Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • معصوم فلسطینیوں کا شہید کرنیوالے اسرائیلی فوجیوں میں ذہنی امراض میں اضافہ

    معصوم فلسطینیوں کا شہید کرنیوالے اسرائیلی فوجیوں میں ذہنی امراض میں اضافہ

    غزہ میں معصوم شہریوں کا خون بہانے والے اسرائیلی فوجیوں میں نفسیاتی مسائل، خاص طور پر پی ٹی ایس ڈی اور دیگر ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ ہوگیا ہے۔

    اسرائیلی دفاعی وزارت اور طبی رپورٹس کے مطابق غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے فوجیوں میں ذہنی و نفسیاتی امراض کی تعداد نمایاں طور پر بڑھی ہے 60 فیصد سے زیادہ زخمی فوجیوں میں ذہنی صدمے کی علامات پائی گئیں ایک تحقیق میں 12 فیصد ریزرو فوجیوں نے پی ٹی ایس ڈی کی علامات کی اطلاع دی جو قبل از جنگ کی سطح سے بہت زیادہ ہے۔

    بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ

    بڑے پیمانے پر 80,000 سے زائد فوجیوں کو جنگ کے بعد ذہنی صحت کے مسائل کے باعث علاج یا نگرانی کی ضرورت پڑی علاوہ ازیں خودکشی اور خود کو نقصان پہنچانے کے رجحانات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ماہرین نفیسات کہتے ہیں کہ جنگی تشدد، خوف، ساتھیوں کی موت اور مشن کے دوران انسانی جانوں کے ضائع ہونے کا مشاہدہ مجرمانہ عمل یا تشدد سے زیادہ نفسیاتی صدمہ پیدا کرتا ہے۔

    انڈونیشیا کا سمندری نگرانی پر مامور طیارہ لاپتہ

  • غزہ بورڈ آف پیس میں کون کونسے اراکین شامل ؟نام سامنے آگئے

    غزہ بورڈ آف پیس میں کون کونسے اراکین شامل ؟نام سامنے آگئے

    وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کر دیا۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق میجر جنرل جیسپر جیفرز کو عالمی استحکام فورس کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے ، وزیرخارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہیں۔

    آریے لائٹ اسٹون اور جوش گرون بام بورڈ کے سینئر مشیر مقرر جبکہ نکولے ملادینوف کو بورڈ آف پیس کا ایگزیکٹو رکن مقرر کیا گیا ہے جو غزہ کے لیے نمائندہ اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیں گےاس کے علاوہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ ساتھ مارک روون، اجے بنگا اور رابرٹ گیبریل بھی بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں۔

    کرکٹ کی تاریخ کا 253 سال پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا

    غزہ میں ‘بورڈ آف پیس’ کا قیام ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ ہے یہ بورڈ سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی اور نظم و حکومت میں اصلاحات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔

    انڈر19 ورلڈکپ :بھارتی کپتان نے بنگلادیشی کپتان سے ہاتھ نہ ملایا

  • پاکستان فلسطین اور کشمیر کے حقِ خود ارادیت کے اصولی موقف پر قائم ہے،دفتر خارجہ

    پاکستان فلسطین اور کشمیر کے حقِ خود ارادیت کے اصولی موقف پر قائم ہے،دفتر خارجہ

    پاکستان نے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ فلسطین ایک خودمختار ریاست ہونی چاہیے جو 1967 کی سرحدوں کے مطابق قائم ہو اور اس کا دارالحکومت الاقصیٰ ہو۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستانی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں اپنے رفقا سے ملاقاتوں میں فلسطین اور کشمیر کے معاملات کو اجاگر کیا انہوں نے او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے اپنا کردار مزید مضبوط کریں۔

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے ازبکستان، بنگلہ دیش، مالدیپ اور مصر کے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سے بھی مذاکرات کیے اس دوران انہوں نے نئے دفتر کی عمارت پر پاکستانی پرچم بھی لہرایا اور رِبن کٹنگ کے ذریعے عمارت کی افتتاحی تقریب میں حصہ لیا، جس کے بعد سیاہ اور سبز درختوں کی پودے لگانے کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔

    نائب وزیراعظم نے اس موقع پر سعودی حکام کی جانب سے فراہم کردہ تعاون کو سراہا اور کہا کہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بہتر اور مؤثر قونصلر خدمات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے بریفنگ میں یہ بات بھی واضح کی گئی کہ پاکستان فلسطین اور کشمیر کے حقِ خود ارادیت کے اصولی موقف پر قائم ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے گا۔

  • حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    غزہ:فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک آزاد فلسطینی ادارے کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    تنظیم کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ غزہ میں موجود تمام سرکاری و انتظامی ڈھانچے اب ایک خودمختار فلسطینی ٹیکنوکریٹک اتھارٹی کے تحت کام کریں گے حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن کونسل کے قیام سے متعلق حالیہ بیان کے بعد اٹھایا گیا ہے،تنظیم نے غزہ کے تمام اداروں کو ہدایت دے دی ہے کہ وہ مکمل اختیارات آزاد فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی کو منتقل کر دیں۔

    خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق حازم قاسم نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ غزہ کے انتظامی امور سے دستبردار ہونے کا فیصلہ حتمی اور غیر مبہم ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ نئی اتھارٹی بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکے،اختیارات کی یہ منتقلی اس معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی اس منصوبے پر شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے تھے اور اس میں غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق واضح نکات شامل ہیں۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ فلسطینی سیاسی دھڑوں کے درمیان اس سے قبل بھی اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ غزہ کا نظم و نسق ایک عارضی فلسطینی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا، جو آزاد شخصیات اور مقامی ماہرین پر مشتمل ہوگی یہ اتفاق 24 اکتوبر کو قاہرہ میں ہونے والے فلسطینی اجلاس میں طے پایا تھا۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے بھی اس بات کا اعلان کیا تھا کہ غزہ میں ایک بااختیار فلسطینی حکومت کے قیام کے بعد حماس انتظامی کردار سے الگ ہونے کے لیے تیار ہے۔

  • حماس نے  ’ابو عبیدہ‘ کی شہادت کی تصدیق کر دی

    حماس نے ’ابو عبیدہ‘ کی شہادت کی تصدیق کر دی

    غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اپنے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے ترجمان ’ابو عبیدہ‘ کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔

    القسام بریگیڈز کے نئے ترجمان نے آج جاری کردہ ویڈیو بیان میں ابو عبیدہ سمیت دیگر کمانڈروں کے جان بحق کی تصدیق کی کہا کہ اسرائیلی حملوں میں القسام کے قائدین محمد السنوار، رائد سعد، محمد شبانہ اور حکم العیسیٰ بھی شہید ہوئے۔

    نئے ترجمان نے ابو عبیدہ کو ان کے اصل نام حذیفہ الکحلوت سے متعارف کروایا اور محمد السنوار کے بارے میں کہا کہ وہ القسام کے سابق سربراہ محمد الضیف کے بعد بریگیڈ کے سربراہ تھے حذیفہ الکحلوت القسام کے میڈیا ونگ ’الاعلام العسکری‘ کے سربراہ تھے اور انہوں نے گزشتہ 20 سال سے زائد عرصے تک القسام کے ترجمان کی ذمہ داریاں سنبھالیں، ان کے دور میں میڈیا ونگ کو جدید خطوط پر منظم کیا گیا۔

    اسرائیل کی ابو عبیدہ کو شہید کرنے کی ویڈیو پھر سے وائرل

    نئے ترجمان نے اعلان کیا کہ حذیفہ الکحلوت اپنے پیچھے لقب ’ابو عبیدہ‘ چھوڑ گئے جبکہ حماس کی طرف سے جاری بیان میں نئے ترجمان کا نام بھی ابوعبیدہ بتایا گیا ہے۔

    میجر عدیل شہید کی نماز جنازہ ادا، فیلڈ مارشل اور وزیر داخلہ سمیت سول و عسکری شخصیات کی شرکت

  • اٹلی: حماس کو فنڈنگ کے شبہے میں 9 افراد گرفتار

    اٹلی: حماس کو فنڈنگ کے شبہے میں 9 افراد گرفتار

    اٹلی کے انسداد دہشت گردی یونٹ نے حماس کو چیریٹی کے ذریعے مالی امداد فراہم کرنے کے شبہے میں 9 افراد کو گرفتار کرلیا۔

    غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اٹلی کے شمالی شہر جینووا کے پراسیکیوٹرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ گرفتار افراد پر الزام ہے کہ فلسطینی گروپ کو مالی امداد پہنچائی ہے اور گروپ کو اسرائیل سمیت اس کے اتحادی اٹلی اور امریکا نے دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

    پروسیکیوٹرز نے بتایا کہ گرفتار افراد نے مبینہ طور پر گزشتہ دو برس کے دوران بظاہر انسانی ہمدردی کے تحت جمع کیے گئے 8.2 ملین ڈالر حماس سے منسلک اداروں کو منتقل کیے ہیں اور پولیس نے 8 ملین یورو سے زائد مالیت کے اثاثے ضبط کردیے ہیں۔

    نواز شریف اور مریم نواز دبئی روانہ

    پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ افسران نے فلسطین کے حامی فلاحی تنظیم کے دفاتر اور گرفتار افراد کے گھروں سے 1.08 ملین یورو نقد قبضے میں لے لیا ہے اور الزام عائد کیا کہ اس کے ساتھ حماس کے لیے معاون مواد بھی برآمد ہوا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اٹلی کے حکام کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی اور دیگر اداروں نے اس کارروائی میں مدد فراہم کی، جس میں معلومات اور شواہد شامل تھے۔

    وزیراعظم نے آزاد کشمیر میں کینسر اسپتال کا افتتاح کردیا

    واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ مظالم کے دوران اٹلی ان چند ممالک میں شامل تھا جس نے کھل کر اسرائیل کی حمایت کی تھی اور قریبی اتحادی کے طور پر سامنے آیا تھا،اٹلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی نے اس کارروائی پر حکام کو سراہا اور اس کو حماس کے خلاف اہم کارروائی کی قرار دیا۔

    دوسری جانب اٹلی کے فلسطین کے حامی کارکنوں کی جانب سے ان گرفتاریوں کے خلاف میلان اور دیگر شہروں میں احتجاج کیا اور پولیس کے اقدامات کو جبر اور تشدد کی مہم کا حصہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

    سہیل آفریدی نے پاکستان کے یورپ لاہور کی بہت سیر کرلی، واپس چلے جائیں،عظمیٰ بخاری

    فلسطینی حامی تنظیم ینگ فلسطینی اٹلی اینڈ عرب فلسطینی ڈیموکریٹک یونین نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو بھی دنیا کے دیگر تمام لوگوں کی حق خود ارادیت کو قانونی حق حاصل ہے اور انہیں مزاحمت کا بھی حق حاصل ہے اور اس طرح کی اقدامات کو دہشت گردی قرار دینا ناانصافی ہے۔

  • مسلم حکمران اپنے عوام کے مفادات کا تحفظ نہیں کرتے،حافظ نعیم الرحمان

    مسلم حکمران اپنے عوام کے مفادات کا تحفظ نہیں کرتے،حافظ نعیم الرحمان

    لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی ریاست کو کبھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم حماس کی مکمل حمایت کرتے ہیں جبکہ اسرائیل امن معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کر رہا ہے، غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے اسرائیل کو وہاں سے نکالنا ہو گاپوری امت فلسطینیوں کے ساتھ ہے اور حماس کو پوری دنیا میں تسلیم کیا جائےمسلم حکمران اپنے عوام کے مفادات کا تحفظ نہیں کرتےپاکستان پوری مسلم دنیا میں واحد ایٹمی طاقت ہے، اور دنیا کے وسائل پر چند لوگوں کا قبضہ ہے۔

    بنگلادیش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بنگلادیش میں عثمان ہادی کی شہادت کو نہیں بھول سکتے۔ اور بنگلادیش میں نوجوانوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ہمیں وہ انقلاب چاہیے جو عدل وانصاف کی بنیاد پر قائم ہو۔

  • مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل ہی امن کا واحد راستہ ہے، سعودی وزیر خارجہ

    مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل ہی امن کا واحد راستہ ہے، سعودی وزیر خارجہ

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن صرف دو ریاستی حل سے ہی ممکن ہے۔

    نیو یارک میں اقوام متحدہ کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا خطے میں امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کو دو ریاستی حل کی حمایت کرنی چاہیے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال کے بعد فرانس بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے،نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے حالیہ عالمی فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، پرتگال اور دیگر کئی ممالک کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے بعد اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ کانفرنس سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں فلسطین کے مسئلے کے پرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے منعقد کی گئی تھی،پاکستان کو فخر ہے کہ وہ 1988 میں فلسطین کے آزادی کے اعلان کے فوراً بعد اسے ریاست تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا مشرقِ وسطیٰ میں منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے پاکستان عالمی برادری، خصوصاً اُن ممالک سے اپیل کرتا ہے جنہوں نے تاحال فلسطین کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ بھی بین الاقوامی اصولوں کے تحت اس انسانی اور سیاسی فریضے کو پورا کریں۔

  • فرانس نے  فلسطین کو بطورِ آزاد ریاست تسلیم کرلیا

    فرانس نے فلسطین کو بطورِ آزاد ریاست تسلیم کرلیا

    فرانس نے فلسطین کو بطورِ آزاد ریاست تسلیم کرلیا۔

    فرانس اور موناکو نے پیر کے روز ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس میں باضابطہ طور پر فلسطین کو آازاد ریاست کے طور پر تسلیم کرلیا،فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانی ہوں گی تاکہ دو ریاستی حل کے امکان کو محفوظ رکھا جا سکے، جہاں اسرائیل اور فلسطین امن اور سلامتی کے ساتھ ساتھ رہ سکیں، یہ اعلان کرتے ہی شرکا نے زور دار تالیاں بجائیں،فرانسیسی صدر نے نئی فلسطینی اتھارٹی کے لیے ایک فریم ورک پیش کیا، جس کے تحت فرانس اصلاحات، جنگ بندی اور غزہ میں قید تمام قیدیوں کی رہائی جیسے عوامل کی بنیاد پر ایک سفارتخانہ کھولے گا۔

    https://x.com/EmmanuelMacron/status/1970237707336192210

    روس ایران میں 8 نئے جوہری بجلی گھر تعمیر کرے گا

    اینڈورا، بیلجیم، لکسمبرگ اور سان مارینو سے بھی توقع ہے کہ وہ اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قبل فلسطین کو تسلیم کریں گے، اس سے قبل ہفتے کے اختتام پر آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا، پرتگال اور مالٹا نے بھی ایسا کیا،پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وزیر خارجہ اسحاق ڈار مقررین میں شامل نہیں تھے، اس اجلاس میں ترکیہ، آسٹریلیا، برازیل اور کینیڈا سمیت کئی ممالک کے سربراہان اور وزرائے اعظم شریک تھےوزیراعظم شہباز شریف پیر کو نیویارک پہنچے لیکن اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

    لاکھوں قانونی مہاجرین کو واپس بھیج کر £230 بلین بچائیں گے، نائجل فراج

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے کانفرنس میں بھرپور شرکت کی،وزیر خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر متعدد ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کے اعلانات کا خیر مقدم کیا۔

    کراچی:ملزم شبیر تنولی کا 5 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف

    یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے، جب مغربی طاقتوں نے دہائیوں پرانی پالیسی سے ہٹ کر فلسطین کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے،بھھ1برطانیہ، جس نے 1917 کے بالفور اعلامیے کے ذریعے اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کی تھی، اس نے بھی پیر کو لندن میں فلسطینی سفارتخانہ کھول دیا۔

    یہ اعلیٰ سطحی اجلاس جولائی میں ہونے والی ایک سمٹ کے بعد منعقد ہوا، جس میں نیویارک اعلامیہ کا مسودہ تیار کیا گیا تھا اور بعد ازاں 12 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسے منظور کیااسی روز وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز میں دولت مشترکہ وزرائے خارجہ اجلاس میں بھی شرکت کی۔

    چین اور امریکا کے دفاعی مذاکرات کا آغاز، فوجی روابط بہتر بنانے پر زور

    انہوں نے قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کی میزبانی میں ہونے والی مشاورت میں بھی شرکت کی، جس میں اردن اور یو اے ای کے نائب وزرائے اعظم اور مصر، انڈونیشیا، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ شامل تھے، اس موقع پر انہوں نے کینیڈین ہم منصب انیتا آنند سے بھی ملاقات کی۔

  • فرانس آج فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا

    فرانس آج فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا

    آج فرانس بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق باضابطہ اعلان سے پہلے ہی فرانس میں ایفل ٹاور پر فلسطین کے پرچم لگا دیئے گئے ہیں،فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی حماس کے خلاف حکمت عملی ناکام ہوگئی اور غزہ جنگ سے اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے، پائیدارامن کیلئے دوریاستی حل ضروری ہے۔

    واضح رہے کہ آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا اور پرتگال فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر چکے ہیں،کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہوئے شراکت داری کی پیشکش بھی کی،

    آسٹریلیا نے بھی دو ریاستی حل کے حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا دو ریاستی حل کیلئے عالمی کوششوں کا حصہ ہے،اسی طرح پرتگال کے وزیر خارجہ نے فلسطین کو باضابطہ ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پرتگال کی خارجہ پالیسی کی ایک مستقل اور بنیادی لائن ہے جو دو ریاستی حل کو پائیدار امن کا واحد راستہ سمجھتا ہے۔

    دوسری جانب امریکا کا کہنا ہے کہ برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور دیگر ممالک کا فلسطین کو تسلیم کرنا نمائشی اقدام ہےامریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ہم سنجیدہ سفارتکاری پر یقین رکھتے ہیں، نمائشی اعلانات پر نہیں اور ہماری ترجیحات میں امن، اسرائیل کی سیکیورٹی اور یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے۔