Baaghi TV

Tag: غزہ

  • فلسطینیوں پرحملوں پر اسرائیلی فوج کے اندر بھی شدید اختلافات

    فلسطینیوں پرحملوں پر اسرائیلی فوج کے اندر بھی شدید اختلافات

    غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں کے دوران نہ صرف دنیا بھر میں اسرائیل پر جنگی جرائم کے الزامات شدت اختیار کر چکے ہیں، بلکہ اب خود اسرائیلی فوج کے اندر بھی ان حملوں پر شدید اختلافات سامنے آ رہے ہیں-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق،جنوبی کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل یانیو اسور اور اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل تومر بار کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں شدید تلخ کلامی ہوئی، جس کا مرکزی نکتہ غزہ میں بے گناہ فلسطینی شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں تھیں۔

    ، بیئر شیبہ میں موجود اسور نے ویڈیو لنک کے ذریعے جنرل اسٹاف کے اجلاس میں شرکت کی اور فضائیہ کی جانب سے بعض حملوں کی منظوری روکنے پر شدید اعتراض اٹھایا، اسور کا کہنا تھا کہ تل ابیب میں بیٹھے افسران ’’میدان کی حقیقت‘‘ سے مکمل طور پر لاتعلق ہو چکے ہیں، جس پر اجلاس میں موجود فضائیہ کے سربراہ نے سخت الفاظ میں جواب دیا اور کہا کہ جنوبی کمانڈ کی جانب سے حالیہ حملوں کی درخواستیں غیر پیشہ ورانہ تھیں اور ان کی منظوری سے غیر ضروری ہلاکتیں ہو رہی تھیں۔

    اسرائیلی ویب سائٹ ”وائی نیٹ نیوز“ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ چیف آف اسٹاف ایال زمیر کو اسور کے لب و لہجے پر مداخلت کرنی پڑی اور انہوں نے اسے ناقابل قبول قرار دیا اجلاس میں موجود ایک افسر کے بقول، ’اس سطح پر جنرلز کے درمیان ایسا تصادم پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

    چینی وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ کریں گے

    اس تنازعے کی جڑ وہ تباہ کن حکمت عملی ہے جسے جنوبی کمانڈ ’’حماس پر دباؤ‘‘ کا نام دے رہی ہے، مگر حقیقت میں اس بہانے غزہ کے شہریوں پر بدترین بمباری اور زمینی جارحیت جاری ہے آپریشن ”گیڈیونز چیریٹس“ کے آغاز میں اسرائیلی افواج نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ حماس کی قیادت کو ختم کر کے یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائیں گے تاہم، حقیقت یہ ہے کہ سینکڑوں فلسطینی شہری جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں، ان فضائی حملوں میں شہید ہو چکے ہیں، اور حماس نہ صرف قائم ہے بلکہ اپنی شرائط پر مذاکرات کر رہی ہے۔

    بین الاقوامی تنظیموں اور خود اسرائیلی فوج کے بعض حلقوں نے بھی جنوبی کمانڈ کی جارحانہ حکمت عملی پر تنقید کی ہے ایک اسرائیلی دفاعی افسر نے بتایا کہ ’اب یہ جنگ ابتدائی مرحلے سے مختلف ہو چکی ہے جنوبی کمانڈ کی فائر پالیسی اب حد سے تجاوز کر چکی ہے بعض اوقات معمولی درجے کے حماس ارکان کو نشانہ بنانے کے لیے درجنوں شہریوں کو مار دیا جاتا ہے۔

    سابق سینئر بیورو کریٹ جی ایم سکندر کی وفات،وزیراعظم کا اظہار افسوس

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ میجر جنرل اسور، جو اپنے پیش رو یارون فنکل مین کی سات اکتوبر کے بعد برطرفی کے نتیجے میں جنوبی کمانڈ کے سربراہ بنے، متعدد بار اعلیٰ فوجی حکام کے ساتھ محاذ آرائی کر چکے ہیں فوجی حلقے اب ان سے پیشہ ورانہ سطح پر بھی رابطے کم سے کم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ایک سابق اسرائیلی میجر کے مطابق، ’فوجی دستے مسلسل حملوں سے تھک چکے ہیں، کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو رہی، اور دشمن ہماری کمزوری محسوس کر رہا ہے۔‘

    اس تناؤ کو بڑھانے میں اہم کردار اس میڈیا بلیک آؤٹ کا بھی ہے جو غزہ میں جاری کارروائیوں کے دوران سیاسی حکم پر نافذ کیا گیا۔ آپریشن ”آئرن سوارڈز“ کو اب ”گیڈیونز چیریٹس“ کا نام دیا جا چکا ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ اسرائیلی افواج نہ حماس کو ختم کر سکیں، نہ یرغمالی واپس لا سکیں، اور نہ ہی عالمی حمایت برقرار رکھ سکیں۔

    اعظم سواتی کو پشاور ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا

  • 22ہزارامدادی ٹرک  غزہ میں داخل ہونے کیلئےاسرائیلی اجازت کےمنتظر

    22ہزارامدادی ٹرک غزہ میں داخل ہونے کیلئےاسرائیلی اجازت کےمنتظر

    غزہ : حکومتی میڈیا آفس نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے 22 ہزار سے زائد انسانی ہمدردی پر مبنی امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رکھا ہے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ان ٹرکوں میں زیادہ تر اقوام متحدہ، بین الاقوامی تنظیموں اور دیگر امدادی اداروں کی طرف سے بھیجی گئی اشیائے خورونوش، دوائیں اور دیگر ضروری امداد شامل ہےغزہ میڈیا آفس نے اس اقدام کو "بھوک، محاصرے اور افراتفری پر مبنی ایک منظم اسرائیلی پالیسی” کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی قابض افواج جان بوجھ کر ان ٹرکوں کو سرحدی داخلی راستوں پر روکے بیٹھی ہیں۔

    میڈیا آفس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ عمل ایک جنگی جرم ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اسرائیل کو اس انسانی بحران اور نسل کشی کے بڑھتے ہوئے اقدامات کا مکمل ذمہ دار قرار دیا گیا ہےاسرائیل کے ساتھ ساتھ وہ ریاستیں بھی اس جرم میں شریک ہیں جو خاموشی یا بالواسطہ مدد کے ذریعے اس پالیسی کا حصہ بنی ہوئی ہیں۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکی تعلقات کو نئی جہت دے رہے ہیں،برطانوی جریدہ

    غزہ میڈیا آفس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام رُکے ہوئے امدادی ٹرکوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر غزہ میں داخل ہونے دیا جائے، تمام سرحدی راستے کھولے جائیں اور عام شہریوں تک محفوظ امداد کی ترسیل یقینی بنائی جائے۔

    ادھرپاکستان کیجانب سے فلسطین کے لئے100 ٹن کی امدادی کھیپ روانہ کردی گئی ،امدادی سامان خصوصی پرواز کے ذریعے عمان اور اردن پہنچےگا،امدادی اشیا میں غذائی اور ادویات شامل ہیں،این ڈی ایم اے خصوصی پروازوں کے ذریعے200ٹن امدادی سامان فلسطین بھیجوائےگا،اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مظلوم فلسطینیوں کیلئے اشیائے ضروریہ کی بغیر رکاوٹ ترسیل چاہتے ہیں،فلسطینی عوام کو کھانے پینے کی اشیا بھیج رہے ہیں۔

    ملک کےمختلف حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

  • غزہ میں بھوک اور تکلیف دل دہلا دینے والی ہے، امریکی سینیٹر

    غزہ میں بھوک اور تکلیف دل دہلا دینے والی ہے، امریکی سینیٹر

    ڈیموکریٹ سینیٹر کوری بُکر نے امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ غزہ ہیومینٹیرن فاؤنڈیشن(جی ایچ ایف) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں عام شہریوں خصوصاً بچوں، خواتین اور بزرگوں کی تباہ کن بھوک اور تکلیف کا مشاہدہ دل دہلا دینے والا ہے، انہوں نے غزہ کے لیے امداد میں فوری اور بھرپور اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کوری بُکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’غزہ میں عام شہریوں خصوصاً بچوں، خواتین، بیماروں اور بزرگوں کی تباہ کن بھوک اور تکلیف کا مشاہدہ دل دہلا دینے والا ہے،فوری اور بھرپور انداز میں جان بچانے والے وسائل جیسا کہ اشد ضروری خوراک، پانی اور ادویہ، بشمول شدید غذائی قلت کا شکار افراد کے لیے خصوصی غذا کی فراہمی ناگزیر ہے، یہ ہماری اجتماعی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ امداد ان لوگوں تک پہنچے جنہیں اس کی فوری ضرورت ہے۔

    https://x.com/SenBooker/status/1949239126538224030

    کوری بُکر نے امریکی اور اسرائیلی حمایت یافتہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہو سکی۔

    کوری بُکر نے یہ بھی کہا کہ امداد حماس کے ہاتھوں میں نہیں جانی چاہیے، حالانکہ نیویارک ٹائمز نے ایک روز قبل رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی فوج کو کبھی اس بات کا ثبوت نہیں ملا کہ فلسطینی گروپ نے امداد ہتھیائی ہو’تاخیر کا ہر لمحہ انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنے گا اور بچوں، حاملہ خواتین اور دیگر شہریوں کی صحت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گا، ہمیں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لانی ہوں گی‘۔

  • غزہ کیلئے امداد لیجانے والے بحری جہاز کا رابطہ منقطع

    غزہ کیلئے امداد لیجانے والے بحری جہاز کا رابطہ منقطع

    غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے بین الاقوامی مشن کو ایک مرتبہ پھر شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

    فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ بیان کے مطابق غزہ کی پٹی پر اسرائیلی ناکہ بندی کو چیلنج کرنے والے امدادی جہاز ’ہندالہ‘ سے جمعرات کے روز تمام مواصلاتی رابطے اچانک منقطع ہو گئے ہیں جہاز کے اردگرد کئی ڈرونز کی موجودگی دیکھی گئی ہے، جس سے یہ اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ جہاز کو یا تو زبردستی روکا جا چکا ہے یا پھر اس پر کوئی حملہ کیا گیا ہے۔

    کولیشن نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے مقامی نمائندوں اور ذرائع ابلاغ سے رابطہ کریں تاکہ اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ ڈالا جا سکے اور امدادی مشن کے عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے تاحال اس بارے میں کوئی تصدیق سامنے نہیں آ سکی کہ ’ہندالہ‘ کہاں موجود ہے، اس کے عملے کی حالت کیسی ہے، یا اسرائیلی فورسز کی جانب سے کوئی کارروائی ہوئی ہے یا نہیں۔

    حماد اظہر کا عدالت کے سامنے سرینڈر کرنے کا فیصلہ

    یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسی فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی ایک اور کشتی ’میڈلین‘، جس میں مختلف ممالک کے 12 رضاکار سوار ہیں، غزہ کی طرف بڑھ رہی ہے ان رضاکاروں میں سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن بھی شامل ہیں۔

    کشتی 6 جون کو اطالوی جزیرے سسلی سے روانہ ہوئی اور اس وقت مصر کے ساحل کے قریب موجود ہے۔ کشتی میں علامتی امدادی سامان، جیسے چاول اور بچوں کا دودھ، بھی موجود ہے۔ فریڈم فلوٹیلا کے مطابق، یہ سامان محصور فلسطینیوں کی مدد کے لیے ہے اور مشن کا مقصد اسرائیلی محاصرے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کا پیغام دینا ہے۔

    ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس، چالان پراسیکیوشن برانچ میں جمع

    دوسری جانب، اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ انہوں نے فوج کو حکم دے دیا ہے کہ ’میڈلین‘ کو ہر صورت غزہ جانے سے روکا جائے ان کے الفاظ میں، ’گریٹا تھنبرگ اور ان کے ساتھی حماس کے حامی ہیں اور انہیں غزہ تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔‘

    اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی نیوی جلد اس کشتی کو روک کر اسے اسرائیل کے شہر اسدود کی بندرگاہ پر لے جائے گی، جہاں سے کشتی کے عملے کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔

  • نومنتخب آسٹریلوی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں فلسطین کی حمایت

    نومنتخب آسٹریلوی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں فلسطین کی حمایت

    آسٹریلیا کی نئی منتخب پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کے دوران فلسطین کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی گرینز کی ڈپٹی لیڈر سینیٹر مہرین فاروقی نے اٹارنی جنرل سیم موسٹن کی تقریر کے دوران احتجاجاً پلے کارڈ اٹھایا ہوا تھا،جس پر لکھا تھا کہ "غزہ بھوکا مر رہا ہے، الفاظ کافی نہیں، اسرائیل پر پابندی لگاؤ۔” متعدد ارکان بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔

    ہوم افیئرز کے وزیر ٹونی برک نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ ناقابل دفاع ہے، یرغمالیوں کو اب بھی رہا کیا جانا چاہیے لیکن جنگ کو ختم ہونا چاہیے حکو مت کی جانب سے ایک مشترکہ بیان خط کی صورت میں بھیجا گیا ہے جس میں غزہ کی صورت حال پر سخت مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔

    ایلیٹ فورس کا مقصد ایلیٹ کو تحفظ دینا نہیں بلکہ معاشرتی برائیوں کو ختم کرنا ہے،شہبازشریف

    دوسری جانب پارلیمنٹ کے باہر بھی سیکڑوں افراد جمع تھے جنھوں نے غزہ کے حق میں مظاہرہ کیا اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیاغزہ کے حق میں احتجاج کرنے والے مظاہرین میں کچھ نے پارلیمنٹ میں گھسنے کی کوشش بھی کی جس پر پولیس اہلکاروں نے درجن سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

    واضح رہے کہ حالیہ انتخابات میں لیبر پارٹی نے 150 رکنی ایوانِ نمائندگان میں سے 94 نشستیں حاصل کیں، جو 1996 کے بعد کسی بھی حکومت کی سب سے بڑی اکثریت ہےاپوزیشن جماعت لبرل پارٹی کو محض 43 نشستیں ملیں جبکہ باقی 13 نشستیں آزاد اور چھوٹی جماعتوں کے پاس ہیں،سینیٹ میں کسی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں، جہاں لیبر پارٹی کے 29، کنزرویٹو اپوزیشن کے 27، جبکہ گرینز کے 10 ارکان ہیں۔

    امریکی ویزے کیلئے نئی ”ویزا انٹیگریٹی فیس“ وصول کرنے کا فیصلہ

  • غزہ میں 35 دن کا نومولود  بھوک سے جان کی بازی ہار گیا

    غزہ میں 35 دن کا نومولود بھوک سے جان کی بازی ہار گیا

    غزہ کے الشفا اسپتال میں 35 دن کا ایک نومولود بچہ بھوک سے جان کی بازی ہار گیا۔

    اسرائیل کی جانب سے ایندھن اور امداد کی مسلسل ناکہ بندی کے باعث غزہ میں غذائی قلت سنگین صورت اختیار کر گئی ہے،غزہ کے الشفا اسپتال میں 35 دن کا ایک نومولود بچہ بھوک سے جان کی بازی ہار گیا اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہ بچہ ان دو افراد میں شامل ہے جو گزشتہ رات غذائی قلت کے باعث اسپتال میں دم توڑ گئے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حمایت یافتہ امدادی مراکز کو مقامی فلسطینیوں نے "موت کے جال” قرار دیا ہے کیونکہ وہاں سے خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں پر اسرائیلی فوج فائرنگ کرتی ہےغزہ کی وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز بھوک سے تڑپتے لوگوں سے بھر چکے ہیں، اور تقریباً 17,000 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام ( ڈبلیو ایف پی) نے بتایا کہ غزہ میں خوراک کی شدید قلت ہے اور ہر 3 میں سے ایک شخص کئی روز سےکھانے سے محروم ہے،اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (اونروا) نے کہا ہے کہ اُن کے پاس غزہ کی آبادی کے لیے خوراک موجود ہے تاہم اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے وہ امدادی سامان مصر کے راستے غزہ پہنچانے سے قاصر ہے۔

  • اٹلی سے غزہ کیلئے امدادی کشتی  “ہندالہ”  روانہ

    اٹلی سے غزہ کیلئے امدادی کشتی “ہندالہ” روانہ

    روم: اٹلی کے شہر سیراکوس سے فلسطینیوں کی حمایت میں ایک اور امدادی کشتی “ہندالہ” غزہ کے لیے روانہ ہو گئی۔

    عالمی میڈیا کے مطابق اٹلی سے روانہ ہونے والی کشتی میں تقریباً15 بین الاقوامی کارکن سوار ہیں۔ جو انسانی ہمدردی کے تحت ادویات، خوراک، طبی سازوسامان اور بچوں کا سامان لے کر روانہ ہوئے ہیں یہ مشن فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے تحت ترتیب دیا گیا ہے جس کا مقصد غزہ پر اسرائیلی ناکہ بندی توڑنا اور فلسطینیوں کو درپیش انسانی بحران کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔

    روانگی کے موقع پر بندرگاہ پر موجود افراد نے فلسطینی پرچم لہرا کر اور “فری فلسطین” کے نعرے لگا کر عملے کا استقبال کیا یہ کشتی بحیرہ روم میں ایک ہفتے کا سفر کرے گی اور تقریباً ایک ہزار 800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے غزہ کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کرے گیکشتی راستے میں اٹلی کے شہر گلیپولی میں رکے گی، جہا ں فرانس کی جماعت “فرانس انبوڈ” کے 2 ارکان بھی مشن میں شامل ہوں گے۔

    امریکی صدر کا روس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی

    یہ مشن اس کشتی “میڈلین” کے بعد سامنے آیا ہے جسے 6 ہفتے قبل اسرائیلی فوج نے غزہ پہنچنے سے قبل روک کر اس پر سوار افراد، بشمول معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو ملک بدر کر دیا تھافرانسیسی رکن پارلیمنٹ گیبریل کتھالا نے روانگی سے قبل کہا کہ یہ مشن غزہ کے بچوں کے لیے ہے۔ تاکہ موجودہ خاموشی کو توڑا جا سکے۔ اگر ہمیں روکا گیا تو یہ اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کی ایک اور خلاف ورزی ہو گی۔

    اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں جاری جنگ کے نتیجے میں اب تک 57 ہزار 882 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

    چیف جسٹس کا ملک کے ہر صوبے میں لاء کمیشن کے نمائندے تعینات کرنے کا اعلان

  • غزہ نسل کشی میں معاونت کا الزام، یورپی تنظیم کاٹرمپ کیخلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا مطالبہ

    غزہ نسل کشی میں معاونت کا الزام، یورپی تنظیم کاٹرمپ کیخلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا مطالبہ

    یورپی انسانی حقوق کی تنظیم یورو میڈیٹیرین ہیومن رائٹس مانیٹر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر غزہ میں نسل کشی میں معاونت کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    مانیٹرنگ گروپ کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کے دوران اسرائیلی حملوں میں 800 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت ہوئی، جن میں کئی کو امریکی نجی سکیورٹی کنٹریکٹرز اور اسرائیلی فوجیوں نے نشانہ بنایاٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو فوجی، مالی، سفارتی اور سیاسی مدد فراہم کی، جس نے غزہ میں جاری جنگ کو مزید خطرناک بنا دیا، یہ امداد نسل کشی میں معاونت کے زمرے میں آتی ہے، جس پر عالمی قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔

    مانیٹر کے مطابق امریکی سکیورٹی کنٹریکٹرز نے اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر غزہ میں امداد حاصل کرنے والے فلسطینیوں پر حملے کیے تنظیم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت اور انسانی حقوق اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹرمپ کو جوابدہ ٹھہرائیں اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔

  • اسرائیلی آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان شدید تلخ کلامی

    اسرائیلی آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان شدید تلخ کلامی

    اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر کے درمیان غزہ سے متعلق آئندہ کی فوجی حکمتِ عملی پر ایک بند کمرہ اجلاس میں جھگڑے اور تلخ کلامی کی اطلاعات ہیں۔

    العربیہ کے مطابق اسرائیلی آرمی نے جمعہ کے روز انکشاف کیا کہ فوج، وزیر اعظم اور وزراء کے درمیان غزہ میں جنگ جاری رکھنے کے طریقہ کار پر بنیادی اختلاف پیدا ہو گیا ہے نیتن یاہو نے چیف آف اسٹاف ایال زامیر پر کڑی تنقید کی ہے گزشتہ جمعرات کی شام نیتن یاہو کی دعوت پر ایک الجاس طلب ہوا جس میں چیخ و پکار ہوئی اور آوازیں بلند ہوگئی تھیں۔

    اجلاس میں دیگر مسائل کے علاوہ غزہ میں جنگ کو کیسے جاری رکھا جائے؟ جیسے سوالوں پر غور کیا گیا۔ یہ تبادلہ خیال کیا گیا کہ اگر اب معاہدہ نہ ہوا تو کیا ہوگا اور 60 روزہ جنگ بندی کا اعلان نہ ہوا تو غزہ کی پٹی میں اگلے اقدامات کیا اٹھائے جانے چاہیں۔

    چیف آف سٹاف نے وزیر اعظم اور وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فوج غزہ میں 20 لاکھ افراد کو کنٹرول نہیں کر سکتی یہ بات بھی ان بیانات کا حصہ تھی جس نے نیتن یاہو کو ناراض کیا اور اپنے ہی آرمی چیف پر برس پڑے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے آرمی چیف کو ہدایت دی کہ وہ غزہ کے بیشتر شہریوں کی جنوبی غزہ جبری منتقلی کا منصوبہ تیار کریں جس پر جنرل ایال زامیر نے جواب دیا کہ کیا آپ وہاں فوجی حکومت چاہتے ہیں؟ دو ملین لوگوں پر کون حکومت کرے گا؟”اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مبینہ طور پر غصے میں چیختے ہوئے جواب دیا کہ ہماری فوج اور ریاستِ اسرائیل۔

    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ میں وہاں فوجی حکومت نہیں چاہتا لیکن میں کسی بھی صورت حماس کو بھی نہیں چھوڑوں گا میں یہ ہرگز قبول نہیں کروں گا اگر فلسطینیوں کو جنوبی غزہ میں نہیں دھکیلا گیا تو پھر ہمیں پورے غزہ پر قابض ہونا پڑے گا اور جس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں اب تک فوجی کارروائی یرغمالیوں کو نقصان کے خدشے کی وجہ سے نہیں کی گئی، اگر انخلا کا منصوبہ نہ بنایا گیا تو ہمیں پورے غزہ پر قبضہ کرنا ہوگا، جس کا مطلب ہوگا یرغمالیوں کی ہلاکت میں ڈالنا اور میں یہ نہیں چاہتا، نہ ہی میں اس پر تیار ہوں۔

    اس کے جواب میں آرمی چیف زامیر نے خبردار کیا کہ ہمیں اس پر مزید بات کرنی ہوگی اس پر کوئی اتفاق نہیں ہوا اگر ہم بھوکے، غصے سے بھرے لوگوں پر قابو پانے کی کوشش کریں گے تو صورتحال ہاتھ سے نکل سکتی ہے اور وہ اسرائیلی فوج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوسکتے ہیں، تاہم نیتن یاہو اپنے آرمی چیف سے اختلا ف کرتے ہوئے حکم دیا کہ انخلا کا منصوبہ تیار کرو، میں جب امریکا سے واپس آؤں تو وہ منصوبہ میرے سامنے ہونا چاہیے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیلی وزرا الزام عائد کرچکے ہیں آرمی چیف حکومت کو غزہ میں ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دے رہے ہیں جو کہ ناقابل عمل ہے۔

  • غزہ میں مزید 138 فلسطینی شہید، امدادی مراکز پر شہادتوں کی تعداد 631 ہوگئی

    غزہ میں مزید 138 فلسطینی شہید، امدادی مراکز پر شہادتوں کی تعداد 631 ہوگئی

    اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر جاری بمباری کے نتیجے میں آج کے دن کم از کم 138 فلسطینی شہید اور 452 زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ امدادی مراکز پر حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 631 تک پہنچ گئی ہے۔

    قطری نشریاتی ادارے کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ صبح سے جاری اسرائیلی حملوں کے باعث درجنوں نہتے شہری شہید ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق 27 مئی سے اب تک غزہ میں خوراک اور امداد کے حصول کے منتظر فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 631 افراد شہید ہو چکے ہیں۔

    دریں اثنا، اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے کئی علاقوں میں رہائش پذیر شہریوں کو انخلا کا انتباہ جاری کر دیا ہے، جن علاقوں کے لیے وارننگ جاری کی گئی ہے ان میں شہر کا مشرقی اور مرکزی علاقہ شامل ہے، جہاں ناصر ہسپتال بھی واقع ہے۔

    غزہ کی موجودہ صورتحال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے، جبکہ شہریوں کو نہ صرف اسرائیلی بمباری کا سامنا ہے بلکہ خوراک، ادویات اور پناہ گاہوں کی شدید قلت بھی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے صورتحال کو سنگین انسانی بحران قرار دیا ہے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

    امریکہ ،پاکستانی شہری فرخ علی پر 65 کروڑ ڈالر ہیلتھ کیئر فراڈ کا الزام

    پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان 2 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے معاہدے

    حماس نے غزہ جنگ بندی تجویز پر جواب ثالثوں کے حوالے کر دیا

    گوگل کو جی میل اشتہارات پر فرانس میں 525 ملین یوروز جرمانے کا سامنا

    پاکستان کی الیکٹرانک وارفیئر میں برتری، بھارتی ڈپٹی آرمی چیف کا شکست کا اعتراف