی پر امت مسلمہ سراپا احتجاج ہے، واضح پیغام دیتا ہوں کہ کوئی مائی کا لال غزہ پر قبضہ نہیں کر سکتا، ٹرمپ کے اس بیان کو مسترد کرنے پر عرب لیگ کے مؤقف کو سراہتا ہوں، حکو مت پاکستان اور اسٹیبلشمنٹ اپنے تئیں فلسطین کے بارے میں ابہام کو دور کرے، حکومت ٹرمپ بیان پر واضح موقف لا کر قوم کے ضمیر کی ترجمانی کرے، اس ابہام کے ساتھ یہ حکمران کسی طور قابل قبول نہیں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے، فلسطین پر فلسطینیوں کا حق ہے، فلسطینیوں کی جدوجہد اپنی آزادی کی جنگ ہے اسرائیل ایک صیہونی قبضے کا نام ہے، آج تک فلسطین نے اسے تسلیم نہیں کیا، پوری امت مسلمہ فلسطینیوں کے شانہ بشانہ ہے، ٹرمپ کوبتانا چاہتا ہوں تم نے افغانستان پر بھی قبضہ کرنا چاہا، 20سال وہاں خون بہایا، افغانستان میں انسانی حقوق پامال کیے، جنگ مسلط کی لیکن وہاں شکست کا سامنا کیا۔

    ٹرمپ کا غزہ کی پٹی پر طویل عرصے تک قبضہ کرنے کا اعلان

    دوسری جانب پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ پاکستان کا مسئلہ فلسطین پر مؤقف 1947 سے واضح ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ فلسطینیوں کو ان کی زمین سے ہٹانے کا بیان غیر منصفانہ ہے، پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتا ہے، انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان خلاف ورزیوں کو بند کرانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے دورۂ امریکہ کے شیڈول کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکی صدر سے ان کی ملاقات کے حوالے سے دفتر خارجہ کے پاس کوئی شیڈول موجود نہیں، اس بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی ہی وضاحت دے سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ہمراہ وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے غزہ پر طویل مدت کے لیے قبضے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم غزہ کی تعمیر نو کریں گے اور وہاں ہزاروں نوکریاں پیدا کریں گے جس کے لیے غزہ کے شہریوں کو مصر اور اردن میں بسائیں گے۔

    ٹرمپ کا غزہ پر قبضے کا منصوبہ،حماس کا ردعمل

  • ٹرمپ کا غزہ کی پٹی پر طویل عرصے تک قبضہ کرنے کا اعلان

    ٹرمپ کا غزہ کی پٹی پر طویل عرصے تک قبضہ کرنے کا اعلان

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی پٹی پر طویل عرصے تک قبضہ کرنے کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکا غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لے گا، ہم اس کے مالک ہوں گے جس کا مقصد اس علاقے میں استحکام لانا اور ہزاروں ملازمتیں پیدا کرنا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں غزہ میں طویل المدتی ملکیت کی پوزیشن دیکھتا ہوں، ہم غزہ کو ترقی دیں گےعلاقے کے لوگوں کے لیے ملازمتیں دیں گے ، شہریوں کو بسائیں گےفلسطینیوں کے لیے منصوبے کے تحت اردن اور مصر کے رہنما جگہ فراہم کریں گے، مشرق وسطیٰ کے دیگر رہنماؤں سےبات ہوئی، انہیں فلسطینیوں کو غزہ سے منتقل کرنے کا آئیڈیا پسند آیا۔

    پاک، سعودیہ کے درمیان منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کیخلاف تعاون کی منظوری

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اپنے منصوبے کے بعد غزہ میں دنیا بھر کے لوگوں کو آباد ہوتے دیکھتا ہوں میں اسرائیل، غزہ اور سعودیہ کا دورہ کروں گا، سعودی عرب بہت مددگار ثابت ہوگا ہمیں امید ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے گی بہت سے ممالک جلد ہی ابراہام معاہد ے میں شامل ہوں گے۔

    ٹرمپ نے بتایا کہ نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات میں ہم نے حماس کے خاتمے کو یقینی بنانے کے طریقے پر تبادلہ خیال کیاغزہ کو دوبارہ تعمیر کرنے اور اس پر قبضہ کرنے کا عمل انہی لوگوں کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے میں ایران کے ساتھ ڈیل کرنا پسند کروں گااگر لگا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہیں تو یہ ان کی بدقسمتی کا باعث ہوگا۔

    اسماعیلی فرقے کے سربراہ آغا خان انتقال کر گئے

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ، جس کے تحت امریکا فلسطینی علاقے غزہ پٹی کا کنٹرول سنبھالے گا، تاریخ بدل سکتا ہے ٹرمپ غزہ کا مختلف مستقبل دیکھتے ہیں، یہ قابلِ توجہ ہے اور تاریخ بدل سکتا ہےمیں اور ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار تیار نہ کرے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر سعودی وزرت خارجہ کا مؤقف سامنے آگیا۔

    سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کیے جائیں گے سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر سعودی عرب اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کرے گا، فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق سعودی عرب کا مؤقف مضبوط اور غیر متز لزل ہے۔

    امریکا کی فنڈنگ رُکنے سے جنوبی ایشیا میں لاکھوں خواتین متاثر ہوں گی،اقوام متحدہ

    وزارت خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کے ولی عہد سلطنت کے مؤقف کی کھلے اور دوٹوک انداز سے تصدیق کرتے ہیں، سعودی عرب کے مؤقف کی کسی بھی حالات میں کسی تشریح کی اجازت نہیں،فلسطینیوں سے متعلق سعودی عرب کے مؤقف پر گفت وشنید کی ہی نہیں جاسکتی۔

    دوسری جانب فلسطینی شہریوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر قبضہ کرنے کے اعلان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے، ہم کسی صورت غزہ چھوڑ کر کسی اور مقام پر منتقل نہیں ہوں گے۔

    اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر فلسطینیوں کی طرح غزہ کے جنوبی شہر رفح کے رہائشی حاتم عزام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا کہ غزہ کے رہائشیوں کو مصر یا اردن منتقل ہو جانا چاہیے۔

    یومِ یکجہتی کشمیر آج بھرپور انداز سے منایا جا رہا ہے

    34 سالہ شہری نے ٹرمپ کے گزشتہ ہفتے غزہ میں صفائی سے متعلق اپنے منصوبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے استعمال کیے گئے الفاظ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ غزہ کچرے کا ڈھیر ہے، ایسا بالکل نہیں ہے امریکی صدر کو فریب کا شکار کہتے ہوئے شہری نے کہا کہ ٹرمپ مصر اور اردن کو تارکین وطن لینے پر ایسے مجبور کرنا چاہتے ہیں گویا کہ یہ ملک ان کے ذاتی فارم ہیں۔

    رفح کے ایک اور 30 سالہ رہائشی ایحاب احمد نے افسوس کا اظہار کیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو "اب بھی فلسطینی عوام اور ان کے اپنی زمین سے انسیت کو نہیں سمجھتے، ہم اس سرزمین پر رہیں گے، چاہے کچھ بھی ہو، چاہے ہمیں خیموں اور سڑکوں پر ہی رہنا پڑے، ہم اپنی زمین سے جڑے رہیں گے۔

    کمال گرائمر سکول لاہور برانچ میں سالانہ نتائج اور تقسیم انعامات کی شاندار تقریب

    ایحاب احمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ فلسطینیوں نے برطانیہ کے مینڈیٹ کے بعد 1948 کی جنگ سے سبق سیکھا جب اسرائیل کے قیام کے وقت لاکھوں فلسطینیوں کو گھروں سے محروم کیا گیا اور انہیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی گئی، دنیا کو اس پیغام کو سمجھنا چاہیے کہ اس بار ہم اس طرح سے کہیں نہیں جائیں گے جیسا کہ 1948 میں ہوا تھا۔

    مصر اور اردن دونوں نے ٹرمپ کے خیال کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور ان ممالک کے علاوہ غزہ اور دیگر ہمسایہ ممالک نے بھی اسے ماننے سے انکار کیا ہےٹرمپ اور نیتن یاہو کو فلسطینی عوام اور غزہ کے لوگوں کے حوالے سے حقائق کو سمجھنا چاہیے، یہ وہ لوگ ہیں جن اپنی سرزمین میں گہری جڑیں ہیں، یہ کہیں نہیں جائیں گے۔

    بانی پی ٹی آئی این آراوچاہتے ہیں،خواجہ آصف

    آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر کنٹرول کے اعلان پر شدید حیرت اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر قبضے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان سے دھچکا لگا ہے۔

    آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ ایسی کسی مہم جوئی کی حمایت نہیں کریں گے جو دو ریاستی حل کے منافی ہو وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ آسٹریلیا مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے یہی واحد راستہ ہے۔

    اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیدیا۔

    اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتیرس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر قبضے اور فلسطینیوں کو دوسرے ممالک میں بسانے کے منصوبے پر کڑی تنقید کی ہے، انتونیو گوتریس نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ فلسطین کا کوئی بھی حل وہاں کے عوام کی شمولیت کے بغیر ناقابل عمل اور بے سود رہے گا اگر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر عمل کیا جاتا ہے تو اس سے فلسطینی ریاست کا قیام ہمیشہ کے لیے کھٹائی میں پڑ جائے گا۔

  • جو کوئی بھی اسرائیلی فوج کے لیے خطرہ بنے گا اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی،اسرائیل

    جو کوئی بھی اسرائیلی فوج کے لیے خطرہ بنے گا اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی،اسرائیل

    تل ابیب: آج پیر کے روز بے گھر فلسطینیوں کی غزہ پٹی کے شمالی علاقوں کی طرف واپسی کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیل کی جانب سے دھمکانے کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے نے خبردار کیا ہے کہ تل ابیب 7 اکتوبر 2023 سے پہلے والی حالت میں واپسی کی اجازت نہیں دے گا اسرائیلی وزارت دفاع غزہ پٹی کے شمال اور جنوب میں فائر بندی پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھے گی،جو کوئی بھی اسرائیلی فوج کے لیے خطرہ بنے گا اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

    دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ بے گھر افراد کی ان کے گھروں کو واپسی ایک بار پھر یہ ثابت کرتی ہے کہ قابض طاقت (اسرائیل) اپنے دشمنانہ مقاصد کے تحت فلسطینیوں کی جبری ہجرت اور ان کے اٹل ارادے توڑنے میں ناکام ہو چکی ہے بے گھر ہونے پر مجبور کر دیئے جانے والے لوگوں کی اپنے گھروں کی تباہی کے باوجود بڑی تعداد میں واپسی کے مناظر، یہ فلسطینیوں کی اپنی سرزمین میں مضبوط جڑوں کی تصدیق کرتے ہیں-

    سائنسدان زمین سے 62,000 میل دور گونجتی پرندوں کی چہچہاہٹ سن کر حیران

    حماس نے اپیل کی ہے کہ غزہ پٹی کے تمام علاقوں میں امدادی سامان پہنچائے جانے کا عمل تیز کر دیا جائے۔

    واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج نتزارم راہداری سے پیچھے ہٹ گئی ہے جس کے بعد جبری بے دخل کیے گئے فلسطینیوں کی شمالی غزہ واپسی شروع ہو گئی۔

    عرب میڈیا کے مطابق لاکھوں فلسطینی شمالی غزہ واپس لوٹ رہے ہیں ، شارع الرشید پر واپس جانے والے افراد کی طویل قطاریں لگ گئیں،اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ جانے والے نتزارم روڈ کوکھول دیا گیا ہے، فلسطینیوں کو پیدل شمالی غزہ میں اپنے گھروں کو جانے کی اجازت ہے جبکہ گاڑیوں کو تلاشی کے بعد صلاح الدین شاہراہ سے شمال کی طرف جانے کی اجازت ہو گی،سرائیلی فوج نے نتساریم کے علاقے سے انخلا شروع کر دیا یہ علاقہ غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔

    آزاد کشمیر کا نوجوان غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کرگیا

    واضح رہے کہ معاہدے کے تحت بے گھر فلسطینیوں کی شمالی غزہ واپسی کا عمل ہفتے کے دن شروع ہونا تھا مگر ہفتے کو اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو شمالی غزہ جانے سے روک دیا تھا،اسرائیل نے گذشتہ دو روز کے دوران فلسطینیوں کے گزرنے کے لیے یہ راہداری کھولنے سے انکار کر دیا تھا اسرائیل کا موقف تھا کہ پہلے حماس تنظیم اسرائیلی خاتون قیدی اربیل یہود کو رہا کرے۔

    راکھی ساونت پاکستان پہنچ گئیں؟

    ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ غزہ پٹی کے شمالی علاقوں میں واپس جانے والے بے گھر فلسطینی اپنے گھروں کے ملبوں پر کس طرح رہیں گے۔ بالخصوص جب کہ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق غزہ کی پٹی کے شمال میں 80 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔

    طلاق یافتہ والدین کے بچے کونسی خطرناک بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں؟

  • عرب ممالک غزہ متاثرین کو اپنے ملک میں پناہ دیں،ڈونلڈ ٹرمپ

    عرب ممالک غزہ متاثرین کو اپنے ملک میں پناہ دیں،ڈونلڈ ٹرمپ

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کو ”ڈیمولیشن سائٹ“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اردن، مصر اور دیگر عرب ممالک غزہ متاثرین کو اپنے ملک میں پناہ دیں۔

    باغی ٹی وی : ہفتے کو اپنے سرکاری جہاز ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں اردن، مصر اور دیگر عرب ممالک مزید فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنے پاس رکھیں تاکہ غزہ میں بڑھتے ہوئے تنازعات کا اثر کم کیا جا سکے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے فون پر بات چیت کی اور اتوار کو مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،وہ چاہتے ہیں مصر اور اردن مزید فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنے ممالک میں پناہ دیں، تاکہ غزہ کی پٹی سے نکلنے والے افراد کو بہتر زندگی کی سہولت مل سکے۔

    پنجاب نے 40 خطرناک ڈاکوؤں کے نام، تصاویر اور سر کی قیمت کی فہرست جاری کر دی

    ٹرمپ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ مصر اور اردن ان لوگوں کو اپنے ہاں لیں اور یہ تمام علاقہ صاف کیا جاسکے ہم شاید ڈیڑھ ملین افراد کی بات کر رہے ہیں، غزہ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ علاقے کی حالت بہت خراب ہو چکی ہے، جہاں زیادہ تر انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے اور لوگوں کی زندگیوں کا شدید خطرہ ہے-

    ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا

    امریکی صدر نے کہا کہ عرب ممالک کو اس بحران میں ایک مثبت کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ فلسطینیوں کے لیے نئے مکانات تعمیر کیے جا سکیں اور وہ امن و سکون کی حالت میں زندگی گزار سکیں غزہ کا مسئلہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے اور اس کے حل کے لیے عالمی برادری کو مزید مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

    صائم ایوب کا مستقبل داؤ پر نہیں لگانا،محسن نقوی

  • غزہ: عمارتوں کے ملبے سے مزید 200 لاشیں اور بنا پھٹے بموں کی بڑی تعداد برآمد

    غزہ: عمارتوں کے ملبے سے مزید 200 لاشیں اور بنا پھٹے بموں کی بڑی تعداد برآمد

    غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے مزید 200 لاشیں برآمد ہوئی ہیں-

    باغی ٹی وی : ”الجزیرہ“ کے مطابق، حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد سے غزہ کے محکمہ شہری دفاع اور طبی عملے کی جانب سے ملبے سے لاشیں نکالنے کا کام جاری ہے، جبکہ بنا پھٹے بموں کی بڑی تعداد برآمد ہوئی ہے-

    غزہ کی شہری دفاع کے سربراہ محمد باصل نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے بھاری مشینری کی تباہی اور انسانی وسائل کی کمی کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا ہے تقریباً 10 ہزار فلسطینی شہداء کی لاشیں ابھی تک ملبے تلے دبی ہیں، جنہیں نکال کر دفنانا ممکن نہیں ہو سکا –

    لیبیا کشتی حادثے میں ملوث انسانی اسمگلر گرفتار

    اقوام متحدہ کے مطابق، 42 ملین ٹن ملبے میں موجود بارودی مواد کو صاف کرنے کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم درکار ہوگی، جنگ کے نتیجے میں غزہ میں 5 کروڑ ٹن ملبہ جمع ہو چکا ہے جسے صاف کرنے میں 21 سال لگ سکتے ہیں، جب کہ اس پر 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی،اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں غیر پھٹے بارودی مواد کی صفائی کے لیے کم از کم 10 سال درکار ہوں گے۔

    دریں اثنا، جنگ بندی کے بعد انسانی امداد کی فراہمی جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (OCHA) کے مطابق، جنگ بندی کے چوتھے روز 808 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے، جو امریکہ، مصر، اور قطر کے تعاون سے ممکن ہوا۔

    چیمپئنز ٹرافی : صائم ایوب کی جگہ خوشدل شاہ اسکواڈ میں شامل

    غزہ کی بحالی کے لیے بین الاقوامی تعاون اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ متاثرین کی مدد کی جا سکے اور علاقہ دوبارہ آباد کیا جا سکے۔

  • جنگ بندی معاہدے کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے  اسرائیل کا فوجی آپریشن،9 فلسطینی شہید 40 زخمی

    جنگ بندی معاہدے کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے اسرائیل کا فوجی آپریشن،9 فلسطینی شہید 40 زخمی

    غزہ: جنگ بندی معاہدے کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے کےجنین شہر میں اسرائیلی فوجی آپریشن کے نتیجے میں 9 فلسطینی شہید اور 40 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی :عرب میڈیا رپورٹس کےمطابق شہید ہونےوالوں میں ڈاکٹر اور نرس بھی شامل ہیں اسرائیلی بلڈوزر نےجنین میں سڑکیں تباہ کردیں اس حوالے سے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی کارروائی پر شدید تشویش ہے اسرائیل کی پرتشدد کارروائی میں فلسطینیوں کی شہادتیں ہوئی ہیں اسرائیلی فوج طاقت کے استعمال سے گریز کرے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جنین کو عسکریت پسندوں کی نئی آماجگاہ کسی صورت نہیں بننے دیں گے۔

  • جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    غزہ میں 15 ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے بعد دونوں طرف کی میڈیا رپورٹس نے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ کیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ بٹالینز کس حد تک تباہ ہوئیں۔ دوسری جانب فلسطینی اور حماس کے میڈیا نے جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کیا ہے اور غزہ میں حماس کے کنٹرول کے قیام کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔حماس کے عسکری ونگ "القسام بریگیڈ” کے ترجمان ابو عبیدہ نے جنگ بندی معاہدے پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس اس معاہدے کا احترام کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اسرائیل کے عمل پر ہے۔ ابو عبیدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی معاہدے کا احترام کرے، کیونکہ اسرائیل کی طرف سے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پورے معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی قبضہ تمام برائیوں کی جڑ ہے اور حماس اس قبضے کو ختم کرنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ مزاحمت جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق، غزہ پر اسرائیل کا قبضہ ہی فلسطینی عوام کی مشکلات کی وجہ ہے، اور حماس اس قبضے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کرے گی۔

    قیدیوں کا تبادلہ: حماس اور اسرائیل کے اقدامات
    جنگ بندی کے تحت دونوں فریقوں نے قیدیوں کا تبادلہ کیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حماس نے 3 اسرائیلی خواتین قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، جنہیں اسرائیلی فوج کے خصوصی یونٹ تک پہنچایا گیا اور پھر اسرائیلی فوجی اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنے جیلوں سے 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا، جن میں 69 خواتین اور 21 بچے شامل تھے۔یہ قیدی اسرائیلی جیلوں میں طویل عرصے سے قید تھے، اور ان کی رہائی کے بعد مغربی کنارے میں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کا قافلہ دو بسوں میں مغربی کنارے کے شہر بیتونیہ پہنچا، جہاں ان کا فلسطینی عوام کی جانب سے استقبال کیا گیا۔ ایک فلسطینی طالبہ نے جو ان قیدیوں میں شامل تھی، بتایا کہ اسرائیلی حراست کے دوران انہیں خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا تھا، اور حالات انتہائی خوفناک تھے۔حماس نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ قیدیوں کا اگلا تبادلہ 25 جنوری کو ہوگا، جس میں غزہ سے 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی جائے گی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اس تبادلے میں حماس سے رہائی پانے والے 4 اسرائیلی یرغمالی ہوں گے۔

    جنگ بندی کے بعد اسرائیلی میڈیا نے غزہ کی صورتحال پر اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ حماس کے کارکن سڑکوں پر دوبارہ سرگرم نظر آ رہے ہیں، اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ حماس نے غزہ میں اپنا کنٹرول دوبارہ قائم کر لیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس کی پولیس دوبارہ منظم ہو رہی ہے اور غزہ کا انتظام سنبھال رہی ہے۔ غزہ میں امن و امان کی بحالی میں حماس کی پولیس آگے نظر آ رہی ہے۔اسرائیلی میڈیا نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ حماس نے غزہ میں سرنگوں سے نکل کر اپنی موجودگی کو دوبارہ ظاہر کیا ہے، اور اس کی مزاحمتی فورسز ٹرکوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اسرائیلی اخبار نے کہا کہ فلسطینی میڈیا جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حماس نے غزہ پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔اسرائیل نے اپنی جنگی حکمت عملی میں دعویٰ کیا کہ اس نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ تاہم اسرائیلی میڈیا نے واضح کیا کہ یہ بٹالینز تباہ نہیں ہوئیں بلکہ ان کے آپریشنل اثرات کو کم کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، حماس نے غزہ میں اپنی حکمت عملی کو برقرار رکھا ہے اور جنگ بندی کے دوران بھی غزہ کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حماس کی مزاحمتی فورسز اب بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں اور اس کا عزم ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔

    غزہ پر اسرائیل کی جارحیت گزشتہ 15 ماہ سے جاری تھی جس میں ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق، اسرائیل کی کارروائیوں میں 47,899 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں اور ہزاروں افراد لاپتا ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی اور شہری انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہوا۔ جنگ بندی معاہدہ اس طویل اور تباہ کن جنگ کا خاتمہ کرنے کی کوشش ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار دونوں طرف کی سیاسی اور عسکری حکمت عملیوں پر ہے۔

    غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ایک اہم موڑ ہے، لیکن اس کے بعد کی صورتحال پیچیدہ اور غیر یقینی نظر آ رہی ہے۔ حماس نے اپنی مزاحمت اور غزہ پر کنٹرول کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے حماس کی عسکری طاقت کو کمزور کیا ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے اپنے موقف اور اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ جنگ بندی معاہدہ پائیدار امن کا باعث بنے گا یا نہیں۔

  • پہلا مرحلہ عارضی،دوسرا مرحلہ بے نتیجہ رہا تو جنگ کا دوبارہ آغاز کریں گے،نیتن یاہو

    پہلا مرحلہ عارضی،دوسرا مرحلہ بے نتیجہ رہا تو جنگ کا دوبارہ آغاز کریں گے،نیتن یاہو

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے جنگ بندی ڈیل کا پہلا مرحلہ عارضی ہے اور دوسرا مرحلہ بے نتیجہ رہا تو جنگ کا دوبارہ آغاز کردیں گے۔

    باغی ٹی وی : غزہ میں جنگ بندی معاہدہ آج سے نافذ العمل ہورہا ہےپاکستانی وقت کے مطابق آج صبح 11 بجے غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو گا، اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں رفح سٹی سے نکلنا شروع کردیا ہے، فوجیں مصر سرحد کے ساتھ فلاڈیلفی راہداری کے ساتھ موجود رہیں گی-

    جنگ بندی کے باقاعدہ آغاز سے چند گھنٹے قبل خطاب کرتےہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی مغویوں کی فہرست ملنے تک جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد نہیں کریں گے جنگ بندی ڈیل کا پہلا مرحلہ عارضی ہے اور دوسرا مرحلہ بے نتیجہ رہا تو جنگ کا دوبارہ آغاز کردیں گے۔

    غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں 33 اسرائیلی مغویوں کے بدلے 1000 فلسطینیوں کی رہائی کا امکان ہے۔

    دوسری جانب غزہ جنگ بندی کے اعلان سے اب تک اسرائیلی حملوں میں مزید 33 فلسطینی بچوں سمیت 122 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

    غزہ میں جنگ بندی معاہدہ :قابض فوج رفح سٹی سے نکلنا شروع

  • غزہ میں جنگ بندی   معاہدہ :قابض فوج رفح سٹی سے نکلنا شروع

    غزہ میں جنگ بندی معاہدہ :قابض فوج رفح سٹی سے نکلنا شروع

    غزہ:پاکستانی وقت کے مطابق آج صبح 11 بجے غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو گا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں رفح سٹی سے نکلنا شروع کردیا ہے، فوجیں مصر سرحد کے ساتھ فلاڈیلفی راہداری کے ساتھ موجود رہیں گی فلسطینی بچے کچھے سامان کے ساتھ تباہ حال گھروں کو واپسی کے منتظر ہیں، جنگ بندی شرو ع ہونے سے پہلے اسرائیلی حملوں میں 33 بچوں سمیت مزید 122 فلسطینی شہید ہوگئےاسرائیل نے وحشیانہ بمباری سے غزہ کی بستیاں ملیا میٹ کردیں، گھر، اسکول،کالج اور اسپتال کھنڈر بن چکے ہیں۔

    غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    غزہ جنگ بندی پراقوام متحدہ کی ایجنسی برائےفلسطینی گزین انروانے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ آئندہ چندگھنٹوں میں جنگ بندی پرعمل درآمدکی توقع ہے، وقت قریب آنےکے ساتھ امید بڑھ رہی ہے، امید ہے بالآخربندوقیں خاموش ہوں گی اور یرغمالی اپنے پیار وں سے ملیں گے، امید ہے ضرورت مندوں تک امداد اور تجارتی اشیا پہنچ پائیں گی، سب کچھ فریقین اور ان پر اثرانداز ہونے والی قو توں کی نیک نیتی پر منحصر ہوگا۔

    قابض افواج کبھی بھی ہمارے عوام اور مزاحمت کو شکست نہیں دے سکتی،ڈاکٹر خلیل الحیہ

    مصری میڈیا کے مطابق امدادی سامان سے بھرے سیکڑوں ٹرک رفع بارڈر پرپہلے ہی موجود ہیں، معاہدے کے تحت جنگ بندی کے دوران روزانہ 600 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہو سکیں گے۔

  • غزہ جنگ بندی معاہدے کے اہم نکات سامنے آ گئے

    غزہ جنگ بندی معاہدے کے اہم نکات سامنے آ گئے

    غزہ میں فریق قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں اور فریقین نے مستقل جنگ بندی کی امید پر معاہدے کیا ہے۔

    رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور حماس کے معاہدے میں 6 ہفتوں کی ابتدائی جنگ بندی کا خاکہ پیش کیا تھا، اس کے تحت وسطی غزہ سے اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا اور شمالی غزہ میں بے گھر فلسطینیوں کی واپسی شامل ہے۔معاہدے کے تحت حماس تمام خواتین (فوجی اور عام شہری) بچوں، اور 50 سال سے زیادہ عمر کے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔معاہدے کے تحت غزہ میں ہر روز انسانی امداد کے 600 ٹرکس کی اجازت دی جائے گی، ان میں سے 50 ایندھن لے کر جائیں گے اور 300 ٹرک شمال کے لیے مختص کیے جائیں گے۔

    معاہدے کے مطابق اسرائیل ہر یرغمال شہری کے بدلے 30 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا اور ہر اسرائیلی خاتون فوجی کی رہائی کے بدلے 50 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔حماس 6 ہفتوں کے دوران یرغمالیوں کو رہا کرے گی، اس دوران ہر ہفتے 3 یرغمالی رہا کیا جائیں گے اور بچ جانے والی یرغمالی اس مدت کے اختتام سے پہلے چھوڑ دیے جائیں گے۔تمام زندہ یرغمالیوں کو پہلے رہا کیا جائے گا اور اس کے بعد مردہ یرغمالیوں کی باقیات حوالے کردی جائیں گی۔معاہدے پر عمل درآمد کی ضمانت قطر، مصر اور امریکا دیں گے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ غزہ معاہدے کے حوالے سے گیند حماس کے کورٹ میں ہے۔واشنگٹن میں اٹلانٹک کونسل کے تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ ایران کی حمایت یافتہ عسکری تنظیم حزب اللہ سب کچھ گنوانے کے بعد ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ حزب اللہ کے خاتمے کے بعد ایران کی اہم سپلائی لائن تباہ ہوگئی، خطے میں امن، استحکام کے لیے ایران کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی پر مہر لگانا حماس پر منحصر ہے جب کہ حتمی تجویز قطر میں مذاکرات کی میز پر ہے، گیند اب حماس کے کورٹ میں ہے۔

    کراچی کیلیے بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان

    جنوبی افریقہ کو جھٹکا، فاسٹ بولر اینرچ نورکیا چیمپئنز ٹرافی سے باہر

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

    حماس نے جنگ بندی معاہدے کی منظوری دیدی

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلا جھٹکا، کوچ نےمعذرت کر لی