Baaghi TV

Tag: غزہ

  • غزہ جنگ:  اردن میں کرسمس کی روایتی تقریبات منسوخ

    غزہ جنگ: اردن میں کرسمس کی روایتی تقریبات منسوخ

    غزہ جنگ کے باعث اردن میں کرسمس کی روایتی تقریبات منسوخ کر دی گئیں۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق اردن نے رواں سال غزہ کے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے کرسمس سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا ہے اردنی چرچ کونسل کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے باعث فلسطینی عوام سے ہمدری کے لیے اس سال کرسمس سادگی سے منایا جائے گا۔

    اس سے قبل غزہ میں جانی نقصانات پر فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں موجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش بیت لحم میں کرسمس کی تقریبات منسوخ کردی گئی تھیں، بیت لحم میونسپلٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش پر کرسمس کی روایتی تقریبات نہیں ہوں گی۔

    غزہ:اسرائیلی بمباری سے تباہ مکان کے ملبے سے37 دن بعد نومولود زندہ نکل آیا

    بیت لحم میونسپلٹی کا کہنا تھا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے جانی نقصان کے سوگ میں تقریبات منسوخ کی جارہی ہیں، اس مرتبہ کرسمس روایتی سجاوٹ، روشنیوں اور کرسمس ٹری کے بغیر سادگی سے منائی جائے گی اور صرف دعائیہ و مذہبی تقریبات ہوں گی۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی حملوں میں 14 ہزار 500 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جن میں بچوں اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہے،جمعہ سے اسرائیل نے 4 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور پیر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا آخری روز تھا لیکن عارضی جنگ بندی میں مزید 2 دن کی توسیع کردی گئی ہے۔

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کے نتیجے میں وہاں کی آبادی کو بمباری سے زیادہ بیماریوں سے موت کے خطرات لاحق ہیں۔

    غزہ میں مختلف وبائی امراض بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں،عالمی ادارہ صحت

    غزہ کے مکینوں کو خوفناک بمباری، محاصرے اور بیماریوں کے سامنے آنے کے بعد عالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے منگل کے روز کہا کہ غزہ کے باشندوں کی بڑی تعداد کو بمباری سے بیماریوں سے مرنے کا خطرہ ہے۔ اگر صحت کے نظام کو تیزی سے معمول پرنہ لایا جا سکا تو آبادی کو شدید خطرات لاحق ہیں،بالآخر اگر ہم صحت کے اس نظام کو دوبارہ فعال نہ کر سکے تو ہم بمباری سے زیادہ لوگوں کو بیماری سے مرتے ہوئے دیکھیں گے،انہوں نے شمالی غزہ میں الشفاء ہسپتال کے منہدم ہونے کو ایک "المیہ” قرار دیا اور اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں اس کے طبی عملے کی حراست میں لینے پر تشویش کا اظہار کیا۔

    نیتن یاہو اور ایلون مسک کا حماس کو تباہ کرنے میں 

  • غزہ:اسرائیلی بمباری سے تباہ  مکان کے ملبے سے37 دن بعد نومولود زندہ نکل آیا

    غزہ:اسرائیلی بمباری سے تباہ مکان کے ملبے سے37 دن بعد نومولود زندہ نکل آیا

    غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تباہ مکان کے ملبے سے37 دن بعد نومولود زندہ نکل آیا۔

    باغی ٹی وی : اسرائیل کے غزہ میں فضائی، بری اور بحری حملے 44 روز سے زائد جاری رہے،اسرائیلی حملوں میں 14 ہزار 500 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جن میں بچوں اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہےکئی روز کی بمباری کے بعد جمعہ سے اسرائیل نے 4 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور پیر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا آخری روز تھا لیکن عارضی جنگ بندی میں مزید 2 دن کی توسیع کردی گئی ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی بمباری سے غزہ میں جہاں تباہ مکانات سے کئی فلسطینی ملبے تلے دبنے سے شہید ہوئے وہیں معجزاتی طور پر ایک نومولود کو 37 دن بعد ملبے سے زندہ نکال لیا گیا اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ میں ریسکیو آپریشن کے دوران 37 دن بعد مکان کے ملبے کے نیچے سے ایک نوزائیدہ بچہ زندہ حالت میں ملاجسے دیکھ کر حکام بھی حیران ہوگئے۔

    امریکی ڈالر انٹر بینک میں سستا

    https://x.com/gazanotice/status/1729139565930402162?s=20
    فلسطین کی سول ڈیفنس کے ایک رکن اور فوٹوگرافر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ملبے سے معجراتی طور پر زندہ بچ جانے والے بچے کی کہانی بیان کی گئی جنگ کے درمیان پیدا ہونے والے بچے کو ملبے کے نیچے دیکھ کر بہت سے ریسکیو اہلکاروں نے اسے مردہ قرار دیا لیکن تین گھنٹے کی محنت کے بعد جب اسے ملبے سے بحفاظت باہر نکالا گیا تو سب نے اسے معجزہ قرار دیا،تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں ہوا کہ معجزاتی طور پر زندہ بچ جانے والے نومولود کے والدین اسرائیلی حملے میں زندہ بچ گئے یا وہ شہید ہوگئے۔

    دوسری جانب غزہ میں اسرائیل نے جنگ بندی کے دوران رہا کیے گئے فلسطینیوں کی تعداد سے زیادہ فلسطینی دوبارہ گرفتار کرلیے فلسطینی قیدیوں کے کلب کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جمعہ کو جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں 168 فلسطینیوں کو حراست میں لیا ہے۔

    غزہ میں مختلف وبائی امراض بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں،عالمی ادارہ صحت

    یہ تعداد اسرائیل کی جانب سے حماس کے ساتھ معاہدے کے تحت جمعے سے اب تک رہا کیے گئے 150 فلسطینیوں سے زیادہ ہے غزہ کی ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے 60 فلسطینی خواتین کو ابھی بھی قید میں رکھا ہوا ہے، جن میں سے زیادہ تر کو 7 اکتوبر کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

    فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی (پی پی ایس) کے میڈیا افسر امل سرہنے نے ترک خبر رساں ایجنسی انادولو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں گرفتاریوں کی ایک بڑی لہر میں 56 فلسطینی خواتین اور لڑکیوں کو حراست میں لیا اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں کارروائیوں کے دوران اب تک 3,260 کو حراست میں لیا ہے۔

    غزہ میں مختلف وبائی امراض بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں،عالمی ادارہ صحت

  • غزہ  میں مختلف وبائی امراض بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں،عالمی ادارہ صحت

    غزہ میں مختلف وبائی امراض بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں،عالمی ادارہ صحت

    جنیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ غزہ میں حالات بہتر نہیں ہوئے تو امراض پھیلنے سے بمباری سے بھی زیادہ اموات ہوسکتی ہیں، ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصے تک اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 15 ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔

    باغی ٹی وی: ڈبلیو ایچ او کے ترجمان نے جنیوا میں ایک پریس بریفننگ کے دوران کہا کہ اگر ہم طبی نظام کو پھر سے کھڑا نہیں کرتے تو بمباری کے مقابلے میں مختلف امراض پھیلنے سے زیادہ اموات ہوسکتی ہیں غزہ میں مختلف وبائی امراض بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں جن میں ہیضہ سرفہرست ہے،شمالی غزہ کے بے گھر رہائشیوں کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ان افراد کو ادویات، ویکسینز، صاف پانی اور خوراک جیسی بنیادی سہولیات دستیاب نہیں،ہم نے بچوں میں ہیضے کے بہت زیادہ کیسز کو دیکھا ہےعالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے شمالی غزہ کے الشفا اسپتال کی تباہی کو سانحہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے طبی عملے کی گرفتاریوں پر خدشات کا اظہار کیا۔

    نیتن یاہو اور ایلون مسک کا حماس کو تباہ کرنے میں اتفاق

    غزہ میں بچوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کے ترجمان نے پریس بریفننگ کے دوران بتایا کہ غزہ کے اسپتال زخمی بچوں سے بھرے ہوئے ہیں جبکہ پینے کا صاف پانی نہ ہونے سے بھی معدے کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں میں نے متعدد والدین سے ملاقاتیں کی ہیں، انہیں معلوم ہے کہ بچوں کی کیا ضروریات ہیں، مگر انہیں پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں اور اس کی وجہ سے وہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں-

    غزہ میں امن کے لیے قابل اعتماد اور ٹھوس امن مذاکرات ہونا چاہیے،سعودی عرب

  • نیتن یاہو اور ایلون مسک کا حماس کو تباہ کرنے  میں اتفاق

    نیتن یاہو اور ایلون مسک کا حماس کو تباہ کرنے میں اتفاق

    تل ابیب: ایلون مسک نے نیتن یاہو سے اس بات پر اتفاق کیا کہ اب حماس کو تباہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔

    باغی ٹی وی: ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایلون مسک کی اسرائیل پر آمد وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ان کے ساتھ ایکس پر لائیو چیٹ کی جس کے دوران کہا کہ غزہ کے بہتر مستقبل کے لیے حماس کو تباہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، اگر آپ غزہ میں امن، سلامتی اور بہتر زندگی چاہتے ہیں تو حماس کو ہمیشہ کے لیے ختم اور اس کی زہریلی حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا جیسا کہ جرمنی اور جاپان میں کیا گیا تھا۔

    ایلون مسک کا اسرائیل کی حمایت کا اعلان

    جس پر ایکس کے مالک ایلون مسک نے نیتن یاہو سے کہا کہ میں آپ کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کیوں کہ اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں، حماس یہودیوں کی نسل کشی کرنا چاہتی ہے، حملوں میں شہریوں کی ہلاکتیں “ناگزیر” ہیں اور اسرائیل حماس کے خلاف اپنی جنگ میں شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش بھی کر رہا ہے۔

    سویڈن میں قرآن پاک کی بےحرمتی کے بعد اب مساجد کو گرانے کی دھمکیاں

    ایلون مسک نے کہا کہ وہ جنگ کے بعد غزہ کی تعمیر نو میں مدد کرنا چاہیں گے اور یقین رکھتے ہیں کہ غزہ کی بحالی اور ترقی مستقبل میں جنگ کو روکنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔

  • غزہ میں امن کے لیے قابل اعتماد اور ٹھوس امن مذاکرات ہونا چاہیے،سعودی عرب

    غزہ میں امن کے لیے قابل اعتماد اور ٹھوس امن مذاکرات ہونا چاہیے،سعودی عرب

    ریاض: سعودی وزیر خارجہ فیصل بن شہزاد نے کہا ہے کہ یہ اسرائیل ہی ہے جس نے غزہ پر جنگ مسلط کی ہے غزہ میں امن کے لیے قابل اعتماد اور ٹھوس امن مذاکرات ہونا چاہیے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق بحیرہ روم کے ممالک کی یونین کے وزرائے خارجہ کے آٹھویں علاقائی فورم سے خطاب میں وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے غزہ پُرتشدد حالات کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل ہی ہے جس نے غزہ پر جنگ مسلط کی ہے غزہ میں امن کے لیے قابل اعتماد اور ٹھوس امن مذاکرات ہونا چاہیے۔

    سعودی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کے اس تنازع کا حل صرف دو خود مختار ریاستوں کا قیام ہےسعودی وزیر خارجہ نے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کے لیے تمام ممکنہ ذرائع ستعمال کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ زدہ علاقوں کے شہری امداد کے منتظر ہیں۔

    یو اے ای اور پاکستان کے مابین اقتصادی تعاون کا نیا دور شروع ہو گا، …

    واضح رہے کہ غزہ میں آج 4 روزہ جنگ بندی کا آخری دن ہے اور ممکنہ طور پر اس میں مزید ایک روز کی توسیع کردی جائے کیوں کہ تاحال اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلہ کا مرحلہ مکمل نہیں ہوسکا ہے۔

    اسرائیل اور حماس کی جنگ کے خاتمے کے سلسلے میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد سپین کے دارالحکومت بارسلونا میں ہوا ہے کانفرنس میں یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک کے وفود شریک ہوئے کانفرنس کی مشترکہ صدارت یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل اور اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے کی۔

    برطانیہ :پہلی بار خنزیروں میں پھیلے خطرناک وائرس کی انسانوں میں موجودگی کا انکشاف

    اسرائیلی نمائندے نے اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی ہےمیزبان ملک سپین کے وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس نے کانفرنس سےخطاب کرتےہوئےکہا کہ فلسطینی اتھارٹی ہی مشرق وسطیٰ میں امن لانے کےلیے ممکنہ طور پر واحد قابل بھروسہ شرا کت دار ہے۔

  • عارضی جنگ بندی،اسرائیل کی اگلے مرحلے کی جنگی تیاری شروع

    عارضی جنگ بندی،اسرائیل کی اگلے مرحلے کی جنگی تیاری شروع

    غزہ: اسرائیل نے عارضی جنگ بندی کو اگلے مرحلے کی جنگی تیاری کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینئیل ہگاری نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ حماس سے 4 روزہ عارضی جنگی بندی کے دوران اسرائیلی فوج اگلے مرحلے کی جنگ کے لیے خود کو تیار کررہی ہے اسرائیلی کابینہ کا ایک رکن بھی وقفے کے بعد حماس سے جنگ جاری رکھنے کا بیان دے چکا ہے۔

    دوسری جانب فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل پر امن معاہدے کی طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کردیا ہے،عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ مشیر طاہر النونو نے کہا ہے کہ اسرائیل نے معاہدے کی بہت سی خلاف ورزیاں کی ہیں ،اسرائیل نے امدادی ٹرکوں کے داخلے کی شرائط پر عمل نہیں کیا۔

    امریکی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جوبائیڈن

    انہوں نے کہا کہ معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک سے زائد مقامات پر فائرنگ کی، قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں 2 افراد شہید ہوگئے اسرائیل نے قیدیوں کی رہائی کےلیے طے شدہ معیار پر بھی عمل نہیں کیا، ہم اب بھی معاہدے کی شرائط پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اسرائیل اور اقوام متحدہ کو پیغام دے رہے ہیں، کوئی بھی عذر ناقابل قبول ہے، ہم ثالث کے کردار کے لیے تیار ہیں۔

    جنگ بندی کا پہلا دن، حماس نے 24 قیدی رہا کر دیئے

    طاہر النونو نے کہا کہ نئے معاہدوں تک پہنچنے کےلیے سنجیدگی سے راہیں تلاش کرنے کے لیے بھی تیار ہیں، غزہ پر دوبارہ قبضہ کرنے سے متعلق قابضین کی بات دھوکا ہے غزہ میں حماس موجود ہے اور اس کی جڑیں فلسطینی عوام میں ہیں، طبی اور غذائی امداد کے 50 ٹرک اور ایمبولینس گھنٹوں سے انتظار میں ہیں، اسرائیلی فوج غزہ شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہی۔

    بحر ہند میں اسرائیلی جہاز پر ڈرون حملہ

  • امریکی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جوبائیڈن

    امریکی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جوبائیڈن

    اسرائیل حماس جنگ بندی کا آج دوسرا دن ہے، امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکا کی کوشش سے غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوئی.

    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی شروعات ہے، خوشی ہوئی کہ 13 اسرائیلی رہا ہوئے، ہماری کوشش تھی کہ پہلے مرحلے میں 50 یرغمالی رہا کروائے جائیں،اب وقت آ گیا ہے کہ دو ریاستی حل پر کام کیا جائے، جنگ بندی کے لئے میں نےخطے کے رہنماؤں سے بات کی ہے، امریکا جنگ بندی پر زور دیتا رہا تاکہ یرغمالیوں کو رہا کرایا جاسکے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز حماس نے سات اکتوبر کو یرغمال بنائے گئے افراد میں سے 24 کو رہا کیا جس کے بعد اسرائیل نے 39 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا،حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ تھائی لینڈ کے شہریوں سمیت 24 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا ہے،یرغمالیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، جو انہیں براستہ مصر اسرائیل لے کر گئے،رہا ہونے والے یرغمالیوں میں دہری شہریت کے حامل افراد سمیت 13 اسرائیلی، 10 تھائی اور ایک فلپائن کا شہری شامل تھا،

    حماس کی جانب سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد اسرائیلی فوج نے بھی 39 فلسطینی قیدی خواتین اور بچوں کو رہا کیا تھا،فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل کی مختلف جیلوں سے عوفر جیل منتقل کیا گیا جہاں سے 24 فلسطینی خواتین اور 15 بچوں کو اسرائیلی حکام رہا کرتے ہوئے ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا، رہا ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے، غزہ پہنچنے پر انتہائی جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے،فلسطینی شہریوں نے قیدیوں کا بھر پور استقبال کیا اور آتش بازی کرتے ہوئے حماس کے حق میں نعرے لگائے،

    اسسرائیلی جیل سے رہائی پانے والی سارہ عبداللہ نے قید سے آزاد ہوتے ہی سڑک پر سجدہ شکر ادا کیا ۔ نابلس کی رہائشی سارہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے حماس پر فخر ہے اور مجھے غزہ سے بہت پیار ہے، اور مجھے محمد الدیف اور السنور پر فخر ہے، کیونکہ یہ وہی ہیں جو ہمارے ساتھ کھڑے تھے،اسرائیلی جیل سے رہائی پانے والے ملک سلمان کا کہنا تھا کہ دمون جیل انتظامیہ نے 7 اکتوبر کے بعد ہمیں قیدِ تنہائی میں رکھا، غزہ پٹی کے تمام شہداء سے تعزیت کرتا ہوں،رہا ہونے والی فاطمہ شاہین کا کہنا تھا کہ غزہ کے عوام کو سلام جنہوں نے صبر کیا اور قیدیوں کی رہائی کے لیے اپنا خون بہایا،ہم سب کو حماس پر اعتماد ہے جو تمام قیدیوں کو آزاد کرانے کے لیے کام کر رہی ہے، فرید نامی شخص کا کہنا تھا کہ ہمیں اسرائیلی جیلوں کے اندر مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا گیا

    واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں میں تقریبا 15 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں چھ ہزار سے زائد بچے بھی شامل ہیں، حماس کے حملوں میں تقریبا 12 سو اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    غزہ جنگ میں امریکا خاموشی سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی بڑھا رہا ہے،بلوم برگ

     اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

     حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

    الجزیرہ کے مطابق، جنگ بندی کا عمل شروع ہوا تو آدھے گھنٹے بعد غزہ میں شہری گھروں سے باہر نکلے تا ہم ابھی تک وہ ڈرے ہوئے ہیں، کہ اسرائیل کہیں جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کردے،کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں بمباری نہ کی ہو.ایک فلسطینی شہری زاک ہانیہ جو بے گھر ہو چکی کا کہنا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم ہم جنگ بندی سے خوش ہوں یا غمگین، ہمارا تو سب کچھ ختم ہو چکا، گھر ملیا میٹ ہو گئے، ہمارے دل ٹوٹ گئے، اب سب کچھ ختم ہونے کے بعد جنگ بندی،نہیں پتہ زندگی کیسے گزرے گی،ہانیہ کا کہنا تھا کہ ہم گھر نہیں جا سکتے ،ملبے تک بھی نہیں جا سکتے کیونکہ اسرائیلی فوج اجازت نہیں دے گی.ہم اب یہی دعا کر رہے ہیں کہ جنگ بندی قائم رہے.

  • حماس،اسرائیل  عارضی جنگ بندی کا آغاز

    حماس،اسرائیل عارضی جنگ بندی کا آغاز

    غزہ میں اسرائیل اور حماس کے مابین چار روزہ عارضی جنگ بندی شروع ہو گئی ہے

    عارضی جنگ بندی کے دوران قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا، غزہ میں سامان بھجوایا جائے گا، قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان مجید الانصاری کا کہنا ہے کہ عارضی جنگ بندی کے دوران حماس کے پاس موجود 13 اسرائیلی یرغمالیوں کے پہلے گروپ کو رہا کیا جائے گا،جنگ بندی کے ایام میں روزانہ کی بنیاد پر یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا اور 4 دنوں میں مجموعی طور پر 50 یرغمالی رہا ہوں گے،

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ یرغمالی اسرائیل پہنچیں گے تو حماس کے قیدیوں کو چھوڑا جائے گا، حماس کے کتنے قیدی رہا کئے جائیں گے، اسرائیل نے بتانے سے انکار کیا،

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے جاری رہنے والی اسرائیلی جارحیت میں شہداء کی مجموعی تعداد 14 ہزار 854 ہوگئی ہے جس میں 6 ہزار 150بچے اور 4 ہزار خواتین شامل ہیں

    حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی کے حوالہ سے ہونیوالے معاہدے کے تحت حماس پچاس اسرائیلی خواتین قیدیوں اور بچوں کو رہا کرے گا، وہیں اسرائیل 150 خواتین اور قیدی بچوں کو رہا کرے گا،غزہ میں امداد بھی مصر سے جانے دی جائے گی، ایندھن بھی پہنچایا جائے گا، روزانہ 300 ٹرک سامان کے جائیں گے

    جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق اسرائیل نے حماس کے مطالبے پر رہا ہونیوالے قیدیوں کی فہرست جاری کی ہے،ابتدائی طور پر اسرائیل 150 قیدیوں کو رہا کرے گا تاہم اسرائیل نے 300 قیدیوں کی فہرست جاری کی ہے، اسرائیل جن قیدیوں‌کو رہا کرے گا ان میں سے 287 افراد کی عمریں 18 برس سے کم ہیں، انہیں ہنگامہ آرائی، پتھراؤ کے الزامات کی وجہ سے اسرائیل نے گرفتار کیا تھا،13 خواتین بھی اس فہرست میں شامل ہیں،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    غزہ جنگ میں امریکا خاموشی سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی بڑھا رہا ہے،بلوم برگ

     اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

     حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

    غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان 4 روزہ عارضی جنگ بندی کے آغاز کے بعد مصر سے براستہ رفح کراسنگ 8 ٹینکر جنوبی غزہ میں داخل ہو گئے ہیں،اسرائیلی فوج کے مطابق 4 ٹینکر ایندھن اور 4 ٹینکر کوکنگ گیس کے داخل ہوئے ہیں،عرب میڈیا کے مطابق آج کم از کم 200 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہونے کی توقع ہے،

    الجزیرہ کے مطابق، جنگ بندی کا عمل شروع ہوا تو آدھے گھنٹے بعد غزہ میں شہری گھروں سے باہر نکلے تا ہم ابھی تک وہ ڈرے ہوئے ہیں، کہ اسرائیل کہیں جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کردے،کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں بمباری نہ کی ہو.ایک فلسطینی شہری زاک ہانیہ جو بے گھر ہو چکی کا کہنا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم ہم جنگ بندی سے خوش ہوں یا غمگین، ہمارا تو سب کچھ ختم ہو چکا، گھر ملیا میٹ ہو گئے، ہمارے دل ٹوٹ گئے، اب سب کچھ ختم ہونے کے بعد جنگ بندی،نہیں پتہ زندگی کیسے گزرے گی،ہانیہ کا کہنا تھا کہ ہم گھر نہیں جا سکتے ،ملبے تک بھی نہیں جا سکتے کیونکہ اسرائیلی فوج اجازت نہیں دے گی.ہم اب یہی دعا کر رہے ہیں کہ جنگ بندی قائم رہے

  • دو  ریاستی حل کی  تجویز دینے والوں کے پاس فلسطینی عوام کا مینڈیٹ نہیں،سراج الحق

    دو ریاستی حل کی تجویز دینے والوں کے پاس فلسطینی عوام کا مینڈیٹ نہیں،سراج الحق

    اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نےکہا ہےکہ مسلم حکمران غزہ میں بچوں کے قتل عام پر خاموش ہیں، اسرائیل کی وجہ سے غزہ قبرستان بن چکا ہے-

    باغی ٹی وی: ایک بیان میں سراج الحق کا کہنا ہےکہ غزہ کے حوالے سے اسلامی سربراہی کانفرنس میں صرف قرار دادوں پر اکتفا کیا گیا، دو ریاستی حل کی تجویز دینے والوں کے پاس فلسطینی عوام کا مینڈیٹ نہیں، مسلم حکمران غزہ میں بچوں کے قتل عام پر خاموش ہیں، اسرائیل کی وجہ سے غزہ قبرستان بن چکا ہے، چاہتے ہیں قاتلوں اور ظالموں کو اس دنیا میں سزا ملے۔

    اسلام آباد میں فیصل مسجد کے سامنے غزہ کے بچوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بچوں کے غزہ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ عارضی جنگ بندی حماس کی اعصابی فتح اور اسرائیل کی شکست ہےفلسطین کاز کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے، غزہ کے حوالے سے مسلم حکمران بزدلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیا جائے۔

    غزہ میں عارضی جنگ بندی کا آغاز جمعہ کی صبح کیا جائے گا،قطر

    واضح رہے کہ غزہ میں عارضی جنگ بندی کا آغاز 24 نومبر کو صبح 7 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق صبح 10 بجے) ہوگا،قطری وزارت خارجہ کے ترجمان مجید الانصاری نے بتایا کہ عارضی جنگ بندی کے بعد غزہ کے وقت کے مطابق 4 بجے سہ پہر (پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے) تک حماس کے پاس موجود 13 اسرائیلی یرغمالیوں کے پہلے گروپ کو رہا کیا جائے گا، روزانہ کی بنیاد پر یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا اور 4 دنوں میں مجموعی طور پر 50 یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔

    دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 300 سے زیادہ حملے کرکے متعدد فلسطینیوں کو شہید کردیا غزہ کے علاقے جبالیہ، بیت لاحیہ، رفح، خان یونس اور نصائرات کیمپ پر صیہونی فوج نے بمباری کی، شیخ رضوان کے علاقے میں گھر پر فضائی حملہ کر کے 10 فلسطینی شہید کر دئیے۔

    غزہ میں جانی نقصان کے سوگ میں بیت لحم میں کرسمس کی تقریبات …

    7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 14 ہزار 500 سے تجاوز کرگئی ہے غزہ میڈیا آفس کے مطابق غزہ کے شہدا میں 6 ہزار 150 بچے شامل ہیں، 36 ہزار فلسطینی زخمی ہیں جن میں 75 فیصد خواتین، بچےشامل ہیں اسرائیلی بمباری سے تباہ علاقوں میں7 ہزار فلسطینی لاپتہ ہیں، اسرائیلی حملوں سے طبی عملےکے207 اور شہری دفاع کے 26 جب کہ 65 صحافی بھی جان سے گئے۔

  • غزہ میں عارضی جنگ بندی کا آغاز جمعہ کی صبح کیا جائے گا،قطر

    غزہ میں عارضی جنگ بندی کا آغاز جمعہ کی صبح کیا جائے گا،قطر

    قطر: غزہ میں عارضی جنگ بندی کا آغاز 24 نومبر کو صبح 7 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق صبح 10 بجے) ہوگا۔

    باغی ٹی وی : وزارت خارجہ کے ترجمان مجید الانصاری نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ عارضی جنگ بندی کے بعد غزہ کے وقت کے مطابق 4 بجے سہ پہر (پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے) تک حماس کے پاس موجود 13 اسرائیلی یرغمالیوں کے پہلے گروپ کو رہا کیا جائے گا ‘ایک خاندان سے تعلق رکھنے والے یرغمالیوں کو اکٹھے رہا کیا جائے گا’، روزانہ کی بنیاد پر یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا اور 4 دنوں میں مجموعی طور پر 50 یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔

    قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وہ اسرائیلی یرغمالیوں کو غزہ سے باہر لے جانے والے روٹ کے بارے میں سکیورٹی وجوہات کے باعث نہیں بتا سکتے، ہمارا مقصد یرغمالیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے ہماری توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ یہ کام محفوظ طریقے سے ہو، جس کے لیے ہلال احمر اور فریقین بھی کردار ادا کریں گے۔

    پاکستان فلسطینی عوام کی مکمل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا ہے، 82ویں فارمیشن …

    ترجمان نے کہا کہ ہم ابھی فلسطینی قیدیوں کی تعداد نہیں بتا سکتے، مگر یہ یقین دلاتے ہیں کہ یہ دوطرفہ معاہدہ ہے تو ہمیں توقع ہے کہ اسرائیل کی جانب سے قیدیوں کو رہا کیا جائے گا اسرائیل اور حماس نے یرغمال افراد کی فہرستیں قطرکوفراہم کر دی ہیں اور عارضی جنگ بندی کےدوران مزید یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات ہوگی ہم چاہتے ہیں کہ اس عارضی جنگ بندی کو طویل المعیاد معاہدے کی شکل دے سکیں۔

    غزہ میں جانی نقصان کے سوگ میں بیت لحم میں کرسمس کی تقریبات …

    واضح رہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر ایک غیر مسبوق فوجی مہم شروع کی تھی جس کا آغاز 7 اکتوبر کو حماس کے اچانک حملے کے بعد کیا گیا اسرائیلی فوج کشی میں اب تک 14,100 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے جب کہ 31ہزار سے زاید زخمی ہیں شہید اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔