Baaghi TV

Tag: غزہ

  • حماس اور اسلامی جہاد نےمستقل جنگ بندی کیلئے مصر کی تجویز مسترد کر دی

    حماس اور اسلامی جہاد نےمستقل جنگ بندی کیلئے مصر کی تجویز مسترد کر دی

    غزہ: مقبوضہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں حماس اور اسلامی جہاد نے جنگ بندی کیلئے غزہ سے دستبردار ہونے کی مصر کی تجویز مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی: خبر رساں ادارے نے مصری سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حماس اور اس کی اتحادی مزاحمتی تحریک اسلامی جہاد نے مصر کی طرف سے سامنے لائی گئی اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے کہ حماس غزہ کی حکومت سے دستبردار ہو جائے تو اس کے بدلے میں مستقل جنگ بندی کی جا سکتی ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق حماس اور اسلامی جہاد کے وفود کی قاہرہ میں مصری حکام سے ملاقات ہوئی ہے جس میں مختلف تجاویز پیش کی گئیں تاہم دونوں بڑی مزاحمتی تنظیموں نے غزہ کا کنٹرول چھوڑنے سے انکار کردیا ہے حماس کے حکام نے کہا ہے کہ حماس فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ چاہتی ہے اور فلسطینیوں کی نسل کشی رکوانے کیلئے مصری بھائیوں سے بات کی ہے اسرائیلی جارحیت رکنے اور غزہ میں امداد میں اضافے کے بعد ہی یرغمالیوں کی رہائی پربات ہوگی۔

    فلسطینی میرے ڈراؤنے خوابوں میں آتے ہیں اور پوچھتے ہیں تم نے ہمیں کیوں …

    مصر نے اپنی اس تجویز میں غزہ میں نئے انتخابات کی بھی بات کی ہے اور حماس کو یقین دلانے کی کوشش بھی کی ہے ان ممکنہ انتخابات سے پہلے اور دوران میں اس کے کارکنوں کو کوئی تعاقب یا تشدد کا نشانہ بھی نہیں بنایا جائے گا۔ تاہم حماس نے یہ پیش کش رد کر دی ہے۔

    حماس ذمہ دار جنہوں نے قاہرہ کا دورہ کیا نے ‘ روئٹر’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس اپنے عوام پر مسلط اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ چاہتی ہے، چاہتی ہے قتل عام بند ہو اور نسل کشی روکی جائے۔ اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ بھی یہی بات کی ہے۔

    حماس کے ذمہ دار رہنما نے یہ بھی کہا کہ ہمارے لوگوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل جاری رہنی چاہیے اور اس میں اضافہ بھی ہونا چاہیے۔ جب اسرائیلی جارحیت رک جائے گی اور امدادی سامان کی ترسیل میں اضافہ ہو جائے گا تو ہم یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت کے لیے تیار ہوں گے۔

    شام میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایرانی جنرل سردار سید رازی موسوی جاں بحق

    اسلامی جہاد نے بھی یہی مؤقف اپنایا ہے اور کہا ہے کہ تمام یرغمالیوں کی رہائی کیلئے اسرائیل کو تمام فلسطینیوں قیدیوں کو رہاکرناہوگا۔

    واضح رہے دونوں فلسطینی مزاحمتی گروپ مصری حکام کے ساتھ قاہرہ میں الگ الگ مذاکرات کر چکے ہیں۔ مصر نے اس دوران ایک نیا تصور پیش کیا ہے۔ مصر کے اس تصور کی حمایت قطری ثالث بھی کرتے ہیں۔ جو یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں ‘ سیز فائر ‘ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی افواج کی غزہ پر وحشیانہ بمباری مسلسل جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں مزید 250 فلسطینی شہید ہوگئے فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 20 ہزار 674 ہوگئی جبکہ 54 ہزار 536 فلسطینی زخمی ہیں۔

    24 جنگی کارروائیوں میں 48 صہیونی فوجیوں کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کیا، القسام …

  • فلسطینی  میرے ڈراؤنے خوابوں میں آتے ہیں اور پوچھتے ہیں تم نے ہمیں کیوں مارا؟ اسرائیلی فوجی

    فلسطینی میرے ڈراؤنے خوابوں میں آتے ہیں اور پوچھتے ہیں تم نے ہمیں کیوں مارا؟ اسرائیلی فوجی

    غزہ کی پٹی سے واپس آنے والے ایک اسرائیلی فوجی نے کنیسٹ کے اجلاس سے پہلے انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوجی نے بتایا کہ وہ رات کے وقت دہشت کی وجہ سے اپنے اوپر پیشاب کرتا تھا۔

    باغی ٹی وی: "العربیہ” کے مطابق غزہ کی لڑائیوں سے دستبردار ہونے والے سپاہی اویچائی لیوی نے کہا کہ میں اب تصور کرتا ہوں کہ میرے سر پر آر پی جی کے گولے اڑ رہے ہیں میں خود کو بلڈوزر کے اندر لڑائی کرتا تصور کر رہا ہوں اور لاشوں کی بو سونگھ رہا ہوں میں ڈر کے مارے نیند میں اپنے اوپر پیشاب کرتا ہوں اگر میں شراب کی بوتل نہ پیوں تو میں سو نہیں پاؤں گا میرے اور میرے ساتھیوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس کی ذمہ دار اسرائیلی حکومت ہے اس حکومت نے ہی ہمیں جنگ میں دھکیلا ہے۔

    اسرائیلی فوجی اویچائی لیوی نے مزید کہا کہ میں ان ہاتھوں سے زخمیوں کو اکٹھا کر رہا ہوں، تم کہاں ہو؟ تم نئے معذوروں کی بات کر رہے ہو، جب کہ یہاں معذور لوگ ہیں ان میں سے درجنوں ہیں جن کو چھوڑ دیا گیا ہےمیں اپنے لیے بھی بول رہا ہوں، مجھے بھی چھوڑ دیا گیا ہےمیں نے تمہارے لیے اپنے ہاتھوں سے آدمیوں کو قتل کیا اور تم کہتے ہو کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں پر خون ہے، میں نے تمہارے لیے 40 سے زیادہ لوگوں کو مارا ہے وہ میرے ڈراؤنے خوابوں میں آتے ہیں کہ اب مجھے نفسیاتی علاج بھی نہیں دیا جا رہا۔ مجھے اس صدمے کی وجہ سے شکایت ہے جو میں نے محسوس کی، میں رات کو اپنے اوپر پیشاب کرتا ہوں، وہ میرے ڈراؤنے خوابوں میں آتے ہیں اور پوچھتے ہیں تم نے ہمیں کیوں مارا؟

  • غزہ پر اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 76 افراد   شہید

    غزہ پر اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 76 افراد شہید

    غزہ میں اسرائیلی بمباری کے باعث حماس کا پانچ قیدیوں کے رکھوالی کرنے والے اپنے گروپ سے رابطہ منقطع ہو گیا ۔

    باغی ٹی وی: اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے ہفتے کو جاری ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری کے باعث اس کا پانچ قیدیوں کے رکھوالی کرنے والے اپنے گروپ سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا کہ ان کے خیال میں اسرائیلی حملے میں ان قیدیوں کی اموات ہو گئی ہے ان قید یوں میں وہ تین یرغمالی بھی شامل ہیں جنکی ویڈیو گذشتہ دنوں وائرل ہوئی تھی جس میں وہ اپنی رہائی کی اپیل کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    بھارت کے مشہور موٹیویشنل اسپیکر کا نئی نویلی بیوی پر تشدد،مقدمہ درج

    اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے باوجود جمعے کی رات بھی غزہ پر اسرائیلی حملے جاری رہے جبکہ ہفتے کے روزغزہ میں ریسکیو کرنے والے ادارے نے بتایا کہ اسرائیل نے غزہ پر بمباری جاری رکھتے ہوئے ایک ہی خاندان کے 76 افراد کو شہید کر دیااسرائیلی فوج نےیہ شدید بمباری اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اس انتباہ کہ غزہ میں کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے کے محض ایک دن بعد کی ہےسیکرٹری جنرل نے اسرائیلی بمباری کو امدادی کارروائیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا تھا۔

    غزہ میں شہری دفاع کے ترجمان محمد باسل کے مطابق جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک بلڈنگ کو بمباری کا نشانہ بنایا، یہ اسرائیل اور حماس جنگ کے دوران اڑھائی ماہ سے جاری بمباری میں سے شدید ترین بمباریوں میں سے ایک تھی۔

    ملک میں چند مقامات پر ہلکی بارش کا امکان

    ترجمان نے اس بمباری کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے بارے میں تفصیل بتائی تاہم مکمل فہرست نہیں جاری کی ہےان 76 افراد کا تعلق مراکشی خاندان سے ہے ان شہدا میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سابق سینئیر کارکن عصام المغربی، ان کی اہلیہ اور پانچ بچے بھی شامل ہیں-

    دوسری جانب محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اسرائیلی بمباری سے اب تک 20000 شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 53000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    عوام چار سال میں مہنگائی کا ظلم ڈھانے والوں کا سیاسی طور پر صفایا کردیں …

  • غزہ میں اسرائیلی جارحیت نےماضی کی جنگوں کی اموات کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے

    غزہ میں اسرائیلی جارحیت نےماضی کی جنگوں کی اموات کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے

    غزہ: اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلط کی گئی جارحیت کے نتیجے میں ہر گزرتے لمحے اموات کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی خبر رساں ادارے ” نیویارک ٹائمز” کے مطابق ایک امریکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے اپنے قیام 1948 سےلے کر اب تک فلسطینیوں اور دوسرے عرب ممالک کے خلاف جنگیں لڑیں ان کی نسبت موجودہ جنگ زیادہ خونی اور مہلک ثابت ہوئی ہے اس میں ہونے والے جانی نقصان نے ماضی کی جنگوں کی اموات کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی طرف سے مسلط کی گئی جارحیت میں اموات میں کا حساب لگانا مشکل ہے، اب تک اموات کا جو تناسب سامنے آیا ہے وہ ہلاکتوں کی اصل تعداد کی نمائندگی نہیں کرتا،غزہ کی پٹی میں ہونے والی اموات نے امریکا کی عراق اور افغانستان میں شروع کی گئی جنگوں میں ہونے والی اموات سے بھی بڑھ گیا ہے۔

    اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی بحری جہاز پر ڈرون حملہ

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں جانی نقصان میں بے پناہ اضافے کی کئی وجوہات ہیں ان میں ایک بڑی وجہ اسرائیل کا بھاری ہتھیاروں اور زیادہ تباہی پھیلانے والے بموں کا استعمال اور علاقے کا گنجان آباد ہونا ہے گنجان آباد علاقے میں تباہی پھیلانے والے بموں کی وجہ سے اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، اسرائیل کی تاریخ میں موجودہ جنگ سب سے بتاہ کن اور مہلک ہے،75 سال میں اسرائیل نے اتنے لوگ کسی جنگ میں نہیں مارے جتنے اس بار قتل کردئیےگئے ہیں-

    اسرائیلی وزیر نے جنگی کابینہ تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا

    "العربیہ” کے مطابق اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے غزہ میں حماس کے 7 ہزار جنگجو ہلاک کئے ہیں مگر اسرائیل نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے اس تعداد کا اندازہ کیسے لگایاغزہ میں حکومت کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فوج کی بمباری میں 6700 لوگ لا پتا ہیں یہ لوگ بھی جنگ میں مارے جانے والوں میں شامل ہوسکتے ہیں۔

    اسرائیل کی جارحیت جاری، شمالی غزہ کے تمام اسپتال غیر فعال ہو گئے

  • اسرائیلی وزیر نے جنگی کابینہ تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا

    اسرائیلی وزیر نے جنگی کابینہ تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا

    تل ابیب: اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے غزہ کی پٹی میں حماس کے ساتھ جنگ کو منظم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے اسرائیل میں تشکیل دی گئی ہنگامی جنگی کابینہ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

    باغی ٹی وی: "العربیہ” کے مطابق اسرائیلی وزیر نے "ایکس ” پرآج جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ "غزہ میں آپریشن کم کرنے کا خیال جنگی کابینہ میں کمزوری اور اس کی ناکامی کا ثبوت ہےاسے فوری طور پر تحلیل کیا جانا چاہیے-

    اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی نے بارہا غزہ کی پٹی میں کسی بھی انسانی جنگ بندی کی مخالفت پر زور دیا ہے، اس نے حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر سخت تنقید کی ہے اسرائیلی وزیر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تل ابیب اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلےکی نئی ڈیل کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔ اس ڈیل کے لیے بھی اسرائیل کو حماس کے ساتھ جنگ بندی کرنے کو کہا جائے گا۔

    بیرونی قوتوں سے ملی بھگت کی تو بھر پور جواب دیں گے،چین کی فلپائن کو …

    دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نےکہا ہے کہ ان کا ملک غزہ کی پٹی میں جاری تنازع کو طول نہیں دینا چاہتا انہوں نے غزہ میں مستقل جنگ بندی کی حمایت پر زور دیا جمعرات کے روز انہوں نے کہا کہ نے غزہ میں امداد پہنچانے اور یرغمالیوں کو نکالنے کے لیے جنگ بندی کے نفاذ کی حمایت پر زور دیا ہے لندن دو یرغمالیوں کی رہائی میں دلچسپی لے رہا ہے۔

    شمالی کوریا نے ایک بار پھر ایٹمی حملے کی دھمکی دیدی

    برطانوی وزیر خارجہ نے غزہ تک امداد پہنچانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئےکہا کہ ان کا ملک اردن کے ذریعے امداد بھیجنے پر غور کر رہا ہے،ہم غزہ کے لیے امداد کی سب سے بڑی رقم بھیجنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کو خوراک نہیں مل رہی امداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے، ان کے اس خطے کے دورے کا مقصد غزہ میں جنگ کے بعد کے ایام پر بات چیت کرنا ہے۔

    چیک جمہوریہ کی یونیورسٹی میں فائرنگ،15 افراد ہلاک 30 زخمی

  • اسرائیل کی جارحیت جاری، شمالی غزہ کے تمام اسپتال غیر فعال ہو گئے

    اسرائیل کی جارحیت جاری، شمالی غزہ کے تمام اسپتال غیر فعال ہو گئے

    غزہ: شمالی غزہ میں اسرائیل کی مسلسل بمباری اور پابندیوں کی وجہ سے تمام اسپتال غیر فعال ہوگئے،جبکہ غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی جنگ میں ہر گزرتے گھنٹے میں تازہ ہلاکتوں کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی :فلسطینی ہلال احمر کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فوج شمالی غزہ کے جبالیہ مہاجرین کیمپ میں چیریٹی ایمبولینسز کو مسلسل قبضے میں لے رہی ہے،علاقے میں اسرائیلی فوج کی شدید شیلنگ اور اسنائپرز کی فائرنگ بھی جاری ہے،جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوج کی شیلنگ کی وجہ سے ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے باعث میڈیکل ٹیموں کو فوری طور پر رفح کراسنگ کی جانب روانہ کردیا گیا ہے-
    https://x.com/PalestineRCS/status/1737748454686818687?s=20
    عالمی ادارہ صحت نے بھی تصدیق کی ہےکہ شمالی غزہ میں اسرائیلی کی مسلسل بمباری، فیول سپلائی کی بندش، اسٹاف اور سپلائی نہ ہونے سے تمام اسپتال غیر فعال ہوچکے ہیں۔

    "العربیہ” کے مطابق آج جمعرات کو اسرائیلی فوج کی کشتیوں سےغزہ کے جنوبی شہر خان یونس اور رفح کے علاقے پر گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد شہری شہید ہوگئے ہیں اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کی پٹی کا سب سے بڑا شہر خان یونس کے مشرق میں معن کے علاقے پر بمباری کی، اسرائیلی کشتیوں نے بھی بحیرہ رفح میں شدید بمباری کا آغاز کیا-

    غزہ کے شمال میں بیت حانون میں بھاری مشین گنوں کے ساتھ جھڑپیں پھوٹ پڑیں جبکہ اسرائیلی توپ خانے نے جبالیہ کے کیمپ پر بھاری ہتھیاروں سے بمباری کی، نیز غزہ کی پٹی کے وسط میں طیاروں نے البریج کیمپ پر حملہ کیا غزہ کے شمال میں جبالیہ پر نئے حملے کیے۔

    فلسطینی ریڈیو کے مطابق بمباری کا سلسلہ جاری رہا جس میں خان یونس کو نشانہ بنایا گیا وہاں پر ہزاروں بے گھر افراد جمع ہیں، فلسطینی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی پر جاری جنگ کے 76 ویں روز آج جمعرات کو اسرائیلی طیاروں اور توپ خانے نے وسطی اور شمالی غزہ میں البریج پناہ گزین کیمپ اور جبالیہ کو نشانہ بنایا۔

    ادھر غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس میں فوجی آپریشن جاری ہے اسرائیل نے اس شہر کے ایک بڑے علاقے کو خالی کرنے کا حکم دیا جو کہ جنوبی غزہ کی پٹی کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں ڈھائی ماہ سے جاری جنگ سے بے گھر ہونے والے بہت سے فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں، اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے خان یونس کے علاقے کے "تقریباً 20 فیصد” پر محیط علاقے کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا۔

    دوسری جانب غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ فیس بک اور انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی’میٹا’ فلسطینیوں کی آواز دنیا تک پہنچانے میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے، فلسطینیوں پر اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کو ‘میٹا’ سینسر شپ لگا کر سوشل میڈیا پر پھیلنے سے روکنےکی کوشش کر رہا ہے۔

    ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے ‘میٹا’ کی اس سینسر شپ کی کوشش پر رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں ایچ آر ڈبلیو نے دعویٰ کیا ہے کہ میٹا اپنے سوشل پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام پر فلسطین کے حق میں لگائی جانے والی پوسٹس کو سینسر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ہیومن رائٹس واچ کے مطابق رواں برس اکتوبر سے نومبر تک کے درمیان سوشل میڈیا پر نشر مواد کے حوالے سے 60 ممالک کے 1000 سے زائد کیسز کا جائزہ لیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 300 سے زائد صارفین کے اکاؤنٹس معطل ہوئے اور یہ تمام افراد اپنے اکاؤنٹس پر عائد پابندی کے خلاف اپیل بھی نہیں کر سکتے۔

    واضح رہےکہ غزہ جنگ کو آج 76 روز ہو چکے ہیں، اسرائیل کی غزہ پر جاری جارحیت میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 20 ہزار تک جا پہنچی ہے جب کہ 52 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔

  • حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ جنگ بندی مذاکرات کیلئے مصر پہنچ گئے

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ جنگ بندی مذاکرات کیلئے مصر پہنچ گئے

    قاہرہ: حماس کے قطر میں مقیم رہنما اسماعیل ہنیہ غزہ میں اسرائیل کے ساتھ گروپ کی جنگ میں تؤقف اور قیدیوں کے تبادلے پر مذاکرات کے لیے بدھ کے روز قاہرہ پہنچے۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کے مطابق حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہنیہ "غزہ کی پٹی پر صیہونی جارحیت کی پیشرفت اور دیگر معاملات پر مصری حکام سے مذاکرات کے لیے دارالحکومت قاہرہ پہنچے،قاہرہ پہنچنے سے پہلے ہنیہ نے دوحہ میں ایرانی وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے ملاقات کی تھی حالانکہ اس ملاقات کی تفصیلات بہت کم تھیں۔

    فلسطینی مزاحمت کار گروپ کے قریبی ذریعے نے منگل کے روز نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہنیہ حماس کے ایک "اعلیٰ سطحی” وفد کی قیادت کریں گے جہاں وہ مصری انٹیلی جنس کے سربراہ عباس کامل اور دیگر کے ساتھ مذاکرات طے شدہ ہیں ، بات چیت "جارحیت اور جنگ کو روکنے پر ہو گی تاکہ قیدیوں کی رہائی اور غزہ کی پٹی پر مسلط محاصرے کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے کی تیاری کی جا سکے۔”

    امریکا :بحیرہ احمر کی حفاظت کیلئے 12 سے زائد اتحادیوں کے ساتھ نئی فوج تشکیل

    غزہ میں حماس کے شانہ بشانہ لڑنے والے اسلامی جہاد گروپ کے ایک قریبی ذریعے نے بتایا کہ اگلے ہفتے کے اوائل میں گفتگو کے لیے گروپ کے رہنما زیاد نخلیح کی آمد بھی قاہرہ میں متوقع ہے۔

    گذشتہ ماہ کے آخر میں مصر اور امریکہ کی مدد سے قطر کی ثالثی میں طے شدہ جنگ بندی ایک ہفتے تک جاری رہی جس کے دوران اسرائیلی جیلوں میں قید 240 فلسطینیوں کے بدلے 80 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری ہیں، بدھ کے روز غزہ پٹی میں اسرائیلی فوج اور مسلح فلسطینی دھڑوں کے درمیان کشیدگی اور لڑائی میں شدت آئی ہے ایک روز میں 100 فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا ہے فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ کے مختلف علاقوں میں بمباری سے ایک ہی روز میں 100 فلسطینی شہید ہوگئےغزہ پراسرائیلی حملوں کے 11 ہفتے مکمل ہونے پر فلسطینی شہدا کی تعداد 19 ہزار سے تجاوز کر گئی –

    آرمی چیف کی امریکی تھنک ٹینک کے نمائندوں سے ملاقات

    7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں اب تک شہدا کی تعداد 19 ہزار 667 ہو گئی ہے اسرائیلی فوج نے عودہ اسپتال کو فوجی بیرکوں میں تبدیل کردیا جبکہ عرب اسپتال پر چھاپہ مار کر عملے کے بیشتر ارکان کو گرفتار کرلیا، جبالیہ کیمپ پر ایک بار پھر اسرائیلی طیاروں نے بم برسا دئیے جس کے نتیجے میں 13 پناہ گزین شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔

    "العربیہ” کے مطابق غزہ میں کئی مقامات پر سڑ کیں میدان جنگ کا منظر پیش کررہی ہیں جب کہ ہر گذرتے لمحے میں غزہ کے جنگ سے تباہ حال عوام کی مشکلات اور مصائب میں مزید اضافہ ہو رہا ہےتازہ ترین فیلڈ پیش رفت میں آج غزہ کے دوسرے بڑے شہر خان یونس کی گلیوں میں اسرائیلی فوج اور حماس کے عسکریت پسندوں کے درمیان پرتشدد لڑائی جاری ہے،فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیل شمالی اور وسطی غزہ کی پٹی میں جبالیہ اور خان یونس کے علاقوں پر "شدید” اور مسلسل بمباری کر رہا ہے۔ ایجنسی نے مقامی ذرائع اور صحافیوں کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت مزید درجنوں شہری مارے گئے ہیں۔

    ملائیشیا نے اسرائیلی مال بردار بحری جہازوں کے داخلے پر پابندی لگا دی

    درایں اثناء اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں 300 اہداف پر حملے کیے۔ ان حملوں میں حماس کے مبینہ مراکز کو نشانہ بنایا گیا قابض فوج کے مطابق تازہ بمباری میں حماس کے دسیوں جنگجو مارے گئے ہیں اور حماس کے فوجی ٹھکانوں کا انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے زمینی فورسز نے خان یونس کے علاقے میں حماس کے ایک فوجی ہیڈ کوارٹر پر بھی حملہ کیا۔ تازہ کارروائیوں کے دوران اسرائیلی فوج نے اسلحہ ، گولہ بارود، دھماکہ خیز آلات اور مارٹر گولے قبضے میں لینے کا اعلان بھی کیا۔

  • ملائیشیا نے اسرائیلی مال بردار بحری جہازوں کے داخلے پر پابندی لگا دی

    ملائیشیا نے اسرائیلی مال بردار بحری جہازوں کے داخلے پر پابندی لگا دی

    ملائیشیا نے اسرائیلی مال بردار بحری جہازوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے ملیشین وزیر اعظم انور ابراہیم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں کے جواب میں زِم شپنگ کمپنی پر فوری پابندی عائد کردی گئی ہے اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف ”قتل عام اور بربریت“ کا ارتکاب کر رہا ہے، اسرائیل سے منسلک کسی بھی بحری جہاز کو ملک میں ڈاکنگ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ، اسرائیل جانے والے کسی بھی جہاز کے ملائیشیا کی بندرگاہوں پر سامان لوڈ کرنے پر پابندی ہوگی، یہ دونوں پابندیاں فوری طور پر موثر ہیں۔

    حوثی باغیوں کے جہازوں پر حملے، امریکا کا دس ملکی اتحاد کا اعلان

    دوسری جانب عالمی ادارے ریڈ کراس نے غزہ تنازع کو عالمی برادری کی اخلاقی ناکامی قرار دے دیا ہے، ریڈکراس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ انتہا کی حد تک درپیش مصائب کو روکنے میں ناکامی کا اثر صرف غزہ پر نہیں دیگر نسلوں پر بھی پڑے گا اور غزہ کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی بے گھر ہو چکی ہے غزہ کا 60 فیصد سے زیادہ انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا اور غزہ کے لوگوں کی جبری بے دخلی سب کی آنکھوں کے سامنے ہو رہی ہے غزہ کی تباہی اتنی حیران کن ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    دوسری جانب فرانس کا کہنا ہے کہ اسرائیل بار بار کی تنبیہ کے باوجود تشدد رکوانے میں ناکام ہے لہٰذا مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر تشدد کے ذمہ دار انتہا پسند یہودی آباد کاروں پر پابندیاں عائد ہوتی ہے قبل ازیں امریکہ اور برطانیہ بھی مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر حملے اور تشدد کے واقعات میں اسرائیل پر یہودی آباد کاروں کی پشت پناہی کا الزام عائد کر چکے ہیں۔

    ہرپانچ منٹ میں ایک فوجی مرتا ہے، اسرائیلی آرمی افسرکی ویڈیو

  • ہرپانچ منٹ میں ایک فوجی مرتا ہے، اسرائیلی آرمی افسرکی ویڈیو

    اسرائیل کا غزہ میں زمینی آپریشن میں جانی نقصان بڑھنے لگا۔

    باغی ٹی وی: اسرائیل نے غزہ کو مٹی کا ڈھیر بنانے کے بعد 27 اکتوبر سے زمینی آپریشن شروع کیا ہے اور یہ اب تک جاری ہے اسرائیلی افواج کو غزہ میں مجاہدین کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور اب مالی نقصان کے ساتھ ساتھ اسرائیلی افواج کا جانی نقصان بھی بڑھ رہا ہے اسرائیلی افواج نے غزہ کے زمینی آپریشن میں مزید 5 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے

    اسرائیلی افواج کے مطابق 17 دسمبر اتوار کو غزہ میں زمینی آپریشن میں افسر سمیت 4 فوجی ہلاک ہوگئے جبکہ 14 دسمبر کو زخمی ہونے والا فوجی بھی مرگیا غزہ کے زمینی آپریشن میں مرنے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 127 تک پہنچ گئی۔

    دوسری جانب مقبوضہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے 17 دسمبر کو اسرائیلی فوجی گاڑی پر حملے کی ویڈیو جاری کی ہے ویڈیو میں فوجی گاڑی کو مکمل تباہ ہوتے اور اسرائیلی فوجیوں کو جھلسی ہوئی حالت میں بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    جبکہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی افواج کی مسلسل دراندازی کے جلو میں ایک اسرائیلی فوجی اہلکار کی طرف سے طلبا کو فوج میں بھرتی ہونے پر زور دینے پر مبنی ویڈیو سامنے آئی ہے ویڈیو میں اسرائیلی فوجی افسر کو فوج میں بےپناہ جانی نقصان کا اعتراف کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہرپانچ منٹ میں ایک فوجی ہلاک ہوتا ہے۔ طلبا کو فوج میں بھرتی ہو کر اس کی مدد کرنی چاہیے۔

    غزہ جنگ میں تقریباً 1,300 فوجیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کے بیان کے بعد ایک اسرائیلی افسر کی طالب علموں سے خطاب اور انہیں فوج کی صفوں میں شامل ہونے کی دعوت دینے کی ویڈیو دوبارہ منظر عام پر آئی ہے۔

    افسر نے کہا کہ ہر 5 منٹ میں ایک فوجی مرتا ہےاس نے کہا کہ تمام نقصانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں جبکہ جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی!۔ تاہم اس ویڈیو کی تاریخ کا تعین نہیں ہوسکا ہے،جبکہ غزہ اور فلسطینیوں کے حامیوں نے تصدیق کی کہ یہ منظر اسرائیلی فوج کے تلخ نقصانات کو ثابت کرتا ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو پرانی ہے اور گذشتہ 15 اکتوبر کی ہے۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیلی افسر 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے 1200 اسرائیلیوں کا حوالہ دے رہا تھا۔ اس نے اسرائیلی افواج کی صفوں میں ہونے والے نقصانات کا ذکر نہیں تھا۔

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ 27 اکتوبر کو غزہ پر حملے اور زمینی دراندازی کے بعد سے اب تک 121 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • اسرائیل اپنے یرغمالیوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کی شدت سےکوشش کر رہا ہے،ابو عبیدہ

    اسرائیل اپنے یرغمالیوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کی شدت سےکوشش کر رہا ہے،ابو عبیدہ

    غزہ: فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنے یرغمالیوں کی جانوں پر جوا کھیل رہا ہے-

    باغی ٹی وی : فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل غزہ میں موجود اپنے یرغمالیوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کی شدت سےکوشش کر رہا ہے، اسرائیل اب بھی اپنے یرغمالیوں کی جانوں پر جوا کھیل رہا ہے اور ان کے گھر والوں کے جذبات کی پرواہ نہیں کر رہا۔

    ایک بیان میں ابو عبیدہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے کل اپنے3 فوجیوں کو خود قتل کیا، اس نے انہیں رہا کروانے کے بجائے انہیں مارنے پر ترجیح دی، یہ ایک مجرمانہ فعل ہے جو کہ اسرائیل نے ہماری قید میں موجود اپنے لوگوں کے خلاف جاری رکھا ہوا ہے۔

    اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    دوسری جانب القسام کی جانب سے ‘وقت ختم ہو رہا ہے’ کے عنوان سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے اسرائیلی یرغمالیوں کو دکھایا گیا ہے فلسطینی مزاحمتی فورسز کے بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج پر جوابی حملوں میں تیزی آگئی ہےالقسام اور القدس بریگیڈز نے مختلف کارروائیوں میں راکٹوں، مارٹرگولوں اور اسنائپر رائفلز سے حملے کرکے متعدد صیہونی فوجی ہلاک کر دئیے۔

    غزہ جنگ:اسرائیل کی 2023 کے لیےمزید ضمنی بجٹ کی منظوری

    ادھر اسرائیل اور قطری حکام نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ناروے میں ہفتے کے روز ایک ملاقات طے کی گئی تھی ۔ یہ ملاقات یرغمالیوں کے لیے نئی کوششوں کے سلسلے میں طے ہوئی تھی،اسرائیل اور قطر کے درمیان اس سلسلے میں نئی کوششوں کے لیے قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی اور اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ڈائریکٹر کے درمیان ناروے میں ہورہی ہے۔ امکان ہے کہ اس ملاقات میں مصری حکام بھی شریک ہوں گے، مذاکرات کے نئے آغاز میں حماس کے اندر معاہدے کی شرائط کے بارے میں اختلاف رائے بھی ہے۔

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی مسجد کی بے حرمتی

    امریکی جریدے وال سٹریٹ کے مطابق یہ مذاکراتی کوشش اس افسوسناک واقعے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں اسرائیلی فوجی غزہ میں اپنے یرغمالیوں کی رہائی کی کوشش کرتے کرتے انہیں اپنے ہی ہاتھوں ہلاک کر بیٹھے۔

    واضح رہےکہ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے آج اعتراف کیا تھا کہ حماس کی قید میں موجود تین اسرائیلی شہری خود اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فرینڈلی فائرنگ میں مارےگئے ہیں تینوں اسرائیلی مغوی قید سے فرار ہوئے اور اس دوران اسرائیلی فوج نے انہیں حماس کے ساتھی ہونےکے شبہ میں مار دیا جبکہ واقعےکے خلاف اسرائیل میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔