Baaghi TV

Tag: غزہ

  • اسرائیل کے پھر ہسپتالوں پر حملے، اموات کی مجموعی تعداد 11 ہزار کے قریب

    اسرائیل کے پھر ہسپتالوں پر حملے، اموات کی مجموعی تعداد 11 ہزار کے قریب

    سات اکتوبر سے اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے، چار گھنٹے کی جنگ بندی کا گزشتہ روز اعلان اس لئے کر دیا گیا کہ فلسطینی اپنا علاقہ خالی کریں گے، حماس کا کہنا ہے کہ ایسی جنگ بندی منظور نہیں

    اسرائیلی بمباری سے اب تک 11 ہزار کے قریب اموات ہو چکی ہیں، مرنیوالوں میں 2918 خواتین اور چار ہزار سے زائد بچے بھی شامل ہیں،اسرائیل نے ہسپتالوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، اسرائیل کو شبہ ہے کہ ہسپتال حماس رہنماؤں کے لئے محفوظ ٹھکانے ہیں،ہسپتالوں پر بمباری کی وجہ سے مزید دو ہسپتال بند گئے ہیں،گزشتہ تین دنون‌ میں‌ تقریبا آٹھ ہسپتالوں‌پر بمباری کی گئی، سات اکتوبر سے اب تک تقریبا 18 ہسپتال بند ہیںَ،

    دوسری جانب اسرائیل کی حکمران جماعت نے صحافیوں کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے 7 اکتوبر کے حملوں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی حملہ آور قرار دیدیا ،اسرائیلی حکمران جماعت کے رکن اسمبلی اور اقوام متحدہ میں سابق اسرائیلی مندوب ڈینی ڈینن کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر کے روز اسرائیل پر حماس کے حملے کی ویڈیوز اور تصاویر بنانے والے صحافیوں کے نام بھی اسرائیلی خاتمے کی لسٹ میں شامل کیے جائیں گےیہ تمام لوگ بھی حملہ آور تصور کیے جائیں گے۔

    اسرائیلی حملوں کو ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا، غزہ کی پٹی میں پینے کا پانی تقریبا نوے فیصد ضائع ہو چکا ہے، حماس کے ترجمان باسم نعیم کا کہنا ہے کہ ہم غزہ میں جاری تباہ کن صورتحال میں احتیاط کرتے ہیں، جہاں پینے کے قابل پانی کا 90 فیصد ضائع ہو چکا ہے، جو شہریوں کو آلودہ یا بعض اوقات سمندری پانی استعمال کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔جو بیماریوں اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    غزہ پر ہمارا قبضے کا کوئی ارادہ نہیں ،اسرائیلی وزیراعظم کا یوٹرن
    اسرائیلی وزیراعظم نے غز ہ پر قبضے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم غزہ پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے، ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ہم حماس سے جنگ کے بعد غزہ پر قبضے یا حکومت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے،غزہ پر ہمارا قبضے کا کوئی ارادہ نہیں مگر غزہ میں کسی قابل اعتماد طاقت کی ضرورت ہے تاکہ حماس کے خطرے کو دوبارہ ابھرنے سے روکا جاسکے.

  • فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے پر غور کر رہے ہیں،بیلجئین وزیر

    فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے پر غور کر رہے ہیں،بیلجئین وزیر

    بیلجیئم کی وزیر برائے ترقیاتی تعاون کیرولین جینز نے کہا کہ بیلجیئم فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: عرب خبررساں ادارے "الجزیرہ” سے انٹرویو میں بیلجیئن وزیر نے کہا کہ ہماری حکومت فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے پرغورکر رہی ہےفلسطین میں پائیدار اور طویل مدتی امن حاصل کرنا ضروری ہے،غزہ میں جانے والی انسانی امداد میں اضافہ ہونا چاہیے، بیلجیئم فلسطین کے لیے 20 لاکھ یورو کی اضافی امداد دے رہا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بیلجیئم کی نائب وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ اب اسرائیل پر پابندیاں لگانے کا وقت ہے،انہوں نے اپنی حکومت پر زور دیا تھا کہ غزہ میں وحشیانہ کارروائیوں پر اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگائی جائیں اور غزہ میں اسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں پر بمباری کی تحقیقات بھی کی جائے۔

    غزہ میں روزانہ چار گھنٹے جنگ بندی پر اتفاق

    انہوں نے کہا تھا کہ بموں کی بارش غیر انسانی ہے اور غزہ میں جنگی جرائم کیے گئے ہیں، جبکہ اسرائیل جنگ بندی کے عالمی مطالبات کو بھی نظر انداز کر رہا ہے، اسی لیے میں وفاقی حکومت سے اسرائیل پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کرتی ہوں،یورپی یونین کو اسرائیل کے ساتھ وہ معاہدے فوری معطل کرنے چاہیے جو اقتصادی اور سیاسی تعاون کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے۔

    بیلجیئم کی نائب وزیراعظم نے کہا کہ فلسطین کے مقبوضہ خطوں میں تیار ہونے والی اسرائیلی مصنوعات کی درآمدات پر بھی پابندی عائد کی جائے جبکہ جنگی جرائم کرنے والے یہودی آبادی کاروں سیاستدانوں اور فوجیوں کی یورپی یونین میں آمد پر پابندی عائد کی جائے۔

    اسرائیلی بربریت کی حمایت،جوبائیڈن امریکہ میں عوامی حمایت کھونے لگے

  • غزہ میں روزانہ چار گھنٹے جنگ بندی پر اتفاق

    غزہ میں روزانہ چار گھنٹے جنگ بندی پر اتفاق

    غزہ:امریکہ اور اسرائیل نے غزہ میں روزانہ کی بنیاد پر چار گھنٹے جنگ بندی اتفاق کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ غزہ کے لوگوں کو 2 انسانی راہداریاں فراہم کی جائیں گی، اسرائیل نے یقین دہانی کرائی ہےکہ وقفےکے دوران کوئی فوجی کارروائی نہیں کرےگا، اسرائیل نے شمالی غزہ سے فلسطینی شہریوں کو نقل مکانی کی اجازت دینے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر چار گھنٹے لڑائی معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہےکہ غزہ میں یہ وقفے درست سمت کی جانب قدم ہے، غزہ میں مزید امدادی ٹرک جانے کے ضرورت ہے، روزانہ 150 امدادی ٹرک بھیجنا چاہتے ہیں امریکا اس وقت حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا حامی نہیں کیونکہ اس سے حماس نے جو کچھ 7 اکتوبر کو کیا تھا، اسے کرنے کی چھوٹ مل جائےگی۔

    دوسری جانب حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے ترجمان نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کا کسی قسم کا معاہدہ طے پایا ہےابھی بات چیت جاری ہے اور کوئی معاہدہ نہیں ہوا، اگر کوئی معاہدہ طے پایا تو اس کا واضح طور پر اعلان کیا جائےگا۔

    واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے دوران مزید 243 فلسطینی شہری شہید ہوگئے ہیں فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جارحیت سے مزید 243 فلسطینی شہید ہوئے، جس کے بعد 7 اکتوبر سے اب تک شہید ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار 812 ہوگئی ہے،بیان میں بتایا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی کارروائیوں کے دوران 95 خواتین اور 88 بچے شہید ہوئے۔

    سمندر کے اندر آتش فشاں پھٹنے سے ایک نیا جزیرہ بن گیا

    مجموعی طور پر غزہ میں اب تک 2918 خواتین اور 4412 بچے شہید ہو چکے ہیں،اس عرصے میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 26 ہزار 905 فلسطینی زخمی ہوئے،فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے طبی عملے کو ہدف بنانے کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے،مزید 2 اسپتال بند ہوچکے ہیں جس کے بعد مجموعی تعداد 18 ہوگئی ہے، غزہ کے 9 لاکھ رہائشی ادویات، پناہ گاہ یا تحفظ کے بغیر زندہ رہنے پر مجبور ہیں،مجموعی طور پر غزہ میں اب تک 2918 خواتین اور 4412 بچے شہید ہو چکے ہیں،اس عرصے میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 26 ہزار 905 فلسطینی زخمی ہوئے۔

    شاہد خاقان نے این اے 51 سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا عندیہ دے …

  • میوزک کنسرٹ پر اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے غلطی سےبمباری کی،اسرائیل کا اعتراف

    میوزک کنسرٹ پر اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے غلطی سےبمباری کی،اسرائیل کا اعتراف

    اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ 7 اکتوبر کو ہونے والے کنسرٹ میں اسرائیلی آپاچی ہیلی کاپٹر نے غلطی سے اپنے ہی اسرائیلیوں پر گولیاں برسائیں کیونکہ اُونچائی سے حماس کے مجاھدین اور اسرائیلی کنسرٹ میں جانے والوں میں فرق کرنا نامُمکن تھا۔

    سات اکتوبر کے حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، اس حملے کے بعد اسرائیل مسلسل غزہ پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے، سات اکتوبر کو حماس نے ہفتے والے دن حملہ کیا تو اسرائیل نے بھی جوابی کاروائی کی،اسرائیل میں ایک میوزک کنسرٹ جاری تھا جس پر حماس نے حملہ کیا، اور کئی افراد کو یرغمال بنایا تاہم اب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے اس میوزک کنسرٹ پر ہیلی کاپٹر سے شیلنگ کی تھی تو وہیں اسرائیلی فوج نے بھی گولیاں چلائیں تھیں جس سے ہلاکتیں زیادہ ہوئی ہیں،

    دی گرے زون کی جانب سے ایک رپورٹ مرتب کی گئی ہے، جس میں عینی شاہدین کے بیان بھی ریکارڈ کئے گئے ہیں، اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ حماس کے حملے میں میوزک کنسرٹ کے شرکاء کی موت ہوئی تا ہم اب عینی شاہدین کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے بمباری کی جس سے اموات ہوئیں، اسرائیل کا حماس کے بارے میں دعویٰ جھوٹا ثابت ہو رہا ہے،اسرائیل نے اس حملے کے حوالہ سے مکمل تفیصلات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے

    اسرائیل کی طرف سے غیر مصدقہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ حماس کے عسکریت پسندوں نے سات اکتوبر کو چالیس بچوں کے سر قلم کئے، اسرائیلی دعوے کو پروپیگنڈہ کہا جا رہا ہے، تاہم، گرے زون کے واقعات کا قریب سے جائزہ لینے پر ایک مختلف کہانی بیان کی گئی ہے،ایک جس میں اسرائیلی فوج خود متعدد شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ یہ تفصیلات نہ صرف اسرائیلی حکومت کے واقعات سے متصادم ہیں، بلکہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جنگ کے دوران اسرائیل کی لاپرواہی سے اسرائیلی آبادی میں نمایاں جانی نقصان ہوا۔

    اس کی تصدیق اسرائیلی شہری یاسمین پورات نے کی، جو بیری میں یرغمال بنائے جانے والے واقعہ میں بچ گئی تھی۔ اس نے بیان دیا کہ شدید جھڑپوں کے دوران، اسرائیلی اسپیشل فورسز نے "بلاشبہ” باقی تمام یرغمالیوں کو مار ڈالا،یاسمین کا کہنا تھا کہ حماس کے عسکریت پسندوں نے یرغمالیوں کے ساتھ "انتہائی انسانی سلوک” کیا تھا، جس کا مقصد صرف انہیں غزہ واپس لے جانا تھا،حماس کے لوگ ابھی کچھ یرغمالیوں کے پاس موجود تھے کہ اسرائیلی افواج نے عمارت پر حملہ کیا۔ اس نے اس دوران اپنے ساتھی کو گولی مار دیے جانے سے پہلے زمین پر زندہ دیکھا،

    مزید شواہد گواہ ڈینیئل ریچیل سے ملے ہیں، جس نے نووا میوزک فیسٹیول پر حماس کے حملے سے فرار ہونے کے بعدبیان ریکارڈ کروایا اور کہا کہ جب وہ محفوظ مقام پر گئے تو اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے براہ راست اس کی گاڑی پر گولی چلائی یہاں تک کہ اس نے عبرانی میں چیخ کر خود کو اسرائیلی بتایا۔

    اسرائیلی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ "پائلٹوں نے محسوس کیا کہ مقبوضہ چوکیوں اور بستیوں کے اندر یہ تمیز کرنے میں کافی دشواری تھی کہ کون دہشت گرد تھا اور کون فوجی یا شہری ،ہزاروں عسکریت پسندوں کے خلاف فائرنگ کی شرح پہلے تو زبردست تھی تا ہم صرف ایک خاص مقام پر، پائلٹوں نے حملوں کو کم کرنا شروع کر دیا اور احتیاط سے اہداف کا انتخاب کیا۔”

    اپاچی ہیلی کاپٹر کے پائلٹوں نے اہداف پر انٹیلی جنس کے بغیر مسلسل فائرنگ کرنے کا اعتراف کیا ہے، جب کہ ٹینک کے عملے کو گھروں پر گولہ باری کرنے کا حکم دیا گیا تھا، قطع نظر اس کے کہ اسرائیلی یرغمالی ممکنہ طور پر اندر ہوں۔ایک طاقتور دھماکہ خیز دھماکے سے تباہ ہونے والے گھر کے ملبے کے نیچے سے ملنے والی اسرائیلیوں کی لاشوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ٹینک کے گولوں کی وجہ سے دھماکہ ہوا اور اسرائیلی ٹینکوں نے ہی گولے برسائے، اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے فرار ہونے والے اسرائیلیوں پر بھی فائرنگ کی جنہیں وہ حماس کے بندوق بردار سمجھتے تھے۔

    ناقدین اب قیاس کرتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت کی جلی ہوئی لاشوں کی کچھ انتہائی خوفناک تصاویر اور "قابل شناخت جلی ہوئی لاشیں” درحقیقت اسرائیل کی طرف سے ہونے والی ہلاکتوں کی عکاسی کر سکتی ہیں۔ اسرائیلی حکام بین الاقوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے جلی ہوئی لاشوں کی تصاویر کا استعمال کر رہے ہیں لیکن جیسا کہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ امکان ہے کہ یہ خوفناک تصاویر حماس کے جنگجوؤں کی ہوں گی

    حماس کے حملے کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے ممکنہ طور پر شہری علاقوں اور گھروں پر اندھا دھند فائرنگ کا سہارا لیا، جس کے نتیجے میں بے شمار تعداد میں اسرائیلی ہلاکتیں ہوئی ہیں.

    اسرائیلی حملوں کو ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا، غزہ کی پٹی میں پینے کا پانی تقریبا نوے فیصد ضائع ہو چکا ہے، حماس کے ترجمان باسم نعیم کا کہنا ہے کہ ہم غزہ میں جاری تباہ کن صورتحال میں احتیاط کرتے ہیں، جہاں پینے کے قابل پانی کا 90 فیصد ضائع ہو چکا ہے، جو شہریوں کو آلودہ یا بعض اوقات سمندری پانی استعمال کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔جو بیماریوں اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے.

    نعیم نے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین اور اس کی انتظامیہ کو خاص طور پر غزہ شہر اور اس کے شمالی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے "انسانی تباہی” کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان علاقوں میں ایجنسی نے قبضے کے مطالبات کی تعمیل کی، اور لاکھوں باشندوں اور پناہ گزینوں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتی، انہیں پناہ، خوراک، پانی یا طبی دیکھ بھال کے بغیر چھوڑ دیا، باوجود اس کے کہ ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی،غزہ کے 2.3 ملین باشندوں کے پاس خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن کی کمی ہے اور حال ہی میں غزہ میں امدادی قافلوں کی اجازت دی گئی ہے

    اسرائیل نے گزشتہ تین دن میں غزہ کے آٹھ ہسپتالوں‌پر بمباری کی ہے،غزہ میں سرکاری میڈیا کے دفتر کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے جنگی طیاروں نے گزشتہ تین دنوں میں غزہ کی پٹی کے آٹھ اسپتالوں پر بمباری کی ہے۔اسرائیلی جارحیت نے 7 اکتوبر سے اب تک 18 ہسپتالوں کو خدمات سے محروم کر دیا ہے۔” اسرائیلی توپ خانے نے الشفا اسپتال کے صحن اور ناکہ بندی والے علاقے میں النصر اسپتال کے گیٹ پر گولہ باری کی۔ ہسپتالوں پر بمباری بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ایک جنگی جرم ہے،

    7 اکتوبر کو فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سرحد پار حملے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں کم از کم 10,569 فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جن میں 4,324 بچے اور 2,823 خواتین شامل ہیں۔ دریں اثنا، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 1,600 ہے۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اٹلی  اسپتال پر مبنی بحری جہاز غزہ  بھیجے گا،وزیر دفاع

    اٹلی اسپتال پر مبنی بحری جہاز غزہ بھیجے گا،وزیر دفاع

    روم: اٹلی کی جانب سے زخمی شہریوں کے علاج کے لیےغزہ کے قریب ایسا بحری جہاز بھیجا جائے گا جو اسپتال کے طور پر کام کرتا ہے۔

    باغی ٹی وی:”روئٹرز” کے مطابق اٹلی کے وزیر دفاع گیڈو کروسیٹو نے اعلان کیا ہے کہ 8 نومبر کو یہ خصوصی بحری جہاز غزہ کی جانب روانہ ہو جائے گا، اس بحری جہاز میں 170 افراد کا عملہ موجود ہوگا،جس میں 30 افراد طبی ہنگامی حالات کے لیے تربیت یافتہ ہیں،اٹلی کی جانب سے ایک فیلڈ اسپتال بھی غزہ بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

    خیال رہے کہ غزہ میں 33 روز سے جاری اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ساڑھے 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے،فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جارحیت سے مزید 214 فلسطینی شہید ہوئے، جس کے بعد 7 اکتوبر سے اب تک شہید ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار 569 ہوگئی ہے شہید افراد میں 4324 بچے، 2823 خواتین اور 649 معمر افراد بھی شامل ہیں 26 ہزار 475 فلسطینی زخمی ہوئے 193 طبی ورکرز شہید جبکہ 45 ایمبولینسوں کو نقصان پہنچا ہے۔

  • غزہ کے علاقے خان یونس کی سب سے بڑی مسجد میں بمباری

    غزہ کے علاقے خان یونس کی سب سے بڑی مسجد میں بمباری

    غزہ میں اسرائیل کے بلا اشتعال حملے جاری ہیں-

    باغی ٹی وی: غزہ کے علاقے خان یونس میں الناصر اسپتال سے صرف 100 میٹر کے فاصلے پر علاقے کی سب سے بڑی مسجد پر بنا کسی وارننگ کے اسرائیلی فضائیہ نے بمباری کردی، جس کے نتیجے میں مسجد مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    اس فضائی حملے میں پریشانی کی بات یہ ہے کہ مسجد ایک مصروف سڑک کے بیچ میں واقع ہے، یہ مرکزی سڑک اسپتال کے سائیڈ گیٹ کی طرف جاتی ہے اور ایک مصروف بازار بھی ہے جہاں بہت سے لوگ روزمرہ ضروریات کی خریداری کرتے ہیں مسجد کے ساتھ ہی ایک بیکری بھی ہے جہاں سینکڑوں لوگ روٹی کے لیے قطار میں کھڑے تھے بغیر وارننگ کے ہوئی اس فضائی حملے میں زخمی ہوئے اب تک درجنوں افراد کو اسپتالوں میں لایا جا چکا ہے، جبکہ شہادتیں بھی متوقع ہیں جن کی تعداد فی الحال نامعلوم ہے۔

    او آئی سی اجلاس میں حماس رہنماوں کو بھی بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان

    واضح رہے کہ غزہ میں 33 روز سے جاری اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ساڑھے 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے،فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جارحیت سے مزید 214 فلسطینی شہید ہوئے، جس کے بعد 7 اکتوبر سے اب تک شہید ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار 569 ہوگئی ہےشہید افراد میں 4324 بچے، 2823 خواتین اور 649 معمر افراد بھی شامل ہیں،اس عرصے میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 26 ہزار 475 فلسطینی زخمی ہوئے۔

    خیال رہے کہ 33 روز سے جاری اس جنگ کے باعث غزہ کے 15 لاکھ سے زائد افراد بے گھر بھی ہوچکے ہیں وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی بمباری میں 193 طبی ورکرز شہید جبکہ 45 ایمبولینسوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے،امریکی وزیر خارجہ

    دوسری جانب ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل فلسطین نامی این جی او نے بتایا کہ 1967 سے 7 اکتوبر 2023 سے قبل مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں جتنے بچے شہید ہوئے، اس دوگنا زیادہ بچے ایک ماہ کے دوران شہید ہوچکے ہیں، 1350 بچے ابھی بھی عمارات کے ملبے تلے موجود ہیں اور ان میں بیشتر ممکنہ طور پر شہید ہو چکے ہیں،ایک تخمینے کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے باعث روزانہ سو سے زائد فلسطینی بچے شہید ہو رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں صحت، نکاسی آب، صاف پانی اور خوراک تک رسائی جیسی بنیادی سہولیات دستیاب نہیں اور مکمل نظام منہدم ہونے کے قریب ہے،9 اکتوبر کو اسرائیل نے غزہ کی سرحدوں کو مکمل بند کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد خوراک، پانی، ایندھن اور ادویات کی سپلائی مکمل طور پر رک گئی تھی-

    فلسطین کی حمایت میں ریلی،یہودی شخص کی جھگڑے میں موت

    انسانی حقوق کے گروپس برسوں سے غزہ میں پانی کی قلت کے حوالے سے خبردار کرتے آرہے ہیں2021 میں گلوبل انسٹیٹیوٹ فار واٹر، انوائرمنٹ اینڈ ہیلتھ نے کہا تھا کہ غزہ میں دستیاب 97 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں مگر اب بجلی کی عدم دستیابی کے باعث پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس بھی بند ہوچکے ہیں جس کے باعث صاف پانی تک رسائی لگ بھگ ناممکن ہوگئی ہے۔

    4 نومبر کو اسرائیل نے شمالی غزہ میں پانی کے ایک ذخیرے اور پبلک واٹر ٹینک کو تباہ کر دیا تھا جس کے باعث پانی کی قلت بحران کی شکل اختیار کر گئی اس وقت زیادہ تر افراد آلودہ اور کھارا پانی پینے پر مجبور ہیں اور اس کے حصول کے لیے بھی گھنٹوں تک قطاروں میں لگنا پڑتا ہے۔

    اسرائیلی حملوں میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 7 نومبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ہر فرد کو روزانہ 50 سے 100 لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے، مگر غزہ میں ہر فرد کو اوسطاً محض 3 لیٹر پانی دستیاب ہے، جو پینے سمیت ہر مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،جب کسی فرد کو پانی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے تو سب سے پہلے گردوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور پھر دل متاثر ہوتا ہےبچوں کے لیے ڈی ہائیڈریشن جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے جبکہ بالغ فرد کو سر چکرانے، دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھنے اور دیگر مسائل کا سامنا ہوتا ہے اگر پانی بالکل دستیاب نہ ہو تو صحت مند فرد کے لیے بھی ایک ہفتے سے زیادہ زندہ رہنا ممکن نہیں ہوتا۔

    اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) کے مطابق 7 اکتوبر سے پہلے بھی غزہ کی 80 فیصد آبادی کو مناسب مقدار میں خوراک دستیاب نہیں تھی، اس وقت لگ بھگ 50 فیصد آبادی کو خوراک کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کے فلسطین میں کام کرنے والے ادارے کی امداد پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔

    فلسطینی صدر محمود عباس کے قافلے پر حملہ،ویڈیو

    7 اکتوبر سے قبل روزانہ اوسطاً 500 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوتے تھےمگر اب صورتحال بدل چکی ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق 21 اکتوبر سے اب تک محض 451 ٹرک غزہ میں داخل ہوئے ہیں، جن میں سے صرف 158 میں خوراک موجود تھی، 102 میں طبی سامان، 44 میں پانی یا صفائی سے متعلق مصنوعات، 32 میں عام اشیا اور 8 میں نیوٹریشن سپلائیز موجود تھیں کسی بھی ٹرک میں ایندھن موجود نہیں تھا کیونکہ اسرائیل اس کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں۔

    ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق غزہ میں خوراک کے ذخائر بمشکل 5 دن کے لیے کافی ہوں گے جبکہ زیادہ تر افراد کو خوراک دستیاب نہیں غزہ میں متعدد بیکریاں بند ہوچکی ہیں اور جو ابھی بھی فعال ہیں، وہ عام حالات کے مقابلے میں 6 گنا زیادہ سامان تیار کر رہی ہیں مگر وہاں سے روٹی یا دیگر سامان کے حصول کے لیے رہائشیوں کو گھنٹوں تک قطار میں انتظار کرنا پڑتا ہےایندھن اور گندم کی قلت کے باعث یہ بیکریاں بھی بند ہونے کے قریب ہیں۔

    حماس اور اسرائیل جنگ:یورپ میں اسلامو فوبیا کے واقعات میں اضافہ

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق کھانے کی کمی سے بچوں کی نشوونما تھم جاتی ہے اور جسمانی وزن میں کمی آتی ہے جس سے متعدد جسمانی اور ذہنی مسائل کا خطرہ بڑھتا ہےحاملہ خواتین کو مناسب غذا تک رسائی حاصل نہ ہو تو اسقاط حمل، قبل از وقت پیدائش یا بچوں میں پیدائشی نقص جیسے خطرات بڑھتے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق طبی مراکز پر اسرائیلی بمباری سے سب سے زیادہ خواتین اور بچے متاثر ہو رہے ہیں ادویات اور دیگر طبی سامان کی قلت کے باعث حاملہ خواتین کو مشکلات کا سامنا ہے اور اکثر مقامات پر بچوں کی پیدائش کے لیے آپریشن anesthesia کے بغیر کیے جا رہے ہیں اوسطاً روزانہ 180 بچوں کی پیدائش ہو رہی ہے اور طبی سہولیات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ماؤں اور نومولود بچوں کی ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔

    روس کا غزہ پر ایٹمی حملے سےمتعلق اسرائیلی وزیر کے بیان پرتحقیقات کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کے پناہ گزین مراکز میں نظام تنفس کے امراض، ہیضہ اور چکن پاکس کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں ڈبلیو ایچ او نے اب تک اسرائیلی بمباری کے باعث بے گھر ہونے والے افراد میں 22 ہزار 500 نظام تنفس کے انفیکشن جبکہ 12 ہزار ہیضہ کے کیسز رپورٹ کیے ہیں سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ڈاکٹر سرکے کو طبی آلات کی صفائی کے لیے استعمال کر رہے ہیں جبکہ سرجری کے لیے سوئی دھاگے کو استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

    غزہ کے سب سے بڑے شفا اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ طبی نظام منہدم ہونے کے قریب ہے اور جراثیموں سے پاک ماحول میں علاج کرنا ممکن نہیں رہا غزہ کا واحد کینسر اسپتال ایندھن دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو چکا ہے، شفا اور دیگر بڑے اسپتال بھی بند ہونے کے قریب ہیں مجموعی طور پر 7 اکتوبر سے اب تک غزہ کے 50 فیصد اسپتال جبکہ 62 فیصد طبی مراکز بمباری یا ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے بند ہوچکے ہیں۔

    بابا وانگا کی سال 2024 کے حوالے سے 7 پیشگوئیاں

  • فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے،امریکی وزیر خارجہ

    فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے،امریکی وزیر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ ختم ہونے کے بعد نہ تو اسرائیل غزہ کا کنٹرول سنبھالے گا اور نہ ہی حماس کو وہاں حکومت کرنے کی اجازت ہوگی۔

    باغی ٹی وی: بدھ کو جاپان میں ”جی 7“ وزرائے خارجہ مذاکرات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’غزہ سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے، نہ تو ابھی اور نہ ہی جنگ کے بعد۔ غزہ کو دہشت گردی یا دیگر پرتشدد حملوں کے لیے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا، تنازع ختم ہونے کے بعد غزہ پر دوبارہ قبضہ نہیں کیا جائے گا،غزہ کی ناکہ بندی یا محاصرہ کرنے کی کوشش‘ یا ’غزہ کے علاقے میں کسی قسم کی کمی‘ کے خلاف بھی خبردار کیا۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کو تجویز پیش کی کہ اسرائیل جنگ کے بعد غزہ میں سکیورٹی کا کنٹرول سنبھال لے گاتاہم، اگلے دن امریکی حکام نے کہا کہ صدر جو بائیڈن ’اسرائیلی افواج کے دوبارہ قبضے‘ کی حمایت نہیں کرتے۔

    فلسطین کی حمایت میں ریلی،یہودی شخص کی جھگڑے میں موت

    بلنکن نے واشنگٹن کے اس نظریے کو بھی دہرایا کہ غزہ کو حماس کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا، جو کہ اس وقت انکلیو پر حکومت کرتی ہےانہوں نے اسرائیل پر گروپ کے مہلک حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہایہ محض 7 اکتوبر دہرانے کی دعوت دینا ہوگا، اب، حقیقت یہ ہے کہ تنازعے کے اختتام پر کچھ عبوری دور کی ضرورت ہو سکتی ہے، ہمیں دوبارہ قبضہ نظر نہیں آتا اور جو میں نے اسرائیلی رہنماؤں سے سنا ہے، وہ یہ ہے کہ ان کا غزہ پر دوبارہ قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    اسرائیلی حملوں میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا

    منگل کو حماس نے امریکی بیانات کے جواب میں کہا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی میں حکمرانی کی مساوات کا حصہ نہیں بن سکتا کیونکہ انکلیو کی حکمرانی ایک ”خالص فلسطینی معاملہ“ ہے،حماس کےترجمان عبداللطیف القانو نے کہا کہ غزہ یا ہماری سرزمین پر حکومت کرنا فلسطینیوں کا معاملہ ہے اور کوئی بھی طاقت حقیقت کو تبدیل یا اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکے گی، حماس ایک قومی آزادی کی تحریک ہے اور ہر فلسطینی کے گھر میں رہتی ہے حماس ہمارے عوام کا ایک لازمی حصہ ہے اور اسے تمام قوانین اور رسم و رواج کے مطابق قبضے کے خلاف مزاحمت کا حق حاصل ہے-

    فلسطینی صدر محمود عباس کے قافلے پر حملہ،ویڈیو

  • اسرائیلی حملوں میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا

    اسرائیلی حملوں میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا

    یمن کے حوثی باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی اہداف کی طرف مسلح ڈرونز فائر کئے ہیں

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ ساری کا کہنا تھا کہ ڈرونز کی ایک کھیپ گزشتہ گھنٹوں میں حساس اسرائیلی اہداف پر فائر کی گئی ہے،اسرائیل میں نشانہ بنائے گئے مقامات پر نقل و حرکت روک دی گئی ہے لیکن اس حملے کی مزید وضاحت نہیں کی گئی ،ترجمان کا کہنا ہےکہ اسرائیل جب تک غزہ پر حملہ بند نہیں کرے گا ہم ڈرون حملے جاری رکھیں گے،اسرائیلی فوج کے ترجمان نے حوثیوں کے ڈرون حملوں کے حوالہ سے کوئی بات نہیں کی

    اسرائیل نے نصر ہسپتال، القدس اور کمال عدوان کے قریب بمباری کی
    واضح رہے کہ سات اکتوبر سے اسرائیل غزہ پر مسلسل بمباری کر رہا ہے، اسرائیلی حملوں میں10 ہزار سے زائد فسلطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے،اسرائیل گھروں، سکولوں، ہسپتالوں، مساجد، چرچوں پر بھی بمباری کر رہا ہے، اسرائیلی حملے میں کوئی بھی محفوظ نہیں، صحافیوں، اقوام متحدہ کے امدادی اہلکاروں کی جانیں بھی جا چکی ہیں، ایمبولینس گاڑیوں‌پر بھی بمباری کی گئی ہے، گزشتہ شب اسرائیل نے نصر ہسپتال، القدس اور کمال عدوان کے قریب بمباری کی، اسرائیل نے بچوں کے ہسپتال کو خالی کرنے کی دھمکی بھی دی ،اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ہسپتالوں میں حماس کے ٹھکانے ہیں اور وہ خودکو ہسپتالوں میں محفوظ سمجھتے ہیں،

    اسرائیلی حملوں کے بعد لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، اقوام متحدہ کے مطابق انکی 97 پناہ گاہوں میں تین لاکھ سے زائد بے گھر افراد موجود ہیں، چھ سو کے قریب افراد ایک بیت الخلا استعمال کرنے پر مجبور ہیں، پانی کی قلت ہے، صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بیماریاں پھیلنے کا بھی خدشہ ہے،

    اسرائیلی حملوں میں 222 سکول مکمل تباہ،56 مساجد شہید
    اسرائیل نے ایک ماہ میں تقریبا تیس ہزار ٹن بارود غزہ پر برسایا ہے،اسرائیلی حملے کے بعد پچاس فیصد ہسپتال، 62 فیصد طبی مراکز اسرائیلی بمباری یا ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے بند ہو چکے ،ایک ماہ میں 2 لاکھ سے زائد رہائشی عمارتوں کو اسرائیل نے نشانہ بنایا جس میں دس ہزار مکمل طور پر ملیا میٹ ہو چکی ہیں،اسرائیلی حملوں میں 222 سکول مکمل تباہ ، جبکہ ساٹھ تعلیمی ادارے جزوی تباہ ہونے کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں،اسرائیلی بمباری سے 56 مساجد شہید ہو چکی ہیں جبکہ 192 مساجد کو جزوی نقصان پہنچا ہے، تین گرجا گھر بھی ملیا میٹ ہو چکے ہیں

    دوسری جانب امریکا نے اسرائیل کے غزہ پٹی پر نئے طویل مدتی قبضے کے منصوبے کی مخالفت کی ہے،امریکی نیشنل سکیورٹی کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ امریکی صدرجو بائیڈن اسرائیل حماس جنگ کے خاتمے کے بعد اسرائیل کے غزہ پر طویل مدتی قبضے کے منصوبے کی حمایت نہیں کرتے، غزہ پر اسرائیل کا دوبارہ قبضے کاعمل درست عمل نہیں ہوگا,، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکا غزہ سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی حمایت نہیں کرتا ہمارا نقطہ نظر ہے کہ فلسطینیوں کو ان فیصلوں میں سب سے آگے ہونا چاہیےہم سمجھتے ہیں کہ غزہ فلسطینی سرزمین ہے امریکا غزہ پر دوبارہ قبضے کی حمایت نہیں کرتا،

    واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہونے کہا تھا کہ حماس کے ساتھ جنگ کے بعد اسرائیل غیر معینہ مدت کیلئے غزہ پٹی کی سلامتی کی مجموعی ذمہ داری سنبھالے گا

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    فلسطینی بچوں کی الشفا ہسپتال کے باہر عالمی دنیا کا ضمیر جگانے کے لئے پریس کانفرنس
    اسرائیلی بمباری میں غزہ میں بچوں کی بڑی تعداد شہید ہو چکی ہیں وہیں زندہ رہ جانے والے بچوں نے اسرائیلی بربریت کے خلاف پریس کانفرنس کی ہے،الشفا ہسپتال جس پر اسرائیل بمباری کر چکا ہے کے باہر فلسطینی بچوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پوری دنیا کے سامنے ہم پر بمباری کر رہا ہے، 10 سالہ بچے کا کہنا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے اور وہ ہمیں بمباری کے ساتھ ساتھ بھوکا مارنا چاہتا ہے،بچوں کا کہنا تھا کہ اسرائیل جھوٹا ہے وہ حماس سے نہیں لڑ رہا بلکہ شہریوں کا قتل عام کر رہا ہے، اسرائیلی حملے بچوں پر بھی ہو رہے ہیں،بچوں نے اپنی پریس کانفرنس کا اختتام امن، زندگی، تعلیم، علاج اور کھانے کے ساتھ اسرائیل سے بدلے کے مطالبہ کرتے ہوئے کیا.

    نیتن یاہو سات اکتوبر کی سکیورٹی ناکامی کے ذمہ دار ہیں، سابق اسرائیلی وزیراعظم
    اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے موجودہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے صیہونی ریاست کے لیے خطرہ قرار دے دیا، میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ کا کہنا تھا نیتن یاہو سات اکتوبر کی سکیورٹی ناکامی کے بعد سے نروس بریک ڈاؤن کی حالت میں ہیں،نیتن یاہو غیر معینہ مدت کیلئے غزہ کی سکیورٹی کا کنٹرول سنبھالنے کی تیاری کرکے غلط اندازہ لگا رہے ہیں وہ اب اسرائیل کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، غزہ کی سلامتی کی نگرانی کرنا اسرائیل کے مفاد میں نہیں ہے یہ ہمارے مفاد میں ہے کہ ہم 7 اکتوبر کے حملے سے پہلے کے مقابلے میں مختلف طریقے سے اپنا دفاع کر سکیں.

  • سلامتی کونسل کا اجلاس بے نتیجہ ختم،ایرانی صدر کی او آئی سی اجلاس میں شرکت متوقع

    سلامتی کونسل کا اجلاس بے نتیجہ ختم،ایرانی صدر کی او آئی سی اجلاس میں شرکت متوقع

    غزہ پر اسرائیلی بمباری کو ایک ماہ ہو گیا، دس ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے، اسرائیل جنگ بندی کی طرف نہیں جا رہا تو وہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اور اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا، جنگ بندی کے حوالہ سے قرارداد اجلاس میں منظور نہ ہو سکی

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس دو گھنٹے تک جاری رہا ، بند کمرے میں ہونے والے اجلاس میں اختلاف ختم نہ ہوئے اور اجلاس بغیر کسی قرارداد کے ختم ہو گیا، اجلاس میں امریکا کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وقفے کا مطالبہ کیا گیا تو دیگر اراکین نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا، اجلاس میں قرارداد منظور نہ ہونے پر فلسطینی نمائندے نے امریکا کو سیز فائر معاہدے میں رکاوٹ قرار دے دیا

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نےیرغمالیوں کی رہائی تک جنگ بندی کا امکان مسترد کردیا،ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حماس کے ساتھ جنگ کے بعد اسرائیل غزہ پٹی کی غیر معینہ مدت کے لیے سلامتی کی مجموعی ذمہ داری سنبھالے گا اس وقت حماس کی وجہ سے اسرائیل کے پاس سکیورٹی کی ذمے داری نہیں ہے،غزہ میں اس وقت تک جنگ بندی نہیں ہو گی جب تک حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جاتا،

    دوسری جانب او آئی سی کا فلسطین مسئلہ پر اجلاس اگلے ہفتے ہو گا، اجلاس میں ایرانی صدر کی شرکت متوقع ہے، پاکستانی نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ بھی او آئی سی اجلاس میں شریک ہوں گے،او آئی سی سربراہی کانفرنس میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی شرکت کے حوالہ سے ذرائع نے تصدیق کی کہ وہ شریک ہوں گے،سات برس بعد یہ ایرانی صدر کا دورہ سعودی عرب ہو گا.

    اسرائیلی بمباری سے غزہ میں دس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، شہدا میں بچوں اور خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے، کئی ممالک احتجاجا اسرائیل سے سفیر واپس بلا رہے ہیں، سلامتی کونسل اجلاس ہو چکے ہیں، اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل جنگ بندی کا مطالبہ کر چکے ہیں،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • جنوبی افریقہ نے بھی اسرائیل سے سفارتی عملے کو واپس بلالیا

    جنوبی افریقہ نے بھی اسرائیل سے سفارتی عملے کو واپس بلالیا

    جوہانسبرگ: غزہ میں جاری خوفناک جنگ کے بعد سے متعدد ممالک اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرچکے ہیں ، اب جنوبی افریقہ نے اسرائیل سے سفارتی عملے کو واپس بلالیاہے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق جنوبی افریقہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل سے اپنے سفارتی عملے کے تمام افراد کو واپس بلالیا ہے، جنوبی افریقہ کے وزیر خارجہ نالیدی پانڈور کے مطابق غزہ میں بچوں اور معصوم شہریوں کے قتل عام پر گہری تشویش ہے، جنوبی افریقی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اسرائیل کاردعمل اب اجتماعی سزا میں بدل چکا ہے ان کا ملک غزہ میں مکمل جنگ بندی کا بھی مطالبہ کرتا ہے،ہم فلسطینی علاقوں میں بچوں اور معصوم شہریوں کے مسلسل قتل عام پر انتہائی فکر مند ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ردعمل اجتماعی سزا بن گئی ہے،ہم نے محسوس کیا یہ ضروری ہے کہ ہم جنوبی افریقہ کی تشویش کا اشارہ دیتے ہوئے ایک جامع بندش (دشمنی) کا مطالبہ کرتے رہیں۔

    سعودی عرب کاتیل کی پیداوار میں 10 لاکھ بیرل یومیہ کمی جاری رکھنے کا …

    جنوبی افریقہ کی ایک وزیر خمبدزو انشاوہینی نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ تل ابیب میں موجود تمام سفارتی عملے کو مشاورت کے لیے پریٹوریا واپس بلایا جائے گا، یاد رہے کہ اس سے قبل اردن، بحرین، ترکیہ، چاڈ، ہنڈراس،بولیویا ، چلی اور کولمبیا بھی اسرائیل سے اپنے سفیروں کو واپس بلا چکے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے حماس کی سرنگوں تک پہنچنے کے لئے کتوں کا سہار ا لے …