Baaghi TV

Tag: غزہ

  • شمالی غزہ کے بعد اسرائیل کی جنوبی غزہ پر بھی بمباری

    شمالی غزہ کے بعد اسرائیل کی جنوبی غزہ پر بھی بمباری

    قاہرہ: عارضی جنگ بندی کے خاتمے اور غزہ پر دوبارہ اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے بعد 871 دوہری شہریت کے حامل شہری رفح کراسنگ کے رستے مصر پہنچ گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: مصری حکام نے بتایا کہ ہفتے اور اتوار کے روز مصر پہنچنے والے دوہری شہریت کے حامل شہریوں میں 17 امریکی اور 130 ترک شہریت کے حامل افراد شامل ہیں مصر پہنچنے والے دوہری شہریت کے حامل افراد میں مصر، جنوبی افریقا، جرمنی، کینیڈا، آسٹریلیا اور ڈنمارک کے شہری بھی شامل ہیں،ہفتہ اور اتوار کے روز رفح کراسنگ کے ذریعے 13 فلسطینی زخمی بھی مصر پہنچے ہیں۔

    فلسطینی ہلال احمر کے مطابق رفح کراسنگ سے اتوار کو امدادی سامان کے 100 ٹرک بھی غزہ میں داخل ہوئے، 21 اکتوبر سے 30 نومبر تک امدادی سامان لے کر 2 ہزار 538 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے۔

    دوسری جانب شمالی غزہ میں 16 ہزار سے زائد فلسطینی شہریوں کی جان لینے کے بعد اسرائیل نے زمینی کارروائی پورے غزہ تک بڑھادی، اسرائیلی آرمی چیف نے جنوبی غزہ میں شدت سے حملوں کی تصدیق کی اور اسرائیل نے ان حملوں میں فضائیہ کی مدد لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
    https://x.com/AJA_Palestine/status/1731489045723623758?s=20
    فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے مغربی کنارے سمیت جینن، سلواد، جفنا، جلازوم، قلقلیا اور ہبرون میں چھاپے مارے اور متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا، اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں لڑائی کے دوران اپنے تین فوجیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔

    دوسری جانب غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملے سے اردن کا شہری جاں بحق ہوگیا جس کی تصدیق اردن کی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔

    اردن کی وزارت خارجہ کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملے میں اردن کا ایک شہری جاں بحق اور اس کا بھائی شدید زخمی ہوا جسے اسپتال منتقل کیا گیا تو ڈاکٹرز نے اس کے کومہ میں ہونے کی تصدیق کی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے پیر کی علی الصبح جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں شدید بمباری اور شیلنگ کی ہے جس میں فوری طور پر جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

    خیال رہے کہ عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر شروع کیے گئے جارحانہ حملوں میں اب تک 700 سے زائد فلسطینی شہید جبکہ سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں،،کمال عدوان اسپتال کے دروازے پر بمباری سے 4 فلسطینی شہید ہوئے جب کہ اسپتال کے گھیراؤ کی کوشش کی گئی۔

    فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے اسرائیل کی غزہ اور دیگر قابض علاقوں پر بدترین بمباری جاری ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جارحیت نے ہزاروں بچوں کا بچپن چھین لیا ہے، غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری سے کہیں بچے والدین تو کہیں والدین بچوں سے بچھڑ گئے ہیں غزہ میں اسرائیلی بمباری کے بعد ملبے سے ریسکیو کیے گئے زخمی بھائی بہن کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں زخمی بہن بار بار اپنے زخمی بھائی سے اپنے خاندان کی خیریت کے بارے میں پوچھ رہی ہے لیکن بھائی کے پاس زخمی بہن کے سوالات کا کوئی جواب نہیں ہے۔

    اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے یو این او سی ایچ اے کے مطابق جنوبی غزہ میں بڑے پیمانے پر انفیکشنز کا پھیلاؤ ہورہا ہے جس میں ایک سے دوسرے کو لگنے والے انفیکشنز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ ڈائیریا اور جِلد کے انفیکشنز کے بھی متعدد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں اسرائیلی ایجنسی شن بیت نے قطر، ترکیہ اور لبنان میں بھی حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہےاس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے حماس کی شاتی بٹالین کے کمانڈر حیثم خواجری کو فضائی حملے میں قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہےمزاحمت کاروں سے جھڑپیں تاحال جاری ہیں، رفاح سٹی میں گھروں پر بمباری ہورہی ہے جس میں شہادتوں کا خدشہ ہے، جب کہ اب بھی کئی افراد ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔

  • امریکی مسلمانوں کا اگلے انتخابات میں جوبائیڈن کے خلاف مہم چلانے کا اعلان

    امریکی مسلمانوں کا اگلے انتخابات میں جوبائیڈن کے خلاف مہم چلانے کا اعلان

    واشنگٹن: بائیڈن کو دوبارہ صدارت کی دوڑ میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے امریکا کے مسلمان رہنماؤں نے بائیڈن کو روکو "AbandonBiden” مہم شروع کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی : غزہ کے معصوم فلسطینیوں پر وحشیانہ بم باری کرنے والے اسرائیل کی حمایت امریکی صدر بائیڈن کو مہنگی پڑگئی ہے،کئی اہم امریکی ریاستوں کے مسلم رہنماؤں نے ہفتے کو عہد کیا کہ وہ غزہ میں اسرائیلی جنگ پر بائیڈن کے مؤقف کی وجہ سے ان کی انتخابی مہم کی مخالفت کریں گے۔

    عرب میڈیا کے مطابق امریکی ریاست منی سوٹا کے مسلمان امریکیوں نے بائیڈن سے 31 اکتوبر تک جنگ بندی کا مطالبہ کیا بعد ازاں بائیڈن مخالف مہم مشی گن، ایری زونا، وسکونسن، پنسلوانیا اور فلوریڈا تک پھیل گئی ہے،بڑی مسلم اور عرب امریکی آبادی کی مخالفت آئندہ انتخابات میں بائیڈن کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے۔

    بحیرہ احمر میں امریکی جنگی اورتجارتی بحری جہازوں پر حملے

    امریکی مسلمان رہنماؤں نےا س عزم کا اظہار کیا ہےکہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں ساتھ دینے والے بائیڈن کو دوبارہ صدر بننے سے روکنےکی ہر ممکن کوشش کریں گےمہم کی قیادت کرنے والے امریکی مسلمان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بائیڈن نے غزہ میں جنگ بندی رکوانے اور معصوم افراد کو تحفظ فراہم کرنےکے مطالبے کو نہیں مانا اس لیے ہم نے صدر بائیڈن کی حمایت واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل نہ ہوسکیں۔

    امریکی صدر اور نائب صدر کا انتخاب ”انتخاب کاروں“ (الیکٹورل کالج) کے ایک گروپ کے ذریعے کیا جاتا ہے جنہیں زیادہ تر معاملات میں اس ریاست کی سیاسی جماعتیں منتخب کرتی ہیں، مہم شروع کرنے والی تنظیم منی سوٹا کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ڈائریکٹر حسین جیلانی کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس صرف دو آپشن نہیں بلکہ متعدد لوگ ہیں۔

    غزہ: جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے، مکمل رہائشی بلاک منہدم

    امریکی سیاست پر دو جماعتوں کا غلبہ ہے – ڈیموکریٹس اور ریپبلکن – لیکن آزاد امیدوار بھی صدر کے لیے انتخاب لڑ سکتے ہیں، ہارورڈ کے سابق پروفیسر اور ممتاز سیاہ فام فلسفی کارنیل ویسٹ، جو آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں، انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کی مذمت کی ہےگرین پارٹی کے پلیٹ فارم پر دوڑ میں شامل جل سٹین نے بھی غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ 2016 اور 2012 میں بھی امیدوار تھیں۔

    امریکی مسلمانوں کا کہنا ہےکہ وہ ٹرمپ کو متبادل کے طور پر نہیں دیکھ رہے نہ وہ ان سے مسلمانوں کے لیےکسی بہتری کی امید رکھتے ہیں، ہم متبادل امیدوار چاہتے ہیں، وہ بائیڈن کو ووٹ دینے سے انکار کو امریکی پالیسی کی تشکیل کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ہم ٹرمپ کی حمایت نہیں کر رہے، مسلم کمیونٹی فیصلہ کرے گی کہ دوسرے امیدواروں کا انٹرویو کیسے کیا جائےدوسری جانب حماس نے بھی امریکی مسلمانوں سے اپیل کی ہےکہ وہ آئندہ انتخابات کے لیے بائیڈن کو سپورٹ نہ کریں۔

    پاکستان ترقی پذیر ممالک کے موسمیاتی مالیات کیلئےایک توانا آواز اور پرزورحامی رہا ہے،نگران …

    ایک حالیہ سروے میں عرب امریکیوں میں بائیڈن کی حمایت میں نمایاں کمی کا انکشاف ہوا ہے، جو کہ 2020 میں کافی اکثریت سے گر کر صرف 17 فیصد رہ گئی ہےعرب امریکن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، اس تبدیلی کا مشی گن جیسی ریاستوں میں اہم اثر ہو سکتا ہے، جہاں بائیڈن نے 2.8 فیصد پوائنٹس سے فتح حاصل کی، اور عرب امریکن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، 5 فیصد ووٹ عرب امریکی ہیں عام لوگوں کے درمیان، رائے عامہ کے جائزوں میں زیادہ تر امریکیوں نے محاصرہ زدہ علاقے میں اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کی حمایت کی ہے۔

    واضح رہےکہ 7 اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی جارحیت میں 16 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے اسرائیلی بمباری سے غزہ پٹی میں اب تک 15 لاکھ سے زائد افراد بےگھر بھی ہو چکے ہیں تاہم امریکی صدر بائیڈن کی جانب سے غزہ میں قتل عام رکوانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی بلکہ امریکا نے اسرائیل کو فوجی امداد بھی فراہم کی ہے اور قرار دیا ہے کہ دفاع اسرائیل کا حق ہے۔

    بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا

  • غزہ: جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے، مکمل رہائشی بلاک منہدم

    غزہ: جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے، مکمل رہائشی بلاک منہدم

    غزہ کے جبالیہ کیمپ پر تازہ اسرائیلی فضائی حملے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں سینکڑوں ہلاکتوں کا خدشہ ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملے میں 700 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: الجزیرہ کا کہنا ہے کہ ہمیں اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اسرائیل نے غزہ میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ کو دوبارہ نشانہ بنایا ہے، لبنان کی جانب سے اسرائیلی فوج پر اینٹی ٹینک میزائل سے حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے، دوسری جانب اسرئیلی فضائیہ نے الجبالیہ پناہ گزین کیپ کو دوبارہ نشانہ بنایا ہے۔

    فوٹو الجزیرہ
    الجزیرہ کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں واقع جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں متعدد شہادتوں کی اطلاعات ہیں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک مکمل رہائشی بلاک منہدم ہوا ہے جس کے اندر بہت سے لوگ موجود تھے، تباہی ناقابل بیان ہے۔

    فوٹو الجزیرہ

    فلسطینی صحافیوں اور ٹی وی کریو کی جانب سے شیئر کی گئی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ جبالیہ کیمپ کے رہائشی اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتے ہوئے ملبے کے نیچے سے زندہ بچ جانے والوں کو نکال رہے ہیں لوگوں کو کئی لاشیں ملی ہیں، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے جس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہوچکے تھے،کچھ شدید زخمیوں کو اسٹریچر حتیٰ کہ گدوں پر بھی لے جایا جا رہا ہے، جبالیہ کیمپ کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ ’ہم ملبے کے نیچے سے آوازیں سن سکتے ہیں‘۔

    فوٹو الجزیرہ

    واضح رہے کہ جبالیہ غزہ کا سب سے بڑا پناہ گزین کیمپ ہے۔ غزہ کے شمال میں واقع یہ گنجان آباد کیمپ 1.4 مربع کلومیٹر (0.5 مربع میل) کے رقبے پر محیط ہے اقوام متحدہ کے مطابق کیمپ میں تقریباً 116,000 رجسٹرڈ مہاجرین موجود ہیں اسے دو دنوں میں دو بار اسرائیلی فضائی حملوں سے نشانہ بنایا گیا۔

    فوٹو الجزیرہ
    خیال رہے کہ غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملے میں 700 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں،غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیاں جاری ہیں اور ان کا دائرہ محفوظ قرار دیے جانے والے جنوبی حصوں میں بھی پھیلا دیا گیا ہے 58 روز سے جاری ان کارروائیوں کے دوران اب تک 16 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہیں اسرائیلی جارحیت سے ہزاروں گھر بھی تباہ ہوئے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ خطے کے قدیم ثقافتی مقامات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہےیہ خطہ قدیم زمانے سے مصر، یونان، روم، بازنطینی اور مسلم ریاستوں کے زیرتحت تجارت اور ثقافت کا مرکز رہا ہے۔

    Heritage for Peace نامی ادارے کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک غزہ کے 100 سے زائد ثقافتی مراکز کو نقصان پہنچا ہے یا وہ تباہ ہوچکے ہیں ان میں فلسطین کی تاریخی مسجد عمری بھی شامل ہے جبکہ دنیا کا تیسرا قدیم ترین چرچ آف Saint Porphyrius، 2 ہزار سال قدیم رومی قبرستان، رفح میوزیم اور دیگر قدیم ثقافتی مقامات اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوئے نوادرات، تاریخی مقامات، میوزیمز اور لائبریریوں کو تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔

    Heritage for Peace کے صدر Isber Sabrine نے کہا کہ اگر غزہ کی ثقافت کا خاتمہ ہوگیا تو یہ غزہ کے رہائشیوں کی شناخت کے لیے بہت بڑا نقصان ہوگا ہمارا ادارہ غزہ کے ثقافتی مراکز کی حالت کے بارے میں سروے اور مانیٹرنگ جاری رکھے گا غزہ کے عوام کو اپنی تاریخ بیان کرنے والی ثقافت کو بچانے کا حق حاصل ہے، جو اس سرزمین کے لیے بہت اہم ہے۔

    1954 کے ہیگ معاہدے کے تحت فلسطینیوں اور اسرائیل نے جنگ کے دوران ان مقامات کو محفوظ رکھنے پر اتفاق کیا تھا مگر ماضی میں بھی اسرائیلی حملوں میں ان مقامات کو نقصان پہنچا تھا مگر اب جو تباہی ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے ثقافتی تاریخ کے نقصان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد کریں۔

    فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے اسرائیلی کی غزہ اور دیگر قابض علاقوں پر بدترین بمباری جاری ہے،حماس کا کہنا ہےکہ غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے اجتماع کو نشانہ بنایا گیا ہے، فلسطینی تنظیم کی جانب سے اسرائیلی فورسز اور گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں

    اسرائیل کی جانب سے غزہ کے گنجان آباد جنوبی حصوں پر حملے کیے جا رہے ہیں جہاں شمالی غزہ سے جبری انخلا کے بعد فلسطینیوں کی اکثریت پناہ لیے ہوئے ہیں، صیہونی فورسز کی جانب سے رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہےاس کے علاوہ اسرائیلی فورسز کی خان یونس کے علاقے میں بھی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں اور تازہ ترین کارروائی میں اسرائیلی فورسز نے ایک گھر میں چھاپہ مار کر 7 فلسطینیوں کو شہید کر دیا-

    خان یونس میں قطری تعاون سے تعمیر "حمد سٹی ” کی تباہی کے ہولناک مناظر دیکھنے میں آئے اور ترک ٹی وی کی صحافی ربا خالد لائیو کوریج کے دوران اپنا گھر تباہ ہوتے دیکھ کر آبدیدہ ہو گئیں ادھر اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ کے شیخ عکرمہ کے گھر پر بھی چھاپا مارا، شیخ عکرمہ صابری مقبوضہ بیت المقدس میں سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ اور فلسطینی علما اور مبلغین کی انجمن کے بانی و صدر بھی ہیں۔

    غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل کا عرب میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 700 سے زائد فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے اسرائیلی بمباری سے غزہ پٹی میں اب تک 15 لاکھ سے زائد افراد بےگھر ہو چکے ہیں جبکہ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 16 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق غزہ 52 روز سے بجلی سے محروم ہے، جنوبی غزہ کے عمارتوں اور کیمبس میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، جنوبی غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 7 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نےغزہ کے اسپتال کے دورے کے بعد اظہارِ خیال میں کہا کہ جنوبی غزہ میں النصر اسپتال کے حالات ناقص سے بھی بدتر ہیں، گنجائش سے تین گنا زائد مریض موجود ہیں، مریضوں کا علاج زمین پر کیا جارہا ہے۔

  • غزہ جنگ:  اردن میں کرسمس کی روایتی تقریبات منسوخ

    غزہ جنگ: اردن میں کرسمس کی روایتی تقریبات منسوخ

    غزہ جنگ کے باعث اردن میں کرسمس کی روایتی تقریبات منسوخ کر دی گئیں۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق اردن نے رواں سال غزہ کے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے کرسمس سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا ہے اردنی چرچ کونسل کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے باعث فلسطینی عوام سے ہمدری کے لیے اس سال کرسمس سادگی سے منایا جائے گا۔

    اس سے قبل غزہ میں جانی نقصانات پر فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں موجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش بیت لحم میں کرسمس کی تقریبات منسوخ کردی گئی تھیں، بیت لحم میونسپلٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش پر کرسمس کی روایتی تقریبات نہیں ہوں گی۔

    غزہ:اسرائیلی بمباری سے تباہ مکان کے ملبے سے37 دن بعد نومولود زندہ نکل آیا

    بیت لحم میونسپلٹی کا کہنا تھا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے جانی نقصان کے سوگ میں تقریبات منسوخ کی جارہی ہیں، اس مرتبہ کرسمس روایتی سجاوٹ، روشنیوں اور کرسمس ٹری کے بغیر سادگی سے منائی جائے گی اور صرف دعائیہ و مذہبی تقریبات ہوں گی۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی حملوں میں 14 ہزار 500 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جن میں بچوں اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہے،جمعہ سے اسرائیل نے 4 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور پیر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا آخری روز تھا لیکن عارضی جنگ بندی میں مزید 2 دن کی توسیع کردی گئی ہے۔

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کے نتیجے میں وہاں کی آبادی کو بمباری سے زیادہ بیماریوں سے موت کے خطرات لاحق ہیں۔

    غزہ میں مختلف وبائی امراض بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں،عالمی ادارہ صحت

    غزہ کے مکینوں کو خوفناک بمباری، محاصرے اور بیماریوں کے سامنے آنے کے بعد عالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے منگل کے روز کہا کہ غزہ کے باشندوں کی بڑی تعداد کو بمباری سے بیماریوں سے مرنے کا خطرہ ہے۔ اگر صحت کے نظام کو تیزی سے معمول پرنہ لایا جا سکا تو آبادی کو شدید خطرات لاحق ہیں،بالآخر اگر ہم صحت کے اس نظام کو دوبارہ فعال نہ کر سکے تو ہم بمباری سے زیادہ لوگوں کو بیماری سے مرتے ہوئے دیکھیں گے،انہوں نے شمالی غزہ میں الشفاء ہسپتال کے منہدم ہونے کو ایک "المیہ” قرار دیا اور اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں اس کے طبی عملے کی حراست میں لینے پر تشویش کا اظہار کیا۔

    نیتن یاہو اور ایلون مسک کا حماس کو تباہ کرنے میں 

  • غزہ:اسرائیلی بمباری سے تباہ  مکان کے ملبے سے37 دن بعد نومولود زندہ نکل آیا

    غزہ:اسرائیلی بمباری سے تباہ مکان کے ملبے سے37 دن بعد نومولود زندہ نکل آیا

    غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تباہ مکان کے ملبے سے37 دن بعد نومولود زندہ نکل آیا۔

    باغی ٹی وی : اسرائیل کے غزہ میں فضائی، بری اور بحری حملے 44 روز سے زائد جاری رہے،اسرائیلی حملوں میں 14 ہزار 500 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جن میں بچوں اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہےکئی روز کی بمباری کے بعد جمعہ سے اسرائیل نے 4 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور پیر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا آخری روز تھا لیکن عارضی جنگ بندی میں مزید 2 دن کی توسیع کردی گئی ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی بمباری سے غزہ میں جہاں تباہ مکانات سے کئی فلسطینی ملبے تلے دبنے سے شہید ہوئے وہیں معجزاتی طور پر ایک نومولود کو 37 دن بعد ملبے سے زندہ نکال لیا گیا اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ میں ریسکیو آپریشن کے دوران 37 دن بعد مکان کے ملبے کے نیچے سے ایک نوزائیدہ بچہ زندہ حالت میں ملاجسے دیکھ کر حکام بھی حیران ہوگئے۔

    امریکی ڈالر انٹر بینک میں سستا

    https://x.com/gazanotice/status/1729139565930402162?s=20
    فلسطین کی سول ڈیفنس کے ایک رکن اور فوٹوگرافر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ملبے سے معجراتی طور پر زندہ بچ جانے والے بچے کی کہانی بیان کی گئی جنگ کے درمیان پیدا ہونے والے بچے کو ملبے کے نیچے دیکھ کر بہت سے ریسکیو اہلکاروں نے اسے مردہ قرار دیا لیکن تین گھنٹے کی محنت کے بعد جب اسے ملبے سے بحفاظت باہر نکالا گیا تو سب نے اسے معجزہ قرار دیا،تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں ہوا کہ معجزاتی طور پر زندہ بچ جانے والے نومولود کے والدین اسرائیلی حملے میں زندہ بچ گئے یا وہ شہید ہوگئے۔

    دوسری جانب غزہ میں اسرائیل نے جنگ بندی کے دوران رہا کیے گئے فلسطینیوں کی تعداد سے زیادہ فلسطینی دوبارہ گرفتار کرلیے فلسطینی قیدیوں کے کلب کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جمعہ کو جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں 168 فلسطینیوں کو حراست میں لیا ہے۔

    غزہ میں مختلف وبائی امراض بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں،عالمی ادارہ صحت

    یہ تعداد اسرائیل کی جانب سے حماس کے ساتھ معاہدے کے تحت جمعے سے اب تک رہا کیے گئے 150 فلسطینیوں سے زیادہ ہے غزہ کی ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے 60 فلسطینی خواتین کو ابھی بھی قید میں رکھا ہوا ہے، جن میں سے زیادہ تر کو 7 اکتوبر کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

    فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی (پی پی ایس) کے میڈیا افسر امل سرہنے نے ترک خبر رساں ایجنسی انادولو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں گرفتاریوں کی ایک بڑی لہر میں 56 فلسطینی خواتین اور لڑکیوں کو حراست میں لیا اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں کارروائیوں کے دوران اب تک 3,260 کو حراست میں لیا ہے۔

    غزہ میں مختلف وبائی امراض بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں،عالمی ادارہ صحت

  • غزہ  میں مختلف وبائی امراض بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں،عالمی ادارہ صحت

    غزہ میں مختلف وبائی امراض بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں،عالمی ادارہ صحت

    جنیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ غزہ میں حالات بہتر نہیں ہوئے تو امراض پھیلنے سے بمباری سے بھی زیادہ اموات ہوسکتی ہیں، ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصے تک اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 15 ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔

    باغی ٹی وی: ڈبلیو ایچ او کے ترجمان نے جنیوا میں ایک پریس بریفننگ کے دوران کہا کہ اگر ہم طبی نظام کو پھر سے کھڑا نہیں کرتے تو بمباری کے مقابلے میں مختلف امراض پھیلنے سے زیادہ اموات ہوسکتی ہیں غزہ میں مختلف وبائی امراض بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں جن میں ہیضہ سرفہرست ہے،شمالی غزہ کے بے گھر رہائشیوں کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ان افراد کو ادویات، ویکسینز، صاف پانی اور خوراک جیسی بنیادی سہولیات دستیاب نہیں،ہم نے بچوں میں ہیضے کے بہت زیادہ کیسز کو دیکھا ہےعالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے شمالی غزہ کے الشفا اسپتال کی تباہی کو سانحہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے طبی عملے کی گرفتاریوں پر خدشات کا اظہار کیا۔

    نیتن یاہو اور ایلون مسک کا حماس کو تباہ کرنے میں اتفاق

    غزہ میں بچوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کے ترجمان نے پریس بریفننگ کے دوران بتایا کہ غزہ کے اسپتال زخمی بچوں سے بھرے ہوئے ہیں جبکہ پینے کا صاف پانی نہ ہونے سے بھی معدے کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں میں نے متعدد والدین سے ملاقاتیں کی ہیں، انہیں معلوم ہے کہ بچوں کی کیا ضروریات ہیں، مگر انہیں پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں اور اس کی وجہ سے وہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں-

    غزہ میں امن کے لیے قابل اعتماد اور ٹھوس امن مذاکرات ہونا چاہیے،سعودی عرب

  • نیتن یاہو اور ایلون مسک کا حماس کو تباہ کرنے  میں اتفاق

    نیتن یاہو اور ایلون مسک کا حماس کو تباہ کرنے میں اتفاق

    تل ابیب: ایلون مسک نے نیتن یاہو سے اس بات پر اتفاق کیا کہ اب حماس کو تباہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔

    باغی ٹی وی: ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایلون مسک کی اسرائیل پر آمد وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ان کے ساتھ ایکس پر لائیو چیٹ کی جس کے دوران کہا کہ غزہ کے بہتر مستقبل کے لیے حماس کو تباہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، اگر آپ غزہ میں امن، سلامتی اور بہتر زندگی چاہتے ہیں تو حماس کو ہمیشہ کے لیے ختم اور اس کی زہریلی حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا جیسا کہ جرمنی اور جاپان میں کیا گیا تھا۔

    ایلون مسک کا اسرائیل کی حمایت کا اعلان

    جس پر ایکس کے مالک ایلون مسک نے نیتن یاہو سے کہا کہ میں آپ کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کیوں کہ اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں، حماس یہودیوں کی نسل کشی کرنا چاہتی ہے، حملوں میں شہریوں کی ہلاکتیں “ناگزیر” ہیں اور اسرائیل حماس کے خلاف اپنی جنگ میں شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش بھی کر رہا ہے۔

    سویڈن میں قرآن پاک کی بےحرمتی کے بعد اب مساجد کو گرانے کی دھمکیاں

    ایلون مسک نے کہا کہ وہ جنگ کے بعد غزہ کی تعمیر نو میں مدد کرنا چاہیں گے اور یقین رکھتے ہیں کہ غزہ کی بحالی اور ترقی مستقبل میں جنگ کو روکنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔

  • غزہ میں امن کے لیے قابل اعتماد اور ٹھوس امن مذاکرات ہونا چاہیے،سعودی عرب

    غزہ میں امن کے لیے قابل اعتماد اور ٹھوس امن مذاکرات ہونا چاہیے،سعودی عرب

    ریاض: سعودی وزیر خارجہ فیصل بن شہزاد نے کہا ہے کہ یہ اسرائیل ہی ہے جس نے غزہ پر جنگ مسلط کی ہے غزہ میں امن کے لیے قابل اعتماد اور ٹھوس امن مذاکرات ہونا چاہیے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق بحیرہ روم کے ممالک کی یونین کے وزرائے خارجہ کے آٹھویں علاقائی فورم سے خطاب میں وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے غزہ پُرتشدد حالات کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل ہی ہے جس نے غزہ پر جنگ مسلط کی ہے غزہ میں امن کے لیے قابل اعتماد اور ٹھوس امن مذاکرات ہونا چاہیے۔

    سعودی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کے اس تنازع کا حل صرف دو خود مختار ریاستوں کا قیام ہےسعودی وزیر خارجہ نے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کے لیے تمام ممکنہ ذرائع ستعمال کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ زدہ علاقوں کے شہری امداد کے منتظر ہیں۔

    یو اے ای اور پاکستان کے مابین اقتصادی تعاون کا نیا دور شروع ہو گا، …

    واضح رہے کہ غزہ میں آج 4 روزہ جنگ بندی کا آخری دن ہے اور ممکنہ طور پر اس میں مزید ایک روز کی توسیع کردی جائے کیوں کہ تاحال اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلہ کا مرحلہ مکمل نہیں ہوسکا ہے۔

    اسرائیل اور حماس کی جنگ کے خاتمے کے سلسلے میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد سپین کے دارالحکومت بارسلونا میں ہوا ہے کانفرنس میں یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک کے وفود شریک ہوئے کانفرنس کی مشترکہ صدارت یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل اور اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے کی۔

    برطانیہ :پہلی بار خنزیروں میں پھیلے خطرناک وائرس کی انسانوں میں موجودگی کا انکشاف

    اسرائیلی نمائندے نے اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی ہےمیزبان ملک سپین کے وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس نے کانفرنس سےخطاب کرتےہوئےکہا کہ فلسطینی اتھارٹی ہی مشرق وسطیٰ میں امن لانے کےلیے ممکنہ طور پر واحد قابل بھروسہ شرا کت دار ہے۔

  • عارضی جنگ بندی،اسرائیل کی اگلے مرحلے کی جنگی تیاری شروع

    عارضی جنگ بندی،اسرائیل کی اگلے مرحلے کی جنگی تیاری شروع

    غزہ: اسرائیل نے عارضی جنگ بندی کو اگلے مرحلے کی جنگی تیاری کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینئیل ہگاری نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ حماس سے 4 روزہ عارضی جنگی بندی کے دوران اسرائیلی فوج اگلے مرحلے کی جنگ کے لیے خود کو تیار کررہی ہے اسرائیلی کابینہ کا ایک رکن بھی وقفے کے بعد حماس سے جنگ جاری رکھنے کا بیان دے چکا ہے۔

    دوسری جانب فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل پر امن معاہدے کی طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کردیا ہے،عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ مشیر طاہر النونو نے کہا ہے کہ اسرائیل نے معاہدے کی بہت سی خلاف ورزیاں کی ہیں ،اسرائیل نے امدادی ٹرکوں کے داخلے کی شرائط پر عمل نہیں کیا۔

    امریکی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جوبائیڈن

    انہوں نے کہا کہ معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک سے زائد مقامات پر فائرنگ کی، قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں 2 افراد شہید ہوگئے اسرائیل نے قیدیوں کی رہائی کےلیے طے شدہ معیار پر بھی عمل نہیں کیا، ہم اب بھی معاہدے کی شرائط پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اسرائیل اور اقوام متحدہ کو پیغام دے رہے ہیں، کوئی بھی عذر ناقابل قبول ہے، ہم ثالث کے کردار کے لیے تیار ہیں۔

    جنگ بندی کا پہلا دن، حماس نے 24 قیدی رہا کر دیئے

    طاہر النونو نے کہا کہ نئے معاہدوں تک پہنچنے کےلیے سنجیدگی سے راہیں تلاش کرنے کے لیے بھی تیار ہیں، غزہ پر دوبارہ قبضہ کرنے سے متعلق قابضین کی بات دھوکا ہے غزہ میں حماس موجود ہے اور اس کی جڑیں فلسطینی عوام میں ہیں، طبی اور غذائی امداد کے 50 ٹرک اور ایمبولینس گھنٹوں سے انتظار میں ہیں، اسرائیلی فوج غزہ شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہی۔

    بحر ہند میں اسرائیلی جہاز پر ڈرون حملہ

  • امریکی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جوبائیڈن

    امریکی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جوبائیڈن

    اسرائیل حماس جنگ بندی کا آج دوسرا دن ہے، امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکا کی کوشش سے غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوئی.

    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی شروعات ہے، خوشی ہوئی کہ 13 اسرائیلی رہا ہوئے، ہماری کوشش تھی کہ پہلے مرحلے میں 50 یرغمالی رہا کروائے جائیں،اب وقت آ گیا ہے کہ دو ریاستی حل پر کام کیا جائے، جنگ بندی کے لئے میں نےخطے کے رہنماؤں سے بات کی ہے، امریکا جنگ بندی پر زور دیتا رہا تاکہ یرغمالیوں کو رہا کرایا جاسکے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز حماس نے سات اکتوبر کو یرغمال بنائے گئے افراد میں سے 24 کو رہا کیا جس کے بعد اسرائیل نے 39 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا،حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ تھائی لینڈ کے شہریوں سمیت 24 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا ہے،یرغمالیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، جو انہیں براستہ مصر اسرائیل لے کر گئے،رہا ہونے والے یرغمالیوں میں دہری شہریت کے حامل افراد سمیت 13 اسرائیلی، 10 تھائی اور ایک فلپائن کا شہری شامل تھا،

    حماس کی جانب سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد اسرائیلی فوج نے بھی 39 فلسطینی قیدی خواتین اور بچوں کو رہا کیا تھا،فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل کی مختلف جیلوں سے عوفر جیل منتقل کیا گیا جہاں سے 24 فلسطینی خواتین اور 15 بچوں کو اسرائیلی حکام رہا کرتے ہوئے ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا، رہا ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے، غزہ پہنچنے پر انتہائی جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے،فلسطینی شہریوں نے قیدیوں کا بھر پور استقبال کیا اور آتش بازی کرتے ہوئے حماس کے حق میں نعرے لگائے،

    اسسرائیلی جیل سے رہائی پانے والی سارہ عبداللہ نے قید سے آزاد ہوتے ہی سڑک پر سجدہ شکر ادا کیا ۔ نابلس کی رہائشی سارہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے حماس پر فخر ہے اور مجھے غزہ سے بہت پیار ہے، اور مجھے محمد الدیف اور السنور پر فخر ہے، کیونکہ یہ وہی ہیں جو ہمارے ساتھ کھڑے تھے،اسرائیلی جیل سے رہائی پانے والے ملک سلمان کا کہنا تھا کہ دمون جیل انتظامیہ نے 7 اکتوبر کے بعد ہمیں قیدِ تنہائی میں رکھا، غزہ پٹی کے تمام شہداء سے تعزیت کرتا ہوں،رہا ہونے والی فاطمہ شاہین کا کہنا تھا کہ غزہ کے عوام کو سلام جنہوں نے صبر کیا اور قیدیوں کی رہائی کے لیے اپنا خون بہایا،ہم سب کو حماس پر اعتماد ہے جو تمام قیدیوں کو آزاد کرانے کے لیے کام کر رہی ہے، فرید نامی شخص کا کہنا تھا کہ ہمیں اسرائیلی جیلوں کے اندر مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا گیا

    واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں میں تقریبا 15 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں چھ ہزار سے زائد بچے بھی شامل ہیں، حماس کے حملوں میں تقریبا 12 سو اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    غزہ جنگ میں امریکا خاموشی سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی بڑھا رہا ہے،بلوم برگ

     اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

     حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

    الجزیرہ کے مطابق، جنگ بندی کا عمل شروع ہوا تو آدھے گھنٹے بعد غزہ میں شہری گھروں سے باہر نکلے تا ہم ابھی تک وہ ڈرے ہوئے ہیں، کہ اسرائیل کہیں جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کردے،کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں بمباری نہ کی ہو.ایک فلسطینی شہری زاک ہانیہ جو بے گھر ہو چکی کا کہنا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم ہم جنگ بندی سے خوش ہوں یا غمگین، ہمارا تو سب کچھ ختم ہو چکا، گھر ملیا میٹ ہو گئے، ہمارے دل ٹوٹ گئے، اب سب کچھ ختم ہونے کے بعد جنگ بندی،نہیں پتہ زندگی کیسے گزرے گی،ہانیہ کا کہنا تھا کہ ہم گھر نہیں جا سکتے ،ملبے تک بھی نہیں جا سکتے کیونکہ اسرائیلی فوج اجازت نہیں دے گی.ہم اب یہی دعا کر رہے ہیں کہ جنگ بندی قائم رہے.