Baaghi TV

Tag: غزہ

  • اسرائیل اپنے یرغمالیوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کی شدت سےکوشش کر رہا ہے،ابو عبیدہ

    اسرائیل اپنے یرغمالیوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کی شدت سےکوشش کر رہا ہے،ابو عبیدہ

    غزہ: فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنے یرغمالیوں کی جانوں پر جوا کھیل رہا ہے-

    باغی ٹی وی : فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل غزہ میں موجود اپنے یرغمالیوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کی شدت سےکوشش کر رہا ہے، اسرائیل اب بھی اپنے یرغمالیوں کی جانوں پر جوا کھیل رہا ہے اور ان کے گھر والوں کے جذبات کی پرواہ نہیں کر رہا۔

    ایک بیان میں ابو عبیدہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے کل اپنے3 فوجیوں کو خود قتل کیا، اس نے انہیں رہا کروانے کے بجائے انہیں مارنے پر ترجیح دی، یہ ایک مجرمانہ فعل ہے جو کہ اسرائیل نے ہماری قید میں موجود اپنے لوگوں کے خلاف جاری رکھا ہوا ہے۔

    اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    دوسری جانب القسام کی جانب سے ‘وقت ختم ہو رہا ہے’ کے عنوان سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے اسرائیلی یرغمالیوں کو دکھایا گیا ہے فلسطینی مزاحمتی فورسز کے بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج پر جوابی حملوں میں تیزی آگئی ہےالقسام اور القدس بریگیڈز نے مختلف کارروائیوں میں راکٹوں، مارٹرگولوں اور اسنائپر رائفلز سے حملے کرکے متعدد صیہونی فوجی ہلاک کر دئیے۔

    غزہ جنگ:اسرائیل کی 2023 کے لیےمزید ضمنی بجٹ کی منظوری

    ادھر اسرائیل اور قطری حکام نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ناروے میں ہفتے کے روز ایک ملاقات طے کی گئی تھی ۔ یہ ملاقات یرغمالیوں کے لیے نئی کوششوں کے سلسلے میں طے ہوئی تھی،اسرائیل اور قطر کے درمیان اس سلسلے میں نئی کوششوں کے لیے قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی اور اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ڈائریکٹر کے درمیان ناروے میں ہورہی ہے۔ امکان ہے کہ اس ملاقات میں مصری حکام بھی شریک ہوں گے، مذاکرات کے نئے آغاز میں حماس کے اندر معاہدے کی شرائط کے بارے میں اختلاف رائے بھی ہے۔

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی مسجد کی بے حرمتی

    امریکی جریدے وال سٹریٹ کے مطابق یہ مذاکراتی کوشش اس افسوسناک واقعے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں اسرائیلی فوجی غزہ میں اپنے یرغمالیوں کی رہائی کی کوشش کرتے کرتے انہیں اپنے ہی ہاتھوں ہلاک کر بیٹھے۔

    واضح رہےکہ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے آج اعتراف کیا تھا کہ حماس کی قید میں موجود تین اسرائیلی شہری خود اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فرینڈلی فائرنگ میں مارےگئے ہیں تینوں اسرائیلی مغوی قید سے فرار ہوئے اور اس دوران اسرائیلی فوج نے انہیں حماس کے ساتھی ہونےکے شبہ میں مار دیا جبکہ واقعےکے خلاف اسرائیل میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔

  • یورپی یونین غزہ میں جنگ بندی پر اتفاق رائے کرنے میں تیسری بار ناکام

    یورپی یونین غزہ میں جنگ بندی پر اتفاق رائے کرنے میں تیسری بار ناکام

    یورپی یونین غزہ میں جنگ بندی کے معاملے پر اتفاق رائے کرنے میں تیسری بار ناکام ہو گیا-

    باغی ٹی وی: یورپی کونسل کے صدر چارلس مشل نے بیلجیئن دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کے رہنماؤں کے 2 روزہ سربراہی اجلاس کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس کی،یورپی یونین کے سربراہان اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر حملے شروع کرنے کے دن 7 اکتوبر کے بعد اپنے تیسرے اجلاس میں غزہ میں جنگ بندی کے مطالبے پر اتفاق رائے نہیں کر سکے، مشل نے کہا کہ اجلاس کے اہم ترین ایجنڈے میں سے ایک اسرائیل ،فلسطین تنازعہ تھا۔

    کینیڈا کا پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا فیصلہ

    جھڑپوں میں وقفے کے بارے میں کچھ رکن ممالک کے درمیان مختلف خیالات پائے جانے کا ذکر کرنے والے مشل نے کہا، "کچھ ‘انسانی ہمدردی کی بنیاد’ اور کچھ ‘انسانی بنیادوں پر جنگ بندی’ چاہتے ہیں، تاہم مشل نے یہ بھی واضح کیا کہ انسانی امداد کے عزم اور دو ریاستی حل کی جانب سیاسی عمل کے عزم کو تمام رہنماؤں نے قبول کیا ہے۔

    اس طرح 7 اکتوبر سے اب تک تیسری بار یکجا ہونے والے یورپی یونین کے سربراہان فائر بندی کی اپیل کرنے کے معاملے میں ایک بار پھر ناکام رہے ہیں۔

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں کمی

  • اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے لے کر اب تک اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، سات روزہ جنگ بندی ہوئی تا ہم اس کے بعد اسرائیل نے دوبارہ حملے شروع کر دیئے، حماس نے سات اکتوبر کو کئی اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنایا تھا، اب اسرائیلی فوج نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو خود ہی مارنے کا اعتراف کیا ہے

    حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو غزہ میں رکھا ہوا ہے، کئی یرغمالی جنگ بندی کے دوران رہا ہوئے تا ہم کئی اب بھی حماس کے قبضے میں ہیں، اسرائیلی فوج نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو گولیاں مار دیں اور پھر اعتراف کیا کہ غلطی سے خطرہ سمجھ کر گولیاں ماریں،جس سے یرغمالیوں کی موت ہو گئی

    اسرائیلی فوج سے جاری بیان کے مطابق شجائیہ میں اسرائیلی فوج نے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو خطرہ سمجھا اور گولی مار دی،واقعہ کے بعد اسرائیلی فوج نے تحقیقات شروع کر دی ہیں تا ہم اس سے ہمیں یہ سبق ملا ہے کہ ہمیں یرغمالیوں کو بچانے کے لئے مزید محتاط ہو نا ہو گا، اس ضمن میں غزہ میں تمام اسرائیلی فوجیوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے.اسرائیلی فوج کی گولیوں سے ہلاک دو یرغمالیوں کی شناخت اسرائیلی فوج نے ظاہر کر دی ہے، جبکہ تیسرے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ خاندان کے کہنے پر شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی،مرنیوالے دو یرغمالیوں میں یوتم ہیم اور سیمر الطلالقہ شامل ہیں، جنہیں حماس نے سات اکتوبر کو یرغمال بنایا تھا.

    دوسری جانب اسرائیلی حملے میں الجزیرہ ٹی وی کے سینئر رپورٹر وائل الدحدوح زخمی ہوگئے ہیں،اسرائیل نے خان یونس میں حیفا سکول کی تباہی کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے قریب بمباری کی، جس سے صحافی وائل الدحدوح زخمی ہو گئے،انکے ہاتھ اور کمر پر زخم آئے،وائل الدحدوح کی اہلیہ، بیٹا اور بیٹی 25 اکتوبر کو اسرائیلی فوج کی بمباری میں شہید ہو چکے ہیں،

    اسرائیل اورحماس کے درمیان 7 اکتوبر کو جنگ شروع ہوئی تھی،اسرائیلی حملوں میں 18 ہزار سے زائد فلسطینی شہری شہید ہوچکے ہیں جبکہ 50 ہزار سے زائد زخمی ہیں،اسرائیل اور حماس کے مابین قطر کی کوششوں سے سات روزہ عارضی جنگ بندی ہوئی تھی تا ہم سات دنوں کے بعد دوبارہ جنگ شروع ہو گئی،اس جنگ بندی کے دوران دونوں اطراد سے قیدیوں کی رہائی ہوئی تھی،اب بھی جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں تا ہم اب اسرائیل نے موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا کا قطرکا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا ہے

    موساد کے ڈائریکٹر نے دوحہ کا سفر کرنا تھا مگر اب اسرائیلی حکومت نے انہیں منع کر دیا وہ دوحہ نہیں جا رہے، جنگ بندی کے لئے پہلے بھی کوشش قطر میں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں یرغمالی رہا ہوئے تھے،قبل ازیں 13 دسمبر کو اسرائیلی چینل نے رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیلی جنگی کابینہ نے دورہ منسوخ کردیا اورسینئراسرائیلی افسران بات چیت پھر سے شروع کرنے کے لئے قطر نہیں جائیں گے۔ سی این این کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم دفتر کا ماننا ہے کہ غزہ میں 135 یرغمالی بچے ہیں، جن میں سے 115 زندہ ہیں۔ سی این این نے کئی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل، امریکہ اور قطر نے بات چیت شروع کرنے کے طریقوں پرغوروخوض جاری رکھا ہواہے

    اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندان موساد چیف کے قطر کا دورہ منسوخ ہونے پر سراپا احتجاج ہیں اور اسرائیلی حکومت سے جواب طلبی کر رہے ہیں، خاندانوں کا کہنا ہے کہ ہم تنگ آ چکے ہیں، ہمارے پیاروں کو واپس لایا جائے،حکومت بے حسی ختم کرے،

  • سعودی ولی عہد  سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات

    سعودی ولی عہد سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات ہوئی ہے

    امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات سعودی عرب میں ہوئی،ملاقات میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بات چیت کی گئی،سعودی ولی عہد اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات کے حوالہ سے وائٹ ہاؤس نے بیان جاری کیا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور جیک سلیوان کے درمیان غزہ میں انسانی اقدامات اور فلسطین میں اہم امداد کی ترسیل میں اضافے پر بھی گفتگو کی گئی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر اسرائیل کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سمیت اسرائیل کی وار کیبنٹ کے ارکان سے بھی ملاقات کریں گے، وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ جیک سلیوان اپنے دورہ اسرائیل کے دوران غزہ میں حماس کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مزید حملوں کی ضرورت پر بھی بات کریں گے

    دوسری جانب شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے اسکول میں گھس کر وہاں پناہ لیے ہوئے شیرخوار بچوں اور عورتوں سمیت بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام کا انکشاف ہوا ہے،الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے اسکول شادیہ ابو غزالہ میں گھس کر وہاں پناہ لینے والے فلسطینی مردوں کو چُن چُن کر پکڑا اور الگ کمروں میں لے جا کر فائرنگ کر کے مار ڈالا،عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے اسکول کے کمروں میں داخل ہو کر وہاں موجود خواتین اور چھوٹے بچوں پر بھی فائرنگ کی، شیر خوار بچوں کو بھی فائرنگ کر کے قتل کیا.

  • یو این میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور

    یو این میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور

    جنیوا: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کرلی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : "عرب میڈیا” کے مطابق عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کے 193 رکن ممالک میں سے 153 ممالک نے قرارداد کے حق میں جبکہ 10 ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا، 23 ممالک ووٹنگ کے عمل سے غیر حاضر رہے، قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دینے والے ممالک میں امریکا اور اسرائیل سمیت دیگر شامل ہیں یہ تعداد ان 140 ممالک سے زیادہ ہے جنہوں نے یوکرین پر حملے کرنے کی وجہ سے روس کی مذمتی قراردادوں کی حمایت کی تھی۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ ووٹنگ عالمی امن و سلامتی کی ذمہ دار سلامتی کونسل کی بار بار ناکامی کے بعد ہوئی ہےاسرائیل کے سب سے طاقتور اتحادی اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے ایک، امریکہ نے جمعہ کو فائر بندی کے مسودے کو روکنے کے لیے ویٹو کا استعمال کیا تھاسلامتی کونسل کو کوئی بیان جاری کرنے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد ایک ماہ سے زیادہ وقت لگا اس نے نومبر کے وسط میں اس تنازع میں انسانی بنیادوں پر ’تعطل‘ کے لیے چار متن مسترد کیے۔

    فلسطینی مندوب ریاض منصور نے قرارداد کی منظوری کو تاریخی دن قرار دیا، مذکورہ قرارداد میں امداد کی رسائی اور یرغمال افراد کو غیرمشروط طور پر رہا کرنےکا مطالبہ کیا گیا،اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر منیر اکرم نے غزہ میں جنگ بندی فوری ممکن بنانے پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ اسرائیل کوذمہ دار نہ ٹھہرایا گیا تو اسے جنگ جاری رکھنے کا جواز مل جائےگااسرائیل کا مقصد فلسطین کے پورے تصورکو مٹانا ہے، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ میں مصر کے سفیر اسامہ محمود عبدالخالق محمود نے جنرل اسمبلی میں ووٹنگ سے قبل اسرائیل کو سفارتی تحفظ فراہم کرنے کی واشنگٹن کی کوششوں کے بارے میں کہا کہ یہ افسوسناک کوششیں دوہرے معیار کی ایک گھناؤنی علامت ہیں۔

    صدر جنرل اسمبلی اقوام متحدہ ڈینس فرانسز نے کہا کہ انسانی زندگیاں بچانا سب کی ترجیح ہونی چاہیے، ہمیں جنگ کے بنیادی اصولوں اور اقدار سے انحراف نہیں کرنا چاہیے دنیا اس وقت غزہ میں انسانی زندگیوں کےخاتمے کا مشاہدہ کررہی ہے، اسرائیل مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئٹریس نے غزہ کی پٹی میں امن عامہ کی مکمل تباہی کے بارے میں خبردار کیا ہے بہت سے ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے گذشتہ جمعے کو سلامتی کونسل کی ناکامی کی مذمت کی تھی اور سیکرٹری جنرل نے اتوار کو کونسل کے اختیارات اور ساکھ کو ’کمزور‘ قرار دیا تھا۔

    ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے گیلاد ایردان نے اس قرارداد کو ’منافقانہ قرارداد‘ قرار دیا کہا کہ اس میں حماس کے انسانیت کے خلاف جرائم کی مذمت نہیں کی گئی بلکہ اس میں حماس کا بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے دو ماہ سے زائد عرصے کے بعد بھی فلسطین پر اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ جاری ہے حماس کے 7 اکتوبر اسرائیل پر حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے اسرائیل کی بمباری میں 18,400 سے زائد فلسطینی شہید کئے جا چکے ہیں۔

    دوسری جانب "العربیہ” کےمطابق اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کی وجہ سے مزید شہری بے گھر ہوں گے اور وسیع پیمانے پر مزید نقل مکانیوں کو خدشہ ہو گا ، اس وقت دنیا میں 114 ملین شہری بے گھر ہو کر در بدر ہیں ان میں سے 40 ملین لوگ درجنوں جنگوں کی وجہ سے بے گھر ہوئے ہیں، ایک بڑی تعداد یوکرین اور سوڈان کے شہریوں کی ہے ۔

    پناہ گزینوں کے شعبے کے سربراہ فلیپو گرینڈی نے ہر چار سال بعد جنیوا میں ہونے والی تقریب میں کہا کہ اس وقت غزہ میں بھی بڑی تباہی جاری ہے لیکن ابھی تک سلامتی کونسل جنگ بندی کروانے میں ناکام ہے ہم دیکھ رہے ہیں ابھی مزید ہلاکتیں ہوں گی اور مزید شہریوں کو نقل مکانی کرنا پڑے گا اس لیے بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ ان بحران میں پھنسے فلسطینیوں کو نہ بلائے، عالمی برادری کو چاہیے کہ اوہ غزہ پر اپنی پوری توجہ رکھے ، اس سے اپنی نظریں نہ ہٹائے انہوں نے نقل مکانی کرنے ، بے گھر اور مصائب میں مبتلا ہونے والے کروڑوں لوگوں کے لیے فنڈنگ کے بارے میں غیر یقینی صورت حال پر تشویش ظاہر کی۔

  • غزہ میں زمینی آپریشن میں مزید 4  افسران سمیت7 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ میں زمینی آپریشن میں مزید 4 افسران سمیت7 اسرائیلی فوجی ہلاک

    مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ میں زمینی آپریشن میں مزید 4 افسران سمیت7 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے-

    باغی ٹی وی: اسرائیل نے 27 اکتوبر کو غزہ میں زمینی آپریشن شروع کیا تھا اور اب تک اسے مجاہدین کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہےزمینی آپریشن میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،اسرائیلی افواج نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ میں 4 افسران سمیت 7 فوجی مارے گئے ہیں جس کے بعد زمینی آپریشن میں ہلاک اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 104 ہوگئی، زخمی فوجیوں میں سے 133 کی حالت تشویشناک ہے۔

    دوسری جانب مزاحمتی تنظیم حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کے اندرونی علاقوں میں داخل ہونے والی اسرائیلی فوج سے دو بدو لڑائی جاری ہے اور اسرائیل کے فیلڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو مارٹر گولوں، دھماکا خیز آلات سے نشانہ بنایا ہے اسرائیلی فوج کی 44 گاڑیاں تباہ اور 40 اسرائیلی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

    قبل ازیں فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ نےکہا تھا کہ اسرائیل طاقت سے اپنا کوئی یرغمالی رہا نہیں کراسکتا،فوجی طاقت سے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرایا جا سکتا۔

    ایک بیان میں القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جنگی کابینہ مذاکرات کیے بغیر اپنے یرغمالیوں کو رہا نہیں کراسکتی، اسرائیلی یرغمالی کی ہلاکت طاقت کے زور پر رہا کرانےکی کوشش کا نتیجہ ہے،گزشتہ 10 روز میں غزہ میں ہمارے لوگوں نے 180 سے زائد اسرائیلی فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا ہے، جھڑپوں میں اسرائیلی فوجیوں کا بڑا جانی نقصان ہوا ہے، اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہماری مزاحمت جاری رہےگی انہوں نے عرب اور اسلامی ممالک کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ غزہ کے لوگوں کی حمایت اور جنگ بندی کے لیے احتجاج جاری رکھیں۔

  • غزہ کی صورت حال پر سلامتی کونسل کے ناکام ہونے پر افسوس ہے،انتونیو گوئتریس

    جنیوا: اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) نے کہا کہ اسرائیل کا منصوبہ فلسطینیوں کو غزہ سے مصر میں دھکیلنا ہے۔

    باغی ٹی وی : امدادی ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی شمالی غزہ میں تباہی اس منصوبے کا پہلا قدم تھاجنوبی غزہ سے فلسطینیوں کو انخلا کی دھمکی اس منصوبے کا اگلا قدم ہے، جنوبی غزہ میں 19 لاکھ فلسطینی بدترین حالات میں پھنسے ہیں، اسرائیل کی فلسطینیوں کو مصر میں دھکیلنے کی کوششیں جاری ہیں، اگر یہی صورتحال رہی تو یہ دوسرا نکبا ہوگا، غزہ کی سرزمین فلسطینیوں کی نہیں رہے گی۔

    خیال رہے کہ 1948 میں لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا تھا اور اس دن کو نکبا یا قیامت کے طور پر مناتے ہیں۔

    دوسری جانب صیہونی فورسز کی غزہ میں بدترین جارحیت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل نے چوبیس گھنٹے میں جبالیہ شہر پر مکمل قبضہ کرنے کا اعلان کردیا ہے اسرائیل نے خان یونس بھی خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے، غزہ میں اسرائیل کی تازہ بمباری سے مزید ڈھائی سو فلسطینی شہید ہوگئے، جس کے بعد سات اکتوبر سے اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد سترہ ہزار سات سو ہوگئی۔

    اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نے قطر میں دوحہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی صورت حال پر سلامتی کونسل کے ناکام ہونے پر افسوس ہے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے غزہ میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی غزہ پر منقسم رائے نے ادارے کو مفلوج کرکے رکھ دیا،سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی غزہ پر رائے تقسیم ہونے کی مذمت کرتے ہیں-

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ سلامتی کونسل کے رکن ممالک جیو اسٹریٹیجک تقسیم کی وجہ سے غزہ میں 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی ’اسرائیل-حماس جنگ‘ کا حل نہیں ڈھونڈ پائے جس سے ادارے کی ساکھ اور اختیار کو شدید نقصان پہنچا، افسوس کی بات ہے کہ سلامتی کونسل ایسا کرنے میں ناکام رہی لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہار نہیں مانوں گا۔

    یاد رہے کہ غزہ پر ہونے والے اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں اور رکن ممالک ایک متفقہ اعلامیہ جاری کرنے میں بھی ناکام رہے،امریکا نے جمعہ کو غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی قرار داد کو ویٹو کردیا تھا۔ امریکا کا کہنا تھا کہ اس طرح کا اقدام خطرناک اور غیر حقیقی ہو گا،غزہ پر 7 اکتوبر سے جاری جارحیت میں تاحال 17 ہزار 700 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جب کہ 28 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

  • غزہ میں حماس کے ساتھ لڑائی میں اسرائیلی فوجی اپنی بینائی کھو نے لگے

    غزہ میں حماس کے ساتھ لڑائی میں اسرائیلی فوجی اپنی بینائی کھو نے لگے

    تل ابیب: اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں حماس کے خلاف لڑنے والے فوجی اپنی بینائی کھونے لگے ہیں۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے ”یروشلم نے کے اے این نیوز“ کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ غزہ میں حماس کے خلاف لڑنے والے سینکڑوں اسرائیلی فوجیوں کو آنکھوں کی شدید چوٹیں آئی ہیں، جن میں سے کچھ ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے بھی محروم ہوچکے ہیں آنکھوں کی یہ زیادہ تر چوٹیں جنگ کے دوران ضرورت کے مطابق حفاظتی پوشاک، یعنی آنکھوں کی حفاظت کا سامان نہ پہننے کی وجہ سے آئیں۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی آنکھیں گولیوں کے ٹکڑوں چھینٹے اور بندوق کے ری کوئل کے قریب منہ ہونے کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوئیں، جبکہ کچھ فوجیوں کو حماس کے جنگجوؤں نے براہ راست نشانہ بنایا ان چوٹوں میں سے 10 سے 15 فیصد کے نتیجے میں ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی ختم ہو جاتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک بیر شیبہ کے سوروکا میڈیکل سینٹر میں آنکھ کے زخموں والے تقریباً 40 فوجی داخل ہیں، پانچ اس ہفتے کے شروع میں شدید زخموں کے ساتھ اسپتال پہنچے پچھلے 24 گھنٹوں میں مبینہ طور پر 5 میں سے 2 کی سرجری ہوئی ہے۔

    پچھلے مہینے، یروشلم پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ سوروکا کے ماہرین امراض چشم نے ہر وقت حفاظتی چشمیں پہننے کی ضرورت کے بارے میں فوج کے شعور کو بڑھانے کے لیے ایک مختصر ویڈیو تیار کی تھی اسرائیلی فوج نے نیوز رپورٹ کا جواب دیتے ہوئے وضاحت کی کہ فوج کے پاس آنکھوں کی حفاظت کرنے والے آلات کی کمی نہیں ہے آئی ڈی ایف ایسے واقعات کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے جن میں فوجی جنہیں حفاظتی چشمیں پہننے کی ضرورت ہوتی ہے وہ باقاعدگی سے ایسا نہیں کرتے۔

    دوسری جانب”العربیہ” کے مطابق غزہ کی پٹی میں تقریباً 1.9 ملین افراد کے اندرونی طور پر بے گھر ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ لاکھوں لوگ اسرائیل کی بے رحمانہ بمباری کے دوران جنوب کے پرہجوم علاقے میں پناہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کے رابطہ کاری دفتر برائے انسانی امور (یو این او سی ایچ اے) کے مطابق غزہ کی 2.3 ملین آبادی میں سے 80 فیصد سے زیادہ افراد اندرونی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر نے شمال سے انخلاء کا حکم ملنے کے بعد پٹی کے جنوب کا رخ کیا ہے،غزہ کے گنجان آباد جنوب میں خان یونس میں پناہ لینے والے لوگ اس ناممکن فیصلے کا سامنا کر رہے ہیں کہ آیا دوبارہ انخلاء کریں یا موت یا زخمی ہونے کا خطرہ مول لیں کیونکہ شہر شدید اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے۔

    ادھر مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے،اسرائیل نے کہا تھا جنوب محفوظ رہے گا، لیکن العربیہ کے مطابق اسرائیلی افواج کی جانب سے علاقے میں کارروائی شروع کرنے سے بہت پہلے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران کئی محلوں کو بار بار گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا، اب اسرائیلی فوج کی طرف سے خان یونس شہر کے 20 فیصد علاقے کے لیے انخلاء کے احکامات جاری کیے گئے ہیں یہ شہر بحران سے پہلے 117,000 لوگوں کا مسکن تھا اور اب یہاں اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے اضافی 50,000 افراد 21 پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں غزہ کے 19 فیصد حصے پر محیط شہر کے مزید مشرقی حصے میں ایک علاقے کے لوگوں کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر جنوب کی طرف رفح یا دیگر مخصوص مقامات پر چلے جائیں۔

    غزہ میں فلسطینی شہریوں کے ساتھ اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کی ویڈیو اور تصاویر وائرل ہو رہی ہیں وائرل تصاویر اور ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ زیر حراست درجنوں فلسطینیوں کو شدید سردی میں کپڑے اتار کر کھلے مقامات پر بٹھایا گیا زیر حراست افراد میں بزرگ اور نوجوانوں کے علاوہ بچے بھی شامل ہیں، حراست میں لیے گئے فلسطینیوں کا تعلق غزہ کے مختلف علاقوں سے ہے،اسرائیلی فوجیوں نے زیرحراست فلسطینیوں کو بغیر کپڑوں کے ہی ٹرکوں میں اسرائیل منتقل کیا۔
    https://x.com/SecKermani/status/1732765834596978924?s=20
    اسرائیلی فوج نے 24 گھنٹوں میں مزید 350 سے زائد فلسطینی شہید کر دئیے ہیں ، جبالیہ، خان یونس، المغازی، رفح، بیت لاہیا کے رہائشی علاقوں میں بمباری کی، مسجد کو بھی نشانہ بنایا، فلسطینی میڈیا کے مطابق غزہ میں اب تک 17 ہزار 177 افراد شہید اور 46 ہزار زخمی ہوچکے ہیں،7 ہزار 700 فلسطینی ملبے تلے دبے ہیں، غزہ سٹی میں 52 ہزار مکانات مکمل اور ڈھائی لاکھ سے زائد مکانات جزوی تباہ ہوئے ہیں 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 194 مساجد اور تین چرچ تباہ ہوئے ہیں۔

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی سفاکیت نے ذہنی معذور فلسطینی کو بھی نہ بخشا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں نے ایک ذہنی معذور فلسطینی کو روک کر اس کی شناخت پوچھی، جس کا وہ جواب نہ دے سکا، ساتھ موجود فلسطینی نے اس کی ذہنی معذوری کا بتایا پھر بھی اسرائیلی فوجیوں نے 34 سالہ طارق پر فائرنگ کر دی، شدید زخمی طارق اسپتال میں زیر علاج ہے7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی فوج مغربی کنارے میں 256 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے۔

    فلسطین کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے انروا کا کہنا ہےکہ غزہ میں شدید بمباری اور فوجی آپریشن کے سبب صورتحال مایوس کن ہوچکی ہے، غزہ میں شدید بمباری کے سبب ایسی صورتحال ہے کہ امداد کی فراہمی نہیں ہوپارہی۔

  • ترک صدر نے اسرائیل کے غزہ میں بفرزون کے قیام کا منصوبہ مسترد کر دیا

    ترک صدر نے اسرائیل کے غزہ میں بفرزون کے قیام کا منصوبہ مسترد کر دیا

    انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ غزہ کے لیے اسرائیلی بفر زون منصوبے پر بحث کرنا بھی فلسطینیوں کی بے عزتی ہے-

    باغی ٹی وی: ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کے غزہ میں بفرزون کے قیام کا منصوبہ مسترد کر دیاقطر سے واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے ترکیے میں حماس کے ارکان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

    ترک خبر ایجنسی انادولو کے مطابق ترکیہ کے صدر نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ میں جنگ کو اپنی سیاسی زندگی بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ غزہ میں اسرائیل جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے،اسرائیلی جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کو جواب کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا، یہ ترکیہ کی ترجیح ہے غزہ میں مستقل جنگ بندی ہو اور غزہ کے لوگوں انسانی بنیادوں پر امداد بغیر کسی رکاوٹ اور تعطل کے پہنچے ۔

    ہمارا ایجنڈا صرف سڑکوں، تعلیم اور صحت تک محدود نہیں ہوگا ،نواز شریف

    صدر اردوان نے نیتن یاہو کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ‘ اس نے جنگ کو طوالت اپنے اقتدار اور سیاسی مستقبل کو طوالت دینے کے لیے دی ہے۔ لیکن اپنے ذاتی اقتدار کے لیے اس نے پورے خطے کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہےنیتن یاہو کہتا تھا کہ وہ حماس کو ختم کر دے گا مگر اب اس کو خود اپنے ہاں اندرونی محاذ پر سخت سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس کی ناکامی اور اہلیت پر سوال اٹھ رہے ہیں یاہو کوعالمی سطح پر بھی سخت تنقید کا سامنا ہے اس کی جنگی پالیسی کی وجہ سے ہزاروں فلسطینی شہریوں کو شہید کیا گیا، حتیٰ کہ جنگ بندی کے بعد بھی فلسطینیوں کی جانیں لی گئی ہیں انہوں نے اسرائیلی اپوزیشن لیڈر اور اپوزیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ‘ اسرائیلی اپوزیش آج یاہو کا استعفیٰ مانگ رہی ہے۔

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات،درخواستیں ابتدائی سماعت کیلئے مقرر

    ترک صدر نےکہا کہ غزہ کے لیے اسرائیلی بفر زون منصوبے پر بحث کرنا بھی فلسطینیوں کی بے عزتی ہےحماس اپنی سر زمین کے تحفظ کے لیے لڑنے والا مزاحمتی گروپ ہے،غزہ کے مستقبل کا فیصلہ فلسطینی ہی کریں گے۔، اسرائیل کو مقبوضہ علاقے واپس کرنا ہوں گے، مغربی ممالک کی اسرائیل کی حمایت خطے کی موجودہ صورت حال کا سبب بنی ہے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت کی توثیق پارلیمنٹ میں جمع کر کے اپنا کردار ادا کر دیا ہے، اب ترکیے کو ایف 16 طیاروں کی فروخت پر امریکی کانگریس سے بیک وقت اقدامات کی توقع ہے۔

    اسرائیل غزہ میں جاری جنگ جنوری 2024 میں ختم کر سکتا ہے،امریکی ٹی وی

    واضح رہے یائر لاپیڈ کو رپورٹ کرتے ہوئے ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ کیا ہے ‘اب جنگ کے دوران ہی نیتن یاہو کو گھر جانا چاہیے، کیونکہ ہم تبدیلی چاہتے ہیں کیونکہ حکومت کام ہی نہیں کر رہی،بلکہ غیر فعال ہو چکی ہے، ان حالات میں یاہو کے اقتدار کا کوئی جواز نہیں ہے۔ہم ایک ایسی حکومت کو مزید بر سر اقتدار نہیں رہنے دینا چاہتے جس کی عوام میں مقبولیت نہ رہی ہو اور لوگوں کو اس پر بھروسہ نہ رہا ہو، یہ صرف اپوزیشن لیڈر نہیں کہہ رہا بلکہ ماہ نومبر میں ہونے والے ایک سروے میں کہا گیا ہے کہ 70 سے 80 فیصد اسرائیلی چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہوتے ہی یاہو کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔

    شادی شدہ افراد میں ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ 9 فیصد …

  • اسرائیل غزہ میں جاری جنگ جنوری 2024 میں ختم کر سکتا ہے،امریکی ٹی وی

    اسرائیل غزہ میں جاری جنگ جنوری 2024 میں ختم کر سکتا ہے،امریکی ٹی وی

    باغی ٹی وی : امریکی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ اسرائیل 7 اکتوبر سے غزہ میں جاری جنگ جنوری 2024 میں ختم کر سکتا ہے،تاہم زمینی جنگ ختم ہونے کے بعد حماس کے خلاف سرجیکل کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    باغی ٹی وی: امریکی ٹی وی سی این این نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیل کی جنوبی غزہ میں کارروائیاں شمالی غزہ جتنی شدید نہیں ہوں گی، دوسری جانب اسرائیلی حکام مارچ میں ہونے والی پارلیمانی انتخابات سے کئی ہفتے پہلے غزہ جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں، اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد غزہ کا کنٹرول کسی بین الاقوامی فورس کو نہیں دیں گے غزہ میں جنگ دوسرے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جو مشکل ہوسکتی ہے۔

    اسرائیل کی شمالی غزہ میں 2 اسکولوں پر بمباری،50 فلسطینی شہید

    اسرائیلی حکومتی ترجمان کے مطابق اسرائیل غزہ میں اپنی جنگ کے نئے مرحلے میں داخل ہورہا ہے جہاں وہ جنگ کو عسکری لحاظ سے مشکل تصور کررہا ہے تاہم اسرائیل حماس کو ختم کرنے کے اس مقصد میں شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کے حوالے سے بھی کوشش کررہا ہے، اسرائیل نے غزہ پٹی پر حماس کے زیر انتظام علاقوں میں آپریشن شروع کردیا ہے جہاں شمالی علاقوں سے تقریباً 10 لاکھ پناہ گزینوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔

    شمالی غزہ کے بعد اسرائیل کی جنوبی غزہ پر بھی بمباری

    اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے جنگ کے بعد غزہ کی سکیورٹی سنبھالنے کا اعلان کردیا ہے کہا کہ حماس کے ساتھ جنگ ​​ختم ہونے کے بعد اسرائیلی فوج ہی غزہ کی سکیورٹی کا کنٹرول جاری رکھے گی نیتن یاہو نے کسی غیر ملکی فورس کو یہ ذمہ داری سونپنے کے امکان کو مسترد کرتےہوئے کہا کہ جنگ کے بعد غزہ کاکنٹرول کسی بین الاقوامی فورس کو نہیں دیں گے، تنازع ختم ہونے کے بعد اسے ‘فوج کے بغیر ملک’ بنانا چاہیے۔

    اسرائیل کی تیار کردہ ٹیک مصنوعات پر بڑا سائبر حملہ

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک غزہ میں انسانیت سوز اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں 7 ہزار سے زائد بچوں سمیت فلسطینی شہدا کی مجموعی تعداد 16 ہزار سے زائد جب کہ زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی 43 ہزار 600 سے تجاوز کرچکی ہے۔