Baaghi TV

Tag: غزہ

  • حماس کا اسرائیلی فوج پر حملہ، 6 ٹینکوں سمیت 9 فوجی گاڑیاں تباہ

    حماس کا اسرائیلی فوج پر حملہ، 6 ٹینکوں سمیت 9 فوجی گاڑیاں تباہ

    فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے اسرائیلی فوج پر بڑا حملہ کرتے ہوئے 6 ٹینکوں سمیت 9 فوجی گاڑیاں تباہ کردیں۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق حماس کے تازہ ترین حملے میں اسرائیلی افسر سمیت 19 ہلاکتیں ہوئیں ہیں، اس کے علاوہ مزاحمتی تنظیموں نے اسرائیلی فوج کی بٹالین کے ہیڈکوارٹر پر بھی دھاوا اور شیبا فارمز کے علاقے میں بٹالین پر ڈرون حملے سے جانی نقصان کا دعویٰ کیا ہے۔

    گزشتہ روز غزہ پر اسرائیلی بمباری کے جواب میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے لبنان سے اسرا ئیلی علاقے کریات شمونہ میں 12 راکٹ فائر کیےجس کی وجہ سے ہرطرف آگ ہی آگ لگ گئی،اس کے علاوہ لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کی 19 فوجی چوکیوں پر حملے کیے گئے ۔

    غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے،سربراہ حزب اللہ

    دوسری جانب اسرائیل نے غزہ کے ہزاروں فلسطینیوں کے نوکریوں کے پرمٹ منسوخ کر دئیے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق روزانہ 18 ہزار فلسطینی غزہ سے نوکری کرنے اسرائیل آتے تھے، 7 اکتوبر کو حملوں کے بعد اسرائیل میں موجود غزہ کے 3 ہزار محنت کش فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا،تاہم ان میں سے کئی کو رہا کرنے کا دعویٰ کیا گیا لیکن فلسطینیوں کے موبائل، رقم اور دیگر اشیا اسرائیلی حکام نے واپس نہیں کیں ،اب غزہ کے فلسطینیوں کے نوکریوں کے پرمٹ منسوخ کر دئیے گئے اور غزہ کے حکام سے مکمل طور پر رابطے بھی ختم کر دئیے-

    واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیلی بربریت جاری ہےفلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جارحیت سے مزید 166 فلسطینی شہید ہوئے، جس کے بعد 7 اکتوبر سے اب تک شہید ہونے والے افراد کی تعداد 9227 ہوگئی ہے۔

    اسرائیلی ترجمان نے غزہ میں نسل کشی تسلیم کر لی

  • غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے،سربراہ  حزب اللہ

    غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے،سربراہ حزب اللہ

    حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ ہم نہ جھکیں گے اور نہ کسی کے دباؤ میں آئیں گے، حزب اللہ 8 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے اچانک حملے کے ایک دن بعد جنگ میں داخل ہوئی تھی غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے-

    باغی ٹی وی : لبنان کے دارلحکومت بیروت میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد پہلی بار عوامی اجتماع سے خطاب میں حسن نصر اللہ کا کہنا تھاکہ لبنانی اور فلسطینی شہیدوں کے اہلخانہ کو رتبہ شہادت حاصل کرنے پرمبارکباد اور تعزیت پیش کرتے ہیں، شہدا کا رتبہ منفرد رتبہ ہوتا ہے، صرف مسلمان ہی اس رتبے کو سمجھ سکتا ہے۔

    حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ کے شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں، اسرائیل کے حملوں میں ہزاروں شہری شہید ہوئے ہیں مسجد اقصیٰ کیلئے جاری جنگ کا دائرہ طویل ہوگیا ہے، مسجد اقصیٰ کیلئے جنگ میں مزید محاذ کھول دیئے ہیں ہم نہ جھکیں گے اور نہ کسی کے دباؤ میں آئیں گے، ہمیں شہدا کےاہل خانہ کےعزم اور ہمت پر فخر ہے۔

    اسرائیلی ترجمان نے غزہ میں نسل کشی تسلیم کر لی

    ان کا کہنا تھا کہ شہادت ہماری طاقت ہے جس پر ہمیں فخر ہے، اس بات پر بھی فخر ہے کہ عراقی اور یمنی براہ راست جنگ میں شامل ہوچکے ہیں دنیا بھر میں اسرائیل کی مذمت کی جارہی ہے، حماس کا حملہ فلسطین کے چھپے ہوئے دشمنوں کو سامنے لے آیا ہے۔

    طوفان اقصیٰ کی جنگ وسیع تر ہوکر مختلف محاذوں اور میدانوں تک پہنچ گئی، اسرائیل کےخلاف طوفان الاقصیٰ کی جنگ انسانی، اخلاقی اور دینی اعتبار سے جائز اور حق کی جنگ ہے، صہیونیوں کے خلاف جاری جنگ کی اخلاقی اور شرعی حیثیت پر ذرہ بھر بھی شبہ نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی اسرائیل کی قید میں ہیں، طوفان الاقصیٰ آپریشن صرف فلسطین اور فلسطینیوں کیلئے تھا، اس آپریشن نے بہت سی چیزوں کو بےنقاب کر دیا ہے، دنیا نے اسرائیلی مظالم پر مجرمانہ طور پر آنکھیں بند کرلی ہیں، امریکا اسرائیل کی پوری طرح سے مدد کر رہا ہے، اسرائیل کےخلاف جنگ حق کی جنگ ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر گرفتار

    سربراہ حزب اللہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسرائیل کی حماقت اور نااہلی کا عکاس ہے، کیونکہ وہ بچوں اور خواتین کو قتل کر رہا ہے انہوں نے اسرائیل کو ”کمزور“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورے ایک مہینے تک وہ ایک بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکا، اسرائیل مذاکرات کے ذریعے غزہ میں قید اپنے لوگوں کو واپس لا سکتا ہے۔

    حسن نصراللہ کا کہنا تھاکہ 7 اکتوبر واقعات کے محرکات پر روشنی ڈالنا اور حزب اللہ کا مؤقف واضح کرنا ضروی ہے، ہزاروں فلسطینی طویل عرصے سے اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، 20 لاکھ فلسطینی 20 سال سے اسرائیلی محاصرے میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔

    ان کا کہنا تھاکہ طوفان الاقصیٰ فلسطینی مزاحمتی گروپ القسام بریگیڈز کا کامیاب کارنامہ ہے، حزب اللہ کو7 اکتوبر آپریشن سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی، 7 اکتوبر کے آپریشن کو انتہائی رازداری سے انجام دیا گیا، طوفان الاقصیٰ آپریشن فلسطینیوں کی جنگ ہے، اس کا علاقائی ممالک سے کوئی تعلق نہیں ایران کی حزب اللہ اور دیگرمزاحمتی گروپوں پرکوئی اجارہ داری نہیں، حزب اللہ کا اسرائیل کے خلا ف 7 اکتوبرکےآپریشن سےکوئی تعلق نہیں۔

    ایک ہفتے میں 12اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور 14 سستی ہوئیں،ادارہ شماریات

    ان کا کہنا تھاکہ طوفان الاقصیٰ آپریشن نے اسرائیل کو ہر سطح پر جھنجھوڑ کر رکھ دیا، اسرائیلی کارروائیاں اس کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والے منفی اثرات کو ختم نہیں کرسکتیں، اس آپریشن نے اسرائیلی طاقت کی اصل حقیقت کھول کربیان کردی اور اسرائیل کا دفاعی نظام مکڑی کےجال سے زیادہ کمزور ثابت ہوا، اسرائیل کی بدترین ناکامی پر اسرائیلی عوام اور اسرائیل کے حامی تک کوشرمندگی ہوئی۔

    حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک فیصلہ کن جنگ ہے یہ پچھلی جنگوں کی طرح نہیں ہے۔ اس کے لیے ہر ایک کو ذمہ داری قبول کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ دو مقاصد ہیں پہلا غزہ میں جنگ کو روکنا اور دوسرا حماس کو اس جنگ میں فتح حاصل کرنا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ اپنی کارروائیوں میں روز بروز اضافہ کر رہی ہے اور اسرائیل کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ غزہ یا مقبوضہ مغربی کنارے کے بجائے لبنان کی سرحد کے قریب اپنی افواج رکھےحزب اللہ 8 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے اچانک حملے کے ایک دن بعد جنگ میں داخل ہوئی تھی لبنان کی سرحد پر اسرائیلی افواج کے ساتھ روزانہ فائرنگ کا تبادلہ معمولی لگ سکتا ہے لیکن یہ بہت اہم ہے اور اسے 1948 کے بعد سے بے مثال قرار دیا ہے۔

    ذکا اشرف سے شاہد آفریدی کی ملاقات

    نصراللہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اب تک حزب اللہ کے 57 جنگجو شہید ہوچکے ہیں لبنانی محاذ پر مزید کشیدگی کا حقیقی امکان ہے، اس طرح کی پیش رفت کا انحصار غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر ہے، لبنانی محاذ پر تمام آپشنز کھلے ہیں، حزب اللہ تمام امکانات کے لیے تیار ہے۔

    خطے میں امریکی جنگی جہازوں کی تعیناتی سے متعلق بات کرتے ہوئے نصراللہ نے کہا کہ حزب اللہ خوفزدہ نہیں ہے، جو کوئی بھی علاقائی جنگ کو روکنا چاہتا ہے اسے غزہ کی پٹی پر جنگ فوری طور پر بند کرنی چاہیےدوسری طرف لبنان اسرائیل سرحد پر شدید لڑائی جاری ہے تقریر کے موقع پر حزب اللہ نے تین ہفتوں سے زائد عرصے کی لڑائی میں اب تک کا سب سے بڑا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر بیک وقت 19 حملے کیے اور پہلی بار دھماکہ خیز ڈرونز کا استعمال کیا۔

    خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ لبنان کی ایک طاقتور فوجی قوت حزب اللہ سرحد پر اسرائیلی افواج سے رابطے میں ہے، جہاں 2006 میں اسرائیل کے ساتھ جنگ لڑنے کے بعد سے اب تک اس کے 55 جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ جنگ کے آغاز کے بعد اپنی پہلی عوامی تقریر کرنے والے ہیں جبکہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن حالیہ ہفتوں میں ان کا تیسرا دورہ اسرائیل ہے۔

    گوادر میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر دہشت گردوں کا حملہ،14 جوان شہید

    الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 9,227 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اسرائیل میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • اسرائیلی بمباری سے صحافی کی خاندان کے 11 افراد کے ہمراہ موت

    اسرائیلی بمباری سے صحافی کی خاندان کے 11 افراد کے ہمراہ موت

    سات اکتوبر سے اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے، اب اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کا محاصرہ کر لیا ہے

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید ہو گئے ہیں، اسرائیل نے غزہ کے شہر یونس خان میں گھر پر بمباری کی،جس کے نتیجے میں فلسطینی صحافی محمد ابو حطب،انکی اہلیہ، بیٹے اور بھائی سمیت خاندان کے 11 افراد کی موت ہوئی ہے، اسرائیلی بمباری سے فلسطینی صحافی محمد البیاری بھی شہید ہو چکے ہیں

    فلسطینی صحافی کی موت کے بعد فلسطینی صحافیوں نے احتجاج کیا، محمد ابوحطب کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی جس میں بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی، اس موقع پر فلسطینی صحافی سلمان البشیر اسرائیل کے ہاتھوں صحافیوں کے قتل پر اپنے جذبات کااظہار کرتے ہوئے بے قابو ہوگئے اور دوران رپورٹنگ اپنی پریس جیکٹ اور ہیلمٹ کو اُتار پھینکا اور کہا کہ کوئی فائدہ نہیں،اسرائیل صحافیوں کا بھی قتل عام کر رہا ہے، دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا.یہ پریس جیکٹس جو ہم نے پہنی ہیں علامتی ہیں، ان سے کسی صحافی کو تحفظ نہیں مل رہا ہے، ایک کے بعد ایک صحافی کو اسرائیل کو قتل کر دیا ہے

    دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فوج کی رہائشی آبادیوں پر وحشیانہ بمباری کاسلسلہ جاری ہے اور اسرائیل پر غزہ کی جانب سے کی جانے والی بمباری اور بڑھتے محاصرے سے فلسطینیوں کے قتل عام تیز ہونے کا خدشہ ہے اسرائیلی جارحیت سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 9200 جب کہ زخمی فلسطینیوں کی تعداد 24 ہزار ہوچکی ہے

    دوسری جانب غزہ میں بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے منصوبے سے متعلق اسرائیلی ترجمان کی زبان پر آ گیا، اسرائیلی ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا نشانہ فقط فلسطینی عوام ہیں امریکی ٹی وی کو اپنے انٹرویو کے دوران اسرائیلی وزیراعظم کی ترجمان تل ہینرک بات چیت کے دوران سچ بول گئیں اور کہا کہ اسرائیل غزہ میں کسی اور کو نشانہ نہیں بنا رہا سوائے سویلینز کے لیکن پھر گڑبڑا کر اپنی بات کو گھماتے ہوئے کہنے لگی کہ نہیں، نشانہ دہشتگرد ہیں،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کی پٹی پر حماس حملوں میں بھارتی نژاد اسرائیلی فوجی کی موت
    حماس کے حملے میں بھارتی نژاد اسرائیلی فوج کی بھی موت ہوئی ہے، اس ضمن میں بھارت میں اسرائیل کے قونصل جنرل کوبی شوشانی نے تصدیق کی کہ بھارتی نژاد فوجی کی موت غزہ کی پٹی پر ہوئی،بھارتی نژاد اسرائیلی فوجی کی عمر بیس برس تھی اوراسکا نام ہیل سولومن تھا، جس واقعہ میں بھارتی نژاد فوجی کی موت ہوئی اس میں 17 مزید اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیںَ،بھارتی نژاد فوجی اسرائیلی شہر دیمونا کا رہائشی تھا

    ہیل کی موت پر بینی دیمونا کے میئر بٹن کا کہنا تھا کہ بہت افسوس کے ساتھ ہم غزہ کی جنگ میں دیمونا کے بیٹے ہیل سولومن کی موت کا اعلان کرتے ہیں۔پورا شہر ہیل سولومن کی موت پر غم زدہ ہے، ہیل کی آخری رسومات اسرائیلی پرچم کے ساتھ ادا کی جائیں گی

    دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ایک بار پھر اسرائیل پہنچ چکے ہیں وہ اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کریں گے، امریکی وزیر خارجہ کا سات اکتوبر کے بعد اسرائیل کا یہ تیسرا دورہ ہے،آخری دورے میں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم سے سات گھنٹے طویل ملاقات کی تھی،امریکی وزیر خارجہ آج ملاقاتوں کے بعد میڈیا ٹاک بھی کریں گے، امریکہ کو امید ہے کہ آج کے اس دورے کے بعد غزہ کو انسانی امداد بھیجنے کا راستہ کھل جائے گا،اسرائیل کا دورہ مکمل کرنے کے بعد امریکی وزیرخارجہ اردن جائیں گے جہاں وہ اپنے عرب اتحادیوں کے تحفظات پر بات چیت کریں گے،

  • متحدہ عرب امارات کا غزہ کے زخمی بچوں کو طبی امداد فراہم کرنے کا اعلان

    متحدہ عرب امارات کا غزہ کے زخمی بچوں کو طبی امداد فراہم کرنے کا اعلان

    اسرائیلی بمباری سے زخمی ہونے والے فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان میں آ گیا

    متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر ایک ہزار فلسطینی زخمی بچوں کو طبی امداد فراہم کریں گے، اسرائیل کے سات اکتوبر سے غز ہ پر حملے جاری ہیں، اسرائیلی بمباری سے نو ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی بھی ہے، زخًمیوں میں بھی بچے بڑی تعداد میں شامل ہیں،اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت سے متاثرہ ایک ہزار بچوں کو اماراتی اسپتال طبی امداد دیں گے

    اس ضمن میں مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کی ہدایت پر وزیر خارجہ اور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کی صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں غز ہ کے زخمی بچوں‌کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے طبی امداد دینے کا فیصلہ کیا گیا.زخمی بچوں کو اہلخانہ متحدہ عرب امارات لے کر جائیں گے جہاں انکے علاج معالجے کی بعد واپسی ہو گی، متحدہ عرب امارات انکو تمام سہولیات فراہم کرے گا

    اقوام متحدہ کےادارہ برائے اطفال یونیسیف کا کہنا ہےکہ غزہ میں ہر روز 420 سے زائد بچے اسرائیلی بمباری سے شہید یا زخمی ہو رہے ہیں،رپورٹس کے مطابق اسرائیلی بمباری سے غزہ میں ہر 10 منٹ میں ایک بچہ شہید ہو رہا ہے

    دوسری جانب غزہ کے جبالیا کیمپ میں اسرائیل کی جانب سے ایک بار پھرحملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 200 تک جاپہنچی جب کہ 120 افراد اب تک لاپتہ ہیں،اسرائیل نے النصر اسٹریٹ پر بیکری کے سامنے موجودہ شہریوں پر بمباری کی، اسرائیل نے ایمبولینس گاڑیوں‌پر بھی بمباری کی،وسطی غزہ میں اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے ایک ہی خاندان کے 8 افراد شہید ہوگئے جب کہ وہاں اسرائیلی بمباری سے تباہ مکانات کی تعداد پونے 2 لاکھ ہو گئی ہے، اسرائیل نے القدس اسپتال کے علاقے میں بھی بمباری کیجس کی وجہ سے فلسطین میں کینسر کے واحد ترک اسپتال کو کام بند کرنا پڑ گیا.

    دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ غزہ کے پناہ گزینوں کے کیمپ جبالیا پر اسرائیلی حملے میں 7 یرغمالی ہلاک ہوگئے ہیں، جن میں تین غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والے بھی شامل ہیں،حماس نے اب تک 239 قیدیوں میں سے 4 یرغمالیوں کو رہا کردیا ہے

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

  • طوفان الاقصیٰ واحد حملہ نہیں،اس طرح کے مزید حملے کیے جائیں گے

    طوفان الاقصیٰ واحد حملہ نہیں،اس طرح کے مزید حملے کیے جائیں گے

    غزہ: حماس کے ایک عہدیدار غازی حماد نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ 7 اکتوبر کا حملہ طوفان الاقصیٰ واحد آخری نہیں، اس طرح کے مزید حملے کیے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی: مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (MEMRI) کی ایک رپورٹ کے مطابق غازی حماد نے کہا کہ اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جس کی ہماری زمین پر کوئی جگہ نہیں ہےہمیں اس ملک کو ختم کرنا ہوگا‘ہمیں اسرائیل کو سبق سکھانا چاہیے، اور ہم یہ بار بار کریں گے۔ طوفان الاقصیٰ واحد (حملہ) نہیں ہے، ہم دوسری، تیسری، چوتھی بار آئیں گے،کیونکہ ہمارا عزم ہے کہ لڑو۔
    https://x.com/MEMRIReports/status/1719662664090075199?s=20

    نیتن یاہو کا غزہ پلان کیا ہے؟ خفیہ دستاویزات لیک

    حماد نے اس حملے میں جانی قیمت کے بارے میں بھی بات کی، جو جنگ کے دونوں فریقوں کو ادا کرنی پڑ رہی ہے انہوں نے کہا کہ ریئم میوزک فیسٹیول میں ہونے والی ہلاکتیں ’زمین پر پیدا ہونے والی پیچیدگیوں‘ کا نتیجہ تھیں کیا ہمیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی؟ ہاں، اور ہم اسے ادا کرنے کے لیے تیار ہیں ہمیں شہیدوں کی قوم کہا جاتا ہے اور ہمیں شہداء کی قربانی پر فخر ہے اسرائیل کا وجود ہی اس سارے درد، خون اور آنسوؤں کا سبب بنتا ہے، یہ اسرائیل ہے، ہم نہیں۔ ہم قبضے کے شکار ہیں، کسی کو بھی ہم پر الزام نہیں لگانا چاہیے 7 اکتوبر، 10 اکتوبر، 10 لاکھ اکتوبر ، ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ جائز ہے۔

    آرمی چیف کی آذربائیجان کے صدر اور وزیردفاع سے ملاقاتیں

    دوسری جانب فلسطینی سیاسی کارکن احد تمیمی نے پیر کو ایک انسٹاگرام پوسٹ میں مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی آباد کاروں کو قتل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    احد تمیمی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں لکھا کہ ’ہم مغربی کنارے کے تمام شہروں میں ہیبرون سے جینین تک آپ کا انتظار کر رہے ہیں، ہم آپ کو ذبح کر دیں گے اور آپ کہیں گے کہ ہٹلر نے آپ کے ساتھ جو کیا وہ ایک مذاق تھاہم تمہارا خون پی جائیں گے اور تمہاری کھوپڑی کو چبائیں گے۔ آجاؤ، ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔

    مارچ 2018 میں، احد تمیمی کو ایک اسرائیلی فوجی افسر اور سپاہی پر حملہ کرنے، تشدد کیلئے اکسانے، اور اسرائیلی فورسز کے سامنے مزاحمت کے چار الزامات پر آٹھ ماہ قید اور آٹھ ماہ پروبیشن کی سزا سنائی گئی انہیں 29 جولائی 2018 کو سزا پوری کرنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے افراد کی تعداد 8796 ہوگئی ہےفلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مجموعی طور پر غزہ میں اب تک 2290 خواتین اور 3648 بچے شہید ہو چکے ہیں کم از کم 22 ہزار 219 افراد زخمی ہیں، 2 ہزار 30 افراد اب بھی تباہ شدہ عمارات کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جن میں 1120 بچے بھی شامل ہیں۔

    حکام کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی بمباری میں 130 ورکرز شہید ہو چکے ہیں جبکہ 28 ایمبولینسیں تباہ ہوچکی ہیں اب تک غزہ کے طبی نظام پر 270 سے زائد حملے کیے گئے ہیں جس کے باعث 35 میں سے 16 اسپتال اور 72 میں سے 51 طبی مراکز بند ہو چکے ہیں-

    بھارت میں قرض دار باپ بیٹے کو فروخت کرنے پر مجبور

  • نیتن یاہو کا غزہ پلان کیا ہے؟   خفیہ دستاویزات لیک

    نیتن یاہو کا غزہ پلان کیا ہے؟ خفیہ دستاویزات لیک

    غزہ میں جنگ اور وہاں مقیم فلسطینیوں کے حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے مکروہ پلان پر مبنی خفیہ دستاویزات لیک ہوگئی ہیں-

    باغی ٹی وی: اسرائیل اور حماس کی جنگ کے درمیان، مبینہ طور پر ایک دستاویز کے افشا ہونے کی خبروں نے ایک بہت بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے اس دستاویز کے مطابق اسرائیل غزہ کے لوگوں کو مصر کے سینا بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ وکی لیکس نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ حماس کے حملے کے ایک ہفتے بعد، اسرائیل کی وزارت انٹیلی جنس نے مبینہ طور پر انتہائی متنازعہ 10 صفحات پر مشتمل دستاویز تیار کی۔

    فلسطینیوں کو مصر بھیجنے کا منصوبہ:
    ایسا منصوبہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے علم میں لائے بغیر تیار نہیں کیا جا سکتا تھامبینہ خفیہ دستاوزات کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کا منصوبہ ہے کہ غزہ کی پوری آبادی کو غزہ سے نکال کر مصر کے جزیرہ نما سینائی میں دھکیل دیا جائے اور انہیں وہیں بسا دیا جائے، اس منصوبے میں زمینی حکمت عملی کو یوں بیان کیا گیا ہے غزہ پر زمینی کارروائی شروع کرنے سے پہلے، اسرائیل پہلے شمالی غزہ کے لوگوں سے کہے گا کہ وہ جنوبی غزہ جائیں، جو نیتن یاہو نے کیا۔

    اسرائیلی بمباری سے سات یرغمالی ہلاک

    عبرانی ویب سائٹ پر پائے گئے دستاویزات

    اس کے بعد آپریشن شمالی غزہ سے شروع ہو کر جنوبی غزہ کی طرف بڑھے گا مصر کے جنوبی غزہ سے ملحقہ رفح کراسنگ پوائنٹ کو فوجی آپریشن کے دوران خالی رکھا جانا ہے، تاکہ لوگ وہاں آسانی سے جا سکیں مصر میں سیناء کے شمالی علاقے میں خیمہ بستیاں اور شہر قائم کیے جائیں تاکہ وہاں فلسطینیوں کو ٹھہرایا جا سکے۔ یہ دستاویز پہلی بار ایک عبرانی ویب سائٹ Mekomit پر شائع ہوئی اس ویب سائٹ کے مطابق یہ دستاویز اسرائیل کی وزارت انٹیلی جنس سے تصدیق شدہ ہے۔

    بینجمن نیتن یاہو کے دفتر کی تردید:

    اسرائیلی وزیراعظم نے ان دستاویز کو فرضی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے بینجمن نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کا خاکہ انٹیلی جنس حکام کے تیار کردہ ایک تصوراتی ڈاکیومنٹ میں دیا گیا تھا اور پالیسی سازوں نے اس پر بحث نہیں کی تھی لیکن اسرائیلی میڈیا میں وسیع پیمانے پر رپورٹ ہونے والی اس دستاویز کی فلسطینی اور مصری رہنماؤں کی طرف سے مذمت کی گئی ہے اور اس سے پڑوسی ملک مصر کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے، مصر کو لگتا ہے کہ اسرائیل غزہ کے مسئلے کو مصر کا مسئلہ بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اتنی بڑی بے گھر آبادی کا مصر میں داخلہ مسائل پیدا کرے گا۔

    اسرائیلی فوج کا جبالیا کے کیمپ پر حملہ،100 سے زیادہ فلسطینی ہلاک

    فلسطین کی پریشانی:

    فلسطین کو لگتا ہے کہ اس طرح کے منصوبے کے ذریعے اسرائیل پورے غزہ پر قبضہ کرکے انہیں بے دخل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینہ نے کہا کہ ہم فلسطینیوں کو اس طرح کہیں بھی بھیجنے کے خلاف ہیں، اگر ایسی کوشش کی گئی تو اسے نہیں ہونے دیا جائے گا۔ 1948 میں جو ہوا تھا اسے نہیں دہرایا جائے گا۔

    7 اکتوبر کو ہوئے حماس حملے کے چھ دن بعد اسرائیلی انٹیلی جنس منسٹری کی رپورٹ میں ’حماس کے جرائم کی روشنی میں غزہ کی شہری حقیقت میں نمایاں تبدیلی لانے کے لیے‘ تین متبادلات پر غور کیا گیارپورٹ میں غزہ کی 22 لاکھ سے زیادہ آبادی کو شمالی سینائی کی خیمہ بستیوں میں منتقل کرنے کی تجویز پیش کی گئی، اس کے بعد مستقل شہر کی تعمیر اور ایک غیر متعینہ انسانی راہداری تعمیر کی جانی تھی۔

    جنگ بندی کا مطالبہ؛ برطانوی عہدیدار برطرف

    رپورٹ میں پیش کی گئی تجویز کے مطابق اسرائیل کے اندر ایک سیکورٹی زون قائم کیا جانا تھا تاکہ بے گھر فلسطینیوں کو داخلے سے روکا جا سکے تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ غزہ کی آبادی کا صفایا ہونے کے بعد اس کا کیا بنے گا، لیکن اشارہ دیا گیا کہ بے دخل کیے گئے باشندے بالآخر کسی اور جگہ آباد ہو سکتے ہیں۔

    دستاویز میں کہا گیا کہ ترکی،قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت ممالک مہاجرین کو رقم دے سکتے ہیں یا انہیں دوبارہ آباد کر سکتے ہیں،دستاویز میں تسلیم کیا گیا کہ یہ تجویز بین الاقوامی قانونی حیثیت کے لحاظ سے پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

    نیتن یاہو کے دفتر نے اسے ایک ”تصوراتی مقالہ“ قرار دیا، بیان میں کہا گیا کہ ’اسرائیل کے کسی بھی سرکاری فورم میں ”آخر کے دن“ کے مسئلے پر بات نہیں کی گئی ہے، توجہ اس وقت حماس کی حکومت اور فوجی صلاحیتوں کو تباہ کرنے پر مرکوز ہے‘۔

    حوثی باغیوں کے ساتھ جھڑپ کے بعد سعودی فورسز ہائی الرٹ

    اسرائیل نے پٹی کے شمال میں شہریوں سے کہا ہے کہ وہ جنوب میں چلے جائیں۔ لیکن وہاں رہنے والے بہت سے لوگوں کو غزہ میں اسرائیل کی فوجی دراندازی کا خدشہ ہے۔ اسرائیل کی حماس کے خلاف کارروائی فلسطینیوں کی سرزمین کے تمام یا کچھ حصے کو خالی کرانے کا بہانہ ہے۔

    فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینہ نے رپورٹ کے بارے میں کہا کہ ’ہم کسی بھی جگہ، کسی بھی شکل میں منتقلی کے خلاف ہیں، اور ہم اسے ایک سرخ لکیر سمجھتے ہیں جسے ہم عبور کرنے کی اجازت نہیں دیں گے 1948 میں جو ہوا وہ دوبارہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    مصر نے بھی جنگ کے آغاز سے ہی واضح کر دیا ہے کہ وہ مہاجرین کو قبول نہیں کرنا چاہتا۔ مصر نے تجویز دی ہے کہ پناہ گزینوں کو اسرائیل کے اپنے جنوبی صحرائے نیگیو میں رکھا جائے۔

    چین اور روس کا سیکورٹی فورم پر امریکہ کو نشانہ بنانے کا ارادہ

  • اسرائیلی بمباری سے سات یرغمالی ہلاک

    اسرائیلی بمباری سے سات یرغمالی ہلاک

    حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر 26 ویں روز بھی مسلسل بمباری جاری ہے، اسرائیل نے شدید بمباری کر کے غزہ کا مواصلاتی نظام تباہ کر دیا ہے، غزہ کا دیگر دنیا سے رابطہ کٹ چکا ہے،

    اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں اپنی دراندازی کے علاقوں میں لائٹنگ بم برسائے، غزہ کے شمال مغرب میں کراما کے علاقے میں بھی پرتشدد جھڑپیں ہوئیں، پٹی کے جنوب مشرق میں الزیتون محلے میں بھی اسرائیل نے بمباری کی،غزہ کے سب سے بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ’ پیلٹیل‘ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ بین الاقوامی رسائی دوبارہ منقطع ہونے کے باعث غزہ میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا ہے۔

    غزہ میں وزارت صحت نے اسرائیلی بمباری اور بے گناہ شہریوں کی اموات کو فلسطینیوں کی "نسل کشی” قرار دیا ،اسرائیل کی مسلسل بمباری اور ہزاروں شہیروں کی موت کے باعث غزہ ایک قبرستان کی شکل اختیار کر چکا ہے، یونیسیف کا کہنا ہے کہ ہر دس منٹ میں ایک بچہ شہید ہو رہا ہے.اب تک اسرائیلی بمباری سے 3500 کے قریب بچے شہید ہو چکے ہیں،غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 8,796 تک پہنچ گئی، جن میں 3,648 بچے اور 2,290 خواتین شامل ہیں،24 گھنٹے کے اندر اسرائیل کے 31 فوجی بھی مارے گئے ہیں

    اسرائیلی بمباری سے اقوام متحدہ کے مزید تین کارکنان کی بھی موت ہوئی ہے، اب تک اقوام متحدہ کے 67 اراکین اسرائیلی حملے میں مارے جا چکے ہیں،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس کا کہنا ہے کہ شہریوں کی حفاطت کا مستقل خیال رکھا جانا چاہیے بین الاقوامی انسانی قانون پر عملدر آمد کو مخصوص نہیں کیا جاسکتا، غزہ میں پہنچنے والی امداد مکمل طور پر ناکافی ہے۔

    غزہ پر بدترین حملوں کے بعد جنوبی امریکی ملک بولیویا نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کردیئے ہیں،بولیویا پہلا لاطینی امریکی ملک بن گیا ہے جس نے غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائی پر اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کئے ہیںَ، بولیویا کی صدارتی ہاؤس کی وزیر ماریا نیلا پرادا نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ وہ بولیویا کی کثیر قومی ریاست کے طور پر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کررہے ہیں

    دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ غزہ کے پناہ گزینوں کے کیمپ جبالیا پر اسرائیلی حملے میں 7 یرغمالی ہلاک ہوگئے ہیں، جن میں تین غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والے بھی شامل ہیں،حماس نے اب تک 239 قیدیوں میں سے 4 یرغمالیوں کو رہا کردیا ہے

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

  • جنگ بندی کا مطالبہ؛ برطانوی عہدیدار برطرف

    جنگ بندی کا مطالبہ؛ برطانوی عہدیدار برطرف

    غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے پر برطانوی عہدیدار سرکاری عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ برطرف کیے گئے پال بریسٹو نے ایسے تبصرے کیے جو اجتماعی ذمہ داری کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں اور گزشتہ ہفتے برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کو لکھے گئے ایک خط میں پال بریسٹو نے کہا تھا کہ غزہ میں مستقل جنگ بندی سے زندگیاں بچیں گی اور امداد ان لوگوں تک پہنچ سکے گی جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

    علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ حکومت انسانی بنیادوں پر تعطل کی حمایت کرتی ہے لیکن مکمل جنگ بندی کی حمایت نہیں کرتی اور فیس بک پر رشی سونک کو لکھے گئے خط پوسٹ کرتے ہوئے مستعفی برطانوی عہدیدار نے لکھا تھا کہ عام فلسطینیوں کو حماس کے جرائم کی اجتماعی سزا نہیں ملنی چاہیے کیونکہ بین الاقوامی قانون کے تحت اجتماعی سزا ممنوع ہے۔

    تاہم واضح رہے کہ رشی سونک کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جنگ بندی کی حمایت کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے، رپورٹس کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں اپوزیشن ارکان کی ایک بڑی تعداد نے غزہ میں جنگ بندی کے مطالبے کی حمایت کی تاہم حکمران جماعت کی اکثریت نے اس مطالبے کو مسترد کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کیا بھارت کی پہلی خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی مسلمان تھیں؟
    وزیراعظم کے لمز تاخیر پر پہنچنے پر نوجوان کا شکوہ
    پاکستانی فلم انڈسٹری کے سینئر ڈائریکٹر حسن عسکری انتقال کرگئے

    اس کے علاوہ اینڈی میکڈونلڈ کو لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے، اس حوالے سے پارٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے فلسطین کے حق میں نکالی گئی ایک ریلی میں تقریر کرتے ہوئے انتہائی قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔

  • 24 ویں روز بھی اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری،ایک اور مسجد شہید

    24 ویں روز بھی اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری،ایک اور مسجد شہید

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر حملہ کیا، اسرائیلی بمباری آج بھی جاری ہے، 24 دن گزر چکے ، اسرائیل نے غزہ کو کھنڈرات بنا دیا، عمارتیں ملیا میٹ ہو گئیں، مساجد شہید ہو گئیں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں پر بمباری کی گئی، ہر طرف لاشوں کے ڈھیر، زخمیوں کی آہ و بکا، قبرستان بھر گئے لیکن اسرائیل امریکی شہہ کی وجہ سے بمباری سے باز نہیں آ رہا.

    اسرائیلی بمباری سے غزہ میں ہزاروں اموات ہو چکی ہیں، بچے، خواتین بھی مر رہے ہیں،7 اکتوبر سے اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد 8 ہزار، زخمیوں کی 20 ہزار تک جا پہنچی ہے، کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو چکی ہیں، بھوک کی وجہ سے خواتین، بچے نڈھال ہو چکے، تاہم اسرائیل بمباری روکنے کا نام نہیں لے رہا.گزشتہ روز اسرائیل نے دیر البلا کی مسجد بلال بن رباح بمباری کر کے شہید کر دی، مسجد کے ساتھ والے مکانات جہاں بے گھر افراد مقیم تھے وہ بھی ملیا میٹ ہو گئے،غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال الشفاپر بھی بمباری کی گئی،

    حماس نے اسرائیلی فوج کا زمینی حملہ پسپا کر دیا
    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ٹینکوں کے ذریعے غزہ میں زمینی کاروائی کی ہے تاہم حماس کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فوج کا زمینی حملہ پسپا کر دیا ہے،خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ شہر کے نواح میں پہنچ کر اہم راستے بند کر دیئے تھے،اسرائیلی فوج کے ٹینک صلاح الدین سٹریٹ تک جا پہنچے تھے ،اس مقام پر شدید جھڑپ ہوئی، ایک مقامی شہری نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیلی ٹینک ہر گزرنے والی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے،

    غزہ میں حماس رہنما کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینک غزہ کے نواح سے جا چکے ہیں، حماس نے بھر پور جوابی کاروائی کی ہے،اسرائیل کو غزہ میں زمینی پیشرفت کے حوالے سے ابھی تک مایوسی کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے،صلاح الدین سٹریٹ میں چند ٹینک پہنچے تھے جن کو بھگا دیا گیا ہے،اسوقت وہاں کوئی ٹینک موجود نہیں اور شہری آمدورفت معمول کے مطابق ہو رہی ہے،

    ڈاکٹرز ود آوٹ بارڈرز کے مطابق اسپتال زخمیوں سے اور مردہ خانے لاشوں سے بھرے پڑے ہیں، شمالی غزہ کا علاقہ ملیا میٹ ہوچکا ہے،غزہ میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری سے ایک روز پہلے دنیا میں آنے والا بچہ بھی شہید ہوگیا ہے

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے 33 امدادی سامان کے ٹرک رفاہ کراسنگ سے غزہ میں داخل ہوئے ہیں،امدادی ٹرکوں میں پانی، خوراک اور ادویات اقوام متحدہ کی جانب سے پہنچائی گئی ہیں،اقوام متحدہ حکام کے مطابق 21 اکتوبر کے بعد یہ امدادی ٹرکوں کی سب سے بڑی کھیپ ہے جو آج داخل ہوئی، اس سےقبل 20 ٹرک غزہ پہنچے تھے،

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیلی حملہ قابل مذمت ہے، اسرائیلی فوج غزہ کے عام شہریوں پر حملے کر رہی ہے، اسرائیل غزہ پر حملے فی الفور بند کرے .اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خوراک،امداد پہنچائی جائے،

    فلسطینی اسلامی جہاد گروپ کے مسلح ونگ القدس بریگیڈ نے اعلان کیا ہے کہ لبنان کی سرحد کے قریب اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں ان کے دو جنگجو شہید ہوگئے ہیں، اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگجو اتوار کی شام شمالی اسرائیل کے علاقے ہنیتا میں آپریشن کرتے ہوئے شہید کیے گئے ہیں۔

    امریکی نائب صدر کمالا حارث کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کا اسرائیل یا محصور غزہ کی پٹی میں امریکی فوجی بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، سی بی ایس کو ایک انٹرویو دیتے کمالا حارث نے کہا کہ اسرائیل کو شہریوں کا تحفظ کرنا چائیے، کمالا حارث کا مزید کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اندازوں کے مطابق کم از کم 1,400 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں اور اسرائیل بغیر کسی سوال کے اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔

    جینین میں حالات مزید کشیدہ،فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے اب تک چار افراد شہید اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں جبکہ چھاپے کے نتیجے میں جینین پناہ گزین کیمپ میں بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات بھی ہیں، فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے کارروائی میں ڈرون کا استعمال کیا ہے۔

    غزہ حکومت کے مطابق غزہ میں جاری اسرائیلی فضائی حملوں میں 47 مساجد اور 7 گرجا گھر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ غزہ کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں میں 203 اسکول اور 80 سرکاری دفاتر کو بھی تباہ کیا گیا ہے، حکومتی دفتر کے ڈائریکٹر سلامہ معروف نے ٖغیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ "بڑے پیمانے پر اسرائیلی بمباری سے 220,000 مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور 32,000 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں ہیں، اس سے قبل غزہ میں حکومت کے میڈیا آفس نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی فوج نے ایک آرتھوڈوکس ثقافتی مرکز اور ایک اسکول پر بمباری کرنے کی دھمکی دی ہے جہاں 1500 سے زیادہ بے گھر لوگ پناہ لے رہے ہیں۔

    غزہ میں پیدائش سے پہلے موت کے سرٹیفیکیٹ بٹنے لگے شہدا میں ایک دن کے بچوں کی بڑی تعداد شامل جن کا برتھ سرٹیفکیٹ تو نہ بن سکا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہو گیا ،سینکڑوں فرشتوں کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی جنت مل گئی جن کا بھی نام رکھنا تھا والدین انہیں بے نام دفنانے پر مجبور اسرائیلی بمباری سے غزہ میں شہید ہونے والے بچوں کی تعداد 3400 سے تجاوز کر گئی اسپتالوں میں نو مولود بچوں اور ماں کی جان بچانے کے لیے وسائل ختم ہونے لگے ہزاروں معصوم زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • عرب میڈیا میں غزہ مارچ  کی پزیرائی، سب سے بڑی ریلی قرار

    عرب میڈیا میں غزہ مارچ کی پزیرائی، سب سے بڑی ریلی قرار

    عرب میڈیا نے اسلام آباد میں جماعت اسلامی کی جانب سے کیے گئے ”غزہ مارچ“ کو فلسطین کے حق میں نکالی گئی پاکستان کی سب سے بڑی ریلی قرار دیا ہے، جبکہ حکومت پاکستان کو خاموش تماشائی سے تشبیہ دی ہے اور الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں غزہ مارچ کے حوالے سے لکھا کہ عوام کا ’ٹرن آؤٹ بہت زیادہ ہے۔ غزہ پر اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے پاکستان میں یہ سب سے بڑی فلسطین نواز ریلی ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کرنے اور فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے ہر جگہ سے خواتین اور بچوں سمیت لوگ جمع ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ پاکستان کے دوسرے شہروں میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں جبکہ الجزیرہ نے لکھا کہ پاکستانی حکومت کے لوگوں کو امید تھی۔ ریلی میں شریک افراد بین الاقوامی برادری کی جانب سے اسرائیل کی بمباری کو روکنے میں ناکامی پر کافی غصے کا اظہار کر رہے ہیں

    الجزیرہ کے مطابق 7 اکتوبر سے حماس کے حملے کے بعد اسرائیلی کارروائیوں میں غزہ میں شہادتوں کی تعداد 8 ہزار 5 ہوگئی ہے جبکہ 20 ہزار 242 زخمی ہیں۔ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں 112 فلسطینی شہید اور 1900 زخمی ہیں اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں اسرائیل سے غزہ پر بمباری بند کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ میلبورن میں آج صبح سے ہی مظاہرے جاری رہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد، لبنان کے شہر بیروت، جرمنی کے شہر برلن، میونخ، سٹٹگارٹ، اسپین کے شہر میڈرڈ، امریکا کے شہر سکرینٹن، سان انتونیو، البانی، نیوارک، واٹربری، ڈینور، آسٹن، کولوراڈو اسپرنگس، ارون، اورلینڈو، میک ایلن، کینیڈا کے شہر ٹورنٹو اور اوٹاوا میں اتوار کو مظارہے کیے گئے۔

    ادھر اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام غزہ مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ قبلہ اول کی آزادی ہر مسلمان کا مسئلہ ہے، لاکھوں نوجوان غزہ جا کر شہادت کیلئے تیار ہیں۔ جماعت اسلامی 19 نومبر کو لاہور میں ملین مارچ کرے گی، غزہ مارچ میں شرکت کیلئے بڑی تعداد میں کارکن آبپارہ چوک پہنچے۔ سراج الحق نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ ہے تو ہم فلسطین اور غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حملوں میں ساڑھے 7 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اسرائیل نے آبادیوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا، فلسطینی عوام کو نسل کش جنگ کا سامنا ہے، سراج الحق نے مزید کہا کہ ہمارے حکمران امریکا کے خوف میں مبتلا ہو کر اسے خوش کرنے میں مصروف ہیں، اللہ یا امریکا میں سے کسی ایک کی غلامی کا انتخاب کرنا ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری ایمان کی طاقت سب سے زیادہ مضبوط ہے، ہمیں صلاح الدین ایوبی جیسے رہنما کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد میں گزشتہ روز ہمارے کارکنان پر تشدد کیا گیا، امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کو شکست ہوگی، کاش آج اسلامی ممالک ایک آواز بنتے، ہمارے حکمران بزدل اور خوف میں مبتلا ہیں، حکمرانوں نے زندہ ممالک کو مردہ قبرستان بنا دیا گیا۔

    تاہم واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں سرینگر ہائی وے پر جماعت اسلامی کے غزہ ملین مارچ کی تیاریاں روکنے پر پولیس اور کارکنوں میں شدید جھڑپیں ہوئی تھیں، جس کے نیتجے میں آبپار چوک سے سرینا چوک تک علاقہ میدان جنگ بن گیا تھا۔ پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کرکے کارکنوں کو منتشر کیا تھا۔ خیال رہے کہ روز کی کشیدگی کے بعد جماعت اسلامی کو ڈپلومیٹک ایریاز میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تاہم امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی قیادت میں غزہ مارچ کے شرکا کو آبپارہ تا یو این آفس تک جانے کی اجازت دی تھی۔

    مارچ شروع ہونے سے قبل ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کو فلسطین سے اظہار یکجہتی ریلی کی اجازت دیدی گئی ہے، جماعت اسلامی کے مارچ کے موقع پر اسلام آباد پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے خصوصی انتظامات کیے گئے، ریڈ زون کی سکیورٹی کے لیے اسلام آباد پولیس، ایف سی، رینجرز کے سیکیورٹی تعینات کیے گئے۔
    انتظامات کی نگرانی کے لیے 4 ایس پیز، 5 ڈی ایس پیز اورمختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز تعینات کیے گئے، اسلام آباد پولیس کے 1000، ایف سی کے 350، رینجرز کے 300 اہلکار تعینات کیے گئے۔