Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • سیاسی اختلافات ضرورلیکن فلسطین کے مسئلے پر سب کو متحد کریںگے،مصطفیٰ کمال

    سیاسی اختلافات ضرورلیکن فلسطین کے مسئلے پر سب کو متحد کریںگے،مصطفیٰ کمال

    سینئر ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم پاکستان سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ فلسطین میں اسرائیل کی طرف سے وحشیانہ بمباری کی مذمت کرتے ہیں

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو ظلم ڈھانے سے کوئی روکنے والا نہیں ،امت مسلمہ آج متحد نہیں دکھائی دیتی ہے،پاکستان کلمے کے نام پر آزاد ہوا تھا ،کلمہ ایک واحد چیز تھی جس پر بر صغیر کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا گیا ،مسلمانوں نے یہ خطہ اس لیے حاصل کیا یہاں کلمے کا نظام حاصل کریں ،ہم دنیا کے تمام چیلنجز سے خود کو علیحدہ نہیں کر سکتے ،ہمارے سیاسی اختلافات ہیں لیکن فلسطین کے معاملے پر پوری امت مسلمہ کو متحد کریں گے

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ آنے والا وقت ایم کیو ایم کا ہے اب کراچی سے پورا پاکستان چلے گا ،پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں فین کلب ہے، عمران خان کا کوئی مستقبل نہیں،پیپلز پارٹی نے اٹھارویں ترمیم کے نام پر تمام اختیارات اور وسائل ہڑپ کر لیے،اگر 22 ہزار ارب ایمانداری سے خرچ ہوجاتے تو سندھ کو کئی مرتبہ دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا تھا لیکن آپکے ٹیکس کے پیسوں سے دوبئی میں جاگیریں خریدی جا چکی ہیں

    جو جیسا کرے گا ویسا ردعمل دیا جائے گا، مصطفیٰ کمال کا دبنگ اعلان

    اقتدار نہیں مسائل کا حل چاہئے، مصطفیٰ کمال کا دھرنے سے خطاب

    اختیارات گلی کوچوں تک پہنچنے چاہئیں،مصطفیٰ کمال

    ملکی ترقی کے لیے عام آدمی کا بااختیار ہونا ضروری ہے. مصطفیٰ کمال

  • مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے کردار کے حوالے سے پاکستان کی دانشمندانہ سفارتکاری

    مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے کردار کے حوالے سے پاکستان کی دانشمندانہ سفارتکاری

    امت مسلمہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے عوامی بیانیٔے کی پیروی اور فلسطینیوں کی حالت زار کو بیان کرنا چاہئے جنہیں بلاشبہ سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی سیاست کے پیچیدہ منظر نامےکو دیکھتے ہوئے پاکستان کو انتہائی احتیاط برتنی چاہیے اور پاکستان کو اپنے قومی مفادات کو ہر چیز سے بالاتر رکھنے کی ضرورت ہے۔

    ایک جامع نقطہ نظر حاصل کرنے کے لیٔے،ماضی کی طرف جاتے ہیں اور وسیع تر سیاق و سباق پر غور کرتے ہیں۔ 2016-17 میں، مصر نے سینائی کے علاقہ میں اسلامک اسٹیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیٔے، حماس کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا، جو تنظیم کے متعلق، اس کے پچھلے موقف میں اہم تبدیلی تھی۔ اس نقطہ نظر کی وجہ سے مصر نے 2018 سے منتخب تجارتی سامان کو صلاح الدین بارڈر کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل کرنے کی اجازت دی۔ 2021 سے، خبروں کے مطابق، حماس غزہ میں مصری درآمدات پر ٹیکس کی مد میں ہر ماہ ایک اندازے کے مطابق 12 ملین ڈالر جمع کر رہی ہے۔

    امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق، ایران حماس کے ایک اہم فنانسر کے طور پر سامنے آیا ہے، جو حماس اور فلسطین اسلامی جہاد سمیت مختلف فلسطینی عسکری گروپوں کو سالانہ 100 ملین ڈالر تک کا تعاون کرتا ہے۔ اس کے برعکس، ٹائمز میگزین کے مطابقہ امریکی کانگریس نے حماس کے خلاف کوششوں کو تقویت دینے کے لیے تقریباً 2 بلین ڈالر کا امدادی پیکج تجویز کیا ہے۔

    حماس نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے بھی اہم فنڈنگ حاصل کی ہے، اسرائیلی حکام نے 2020 اور 2023 کے درمیان تقریباً 41 ملین ڈالر ضبط کیٔے، اسکو وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے۔ مزید 94 ملین ڈالر مبینہ طور پر متعلقہ ادارہ فلسطینی اسلامی جہاد کے پاس ہیں۔

    دشمنیوں میں حالیہ اضافہ، طویل عرصہ سے جاری کشیدگی جو کئی مہینوں سے بڑھ رہی تھی۔ جس کی وجہ سے معصوم جانوں کا المناک نقصان ہوا۔ اس تنازعے کی دل دہلا دینے والی تصاویر اور کہانیاں دنیا کو چونکاتی رہتی ہیں۔

    اس پیش رفت کو جاری سفارتی مذاکرات کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل تین طرفہ مذاکرات میں مصروف ہیں، واشنگٹن نے یروشلم کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ریاض کو یقین دہانیاں کروائی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، اسرائیل تجارتی معاہدوں کی تلاش کر رہا ہے، جس میں یورپ کو گیس کی ممکنہ برآمدات، اور ترکی جیسی مختلف ریاستوں کے ساتھ تجارتی راہداری شامل ہیں۔ اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ بات چیت میں مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ تاہم، اگر مغربی کنارے میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں طویل عرصے تک جاری رہیں تو یہ معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔ یہ الزامات کہ ایران نے حالیہ حملے میں مرکزی کردار ادا کیا، جیسا کہ اسرائیل کے حامی دھڑوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے، معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حماس تقریباً ایران کے لیے ایک پراکسی ہے۔ الجزیرہ نے 15 اکتوبر 2023 کی رپورٹ میں کہا کہ ایران نے اسرائیل کو علاقائی کشیدگی سے خبردار کیا ہے اگر اسرائیلی فوج غزہ میں زمینی حملے کے لیے داخل ہوتی ہے تو ایران بھی اس جنگ میں کود پڑے گا.

    تازہ ترین خبروں کے مطابق، سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کو موقوف کر دیا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے، کیونکہ ریاض خطے میں کشیدگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ امریکہ اس معاہدے میں کتنی دلچسپی رکھتا ہے۔

    اس پیچیدہ سفارتی منظر نامے کے پیش نظر پاکستان کو غیر جانبدار رہنا چاہیے، اور فریقین کا موقف اپنالینے سے گریز کرنا چاہیے۔ عوامی بیانیہ کے آگے جھکنے کے بجائے، اسے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے اور اس پیچیدہ بین الاقوامی منظر نامے پر احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

  • اسرائیلی حملوں میں 1 ہزار بچوں سمیت 2800 اموات

    اسرائیلی حملوں میں 1 ہزار بچوں سمیت 2800 اموات

    حماس کے اسرائیل پرسات اکتوبر کے حملے کے بعد اسرائیل کی جوابی کاروائی میں غزہ پر مسلسل بمباری، حملے جاری ہیں، اسرائیلی حملوں میں 2800 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں

    اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے فلسطینی شہریوں کے لئے مشکلات بڑھ گئی ہیں، خوراک،پانی ،بجلی کی سہولیات ختم ہو چکی ہیں، کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں شہری اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لئے قیام کر سکیں،عمارتوں پر بمباری سے عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں،شہید ہوانے والوں میں ایک ہزار بچے اور چار سو سے زائد خواتین بھی شامل ہیں،اسرائیلی حملوں سے دس ہزار شہری زخمی بھی ہوئے ہیں، ایک ہزار کے قریب لاشیں عمارتوں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں جن کو نکالنے کا کام جاری ہے.

    امریکا اور اسرائیل کے درمیان امدادی سامان غزہ بھیجنے پر اتفاق
    اسرائیلی حملوں سے غزہ میں ہر طرف تباہی نظر آتی ہے، ہسپتال،سکول،کچھ بھی محفوظ نہیں ہر طرف لاشیں، زخمی، چیخ و پکار، اموات اتنی کہ لاشوں کو ٹرک میں ڈال کر اجتماعی قبریں بنا کر دفن کیا جا رہا،ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل سے غز ہ میں امداد بھجوانے کا کہا لیکن اسرائیل نہ مانا بلکہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں کام کرنے والی ایمبولینس گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا، طبی عملے کے ارکان بھی شہید ہو چکے ہیں تو کئی ایمبولینس گاڑیاں بھی تباہ ہو چکی ہیں،

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ امدادی سامان بھیجنے سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم سے 8 گھنٹے طویل ملاقات کی جس میں امدادی سامان غزہ بھیجنے پر اتفاق کیا گیاہے، امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کا دوسری بار دورہ کر رہے ہیں،پہلے دورے کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کا دورہ کیا تھا.

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا یہ دورہ اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کے لئےہو گا،اردن اور مصر بھی جائیں گے اور سربراہان مملکت سے ملاقات کریں گے،بلنکن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو حق حاصل ہے کہ وہ حماس سےلوگوں کو محفوظ بنائے،امریکی کمانڈر مائیکل کوریلا صدر جوبائیڈن کی آمد سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی شہر، تل ابیب پہنچ گئے ہیں،

    امریکی صدر جوبائیڈن نے ٹویٹر پر کہا کہ وہ اسرائیل کا دورہ کریں گے، حماس کے اقدامات فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔کچھ بنیادی اقدار ہیں جن کا ہمیں بطور امریکی مل جل کر رہنا چاہیے اور ان بنیادی اقدار میں نفرت، نسل پرستی، تعصب اور تشدد کے خلاف کھڑا ہونا شامل ہے، نفرت کی کارروائیاں ہماری بنیادی اقدار کے خلاف ہیں اور امریکہ میں نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہے

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    سلامتی کونسل میں فسلطین،اسرائیل جنگ بندی کی قرارداد مسترد
    اسرائیل کی غزہ پر بمباری، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کے لئے روس نے قرار داد پیش کی تھی جو چار ووٹوں سے مسترد کر دی گئی ہے،روس کو 15 رکنی باڈی میں نو ووٹ نہیں ملے، قرارداد کے حق میں چین، روس، متحدہ عرب امارات، میوزمبیق،گیبون نے ووٹ دیئے، قرارداد کی مخالفت میں امریکا، برطانیہ،فرانس ،جاپان نے ووٹ دیئے،روسی قرارداد پر چھ اراکین البانیہ، برازیل،گھانا، سوئٹزرلینڈ، مالٹا،ایکواڈو نے ووٹ ہی نہیں دیئے.

  • پاکستان کا غزہ میں انسانی امداد بھیجنے کا فیصلہ

    پاکستان کا غزہ میں انسانی امداد بھیجنے کا فیصلہ

    پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ غزہ پٹی پر اندھا دھند اسرائیلی جارحیت اور محاصرے کے تناظر میں گنجان آباد غزہ کے پہلے سے ہی مظلوم عوام کو انسانی امداد کی فوری ضرورت ہے۔ غزہ میں رونما ہونے والے انسانی المیے کے پیش نظر حکومت پاکستان نے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے فوری طور پر غزہ میں انسانی امداد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا حکومت فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی، اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں، حکومت مصر اور بیرون ملک پاکستانی مشنز کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ترسیل کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جا سکے۔

    دوسری جانب نگراں وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی نے ترک ہم منصب حقان فدان سے رابطہ کیا ہے اور اس میں دونوں رہنماؤں نے مسئلہ فلسطین کے مستقل حل پر زور دیا ہے جبکہ جلیل عباس جیلانی اور حقان فدان نے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے 5 نکاتی فارمولے پر اتفاق کیا، 5 نکاتی فارمولے میں جنگ بندی اور ریلیف کوریڈور شامل ہیں اور اس کے علاوہ اسرائیلی بستیوں کا خاتمہ، قیدیوں کی رہائی اور 2 ریاستی حل شامل ہے۔

    تاہم دوسری جانب نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایرانی اور مصری ہم منصب سے رابطے کیے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور پاکستان کے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پرمربوط ردعمل کی کوششیں جاری ہیں، نگراں وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایرانی اور مصری ہم منصب سے رابطے کیا اور غزہ پر اسرائیلی حملوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آصف علی زرداری کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات
    سابق کر کٹر وسیم اکرم قومی ٹیم کے فٹنس کے حوالے سے پریشان
    پیٹرول کی قیمت کم ہونے کا فائدہ عام آدمی کو پہنچائیں گے. عامر میر
    آسٹریلیا نے دو کٹوں‌کے نقصان پر 39 رنز بنا لیئے
    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ دورہ چین کیلئے بیجنگ پہنچ گئے
    علاوہ ازیں جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ انسانی امداد کی فراہمی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے اور جلیل عباس جیلانی نے تنازعات کو بڑھنے سے روکنے، شہریوں کو اجتماعی سزا، بھوک اور بے گھر ہونے سے بچانے پر زور دیا جبکہ جلیل عباس جیلانی نے پاکستان کی طرف سے انسانی امداد کی یقین دہانی بھی کرائی۔

  • اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، جس کے جواب میں اسرائیل کے حملے ابھی تک جاری ہیں، 26 سو سے زائد اموات غزہ میں ہوچکی ہیں، اسرائیل پر حملے کا ماسٹر مائنڈ کون تھا؟ اس حوالہ سے کہا جا رہا ہے ماسٹر مائنڈ "محمد الضیف” ہے جس کی ابھی تک کوئی تصویر سامنے نہیں آ سکی.

    محمد الضیف حماس کی عسکری ونگ کی قیادت کر رہے ہیں، حماس کے اسرائیل پر حملے کا ماسٹر مائنڈ انہی کو مانا جا رہاہے، محمد الضیف کی چند تصاویر موجود ہیں مگر واضح کوئی بھی نہیں،ایک سایہ دار تصویر ہے جو کبھی کبھار احتجاجی مظاہروں میں شرکاء کتبوں پر بناکر اٹھاتے ہیں،

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، محمد الضیف غزہ کی پٹی میں حماس کے عسکری ونگ کے اعلیٰ کمانڈر ہیں، جس کو القسام بریگیڈز کے نام سے جانا جاتا ہے۔2015 میں، امریکی حکومت نے الضیف کو ایک عالمی دہشت گرد کے طور پر نامزد کیا، اسے خودکش حملہ آوروں کی تعیناتی اور اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ محکمہ خارجہ نے کہا کہ 2014 میں غزہ جنگ کے دوران الضیف نے حماس کی جارحانہ حکمت عملی کی قیادت کی۔

    حماس کے حملوں میں ان کے اہم کردار کے باوجود،الضیف ایک پرکشش شخصیت بنی ہوئی ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق،الضیف کہاں رہتے ہیں اس بارے میں کسی کو معلوم نہیں ،وہ عوام کے سامنے نہیں آتے، واشنگٹن پوسٹ کے مطابق آیا محمد الضیف اصلی نام ہے بھی سہی یا نہیں، اسکی بھی تصدیق نہیں ہو سکی

    رائٹرز کے مطابق، الضیف کی صرف چند تصاویر موجود ہیں،یہ تصویر اس سے قبل اگست 2014 میں ایک مظاہرے کے دوران استعمال کی گئی تھی، جس میں اسرائیلی افواج کے خلاف لڑنے والے حماس کے عسکریت پسندوں کی حمایت ظاہر کی گئی تھی۔

    ہفتے کے روز، حماس کے ایک ٹی وی چینل نے اعلان کیا کہ محمد الضیف ایک بیان جاری کرے گا، جس میں فلسطینیوں کو اشارہ دیا جائے گا کہ کچھ اہم ہونے والا ہے۔محمد الضیف کا بیان آڈیو ٹیپ پر چلایا گیا اور نشر پر پہلے سے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ریکارڈنگ میں محمد الضیف نے کہا کہ یہ حملے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں کا ردعمل ہیں، حماس کے آپریشن کو "آپریشن القصیٰ طوفان” کہتے ہیں۔نیویارک ٹائمز کے مطابق، الضیف نے آڈیو ریکارڈنگ میں کہا، "عسکریت پسندو، یہ آپ کا اس مجرم دشمن کو دفن کرنے کا دن ہے۔ اس کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ جہاں بھی آپ انہیں پائیں انہیں مار ڈالو”۔ "اس گندگی کو اپنی سرزمین اور اپنے مقدس مقامات سے ہٹا دو۔ لڑو ان سے،

    حماس کے ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ غزہ میں محمد الضیف کے ساتھ حماس کے ایک اور رہنما یحییٰ سنوار نے اسرائیل پر حملے کی تیاری کا کہا تھا۔ تاہم، الضیف اس آپریشن کا "ماسٹر مائنڈ” تھا،

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر

    غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے بیان کے مطابق اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد 2670 ہو گئی ہے،حملوں میں نو ہزار چھ سو کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں، غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 730 بچے بھی شہید ہوئے ہیں،

    اسرائیل کی غزہ پر بمباری سے 11 صحافیوں کی بھی موت ہوئی ہے، فلسطین جرنلسٹ سینڈیکیٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب تک اسرائیلی حملوں میں 11 صحافی مارے جا چکے ہیں،صحافیوں کو فرائض کی ادائیگی کے دوران مشکلات کا سامنا ہے

  • اسرائیلی جارحیت  پوری انسانیت پر حملہ ،اسرائیلی حملے کے 10 دن بعد نواز شریف بھی بول پڑے

    اسرائیلی جارحیت پوری انسانیت پر حملہ ،اسرائیلی حملے کے 10 دن بعد نواز شریف بھی بول پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف پاکستان واپسی کے لئےلندن سے روانہ ہوئے اور سعودی عرب میں ہیں، نواز شریف نے سعودی عرب میں عمرہ ادا کیا ہے ،نواز شریف کی سعودی عرب میں کسی اہم شخصیت سے ملاقات نہیں ہو سکی، نواز شریف 21 اکتوبر کو لاہور پہنچیں گے،

    اسرائیل نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد غزہ پر کاروائی کی اور آج تک بمباری جاری ہے، 2600 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں،آج دس دن ہو چکے ، غزہ میں ہر طرف تباہی ہے، عمارتیں بمباری سے ملیا میٹ ہو چکی ہیں، لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، آج اسرائیلی حملے کے دس دن بعد سابق وزیراعظم نواز شریف نے ٹویٹ کی ہے، اس سے قبل نواز شریف اسرائیلی حملے پر مکمل خاموش تھے

    نواز شریف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیلی جارحیت محض فلسطین پر نہیں، پوری انسانیت پر حملہ ہے۔ بچوں، عورتوں سمیت ہزاروں معصوم شہریوں کی شہادت، انسانی ضمیر کیلئے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دنیا کو جان لینا چاہیے فلسطین کے مسئلے کے مستقل حل کے بغیر پائیدار امن ہمیشہ خطرے میں رہے گا۔پاکستان آج بھی، ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ ہر عالمی فورم پر فلسطینی کاز کے حق میں آواز اٹھائے نیز مصیبت زدہ فلسطینی عوام کو خوراک، ادویات اور دیگر انسانی ضروریات کی فراہمی کیلئے فوری کاروائی کرے۔

    قبل ازیں، ن لیگی رہنما مریم نواز کا کہنا تھا کہ عالمی برادری فلسطینیوں کاقتل عام رکوائے، انسانیت پسندعوام بے گناہوں کاخون بہنے سے روکنے کیلئے اپناکرداراداکریں نہتے اورمحصورفلسطینیوں پروحشیانہ بمباری جنگی جرائم ہیں ،ہسپتالوں،قافلوں ،آبادیوں پرحملےقانون پرچلنے والی اقوام متحدہ کاشیوہ نہیں،اسلامی ممالک کی قیادت عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرے،

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

  • جنگ اسرائیل اور حماس سے آگے بڑھ سکتی ہے،امریکہ

    جنگ اسرائیل اور حماس سے آگے بڑھ سکتی ہے،امریکہ

    امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اسرائیل اور حماس سے آگے بڑھ سکتی ہے۔

    اعلیٰ امریکی حکام نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جنگ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے تنازعے کی شکل اختیار کر سکتی ہے، انہیں خدشہ ہے کہ لبنانی گروپ حزب اللہ اسرائیل کے شمال پر حملہ کر سکتا ہے،

    امریکی جنگی بحری جہازوں کا ایک اور بیڑہ طاقت کے مظاہرے میں خطے کی طرف روانہ کیا گیا تھا جس کا مقصد اس طرح کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنا تھا۔اسرائیل نے آٹھ روز قبل حماس کے اسرائیل کے اندر غیر معمولی حملوں کے جواب میں غزہ پر زبردست بمباری کی ہے ،وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کا کہنا ہے کہ”اس تنازعہ کے بڑھنے، شمال میں دوسرا محاذ کھولنے اور یقیناً ایران کی شمولیت کا خطرہ ہے۔”

    ان تبصروں کی بازگشت وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کی، جنھوں نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وائٹ ہاؤس "اس تنازعہ کے ممکنہ اضافے یا وسیع ہونے” کے بارے میں فکر مند ہے۔

    ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے خبردار کیا کہ ان کا ملک کارروائی کر سکتا ہے، انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس نے اسرائیلی حکام کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ "اگر وہ غزہ میں اپنے مظالم بند نہیں کرتے تو ایران محض مبصر نہیں رہ سکتا۔”انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو امریکہ کو بھی بھاری نقصانات اٹھانا پڑیں گے۔

    دریں اثنا، ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے اتوار کو کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں دیگر سینیٹرز کے ساتھ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے خطے کا دورہ کر رہے ہیں۔گراہم نے کہا کہ وہ ایک ایسا بل پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو "امریکہ کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کو تیل کے کاروبار سے باہر کرنے کے لیے فوجی کارروائی کی اجازت دے گا” اگر ایران اسرائیل پر حملہ کرتا ہے۔

    امریکی حکومت کے اہلکاروں نے یہ بھی کہا کہ وہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے میں مدد کے لیے متحرک ہو رہے ہیں۔

    امریکہ نے ترکی میں سابق سفیر ڈیوڈ سیٹر فیلڈ کو مشرق وسطیٰ کے انسانی مسائل کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے۔ محکمہ خارجہ نے کہا کہ ان کی توجہ غزہ کے بحران پر مرکوز ہوگی، "سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو جان بچانے والی امداد کی فراہمی اور شہریوں کی حفاظت کو فروغ دینے کا کام بھی شامل ہے۔”

    حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر
    دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈین نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ حماس کا وجود مٹانا ہو گا، جلد اسرائیل کا دورہ کروں گا،اسرائیل کا غزہ پر قبضہ بہت بڑی غلطی ہو گی،امریکی صدر جو بائیڈن نے فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ حماس فلسطینیوں کی حق خود ارادیت کی ترجمانی نہیں کرتی جبکہ محمود عباس نے بھی امریکی صدر کی تائید کی،جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ حماس کو تباہ ہونا چاہیے لیکن فلسطینی ریاست کے لیے راستہ بھی ہونا چاہیے۔

    امریکہ حماس کے خلاف اسرائیل کا ابتدا سے ہی ساتھ دے رہا ہے، امریکہ اسرائیل کی حمایت میں دو جنگی جہاز اسرائیل کی سمندری سرحد کے قریب تعینات کر چکا ہے، تاہم اب امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ پر قبضہ نہ کرنے کے بارے میں بیان دے دیا،

    امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے امریکی ٹی وی چینل کو بتایا کہ اس تنازعے کے بڑھنے اور شمال میں دوسرا محاذ کھولنے کی وجہ سے ایران کی جنگ میں شمولیت کا خطرہ ہے،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے جمعہ کو عمان، اردن میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے بھی ملاقات کی،امریکی سیکرٹری خارجہ نے سعودی ولی عہد، سعودی وزیر خارجہ سمیت دیگر ممالک کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کی، اس سے قبل انہوں نے اسرائیل کا بھی دورہ کیا تھا،

    مصر میں فلسطینی سفیر دیاب اللوح کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 30 ہزار سے زائد مکانات تباہ ہوچکے ہیں، 12 لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہیں اور 14 سے زیادہ ہسپتال ملیامیٹ کر دیے گئے ہیں،غزہ کی پٹی کی صورتحال سنگین ہے، مرنے والوں کی لاشیں دفنانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے،ہسپتال لاشوں اور زخمیوں سے بھر گئے ہیں،پانی و خوراک کی قلت کی وجہ سے بھی فلسطینی مسائل کا شکار ہیں،

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    حماس نے اسرائیل پر حملہ کیوں کیا؟امریکہ میں مسلمان خاتون اور اسکے بیٹے پر چاقو سے مالک مکان کا حملہ
    امریکی ریاست الینواے میں ستر سالہ شخص نے ایک خاتون اور اسکے بیٹے پر چاقو سے وار کیا ہے ، جس سے دونوں زخمی ہو گئے ہیں،26 سالہ لڑکے کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم اسکی موت ہو گئی،71 سالہ جوزف کازوبا کے بارےمیں کہا جا رہا ہے کہ اس نے مسلم خاتون اور اسکے بیٹے کو نشانہ بنایا،خاتون اور اسکا بیٹا جہاں مقیم تھے وہ جوزف کا گھر تھا، پولیس نے اس کیس میں امریکی مالک مکان پر قتل اور نفرت پر مبنی جرائم کا الزام عائد کیا ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ جوزف نے مسلمان ہونے کی وجہ سے دونوں پر چاقو سے حملہ کیا،یہ واقعہ شکاگو سے 64 کلو میٹر دور مغرب میں پیش آیا،

    اس کیس کو اسرائیل اور حماس کی لڑائی سےجوڑا جا رہا ہے، امریکی میڈیا کے مطابق حماس نےا سرائیل پر حملہ کیا ،اسی کو لے کر جوزف نے مسلمان خاندان جو انکے گھر میں مقیم تھا پر حملہ کیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق مرنیوالا فلسطینی نژاد امریکی تھا،زخمی خاتون کی حالت بہتر بتائی جا رہی ہے

  • وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    حماس کے اسرائیل پر حملے کے دوران حماس نے اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا تھا، اس دوران ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ حماس کے لوگ ایک گاڑی میں پیچھے کسی شخص کو باندھ کر لے کر جا رہے ہیں، مسلح افراد بھی اس گاڑی میں بیٹھے تھے اور اللہ اللہ اکبر کی آوازیں آ رہی تھیں، حماس کی گاڑی میں وہ یرغمالی کون تھا، اس حوالہ سے خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایک 22 سالہ جرمن لڑکی تھی جسے حماس نے یرغمال بنایا، جرمن لڑکی ایک میوزک فیسٹول میں گئی تھی جہاں حماس کے حملے کے بعد کئی افراد کو یرغمال بنایا گیا ہے ان میں سے ایک وہ لڑکی بھی شامل تھی

    22 سالہ جرمن لڑکی کا نام شانی لوک ہے اور اسکے پاس جرمنی کی شہریت ہے تاہم انہوں نے جرمنی چھوڑ دیا تھا،اسکے دادا دادی جرمنی میں ہیں انکو ملنے شانی کبھی کبھار جاتی تھی،شانی کی والدہ کیتھولک تھیں جنہوں نے بعد میں یہودیت اختیار کر لی اور اسکے بعد اسرائیل آ کر مقیم ہو گئیں، شانی کے والد بھی اسرائیلی یہودی ہیں، انکا خاندان غزہ کی پٹی سے تقریبا 80 کلومیٹر کے فاصلے پر رہائش پذیر تھا.

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شانی لوک کی والدہ نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ شانی اپنے دوستوں کے ساتھ میوزک فیسٹول میں گئی تھی، اسی دوران حماس نے حملہ کر دیا، اسکا بیٹی سے حملے کے دوران رابطہ ہوا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ پناہ کی تلاش میں ہے، اسکے بعد شانی سے کوئی رابطہ نہ ہو سکا،سوشل میڈیا پر جب ویڈیو وائرل ہوئی تو ہمیں شک ہوا کہ وہ شانی ہی ہے جسے باندھ کر لے جایا جا رہا ہے، بعد میں اسکا کریڈٹ کارڈ غزہ میں استعمال ہوا، جس سے ہمیں یقین ہو گیا کہ شانی کو حماس نے ہی یرغمال بنایا ہے، ہم نے ہسپتال تک چیک کر لئے لیکن یہاں اسکی کوئی اطلاع نہیں ،غزہ میں کریڈٹ کارڈ کے استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شانی یرغمالیوں میں شامل ہے،

    شانی لوک کی والدہ کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں کہ وہ ابھی تک زندہ بھی ہے یانہیں، اس نے بیٹی کی ویڈیو دیکھی، وہ امید نہیں کھونا چاہتی ،شانی کی والدہ کے ردعمل کے بعد شانی کے ایک دوست نے بھی تصدیق کی کہ شانی کو ہی حماس نے یرغمال بنایا اور یہ وائرل ویڈیو اسی کی ہے،

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

  • القسام بریگیڈ کے ترجمان کے اہلیہ اور بچوں کی اسرائیلی حملے میں موت کی تردید

    القسام بریگیڈ کے ترجمان کے اہلیہ اور بچوں کی اسرائیلی حملے میں موت کی تردید

    حماس کے ترجمان ابوعبیدہ کی اہلیہ او ر بچوں کی اسرائیلی حملے میں شہادت کی خبر درست نہیں، حماس کے پولیٹکل بیورو کے رکن نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے ترجمان ابوعبیدہ کے خاندان کے لوگ محفوظ ہیں،

    حماس رہنما عزت الرشق نے کہا کہ جو لوگ شہید ہوئے وہ میرے پیارے بھائی احمد سمیر قنیتہ ابو عبیدہ کی بیوی اور بچے تھے اللہ ان سب پر رحم کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ کنیت کی مماثلت کی وجہ سے کچھ لوگوں کو غلطی ہوئی، واضح رہے کہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ القسام بریگیڈ کے سرکاری ترجمان ابو عبیدہ کی بیوی اور بچے ان کے گھر پر اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اسرائیل سے شہریوں کو نکالیں گے،سفری اخراجات دینا ہوں گے،امریکہ
    دوسری جانب امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ وہ سمندر کے راستے اسرائیل میں مقیم شہریوں کو نکالے گا،امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں مقیم امریکی شہری کو اسرائیل چھوڑنا چاہتے ہیں انکو بحری راستے سے قبرص لے جایا جائے گا،وہاں سے چارٹر طیارے دستیاب ہوں گے، جو امریکی نکلنا چاہتے ہیں انکو سفر کے اخراجات خود ادا کرنا ہوں گے،امریکی جہاز کل پیر کو شمالی اسرائیل کی شہر حیفہ کی بندر گاہ سے روانہ ہو گا،جس میں امریکی شہری اور انکے اہلخانہ ہوں گے،قبرص میں رہائش اور سفری اخراجات شہریوں کے ہی ذمہ ہوں گے.

    نتین یاہو …شرم کرو،اسرائیلی شہریوں کا اسرائیل میں احتجاج
    حماس کے اسرائیل پر حملے کے دوران حماس نے اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنایا ہے جس میں سے 22 اسرائیلی شہری اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہو چکے ہیں، یرغمال شہریوں کے اہلخانہ نے تل ابیب میں احتجاجی مظاہرہ کیا، شرکاء اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف نعرے لگا رہے تھے، احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے اسرائیلی وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ یرغمال شہریوں کی رہائی کے لئے کردار ادا کیا جائے،ورنہ وہ مارے جائیں گے، اگر مارے گئے تو ذمہ دار نتین یاہو ہوں گے، وہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں، حماس اگر اپنے قیدی چھڑوانا چاہتا ہے تو انکی بات وقت ضائع کئے بغیر مانی جائے.

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

  • حماس کے تیسرے رہنما کو قتل کر دیا،اسرائیل کا دعویٰ

    حماس کے تیسرے رہنما کو قتل کر دیا،اسرائیل کا دعویٰ

    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بمباری میں حماس کے تیسرے رہنما کو قتل کر دیا ہے

    اتوار کو اسرائیلی فوج کی جانب سے حماس کے ایک اور رہنما کی موت کی تصدیق کی گئی جو سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں ملوث تھا،اسرائیل نے حماس کے رہنما بلال القدرہ کی موت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلال حماس کے تیسرے رہنما ہیں جن کو نشانہ بنایا گیا، اسرائیلی فوج کے مطابق ہفتے کی شام غزہ پر بمباری کے دوران بلال القدرہ کی موت ہوئی، وہ اسرائیل پر حملے کے آپریشن کا ذمہ دار تھا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نیرم میں بلال کی موت پانچ ساتھیوں کے ہمراہ ہوئی،حماس رہنما گھر میں تھے جب ان پر حملہ کیا گیا،نیرم غزہ کی پٹی کی ان 20 رہائشی اور زرعی زمینوں میں سے ہے جہاں سے حماس نے سات اکتوبر کو حملہ کیا تھا،میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے حملوں میں 13 سو سے زائد اسرائیلی مارے جا چکے ہیں، 126 اسرائیلی افراد کو حماس نے حراست میں لیا ہے جن میں سے 22 اسرائیلی بمباری سے ہی ہلاک ہو گئے ہیں

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کے اندر کاروائیوں کے دوران حماس کے ہاتھوں یرغمال اسرائیلیوں کی لاشیں ملی ہیں،یرغمالیوں کے اہلخانہ نے اپیل کی ہے کہ یرغمالیوں کو رہا کروایا جائے اور اگر وہ زخمی ہیں تو انہیں دوائی دی جائے،تل ابیب میں یرغمالیوں اور لاپتہ افراد کے خاندانوں کے فورم کے سربراہ رونن زور کا کہنا ہے کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یرغمالیوں کو ادویات کی منتقلی کے لیے آدھی رات تک ایک معاہدہ طے پا جائے.