Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے،سعودی وزیر خارجہ

    مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے،سعودی وزیر خارجہ

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نےکہا ہے کہ فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے اوروہاں جاری پرتشدد چکر کو روکنے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔

    پاکستانی سرکاری خبر رساں ادارےکی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیرخارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کا مسئلہ سعودی عرب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ہر بین الاقوامی فورم پر مملکت اس پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرتی ہے،سعودی عرب مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائے گا، جس کا آغاز آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے ہوگا اور جس کا مقصد خطے میں جامع اور پائیدار امن قائم کرنا ہے۔

    سعودی پریس ایجنسی واس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سال سعودی عرب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں امن اور انصاف کا پیغام لے کر شریک ہو رہا ہے،مملکت نے اپنے بانی شاہ عبدالعزیز کے دور سے لے کر آج تک اور موجودہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں ہمیشہ امن کے قیام، مکالمے کو فروغ دینے اور پرامن حل تلاش کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔

    شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب بدستور خطے اور دنیا میں منصفانہ امن کے قیام کے لیے ہر ممکن جدوجہد کر رہا ہےانہوں نے یاد دلایا کہ سعودی عرب اقوام متحدہ کے بانی ارکان میں سے ایک ہے اور اسے 1945 میں تنظیم کے پہلے اجلاس میں شرکت کا اعزاز حاصل ہے سعودی عرب تنازعات کے حل اور امن کے قیام کی بھرپور تاریخ رکھتا ہے جو اس کی متوازن خارجہ پالیسی اور وسیع تعلقات کی بدولت ممکن ہوا۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے منشور کو عملی شکل دینے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی قوانین کے احترام کو فروغ دینا ، دنیا میں سکیورٹی اور امن قائم کرنا اور کثیرالجہتی تعاون کے تمام مواقع کو تقویت دینا ہے۔

  • برطانیہ آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا، برطانوی وزیر اعظم کا اعلان

    برطانیہ آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا، برطانوی وزیر اعظم کا اعلان

    لندن: برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ غزہ میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پالیسی تبدیل کی جا رہی ہے۔ اور برطانیہ آج دوپہر کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا۔

    واضح رہے کہ پرتگال نے بھی فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیادوسری جانب کینیڈا اور فرانس ان دیگر مغربی ممالک میں شامل ہیں جو اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    یہ ممالک ایک ایسے وقت فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رہے ہیں کہ جب اسرائیل غزہ پٹی فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے جسے نسل کشی قرار دیا جا چکا ہے،پرتگال نے جولائی میں ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ تنازع کی “انتہائی تشویش ناک پیشرفت” کی وجہ سے ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کی وجہ غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیل کی فلسطینی زمین کو ضم کرنے کی بار بار کی دھمکیاں ہیں،اقوام متحدہ کے 193 ارکان میں سے تقریباً تین چوتھائی پہلے ہی فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔

  • پرتگال بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر تیار، برازیل کابھی،اسرائیل کے خلاف بڑا اقدام

    پرتگال بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر تیار، برازیل کابھی،اسرائیل کے خلاف بڑا اقدام

    پرتگال نے بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    پرتگال کی وزارت خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ 21 ستمبر کو فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کریں گے،پرتگالی وزیرِ خارجہ نے رواں ہفتے کہا تھا کہ ان کا ملک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے تاہم اب وزارت خارجہ نے اعلان کر دیا ہے۔

    واضح رہے فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور بیلجیئم بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں اور اس کا باقاعدہ اعلان رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں متوقع ہے۔

    برازیل بھی اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت چلا گیا ہے جس کے لیے برازیل نے غزہ میں نسل کشی رکوانے کے لیے فریق بننے کی درخواست دے دی ہے،برازیل حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کررہا ہے۔

    امید ہے سعودی عرب باہمی مفادات اور حساسیت کو مدنظر رکھے گا، بھارت

    عالمی عدالت کے مطابق برازیل نے یہ مداخلت آرٹیکل 63 کے تحت کی ہے، جو ان ریاستوں کو یہ حق دیتا ہے جو کسی ایسے کنونشن کی فریق ہوں جس کی تشریح عالمی عدالت انصاف کے سامنے زیر غور ہو، اس مقدمے میں جو بھی تشریح عدالت کے فیصلے میں کی جائے گی، وہ برازیل پر بھی اتنی ہی لاگو ہوگی جتنی دیگر فریقین پر۔

    برازیل نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس مقدمے میں مداخلت کا حق رکھتا ہے کیونکہ وہ سن 1948 کے نسل کشی کنونشن کا فریق ہے۔ اپنی پیش کردہ دستاویز میں، برازیل نے واضح کیا کہ عدالت کی جانب سے کنونشن کے آرٹیکل 1، 2 اور 3 کی جو تشریح کی جائے گی، وہ اہم قانونی نتائج کی حامل ہوگی، اور برازیل نے ان آرٹیکلز سے متعلق اپنا قانونی مؤقف بھی پیش کیا۔

    عدالت نے جنوبی افریقہ اور اسرائیل دونوں کو دعوت دی ہے کہ وہ برازیل کی مداخلت پر آرٹیکل 83 کے تحت تحریری جوابات جمع کرائیں۔

    امریکی گلوکار بریٹ جیمز اہلیہ اور بیٹی سمیت طیارہ حادثے میں ہلاک

    واضح،رہے کہ جنوبی افریقہ نے 29 دسمبر 2023 کو اسرائیل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں میں نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کی ہےاس مقدمے کے سلسلے میں عدالت پہلے ہی کئی عبوری احکامات جاری کر چکی ہے، جن میں اسرائیل کو نسل کشی کے ممکنہ اقدامات سے باز رہنے کی ہدایت دی گئی ہے،برازیل ان متعدد ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو اس مقدمے میں مداخلت کر چکے ہیں ان میں کولمبیا، میکسیکو، اسپین، ترکی، چلی، آئرلینڈ اور دیگر ممالک شامل ہیں۔

    ثنا یوسف قتل کیس:ملزم عمر حیات پر فرد جرم عائد

  • پاکستان اور فلسطین کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کا اہم معاہدہ

    پاکستان اور فلسطین کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کا اہم معاہدہ

    اسلام آباد: پاکستان اور فلسطین کے درمیان صحت کے میدان میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

    اس مفاہمتی یادداشت پر پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال جبکہ فلسطین کی جانب سے پاکستان میں تعینات فلسطینی سفیر نے دستخط کیے،تقریب میں وفاقی سیکرٹری صحت حامد یعقوب، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ اور ڈی جی ہیلتھ بھی شریک تھے۔

    وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر کہا کہ معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کے لیے آئندہ 30 روز میں ’’پاکستان،فلسطین ہیلتھ ورکنگ گروپ‘‘ قائم کیا جائے گا، جو اس تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا،معاہدے کے تحت جدید طبی شعبہ جات میں استعداد کار بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

    آئی ایم ایف وفد کے دورہ پاکستان سے قبل شرائط پر کام جاری

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ،دونوں ممالک انٹروینشنل کارڈیالوجی، آرگن ٹرانسپلانٹ، آرتھوپیڈک سرجری، اینڈوسکوپک الٹراساؤنڈ، برن اینڈ پلاسٹک سرجری جیسے اہم شعبوں میں مل کر کام کریں گے اس کے علاوہ متعدی امراض، آنکھوں کے امراض اور دواسازی کے شعبے میں بھی تعاون کو فروغ دیا جائے گامشترکہ تحقیق کے مواقع تلاش کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی تاکہ صحت عامہ کے مسائل کا بہتر حل نکالا جا سکے۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد دونوں برادر ممالک کے عوام کے لیے بہتر صحت کی سہولیات کو یقینی بنانا ہےپاکستانی عوام کے دل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہم ان کی فلاح کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    فلسطین کے سفیر نے وزیر صحت اور پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور پاکستان دونوں برادر ممالک ہیں اور وہ اپنے عوام کی صحت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔

    اداکارہ سارہ عمیر نے شوہر سے طلاق کی تصدیق کردی

  • قطر: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب سے ملاقات

    قطر: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب سے ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ترک وزیرِ خارجہ حکان فدان سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے قطر اور خطے کے دیگر ممالک پر اسرائیل کے بلااشتعال اور غیر منصفانہ حملوں کی شدید مذمت کی جو فلسطین میں جاری جارحیت کے تناظر میں کیے گئے ہیں،انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ مسلم اُمہ کو متحرک کرنے کے لیے او آئی سی اور عرب لیگ کا کردار نہایت اہم ہے،اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے عرب-اسلامی سربراہی اجلاس کے انعقاد کا خیرمقدم بھی کیا۔

    واضح رہے کہ دوحہ میں حماس قیادت پر اسرائیلی حملے کے خلاف قطر میں عرب۔اسلامی سربراہی اجلاس آج منعقد ہورہا ہے،سربراہی اجلاس سے قبل وزرائے خارجہ کی تیاری اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لیے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار دوحہ میں موجود ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف بھی آج قطر روانہ ہوگئے ہیں، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی سید طارق فاطمی بھی دوحہ روانہ ہوگئے ہیں۔

    کوٹری، گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کے دباؤ میں اضافہ،کچے کے متعدد دیہات زیر آب

    یہ اجلاس اسرائیل کے دوحہ پر فضائی حملوں اور فلسطین میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے پس منظر میں طلب کیا گیا ہے اجلاس میں او آئی سی کے رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ حکام کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔

    موساد قطر میں اسرائیلی حملے کی مخالف تھی، امریکی اخبار

  • بیلجیئم کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے اور اسرائیل پر سخت پابندیاں لگانے کا اعلان

    بیلجیئم کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے اور اسرائیل پر سخت پابندیاں لگانے کا اعلان

    بیلجیئم نے فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف 12 سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    بیلجیئم کے وزیرخارجہ میکسم پریوٹ نے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ وہ رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کریں گےانہوں نے اسرائیل پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا بھی اعلان کردیایہ اقدام غزہ میں جاری انسانی المیے اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔

    https://x.com/prevotmaxime/status/1962677161568981219

    وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کے خلاف قومی سطح پر 12 سخت پابندیاں نافذ کی جارہی ہیں،پابندیوں میں غیر قانونی اسرائیلی آبادکاریوں سے مصنوعات کی درآمد پر پابندی، اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ سرکاری معاہدوں کا دوبارہ جائزہ، اور اسرائیلی پروازوں و ٹرانزٹ پر پابندی شامل ہیں، یہ اقدامات اسرائیلی عوام کے خلاف نہیں بلکہ ان کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ عالمی قوانین کی پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔

    واضح رہے کہ بیلجیئم سے قبل فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور اس کا باقاعدہ اعلان رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں متوقع ہے۔

  • امریکی عوام کی اکثریت فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے حق میں، سروے

    امریکی عوام کی اکثریت فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے حق میں، سروے

    خبر ایجنسی کے حالیہ اپسوس سروے میں 58 فیصد امریکیوں نے رائے دی ہے کہ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کو فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے۔

    سروے کے مطابق 33 فیصد افراد نے اس سے اختلاف کیا جبکہ 9 فیصد نے کوئی رائے نہیں دی۔سروے میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا کہ اسرائیل اور حماس 60 روزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی جزوی رہائی کے معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں۔یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کینیڈا، برطانیہ اور فرانس فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ غزہ میں قحط کی صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔

    برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ غزہ کی انسانی صورتحال ناقابلِ تصور حد تک پہنچ چکی ہے اور فلسطینی آبادی قحط کے دہانے پر کھڑی ہے۔

    علیمہ خان کے بیٹے کی گرفتاری کی تردید، رانا ثناء اللّٰہ کا ردعمل

    نیب کارروائی، 17 ہزار 500 متاثرین کو 3 ارب روپے کی ادائیگیاں

    کراچی بارشوں سے مفلوج، 2 دن میں تاجروں کو 10 ارب کا نقصان، 20 افراد جاں بحق

    شاہد آفریدی کا بونیر کا دورہ، سیلاب متاثرین میں امدادی سامان تقسیم

  • لندن : فلسطین کے حق میں مظاہرہ ، پولیس کا کریک ڈاؤن، 466 افراد گرفتار

    لندن : فلسطین کے حق میں مظاہرہ ، پولیس کا کریک ڈاؤن، 466 افراد گرفتار

    لندن میں پارلیمنٹ اسکوائر پر فلسطین ایکشن کے حامیوں نے احتجاج کیا، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئےخواتین،سمیت 466 مظاہرین کو گرفتار کر لیا-

    پولیس کے مطابق مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے جن پر اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف نعرے درج تھے،مظاہرے کے منتظمین کے مطابق اس میں 600 سے 700 افراد شریک ہوئے، تاہم پولیس نے اتنی بڑی تعداد میں شمولیت کے دعوے کی تردید کی،فلسطین ایکشن پر 5 جولائی 2025 سے ٹیررازم ایکٹ کے تحت پابندی عائد ہے، اور اس گروہ کی رکنیت یا حمایت پر 14 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

    ادھرغزہ میں اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے نہ تھم سکے، قابض فوج نے مختلف علاقوں پر حملے کرکے صبح سے اب تک مزید 47 فلسطینیوں کو شہید کردیااسرائیلی فوج کے حملوں میں شہید ہونے والوں میں 40 وہ افراد بھی شامل ہیں جو خوراک کے حصول کے لیے پناہ گزین کیمپوں سے باہر نکلے تھے۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ امریکا، اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں

    عرب میڈیا کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی فوج کے حملوں کے باعث غزہ میں شہادتوں کی مجموعی تعداد 61 ہزار 369 ہوگئی جبکہ اس دوران ایک لاکھ 52 ہزار 850 افراد زخمی ہوچکے ہیں،غزہ میں قحط کی صورتحال بھی برقرار ہے جہاں بھوک کی شدت سے مزید 11 فلسطینی شہید ہوگئے جس کے بعد غذائی قلت سے اموات 200 سے تجاوز کر گئیں۔

    ادھر غزہ پر مکمل کنٹرول کے اسرائیلی مذموم منصوبے کے تحت فوجی ٹینک غزہ کے بارڈر پر پہنچنا شروع ہوگئےفلسطینیوں نے بھی غزہ چھوڑنے سے صاف انکار کردیا، فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ یہیں مریں گے اورکہیں نہیں جائیں گے،دوسری جانب غزہ کی صورتحال پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج ہوگا۔

    خواجہ آصف کا بھارت کو طیاروں کے ذخیرے کی آزادانہ تصدیق کا چیلنج

  • کینیڈا کافلسطین کو باقاعدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان

    کینیڈا کافلسطین کو باقاعدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان

    کینیڈا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کردی-

    کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر میں ہونے والے اجلاس کے دوران فلسطین کو باقاعدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،یہ اقدام اسرائیل-فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی امید کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، جو ایک طویل عرصے سے کینیڈا کا ہدف رہا ہے اور ’جو ہماری آنکھوں کے سامنے ختم ہو رہا ہے‘۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ کینیڈا کا ارادہ ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں ستمبر 2025 میں ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرے، غزہ میں شہریوں کی بگڑتی ہوئی حالت نے امن کے لیے مربوط بین الاقوامی اقدامات میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی، کیا کوئی ایسا منظر ہو سکتا ہے جس میں کینیڈا اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے پہلے اپنا مؤقف بدل دے؟تو کارنی نے کہا ایک منظرنامہ ہو سکتا ہے، لیکن شاید ایسا جو میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔

    پاکستان قربانیاں دے کردنیا کو دہشتگردی سے بچا رہا ہے،عطا اللہ تارڑ

    وزیرِاعظم نے بتایا کہ فلسطینی صدر محمود عباس سے ٹیلیفون پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے اور اسی تناظر میں کینیڈا نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر فلسطینی اتھارٹی ضروری اصلاحات کی ضمانت دے تو ستمبر میں جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرلیا جائے گا۔

    انہوں نے مزید وضاحت کی کہ کینیڈا کی حمایت فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے متوقع اصلاحاتی اقدامات سے مشروط ہے ان اصلاحات میں سب سے نمایاں نکتہ 2026 میں حماس کے بغیر آزاد اور شفاف عام انتخابات کا انعقاد ہے، جسے کینیڈین حکومت فلسطینی جمہوریت کی جانب ایک مثبت قدم سمجھتی ہے۔

    وزیرِاعظم کارنی نے اسرائیل کی پالیسیوں پر بھی کھل کر تنقید کی اور کہا کہ کینیڈا اس حقیقت کی مذمت کرتا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے غزہ میں شدید تباہی کی راہ ہموار کی، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    وزیراعظم اویس لغاری کی کارکردگی سےخوش، خصوصی خط لکھدیا

    واضح رہے کہ کینیڈا سے قبل فرانس اور برطانیہ بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی مشروط حمایت کرچکے ہیں برطانوی وزیرِاعظم سر کئیر اسٹارمر نے چند روز قبل کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد اعلان کیا تھا کہ اگر اسرائیل غزہ میں جنگ بندی، مغربی کنارے پر قبضے سے باز رہنے اور دو ریاستی حل پر آمادگی ظاہر نہیں کرتا تو برطانیہ ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا۔

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ فرانس فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کرے گا، اس بین الاقوامی رجحان کو مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے حل کی جانب ایک ممکنہ سنگِ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    علی امین گنڈاپور سمیت پی ٹی آئی کے 41 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری

  • فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا مرکزی نکتہ ہے، چین

    فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا مرکزی نکتہ ہے، چین

    چین نے کہاہےکہ،دو ریاستی حل ہی فلسطینی مسئلے کا بنیادی اور واحد راستہ ہے،فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا مرکزی نکتہ ہے-

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چین خطے میں اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائیوں میں اضافے کی مخالفت کرتا ہے اور غزہ کے عوام کی تباہی پر شدید تشویش رکھتا ہے، غزہ میں انسانی صورتحال کبھی اتنی سنگین نہیں رہی، فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا مرکزی نکتہ ہے، اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مزید بڑے پیمانے پر انسانی بحران کو روکے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم متعلقہ فریقین، خصوصاً اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوراً غزہ میں فوجی کارروائیاں بند کرے، محاصرہ اور ناکہ بندی ختم کرے، اور انسانی امدادی سامان کی رسائی مکمل طور پر بحال کرے، دو ریاستی حل ہی فلسطینی مسئلے کا بنیادی اور واحد راستہ ہے، چین فلسطینی عوام کی ایک آزاد ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کرتا ہے،چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی، انسانی بحران میں کمی، دو ریاستی حل کے نفاذ، اور فلسطینی مسئلے کے جامع، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔

    سندھ:مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اُجرت 40 ہزار روپے مقرر کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری

    اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے بین الاقوامی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے 7 اکتوبر 2023 سے غزہ پر وحشیانہ حملہ کیا ہے، جس میں 60,000 سے زیادہ فلسطینی شہیدہو گئے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، مسلسل بمباری نے انکلیو کو تباہ کر دیا ہے اور خوراک کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

    گزشتہ نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھےاسرائیل کو انکلیو پر جنگ کے لیے عالمی عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔

    سعودی عرب: شادی کے پہلے ہی سال طلاق کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ،وجہ کیا؟