Baaghi TV

Tag: غزہ

  • غزہ جنگ : اختلافات پر  نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کےاہم رکن اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

    غزہ جنگ : اختلافات پر نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کےاہم رکن اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

    یروشلم: اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کےاہم رکن اوروزیربینی جینٹس نے غزہ جنگ کے حوالے سے اختلافات پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیرجیننٹس نے اتوارکو اپنی وزرات سے استعفیٰ دے دیا اور خود کو وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت سے علیحدہ کرلیا جو غزہ جنگ کے حوالےسے تشکیل دی گئی جنگی کابینہ کا حصہ تھے۔

    نیوز کانفرنس میں مستعفی وزیرنے بتایا کہ انہوں نے غزہ میں مہینوں سے جاری جنگ کی وجہ سے جنگجو رہنما سے اپنے آپ کوعلیحدہ کرلیا ہے،وزیراعظم نیتن یاہو کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ہمیں غزہ میں کامیابی حاصل نہیں ہورہی ہے جس کی وجہ سے آج وہ دلبرداشتہ ہوکرکابینہ سے استعفے کافیصلہ کررہےہیں۔

    اسرائیل کی غزہ میں کارروائیاں،200 سے زائد فلسطینی شہید

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے قریبی وزیرکے استعفیٰ سے متعلق کہا کہ اس اقدام سے ان کی حکومت کو پارلیمنٹ میں 64 نشستوں کی برتری حاصل ہے اس لیے ان کے جانے سے حکومت کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

    واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 37 ہزار 84 فلسطینی شہید جبکہ 84 ہزار 494 فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں-

    اقوام متحدہ کا اسرائیلی فوج کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ

  • اسرائیلی فوج کی غزہ میں جارحیت جاری،مزید 283 افراد شہید اور 814 زخمی

    اسرائیلی فوج کی غزہ میں جارحیت جاری،مزید 283 افراد شہید اور 814 زخمی

    غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 37 ہزار سے تجاوز کر گئی-

    باغی ٹی وی :عرب میڈیا نے غزہ کی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 37 ہزار 84 فلسطینی شہید جبکہ 84 ہزار 494 فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں گزشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ میں 283 افراد شہید اور 814 زخمی ہوئے، شہید اور زخمی ہونے والوں کی بڑی تعداد گزشتہ روز نصیرات میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے جانے والے قتل عام کا نشانہ بنی، گزشتہ روز غزہ کے نصیرات کیمپ میں اسرائیلی حملوں میں 274 فلسطینی شہید اور 698 زخمی ہوئے۔

    گزشتہ روز اسرائیل کی اسپیشل فورسز نے وسطی غزہ کی پٹی سے چار یرغمالیوں کو بازیاب کرایا، اس مقصد کیلئے انہوں نے انسانی امداد کے ٹرک کا استعمال کیا اور نصرات پناہ گزین کیمپ میں گھس گئےذرائع نے نیوز ایجنسی انادولو کو بتایا کہ اسرائیلی اسپیشل فورسز نے یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے دراندازی کی کارروائی میں ایک ٹرک اور ایک سویلین گاڑی کا استعمال کیا۔

    اسرائیل کی غزہ میں کارروائیاں،200 سے زائد فلسطینی شہید

    انہوں نے مزید بتایا کہ اسرائیلی اسپیشل فورسز نے جن گاڑیوں کا استعمال کیا ، عام طور پر ایسی گاڑیاں غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں استعمال ہوتی ہیں،اسرائیلی فوج کی گاڑیاں غیر متوقع طور پر نصرات کیمپ کے مشرق اور شمال مغرب کے علاقوں میں داخل ہوئیں اور کیمپ کے بڑے علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے بھاری توپ خانے سے بمباری بھی کی-

    اقوام متحدہ کا اسرائیلی فوج کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ

  • اسرائیل کی غزہ میں کارروائیاں،200 سے زائد فلسطینی شہید

    اسرائیل کی غزہ میں کارروائیاں،200 سے زائد فلسطینی شہید

    غزہ: اسرائیل کی فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں درجنوں فضائی، بری اور بحری کارروائیاں کیں اور اس کے نتیجے میں 200 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے-

    باغی ٹی وی : الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ ہفتے کو درجنوں فضائی کارروائیاں کی گئیں اور خاص طور پر مرکزی غزہ کے علاقوں دیرالبلاح اور نصیرت ، جنوب میں رفح کے مغربی علاقوں میں رہائشی عمارتیں اور غزہ سٹی کے شمال میں کئی علاقے نشانہ بنے،الاقصیٰ شہدا اسپتال میں شہیدوں اور زخمیوں کی بڑی تعداد لائی گئی ہے اور ان میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے پورے غزہ میں ادویات اور غذائی قلت کا سامنا ہے اور ایندھن کی کمی کی وجہ سے اسپتال کا مرکزی جنریٹر بھی بند ہوگیا ہے، نصیرت اور وسطی غزہ کے دیگر علاقوں میں اسرائیلی کارروائیوں سے 210 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔

    صحافی نصراللہ گڈانی کے قتل کا مرکزی ملزم گرفتار

    قبل ازیں ترجمان وزارت صحت کا کہنا تھا کہ گلیوں میں تاحال کئی لاشیں اور زخمی افراد پڑے ہوئے ہیں اسرائیل کی بدترین بمباری کے باعث علاقے میں رابطے کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے تاہم الجزیرہ کے رپورٹر نے ٹیلی فون کے ذریعے آگاہ کیا کہ حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وحشت زدہ شہری بے بس ہیں کہ وہ کہاں جائیں، ہر منٹ بعد دھماکا ہوتا ہے، ایمبولینسز زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہی ہیں جہاں ہم پھنسے ہوئے ہیں، ہسپتال کے اندر افراتفری کا ماحول ہے، زخمیوں میں بچوں کی بڑی تعداد ہے۔

    اقوام متحدہ کا اسرائیلی فوج کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے مختصر بیان میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے نصیرت میں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے جبکہ بعد میں ایک بیان میں بتایا کہ نصیرت میں کارروائی کے دوران زیرحراست 4 اسرائیلیوں کو رہا کروایا ہے، جنہیں 7 اکتوبر کو حماس نے گرفتار کیا تھا۔

    حکومت فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے زراعت میں جدت کے لیے کوشاں ہے،شہباز …

  • اقتدار میں آنے کے بعد غزہ میں جاری جنگ رکوادوں گا،ڈونلڈ ٹرمپ کا دعوی

    اقتدار میں آنے کے بعد غزہ میں جاری جنگ رکوادوں گا،ڈونلڈ ٹرمپ کا دعوی

    نیوجرسی: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد غزہ میں جاری جنگ رکوادیں گے۔

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا پر ریپبلکن پارٹی کی طرف سے امریکا کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی سابق مکس مارشل آرٹ خبیب نُرماگومیڈوف کے ساتھ ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہی ہے،ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ خبیب کو یقین دہانی کروا رہے ہیں کہ اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہوگئے تو غزہ میں جاری جنگ رکوا دیں گے۔

    میل آن لائن کے مطابق سابق صدر ٹرمپ نے ریاست نیوجرسی کے شہر نیوآرک میں پروڈینشل سینٹر میں منعقدہ یو ایف سی 302 ایونٹ میں شرکت کی، جہاں ان کی ملاقات سابق یو ایف سی لائٹ ویٹ چیمپئن سے ہوئی اور دونوں شخصیات کے درمیان خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی، خبیب نُرماگومیڈوف نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا وہ جانتے ہیں آپ فلسطین جنگ رکوادیں گے، جس پر سابق امریکی صدر نے انہیں جواب دیا اقتدار میں آنے کے بعد وہ یہ جنگ رکوادیں گے۔

  • قطر میں کانفرنس،32 سے زائد ممالک کے مندوبین کی شرکت،علامہ راشد محمود سومرو شریک

    قطر میں کانفرنس،32 سے زائد ممالک کے مندوبین کی شرکت،علامہ راشد محمود سومرو شریک

    ھیئۃ العلماء فلسطین کی جانب سے قطر میں مندوبین کی بڑی بیٹھک ہوئی

    دنیا بھر کے 32 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے نامور علماءکرام مفتیان عظام اور مشائخ نے شرکت کی،قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان کے نمائندے کی حیثیت سے علامہ راشد محمود سومرو کی کانفرنس میں شرکت کی، جن مسلم رہنماؤں نے فلسطین کے مظلوموں کی آواز بننے کے ساتھ ساتھ انکو میدان میں نہتا نہیں چھوڑا۔ اہل فلسطین کی نمائندگی کرنے والے رہنماؤں کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے پاکستان سے صرف جمعیت علماء اسلام کے قائد حضرت مولانا فضل الرحمن کو خصوصی دعوت دی گئی ۔قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن مظفرگڑھ میں عوامی اسمبلی میں شرکت کی وجہ سے اس بیٹھ میں شرکت سے قاصر رہے ۔

    علامہ راشد محمود سومرو نے اسماعیل ھنیہ اور خالد مشعل سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقات کرکے مولانا فضل الرحمن کا خصوصی پیغام پہنچایا ،قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی جانب سے علامہ راشدمحمود سومرو نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم فلسطین کے علماء کرام کے شکر گزار ہیں ،ہم کانفرنس میں شرکت کی دعوت پر ممنون ہیں جمعیت علماء اسلام روز اول سے اھل فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے۔جمعیت علماء اسلام نے پاکستان مین اب تک طوفان اقصی کے نام سے نو ملین مارچ کئے ہیں ، رمضان المبارک میں مکہ عالمی کانفرنس میں اھل فلسطین کے لئے سب سے پہلی اور توانا آواز حضرت مولانا فضل الرحمن نے بلند کی تھی ۔ جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن پاکستان کے پارلیمنٹ میں بھی اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے حکومت و افواج پاکستان کو بھی اس بات پر قائل کرنے کی بارہا کوشش کی ہیکہ فلسطین پر جاری بربریت اور جارحیت کے خلاف حکومت و افواج پاکستان کو کسی صورت خاموش نہیں رہنا چاہئے ۔مولانا فضل الرحمن کی اپیل پر کارکنان جمعیت نے اھل غزہ کی جو مالی مدد کی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اسکو مزید بڑھانے کے لئے کوشش کریں گے ۔ مولانا فضل الرحمن اور جمعیت علماء اسلام کی جانب سے اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے کی سزا امریکی ایما پر انتخابات میں ہمارے امیدواران کو ہروا کر دیا گیا،جمعیت علماء اسلام پاکستان نہ صرف اھل فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے بلکہ ھر حال میں مالی اخلاقی اور سیاسی تعاون جاری رکھے گی ، فلسطین میں انشاءاللہ فتح حق کی ہی ہوگی اور باطل کا منہ کالا ہوگا ۔

    اس موقع پر اسماعیل ھانیہ اور خالد مشعل سمیت فلسطین کی مکمل لیڈر شپ نے مولانا فضل الرحمن کی صحت یابی کے لئے دعاکی اور انکے بھرپور تعاون پر انکا شکریہ ادا کیا

    سائفر سیکیورٹی کا مقصد یہی ہے کہ سائفر کو کسی غیر متعلقہ شخص کے پاس جانے سے روکا جائے،

    سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اعظم خان نے اعتراف کیا سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی،عدالت

    ثابت کریں کہ جو پبلک ریلی میں لہرایا گیا وہ سائفر تھا ،عدالت کا پراسیکیوٹر سے مکالمہ

    سائفر کیس، عمران خان، قریشی کو سزا سنانے والے جج بارے اہم فیصلہ

    سائفر کی کاپی کی ساری ذمہ داری پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر تھی،وکیل عمران خان

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

  • اسرائیلی جنگی کابینہ نے امریکی صدر کی جنگ بندی تجاویز کی منظوری دیدی

    اسرائیلی جنگی کابینہ نے امریکی صدر کی جنگ بندی تجاویز کی منظوری دیدی

    تل ابیب: اسرائیلی جنگی کابینہ نے امریکی صدر کی جنگ بندی تجاویز کی منظوری دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیلی جنگی کابینہ نے امریکی صدر کی جنگ بندی تجاویز کی منظوری دے دی ہے اور انہیں اب حماس کے ردعمل کاانتظار ہے،اسرائیلی حکام نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جنگی مقاصد پورے ہونے، مغویوں کی رہائی اور حماس کی تباہی تک مستقل جنگ بندی کے لیے رضامند نہیں ہوں گے۔

    دوسری طرف امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ اگر حماس امریکی تجاویز پر رضامند ہوجائے تو اسرائیل بھی مان جائے گا،امریکا کی دی گئی تجاویز اسرائیلی تجاویز تھیں، حماس مان جائے تو اسرائیل بھی ہاں کہہ دے گا۔

    غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے نیا جنگ بندی …

    گزشتہ روز فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے انخلا کے لیے پیش کردہ تجاویز کی حمایت کی تھی،حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے پیش کیا گیا مجوزہ جنگ بندی معاہدہ جس میں ‘اسرائیلی افواج کا انخلا، غزہ کی تعمیر نو اور قیدیوں کا تبادلہ’ شامل ہیں کو ہم مثبت سمجھتے ہیں کسی بھی ایسی تجویز پر مثبت اور تعمیری انداز میں عمل درآمد کے لیے تیار ہیں جس سے غزہ کی تعمیر نو ہوسکے اور بے گھر افراد کی اپنے گھروں میں واپسی ممکن ہوسکے۔

    حماس کی امریکی صدر کی غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے پیش کردہ تجاویز کی حمایت

    واضح رہے کہ صدر بائیڈن کے تین مراحل پر مشتمل مجوزہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 6 ہفتے کی جنگ بندی، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی، غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کی واپسی، امداد کی فراہمی، دوسرے مرحلے میں مستقل جنگ بندی کی بات چیت اور تیسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو شامل ہے۔

  • غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے نیا جنگ بندی معاہدہ تجویز

    غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے نیا جنگ بندی معاہدہ تجویز

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے نیا جنگ بندی معاہدہ تجویز کردیا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دراصل اسرائیل کی جانب سے پیش کیا گیا ہے اور اسے ثالثوں کے ذریعے حماس تک پہنچا دیا گیا ہے،مجوزہ جنگ بندی معاہدہ 3 مراحل پر مشتمل ہے۔

    مجوزہ معاہدے کے تحت جنگ بندی کا پہلا مرحلہ 6 ہفتے طویل ہوگا جس میں مکمل جنگ بندی ہوگی اور اسرائیل فوج غزہ کے آبادی والے علاقوں میں سے نکل جائے گی اس مرحلے میں غزہ میں موجود خواتین اور بزرگ اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا جن کے بدلے میں سنیکڑوں فلسطینی قیدی رہا ہوں گے، اسی مرحلے میں غزہ میں موجود امریکی مغوی بھی رہا کیے جائیں گے۔

    یورپ کی جانب سے پاکستان پر عائد سفری پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ نہ ہوسکا

    عرب میڈیا کے مطابق اسی مرحلے میں ہلاک مغویوں کی لاشیں بھی ورثا کے حوالے کی جائیں گی اور شمالی غزہ سمیت پورے غزہ میں شہری اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے اس دوران غزہ میں روزانہ 600 امدادی ٹرک داخل ہوں گے اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے ہزاروں خیمے تقسیم کیے جائیں گے،دونوں جانب سے جنگ بندی معاہدہ تسلیم کیے جانے کے بعد یہ مرحلہ فوری شروع کیا جاسکے گا۔

    دوسرے مرحلے میں تمام زندہ مغویوں بشمول مرد فوجیوں کا تبادلہ ہوگا اور اسرائیلی فوج غزہ سے مکمل طور پر انخلا کرے گی،جبکہ تیسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کا آغاز کیا جائے گا۔

    امریکی صدر نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اسرائیل میں کچھ لوگ اس منصوبے سے خوش نہیں ہوں گے لیکن میں اسرائیلی حکومت سے کہتا ہوں کہ ہر طرح کے دباؤ سے قطع نظر اس معاہدے کی حمایت کرے۔

    سعودی تیل کمپنی آرامکو نے گیس اینڈ آئل پاکستان کے 40 فیصد حصص خرید …

    اگر قابض افواج غزہ میں ہمارے لوگوں کے خلاف جنگ اور جارحیت روک دیں تو ہم ایک مکمل معاہدہ طے کرنے کے لیے تیار ہیں،حماس

    دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ اس نے ثالثوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ جاری جارحیت کے دوران مزید مذاکرات میں حصہ نہیں لے گی لیکن اسرائیل کے جنگ بند کر دینے کی صورت میں یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے سمیت ایک "مکمل معاہدے” کے لیے تیار ہے۔

    حماس کا تازہ ترین بیان اس وقت سامنے آیا ہے جبکہ اسرائیل غزہ کے جنوبی شہر رفح پر فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے حالانکہ اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت یعنی بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے اسے یہ کارروائی روک دینے کا حکم دیا ہے۔

    "العربیہ ” کے مطابق حماس کے بیان میں کہا گیا کہ حماس اور فلسطینی دھڑے ہمارے لوگوں کے خلاف جارحیت، محاصرے، فاقے اور نسل کشی کے پیشِ نظر (جنگ بندی) مذاکرات جاری رکھ کر اس پالیسی کا حصہ بننا قبول نہیں کریں گے،آج ہم نے ثالثوں کو اپنے واضح مؤقف سے آگاہ کر دیا کہ اگر قابض افواج غزہ میں ہمارے لوگوں کے خلاف جنگ اور جارحیت روک دیں تو ہم ایک مکمل معاہدہ طے کرنے کے لیے تیار ہیں جس میں ایک جامع تبادلہ معاہدہ بھی شامل ہے۔”

    31 مئی تاریخ کے آئینے میں

    اسرائیل نے حماس کی ماضی کی پیشکشوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی تباہی پر تلے ہوئے گروہ کا صفایا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کی رفح میں جارحیت یرغمالیوں کو بچانے اور حماس کے مزاحمت کاروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر مرکوز ہے۔

  • اسرائیل کا بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ،خواتین ،بچوں سمیت 75 شہید

    اسرائیل کا بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ،خواتین ،بچوں سمیت 75 شہید

    اسرائیل باز نہ آیا، اسرائیل نے غزہ میں بمباری کی، اسرائیلی حملہ رفح میں بے گھر افراد کے کیمپ پر کیا گیا، حملے میں 75 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، شہدا میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں

    اسرائیل نے آج پیر کی صبح رفح پر حملہ کیا، اسرائیل کی جانب سے بمباری کے بعد رفح میں بے گھر افراد کے کیمپ میں آ گ لگ گئی، حملے میں 75 شہادتیں ہوئی ہیں، زیادہ شہادتیں جھلس جانے کی وجہ سے ہوئی ہیں، متعدد افراد زخمی ہیں، شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، رفح میں پناہ گزین کیمپ میں شمالی غزہ سے بے دخل فلسطینیوں کی بڑی تعداد میں مقیم ہے

    میڈیا پورٹس کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں اقوام متحدہ کے کیمپوں پر دسویں بار حملہ کیا ہے نو حملے پہلے ہو چکے ہیں،اسرائیل نے 24 گھنٹوں میں 230 سے زائد فلسطینیوں کا قتل عام کیا اس سے قبل اسرائیل نے جبالیہ، نصیرت اور غزہ سٹی میں کیمپوں پر حملوں میں 160 فلسطینیوں کا قتل کیا

    اسرائیل نے رفح پر حملے کے بعد دعویٰ کیا کہ اسرائیلی طیاروں نے رات رفح میں حماس کے ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا، حملےکے مقام پر حماس کے اہم ارکان ٹھہرے ہوئے تھے ،غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 36 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ رفح میں بے گھر افراد کے لیے ایک کیمپ قائم کیا گیا جہاں اسرائیل نے حملہ کیا۔ شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ النجلہ میں ایک گھر پر اسرائیلی فوج کے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    قبل ازیں گزشتہ روز حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا، حماس نے تل ابیب پر میزائل حملہ کیا تھا، حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر دعویٰ کیا کہ یہ راکٹ صیہونی شہریوں کے قتل عام کے جواب میں داغے گئے ہیں، راکٹ غزہ کی پٹی سے فائر کیے گئے۔ تاہم ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی کوئی خبر نہیں ملی

    حماس مجاہدین نےمتعدد اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا

    اسرائیل کا عالمی عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو جرمنی میں داخل ہوئے تو گرفتار کرلیا جائے گا،جرمن چانسلر

    عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

  • غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری،مزید 85 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری،مزید 85 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری ہیں،چوبیس گھنٹوں میں 70 مقامات پر بمباری کی گئی، جس میں مزید 85 فلسطینی شہید اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے،شہدا کی تعداد 35 ہزار 600 سے زیادہ ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے ان حملوں عمارتیں منہدم ہونے سے بہت سے افراد ملبے میں دب گئے جبالیہ کیمپ میں بھی فائرنگ کرکے درجنوں فلسطینیوں کو شہید کیا گیا صہیونی فورسز نے شمالی غزہ کے کمال عدوان اسپتال کا محاصرہ کرلیا اسرائیلی ٹینکوں نے اسپتال کی ایمرجنسی کے دروازے پر گولا باری کی اسپتال کے عملے، مریضوں اور زخمیوں کو نکل جانے کا حکم دیا گیا،اسرائیلی حملوں کے باعث غزہ میں امدادی سامان اور ایندھن کی شدید قلت ہے –

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، …

    فلسطینی مہاجرین کے لیے کام کرنے والی تنظیم انروا کے مطابق غزہ کے جنوبی علاقے رفح میں اس وقت خوراک کی تقسیم معطل ہے۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انروا نے کہا کہ عدم تحفظ اور امدادی سامان کی قلت کے باعث رفح میں اس وقت خوراک کی تقسیم معطل ہے،رواں ماہ غزہ نے جنوب اور شمال میں اسرائیلی حملوں کے باعث فلسطینیوں کو ایک بار پھر اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنی پڑی ان حملوں کے نتیجے میں غزہ میں امداد کی رسائی بھی متاثر ہوئی جس سے غذائی قلت کا خطرہ بڑھ گیا۔

    لاہور سمیت ملک کے بیشتر علاقے اِس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں

    اپنے بیان میں انروا کا کہنا تھا کہ اس کے 24 مراکز صحت میں سے صرف 7 مراکز ہی فعال ہیں رفح کراسنگ اور کرم ابو سالم کراسنگ کی بندش کی وجہ سے گزشتہ 10 روز سے اسے کسی قسم کا طبی سامان موصول نہیں ہوا 7 اکتوبر سے اب تک غزہ میں 35 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں انروا کے پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے 449 افراد بھی شامل ہیں اب تک انروا کے مراکز اور ان میں موجود لوگوں پر 382 حملے ہوچکے ہیں جبکہ انروا کے 189 اہلکار بھی اس تنازع کا شکار ہوچکے ہیں ،قوام متحدہ کے آفس فار دی کو آرڈینیشن آف ہیومنٹیرئین افیئرز کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک مغربی کنارے میں 480 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں 116 بچے بھی شامل ہیں۔

    قیمتی پتھروں کی صنعت میں ویلیو ایڈیشن کے حوالے سے تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں، …

  • عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

    عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

    عالمی عدالت انصاف ، پراسیکیوٹر نے اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کردی

    انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں پراسیکیوشن نے اسرائیلی وزیراعظم، وزیرخارجہ اور حماس کے رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کردی ہے،عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے غیر ملکی خبر ایجنسی کو انٹرویو میں بتایا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست دی ہے،عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ ،حماس کے سرکردہ رہنماؤں القاسم بریگیڈ کے رہنما محمد ضیف اور حماس کے اسماعیل ہنیہ،یحییٰ سنوار کے وارنٹ طلبی کی درخواست دائر کی ہے

    https://x.com/intlcrimcourt/status/1792511246769570084?s=46&t=UJzUvndbKkvbo4lbzD2Z9w&mx=2

    آئی سی سی کے ججوں کا ایک پینل اب پراسیکیوٹر کریم خان کی گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست پر غور کرے گا۔کریم خان نے بتایا کہ یحیٰ سنوار، اسماعیل ہنیہ اور المصری کے خلاف الزامات میں "قتل، یرغمال بنانا، عصمت دری اور حراست میں جنسی زیادتی شامل ہیں، نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف الزامات میں جنگ کے طریقہ کار کے طور پر بھوکا مارنا، بشمول انسانی امداد کی فراہمی سے انکار، جان بوجھ کر تنازعات میں شہریوں کو نشانہ بنانا شامل ہیں۔

    پراسیکیوٹر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے، اگر اسرائیل آئی سی سی سے متفق نہیں ہے تو وہ ججوں کے سامنے اسے چیلنج کرنے میں آزاد ہے

    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ آج میں ریاست فلسطین کی صورتحال میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پری ٹرائل چیمبر I کے سامنے وارنٹ گرفتاری کے لیے درخواستیں دائر کی ہیں۔یحیٰ سنوار،محمد دیاب ابراہیم المصری،اسماعیل ہنیہ کے بھی وارنٹ کی درخواست کی ہے،ان پر بھی جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی مجرمانہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے،انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر قتل، یرغمال بنانا ایک جنگی جرم ؛عصمت دری اور جنسی تشدد کی دیگر کارروائیوں کو انسانیت کے خلاف جرائم کے طور پر؛تشدد کو انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر،

    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ ان درخواستوں میں جنگی جرائم کا ارتکاب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک بین الاقوامی مسلح تصادم اور اسرائیل اور حماس کے درمیان متوازی طور پر چلنے والے ایک غیر بین الاقوامی مسلح تصادم کے تناظر میں کیا گیا تھا۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ انسانیت کے خلاف جن جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے وہ تنظیمی پالیسیوں کے مطابق حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے ذریعہ اسرائیل کی شہری آبادی کے خلاف وسیع پیمانے پر اور منظم حملے کا حصہ تھے۔ ان میں سے کچھ جرائم آج تک جاری ہیں۔یحیٰ سنوار، ضٰف اور اسماعیل حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے حملوں میں،یہ سینکڑوں اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔ اکتوبر 2023 میں کم از کم 245 یرغمال بنائے۔ ہماری تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر، میرے دفتر نے متاثرین اور بچ جانے والوں کا انٹرویو کیا ہے، بشمول سابق یرغمالیوں اور حملے کے چھ بڑے مقامات کے عینی شاہدین کا، ثبوتوں کے لئے آڈیو ، ویڈیوز، اراکین کے بیانات موجود ہیں،ان افراد نے 7 اکتوبر 2023 کو جرائم کی منصوبہ بندی کی اور اکسایا ،یہ جرائم ان کے اعمال کے بغیر سرزد نہیں ہو سکتے تھے۔ ان پر روم سٹیٹیوٹ کے آرٹیکل 25 اور 28 کے مطابق شریک مرتکب اور اعلیٰ افسر کے طور پر دونوں الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اسرائیل سے یرغمال بنائے گئے افراد کو غیر انسانی حالات میں رکھا گیا ہے، اور یہ کہ بعض کو قید میں رکھنے کے دوران عصمت دری سمیت جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہم میڈیکل ریکارڈز، عصری ویڈیو اور دستاویزی ثبوتوں، اور متاثرین اور بچ جانے والوں کے انٹرویوز کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ میرا دفتر 7 اکتوبر کو ہونے والے جنسی تشدد کی رپورٹوں کی تحقیقات بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔میں زندہ بچ جانے والوں، اور 7 اکتوبر کے حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے آگے آنے کی جرات کی۔ ہم ان حملوں کے ایک حصے کے طور پر کیے گئے تمام جرائم کی تحقیقات کو مزید گہرا کرنے پر مرکوز ہیں اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔میں ایک بار پھر سے تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہوں۔

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو، یوو گیلنٹ
    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ میرے دفتر کے ذریعے جمع کیے گئے اور جانچے گئے شواہد کی بنیاد پر، میرے پاس یہ ماننے کے لیے معقول بنیادیں ہیں کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ، درج ذیل جنگی جرائم اور جرائم کے لیے مجرمانہ ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ جنگی جرم کے طور پر جنگ کے طریقہ کار کے طور پر شہریوں کا بھوکا رہنا؛ جان بوجھ کر شدید تکلیف پہنچانا، یا جسم یا صحت کو شدید چوٹ پہنچانا،ظالمانہ سلوک؛ جان بوجھ کر قتل، جنگی جرم کے طور پر جان بوجھ کر شہری آبادی کے خلاف حملوں کی ہدایت کرنا؛انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر ظلم و ستم؛انسانیت کے خلاف جرائم کے طور پر دیگر غیر انسانی کارروائیاں۔

    میرا دفتر عرض کرتا ہے کہ ان درخواستوں میں جنگی جرائم کا ارتکاب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک بین الاقوامی مسلح تصادم کے تناظر میں کیا گیا تھا، اور اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک غیر بین الاقوامی مسلح تصادم (دوسرے فلسطینی مسلح گروپوں کے ساتھ) متوازی چل رہا تھا۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب ریاستی پالیسی کے مطابق فلسطینی شہری آبادی کے خلاف وسیع اور منظم حملے کے حصے کے طور پر کیا گیا تھا۔ یہ جرائم، ہماری تشخیص میں، آج تک جاری ہیں۔

    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ ہم نے جو شواہد اکٹھے کیے ہیں، بشمول زندہ بچ جانے والوں اور عینی شاہدین کے انٹرویوز، تصدیق شدہ ویڈیو، تصویر اور آڈیو مواد، سیٹلائٹ کی تصاویر اور مبینہ مجرم گروپ کے بیانات، ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے ملک کے تمام حصوں میں شہری آبادی غزہ کو اشیاء سے محروم رکھا ،یہ غزہ پر مکمل محاصر ہ تھا، 8 اکتوبر 2023 سے تین سرحدی کراسنگ پوائنٹس، رفح، کریم شالوم اور ایریز کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا اور پھر ضروری سامان کی منتقلی پر پابندی لگا دی گئی، بشمول خوراک اور ادویات۔ اسرائیل سے غزہ تک سرحد پار پانی کی پائپ لائنوں کو کاٹا گیا، غزہ کے شہریوں‌کو صاف پانی سے محروم کیا اور کم از کم 8 اکتوبر 2023 سے آج تک بجلی کی سپلائی کو منقطع کرنا اور اس میں رکاوٹ ڈالنا بھی شامل ہے۔ یہ عام شہریوں پر دوسرے حملوں کے ساتھ ہوا ، انسانی ہمدردی کے اداروں کی طرف سے امداد کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالی گئی،اور امدادی کارکنوں پر حملے اور ان کا قتل کیا گیا جس کی وجہ سے بہت سے امداد ی ایجنسیوں کو غزہ میں اپنی کارروائیاں بند کرنے یا محدود کرنے پر مجبور کیا گیا، یہ کارروائیاں بھوک کو جنگ کے طریقہ کار کے طور پر استعمال کرنے اور غزہ کی شہری آبادی کے خلاف تشدد کی دیگر کارروائیوں کے ایک مشترکہ منصوبے کے حصے کے طور پر کی گئی تھیں (i) حماس کو ختم کرنے کے لیے؛ (ii) ان یرغمالیوں کی واپسی کو محفوظ بنانے جنہیں حماس نے اغوا کیا ہے، اور (iii) غزہ کی شہری آبادی کو اجتماعی طور پر سزا دینا، جنہیں وہ اسرائیل کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے دو ماہ سے زیادہ پہلے خبردار کیا تھا، "غزہ میں 1.1 ملین لوگ تباہ کن بھوک کا سامنا کر رہے ہیں – ایک "مکمل طور پر انسان ساختہ تباہی” کے نتیجے میں – کہیں بھی، کسی بھی وقت ریکارڈ کیے گئے لوگوں کی سب سے زیادہ تعداد۔ آج، میرا دفتر ان سب سے زیادہ ذمہ داروں میں سے دو، NETANYAHU اور GALLANT پر فرد جرم عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اسرائیل، تمام ریاستوں کی طرح، اپنی آبادی کے دفاع کے لیے کارروائی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم یہ حق اسرائیل یا کسی بھی ریاست کو بین الاقوامی انسانی قانون کی تعمیل کرنے کی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔ ان کے کسی بھی فوجی اہداف کے باوجود، اسرائیل نے غزہ میں ان کو حاصل کرنے کے لیے جن ذرائع کا انتخاب کیا ہے – یعنی جان بوجھ کر موت، بھوک، اور شہری آبادی کے جسم یا صحت کو شدید چوٹ پہنچانا – مجرمانہ ہیں۔