Baaghi TV

Tag: غزہ

  • غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں،چین

    غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں،چین

    چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ چین غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے،عالمی برادری کو چاہیے کہ دو ریاستی حل کے تحت فلسطین کو اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت دلانے کی حمایت کرے-

    انہوں نے کہا کہ دو برسوں سے جاری غزہ جنگ نے سنگین انسانی المیہ پیدا کیا ہے اور اسرائیلی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دو ریاستی حل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں،وانگ یی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لیے تین اقدامات فوری اختیار کیے جائیں، جن میں غزہ میں فوری اور جامع جنگ بندی، فلسطینی عوام کی اپنے علاقوں پر حکمرانی اور دو ریاستی حل کو مضبوطی سے قائم رکھنا شامل ہے، عالمی برادری کو چاہیے کہ دو ریاستی حل کے تحت فلسطین کو اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت دلانے کی حمایت کرے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام قائم ہو سکے۔

    کشمور کے کچے میں آپریشن، مغوی کانسٹیبل بازیاب، 3 ڈاکو ہلاک، 9 زخمی

    پولیوکے خاتمے کیلئے نئی حکمت عملی، مضبوط قیادت اور واضح ذمہ داری ضروری ہے،اقوام متحدہ

    دعا ملک کا انڈسٹری میں ہراسانی کا انکشاف

  • غزہ: امداد تقسیم کرنے والی کمپنی میں مسلم مخالف گینگ کے کارکنوں کی بھرتی کا انکشاف

    غزہ: امداد تقسیم کرنے والی کمپنی میں مسلم مخالف گینگ کے کارکنوں کی بھرتی کا انکشاف

    بی بی سی کی ایک تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ غزہ میں جن جگہوں پر امداد تقسیم کی جاتی ہے، وہ اپنی مسلح حفاظت کے لیے اسلام دشمنی کی تاریخ رکھنے والے امریکی بائیکر گینگ کے ارکان کو استعمال کر رہی ہے۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ مراکز نہ تو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر قائم تھے اور نہ ہی عام شہریوں کے زیرِانتظام بلکہ انہیں ایک نجی سیکیورٹی کمپنی چلا رہی تھی جس نے امریکی موٹر سائیکل گینگ ‘انفیڈلز’ کو خدمات پر مامور کر رکھا تھا،یہ گروہ عراق جنگ کے سابق فوجیوں پر مشتمل ہے جو صلیبی نعروں اور اسلام دشمنی کے کھلے اظہار کے لیے بدنام ہے گینگ کے سربراہ جانی ملفورڈ سابق امریکی فوجی تھا جسے چوری اور غلط بیانی پر سزا ہوئی تھی۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی تفتیشی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گینگ کے 7 نمایاں رہنما ان مراکز میں سیکیورٹی انتظامات کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ انہیں روزانہ 1580 ڈالر تک تنخواہ دی جاتی ہے اور یہ لوگ ’میک غزہ گریٹ اگین‘ جیسے اشتعال انگیز نعرے لگاتے ہیں،یہ گینگ مسلمانوں کی توہین کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں اور رمضان المبارک میں خنزیر کے گوشت کی باربی کیو محفلوں کا انعقاد کرتا ہے اب یہی گروہ بھوکے پیاسے فلسطینیوں کی زندگیوں کا انچارج بنا دیا گیا ہے جنہیں روٹی کے ایک ٹکڑے کی تلاش تھی۔

    محکمہ موسمیات کی موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی

    امریکی انسانی حقوق کی تنظیم کیر کے مطابق یہ کوئی انسانی عمل نہیں بلکہ ایک سخت گیر سیکیورٹی کھیل ہے جو المیے کو بڑھا رہا ہے اور قابض طاقتوں اور ان کے اتحادیوں کے اصل چہرے کو بے نقاب کر رہا ہے،اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی پٹی میں امدادی سامان حاصل کرنے والے 1500 فلسطینیوں کو شہید کیا گیا ہے۔

    ٹک ٹاک کی ملکیت کا معاملہ:امریکا اور چین نے فریم ورک معاہدہ کر لیا

  • وزیر اعلیٰ پنجاب  کے حکم پر غزہ کے عوام کے لیے امدادی سامان روانہ

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر غزہ کے عوام کے لیے امدادی سامان روانہ

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے حکم پر غزہ کے عوام کے لیے امدادی سامان روانہ کردیا گیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف لاہور ایئرپورٹ پہنچیں جہاں سے غزہ کے مظلوم عوام کے لیے 100 ٹن خوراک روانہ کی گئی،پاکستان کی جانب سے بھیجے جانے والے امدادی سامان میں 32 مختلف فوڈ آئٹمز شامل ہیں،اس موقع پر مریم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام کے دل فلسطینی بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، غزہ کے بے گناہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم سے ہر حساس دل مضطرب ہے، امدادی سامان اہل پاکستان کی طرف سے غزہ کے عوام کے لیے پیغامِ محبت ہے۔

  • غزہ سے اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں

    غزہ سے اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ شہر سے اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں –

    فلسطینی حکام کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں کم ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ جنوبی علاقوں میں ہجوم کی وجہ سے منتقل نہیں ہو سکے،اقوام متحدہ نے اگست کے آخر میں اندازہ لگایا تھا کہ غزہ کے سب سے بڑے شہری مرکز اور اس کے اردگرد تقریباً دس لاکھ فلسطینی رہائش پذیر ہیں، جہاں کئی ماہ سے جاری محاصرے اور بمباری کے بعد قحط کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

    فوجی ترجمان اویخائے ادرعی نے بتایا کہ ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد اپنی حفاظت کے لیے شہر چھوڑ چکے ہیں تاہم غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ اب تک صرف 70 ہزار کے قریب افراد ہی نکل سکے ہیں۔

    کوٹری، گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کے دباؤ میں اضافہ،کچے کے متعدد دیہات زیر آب

    ادھر اسرائیل کے سابق آرمی چیف ہرزی حلیوی نے اعتراف کیا ہے کہ وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں غزہ کے 2 لاکھ سے زائد فلسطینی شہید یا زخمی ہوئے ان کے مطابق غزہ کی 22 لاکھ آبادی میں سے 10 فیصد سے زیادہ لوگ ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ حماس کی قیادت کو ختم کیے بغیر غزہ میں امن ممکن نہیں،قطر میں رہنے والے حماس کے سربراہان عوام کی پرواہ نہیں کرتے، وہ مسلسل جنگ کو طول دینے کے لیے فائر بندی کی کوششوں کو ناکام بناتے رہے ہیں۔

    موساد قطر میں اسرائیلی حملے کی مخالف تھی، امریکی اخبار

  • غزہ سے بیمار اور زخمی بچوں کا پہلا گروپ علاج کے لیے برطانیہ روانہ

    غزہ سے بیمار اور زخمی بچوں کا پہلا گروپ علاج کے لیے برطانیہ روانہ

    غزہ سے بیمار اور زخمی بچوں کا پہلا گروپ علاج کے لیے برطانیہ روانہ،ہوگیا ۔

    برطانوی وزارتِ صحت نے تصدیق کی کہ یہ اقدام ایک خصوصی اسکیم کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ ان بچوں کو وہ طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں جو غزہ میں دستیاب نہیں ہیں،برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے جولائی میں اس منصوبے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ غزہ کی زیادہ تر اسپتال اب کام نہیں کر پا رہے۔

    حکومت کے مطابق یہ اسکیم اس لیے ضروری ہے کہ علاقے میں ادویات اور طبی سامان کی شدید کمی ہے اور ڈاکٹروں کے لیے بھی محفوظ طریقے سے کام کرنا ممکن نہیں رہا،ہم توقع کرتے ہیں کہ بچے اور ان کے قریبی اہلِ خانہ آئندہ چند ہفتوں میں برطانیہ پہنچ جائیں گے برطانوی وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے کہا کہ پہلا گروپ غزہ سے نکل چکا ہے اور برطانیہ کے راستے پر ہے، بچوں کو فی الحال خطے کے ایک اور ملک میں طبی عملہ دیکھ بھال فراہم کر رہا ہے۔

    بھارتی ٹیم نے جو حرکت کی اس پر پاکستانی رد عمل فطری تھا،مائیک ہیسن

    اس سے قبل چند زخمی غزہ کے بچے ایک نجی پروگرام ‘پروجیکٹ پیور ہوپ’ کے تحت برطانیہ لائے گئے تھے مگر حکومت نے نئی اسکیم کے تحت آنے والے بچوں کی درست تعداد نہیں بتائی میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے میں 30 سے 50 بچے لائے جا سکتے ہیں،برطانوی حکام غزہ کے ان طلبہ کو نکالنے پر بھی کام کر رہے ہیں جنہیں برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں داخلہ مل چکا ہے کوپر کے مطابق یہ ایک بڑا سفارتی عمل ہے تاکہ ان بچوں اور طلبہ کو غزہ سے نکالا جا سکے اور مختلف ممالک کے راستے برطانیہ لایا جا سکے۔

    ادھرقابض اسرائیلی فوج کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، صرف ایک روز میں مزید 53 فلسطینی شہید اور 16 بلند عمارتیں تباہ کردی گئیں،غزہ شہری دفاع کے مطابق اسرائیلی بمباری سے گزشتہ روز 6 ہزار سے زائد فلسطینی بے گھر ہوگئے، جب کہ رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا،وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک شہدا کی تعداد 64 ہزار 871 ہوچکی ہے، جب کہ ایک لاکھ 64 ہزار 610 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    کھیل میں سیاست گھسیٹنا اصل روح کے منافی ہے،محسن نقوی

    ادھر اسرائیل کے سابق آرمی چیف ہرزی حلیوی نے اعتراف کیا ہے کہ وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں غزہ کے 2 لاکھ سے زائد فلسطینی شہید یا زخمی ہوئے ان کے مطابق غزہ کی 22 لاکھ آبادی میں سے 10 فیصد سے زیادہ لوگ ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں۔

  • غزہ کی زمین فلسطینیوں کی ہے اور ان کے حقوق ناقابلِ تنسیخ ہیں،  محمد بن سلمان

    غزہ کی زمین فلسطینیوں کی ہے اور ان کے حقوق ناقابلِ تنسیخ ہیں، محمد بن سلمان

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نےکہاہے کہ اسرائیلی فوج کو اپنی مجرمانہ کارروائیوں سے باز رکھنے کے لیے بھی بین الاقوامی اقدامات ناگزیر ہیں، کیونکہ یہ کارروائیاں خطے کے امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

    سعودی عرب نے خطے میں اسرائیلی حملوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے، جن میں منگل کو قطر پر ہونے والی ’بربریت پر مبنی جارحیت‘ بھی شامل ہےیہ بات سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بدھ کے روز شاہ سلمان کی جگہ شوریٰ کونسل سے سالانہ خطاب میں کہی۔

    سعودی ولی عہد نے کہا کہ ایسے جارحانہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے عرب، اسلامی اور عالمی سطح پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے، اسرائیلی فوج کو اپنی مجرمانہ کارروائیوں سے باز رکھنے کے لیے بھی بین الاقوامی اقدامات ناگزیر ہیں، کیونکہ یہ کارروائیاں خطے کے امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہیں،ہم قطر کے ساتھ اس کے تمام اقدامات میں بغیر کسی حد کے کھڑے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔

    اس وقت ہماری اولین ترجیح انسانی جانوں کو محفوظ بنانا اور بیراجوں و بندوں کو بچانا ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    انہوں نے مزید کہاکہ ہم غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری وحشیانہ حملوں، بھوک اور جبری بے دخلی کے جرائم کی بھی سخت مذمت کرتے ہیں،غزہ کی زمین فلسطینیوں کی ہے اور ان کے حقوق ناقابلِ تنسیخ ہیں، جو نہ جارحیت سے چھینے جا سکتے ہیں اور نہ ہی دھمکیوں سے کالعدم ہو سکتے ہیں،مارا مؤقف غیر متزلزل ہے، ان حقوق کا تحفظ اور ان کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔

    شہزادہ محمد بن سلمان نے یاد دلایا کہ2002 میں مملکت کی جانب سے پیش کی جانے والی عرب امن تجویز، جو آج 2 ریاستی حل کے تناظر میں عالمی سطح پر تسلیم کی جا چکی ہے، فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک بے مثال راستہ ہے،مملکت کی ان کوششوں کے ثمرات سامنے آئے ہیں، جن میں مزید ممالک کی جانب سے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنا اور جولائی میں نیویارک میں فلسطینی مسئلے کے پرامن حل اور 2 ریاستی فارمولے کے نفاذ کے لیے ہونے والی اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس شامل ہے.

    نیپال میں احتجاج کے دوران 13 ہزار 500 قیدی جیلوں سے فرار

    شام کے بارے میں ولی عہد نے کہا کہ مملکت نے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں بین الاقوامی پابندیاں ختم کرانے کی کامیاب کوششیں اور شام کی علاقائی سالمیت کو یققطری وزیراعظم کا نیتن یاہوکو انصاف کے کٹہرے میں لانےکا مطالبہینی بنانے اور اس کی معیشت کی بحالی کے لیے تعاون شامل ہے۔

    مملکت کی معیشت پر بات کرتے ہوئے ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب معیشت کو متنوع بنا رہا ہے اور تیل پر انحصار کم کرنے کی اپنی صلاحیت ثابت کر رہا ہے،ہماری تاریخ میں پہلی بار، غیر تیل شعبوں نے مجموعی قومی پیداوار کا 56 فیصد حصہ حاصل کیا ہے، جو 4.5 کھرب ریال سے تجاوز کر گیا ہے،یہ کامیابیاں اور دیگر اقدامات سعودی عرب کو دنیا بھر کی سرگرمیوں کے لیے ایک عالمی مرکز بنا چکے ہیں، جہاں 660 بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنا علاقائی ہیڈکوارٹر بنایا ہے، جو 2030 کے ہدف سے بھی زیادہ ہے،یہ کامیابیاں مملکت کے انفرا اسٹرکچر اور ٹیکنیکل سہولتوں کی سطح کو ظاہر کرتی ہیں اور سعودی معیشت کی مضبوطی اور وسیع مستقبل کی نشاندہی کرتی ہیں۔

    قطری وزیراعظم کا نیتن یاہوکو انصاف کے کٹہرے میں لانےکا مطالبہ

  • رائٹرز پر غزہ میں صحافیوں کے قتل کی سہولت کاری کا سنگین الزام

    رائٹرز پر غزہ میں صحافیوں کے قتل کی سہولت کاری کا سنگین الزام

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹر سے وابستہ کینیڈین صحافی ویلیری زنک نے غزہ میں گزشتہ دو برس میں 245 صحافیوں کے قتل کی سہولت کاری کا سنگین الزام اپنے ادارے پر لگاتے ہوئے ملازمت چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

    ویلیری زنک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ’رائٹرز‘ کے لیے کام جاری نہ رکھنے کا بیان پوسٹ کیا ہےکینیڈین صحافی نے اپنی پوسٹ پر لکھا کہ گزشتہ 8 برسوں سے میں ’رائٹرز نیوز ایجنسی‘ کے ساتھ بطور اسٹرنگر کام کر رہی ہوں، میرے فوٹوگراف نیویارک ٹائمز، الجزیرہ اور دیگر عالمی میڈیا اداروں میں شائع ہوئے ہیں، اور شمالی امریکا، ایشیا، یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں پہنچےاس مقام پر آ کر میرے لیے ’رائٹرز‘ کے ساتھ تعلق برقرار رکھنا ناممکن ہو گیا ہے، کیوں کہ اس کا کردار غزہ میں 245 صحافیوں کے منظم قتل کی توجیہ دینے اور اسے سہولت فراہم کرنے میں ہے، اپنے فلسطینی ساتھیوں کے لیے مجھ پر کم از کم اتنا تو قرض ہے، یا اس سے کہیں زیادہ۔

    کینیڈین صحافی نے لکھا کہ جب اسرائیل نے 10 اگست کو غزہ سٹی میں انس الشریف اور الجزیرہ کی پوری ٹیم کو قتل کیا تو رائٹرز نے اسرائیل کا وہ بالکل بے بنیاد دعویٰ شائع کرنے کا انتخاب کیا کہ انس الشریف حماس کا رکن تھا، یہ ان بے شمار جھوٹوں میں سے ایک تھا جنہیں رائٹرز جیسے میڈیا ادارے بار بار دہراتے اور انہیں وقعت دیتے ہیں، اسرائیلی پروپیگنڈے کو آگے بڑھانے کی ’رائٹرز‘ کی آمادگی نے ان کے اپنے رپورٹرز کو بھی اسرائیل کی نسل کشی سے محفوظ نہیں رکھا، آج صبح ایک اور حملے میں النصر ہسپتال میں 20 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 5 مزید صحافی بھی شامل تھے، جن میں رائٹرز کے کیمرا مین حسام المسری بھی تھے۔

    سی ڈی اے کا اسلام آباد کو فری وائی فائی سٹی بنانے کا اعلان

    کینیڈین صحافی نے لکھا کہ یہ وہی تھا، جسے ’ڈبل ٹیپ‘ حملہ کہا جاتا ہے، یعنی اسرائیل کسی اسکول یا ہسپتال جیسے شہری ہدف پر بمباری کرتا ہے، پھر میڈیکس، ریسکیو ٹیموں اور صحافیوں کے پہنچنے کا انتظار کرتا ہے، اور دوبارہ حملہ کرتا ہےمغربی میڈیا براہِ راست اس ماحول کا ذمہ دار ہے، جس میں ایسا ممکن ہو سکتا ہے، جیسا کہ ڈراپ سائٹ نیوز کے جیریمی سکاہل نے کہا کہ ’ہر بڑا ادارہ نیویارک ٹائمز سے لے کر واشنگٹن پوسٹ تک، اے پی سے رائٹرز تک، اسرائیلی پروپیگنڈے کے لیے ایک کنویئر بیلٹ کا کردار ادا کرتا رہا ہے، جنگی جرائم کو صاف و شفاف بنا کر پیش کرتا ہے، متاثرین کو غیر انسانی بناتا ہے، اپنے ساتھیوں اور صحافت کی سچائی و اخلاقیات کے دعووں کی نفی کرتا ہے۔

    ویلیری زنک نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ مغربی میڈیا اداروں نے اسرائیل کے نسل کش بیانیے کو بغیر کسی تصدیق کے دہرا کر، صحافت کی بنیادی ذمہ داری کو ترک کرتے ہوئے اس قتلِ عام کو ممکن بنایا، جس میں صرف دو برس میں ایک چھوٹی سی زمینی پٹی پر اتنے صحافی مارے گئے جتنے پہلی جنگِ عظیم، دوسری جنگِ عظیم، کوریا، ویتنام، افغانستان، یوگوسلاویہ اور یوکرین کی جنگوں میں بھی نہیں مرے، اس کے علاوہ ایک پوری آبادی کو بھوکا رکھنا، بچوں کو چیر دینا اور لوگوں کو زندہ جلانا تو اپنی جگہ ہے۔

    اسحاق ڈار کی ترک وزیر خارجہ سے ملاقات،فلسطین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ

    ویلیری زنک نے لکھا کہ انس الشریف کے کام کی وجہ سے ’رائٹرز‘ کے لیے پلٹزر انعام کی جیت بھی رائٹرز کو اس پر مجبور نہ کر سکی کہ جب اسرائیلی قابض افواج نے انہیں ’ہٹ لسٹ‘ پر ڈال دیا تو وہ ان کا دفاع کرتے، یہ جیت انہیں مجبور نہ کر سکی کہ جب انہوں نے عالمی میڈیا سے تحفظ کی اپیل کی اور ایک اسرائیلی فوجی ترجمان نے ویڈیو میں ان کے قتل کی نیت کا اعلان کیا تو وہ ان کا ساتھ دیتے، اور یہ جیت انہیں مجبور نہ کر سکی کہ جب چند ہفتوں بعد انہیں تلاش کر کے قتل کر دیا گیا تو وہ ان کی موت پر سچائی سے رپورٹنگ کرتےمیں نے ان 8 برس میں رائٹرز کے ساتھ کیے گئے اپنے کام کی قدر کی ہے، لیکن اس مقام پر میں اس پریس پاس کو شرمندگی اور غم کے سوا کسی جذبے کے ساتھ پہننے کا تصور نہیں کر سکتی، میں نہیں جانتی کہ غزہ کے صحافیوں (جو سب سے بہادر اور بہترین تھے) کی ہمت اور قربانی کو عزت دینے کا آغاز کیسے کیا جائے، لیکن آئندہ جو کچھ بھی میں کر سکوں گی، وہ اسی جذبے کے ساتھ ہوگا-
    توشہ خانہ ٹو کیس:عمران خان کے وکلا اور اہلخانہ کو سماعت میں شامل ہونے کی اجازت

  • غزہ: اسرائیل کے النصر ہسپتال پر حملے،ایک امدادی کارکن، 4 صحافیوں سمیت 15 فلسطینی شہید

    غزہ: اسرائیل کے النصر ہسپتال پر حملے،ایک امدادی کارکن، 4 صحافیوں سمیت 15 فلسطینی شہید

    اسرائیل کی جانب سےغزہ کے النصر ہسپتال پر یکے بعد دیگرے دو فضائی حملے کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں 15 افراد شہید ہوگئے، جن میں 4 صحافی اورایک امدادی کارکن،بھی شامل ہیں۔

    ’روئٹرز‘ کے مطابق فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں النصر ہسپتال پر یکے بعد دیگرے دو حملے کیے گئے، پہلے حملے میں روئٹرز کے کیمرہ مین حسام المصری شہید ہوگئے جب کہ دوسرے حملے میں روئٹرز کے ایک اور فوٹوگرافر حاتم زخمی ہوگئے،دوسرا حملہ اس وقت ہوا جب امدادی کارکن، صحافی اور دیگر لوگ ابتدائی حملے کی جگہ پر پہنچے تھے اور حملے کی کوریج کررہے تھے۔

    فلسطینی وزارت صحت نے دیگر 3 صحافیوں کی شہادت کی بھی تصدیق کی ہے جن میں خبر ایجنسی اے پی کی صحافی مریم ابو دغہ، الجزیرہ کا فوٹو جرنلسٹ محمد سلامہ اور امریکی ٹی وی این بی سی کا صحافی معاذ ابو طہہ شامل ہیں جب کہ شہید ہونے والوں میں ایک امدادی کارکن بھی شامل ہے۔

    سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس کےملزم کی بریت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا

    غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے اسرائیل سے ’ہسپتالوں پر حملے بند کرنے اور امدادی سامان غزہ پہنچانے کا مطالبہ کیا کہاکہ،صہیونی ریاست غزہ پٹی میں شہریوں کے لیے زندگی کے تمام پہلو ختم کرنا چاہتا ہے، وہ بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے جرم کے علاوہ بھیپوری دنیا کے سامنے براہِ راست جرائم کر رہا ہے۔

    وفاقی کابینہ کی ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب ریلیف فنڈ میں دینے کا فیصلہ واپس

    واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں شہدا کی مجموعی تعداد 62 ہزار 600 سے زائد ہوچکی ہے جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی شامل ہے جب کہ ایک لاکھ 57 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں،فلسطینی صحافیوں کی انجمن کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی مظالم کے نتیجے میں اب تک 240 سے زیادہ فلسطینی صحافی غزہ میں شہید ہو چکے ہیں۔

  • غزہ میں قحط اور اسرائیلی حملوں سے مزید درجنوں فلسطینی شہید

    غزہ میں قحط اور اسرائیلی حملوں سے مزید درجنوں فلسطینی شہید

    قحط کے باضابطہ اعلان کے بعد غذائی قلت کے باعث مزید 8 فلسطینی شہید ہوگئے، جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں۔

    غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق انسانی بحران کے آغاز سے اب تک بھوک سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 281 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 114 بچے شامل ہیں۔ وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البُرش نے کہا کہ قحط خاموشی سے شہریوں کو نگل رہا ہے اور خیموں و اسپتالوں کو روزانہ سانحات میں بدل رہا ہے۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی بمباری اور حملوں میں آج غزہ بھر میں کم از کم 51 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 16 افراد وہ تھے جو امداد کے منتظر تھے۔ خان یونس کے شمال مغرب میں توپخانے کی فائرنگ سے بے گھر خاندانوں کے خیمے نشانہ بنے جس کے نتیجے میں 16 افراد شہید ہوئے، جن میں 6 بچے شامل تھے۔

    وسطی غزہ کے مغازی پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر ڈرون حملے میں 2 افراد شہید ہوئے، جبکہ خان یونس کے جنوب مشرق میں امداد کے انتظار میں کھڑے ایک شہری کو گولی مار دی گئی۔ اسی طرح نتساریم کوریڈور کے قریب امداد لینے جانے والا ایک اور فلسطینی بھی اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہوا۔اقوام متحدہ نے 22 اگست کو غزہ میں باضابطہ قحط کا اعلان کیا، جو مشرقِ وسطیٰ میں اپنی نوعیت کا پہلا اعلان ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق تقریباً 5 لاکھ 14 ہزار فلسطینی شدید بھوک کا شکار ہیں، جو ستمبر کے آخر تک بڑھ کر 6 لاکھ 41 ہزار تک پہنچ سکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے اسرائیل پر امدادی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے قحط کو "انسانی ہاتھوں سے پیدا کردہ سانحہ” قرار دیا۔

    رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج غزہ میں 62 ہزار 600 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے۔

    بلاول بھٹو کا سندھ پیپلز ہاؤسنگ کا دورہ ،عوام سے ملاقات

    شیر افضل مروت کا پارٹی چھوڑنے کا اعلان، عمران خان و ٹیم پر سنگین الزامات

    مودی کے فیصلے زلیل کروائیں گے، امریکہ سے بھارتی ملک بدر،چین آگے سرنڈر

    ایم کیو ایم نے سینٹرل آرگنائزنگ اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی قائم کردی

  • پاکستان کی جانب سے غزہ کیلئےامدادی سامان کی 19ویں کھیپ روانہ

    پاکستان کی جانب سے غزہ کیلئےامدادی سامان کی 19ویں کھیپ روانہ

    وزیراعظم شہبازشریف کی ہدایت پر غزہ کیلئے امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے غزہ کیلئے امدادی سامان کی 19 ویں کھیپ روانہ کردی ہےلاہور سے روانہ ہونے والی کھیپ میں 100 ٹن امدادی سامان شامل ہے، جس میں آٹے کے تھیلے، تیار کھانا، کوکنگ آئل اور ڈبہ بند فروٹ شامل ہیں، پاکستان اب تک 19 امدادی کھیپوں کے ذریعےمجموعی طور پر 1915 ٹن امدادی سامان غزہ بھیج چکا ہے۔

    واضح،رہےکہ،انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) نے جمعہ کے روز شمالی غزہ، بشمول غزہ شہر، میں قحط کی باضابطہ تصدیق کر دی، اس اعلان کے مطابق علاقے کی آدھی سے زیادہ آبادی یعنی تقریباً 5 لاکھ 14 ہزار افرادشدید غذائی قلت کا شکار ہیں یہ تعداد ستمبر کے آخر تک بڑھ کر 6 لاکھ 41 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    IPC کے مطابق قحط اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب:م از کم 20 فیصد گھرانے کھانے کی شدید کمی کا شکار ہوں،30 فیصد بچے شدید غذائی قلت میں مبتلا ہوں،اور بھوک سے مرنے والوں کی یومیہ شرح ہر 10 ہزار میں 2 بالغ یا 4 بچے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ میں براہِ راست ڈیٹا جمع کرنا ممکن نہ ہونے کے باعث متبادل پیمانہ استعمال کیا گیا۔ اس کے تحت بچوں کی اوپری بازو کی گولائی سے غذائی قلت کا اندازہ لگایا گیا، جس نے شدید بحران کی تصدیق کی۔

    IPC نے خبردار کیا کہ اگر انسانی بنیادوں پر امدادی اقدامات نہ بڑھے تو موجودہ ’ہولناک حالات‘ جنوب کی طرف دیر البلح اور خان یونس تک پھیل سکتے ہیں،وقت تیزی سے گزر رہا ہے فوری جنگ بندی اور رکاوٹ سے پاک بڑے پیمانے پر امدادی رسائی ناگزیر ہے،یہ اعلان گزشتہ 2 دہائیوں میں IPC کی جانب سے صرف چوتھی مرتبہ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ، عالمی ادارہ خوراک اور عالمی ادارہ صحت نے پہلے ہی اس فیصلے کی پیش گوئی کی تھی۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہاکہ،یہ قحط کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانوں کے ہاتھوں بنائی گئی تباہی ہے، ایک اخلاقی ناکامی۔ لوگ بھوکے مر رہے ہیں، بچے دم توڑ رہے ہیں، اور وہ لوگ جو مدد کر سکتے ہیں، خاموش ہیں۔‘

    عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہاکہ’جنگ بندی فوری ضرورت ہی نہیں بلکہ اخلاقی فرض ہے۔ دنیا بہت دیر تک دیکھتی رہی، اور اب یہ قحط معصوم جانیں نگل رہا ہے۔‘

    ورلڈ پیس فاؤنڈیشن نے بی بی سی کو بتایا کہ IPC نے جو طریقہ کار استعمال کیا وہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور کسی قسم کی ‘نئی یا کمزور شرط‘ نہیں اپنائی گئی۔
    فاؤنڈیشن کے سربراہ ایلیکس ڈی وال نے کہاکہ،اسرائیل انسانی بنیادوں پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور پھر شواہد کی کمی پر تنقید کرتا ہے۔‘