Baaghi TV

Tag: غزہ

  • غزہ سے بیمار اور زخمی بچوں کا پہلا گروپ علاج کے لیے برطانیہ روانہ

    غزہ سے بیمار اور زخمی بچوں کا پہلا گروپ علاج کے لیے برطانیہ روانہ

    غزہ سے بیمار اور زخمی بچوں کا پہلا گروپ علاج کے لیے برطانیہ روانہ،ہوگیا ۔

    برطانوی وزارتِ صحت نے تصدیق کی کہ یہ اقدام ایک خصوصی اسکیم کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ ان بچوں کو وہ طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں جو غزہ میں دستیاب نہیں ہیں،برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے جولائی میں اس منصوبے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ غزہ کی زیادہ تر اسپتال اب کام نہیں کر پا رہے۔

    حکومت کے مطابق یہ اسکیم اس لیے ضروری ہے کہ علاقے میں ادویات اور طبی سامان کی شدید کمی ہے اور ڈاکٹروں کے لیے بھی محفوظ طریقے سے کام کرنا ممکن نہیں رہا،ہم توقع کرتے ہیں کہ بچے اور ان کے قریبی اہلِ خانہ آئندہ چند ہفتوں میں برطانیہ پہنچ جائیں گے برطانوی وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے کہا کہ پہلا گروپ غزہ سے نکل چکا ہے اور برطانیہ کے راستے پر ہے، بچوں کو فی الحال خطے کے ایک اور ملک میں طبی عملہ دیکھ بھال فراہم کر رہا ہے۔

    بھارتی ٹیم نے جو حرکت کی اس پر پاکستانی رد عمل فطری تھا،مائیک ہیسن

    اس سے قبل چند زخمی غزہ کے بچے ایک نجی پروگرام ‘پروجیکٹ پیور ہوپ’ کے تحت برطانیہ لائے گئے تھے مگر حکومت نے نئی اسکیم کے تحت آنے والے بچوں کی درست تعداد نہیں بتائی میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے میں 30 سے 50 بچے لائے جا سکتے ہیں،برطانوی حکام غزہ کے ان طلبہ کو نکالنے پر بھی کام کر رہے ہیں جنہیں برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں داخلہ مل چکا ہے کوپر کے مطابق یہ ایک بڑا سفارتی عمل ہے تاکہ ان بچوں اور طلبہ کو غزہ سے نکالا جا سکے اور مختلف ممالک کے راستے برطانیہ لایا جا سکے۔

    ادھرقابض اسرائیلی فوج کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، صرف ایک روز میں مزید 53 فلسطینی شہید اور 16 بلند عمارتیں تباہ کردی گئیں،غزہ شہری دفاع کے مطابق اسرائیلی بمباری سے گزشتہ روز 6 ہزار سے زائد فلسطینی بے گھر ہوگئے، جب کہ رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا،وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک شہدا کی تعداد 64 ہزار 871 ہوچکی ہے، جب کہ ایک لاکھ 64 ہزار 610 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    کھیل میں سیاست گھسیٹنا اصل روح کے منافی ہے،محسن نقوی

    ادھر اسرائیل کے سابق آرمی چیف ہرزی حلیوی نے اعتراف کیا ہے کہ وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں غزہ کے 2 لاکھ سے زائد فلسطینی شہید یا زخمی ہوئے ان کے مطابق غزہ کی 22 لاکھ آبادی میں سے 10 فیصد سے زیادہ لوگ ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں۔

  • غزہ کی زمین فلسطینیوں کی ہے اور ان کے حقوق ناقابلِ تنسیخ ہیں،  محمد بن سلمان

    غزہ کی زمین فلسطینیوں کی ہے اور ان کے حقوق ناقابلِ تنسیخ ہیں، محمد بن سلمان

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نےکہاہے کہ اسرائیلی فوج کو اپنی مجرمانہ کارروائیوں سے باز رکھنے کے لیے بھی بین الاقوامی اقدامات ناگزیر ہیں، کیونکہ یہ کارروائیاں خطے کے امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

    سعودی عرب نے خطے میں اسرائیلی حملوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے، جن میں منگل کو قطر پر ہونے والی ’بربریت پر مبنی جارحیت‘ بھی شامل ہےیہ بات سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بدھ کے روز شاہ سلمان کی جگہ شوریٰ کونسل سے سالانہ خطاب میں کہی۔

    سعودی ولی عہد نے کہا کہ ایسے جارحانہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے عرب، اسلامی اور عالمی سطح پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے، اسرائیلی فوج کو اپنی مجرمانہ کارروائیوں سے باز رکھنے کے لیے بھی بین الاقوامی اقدامات ناگزیر ہیں، کیونکہ یہ کارروائیاں خطے کے امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہیں،ہم قطر کے ساتھ اس کے تمام اقدامات میں بغیر کسی حد کے کھڑے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔

    اس وقت ہماری اولین ترجیح انسانی جانوں کو محفوظ بنانا اور بیراجوں و بندوں کو بچانا ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    انہوں نے مزید کہاکہ ہم غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری وحشیانہ حملوں، بھوک اور جبری بے دخلی کے جرائم کی بھی سخت مذمت کرتے ہیں،غزہ کی زمین فلسطینیوں کی ہے اور ان کے حقوق ناقابلِ تنسیخ ہیں، جو نہ جارحیت سے چھینے جا سکتے ہیں اور نہ ہی دھمکیوں سے کالعدم ہو سکتے ہیں،مارا مؤقف غیر متزلزل ہے، ان حقوق کا تحفظ اور ان کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔

    شہزادہ محمد بن سلمان نے یاد دلایا کہ2002 میں مملکت کی جانب سے پیش کی جانے والی عرب امن تجویز، جو آج 2 ریاستی حل کے تناظر میں عالمی سطح پر تسلیم کی جا چکی ہے، فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک بے مثال راستہ ہے،مملکت کی ان کوششوں کے ثمرات سامنے آئے ہیں، جن میں مزید ممالک کی جانب سے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنا اور جولائی میں نیویارک میں فلسطینی مسئلے کے پرامن حل اور 2 ریاستی فارمولے کے نفاذ کے لیے ہونے والی اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس شامل ہے.

    نیپال میں احتجاج کے دوران 13 ہزار 500 قیدی جیلوں سے فرار

    شام کے بارے میں ولی عہد نے کہا کہ مملکت نے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں بین الاقوامی پابندیاں ختم کرانے کی کامیاب کوششیں اور شام کی علاقائی سالمیت کو یققطری وزیراعظم کا نیتن یاہوکو انصاف کے کٹہرے میں لانےکا مطالبہینی بنانے اور اس کی معیشت کی بحالی کے لیے تعاون شامل ہے۔

    مملکت کی معیشت پر بات کرتے ہوئے ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب معیشت کو متنوع بنا رہا ہے اور تیل پر انحصار کم کرنے کی اپنی صلاحیت ثابت کر رہا ہے،ہماری تاریخ میں پہلی بار، غیر تیل شعبوں نے مجموعی قومی پیداوار کا 56 فیصد حصہ حاصل کیا ہے، جو 4.5 کھرب ریال سے تجاوز کر گیا ہے،یہ کامیابیاں اور دیگر اقدامات سعودی عرب کو دنیا بھر کی سرگرمیوں کے لیے ایک عالمی مرکز بنا چکے ہیں، جہاں 660 بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنا علاقائی ہیڈکوارٹر بنایا ہے، جو 2030 کے ہدف سے بھی زیادہ ہے،یہ کامیابیاں مملکت کے انفرا اسٹرکچر اور ٹیکنیکل سہولتوں کی سطح کو ظاہر کرتی ہیں اور سعودی معیشت کی مضبوطی اور وسیع مستقبل کی نشاندہی کرتی ہیں۔

    قطری وزیراعظم کا نیتن یاہوکو انصاف کے کٹہرے میں لانےکا مطالبہ

  • رائٹرز پر غزہ میں صحافیوں کے قتل کی سہولت کاری کا سنگین الزام

    رائٹرز پر غزہ میں صحافیوں کے قتل کی سہولت کاری کا سنگین الزام

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹر سے وابستہ کینیڈین صحافی ویلیری زنک نے غزہ میں گزشتہ دو برس میں 245 صحافیوں کے قتل کی سہولت کاری کا سنگین الزام اپنے ادارے پر لگاتے ہوئے ملازمت چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

    ویلیری زنک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ’رائٹرز‘ کے لیے کام جاری نہ رکھنے کا بیان پوسٹ کیا ہےکینیڈین صحافی نے اپنی پوسٹ پر لکھا کہ گزشتہ 8 برسوں سے میں ’رائٹرز نیوز ایجنسی‘ کے ساتھ بطور اسٹرنگر کام کر رہی ہوں، میرے فوٹوگراف نیویارک ٹائمز، الجزیرہ اور دیگر عالمی میڈیا اداروں میں شائع ہوئے ہیں، اور شمالی امریکا، ایشیا، یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں پہنچےاس مقام پر آ کر میرے لیے ’رائٹرز‘ کے ساتھ تعلق برقرار رکھنا ناممکن ہو گیا ہے، کیوں کہ اس کا کردار غزہ میں 245 صحافیوں کے منظم قتل کی توجیہ دینے اور اسے سہولت فراہم کرنے میں ہے، اپنے فلسطینی ساتھیوں کے لیے مجھ پر کم از کم اتنا تو قرض ہے، یا اس سے کہیں زیادہ۔

    کینیڈین صحافی نے لکھا کہ جب اسرائیل نے 10 اگست کو غزہ سٹی میں انس الشریف اور الجزیرہ کی پوری ٹیم کو قتل کیا تو رائٹرز نے اسرائیل کا وہ بالکل بے بنیاد دعویٰ شائع کرنے کا انتخاب کیا کہ انس الشریف حماس کا رکن تھا، یہ ان بے شمار جھوٹوں میں سے ایک تھا جنہیں رائٹرز جیسے میڈیا ادارے بار بار دہراتے اور انہیں وقعت دیتے ہیں، اسرائیلی پروپیگنڈے کو آگے بڑھانے کی ’رائٹرز‘ کی آمادگی نے ان کے اپنے رپورٹرز کو بھی اسرائیل کی نسل کشی سے محفوظ نہیں رکھا، آج صبح ایک اور حملے میں النصر ہسپتال میں 20 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 5 مزید صحافی بھی شامل تھے، جن میں رائٹرز کے کیمرا مین حسام المسری بھی تھے۔

    سی ڈی اے کا اسلام آباد کو فری وائی فائی سٹی بنانے کا اعلان

    کینیڈین صحافی نے لکھا کہ یہ وہی تھا، جسے ’ڈبل ٹیپ‘ حملہ کہا جاتا ہے، یعنی اسرائیل کسی اسکول یا ہسپتال جیسے شہری ہدف پر بمباری کرتا ہے، پھر میڈیکس، ریسکیو ٹیموں اور صحافیوں کے پہنچنے کا انتظار کرتا ہے، اور دوبارہ حملہ کرتا ہےمغربی میڈیا براہِ راست اس ماحول کا ذمہ دار ہے، جس میں ایسا ممکن ہو سکتا ہے، جیسا کہ ڈراپ سائٹ نیوز کے جیریمی سکاہل نے کہا کہ ’ہر بڑا ادارہ نیویارک ٹائمز سے لے کر واشنگٹن پوسٹ تک، اے پی سے رائٹرز تک، اسرائیلی پروپیگنڈے کے لیے ایک کنویئر بیلٹ کا کردار ادا کرتا رہا ہے، جنگی جرائم کو صاف و شفاف بنا کر پیش کرتا ہے، متاثرین کو غیر انسانی بناتا ہے، اپنے ساتھیوں اور صحافت کی سچائی و اخلاقیات کے دعووں کی نفی کرتا ہے۔

    ویلیری زنک نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ مغربی میڈیا اداروں نے اسرائیل کے نسل کش بیانیے کو بغیر کسی تصدیق کے دہرا کر، صحافت کی بنیادی ذمہ داری کو ترک کرتے ہوئے اس قتلِ عام کو ممکن بنایا، جس میں صرف دو برس میں ایک چھوٹی سی زمینی پٹی پر اتنے صحافی مارے گئے جتنے پہلی جنگِ عظیم، دوسری جنگِ عظیم، کوریا، ویتنام، افغانستان، یوگوسلاویہ اور یوکرین کی جنگوں میں بھی نہیں مرے، اس کے علاوہ ایک پوری آبادی کو بھوکا رکھنا، بچوں کو چیر دینا اور لوگوں کو زندہ جلانا تو اپنی جگہ ہے۔

    اسحاق ڈار کی ترک وزیر خارجہ سے ملاقات،فلسطین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ

    ویلیری زنک نے لکھا کہ انس الشریف کے کام کی وجہ سے ’رائٹرز‘ کے لیے پلٹزر انعام کی جیت بھی رائٹرز کو اس پر مجبور نہ کر سکی کہ جب اسرائیلی قابض افواج نے انہیں ’ہٹ لسٹ‘ پر ڈال دیا تو وہ ان کا دفاع کرتے، یہ جیت انہیں مجبور نہ کر سکی کہ جب انہوں نے عالمی میڈیا سے تحفظ کی اپیل کی اور ایک اسرائیلی فوجی ترجمان نے ویڈیو میں ان کے قتل کی نیت کا اعلان کیا تو وہ ان کا ساتھ دیتے، اور یہ جیت انہیں مجبور نہ کر سکی کہ جب چند ہفتوں بعد انہیں تلاش کر کے قتل کر دیا گیا تو وہ ان کی موت پر سچائی سے رپورٹنگ کرتےمیں نے ان 8 برس میں رائٹرز کے ساتھ کیے گئے اپنے کام کی قدر کی ہے، لیکن اس مقام پر میں اس پریس پاس کو شرمندگی اور غم کے سوا کسی جذبے کے ساتھ پہننے کا تصور نہیں کر سکتی، میں نہیں جانتی کہ غزہ کے صحافیوں (جو سب سے بہادر اور بہترین تھے) کی ہمت اور قربانی کو عزت دینے کا آغاز کیسے کیا جائے، لیکن آئندہ جو کچھ بھی میں کر سکوں گی، وہ اسی جذبے کے ساتھ ہوگا-
    توشہ خانہ ٹو کیس:عمران خان کے وکلا اور اہلخانہ کو سماعت میں شامل ہونے کی اجازت

  • غزہ: اسرائیل کے النصر ہسپتال پر حملے،ایک امدادی کارکن، 4 صحافیوں سمیت 15 فلسطینی شہید

    غزہ: اسرائیل کے النصر ہسپتال پر حملے،ایک امدادی کارکن، 4 صحافیوں سمیت 15 فلسطینی شہید

    اسرائیل کی جانب سےغزہ کے النصر ہسپتال پر یکے بعد دیگرے دو فضائی حملے کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں 15 افراد شہید ہوگئے، جن میں 4 صحافی اورایک امدادی کارکن،بھی شامل ہیں۔

    ’روئٹرز‘ کے مطابق فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں النصر ہسپتال پر یکے بعد دیگرے دو حملے کیے گئے، پہلے حملے میں روئٹرز کے کیمرہ مین حسام المصری شہید ہوگئے جب کہ دوسرے حملے میں روئٹرز کے ایک اور فوٹوگرافر حاتم زخمی ہوگئے،دوسرا حملہ اس وقت ہوا جب امدادی کارکن، صحافی اور دیگر لوگ ابتدائی حملے کی جگہ پر پہنچے تھے اور حملے کی کوریج کررہے تھے۔

    فلسطینی وزارت صحت نے دیگر 3 صحافیوں کی شہادت کی بھی تصدیق کی ہے جن میں خبر ایجنسی اے پی کی صحافی مریم ابو دغہ، الجزیرہ کا فوٹو جرنلسٹ محمد سلامہ اور امریکی ٹی وی این بی سی کا صحافی معاذ ابو طہہ شامل ہیں جب کہ شہید ہونے والوں میں ایک امدادی کارکن بھی شامل ہے۔

    سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس کےملزم کی بریت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا

    غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے اسرائیل سے ’ہسپتالوں پر حملے بند کرنے اور امدادی سامان غزہ پہنچانے کا مطالبہ کیا کہاکہ،صہیونی ریاست غزہ پٹی میں شہریوں کے لیے زندگی کے تمام پہلو ختم کرنا چاہتا ہے، وہ بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے جرم کے علاوہ بھیپوری دنیا کے سامنے براہِ راست جرائم کر رہا ہے۔

    وفاقی کابینہ کی ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب ریلیف فنڈ میں دینے کا فیصلہ واپس

    واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں شہدا کی مجموعی تعداد 62 ہزار 600 سے زائد ہوچکی ہے جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی شامل ہے جب کہ ایک لاکھ 57 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں،فلسطینی صحافیوں کی انجمن کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی مظالم کے نتیجے میں اب تک 240 سے زیادہ فلسطینی صحافی غزہ میں شہید ہو چکے ہیں۔

  • غزہ میں قحط اور اسرائیلی حملوں سے مزید درجنوں فلسطینی شہید

    غزہ میں قحط اور اسرائیلی حملوں سے مزید درجنوں فلسطینی شہید

    قحط کے باضابطہ اعلان کے بعد غذائی قلت کے باعث مزید 8 فلسطینی شہید ہوگئے، جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں۔

    غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق انسانی بحران کے آغاز سے اب تک بھوک سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 281 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 114 بچے شامل ہیں۔ وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البُرش نے کہا کہ قحط خاموشی سے شہریوں کو نگل رہا ہے اور خیموں و اسپتالوں کو روزانہ سانحات میں بدل رہا ہے۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی بمباری اور حملوں میں آج غزہ بھر میں کم از کم 51 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 16 افراد وہ تھے جو امداد کے منتظر تھے۔ خان یونس کے شمال مغرب میں توپخانے کی فائرنگ سے بے گھر خاندانوں کے خیمے نشانہ بنے جس کے نتیجے میں 16 افراد شہید ہوئے، جن میں 6 بچے شامل تھے۔

    وسطی غزہ کے مغازی پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر ڈرون حملے میں 2 افراد شہید ہوئے، جبکہ خان یونس کے جنوب مشرق میں امداد کے انتظار میں کھڑے ایک شہری کو گولی مار دی گئی۔ اسی طرح نتساریم کوریڈور کے قریب امداد لینے جانے والا ایک اور فلسطینی بھی اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہوا۔اقوام متحدہ نے 22 اگست کو غزہ میں باضابطہ قحط کا اعلان کیا، جو مشرقِ وسطیٰ میں اپنی نوعیت کا پہلا اعلان ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق تقریباً 5 لاکھ 14 ہزار فلسطینی شدید بھوک کا شکار ہیں، جو ستمبر کے آخر تک بڑھ کر 6 لاکھ 41 ہزار تک پہنچ سکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے اسرائیل پر امدادی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے قحط کو "انسانی ہاتھوں سے پیدا کردہ سانحہ” قرار دیا۔

    رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج غزہ میں 62 ہزار 600 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے۔

    بلاول بھٹو کا سندھ پیپلز ہاؤسنگ کا دورہ ،عوام سے ملاقات

    شیر افضل مروت کا پارٹی چھوڑنے کا اعلان، عمران خان و ٹیم پر سنگین الزامات

    مودی کے فیصلے زلیل کروائیں گے، امریکہ سے بھارتی ملک بدر،چین آگے سرنڈر

    ایم کیو ایم نے سینٹرل آرگنائزنگ اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی قائم کردی

  • پاکستان کی جانب سے غزہ کیلئےامدادی سامان کی 19ویں کھیپ روانہ

    پاکستان کی جانب سے غزہ کیلئےامدادی سامان کی 19ویں کھیپ روانہ

    وزیراعظم شہبازشریف کی ہدایت پر غزہ کیلئے امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے غزہ کیلئے امدادی سامان کی 19 ویں کھیپ روانہ کردی ہےلاہور سے روانہ ہونے والی کھیپ میں 100 ٹن امدادی سامان شامل ہے، جس میں آٹے کے تھیلے، تیار کھانا، کوکنگ آئل اور ڈبہ بند فروٹ شامل ہیں، پاکستان اب تک 19 امدادی کھیپوں کے ذریعےمجموعی طور پر 1915 ٹن امدادی سامان غزہ بھیج چکا ہے۔

    واضح،رہےکہ،انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) نے جمعہ کے روز شمالی غزہ، بشمول غزہ شہر، میں قحط کی باضابطہ تصدیق کر دی، اس اعلان کے مطابق علاقے کی آدھی سے زیادہ آبادی یعنی تقریباً 5 لاکھ 14 ہزار افرادشدید غذائی قلت کا شکار ہیں یہ تعداد ستمبر کے آخر تک بڑھ کر 6 لاکھ 41 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    IPC کے مطابق قحط اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب:م از کم 20 فیصد گھرانے کھانے کی شدید کمی کا شکار ہوں،30 فیصد بچے شدید غذائی قلت میں مبتلا ہوں،اور بھوک سے مرنے والوں کی یومیہ شرح ہر 10 ہزار میں 2 بالغ یا 4 بچے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ میں براہِ راست ڈیٹا جمع کرنا ممکن نہ ہونے کے باعث متبادل پیمانہ استعمال کیا گیا۔ اس کے تحت بچوں کی اوپری بازو کی گولائی سے غذائی قلت کا اندازہ لگایا گیا، جس نے شدید بحران کی تصدیق کی۔

    IPC نے خبردار کیا کہ اگر انسانی بنیادوں پر امدادی اقدامات نہ بڑھے تو موجودہ ’ہولناک حالات‘ جنوب کی طرف دیر البلح اور خان یونس تک پھیل سکتے ہیں،وقت تیزی سے گزر رہا ہے فوری جنگ بندی اور رکاوٹ سے پاک بڑے پیمانے پر امدادی رسائی ناگزیر ہے،یہ اعلان گزشتہ 2 دہائیوں میں IPC کی جانب سے صرف چوتھی مرتبہ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ، عالمی ادارہ خوراک اور عالمی ادارہ صحت نے پہلے ہی اس فیصلے کی پیش گوئی کی تھی۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہاکہ،یہ قحط کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانوں کے ہاتھوں بنائی گئی تباہی ہے، ایک اخلاقی ناکامی۔ لوگ بھوکے مر رہے ہیں، بچے دم توڑ رہے ہیں، اور وہ لوگ جو مدد کر سکتے ہیں، خاموش ہیں۔‘

    عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہاکہ’جنگ بندی فوری ضرورت ہی نہیں بلکہ اخلاقی فرض ہے۔ دنیا بہت دیر تک دیکھتی رہی، اور اب یہ قحط معصوم جانیں نگل رہا ہے۔‘

    ورلڈ پیس فاؤنڈیشن نے بی بی سی کو بتایا کہ IPC نے جو طریقہ کار استعمال کیا وہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور کسی قسم کی ‘نئی یا کمزور شرط‘ نہیں اپنائی گئی۔
    فاؤنڈیشن کے سربراہ ایلیکس ڈی وال نے کہاکہ،اسرائیل انسانی بنیادوں پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور پھر شواہد کی کمی پر تنقید کرتا ہے۔‘

  • اسرائیل کا غزہ پر بڑے زمینی حملے کا اعلان، 60 ہزار ریزرو فوج متحرک

    اسرائیل کا غزہ پر بڑے زمینی حملے کا اعلان، 60 ہزار ریزرو فوج متحرک

    اسرائیل نے غزہ پر قبضے اور بڑے زمینی حملے کی تیاری کے تحت 60 ہزار ریزرو فوجیوں کو متحرک کرنے کا اعلان کردیا۔

    پہلے سے تعینات 20 ہزار فوجیوں کے احکامات میں بھی توسیع کر دی گئی ہے۔اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے لاکھوں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم دیتے ہوئے جنوبی غزہ کی پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت دی ہے۔اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حملہ شدید انسانی بحران کو جنم دے گا۔ جنوبی غزہ پہلے ہی دباؤ میں ہے، اسپتال تباہی کے قریب ہیں جبکہ قحط کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔

    مصر نے واضح کیا ہے کہ غزہ سے آبادی کا انخلا ایک ریڈ لائن ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں اب تک 62 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، لاکھوں گھروں کو تباہ کیا جا چکا ہے اور غزہ کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی کئی بار بے گھر ہو چکی ہے۔

    قومی اسمبلی، دہری شہریت والے سول افسران پر پابندی کا بل مؤخر

    کراچی میں تیسرے روز بارش، نشیبی علاقے زیر آب، ٹریفک کی روانی متاثر

    ایران کی بحری مشقیں، خلیج عمان و بحرِ ہند میں میزائل فائر

    صدر زرداری سے چینی وزیر خارجہ کی ملاقات، تعلقات مزید مستحکم بنانے پر اتفاق

  • غزہ میں صہیونی فوج کے وحشیانہ حملے،مزید123 فلسطینی شہید

    غزہ میں صہیونی فوج کے وحشیانہ حملے،مزید123 فلسطینی شہید

    غزہ میں صہیونی فوج کے وحشیانہ حملوں میں آج صبح سے اب تک 55 اور 24 گھنٹوں میں 123 فلسطینی شہید ہوگئے، جبکہ اس دوران بھوک سے تین بچوں سمیت مزید 8 فلسطینی شہید ہوگئے۔

    الجزیرہ نے غزہ کی وزارت صحت کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم 123 فلسطینی شہید اور 437 زخمی ہوئے ہیں، جن میں 22 امداد کے متلاشی افراد بھی شامل ہیں،اسی مدت کے دوران تین بچوں سمیت کم از کم 8افراد بھوک کی وجہ سے شہید ہوگئے، جس کے بعد بھوک سے ہونے والی شہادتوں کی مجموعی تعداد 235 ہو گئی ہے، جن میں 106 بچے شامل ہیں،صبح سے اب تک اسرائیلی فورسز کے حملوں میں غزہ بھر میں کم از کم 55 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

    پی ٹی ٰآئی سینیٹر اعجاز چوہدری کی جیل میں طبیعت بگڑ گئی،اسپتال منتقل

    نصیر میڈیکل کمپلیکس کے ذرائع کے مطابق شہید ہونے والوں میں 22 افراد امداد کی تلاش میں تھے، جن میں سے 13 کو رفح کے شمال میں ایک امدادی مرکز کے قریب اسرائیلی فورسز نے شہید کیا گیا۔

    ادھر،اسرائیلی فوج نے چند امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی تاکہ یہ تاثر پیدا ہو کہ خوراک آرہی ہے، لیکن اس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں، لوگ اب بھی روزانہ کی بنیاد پر جبری بھوک سے شہید ہو رہے ہیں۔

    لکی مروت : دہشتگردوں نے پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا، پنجاب کو گیس کی فراہمی معطل

  • آسٹریلوی وزیرِ اعظم کا بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان

    آسٹریلوی وزیرِ اعظم کا بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان

    آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    خبرایجنسی کے مطابق آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ آسٹریلیا ستمبرمیں فلسطین کوآزاد ریاست تسلیم کرلے گا، فلسطینی ریاست میں حماس کیلئے کوئی مستقبل نہیں ہو سکتا،فلسطینیوں کو خود ارادیت فراہم کرنے کا موقع ہے، غزہ کی صورتحال دنیا کے بدترین خدشات سے بھی آگے جا چکی ہے، اسرائیل مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، نیتن یاہو کو کہا کہ ہمیں فوجی نہیں سیاسی حل کی ضرورت ہے،

    آسٹریلوی وزیرِ خارجہ پینی وانگ نے کہا کہ فلسطین سے متعلق فیصلے سے پہلے امریکی ہم منصب کو آگاہ کر دیا تھا۔

    الجزیرہ کے صحافی انس الشریف کی دنیا والوں کیلئے وصیت،پڑھنے والی ہر آنکھ اشکبار

    ادھردنیا بھر میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔

    ترکیے کے شہر استنبول میں بھی ہزاروں افراد نے اسرائیل کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی اور غزہ میں جنگ کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا،چلی کے دارالحکومت سینتیاگو میں خالی برتن بجا کر غزہ میں جبری قحط کے خلاف احتجاجی مارچ کیا گیا جبکہ ارجنٹائن میں بھی فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی کیا گیا اور دارالحکومت بیونس آئرس میں سینکڑوں لوگوں نے غزہ میں جاری نسل کُشی بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

    دوسری جانب اسرائیل کے شہر تل ابیب میں یرغمالیوں کے اہلخانہ نے نیتن یاہو حکومت سے غزہ جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے 17 اگست کو ملک گیر ہڑتال کی کال دے دی۔

    کراچی: انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، کالعدم تنظیم کے دو دہشت گرد گرفتار

  • الجزیرہ کے صحافی انس الشریف کی دنیا والوں کیلئے وصیت،پڑھنے والی ہر آنکھ اشکبار

    الجزیرہ کے صحافی انس الشریف کی دنیا والوں کیلئے وصیت،پڑھنے والی ہر آنکھ اشکبار

    غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہونے والے الجزیرہ کے بہادر صحافی انس الشریف کا آخری پیغام سوشل میڈیاپر وائرل ہو رہا ہے،جس،نے پڑھنے والوں کے دلوں کا جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

    اتوار کو غزہ کے مشرقی حصے میں الشفا اسپتال کے قریب ایک خیمے پر اسرائیلی حملے میں انس الشریف اپنے تین ساتھی صحافیوں اور ایک اسسٹنٹ محمد قریقہ، حمد ظاہر، محمد نوفل، اور مومین علیواکے ہمراہ شہید ہوئے تھے ، اسرائیلی فوج نے انس الشریف کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ حماس کے ایک عسکری سیل کے سربراہ تھے اور اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کے خلاف راکٹ حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ تاہم، انس الشریف نے شمالی غزہ سے بڑے پیمانے پر رپورٹنگ کی تھی اور ماضی میں بھی انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی رہیں۔

    اسرائیلی حملے میں الجزیرہ کے معروف صحافی انس الشریف شہید

    اپنی شہادت سے چند لمحے قبل انس نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پیغام چھوڑا تھا، جو انہوں نے وصیت کے طور پر لکھا تھا، انس الشریف نے لکھایہ میری وصیت اور میرا آخری پیغام ہے، اگر یہ الفاظ آپ تک پہنچیں تو جان لیں کہ اسرائیل مجھے قتل کرنے اور میری آواز خاموش کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے، سب سے پہلے آپ پر اللہ کی طرف سے سلامتی، رحمت اور برکت ہو، اللہ جانتا ہے کہ میں نے اپنی قوم کے لیے اپنی ہر کوشش کی اور پوری طاقت لگا دی۔

    https://x.com/AnasAlSharif0/status/1954670507128914219

    انہوں،نےلکھاکہ،میری امید تھی کہ اللہ میری زندگی بڑھا دے تاکہ میں اپنے گھر اور پیاروں کے ساتھ اپنے اصل شہر عشقلان (المجدل) لوٹ سکوں، مگر اللہ کی مرضی مقدم رہی۔ میں نے درد کے ہر رنگ کو جھیلا، دکھ اور نقصان کو بارہا چکھا، مگر کبھی سچ کو مسخ کیے بغیر بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ میں فلسطین کو، اس کے معصوم بچوں کو، اس کی مظلوم عورتوں کو جنہیں سکون اور حفاظت کا لمحہ نصیب نہ ہوا آپ کے سپرد کرتا ہوں میں آپ کے سپرد کرتا ہوں اپنی بیٹی شام کو، اپنے بیٹے صلاح کو، اپنی ماں اور اپنی شریکِ حیات کو، اگر میں مروں تو ثابت قدم مروں گا، اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھے شہداء میں شامل کرے اور میرا خون میری قوم کی آزادی کا چراغ بنے، غزہ کو نہ بھولنا، اور مجھے اپنی دعا میں یاد رکھنا۔میرے لیے رحمت کی دعا کرنا، کیونکہ میں نے اپنا وعدہ پورا کیا اور کبھی اس میں کوئی تبدیلی یا خیانت نہیں کی۔

    دین اسلام عقیدے کی آزادی اور انسانیت کا احترام درس دیتا ہے، محسن نقوی