Baaghi TV

Tag: غزہ

  • اسرائیلی فوج نے حماس کی سرنگوں تک پہنچنے کے لئے کتوں کا سہار ا لے لیا

    اسرائیلی فوج نے حماس کی سرنگوں تک پہنچنے کے لئے کتوں کا سہار ا لے لیا

    غزہ میں حماس کے ٹھکانے سرنگوں میں ہیں، اسرائیلی فوج کے لئے حماس کے ٹھکانوں تک پہنچنا ایک چیلنج ہے، اسرائیلی فوج نے اب ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے، حماس کے ٹھکانوں تک پہنچنے کے لئے کتوں کا سہارا لیا ہے

    اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حماس انسانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے، حماس لیڈر سرنگوں میں ہیں اور خود کو چھپا رکھا ہے، ایسے میں غزہ میں شہری مر رہے ہیں تا کہ حماس پروپیگنڈہ کر سکے کہ اسرائیلی حملوں میں شہری مارے جا رہے، ایسے میں حماس کے ٹھکانوں تک پہنچنے کے لئے اسرائیلی فوج نے کتوں کا استعمال کیا ہے،حماس نے کچھ یرغمالیوں کو بھی ان زیر زمین سرنگوں میں رکھا ہوا ہے

    اسرائیلی فوج کے حماس کی سرنگوں میں جانے والے کتوں کی ویڈیو سامنے آئی ہے،جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کتے سرنگ میں دوڑ رہے ہیں، اسی دوران وہ حماس کے اہلکاروں پر حملہ کرتے ہیں تو چیخ و پکار کی آوازیں بھی آتی ہیںَ،کتوں کے ساتھ اسرائیلی فوج نے کیمرے بھی نصب کر رکھے ہیں تا کہ سرنگوں کے اندرونی نظام کو مانیٹر کیا جا سکے،

    اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان اوفیر گینڈلمین نےبھی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں دکھایا گیا ہے کہ کتے کس طرح حماس کے ٹھکانوں‌تک پہنچے،کچھ لوگوں نے ویڈیو کے بارے میں سوال اٹھایا، لیکن موساد کے اکاؤنٹ نےردعمل دیا۔اور کہا کہ جنگ کے کتے

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    گزشتہ روز اسرائیل نے غزہ میں المغازی کیمپ پر فضائی حملہ کیا جس میں ترک خبر ایجنسی کے فوٹو گرافر محمد علاؤل کے 4 بچے، 4 بھائی اور ان کے بچے شہید ہو گئے، اسرائیلی بمباری میں اب تک 40 صحافیوں سمیت مختلف صحافتی اداروں سے تعلق رکھنے والے 60 کے قریب ملازمین شہید اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں

  • سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی قطر کے دورے پر پہنچے جہاں سراج الحق نے دوحہ میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ سے ملاقات کی اور فلسطین کے ایشو پر اپنی حمایت کا اعادہ کیا.ملاقات میں فلسطین کی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا، اس موقع پر حماس قیادت نے فلسطینیوں کےلیے آواز بلند کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق چار روزہ دورہ پر ایران پہنچ گئے، ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف کے مطابق سراج الحق ایران کے سیاسی ومذہبی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے، سراج الحق ایران کے رہنماؤں سے مسئلہ فلسطین پر تبادلہ خیال کریں گے، امیر جماعت امت کے اتحاد سے متعلق پروگرامز میں شرکت اور خطاب کریں گے،نائب امیر کے پی صابر اعوان، ڈائریکٹر امور خارجہ آصف لقمان قاضی امیر جماعت کے ہمراہ ہیں، سراج الحق کی غیر موجودگی میں لیاقت بلوچ قائم مقام امیر جماعت ہوں گے،

    دوسری جانب امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت اسلامی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے جاری سراج الحق کے بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکی صدر بائیڈن پچاسی سال کی عمر میں تل ابیب جا سکتا ہے تو اگر میں وزیراعظم ہوتا تو فلسطینی مسلمانوں کی مدد کے لیے غزہ ہوتا اور مسلمان حکم رانوں کو اکھٹا کر کے فلسطینی مسلمانوں کی پشت پر کھڑا کرتا۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • امریکہ نے جوہری میزائل آبدوز تعینات کر دی

    امریکہ نے جوہری میزائل آبدوز تعینات کر دی

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن غزہ پر بات چیت کے لئے غیر معمولی حالات میں ترکی پہنچ گئے ہیں. امریکی فوج نے یہ اعلان کرتے ہوئے غیر معمولی قدم اٹھایا ہے کہ اس نے خطے میں ایٹمی طاقت سے چلنے والی آبدوز بھیجی ہے۔

    اتوار کو دیر گئے، امریکی سینٹرل کمانڈ، نے کہا کہ ایک اوہائیو کلاس جوہری میزائل آبدوز خطے میں پہنچ گئی ہے – جوہری آبدوز کی پوزیشن کا ایک غیر معمولی عوامی اعلان جسے ایران کے لیے ایک پیغام کے طور پر دیکھاجا رہا ہے،ایٹمی میزائل آبدوز اسرائیل کے عام علاقے میں کہیں تعینات ہے۔امریکا پہلے ہی دو طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ بھیج چکا ہے

    دوسری جانب اسرائیلی فورسز نے مبینہ طور پر فلسطینی کارکن احد تمیمی کو گرفتار کر لیا ہے، جس نے 2018 میں نوعمری کے طور پر عالمی سرخیوں میں جگہ بنائی تھی جب اسے گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں فوجیوں کو تھپڑ مارنے کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ تمیمی کو مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے قریب نبی صالح کے گاؤں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس نے ایک انسٹاگرام پوسٹ میں مغربی کنارے کے آباد کاروں کے قتل کا مطالبہ کیا تھا۔اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر نے ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں تمیمی کی گرفتاری کو سراہتے ہوئے اسے "دہشت گرد” قرار دیا۔

    وائٹ ہاؤس نے کہا کہ نائب صدر کملا ہیرس پیر کے روز غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ رابطے کریں گی،وہیں سی آئی اے کے ڈائریکٹر بل برنز اتوار کو اسرائیل پہنچے ہیں، اور وہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور موساد کے سربراہے علاوہ دیگر لوگوں سے بات چیت کریں گے۔اس کے بعد ان سے خطے کے دیگر ممالک کا سفر متوقع ہے جہاں وہ انٹیلی جنس ہم منصبوں سے "غزہ کی صورتحال، یرغمالیوں کے لیے مذاکرات کی حمایت، اور ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے درمیان تنازع کو وسیع کرنے سے روکنے کے لیے جاری امریکی عزم سمیت” مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اسرائیلی بمباری کو ایک ماہ ہو گیا،دس ہزار کے قریب شہادتیں

    اسرائیلی بمباری کو ایک ماہ ہو گیا،دس ہزار کے قریب شہادتیں

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملےکے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری کو ایک ماہ ہو گیا، اسرائیلی بمباری سے غزہ میں دس ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں.

    عالمی دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، امریکہ جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے لیکن اسرائیلی وزیراعظم جنگ بندی کی طرف نہیں آ رہے، غزہ قبرستان بن چکا ہے، خوراک، پانی سب کچھ ناپید، ہسپتالوں میں بمباری سے ہسپتال بھی ملیا میٹ ہو گئے، تعلیمی اداروں پر بھی بم برسائے گئے،مساجد، چرچ بھی اسرائیلی بمباری سے محفوظ نہ رہے،اسرائیلی حملوں کی وجہ سے غزہ میں تیسری مرتبہ مواصلات اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے 9770 افراد میں سے 4800بچے شامل ہیں جب کہ 26 ہزار فلسطینی زخمی ہیں

    دوسری جانب امریکی سی آئی اے چیف ولیم برنس اسرائیل پہنچ گئے ہیں، وہ اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں کریں گے،

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہےکہ فلسطینی سرزمین کو 2 حصوں جنوبی اور شمالی غزہ میں تقسیم کردیا،اس کے علاوہ انہوں نے حماس کے خلاف اہم کامیابیوں کا دعویٰ بھی کیا، اسرائیلی بربریت کے جواب میں حماس کے تل ابیب پر راکٹ حملے کیے جارہے ہیں راکٹوں کو نشانہ بنانے والا آئرن ڈون کا میزائل خرابی کا شکار ہوگیا اور اسرائیل ہی میں گرگیا

    امریکی وزیر خارجہ جنہوں نے اسرائیل کا تیسرا دورہ کرنے کے بعد اردن میں عرب رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اسکے بعد ترکی پہنچ گئے انکا کہنا ہے کہ امریکا ایران سے جنگ نہیں چاہتا اور اپنے فوجیوں پر حملے برداشت نہیں کریں گے،انٹونی بلنکن نے عراق کا بھی دورہ کیا،سائپرس بھی گئے اور اب ترکی میں ہیں،امریکی وزیر خارجہ کی آمد سے قبل ترکی میں انکے خلا ف بھر پور مظاہرے کئے گئے

    گزشتہ روز اسرائیل نے غزہ میں المغازی کیمپ پر فضائی حملہ کیا جس میں ترک خبر ایجنسی کے فوٹو گرافر محمد علاؤل کے 4 بچے، 4 بھائی اور ان کے بچے شہید ہو گئے، اسرائیلی بمباری میں اب تک 40 صحافیوں سمیت مختلف صحافتی اداروں سے تعلق رکھنے والے 60 کے قریب ملازمین شہید اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس سے فلسطینی سیاسی جماعت الفتح کے رہنما رفت اولیان کو براہ راست انٹرویو کے دوران گرفتار کر لیا ، رفت اولیان مقبوضہ بیت المقدس میں اپنے گھر سے لائیو انٹرویو دے رہے تھے، اسرائیلی فوج نے توبس سے ایک خاتون صحافی کو بھی گرفتار کیا ہے،خاتون صحافی سمیہ سات ماہ کی حاملہ ہیں، انکو الفارع کیمپ سے حراست میں لیا گیا،

    اردن کی ملکہ رانیہ العبداللہ نے غزہ کی پٹی میں "تباہ کن انسانی صورت حال” کی مذمت کی اور تمام لوگوں سے فوری طور پر جنگ بندی کرنے کا مطالبہ کیا۔ملکہ رانیہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں،وہ علاقے بھی محفوظ نہیں ہیں جہاں اسرائیلیوں نے لوگوں کو پناہ لینے کے لیے کہا تھا۔ ملکہ رانیا نے نشاندہی کی کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ میں تقریباً 10,000 شہید ہو چکے ہیں،جس میں نصف بچے ہیں،

    زیادہ تر جنوبی سرحدی دیہاتوں میں الفا مواصلاتی نیٹ ورک کی مکمل بندش مسلسل دوسرے دن بھی جاری ہے۔ان علاقوں کے لوگوں نے وزیر مواصلات اور تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ نیٹ ورک کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کریں،

    غزہ، اردنی فیلڈ ہسپتال کو پیراشوٹ کے ذریعے امداد پہنچائی گئی
    غزہ میں اردن کے فیلڈ ہسپتال میں طبی سامان بھیجنے کے عمل کے لیے پیچیدہ لاجسٹک انتظامات کی ضرورت تھی، اور یہ آسان عمل نہیں ہے، پیر کے روز المبیدین نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اردن کےغزہ میں فیلڈ اسپتال کا مقام مشکل ہے لیکن جو چیز اردن کے لیے اہم ہے وہ غزہ کے لوگوں کے درد کو کم کرنا اور اس کی حمایت کرنا ، اسرائیل ہسپتالوں کے ارد گرد بمباری کر رہا ہے،

    شاہ عبداللہ دوم نے پیر کو کہا کہ مسلح افواج کے فضائیہ کے ارکان غزہ کی پٹی میں اردن کے فیلڈ ہسپتال کو فوری طبی اور دواسازی امداد پہنچانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔غزہ میں اردنی فیلڈ ہسپتال کو پیراشوٹ کے ذریعے امداد پہنچانے کا عمل مکمل کیا گیا ،

    حماس کے کمپاؤنڈ‌پر ہم نے قبضہ کر لیا، اسرائیلی فوج کا دعویٰ
    اسرائیلی فوج نے حماس کے ایک کمپاؤنڈ کا کنٹرول سنبھال لیا اور رات بھر کی کارروائی میں 450 سے زیادہ فضائی اہداف کو نشانہ بنایا،اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق نشانہ بنائے گئے کمپاؤنڈ میں مشاہداتی چوکیاں، تربیتی علاقے اور زیر زمین سرنگیں شامل ہیں،حماس کے کارکن بھی حملے کے دوران مارے گئے ہیں.

    اقوام متحدہ کے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔انہوں نے حماس کے 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کو "خوفناک” قرار دیا لیکن کہا کہ "غزہ میں اس سے بھی زیادہ شہریوں کی ہولناک ہلاکتیں ہوئی ہیں، اس کے بعدفلسطینیوں کو خوراک، پانی، ادویات، بجلی اور بجلی سے محروم کر دیا گیا ہے،

    ہمارے چالیس شہری مارے گئے اور سات لاپتہ ہیں، فرانس
    فرانسیسی وزیر اعظم نے پیر کو کہا کہ اسرائیل کے خلاف 7 اکتوبر کو حماس کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے چالیس فرانسیسی شہری مارے جا چکے ہیں۔جبکہ آٹھ لاپتہ ہیں انکے بارے میں امکان ہے کہ حماس نے انکو یرغمال بنایا ہوا ہے،پیرس نے پورے تنازع میں اسرائیل کی مضبوطی سے حمایت کی ہے، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے گزشتہ ماہ کے آخر میں اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل کا دورہ کیا تھا،

  • مولانا فضل الرحمان کی قطر میں  حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    مولانا فضل الرحمان کی قطر میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان حماس کے رہنماوں سے اہم ملاقاتوں کے لیے قطر پہنچ گئے،جہاں ان کی فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان وفد کے ہمراہ گزشتہ روز قطر پہنچے جہاں ان کی حماس رہنماؤں سے ملاقات میں مسئلہ فلسطین پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

    مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے موقع پر حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف متحد ہوجائے،حماس رہنما خالد مشعل نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین پر عرصہ دراز سے مظالم انسانی حقوق کے دعویداروں کے منہ پر طمانچہ ہے، مولانا فضل الرحمان پاکستان میں فلسطین کےسفیرکاکردار ادا کر رہے ہیں اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کے دعویداروں کے ہاتھ معصوم بچوں اور خواتین کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ اور سابق سربراہ خالد مشعل سمیت دیگر حماس قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے،جمعیت علمائے اسلام کے امیر قطر کے بعد ترکیہ کا دورہ کریں گے مولانا فضل الرحمان ترکیہ اور قطر کی حکومتی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے تاکہ جنگ بندی کرائی جاسکےمولانا فضل الرحمان غزہ میں پھنسے مظلوم فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل سمیت دیگر امور پر بھی عرب ممالک کی قیادت سے بات چیت کریں گے۔

    جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اسرائیل کے حملے کی زد میں آنے والے فلسطینیوں کی مدد کے لیے غزہ روانہ ہو گئے نجی خبررساں ادارے "جنگ” کے مطابق مولانا فضل الرحمان کسی بھی مسلم ملک کے پہلے مذہبی سیاسی رہنما ہیں جو جنگی علاقے کے سفر پر گئے ہیں مولانا فضل الرحمان کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھا گیا کیونکہ وہ تباہ حال لوگوں تک خاموشی سے پہنچ کر ان کی مدد کرنا چاہتے تھے، وہ اپنے ساتھ خوراک اور ادویات لے کر جا رہے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان کے قریبی ذرائع کے مطابق کراچی میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک بڑی ریلی سے خطاب کے بعد جسے طوفان الاقصیٰ مارچ اور سندھ امن کانفرنس کا نام دیا گیا تھا، مولانا اس منزل کی جانب روانہ ہوگئے جہاں سے وہ مظلوم لوگوں تک پہنچیں گے۔

    ذکا اشرف کو 3 ماہ کی توسیع مل گئی

    رپورٹ کے مطابق جب جے یو آئی ف کے ترجمان اسلم غوری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ مولانا فضل الرحمان غزہ کی طرف سفر کر رہے ہیں لیکن انہوں نے تفصیلات دینے سے گریز کیا۔

    سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا کے گھر پر چھاپہ

  • اسرائیلی فوج کا رات کی تاریکی میں غزہ پر حملہ،51 فلسطینی شہید سینکڑوں زخمی

    اسرائیلی فوج کا رات کی تاریکی میں غزہ پر حملہ،51 فلسطینی شہید سینکڑوں زخمی

    اسرائیلی فوج نے غزہ میں المغازی کیمپ پر رات کی تاریکی میں بڑا فضائی حملہ کردیا، حملے میں 51فلسطینی شہید جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ پر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے پانچویں ہفتے میں داخل ہو گئے،حملے کے بعد دھماکے بھی سنے گئے، المیغاذی کیمپ پر حملے میں 51 فلسطینی شہید ہوگئے، شہدا میں بچے بھی شامل ہیں، اسرائیلی افواج کی جانب سے سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کی پناہ گاہ بنے اقوام متحدہ کے الفخورا اسکول پر بھی بمباری کی گئی تھی۔

    فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں اور ایندھن کی قلت سے غزہ کے 16 اسپتالوں اور 32 طبی مراکز میں کام رک چکا ہے۔

    جنگ بندی کی امریکی کوششیں ناکام،بلنکن کو شرمندگی کا سامنا

    حماس نے بھی اسرائیل پر راکٹ برسا دیئے، اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم نے تل ابیب کے آسمان پر کئی راکٹوں کو نشانہ بنایاحماس کے مسلح ونگ، القسام بریگیڈز نے الشطی پناہ گزین کیمپ کے قریب اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ کی ویڈیو جاری کردی، فوٹیج میں اسرائیل ٹینک کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی جانب سے حماس کے القسام بریگیڈز کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، حماس کے مواصلاتی مرکز، بنکرز اور سرنگوں کے نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی فورس حماس کے چیف يحیٰ السینوار کو تلاش کرکے ختم کر دے گی، اسرائیلی حملوں میں حماس کے 12 کمانڈرز مارے گئے ہیں جبکہ اسرائیلی فورسز نےغزہ شہر کا مکمل گھیراؤ کر رکھا ہے۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں وقفہ حاصل کرنے پر پیش رفت ہوئی ہے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حملوں میں وقفے کے لیے اسرائیل سے بات چیت جاری ہے امریکی صدر نے جنگ میں وقفے سے متعلق تفصیلات نہیں بتائیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ نے عرب رہنماؤں کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا جنگ بندی سے حماس کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملے گا۔

    اسرائیل کی حمایت میں امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو کے دوران جنگ بند کرو کے …

    خیال رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک 3 ہزار 900 بچوں اور 2 ہزار 509 خواتین سمیت شہید فلسطینیوں کی تعداد 9 ہزار 488 ہو گئی ہے جبکہ 6 ہزار 360 بچوں اور 4 ہزار 891 خواتین سمیت زخمیوں کی تعداد 24 ہزار 158 سے تجاوز کر چکی ہےاب تک اسرائیلی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں 36 صحافی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں دوسری جانب 150 سے زائد میڈیکل اسٹاف جاں بحق اور 28 ایمبولینس تباہ ہو چکی ہیں جبکہ 50 سے زائد کو نقصان پہنچ چکا ہےاسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر سے اب تک اسپتالوں اور صحت مراکز پر 82 حملے کیے گئے ہیں،غزہ میں 16 اسپتال مکمل طور پر بند ہوچکے ہیں اور 32 طبی مراکز کا کام رک چکا ہے۔

    عرب میڈیا کی جانب سے اسرائیلی اعداد شمار کی بنیاد پر شائع ایک تخمینے کے مطابق غزہ میں ہر گھنٹے میں نصف تعداد میں بچوں سمیت 15 فلسطینی شہید ہو رہےہیں جبکہ اسرائیلی حملوں میں ہر گھنٹے زخمیوں کی تعداد 35افراد کا اضافہ ہو رہا ہے، ہر گھنٹے غزہ پر گرائے جانے والے بموں کی تعداد 42 ہے اور ہر گھنٹے 12 عمارتیں تباہ ہو رہی ہیں۔

    حماس کا اسرائیلی فوج پر حملہ، 6 ٹینکوں سمیت 9 فوجی گاڑیاں تباہ

  • جنگ بندی کی امریکی کوششیں ناکام،بلنکن کو شرمندگی کا سامنا

    جنگ بندی کی امریکی کوششیں ناکام،بلنکن کو شرمندگی کا سامنا

    امریکی وزیر خارجہ اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کے لئے متحرک ہیں، انٹونی بلنکن نے اسرائیلی حکام سے ملاقات کے بعد عرب رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے عرب وزراء خارجہ سے ملاقات کی، سعودی عرب، یو اے ای سمیت دیگر ممالک کے وزرا خارجہ اجلاس میں موجو د تھے،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے عرب رہنماؤں نے جنگ بندی کے لئے اور غزہ کی مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے تعاون طلب کیا ہے،امریکی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں عرب ممالک کا کردار اہم ہے،بلنکن نے عمان میں حکام سے ملاقاتیں کیں،انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ سے بھی ملاقات کی اور غزہ میں انسانی امداد فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا، اقوام متحدہ کے تقریبا 70 اہلکاروں کی اسرائیلی بمباری سے ہلاکت ہو چکی ہے، اقوام متحدہ کے پاس خوراک،ادویات کی کمی ہو چکی ہے،امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے عرب رہنماؤں سے ملاقات کی تو عرب رہنماؤں نے اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ فلسطینی عوام کو سزا نہ دی جائے،ایک طرف غزہ میں اسرائیلی بمباری جاری ہے ایسے میں امریکی وزیر خارجہ کو عربوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑا ہے، اسرائیل حماس کو کچلنے کے لئے چار ہفتوں سے مسلسل حملے کر رہا مگر اسے ناکامی ہوئی،عرب رہنماؤں کے ساتھ ملاقات میں امریکہ کے وزیر خارجہ کو غصےکی بڑھتی لہر کا سامنا کرنا پڑا،بلنکن نے غزہ میں جنگ بندی کی بات کی تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے اسکو رد کر دیاہے، عمان میں بلنکن کا کہنا تھا کہ امریکہ کا خیال ہے کہ ان تمام کوششوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر توقف کے ذریعے سہولت فراہم کی جائے گی

    مصری وزیر خارجہ سامح شکری، جن کا ملک غزہ کی پٹی سے وہاں جانے کے لیے امداد کے واحد راستے کے طور پر کام کر رہا ہے، نے "فوری اور جامع جنگ بندی” کا مطالبہ کیا۔

    حماس نے ہفتے کو دیر گئے کہا کہ غزہ سے دوہری شہریوں اور غیر ملکیوں کا انخلاء اس وقت تک معطل رکھا جا رہا ہے جب تک کہ اسرائیل کچھ زخمی فلسطینیوں کو رفح پہنچنے کی اجازت نہیں دیتا تاکہ وہ مصر میں ہسپتال میں علاج کے لیے سرحد عبور کر سکیں۔

    اسرائیلی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلوی نے ہفتے کے روز غزہ کے سب سے بڑے شہر کا محاصرہ مکمل کرنے کے بعدعلاقے کا دورہ کیا اور اسرائیلی فوجیوں سے ملاقات کی۔وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ کے اندر لڑ رہی ہیں۔اسرائیلی فوج غزہ شہر کو "حماس کا مرکز” کے طور پر بیان کرتی ہے، لیکن امدادی معاونت کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ڈیوڈ سیٹر فیلڈ نے کہا کہ شہر اور ملحقہ علاقوں میں 350,000 سے 400,000 کے درمیان شہری مقیم ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے 7 اکتوبر سے لے کر اب تک فلسطینی سرزمین پر 12,000 اہداف کو نشانہ بنایا ہے،

    امریکی وزیر خارجہ ترکی بھی جائیں گے اور ترک صدر سے ملاقات کر یں گے،ترکی نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلالیاہے،ترک وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل حملوں کے بعد ترکی نے پنے سفیر کو مشاورت کے بعد واپس بلایا ہے، ترکی میں موجود اسرائیلی سفیر بھی سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے اسرائیل واپس جا چکا ہے،غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد امریکی ملک ہونڈرورس،چلی، کولمبیا اپنے سفیر اسرائیل سے واپس بلا چکے ہیں،سفیر واپس بلائے جانے کے اقدام کا فلسطین نے خیر مقدم کیا اور کہا کہ دیگر ممالک سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ ایسے فیصلے کریں

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کوبین الاقوامی جرائم کی عدالت میں لے کر جائیں گے،صحافیوں سے گفتگو میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکیہ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کیلئے لکیرکھینچ دی ہے ان سے اب کوئی بات نہیں ہوسکتی، نیتن یاہو ناقابل بھروسہ ہیں نیتن یاہو جوکچھ کررہےہیں اس کی بائبل، توریت اورنہ ہی زبور اجازت دیتی ہے، نیتن یاہو اسرائیلی عوام کی حمایت کھوچکےہیں

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے کچھ دن قبل کے دورہ ایران کی خبر سامنے آئی ہے، اسماعیل ہنیہ نے دورہ تہران میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی،حماس کے عہدیدار اسامہ حمدان نے اسماعیل ہنیہ کے دورہ ایران کی مزید تفصیل نہیں بتائی

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حماس حملے کی ذمہ داری کیوں لینی چاہئے؟
    سات اکتوبر کو ہفتے کے دن حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا،اس حملے کو تقریبا چار ہفتے ہو چکے،حملے میں تقریبا 1400 اسرائیلی مارے جا چکے ہیں، سینکڑوں افراد کو حماس نے یرغمال بنا لیا، اب بھی حماس کے حملوں میں اسرائیلی فوجی جہنم واصل ہو رہے ہیں، دنیا جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی ہے تاہم اسرائیلی وزیراعظم جنگ بندی کی طرف نہیں جا رہے، یرغمالیوں کی رہائی کے لئے اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف تل ابیب میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں تاہم اسرائیلی وزیراعظم خاموش ہیں،

    یروشلم پوسٹ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو،انتہائی بے حس، لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں،حماس کے حملوں میں چودہ سو اسرائیلیوں کی جانیں گئیں لیکن نیتن یاہو نے کسی ایک شخص کے جنازے میں شرکت نہیں کی، سینکٹروں یرغمال بنائے گئے ابھی تک اسرائیلی وزیراعظم نے یرغمال بنائے گئے افراد کے اہلخانہ میں سے کسی ایک سے بھی ملاقات نہیں کی،حماس کے حموں میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے ان میں سے کئی اب بھی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں تا ہم نیتن یاہو نے کسی بھی زخمی کی ابھی تک عیادت نہیں کی،حماس کے مسلسل حملوں کے بعد اسرائیل میں 21 ہزار کے قریب افراد بے گھرہوئے لیکن اسرائیلی وزیراعظم نے کسی بھی بے گھر افراد کا حال تک نہیں پوچھا،نیتن یاہو نے یرغمال بنائے گئے افراد میں سے صرف 13 خاندانوں کے ساتھ دو ملاقاتیں کیں ،لیکن انکی رہائی کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا، 227 سے زائد افراد حماس کے قبضے میں ہیں، انکے خاندان اذیت کا شکار ہیں لیکن نیتن یاہو حملوں پر حملے کروا رہے ہیں

    یروشلم پوسٹ لکھتا ہے کہ نیتن یاہو کے پاس ابھی تک تین الفاظ ہیں: "میں ذمہ دار ہوں” – حماس کے حملے کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع سمیت فوجی حکام نے ناکامی کا سہرا اپنے سر لیا، اور کہا کہ ہم ناکام ہوئے،انٹیلی جنیس چیف، ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ،اوسی سدرن کمانڈ سمیت سب نے اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا،یہاں تک کہ وزیرخزانہ تک نے بھی کچھ انٹرویو میں کہا کہ حماس کے حملوں کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن اب الزام تراشی کا وقت نہیں،نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ ہم سب کو فی الوقت جواب دینے کی ضرورت ہے

    نیتن یاہو کس طرح ایک اور سانحے کا الزام اپنے سر لینے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میں ذمہ دار ہوں لیکن اسکے ساتھ ہی کہا کہ اسرائیل کے مستقبل کی سلامتی کے لیے،نیتن یاہو واضح کر رہے تھے کہ وہ ماضی کے لئے نہیں بلکہ مستقبل کی بات کر رہے ہیں،اور سوچ رہے ہیں کہ جنگ ختم ہونے کے بعد اگلے دن کیا ہو گا،نیتن یاہو کی اپنے دور حکومت میں ہونے والی ہر آفت سے دور رہنے کی ایک طویل تاریخ ہے، جن میں سے تازہ ترین 2021 میں ماؤنٹ میرون پر مہلک ہجوم کا کچلنا تھا، جس میں 45 افراد کی جانیں گئیں۔ گزشتہ سال اس آفت کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے سرکاری کمیشن کے سامنے اپنی گواہی میں وزیر اعظم سے پوچھا گیا تھا کہ ‘جو شخص گزشتہ 12 سالوں سے حکومت کا سربراہ تھا، کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ عوامی اور اخلاقی طور پر ذمہ دار ہیں؟ اس آفت کے لیے؟” اس پر نیتن یاہونے جواب دیا، "کسی کو اس چیز کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جس کو وہ نہیں جانتا تھا۔”

    اسی طرح کی ذہنیت میں، نیتن یاہو جنگ کے بعد کی انکوائری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، اور اس لیے وہ "میں ذمہ دار ہوں” کے الفاظ کہنے سے گریز کر رہے ہیں تاکہ یہ مخصوص الفاظ کبھی بھی کسی پروٹوکول میں ریکارڈ نہ ہوں۔ نیتن یاہو کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک، نتن ایشیل نے اس ہفتے صحافیوں کو ایک تفصیلی پیغام بھیجا جس میں براہ راست ذمہ داری اور وزارتی ذمہ داری کے درمیان قانونی فرق کی وضاحت کی گئی،پیغام میں کہا گیا کہ "اگر کوئی سپاہی محافظ ڈیوٹی کے لیے حاضر ہونے میں ناکام ہو جاتا ہے اور دہشت گرد آرمی بیس میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا تو کیا وزیراعظم ذمہ دار ہیں؟

    اگرچہ نیتن یاہو ذمہ داری لینے سے گریز کرتے ہیں، اور ناکامیوں کا جائزہ لینے کے لیے جنگ ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن اس کی سیاسی پروپیگنڈہ ٹیم پہلے دن سے ہی ناکامی کو دوسروں پر ڈالنے کی کوشش میں کام کر رہی ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق، جنگ کے آغاز پر، وزیر اعظم کی اہلیہ سارہ نے اپنے قریبی ساتھیوں کو ہدایت کی کہ وہ آئی ڈی ایف اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے سینئر رہنماؤں کے بیانات کے اقتباسات جمع کریں، دونوں عوامی ذرائع کے ساتھ ساتھ خفیہ سیکیورٹی میٹنگوں سے، جس میں انہوں نے خطرے کی شدت اور حماس کی صلاحیتوں اور ارادوں کو کم کیا۔ ان ذرائع کے مطابق، جن لوگوں کے بیانات اور گفتگو کو جانچنے کی ہدایت کی گئی تھی ان کی فہرست طویل ہے، اور اس میں آئی ڈی ایف کے موجودہ اور سابق چیف آف اسٹاف، جیسے بینی گانٹز اور گاڈی آئزن کوٹ شامل ہیں، جو دونوں اس وقت ہنگامی جنگ کا حصہ ہیں۔ماضی کے وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لاپڈ، وزرائے دفاع،اس طرح کے لوگ شامل ہیں جن کے بیانات کو دیکھا جا رہا ہے تا کہ کسی بھی طرح نیتن یاہو کو حماس کے حملوں کی ذمہ داری سے بچایا جا سکے اور اگر انکوائری ہو تو اس میں ان بیانات کو پیش کر کے فوج کی طرف اور انٹیلی جینس اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے جنہوں نے حماس کے حملوں‌کی وارننگ، اطلاع کو نظر انداز کیا .

    ترکی کے شہر استنبول میں اسرائیلی نمائش منسوخ کر دی گئی،
    اسرائیلی فنکاروں کے فن پاروں کی نمائش استنبول میں ہونا تھی جسے منسوخ کر دیا گیا ہے، ترک منتظمین نے اسرائیلی فنکاروں کو اس حوالہ سے آگاہ کر دیا ہے،سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے اسرائیلی فنکاروں کے فن پاروں کی نمائش منسوخ کی گئی ہے،اسرائیلی فنکار گور ایری کی نمائش "شکل دی بیوٹی” کو ہٹا دیا گیا، تاہم، طالبان کے زیر اقتدار افغانستان کی فنکارہ لیلا احمد زئی، جو فی الحال جرمنی میں مقیم ہیں ، نمائش کی جگہ پر موجود ہیں۔فینارو نے دی یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ "تمام ترک فنکار جن سے ہم ملے وہ ایک ساتھ کام کرنا چاہتے تھے۔ پچھلے دو سالوں میں ہم ترک فنکاروں کو یہاں اسرائیللائے تھے، جسے ترک ثقافتی اسٹیبلشمنٹ نے سراہا تھا۔

    اسرائیلی فنکاروں بوز کازمین، انجلیکا شیر، اور فینارو، اور حنان ابو حسین کے فن پارے اس وقت نمائش کے لیے پیش ہونا تھا،فینارو نے کہا، "اسرائیل اور اس کے فنکاروں کو اب تنہائی کا سامنا ہے،” ہمیں اپنی آواز سنانے اور اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لیے ہر موقع کا استعمال کرنا چاہیے۔

    اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کی تجویز پاگل پن ہے،ریپبلکن سینیٹر
    فلوریڈا کے ریپبلکن سینیٹر رک سکاٹ نے اسرائیل اورحماس کے درمیان جنگ بندی کے کسی بھی مطالبے کی مذمت کرتے ہوئے ایسی تجویز کو "پاگل اور خطرناک” قرار دیا۔سکاٹ نے حماس کے ایک اہلکار کی ایک ویڈیو پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ شیطانی دہشت گردانہ حملوں کو دہرائیں گے، جیسا کہ اکتوبر کے اوائل میں اسرائیلی شہریوں پر کیا گیا تھا، اس لیے جنگ بندی کا مطالبہ پاگل اور خطرناک ہے،‘‘ سکاٹ نے کہا۔ حماس کے ارکان دہشت گرد ہیں جو اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے اس گھناؤنے خطرے کو ختم کر دینا چاہیے۔‘‘

    اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنگ بندی کی تردید کی ہے کیونکہ اسرائیل غزہ میں حماس پرحملے جاری رکھے ہوئے ہے۔اسرائیل میں جنگ کے بارے میں، سکاٹ نے جی سیون ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اکتوبر کے ابتدائی دہشت گردانہ حملے کے لیے ایران پر پابندیاں لگائیں، جس میں مبینہ طور پر ایران کی پشت پناہی تھی۔سکاٹ نے ایک خط میں کہا کہ "ہم جانتے ہیں کہ حماس اور فلسطینی جہاد کے دہشت گردوں کی طرف سے معصوم شہریوں پر کیے جانے والے وحشیانہ حملوں کے پیچھے ایرانی حکومت کا ہاتھ ہے۔” "امریکہ اور ہمارے اتحادی اس حقیقت کو ایک سیکنڈ کے لیے نظر انداز نہیں کر سکتے۔”سکاٹ نے ستمبر میں امریکی-ایران قیدیوں کے تبادلے میں ایرانی حکومت کے 6 بلین ڈالر کے اثاثوں کو غیر منجمد کرنے پر بائیڈن انتظامیہ پر بھی تنقید کی ہے۔فلوریڈا کے سینیٹر نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی سب سے زیادہ "اسرائیل نواز” امریکی صدر قرار دیا تھا۔سکاٹ نے کہا، "امریکہ نےداعش کو شکست دی، امریکی سفارت خانے کو یروشلم میں اپنے صحیح گھر میں منتقل کیا.

    اسرائیلی ماں نے انکشاف کیا کہ اسکی بیٹی کو قتل کیا گیا اور شوہر کو لے جایا گیا
    ایک اسرائیلی ماں جس کی بیٹی کو حماس نے اس کے سامنے بے دردی سے قتل کر دیا تھا اور جس کے شوہر کو اغوا کر لیا گیا تھا، اس نے جو کچھ ہوا اس کا ایک ہولناک بیان شیئر کیا ہے۔خاتون نے فیس بک اکاؤنٹ پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ حماس نے جب حملہ کیا تو اسکے سامنے اسکی بیٹی کو قتل کیا گیا اور اسکے شوہر کو حماس اہلکار ساتھ لے گئے، وہ خاموش تھی لیکن اب خاموش نہیں رہ سکتی، اسرائیلی وزیراعظم میرے شوہر کو بازیاب کروائیں

    اسرائیل کا حماس رہنما کے گھر پر میزائل حملہ
    اسرائیل نے حماس کے رہنما کے گھر پر میزائل داغا ہے،حماس سے وابستہ الاقصیٰ ریڈیو نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے غزہ کے گھر پر میزائل داغا ،یہ واضح نہیں تھا کہ آیا اس کے خاندان کا کوئی فرد اس وقت گھر میں موجود تھا جب حملہ کیا گیا،حماس کے سیاسی سربراہ ہنیہ 2019 سے غزہ کی پٹی سے باہر ہیں، جو ترکی اور قطر کے درمیان مقیم ہیں۔دوسری جانب غزہ شہر کے شمال میں اسامہ بن زید بوائز اسکول میں، اسرائیلی ٹینک کی گولہ باری کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک ہوئے۔اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے "دہشت گردوں کا خاتمہ” کیا ہے اور گزشتہ روز شمالی غزہ میں سرنگوں کی تلاش کے دوران حماس سے تعلق رکھنے والے ہتھیار برآمد کیے ہیں۔اسرائیلی فوجیوں نے 15 عسکریت پسندوں کا مقابلہ کیا، ان میں سے کئی کو ہلاک کیا اور حماس کے تین مشاہداتی مراکز کو تباہ کر دیا،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    برسوں تک نیتن یاہو نے حماس کو سہارا دیا،ٹائمز آف اسرائیل کا دعویٰ
    برسوں سے، بنجمن نیتن یاہو کی زیرقیادت مختلف حکومتوں نے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جس نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے درمیان طاقت کو تقسیم کر دیا – فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور ایسی حرکتیں کیں جس سے حماس گروپ کو تقویت ملی۔خیال یہ تھا کہ عباس یا فلسطینی اتھارٹی کی مغربی کنارے کی حکومت میں شامل کسی اور کو فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف پیش قدمی سے روکا جائے۔اس طرح، عباس کو نقصان پہنچانے کی اس کوشش کے دوران، حماس کو محض ایک عسکری گروپ سے ایک ایسی تنظیم میں تبدیل کر دیا گیا جس کے ساتھ اسرائیل نے مصر کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کیے، اور جس کو بیرون ملک سے نقد رقم وصول کرنے کی اجازت تھی۔
    حماس کو اسرائیل نے غزہ کے مزدوروں کو دیے گئے ورک پرمٹ کی تعداد میں اضافے کے بارے میں بات چیت میں بھی شامل کیا، جس سے غزہ میں پیسہ بہایا جاتا رہا،

    اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ یہ اجازت نامے، جو غزہ کے مزدوروں کو انکلیو سے زیادہ تنخواہیں حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں، امن برقرار رکھنے میں مدد کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہیں۔ 2021 میں نیتن یاہو کی پانچویں حکومت کے خاتمے کے بعد، تقریباً 2,000-3,000 ورک پرمٹ غزہ کے باشندوں کو جاری کیے گئے تھے۔ یہ تعداد 5,000 تک پہنچ گئی اور بینیٹ لیپڈ حکومت کے دوران تیزی سے بڑھ کر 10,000 تک پہنچ گئی۔جنوری 2023 میں نیتن یاہو کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد، ورک پرمٹس کی تعداد تقریباً 20,000 تک پہنچ گئی ہے۔

    مزید برآں، 2014 کے بعد سے، نیتن یاہو کی قیادت والی حکومتوں نے غزہ سے آگ لگانے والے غباروں اور راکٹ فائر کی طرف عملی طور پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔دریں اثنا، اسرائیل نے پٹی کے حماس کے حکمرانوں کے ساتھ اپنی نازک جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے، 2018 سے لاکھوں قطری نقدی رکھنے والے کو اپنی کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔

    زیادہ تر وقت، اسرائیلی پالیسی فلسطینی اتھارٹی کو بوجھ اور حماس کو اثاثہ سمجھتی تھی۔ انتہائی دائیں بازو کے MK Bezalel Smotrich، جو اب سخت گیر حکومت میں وزیر خزانہ اور مذہبی صیہونیت پارٹی کے رہنما ہیں، نے 2015 میں خود ایسا کہا تھا۔

    مختلف رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے 2019 کے اوائل میں ایک اجلاس میں بھی ایسا ہی نقطہ نظر پیش کیا تھا، جب ان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ جو لوگ فلسطینی ریاست کی مخالفت کرتے ہیں انہیں غزہ میں رقوم کی منتقلی کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ فلسطینی اتھارٹی کے درمیان علیحدگی کو برقرار رکھنے کے لیے وہ غزہ میں ہیں۔ مغربی کنارے اور غزہ میں حماس فلسطینی ریاست کے قیام کو روکیں گے۔اگرچہ نیتن یاہو اس قسم کے بیانات عوامی یا سرکاری طور پر نہیں دیتے ہیں، لیکن ان کے الفاظ اس پالیسی کے مطابق ہیں جو انہوں نے نافذ کی تھی۔اسی پیغام کو دائیں بازو کے مبصرین نے دہرایا، جنہوں نے اس معاملے پر بریفنگ حاصل کی ہو یا لیکوڈ کے اعلیٰ افسران سے بات کی اور پیغام کو سمجھا۔

    اس پالیسی سے تقویت پا کر، حماس مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا، اسرائیل کا "پرل ہاربر”، جو اس کی تاریخ کا سب سے خونریز دن تھا – جب عسکریت پسندوں نے سرحد پار کی، سینکڑوں اسرائیلیوں کو ذبح کیا اور ہزاروں راکٹوں کو برسایا.بڑی تعداد میں شہریوں کو اغوا کر لیا۔

    ابھی چند روز قبل، کان پبلک براڈکاسٹر کے ایک رپورٹر اسف پوزیلوف نے مندرجہ ذیل ٹویٹ کیا: "اسلامک جہاد تنظیم نے سرحد کے بالکل قریب ایک شور مچانے والی مشق شروع کی ہے، جس میں انہوں نے میزائل داغنے، اسرائیل میں گھسنے اور فوجیوں کو اغوا کرنے کی مشق کی۔ ”

    اسلامی جہاد اور حماس کے درمیان فرق اس وقت زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ جہاں تک ریاست اسرائیل کا تعلق ہے تو یہ علاقہ حماس کے کنٹرول میں ہے اور وہاں کی تمام تر تربیت اور سرگرمیوں کی ذمہ دار وہی ہے۔حماس مضبوط ہو گئی اور اس نے امن کے ان خوابوں کو استعمال کیا جس کے لیے اسرائیلی اس کی تربیت کے لیے بہت زیادہ ترس رہے تھے، اور سینکڑوں اسرائیلیوں نے اس بڑے پیمانے پر کوتاہی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔اسرائیل میں شہری آبادی پر ہونے والی دہشت گردی اس قدر زبردست ہے کہ اس سے لگنے والے زخم برسوں تک مندمل نہیں ہوں گے، یہ ایک چیلنج غزہ میں اغوا ہونے والے درجنوں افراد کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہے۔

    نیتن یاہو نے گزشتہ 13 سالوں میں جس طرح سے غزہ کا انتظام کیا ہے، اس سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ آگے جا کر کوئی واضح پالیسی ہو گی۔

  • پتھر دل والے لوگ ہی غزہ کی تباہی پر خاموش رہ سکتے ہیں،روسی صدر

    پتھر دل والے لوگ ہی غزہ کی تباہی پر خاموش رہ سکتے ہیں،روسی صدر

    ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ پتھر دل والے لوگ ہی غزہ کی تباہی پر خاموش رہ سکتے ہیں-

    باغی ٹی وی: روسی صدر پیوٹن نے بیان میں کہا کہ غزہ میں خون آلود بچوں کی تصاویر دیکھ کرآنسو آ جاتے ہیں اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں فلسطین میں جاری بمباری فوری طور پر نہ روکی گئی تو اشتعالروس انگیزی میں اضافہ ہو سکتا ہےجو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے اس پر چنگاری لگانا بہت آسان ہےاگر کسی کو غزہ کے واقعات کا احساس نہیں ہوتا تو اس کے سینے میں دل نہیں پتھر ہے اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ برائی کی جڑ کہاں ہے اور اس برائی نے کیسے جنم لیا۔

    دوسری جانب فرانس غزہ کیلئے عالمی انسانی کانفرنس کی میزبانی کرے گاسفارتی ذرائع کا بتانا ہےکہ فرانس 9 نومبر کو غزہ میں شہری آبادی کے لیے ایک بین الاقوامی انسانی کانفرنس کی میزبانی کرے گافرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بھی غزہ کیلئے عالمی انسانی کانفرنس کی میزبانی کی تصدیق کی ہے۔

    میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ یہ کانفرنس سربراہان مملکت، حکومت اور وزرائے خارجہ کی سطح پر ہوگی جس میں روس کو چھوڑ کر کلیدی علاقائی اسٹیک ہولڈرز مصر، اردن، خلیجی و عرب ممالک کے ساتھ ساتھ مغربی، یورپی طاقتوں اور جی20 ممبران کو بھی مدعو کیا جائے گا،کانفرنس میں اقوام متحدہ اور عرب لیگ سمیت بین الاقوامی ادارے اور غزہ میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں بھی شریک ہوں گی،کانفرنس میں فلسطین کی انتظامیہ بھی شریک ہوگی جب کہ اسرائیل کو مدعو نہیں کیا جائے گا۔

    سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ فرانس کانفرنس کے ذریعے محصور فلسطینیوں کے لیے امداد کو مربوط کرنا چاہتا ہے، کانفرنس میں فلسطین کے لوگوں کیلئے انسانی امداد بھیجنے کے حوالے سے گفتگو کی جائے گی جب کہ فلسطین کو بجلی، پانی اور ایندھن کی سپلائی کے مسائل بھی زیر غور لائے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 3 ہزار 826 بچوں اور 2 ہزار 405 خواتین سمیت شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 9 ہزار 227 ہوگئی ہے۔

  • اسرائیل کی حمایت میں امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو کے دوران جنگ بند کرو کے نعرے

    اسرائیل کی حمایت میں امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو کے دوران جنگ بند کرو کے نعرے

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی، امریکی سینیٹ کمیٹی میں سیو فلسطین کے نعرے لگ گئے

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے امریکی سینیٹ کمیٹی میں اسرائیل کی حمایت میں بات کی تو اراکین پھٹ پڑے،امریکی وزیر خارجہ کے خطاب کے دوران سیو فلسطین اور جنگ بند کرو، کے نعرے لگائے گئے، امریکی وزیر خارجہ تقریر کرتے کرتے چپ ہو گئے، نعرے لگتے رہے تو سیکورٹی اہلکار متحرک ہوئے اور نعرے لگانے والوں کو ہال سے باہر نکالا

    اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکا غزہ میں قتل عام کی حمایت بند کرے، 66 فیصد امریکی شہری جنگ نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں،ایک نوجوان لڑکی کا کہنا تھا غزہ کے لوگ جانور نہیں انسان ہیں

    امریکی وزیر خارجہ کی تقریب کے دوران احتجاج کا یہ واقعہ واشنگٹن ڈی سی کیپیٹل ہل میں 31 اکتوبر کو پیش آیا تھا جس کی خبر آج سامنے آئی.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    امریکی وزیر خارجہ نے سات اکتوبر کے بعد گزشتہ روز تیسری بار اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں کیں، امریکہ جنگ بندی چاہتا ہے تا ہم حماس اسکے لئے مشروط طور پر تیار ہے، اسرائیل امریکی شہہ کی وجہ سے جنگ بندی نہیں کر رہا،اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حماس نے جن افراد کو یرغمال بنایا ہوا ہے انکی رہائی تک جنگ بندی نہیں ہو گی،امریکی وزیر خارجہ نے غزہ میں معصوم شہریوں کے تحفظ کے حوالہ سے بات چیت کی،

    دوسری جانب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، مصر، اور قطر کے وزرائے خارجہ آج عمان میں امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے

  • الشفا ہسپتال پر اسرائیلی حملہ،ایمبولینس میں اسلحہ منتقل کیا جا رہاتھا،اسرائیلی دعویٰ

    الشفا ہسپتال پر اسرائیلی حملہ،ایمبولینس میں اسلحہ منتقل کیا جا رہاتھا،اسرائیلی دعویٰ

    سات اکتوبر سے اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے، اسرائیل نے القدس ہسپتال کے گردونواح میں بمباری کے بعد غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری کر دی،

    اسرائیل نے الشفا ہسپتال پر بمباری کا خود اعتراف کیا اور کہا کہ حماس کے دہشت گردوں کو ہسپتال میں نشانہ بنایا تاہم فسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل نے زخمیوں کو لے جانی والی ایمبولینس گاڑیوں کو نشانہ بنایا،ایمبولینس گاڑیاں زخمیوں کو لے کر جا رہی تھی کہ انکو اسرائیل نے نشانہ بنایا جس میں بڑی شہادتیں ہوئی ہیں.اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایمبولینس گاڑیوں میں حماس جنگجو اور اسلحہ منتقل کیا جا رہا ہے، اسرائیل ابھی تک اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لئے کوئی شواہد پیش نہیں کر سکا

    غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ کا کہنا ہے کہ الشفا ہسپتال پراس وقت حملہ کیا گیا جب شدید زخمی مریضوں کو ایمبولینس گاڑیوں پر مصر سے متصل رفح کراسنگ منتقل کررہے تھے،ہم نے ہلال احمر کو مطلع کیا، ہم نے پوری دنیا کوبتایا کہ جن پر حملہ کیا گیا وہ متاثرین ان ایمبولینسوں میں قطار میں کھڑے تھے،اسرائیل نے النصر ہسپتال پر بھی بمباری کی ہے

    سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں دس ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، چار ہزار کے قریب بچے بھی شہدا میں شامل ہیں، زخمیوں کی تعداد 32 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں جن میں چھ ہزار سے زائد بچے اور پانچ ہزار خواتین ہیں،

    اسرائیل سکولوں، ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنا چکا، اب تک اسرائیل کی بمباری سے 136 طبی ورکرز کی موت ہو چکی جبکہ 35 ایمبولینس گاڑیاں تباہ ہو چکی ہیں،اسرائیل نے 126 طبی مراکز پر 50 حملے کئے

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایمبولینسز پر اسرائیل کے حملوں پر خوف کا اظہا رکیا اور کہا کہ الشفا اسپتال کے باہر ایمبولینس کے قافلے پر اسرائیلی حملے سے انتہائی خوف زدہ ہوں،ہسپتال کے باہر لاشوں کو پڑے ہوئے دیکھنا بہت خوفناک ہے،ایمبولینس گاڑیوں کونشانہ بنانے پر عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ طبی عملے کو تحفظ ملنا چاہئے،

    سابق یونانی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں ایمبولینس پرحملہ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے ایمبولینس پر حملےکے بعد کوئی اسرائیل پر جنگی جرائم عائد کرنے کیلئےعالمی فوجداری عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائےگا

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    نہتی عام آبادی، ایمبولنسز، سکولوں ، بیماروں، بچوں اور خواتین پر بم برسانا پرلے درجے کی بزدلی ہے،شہباز شریف
    سابق وزیراعظم، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے غزہ میں عالمی نیوز ایجنسی کے دفتر پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا پر حملے سچائی اور اسرائیل کے قتل عام کو دنیا تک پہچنے سے روکنے کی مجرمانہ کوشش ہے ، ثابت ہوا کہ ظالم اور قابض صیہونی ریاست صرف مسلمانوں ہی نہیں، سچائی اور اختلاف کی ہر آواز کی دشمن ہے ،ناجائز ریاست ناجائز اقدامات سے اپنے جرائم چھپا نہیں سکتی ،صیہونی ریاست کا ظلم نہ روکا گیا تو مظلوموں کے لہو اور آنسوؤں سے آنے والا ‘طوفان نوح’ سب بہا لے جائے ،نہتی عام آبادی، ایمبولنسز، سکولوں ، بیماروں، بچوں اور خواتین پر بم برسانا پرلے درجے کی بزدلی ہے ،7 اکتوبر کے بعد سے غزہ مقتل گاہ بنا ہوا ہے، بے گناہ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ صحافی بھی قتل ہو رہے ہیں ،صحافیوں اور بے گناہ انسانوں کے قتل عام پر عالمی اداروں کی بے بسی افسوسناک ہی نہیں شرمناک بھی ہے .صیہونی ریاست عالمی مجرم بن چکی ہے جو عالمی قوانین، جینیوا کنونشن، انسانیت کے ہر ضابطے کو پامال کر رہی ہے.

    حماس نے غزہ کا گھیراؤ کرنے والی اسرائیلی فوج کو گھیرے میں لینے کی تیاری کر لی ہے، خبر رساں ادارے کے مطابق حماس نے نتیجہ خیز جنگ کی تیاری کر لی ہے، حماس کی کوشش ہے کہ اپنے دشمن اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کرے، رائیٹر ز کو حماس کے ذرائع نے بتایا کہ حماس نے اسلحہ،میزائل،خوراک،ادویات بڑی تعداد میں جمع کر رکھی ہیں،حماس نے خندقیں بنا رکھی ہیں اور انکا خیال ہے کہ وہ سرنگوں میں کئی ماہ گزار سکتے ہیں، گوریلا جنگ اسرائیل پر بھاری ثابت ہو گی،اور اسرائیل کو غزہ کا محاصرہ ختم کرنا پڑے گا،اور وہ جنگ بندی پر مجبور ہو گا، حماس یرغمالیوں کی رہائی کے لئے بھی جنگ بندی کی شرط رکھ سکتی ہے ساتھ ہی حماس اپنے قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کرے گی،حماس غزہ کی سترہ سالہ ناکہ بندی کا مکمل خاتمہ چاہتی ہے، اسکے علاوہ غزہ میں اسرائیلی بستیوں کی مزید توسیع کو بھی روکنا چاہتی ہے،حماس مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کاخاتمہ بھی چاہتی ہے،