Baaghi TV

Tag: غزہ

  • غزہ: اسرائیل کے النصر ہسپتال پر حملے،ایک امدادی کارکن، 4 صحافیوں سمیت 15 فلسطینی شہید

    غزہ: اسرائیل کے النصر ہسپتال پر حملے،ایک امدادی کارکن، 4 صحافیوں سمیت 15 فلسطینی شہید

    اسرائیل کی جانب سےغزہ کے النصر ہسپتال پر یکے بعد دیگرے دو فضائی حملے کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں 15 افراد شہید ہوگئے، جن میں 4 صحافی اورایک امدادی کارکن،بھی شامل ہیں۔

    ’روئٹرز‘ کے مطابق فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں النصر ہسپتال پر یکے بعد دیگرے دو حملے کیے گئے، پہلے حملے میں روئٹرز کے کیمرہ مین حسام المصری شہید ہوگئے جب کہ دوسرے حملے میں روئٹرز کے ایک اور فوٹوگرافر حاتم زخمی ہوگئے،دوسرا حملہ اس وقت ہوا جب امدادی کارکن، صحافی اور دیگر لوگ ابتدائی حملے کی جگہ پر پہنچے تھے اور حملے کی کوریج کررہے تھے۔

    فلسطینی وزارت صحت نے دیگر 3 صحافیوں کی شہادت کی بھی تصدیق کی ہے جن میں خبر ایجنسی اے پی کی صحافی مریم ابو دغہ، الجزیرہ کا فوٹو جرنلسٹ محمد سلامہ اور امریکی ٹی وی این بی سی کا صحافی معاذ ابو طہہ شامل ہیں جب کہ شہید ہونے والوں میں ایک امدادی کارکن بھی شامل ہے۔

    سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس کےملزم کی بریت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا

    غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے اسرائیل سے ’ہسپتالوں پر حملے بند کرنے اور امدادی سامان غزہ پہنچانے کا مطالبہ کیا کہاکہ،صہیونی ریاست غزہ پٹی میں شہریوں کے لیے زندگی کے تمام پہلو ختم کرنا چاہتا ہے، وہ بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے جرم کے علاوہ بھیپوری دنیا کے سامنے براہِ راست جرائم کر رہا ہے۔

    وفاقی کابینہ کی ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب ریلیف فنڈ میں دینے کا فیصلہ واپس

    واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں شہدا کی مجموعی تعداد 62 ہزار 600 سے زائد ہوچکی ہے جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی شامل ہے جب کہ ایک لاکھ 57 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں،فلسطینی صحافیوں کی انجمن کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی مظالم کے نتیجے میں اب تک 240 سے زیادہ فلسطینی صحافی غزہ میں شہید ہو چکے ہیں۔

  • غزہ میں قحط اور اسرائیلی حملوں سے مزید درجنوں فلسطینی شہید

    غزہ میں قحط اور اسرائیلی حملوں سے مزید درجنوں فلسطینی شہید

    قحط کے باضابطہ اعلان کے بعد غذائی قلت کے باعث مزید 8 فلسطینی شہید ہوگئے، جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں۔

    غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق انسانی بحران کے آغاز سے اب تک بھوک سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 281 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 114 بچے شامل ہیں۔ وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البُرش نے کہا کہ قحط خاموشی سے شہریوں کو نگل رہا ہے اور خیموں و اسپتالوں کو روزانہ سانحات میں بدل رہا ہے۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی بمباری اور حملوں میں آج غزہ بھر میں کم از کم 51 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 16 افراد وہ تھے جو امداد کے منتظر تھے۔ خان یونس کے شمال مغرب میں توپخانے کی فائرنگ سے بے گھر خاندانوں کے خیمے نشانہ بنے جس کے نتیجے میں 16 افراد شہید ہوئے، جن میں 6 بچے شامل تھے۔

    وسطی غزہ کے مغازی پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر ڈرون حملے میں 2 افراد شہید ہوئے، جبکہ خان یونس کے جنوب مشرق میں امداد کے انتظار میں کھڑے ایک شہری کو گولی مار دی گئی۔ اسی طرح نتساریم کوریڈور کے قریب امداد لینے جانے والا ایک اور فلسطینی بھی اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہوا۔اقوام متحدہ نے 22 اگست کو غزہ میں باضابطہ قحط کا اعلان کیا، جو مشرقِ وسطیٰ میں اپنی نوعیت کا پہلا اعلان ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق تقریباً 5 لاکھ 14 ہزار فلسطینی شدید بھوک کا شکار ہیں، جو ستمبر کے آخر تک بڑھ کر 6 لاکھ 41 ہزار تک پہنچ سکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے اسرائیل پر امدادی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے قحط کو "انسانی ہاتھوں سے پیدا کردہ سانحہ” قرار دیا۔

    رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج غزہ میں 62 ہزار 600 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے۔

    بلاول بھٹو کا سندھ پیپلز ہاؤسنگ کا دورہ ،عوام سے ملاقات

    شیر افضل مروت کا پارٹی چھوڑنے کا اعلان، عمران خان و ٹیم پر سنگین الزامات

    مودی کے فیصلے زلیل کروائیں گے، امریکہ سے بھارتی ملک بدر،چین آگے سرنڈر

    ایم کیو ایم نے سینٹرل آرگنائزنگ اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی قائم کردی

  • پاکستان کی جانب سے غزہ کیلئےامدادی سامان کی 19ویں کھیپ روانہ

    پاکستان کی جانب سے غزہ کیلئےامدادی سامان کی 19ویں کھیپ روانہ

    وزیراعظم شہبازشریف کی ہدایت پر غزہ کیلئے امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے غزہ کیلئے امدادی سامان کی 19 ویں کھیپ روانہ کردی ہےلاہور سے روانہ ہونے والی کھیپ میں 100 ٹن امدادی سامان شامل ہے، جس میں آٹے کے تھیلے، تیار کھانا، کوکنگ آئل اور ڈبہ بند فروٹ شامل ہیں، پاکستان اب تک 19 امدادی کھیپوں کے ذریعےمجموعی طور پر 1915 ٹن امدادی سامان غزہ بھیج چکا ہے۔

    واضح،رہےکہ،انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) نے جمعہ کے روز شمالی غزہ، بشمول غزہ شہر، میں قحط کی باضابطہ تصدیق کر دی، اس اعلان کے مطابق علاقے کی آدھی سے زیادہ آبادی یعنی تقریباً 5 لاکھ 14 ہزار افرادشدید غذائی قلت کا شکار ہیں یہ تعداد ستمبر کے آخر تک بڑھ کر 6 لاکھ 41 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    IPC کے مطابق قحط اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب:م از کم 20 فیصد گھرانے کھانے کی شدید کمی کا شکار ہوں،30 فیصد بچے شدید غذائی قلت میں مبتلا ہوں،اور بھوک سے مرنے والوں کی یومیہ شرح ہر 10 ہزار میں 2 بالغ یا 4 بچے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ میں براہِ راست ڈیٹا جمع کرنا ممکن نہ ہونے کے باعث متبادل پیمانہ استعمال کیا گیا۔ اس کے تحت بچوں کی اوپری بازو کی گولائی سے غذائی قلت کا اندازہ لگایا گیا، جس نے شدید بحران کی تصدیق کی۔

    IPC نے خبردار کیا کہ اگر انسانی بنیادوں پر امدادی اقدامات نہ بڑھے تو موجودہ ’ہولناک حالات‘ جنوب کی طرف دیر البلح اور خان یونس تک پھیل سکتے ہیں،وقت تیزی سے گزر رہا ہے فوری جنگ بندی اور رکاوٹ سے پاک بڑے پیمانے پر امدادی رسائی ناگزیر ہے،یہ اعلان گزشتہ 2 دہائیوں میں IPC کی جانب سے صرف چوتھی مرتبہ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ، عالمی ادارہ خوراک اور عالمی ادارہ صحت نے پہلے ہی اس فیصلے کی پیش گوئی کی تھی۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہاکہ،یہ قحط کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانوں کے ہاتھوں بنائی گئی تباہی ہے، ایک اخلاقی ناکامی۔ لوگ بھوکے مر رہے ہیں، بچے دم توڑ رہے ہیں، اور وہ لوگ جو مدد کر سکتے ہیں، خاموش ہیں۔‘

    عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہاکہ’جنگ بندی فوری ضرورت ہی نہیں بلکہ اخلاقی فرض ہے۔ دنیا بہت دیر تک دیکھتی رہی، اور اب یہ قحط معصوم جانیں نگل رہا ہے۔‘

    ورلڈ پیس فاؤنڈیشن نے بی بی سی کو بتایا کہ IPC نے جو طریقہ کار استعمال کیا وہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور کسی قسم کی ‘نئی یا کمزور شرط‘ نہیں اپنائی گئی۔
    فاؤنڈیشن کے سربراہ ایلیکس ڈی وال نے کہاکہ،اسرائیل انسانی بنیادوں پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور پھر شواہد کی کمی پر تنقید کرتا ہے۔‘

  • اسرائیل کا غزہ پر بڑے زمینی حملے کا اعلان، 60 ہزار ریزرو فوج متحرک

    اسرائیل کا غزہ پر بڑے زمینی حملے کا اعلان، 60 ہزار ریزرو فوج متحرک

    اسرائیل نے غزہ پر قبضے اور بڑے زمینی حملے کی تیاری کے تحت 60 ہزار ریزرو فوجیوں کو متحرک کرنے کا اعلان کردیا۔

    پہلے سے تعینات 20 ہزار فوجیوں کے احکامات میں بھی توسیع کر دی گئی ہے۔اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے لاکھوں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم دیتے ہوئے جنوبی غزہ کی پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت دی ہے۔اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حملہ شدید انسانی بحران کو جنم دے گا۔ جنوبی غزہ پہلے ہی دباؤ میں ہے، اسپتال تباہی کے قریب ہیں جبکہ قحط کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔

    مصر نے واضح کیا ہے کہ غزہ سے آبادی کا انخلا ایک ریڈ لائن ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں اب تک 62 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، لاکھوں گھروں کو تباہ کیا جا چکا ہے اور غزہ کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی کئی بار بے گھر ہو چکی ہے۔

    قومی اسمبلی، دہری شہریت والے سول افسران پر پابندی کا بل مؤخر

    کراچی میں تیسرے روز بارش، نشیبی علاقے زیر آب، ٹریفک کی روانی متاثر

    ایران کی بحری مشقیں، خلیج عمان و بحرِ ہند میں میزائل فائر

    صدر زرداری سے چینی وزیر خارجہ کی ملاقات، تعلقات مزید مستحکم بنانے پر اتفاق

  • غزہ میں صہیونی فوج کے وحشیانہ حملے،مزید123 فلسطینی شہید

    غزہ میں صہیونی فوج کے وحشیانہ حملے،مزید123 فلسطینی شہید

    غزہ میں صہیونی فوج کے وحشیانہ حملوں میں آج صبح سے اب تک 55 اور 24 گھنٹوں میں 123 فلسطینی شہید ہوگئے، جبکہ اس دوران بھوک سے تین بچوں سمیت مزید 8 فلسطینی شہید ہوگئے۔

    الجزیرہ نے غزہ کی وزارت صحت کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم 123 فلسطینی شہید اور 437 زخمی ہوئے ہیں، جن میں 22 امداد کے متلاشی افراد بھی شامل ہیں،اسی مدت کے دوران تین بچوں سمیت کم از کم 8افراد بھوک کی وجہ سے شہید ہوگئے، جس کے بعد بھوک سے ہونے والی شہادتوں کی مجموعی تعداد 235 ہو گئی ہے، جن میں 106 بچے شامل ہیں،صبح سے اب تک اسرائیلی فورسز کے حملوں میں غزہ بھر میں کم از کم 55 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

    پی ٹی ٰآئی سینیٹر اعجاز چوہدری کی جیل میں طبیعت بگڑ گئی،اسپتال منتقل

    نصیر میڈیکل کمپلیکس کے ذرائع کے مطابق شہید ہونے والوں میں 22 افراد امداد کی تلاش میں تھے، جن میں سے 13 کو رفح کے شمال میں ایک امدادی مرکز کے قریب اسرائیلی فورسز نے شہید کیا گیا۔

    ادھر،اسرائیلی فوج نے چند امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی تاکہ یہ تاثر پیدا ہو کہ خوراک آرہی ہے، لیکن اس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں، لوگ اب بھی روزانہ کی بنیاد پر جبری بھوک سے شہید ہو رہے ہیں۔

    لکی مروت : دہشتگردوں نے پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا، پنجاب کو گیس کی فراہمی معطل

  • آسٹریلوی وزیرِ اعظم کا بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان

    آسٹریلوی وزیرِ اعظم کا بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان

    آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    خبرایجنسی کے مطابق آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ آسٹریلیا ستمبرمیں فلسطین کوآزاد ریاست تسلیم کرلے گا، فلسطینی ریاست میں حماس کیلئے کوئی مستقبل نہیں ہو سکتا،فلسطینیوں کو خود ارادیت فراہم کرنے کا موقع ہے، غزہ کی صورتحال دنیا کے بدترین خدشات سے بھی آگے جا چکی ہے، اسرائیل مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، نیتن یاہو کو کہا کہ ہمیں فوجی نہیں سیاسی حل کی ضرورت ہے،

    آسٹریلوی وزیرِ خارجہ پینی وانگ نے کہا کہ فلسطین سے متعلق فیصلے سے پہلے امریکی ہم منصب کو آگاہ کر دیا تھا۔

    الجزیرہ کے صحافی انس الشریف کی دنیا والوں کیلئے وصیت،پڑھنے والی ہر آنکھ اشکبار

    ادھردنیا بھر میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔

    ترکیے کے شہر استنبول میں بھی ہزاروں افراد نے اسرائیل کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی اور غزہ میں جنگ کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا،چلی کے دارالحکومت سینتیاگو میں خالی برتن بجا کر غزہ میں جبری قحط کے خلاف احتجاجی مارچ کیا گیا جبکہ ارجنٹائن میں بھی فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی کیا گیا اور دارالحکومت بیونس آئرس میں سینکڑوں لوگوں نے غزہ میں جاری نسل کُشی بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

    دوسری جانب اسرائیل کے شہر تل ابیب میں یرغمالیوں کے اہلخانہ نے نیتن یاہو حکومت سے غزہ جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے 17 اگست کو ملک گیر ہڑتال کی کال دے دی۔

    کراچی: انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، کالعدم تنظیم کے دو دہشت گرد گرفتار

  • الجزیرہ کے صحافی انس الشریف کی دنیا والوں کیلئے وصیت،پڑھنے والی ہر آنکھ اشکبار

    الجزیرہ کے صحافی انس الشریف کی دنیا والوں کیلئے وصیت،پڑھنے والی ہر آنکھ اشکبار

    غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہونے والے الجزیرہ کے بہادر صحافی انس الشریف کا آخری پیغام سوشل میڈیاپر وائرل ہو رہا ہے،جس،نے پڑھنے والوں کے دلوں کا جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

    اتوار کو غزہ کے مشرقی حصے میں الشفا اسپتال کے قریب ایک خیمے پر اسرائیلی حملے میں انس الشریف اپنے تین ساتھی صحافیوں اور ایک اسسٹنٹ محمد قریقہ، حمد ظاہر، محمد نوفل، اور مومین علیواکے ہمراہ شہید ہوئے تھے ، اسرائیلی فوج نے انس الشریف کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ حماس کے ایک عسکری سیل کے سربراہ تھے اور اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کے خلاف راکٹ حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ تاہم، انس الشریف نے شمالی غزہ سے بڑے پیمانے پر رپورٹنگ کی تھی اور ماضی میں بھی انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی رہیں۔

    اسرائیلی حملے میں الجزیرہ کے معروف صحافی انس الشریف شہید

    اپنی شہادت سے چند لمحے قبل انس نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پیغام چھوڑا تھا، جو انہوں نے وصیت کے طور پر لکھا تھا، انس الشریف نے لکھایہ میری وصیت اور میرا آخری پیغام ہے، اگر یہ الفاظ آپ تک پہنچیں تو جان لیں کہ اسرائیل مجھے قتل کرنے اور میری آواز خاموش کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے، سب سے پہلے آپ پر اللہ کی طرف سے سلامتی، رحمت اور برکت ہو، اللہ جانتا ہے کہ میں نے اپنی قوم کے لیے اپنی ہر کوشش کی اور پوری طاقت لگا دی۔

    https://x.com/AnasAlSharif0/status/1954670507128914219

    انہوں،نےلکھاکہ،میری امید تھی کہ اللہ میری زندگی بڑھا دے تاکہ میں اپنے گھر اور پیاروں کے ساتھ اپنے اصل شہر عشقلان (المجدل) لوٹ سکوں، مگر اللہ کی مرضی مقدم رہی۔ میں نے درد کے ہر رنگ کو جھیلا، دکھ اور نقصان کو بارہا چکھا، مگر کبھی سچ کو مسخ کیے بغیر بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ میں فلسطین کو، اس کے معصوم بچوں کو، اس کی مظلوم عورتوں کو جنہیں سکون اور حفاظت کا لمحہ نصیب نہ ہوا آپ کے سپرد کرتا ہوں میں آپ کے سپرد کرتا ہوں اپنی بیٹی شام کو، اپنے بیٹے صلاح کو، اپنی ماں اور اپنی شریکِ حیات کو، اگر میں مروں تو ثابت قدم مروں گا، اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھے شہداء میں شامل کرے اور میرا خون میری قوم کی آزادی کا چراغ بنے، غزہ کو نہ بھولنا، اور مجھے اپنی دعا میں یاد رکھنا۔میرے لیے رحمت کی دعا کرنا، کیونکہ میں نے اپنا وعدہ پورا کیا اور کبھی اس میں کوئی تبدیلی یا خیانت نہیں کی۔

    دین اسلام عقیدے کی آزادی اور انسانیت کا احترام درس دیتا ہے، محسن نقوی

  • غزہ پر قبضہ کرنے نہیں اسے حماس سے آزاد کرانے جارہے ہیں، اسرائیلی وزیراعظم

    غزہ پر قبضہ کرنے نہیں اسے حماس سے آزاد کرانے جارہے ہیں، اسرائیلی وزیراعظم

    وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے ہم غزہ پر قبضہ کرنے نہیں جا رہے بلکہ غزہ کو حماس سے آزاد کرانے جا رہے ہیں۔

    نیتن یاہو کا کہنا ہے غزہ کو غیر مسلح کرکے پُرامن شہری انتظامیہ قائم کی جائے گی، غزہ میں شہری انتظامیہ میں فلسطینی اتھارٹی، حماس اور کوئی دہشت گرد تنظیم شامل نہیں ہو گی،یہ اقدام ہمارے یرغمالیوں کو آزاد کرانے میں مدد کرے گا۔

    گزشتہ روز اسرائیلی کابینہ نے وزیراعظم نیتن یاہو کی غزہ پر قبضے کی تجویز کی منظوری دی تھی جس کی آسٹریلیا، جرمنی، اٹلی، نیوزی لینڈ اور برطانیہ نے مخالفت کی تھی،پانچوں ممالک کے وزرائےخارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ غزہ میں مزید بڑے فوجی آپریشن کے اسرائیلی فیصلےکو مسترد کرتے ہیں، اور فلسطین کے دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے عزم کے لیے متحد ہیں۔

    اولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ سے خصوصی نشست

    پاکستان نے بھی اسرائیلی کابینہ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے غزہ پر ناجائز کنٹرول کے اسرائیلی منصوبےکے فیصلےکی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی کابینہ کا منصوبہ فلسطینیوں کے خلاف جنگ میں خطرناک اضافے کے مترادف ہے،عالمی برادری اسرائیل کی بلاجواز جارحیت کو روکنے، غزہ کے لوگوں تک انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے اور بے گناہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری مداخلت کرے۔

    حماس نے اسرائیلی کابینہ کی غزہ پر قبضے کی منظوری کے فیصلے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کا غزہ شہر پر کنٹرول کا فیصلہ جنگی جرم ہے،یہ مجرمانہ مہم اسرائیلی افواج کو مہنگی پڑے گی اور غزہ پر قبضے کا یہ راستہ آسان نہیں ہوگا۔

    راہول گاندھی نے مودی کے جعلی مینڈیٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا

  • اسرائیلی آرمی چیف اور اپوزیشن لیڈر نےنیتن یاہو کی مخالفت کردی

    اسرائیلی آرمی چیف اور اپوزیشن لیڈر نےنیتن یاہو کی مخالفت کردی

    غزہ پر اسرائیلی قبضے کے منصوبے پر خود اسرائیلی فوج، اپوزیشن نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوج کے سربراہ ایال زمیر نے غزہ شہر پر قبضے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یرغمالیوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور فوجی بھی تھکن کا شکار ہو جائیں گے،انہوں نے متبادل طور پر غزہ کے گرد اضافی محاصرے کی تجویز دی، لیکن وسیع پیمانے پر فوجی طلبی سے انکار کیا،دوسری جانب، اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے نیتن یاہو کے اس منصوبے کو "سانحہ” قرار دیا جو مزید بحرانوں کو جنم دے سکتا ہے ان کے مطابق یہ قبضہ مہنگا، طویل اور اسرائیل کو سفارتی تنہائی کا شکار بنا دے گا۔

    ادھر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ فولکر ٹرک نے اسرائیل سے غزہ پر قبضے کا منصوبہ فوراً روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین اور دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ ہےبرطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے بھی غزہ پر قبضے کی مخالفت کرتے ہوئے اسرائیل کو فیصلے پر نظر ثانی کا مشورہ دیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ یرغمالیوں کی رہائی میں مدد دے گا اور نہ ہی مسئلہ فلسطین کا حل نکالے گا بلکہ صرف خونریزی میں اضافہ کرے گا۔

    چین: سنکیانگ میں پل کا کیبل ٹوٹنے سے 5 افراد جاں بحق، 24 زخمی

    ٹرمپ ٹیرف بھارتی سٹاک ایکسچینج کو لے ڈوبا، سرمایہ کاروں کو اربوں کا نقصان

    مشعال یوسفزئی کے سینیٹر بننے کا نوٹیفکیشن جاری

  • انڈونیشیا کا جزیرہ گالانگ پر  غزہ کے زخمیوں کے لیےطبی سہولت قائم کرنے کا اعلان

    انڈونیشیا کا جزیرہ گالانگ پر غزہ کے زخمیوں کے لیےطبی سہولت قائم کرنے کا اعلان

    جکارتہ: انڈونیشیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کے 2,000 زخمی شہریوں کے علاج کے لیے اپنے غیر آباد جزیرے "گالانگ” پر قائم ایک میڈیکل سینٹر کو فعال کرے گا۔

    انڈونیشیائی صدر کے ترجمان حسن ناصبی کے مطابق یہ عمل زخمیوں کے علاج اور ان کے اہل خانہ کے عارضی قیام کے لیے ہوگا، اور یہ کسی قسم کی نقل مکانی یا مستقل ہجرت نہیں ہےان زخمیوں کو علاج کے بعد دوبارہ غزہ واپس بھیج دیا جائے گا،اس میڈیکل سینٹر کی تعمیر دراصل کووڈ-19 کے مریضوں کے لیے 2020 میں کی گئی تھی، جبکہ ماضی میں یہ جزیرہ اقوام متحدہ کے تحت ویتنام جنگ سے متاثرہ پناہ گزینوں کا کیمپ بھی رہا ہے۔

    کراچی : لانڈھی ایکسپورٹ پروسسنگ زون کی فیکٹری میں آتشزدگی ، 5 منزلہ عمارت منہدم ، 7 افراد زخمی

    اس منصوبے کا اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ماضی میں انڈونیشی صدر پر یہ تنقید ہوئی تھی کہ وہ فلسطینیوں کی عارضی پناہ کی پیشکش کر کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کے قریب ہو رہے ہیں، جس میں فلسطینیوں کو غزہ سے مستقل بے دخل کرنے کی تجویز دی گئی تھی، انڈونیشیا نے اس تجویز کو واضح طور پر مسترد کر دیا تھا اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا تھا،انڈونیشیا، جو کہ ایک مسلم اکثریتی ملک ہے، نے 2023 میں اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ کو انسانی امداد بھی فراہم کی تھی –
    ٹرمپ روسی صدر سے براہ راست ملاقات کریں گے